Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • طالبان کے واٹس ایپ اکاؤنٹس بلاک کرنے کا اعلان

    طالبان کے واٹس ایپ اکاؤنٹس بلاک کرنے کا اعلان

    فیس بک نے سوشل میڈیا ویب سائٹ فیس بک نے اپنے تمام پلیٹ فارمز انسٹاگرام اور واٹس ایپ پر افغان طالبان اور ان کی حمایت سے متعلقہ تمام مواد پر پابندی عائد کردی ہے تاہم اب طالبان کے واٹس ایپ اکاؤنٹس بھی بلاک کرنے کا اعلان کردیا ہے-

    باغی ٹی وی : ترجمان واٹس ایپ کا کہنا ہے کہ کمپنی کو پابندیوں کی امریکی پالیسی پر عمل کرنا ضروری ہے جبکہ دوسری جانب فیس بک ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی قوانین کے تحت طالبان پر پابندی عائد ہے جس پر ان کے اکاؤنٹس بلاک کردیئے ہیں۔

    فیس بک کا کہنا ہےکہ لوٹ مار اور تشدد کی شکایات کے لیے بنائی گئی طالبان کی واٹس ایپ ہاٹ لائن کو بھی بند کردیا گیا ہے جب کہ طالبان کےنام سے بنائے گئے آفیشل اکاونٹس بھی بلاک کیے گئے ہیں۔

    فیس بک نے اپنے تمام پلیٹ فارمز پرافغان طالبان اور انکی حمایت سے متعلقہ تمام مواد پر پابندی عائد کردی

    واضح رہے کہ گزشتہ روز فیس بک نے اپنے پلیٹ فارم پر طالبان سے متعلق تمام مواد پر پابندی عائد کی تھی فیس بک کی جانب سے تصدیق کی گئی کہ ایپلی کیشن نے اپنے پلیٹ فارمز سے طالبان اور ان کی حمایت کرنے والے تمام مواد پر پابندی عائد کردی ہے۔

    فیس بک کا کہنا ہےکہ وہ طالبان کو ایک دہشتگرد تنظیم قرار دیتے ہیں اس لیے اس گروپ کے ساتھ منسلک مواد کی نگرانی اور اسے ہٹانے کے لیے افغان ماہرین کی ایک ٹیم مخصوص کی گئی ہے طالبان اپنے پیغامات کو پھیلانے کے لیے کئی سالوں سے سوشل میڈیا کا استعمال کر رہے ہیں اطلاعات کے مطابق طالبان آپس میں رابطے کے لیے واٹس ایپ کا استعمال کرتے ہیں۔

  • برطانیہ کا 25 ہزار افغان مہاجرین کو آباد کرنے کا اعلان

    برطانیہ کا 25 ہزار افغان مہاجرین کو آباد کرنے کا اعلان

    برطانیہ نے 20 ہزار افغان مہاجرین کو آباد کرنے کا اعلان کر دیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ڈیلی میل کے مطابق 20،000 افغانیوں کو نئی سکیم کے تحت برطانیہ منتقل ہونے کا حق دیا جائے گاموجودہ پروگرام کے تحت اضافی 5 ہزار کو منتقل کرنے کی اجازت ہوگی نئی افغان شہری آبادکاری سکیم خواتین اور لڑکیوں پر توجہ مرکوز کرے گی۔

    25،000 افغانیوں کو جو طالبان سے خطرہ میں ہیں ، ملکی تاریخ کی سب سے زیادہ فراخدلانہ سکیم میں برطانیہ آنے کی اجازت دی جائے گی بورس جانسن نے کل رات اعلان کیا کہ 20،000 تک کو ایک نئی دورانیے کی اسکیم کے تحت یہاں رہنے کا حق دیا جائے گا۔

    ایک اضافی پروگرام کے تحت پہلے سال 5 ہزار اضافی افراد کو برطانیہ منتقل ہونے کی اجازت دی جائے گی جو کہ افغان مترجمین اور دیگر کارکنوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے بنائے گئے ہیں جنہیں برطانوی حکام نے ملازمت دی تھی –

    انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں رہائش کے لیے خواتین کو ترجیح دی جائے گی۔ اس کے علاوہ ان لوگوں کو ترجیح دی جائے گی جنہیں افغانستان میں سب سے زیادہ خطرہ ہے اور انہیں غیر معینہ مدت تک برطانیہ میں قیام کا موقع دیا جائے گا۔

    یہ ان لوگوں کو بھی مدد فراہم کرے گا جو اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں اور ملک میں مذہبی اقلیتوں کو۔ انہیں مستقل طور پر برطانیہ میں رہنے کا حق دیا جائے گا۔

    جانسن نے کہا: ‘ہم ان تمام لوگوں کے شکر گزار ہیں جنہوں نے گزشتہ 20 سالوں میں افغانستان کو ایک بہتر جگہ بنانے کے لیے ہمارے ساتھ کام کیا ہے۔ ان میں سے بہت سے بالخصوص خواتین کو اب ہماری مدد کی اشد ضرورت ہے۔

    افغانستان کی صورت حال پر غور کے لیے آج برطانوی پارلیمنٹ کا اجلاس بھی ہو گا۔ طالبان کی واپسی کے بعد تقریباً 9 سو برطانوی فوجیوں کو واپس کابل بھیجا گیا ہے تاکہ وہاں سے سفارتخانے کے عملے سمیت دیگر پھنسے برطانوی شہریوں کو نکالا جا سکے۔

    واضح رہے کہ نیویارک اور واشنگٹن میں 11 سمتبر 2001 کے حملوں کے بعد امریکہ کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف شروع کی گئی جنگ میں برطانیہ امریکہ کا ایک اہم اتحادی تھاافغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند میں برطانیہ کے ساڑھے نو ہزار اہلکار تعینات تھے جنہیں 137 مقامات پر تعینات کیا گیا تھا۔ اس دوران برطانیہ کے ساڑھے چار سو سے زاہد فوجی اہلکار ہلاک بھی ہوئے-

  • عام معافی اورامن کا اعلان: شہریوں کی جانب سے طالبان کو پھول پیش

    عام معافی اورامن کا اعلان: شہریوں کی جانب سے طالبان کو پھول پیش

    افغانستان کے دارالحکومت کابل میں شہری طالبان جنگجوؤں کا سرخ اور سفید گلاب سے استقبال کررہے ہیں-

    باغی ٹی وی : کابل پر طالبان کی جانب سے کنٹرول حاصل کرنے کے بعد بیشتر افغان شہری لوگ ملک چھوڑنے رہے ہیں یا کوشش کررہے ہیں وہ شہری جنہوں نے ملک میں رہنے کو ہی ترجیح دی ہے وہ طالبان جنگجوؤں کا سرخ اور سفید گلاب سے استقبال کررہے ہیں۔

    سوشل میڈیا پر وائرل تصاویر میں مردوں اور لڑکوں کو طالبان جنگجوؤں کو علامتی رنگ کے پھوؒ دیتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

    برطانوی آن لائن اخبار دی میل کے مطابق شہری مخلتف چوراہوں اور چوکیوں پر تعینات طالبان اہلکاروں کے پاس جاکر پھول پیش کررہے ہیں۔ افغان روایات کے مطابق سرخ گلاب دوستی اور سفید پھول معافی کی علامت سمجھے جاتے ہیں-

    کابل کے شہری طالبان کو پھول پیش کر کے ان کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھانا اور تعلقات استوار کرنا چاہتے ہیں تاکہ ان کے نئے حکمران ان کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہ کریں –

