Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس آج ہو گا

    وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس آج ہو گا

    اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس آج ہو گا۔

    باغی ٹی وی : وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت آج وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ملکی سیاسی اور افغانستان کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا کابینہ اجلاس کا 17 نکاتی ایجنڈا جاری کردیا گیا ہے جس میں اہم شخصیات کو سیکیورٹی پروٹوکول کے بارے میں سیکرٹری داخلہ بریفنگ دیں گے۔

    اجلاس میں کابینہ کو پاکستان پوسٹ کی لیز پالیسی کے بارے میں بریفنگ دی جائے گی، انٹلیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن کے ڈی جی کی تقرری بھی ایجنڈے میں شامل ہے۔

    قومی سلامتی اجلاس: افغانستان سے متعلق پاکستان کی پالیسی کیا ہو گی، حکومتی بیان…

    وزیر اعظم کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس میں وزارت ہاؤسنگ کی 104 ایکڑ زمین کا معاملہ زیر بحث آئے گا جبکہ دیگر معاملات بھی ایجنڈے میں شامل ہیں۔

    واضح رہے گزشتہ روز وزیر اعظم کی زیر صدارت قومی سلامتی کا اجلاس ہوا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ بائیڈن انتظامیہ کا گزشتہ انتظامیہ کے انخلا کے فیصلے کی توثیق بلاشبہ تنازع کا منطقی حل ہے، پاکستان تمام افغان گروہوں کی نمائندگی کے ساتھ ایک جامع سیاسی تصفیے کے لیے پرعزم ہے۔

    قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ پاکستان افغانستان میں عدم مداخلت کے اصول پر سختی سے کاربند رہے گا، پاکستان اپنے پڑوس میں امن و استحکام چاہتا ہے، پاکستان سیاسی تصفیے میں سہولت کاری کے لیے عالمی برادری اور افغان سٹیک ہولڈرز سے مل کر کام کرے گا۔

    اجلاس میں وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی تھی کہ کابل میں پھسنے پاکستانیوں، سفارتکاروں، صحافیوں کے لیے اقدامات کیے جائیں، کابل میں پھنسے عالمی اداروں کے نمائندگان کی واپسی کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں۔ وزیراعظم نے کابل میں موجود پاکستانی سفارتخانے اور ریاستی مشینری کی تعریف کی-

  • ملک میں کورونا کے باعث مزید 95 افراد جاں بحق

    ملک میں کورونا کے باعث مزید 95 افراد جاں بحق

    پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے باعث مزید 95 افراد جاں بحق ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن شینٹر (این سی او سی) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 48 ہزار 181 کورونا ٹیسٹ کیے گئے جس کے نتیجے میں 3 ہزار 221 کورونا کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا مثبت کیسز کی شرح 6.68 فیصد رہی۔

    این سی او سی کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹے میں ملک بھر میں کورونا کیسز کی مجموعی تعداد11 لاکھ 5 ہزار 300 جبکہ ملک بھر میں کورونا کے باعث اموات کی مجموعی تعداد 24 ہزار 573 ہو گئی۔

    سندھ میں کورونا کے کیسز کی تعداد 4 لاکھ 13 ہزار 379، خیبر پختونخوا میں ایک لاکھ 53 ہزار 134، پنجاب میں تین لاکھ 73 ہزار 718، اسلام آباد میں 94 ہزار 402، بلوچستان میں 31 ہزار 632، آزاد کشمیر میں 29 ہزار 593 اور گلگت بلتستان میں 9 ہزار 442 ہو گئی ہے۔

    کورونا کے سبب سب سے زیادہ اموات پنجاب میں ہوئی ہیں جہاں 11 ہزار 412 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ سندھ میں 6 ہزار 475، خیبرپختونخوا میں 4 ہزار 679، اسلام آباد 837، گلگت بلتستان 166، بلوچستان میں 335 اور آزاد کشمیر میں 669 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

  • وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا امریکی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا امریکی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ

    اسلام آباد: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سےامریکی سیکریٹری آف سٹیٹ اینٹونی بلنکن کا افغان معاملے پر رابطہ ہوا۔

    باغی ٹی وی :وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا۔ دونوں رہنماؤں نے افغانستان میں تیزی سے بدلتی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

    وزیرخارجہ نے مختصر مدت کے اندر صورتحال میں اہم تبدیلی اور تشدد سے بچاو سے متعلق پاکستان کے نکتہ نظر سے آگاہ کیا۔ انہوں نے آگے بڑھنے کے بہترین راستے کے طورپر اجتماعیت کے حامل سیاسی تصفیہ کی اہمیت پر زور دیا۔

    وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے زور دیا کہ پاکستان امریکہ اور دیگر عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر افغانستان میں امن واستحکام کے قیام کی کوششوں کے لئے کاربند رہے گا۔ انہوں نے امریکہ کی جانب سے افغانستان کی معاشی معاونت جاری رکھنے پر زوردیتے ہوئے اسے کلیدی اہمیت کا حامل قرار دیا۔

    وزیر خارجہ نے سفارت خانوں کے عملے اور اہلکاروں، عالمی تنظیموں، ذرائع ابلاغ سمیت دیگر افراد کے انخلاءمیں سہولت فراہم کرنے کی پاکستان کی کوششوں سے بھی سیکریٹری بلنکن کو آگاہ کیا۔

    پاکستان اور امریکہ کے دوطرفہ تعلقات کے حوالے سے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے امریکہ کے ساتھ وسیع البنیاد، طویل المدتی اور پائیدار تعلقات استوار کرنے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا جس کی بنیاد امن، گہرے معاشی تعاون اور خطے کو رابطوں سے جوڑنے پر ہے۔

    وزیر خارجہ اور سیکریٹری آف سٹیٹ نے مشترکہ مقاصد کے فروغ کے لئے قریبی رابطے استوار رکھنے پر اتفاق کیا۔

  • افغانستان  سے انخلا کے فیصلے پر کوئی پچھتاوا نہیں،ہم اپنے مشن میں کامیاب رہے   جوبائیڈن

    افغانستان سے انخلا کے فیصلے پر کوئی پچھتاوا نہیں،ہم اپنے مشن میں کامیاب رہے جوبائیڈن

    امریکی صدرجوبائیڈن نے کابل پر طالبان کے حملے اور اشرف غنی کے فرار ہونے کے بعد پہلی مرتبہ میڈیا سے گفتگو میں افغانستان سے انخلا کے فیصلے کو درست قرار دے دیا.

    باغی ٹی وی : امریکی صدر جو بائیڈن نے افغانستان میں طالبان کی فتح کے بعد قوم سے پہلے خطاب میں کہا امریکی فوج کی واپسی کےفیصلےپرکوئی پچھتاوا نہیں۔ جانتا ہوں اس فیصلے کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنوں گا افغانستان کو تبدیل کرنا ہمارا مشن نہیں تھا، ہمارا مقصد القاعدہ کا خاتمہ اور اسامہ کو پکڑنا تھا، ہم اس میں کامیاب رہے۔

    ایئرلائنزکابل کی فضائی حدود استعمال کرنے سے گریز کریں افغانستان سول ایوی ایشن…

    امریکی صدر کا کہنا ہے کہ انخلا مکمل ہونے پرامریکا کی طویل ترین جنگ کا خاتمہ ہوجائے گا اگر انخلا روکنے کی کوشش کی توسخت جواب دیں گے۔

    بائیڈن نے کہا کہ طالبان سے لڑے بغیر افغان حکومت ڈھیر ہو گئی جو یہ ثابت کرتا ہے کہ ہم پانچ سال مزید رہ کر بھی کوئی بڑی تبدیلی نہیں لا سکتے تھے میرے سے پہلے دو ری پبلکن اور دو ڈیموکریٹ صدور نے جنگ کی سرپرستی کی میں مزید جاری نہیں رکھ سکتا اور مجھے اپنے فیصلے پر کوئی شرمندگی نہیں۔

    طالبان کی تیز رفتار پیش قدمی سے جوبائیڈن انتظامیہ پریشان

    امریکی صدر نے کہا کہ افغان حکومت کا تیزی سے خاتمہ حیرت کی بات تھی جس جنگ کولڑنے کیلئے افغان فوجی خود تیار نہیں اسکے لیے میں امریکیوں کو مرتے نہیں دیکھ سکتا افغان اپنے لیے لڑنے کو تیار نہیں تواس میں امریکا کچھ نہیں کرسکتا افغان فورسز کی تنخواہیں تک ہم ادا کرتے تھے۔

    انہوں نے کہا ہے کہ طالبان سے معاہدہ سابق صدر ٹرمپ نے کیا تھا افغان جنگ میں مزید امریکی نسلیں نہیں جھونک سکتے۔ ہم نےاپنا سفارتخانہ بند کردیا اورعملے کو واپس بلالیا ہے۔ ضرورت پڑی تو افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف فوری ایکشن لیں گے۔