    جبکہ بہت سے شہری اب بھی تذبذب کا شکار ہیں کہ آیا طالبان خواتین اور لڑکیوں کو کام کرنے اوو تعلیم حاصل کرنے دیں گے؟ ماضی میں طالبان مغرب کے حامی مردوں اور عورتوں کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پہلی بار ملکی و غیر ملکی میڈیا کے روبرو پریس کانفرنس میں افغانستان میں جلد سیاسی حکومت کی تشکیل اور ہر خاص و عام کے لیے عام معافی کا اعلان کیا کابل میں پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے عوام کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، آزادی افغان قوم کا حق تھا اور 20 سال بعد اسے حاصل کیا۔

    خواتین کے کام کرنے سے متعلق سوال پر ذبیح اللہ مجاہد نے بتایا کہ خواتین ہمارے معاشرے کا معزز حصہ ہیں اور انہیں وہ تمام حقوق دیے جائیں گے جو دین نے دیے ہیں، اسلامی اصولوں کے مطابق خواتین کوکام کرنے کی اجازت ہوگی۔

    خیال رہے کہ طالبان نے اتوار 15 اگست 2021 کو افغان دارالحکومت کابل پر بھی قبضہ کرلیا ہے جس کے بعد وہاں موجود امریکی فوجی اور افغان صدر اشرف غنی سمیت متعدد اہم حکومتی عہدے دار ملک سے فرار ہوگئے ہیں طالبان نے کابل کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد عام معافی کا اعلان کیا ہے اور عالمی برادری کو پیغام دیا ہے کہ وہ ان کے ساتھ مل کر کام کرے۔

  • برطانیہ: 12 سے 17 سال کے بچوں کو موڈرنا ویکسین لگائی جانے کی منظوری

    برطانیہ: 12 سے 17 سال کے بچوں کو موڈرنا ویکسین لگائی جانے کی منظوری

    برطانیہ کے ہیلتھ ریگولیٹر نے 12 سے 17 سال کی عمر کے بچوں کے لیے موڈرنا کوویڈ ویکسین کی منظوری دی ہے –

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ایجنسی دی گارجئین کے مطابق دو ماہ قبل برطانیہ میں فائزر اور جرمنی کی بائیو این ٹیک ویکسین بھی 12 سے 17 سال کی عمر کے بچوں کو لگانے کی منظوری دی گئی تھی۔

    یورپیئن حکام بچوں کو موڈرنا ویکسین لگانے کی منظوری دے چکے ہیں البتہ امریکہ میں ابھی تک اس کی منظوری نہیں دی گئی ہے۔ 16 اور 17 سال کی عمر کے بچوں کو ویکسین لگوانے کے لیے والدین کی اجازت کی ضرورت نہیں ہو گی۔

    میڈیسن اینڈ ہیلتھ کیئر پروڈکٹس ریگولیٹری ایجنسی (MHRA) کی جانب سے یہ اعلان اس اعلان کے بعد سامنے آیا ہے کہ انگلینڈ میں 16 اور 17 سال کے بچوں کو کوویڈ 19 ویکسین کی پہلی خوراک پیر 23 اگست تک سکول سے پہلے پیش کی جائے گی۔

    میڈیسن اینڈ ہیلتھ کیئر پروڈکٹس ریگولیٹری ایجنسی (ایم ایچ آر اے) نے اسے بچوں کے لیے محفوظ اور مؤثر قرار دیا ہے۔

    اس وقت ، 12 سے 15 سال کی عمر کے بچوں کو فائزر کوویڈ جاب صرف اس صورت میں پیش کی جاتی ہے جب انہیں طبی لحاظ سے کمزور سمجھا جائے اس ہفتے 16 اور 17 سال کے بچوں کو ویکسین لھانے کا فیصلہ کیا ہے

    دوسری جانب نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جسینڈرا آرڈن نے کورونا وائرس کا ایک کیس رپورٹ ہونے پر ملک بھر میں تین دن کا لاک ڈاؤن نافذ کر دیا ہے۔نیوزی لینڈ میں فروری کے بعد اگست میں کورونا کا پہلا کیس رپورٹ ہوا ہے۔

    آرڈرن نے منگل ایک پریس کانفرنس کو بتایا تھا کہ حکام فرض کر رہے ہیں کہ یہ کورونا کی ڈیلٹا قسم ہے، لیکلن تحقیق ابھی جاری ہے کورونا کا کیس ملک کے سب سے بڑے شہر آکلینڈ میں سامنے آیا جہاں 58 سالہ شخص کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا، اس شہری نے کورونا ویکسین نہیں لگوائی تھی۔

    نیوزی لینڈ میںسخت لاک ڈاؤن کے دوران عوام کو گھروں میں رہنے اور کاروبار بند رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ فارمیسی اور دیگر اشیائے ضروریہ کے اسٹور کھلے رہیں گے لیول فور لاک ڈاؤن کے تحت ، ہر ایک کو گھر پر رہنا چاہیے اور کاروبار ضروری سہولیات جیسے سپر مارکیٹ اور فارمیسیوں کے لیے بند ہیں۔

  • افغان حکومت کے جنگ ہارنے کا ذمہ دار امریکہ ہے، افغانستان میں ناکامی سے اسے سبق حاصل کرنا چاہیئے

    افغان حکومت کے جنگ ہارنے کا ذمہ دار امریکہ ہے، افغانستان میں ناکامی سے اسے سبق حاصل کرنا چاہیئے

    امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنی افغانستان پالیسی کو کامیابی کے طور پر رنگ دینے کی ایک بے سود کوشش کی ہے کہ امریکہ نے 20 سال قبل قوم کی تعمیر کے لیے جنگ میں حصہ نہیں لیا تھا۔ دارالحکومت پر طالبان کے قبضے کے تناظر میں کابل سے امریکی اہلکاروں کی ذلت آمیز واپسی پر تنقید کے بعد اپنے خطاب میں بائیڈن نے افغانستان کے زوال کا الزام اشرف غنی کی حکومت پر ڈال دیا۔ یہ مکمل طور پر سچ نہیں ہو سکتا۔

    باغی ٹی وی :نجی خبر رساں ادارے ڈان میں شائع کی گئی رپورٹ کے مطابق دو دہائیوں اور ایک کھرب ڈالر سے زیادہ رقم خرچ کرنے بعد امریکہ نے افغانستان کو انہی لوگوں کے حوالے کر دیا ہے جنہیں اس نے کنٹرول سنبھالنے کے لیے بے دخل کیا تھا۔ کابل حکومت کو آگے بڑھانے میں تمام امریکی سرمایہ کاری ، جسے 3 لاکھ اہلکاروں پر مشتمل مکمل طور پر لیس اور امریکی تربیت یافتہ فوج کی حمایت حاصل ہے طالبان کے ہلکے حملے کے ایک ہفتے کے اندر ناکام ہو گئی۔

    اگر امریکی اس طرح پریشان نہ ہوتے اور ان کا افغان پروجیکٹ پتوں سے بنے گھر کی طرح منہدم نہ ہوتا بہر حال ، انہیں کئی دہائیوں پہلے ویت نام میں اسی طرح کی رسوائی کا سامنا کرنا پڑا تھا ، اور مختلف دیگر فوجی غلطیوں میں وہ تب سے ٹھوکر کھا رہے ہیں۔

    ان تمام عالمی مداخلتوں کے مابین ایک چیز مشترک ہے ، ایسا لگتا ہے کہ وہ شاندار ناکامیاں ہیں جن میں وہ ختم ہوچکی ہیں اور خطرناک عدم استحکام جو انہوں نے ان کے نتیجے میں پیدا کیا ہے۔ افغانستان ، عراق ، شام ، لیبیا ، میں امریکہ کی غلط مداخلتوں کے نتیجے میں ہر لحاظ سے خون بہہ چکا ہے۔ اسلامک اسٹیٹ اور القاعدہ جیسی تنظیموں کی پیدائش امریکہ کی نظریاتی پالیسیوں کی پیداوار ہے۔ پورے خطوں نے ، نہ کہ صرف ممالک نے ، ان امریکی حماقتوں کی بھاری قیمت ادا کی ہے۔