    بھارت نئی افغان حکومت کو تسلیم کرے اور اس کا احترام کرے سہیل شاہین

    جوبائیڈن نے کہا کہ اشرف غنی کو مشورہ دیا تھا طالبان سے مذاکرات کیے جائیں اشرف غنی نے ہماری تجویز کو مسترد کیا اور کہا افغان فورسز لڑیں گی افغان فوج کو سب کچھ دیا لیکن لڑنے کا جذبہ نہیں دے سکےچین اور روس کی خواہش ہو گی امریکا افغانستان میں مزید ڈالرخرچ کرتا رہے۔

    دوحہ میں بات چیت کا آپشن اب ختم ہوچکا ہے سہیل شاہین

  • ملا عبدالغنی برادر کی گرفتاری اور جپھی تک کے اصل حقائق     ازقلم :غنی محمود قصوری

    ملا عبدالغنی برادر کی گرفتاری اور جپھی تک کے اصل حقائق ازقلم :غنی محمود قصوری

    ملا عبدالغنی برادر کی گرفتاری اور جپھی تک کے اصل حقائق

    ازقلم غنی محمود قصوری

    2001 کو امریکہ نے نیو ورلڈ آرڈر کے خواب میں نائن الیون کا بہانہ بنا کر افغانستان پر چڑھائی کی محدود وسائل کی بدولت افغان طالبان کو کابل چھوڑنا پڑا اور پھر گوریلہ وار کا آغاز کیا گیا –

    محض دو عشروں میں افغان طالبان نے امریکہ و نیٹو فورسز کی وہ درگت بنائی کہ دنیا حیران ہو گئی اور آخرکار انڈیا کے یوم آزادی کے دن انڈیا کے سب سے بڑی اتحادی کو اسی دن یعنی 15 اگست 2021 کو کابل چھوڑ کر چوروں کی طرح فرار ہونا پڑا طالبان سربسجود ہوتے صدراتی محل میں داخل ہوئے اور ملا عبدالغنی کو افغانستان کا صدر منتخب کیا گیا-

    ملا عبدالغنی کے صدر بنتے ہی کچھ فتہ پروروں کو پیٹ میں مروڑ اٹھا اور پروپیگنڈہ کے طور پر ایک تصوير شیئر کرنا شروع کر دی جس میں ملا عبدالغنی برادر کو ہتھکڑی لگی دیکھائی جاتی ہے اور ساتھ ساتھ بہت عجیب عجیب باتیں لکھ کر پوسٹیں شیئر کر رہے ہیں بات آگے بڑھانے سے پہلے میں ایک حقیقت عیاں کرو دو کہ ا ن تصاویر کو شئیر کرنے والوں میں سرفہرست ٹی ٹی پی اور دیگر خارجی فکر رکھنے والے لوگ ہیں اور ان کے ساتھ ساتھ پاک فوج آئی ایس آئی اور پاکستانی حکومت کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے والی سیاسی و سیاسی مذہبی جماعتیں شامل ہیں –

    جن میں جمعیت علماء السلام و جماعت اسلامی کے انفرادی افراد، پی ڈی ایم اور ن لیگ کے لوگ شامل ہیں یہ سب افراد پاک فوج اور پاکستان کے سیکورٹی اداروں کی عزت و فتخ سے ہمیشہ ہی سے تعصب رکھتے رہے ہیں-

    اب آتے ہیں ملا عبدالغنی برادر کی زندگی اور ان کام و پاکستانی ایجنسیوں سے رابطے اور پھر گرفتاری والی حقیقت کی طرف

    ملا عبدالغنی برادر 1968 میں افغانستان کے صوبہ اروزگان میں پیدا ہوئے اور ان کا تعلق پشتو قبلے پوپلزی سے ہے تاہم کچھ ذرائع نے ان کی سکونت پاکستانی علاقے پارا چنار سے ظاہر کی ہے جو کہ یکسر غلط ہے-

    ملا عبدالغنی افغانستان میں سوویت جنگ کے دوران صوبہ قندھار میں جہاد کرتے رہے اور بعد میں وہیں میوند کے علاقے میں ملا محمد عمر کے ساتھ مل کر ایک دینی تعلیمی درسگاه بھی قائم کی تاہم کچھ ذرائع کے مطابق ملا عبدالغنی ملا محمد عمر کے ہمزلف بھی ہیں

    1997 میں ملا عبدالغنی برادر نے ملا عمر کی افغانستان میں دوران جنگ بھرپور مدد کی اور جنگ لڑی بھی اور اپنی جرات و بہادری جذبہ ایمانی سے علاقے فتخ کرواۓ جس پر انہیں ملا عمر کی طرف سے صوبہ نیمروز کا گورنر مقرر کر دیا گیااور ساتھ ہی مغربی افغانستان کی عسکری کماند کا کمانڈر بنا دیا گیا امریکہ کے دستاویزات میں ملا عبدالغنی برادر ملا عمر کی فوج کے نائب آرمی چیف بھی تھے