    افغانستان میں امریکہ کی ناکامی ایک یاد دہانی ہے-اگر ابھی کسی اور کی ضرورت ہوتی-تو قوم کی تعمیر کو اوپر سے مسلط نہیں کیا جاسکتا ، جیسا کہ امریکہ نے بار بار کرنے کی کوشش کی ہے ، اور ترقی بندوق کے بیرل سے نہیں پھوٹ سکتی۔ امریکیوں کی کوششیں اس سخت حقیقت پر روشنی ڈالنا مشکل ہے کہ وہ نہ کہ کابل میں بلکہ ان کی کٹھ پتلی حکومت بنیادی طور پر افغانستان میں جنگ ہارنے کے ذمہ دار ہیں۔

    یہ ایک سبق ہے جو ایک سپر پاور کو اس کے اپنے حبس کے ہاتھوں یرغمال بنا ہوا ہے ، لیکن اسے ہضم کرنا ضروری ہے ، اگر یہ اپنی ذات کے لیے نہیں تو دنیا کی خاطر ہے جو اس طرح کی مزید لاپرواہ فوجی مداخلتوں کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتی۔ یہ درحقیقت واشنگٹن کے لیے ایک مناسب وقت ہے کہ وہ اس نقطے کو تلاش کرےاور یہ جان سکے کہ اس کی پالیسی ڈی این اے کا کون سا حصہ اسے ہرکیولین غلط مہم جوئی پر اکساتا ہے۔

    امریکی ووٹر کو بھی اپنے رہنماؤں سے سخت سوالات پوچھنے چاہئیں ، اور ایسے جوابات مانگنے چاہئیں جو شاید آسانی سے سامنے نہ آئیں۔ پے در پے انتظامیہ کے وہ امریکی عہدیدار جنہوں نے دو دہائیوں کی طویل حماقت میں حصہ ڈالا ان کے پاس جواب دینے کے لیے بہت کچھ ہے۔ ریاستہائے متحدہ امریکہ کو ایک بار اپنے آپ کو محاسبہ کرنا چاہیے۔

  • فیس بُک سنسر شپ کا معاملہ :جونئیر ٹرمپ طالبان ترجمان سے متفق

    فیس بُک سنسر شپ کا معاملہ :جونئیر ٹرمپ طالبان ترجمان سے متفق

    فیس بک پر سنسر شپ کا الزام ،سابق امریکی صدر کے بیٹے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد سے اتفاق کیا ہے-

    باغی ٹی وی : منگل کو طالبان کے ترجمان ذبیع اللہ مجاہد نے کابل میں افغانستان کے صدارتی محل میں پہلی پریس کانفرنس کی طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ملک میں نئی حکومت کے بعد آزادی اظہار رائے کے بارے میں ایک سوال یہ کہہ کر نظرانداز کر دیا کہ اس سوال کو فیس بک سے پوچھا جائے انہوں نے مزہد کہا کہ یہ سوال فیس بک جیسی امریکی کمپنیوں سے پوچھا جانا چاہیے جو سنسر کرتے ہوئے بھی اس کو فروغ دینے کا دعوی کرتے ہیں-

    جس کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کے بیٹے ٹرمپ جونیئر نے ذبیح اللہ مجاہد کی پریس کانفرنس سے فیس بک پر کیا گیا تبصرہ ٹوئٹر پر شیئر کیا اور لکھا کہ یہ بھی غلط نہیں ہے۔


    جونئیر ٹرمپ کا یہ تبصرہ اس وقت سامنے آیا جب کہ سوشل میڈیا ویب سائٹ فیس بک نے اپنے تمام پلیٹ فارمز انسٹاگرام اور واٹس ایپ پر افغان طالبان اور ان کی حمایت سے متعلقہ تمام مواد پر پابندی عائد کردی ہے-

    واضح رہے کہ فیس بک نے امریکا کے طالبان کے ساتھ انخلا کے لیے مذاکرات اور افغانستان میں ان کی حالیہ فتح کے باوجود طالبان کو دہشت گرد تنظیم قرار دے کر ان کے مواد پر پابندی عائد کر دی ہے۔

    اس حوالے سے فیس بک کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا امریکی قانون کے تحت طالبان ایک دہشت گرد تنظیم ہے اور ہم نے اپنی خطرناک تنظیموں کی پالیسیوں کے تحت ان کے مواد پر پابندی لگا دی ہے-

    فیس بک نے اپنے تمام پلیٹ فارمز پرافغان طالبان اور انکی حمایت سے متعلقہ تمام مواد…

    کمپنی کا کہنا تھا کہ اس گروپ کے ساتھ منسلک مواد کی نگرانی اور اسے ہٹانے کے لیے افغان ماہرین کی ایک ماہر ٹیم ہےطالبان اپنے پیغامات کو پھیلانے کے لیے کئی سالوں سے سوشل میڈیا کا استعمال کر رہے ہیں اطلاعات کے مطابق طالبان آپس میں رابطے کے لیے واٹس ایپ کا استعمال کرتے ہیں۔

    فیس بک کے ترجمان نے کہا تھا کہ ہم نے طالبان کی جانب سے یا ان کی حمایت میں بنائے گئے تمام اکاؤنٹس کو بلاک کردیا ہے اور تمام پلیٹ فارمز پر طالبان کی تعریف، حمایت اور نمائندگی کرنے پر پابندی لگادی ہے۔

    فیس بک نے مزید کہا تھا کہ اس گروپ سے منسلک مواد کی نگرانی اور اسے ہٹانے کے لیے افغانستان کے دری اور پشتو بولنے والے ماہرین کی ایک ٹیم بھی تشکیل دے دی گئی ہے جو پلیٹ فارم پر ابھرتے ہوئے مسائل کی شناخت اور آگاہ کرنے میں مدد فراہم کررہی ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل فیس بک امریکی انتخابات کے دوران سابق صدر اور ری پبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کا اکاؤنٹ بھی بلاک کر چکا ہے اور وہ کم از کم آئندہ دو سال تک فیس بک استعمال نہیں کر سکتےامریکا میں ری پبلکن رہنما اکثر الزام لگاتے ہیں کہ فیس بک جیسی سوشل میڈیا کمپنیاں قدامت پسند آوازوں اور آراء کے خلاف سنسرشپ میں مصروف ہیں۔

  • مفرور نائب صدرامر ﷲ صالح کا افغانستان کا نگراں صدر ہونے کا دعویٰ

    مفرور نائب صدرامر ﷲ صالح کا افغانستان کا نگراں صدر ہونے کا دعویٰ

    افغانستان کے مفرور نائب صدر امر اللہ صالح نے سابق رہنما اشرف غنی کی جلاوطنی کے بعد ملک کے نئے نگراں صدر ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پراپنی ٹوئٹ میں امراللہ صالح نے دعوی کیا ہے کہ وہ اشرف غنی کی جلاوطنی کے بعد ملک کے نئے نگراں صدر ہیں –


    امراللہ صالح نے کہا کہ افغانستان کے آئین کے مطابق صدر کی غیر موجودگی، موت، مستعفی ہونے کی صورت میں نائب صدر ملک کا نگران صدر ہوتا ہے، میں اس وقت اپنے ملک میں ہوں اور میں آئین کے تحت ملک کا نگران صدر ہوں۔

    امراللہ صالح نے تمام رہنماؤں سے اپنی حمایت اور اتفاق رائے کے لیے اپیل کی-

    اس سے پہلے یہ خبریں تھیں کہ امراللہ صالح بھی اشرف غنی کے ساتھ ملک سے فرار ہوگئے ہیں جبکہ سوشل میڈیا پر یہ خبریں بھی زیرگردش ہیں کہ امراللہ صالح افغان صوبے پنجشیر میں ہیں۔

    اس حوالے سے ایک تصویر وائرل ہورہی ہے جس میں افغان نائب صدر امراللہ صالح اور احمد مسعود ساتھ بیٹھے ہیں اور مبینہ طور پر طالبان کیخلاف مزاحمت کیلئے منصوبہ بندی پر تبادلہ خیال کررہے ہیں تاہم اس تصویر کی تصدیق نہیں ہوسکی کہ حالیہ دنوں کی ہے یا پرانی البتہ امراللہ صالح نے ٹوئٹ میں تصدیق کی کہ وہ ملک میں ہی موجود ہیں۔

  • طالبان کی باتوں پر یقین نہیں،طالبان جو کہہ رہے ہیں اس پر عمل کب ہوتا ہے؟ یہ دیکھیں گے    امریکا

    طالبان کی باتوں پر یقین نہیں،طالبان جو کہہ رہے ہیں اس پر عمل کب ہوتا ہے؟ یہ دیکھیں گے امریکا

    امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ طالبان کی باتوں پر یقین نہیں-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے بریفنگ میں کہا ہے کہ طالبان کی باتوں پر یقین نہیں، جو کہہ رہے ہیں اس پر عمل کب ہوتا ہے؟ یہ دیکھیں گے۔

    امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے وائٹ ہاؤس میں بریفنگ کے دوران کہا کہ طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کا سوال قبل از وقت ہے۔ طالبان کا ٹریک ریکارڈ اچھا نہیں رہا۔

    جیک سلیوان نے کہا کہ طالبان کے طرز عمل پر منحصر ہوگا کہ وہ دنیا کو دکھائیں کہ وہ کون ہیں اور کیسے آگے بڑھنا چاہتے ہیں –

    افغانستان میں امریکہ کی طویل ترین جنگ کی مالی اور جانی قیمت کتنی؟ جانیں

    جیک سلیوان نے یہ بھی تسلیم کیا کہ طالبان نے امریکی اسلحے اور آلات کے بڑے ذخیرے پر قبضہ کرلیا ہے۔

    وائٹ ہاؤس میں بریفنگ کے دوران انہوں نے مزید کہا کہ احساس ہے کہ طالبان یہ ساز و سامان آسانی سے واپس نہیں کریں گے کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد امریکی صدر نے کسی عالمی رہنما سے بات نہیں کی۔

    واضح رہے کہ افغان جنگ میں فتح کے نتیجے میں امریکا اور افغان فوج کا چھوڑا گیا اسلحہ اور عسکری ساز و سامان بھی طالبان کے ہاتھ لگا۔ ان میں امریکی ہیلی کاپٹرز بھی شامل ہیں جو افغان حکومت کو دیئے گئے تھے-

  • فضا علی نے طلاق کا سبب بننے والی وجوہات سے پردہ اٹھا دیا

    فضا علی نے طلاق کا سبب بننے والی وجوہات سے پردہ اٹھا دیا

    پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ، میزبان و ماڈل فضا علی نے اپنی طلاق کے بارے میں خاموشی توڑ دی-

    بغی ٹی وی : حال ہی میں جگن کاظم کے مارننگ شو میں فضا علی نے شرکت کی کسی شو پر لائیو پہلی بار اپنی طلاق اور طلاق کا سبب بنے والی وجوہات کے بارے میں کُھل کر بات کی فضا علی کی 2007 ء میں فواد فاروق سے شادی ہوئی تھی اور اِن کی ایک بیٹی بھی ہے۔

    فضا علی نے کہ وہ اپنے سابق شوہر فواد فاروق سے شادی سے قبل کراچی میں رہائش پذیر تھیں، اُن کے شوہر ایک کاروباری شخصیت تھے اسی لیے وہ اپنے شوہر کے ہمراہ ہی لاہور آئی تھیں۔

    فضا علی کا کہنا تھا کہ سابق شوہر فواد سے اُن کا کبھی کوئی جھگڑا نہیں ہوا، نہ ہی ان کے شوہر نے کبھی انہیں گالی دی اور نہ ہی اُن پر ہاتھ اٹھایا لیکن اُن کے شوہر ایک سماجی شخصیت ہیں، اُن کے شوہر کو پارٹیوں میں شرکت کا شوق تھا لیکن جس فیملی سے وہ تعلق رکھتی ہیں وہاں یہ سب پسند نہیں کیا جاتا تھا۔

    میں شادی شدہ ہوں یا نہیں یہ میرا مسئلہ ہے آپ لوگوں کا نہیں، فضا علی شادی کی خبروں…

    فضا علی نے بتایا کہ فواد کو سوشلائزنگ کا بہت شوق تھا اور اُن کے شوہر کی خواہش تھی کہ وہ بھی سوشل ہو جائیں اور حلقہ احباب میں اُن کی یعنی فضا علی کی باتیں ہوں –

    فضا علی کے مطابق اُن کے شوہر کا ماننا تھا کہ وہ جو بھی کام کرتی ہیں وہ سب کچھ کچرا ہے، وہ دو ٹکے کا کام کرتی ہیں اور اُن کے شوہر کے لیے اُن کا سوشل ہونا زیادہ اہم تھا بجائے انڈسٹری میں کام کرنے کے۔

    فضا علی نے بتایا کہ ہماری زندگی میں کچھ ایسے ذاتی مسائل بھی سامنے آئے جس کے بعد اُن کے گھر والوں نے فیصلہ کیا کہ وہ فواد کے ساتھ نہیں رہیں گی، اس پر کوئی جھگڑا نہیں ہوا اور نہ کوئی ماحول خراب ہوا تھا-

    فضا علی نے بتایا کہ بیٹی کی خاطر ہم آج بھی ایک دوسرے سے رابطے میں ہیں وہ فواد کے گھر جاتی ہیں لیکن اگر کوئی مسئلہ ہو جائے تو گھر کے باہر ہی کھڑے بات کر لیتی ہیں اور ساس سسر کو وہ آج بھی امی ابو ہی کہتی ہیں۔

  • پاکستان میں کورونا کے باعث  مزید 66 افراد جا ں بحق

    پاکستان میں کورونا کے باعث مزید 66 افراد جا ں بحق

    پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے باعث مزید 66افراد جاں بحق ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن شینٹر (این سی او سی) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 57 ہزار 460 کورونا ٹیسٹ کیے گئے جس کے نتیجے میں3 ہزار 974 کورونا کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا مثبت کیسز کی شرح 6.91 فیصد رہی۔

    این سی او سی کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹے میں ملک بھر میں کورونا کیسز کی مجموعی تعداد11 لاکھ 9 ہزار 274 جبکہ ملک بھر میں کورونا کے باعث اموات کی مجموعی تعداد 24 ہزار639 ہو گئی۔

    واضح رہے کہ وفاقی وزیر اسد عمر ںے ملاقات کے دوران برطانیہ کے قائم مقام ہائی کمشنر کو پاکستان کی جانب سے کورونا وبا کی روک تھام کے لیے اپنائی جانے والی حکمت عملی سے آگاہ کیا تھا-

    اسد عمر نے قائم مقام برطانوی ہائی کمشنر سے ملاقات کے دوران کہا تھا کہ عالمی وبا پر قابو پانے میں پاکستان نے دیگر ممالک کی نسبت بہتر کارکردگی دکھائی ہے حکومت کی جامع حکمت عملی اور وزیر اعظم کے ویژن کے مطابق عوام کے جان و مال کا تحفظ کیا گیا ہے۔ پاکستان عالمی ادارہ صحت سے کورونا وبا سے متاثرہ افراد کے اعداد وشمار کا تبادلہ بھی کرتا ہے۔

    وفاقی وزیر اسد عمر نے ملاقات میں بتایا تھا کہ پاکستان میں کورونا وبا کی بھارتی قسم ڈیلٹا اور بیٹا سے متاثرہ افراد کی نشاندہی کی گئی ہے دوسری جانب قائم مقام برطانوی ہائی کمشنر نے کورونا وبا سے نمٹنے کے لیے کیے گئے اقدامات کو سراہا –