    ستمبر11 کے امریکی حملوں کے بعد جب امریکہ نے UNO کے سلامتی کونسل کے اندر افغانستان سے جنگ کا اعلان کر دیا تو اس جنگ میں ملا عبدالغنی برادر ملا عمر کے شانہ باشانہ لڑے اور امریکی تحقيقاتی اداروں کی رپورٹس کے مطابق ملا عبدالغنی برادر ہی وہ تھے جنہوں نے ملا عمر کو سنہ 2001 میں محفوظ مقام پر پہنچایا تھا-

    یاد رہے شروع شروع میں تو امریکہ اس جنگ میں اندھا دندھ کُود پڑا تھا اور کوئی انٹیلیجنس رپورٹس انکے پاس نہیں تھیں بس طاقت کا نشہ اور نیو ورلڈ آرڈر کا جنون ہی تھا امریکی شدید فضائی بمباری کرتے رہے مگر بے سوداخیر انہوں نے زمینی انٹیلیجنس بیس آپریشن شروع کیے تو انہیں بہت سی secret باتوں کا پتہ بھی چلا اور اس پر بہت Shocked بھی ہوئے-

    (ان ساری تفصیلات کے لیے آپ کو بی بی سی کی ایک طویل ڈاکومنٹری دیکھنی پڑۓ گی Secret Pakistan -dubble cross تو ہی آپ کو سمجھ لگے گی) انکشاف ہوا کہ ملا عبدالغنی برادر ہی وہ اصل بندہ تھا جو پاکستان میں موجود کوئٹہ شوری کا صدر رہا اور یہاں سے بیٹھ کر جنگ لڑواتا رہا-

    طالبان حکومت کے خاتمے کے چھ سال بعد سنہ 2007 تک تحریک طالبان افغانستان کے جنگجو مختلف محاذوں پر امریکہ اور اتحادیوں کے خلاف مزاحمت کر رہے تھے مگر آپس کے اختلافات کے باعث ان کو کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں ہوئی تھی-

    پھر صوبہ ہلمند میں سنہ 2007 میں ایک جھڑپ میں ملا داد اللہ کے ہلاک ہونے کے بعد طالبان میں ملا داد اللہ کے نام سے ایک گروہ وجود میں آیا جس نے مکمل طور پر ملا عمر کی مخالفت کا اعلان کر دیا –

    اس واقعے کے بعد 2007 ہی میں کوئٹہ شوریٰ قائم کی گئی جب کہ ملا عبد الغنی برادر نہ صرف شوریٰ کے سیاسی بلکہ ملٹری سربراہ بھی بن گئے اور مبینہ طور پر انہوں نے کوئٹہ ہی سے افغانستان کے اندر مختلف محاذوں پر امریکہ اور اتحادیوں کے خلاف لڑنے والوں کی قیادت کی اور یہ سارا کام پاکستانی ایجنسی کی نظروں سے چھپا ہوا نہیں تھا بلکہ نظروں ہی میں تھا آپ یہیں سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ملا عبدالغنی برادر پاکستانی ایجنسیوں کے کتنے قریب ہیں-

    اب آتے ہیں ملا عبدالغنی برادر کی پاکستانی میں گرفتاری کیوں ہوئی وجہ کیا تھی اصل معاملہ کیا تھا

    ستمبر ١١ کے حملوں کے بعد امریکہ نے UNO کے ادارے سلامتی کونسل کے ذريعے افغانستان میں موجود القاعدہ کے جنگجوؤں کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور پینٹاگون پر حملوں کا ذمہ دار ( ثبوتوں کے ساتھ القائدہ کی غلطی کہ حملوں کی مکمل ویڈیوز بطور ثبوت اپلوڈ کر دیں تھیں ) ٹھہرایا اور افغانستان میں موجود طالبان کی حکومت پر حملے شروع کر دیئے-

    اس جنگ میں امریکہ کو بہت زیادہ کامیابی نا مل سکی سواۓ کچھ افغانی اور عربی جہادیوں کی گرفتاری کے مگر اصل ٹارگٹ یعنی ملا عمر، خقانی نیٹ ورک کے لوگ اور اسامہ بن لادن وغیرہ انکے ہاتھ نا لگ سکے-

    امریکہ نے اس ناکامی کی ساری ذمہ داری جنرل مشرف اور اس وقت کے آئی ایس آئی چیف پر ڈال دی اور بار بار کہتے رہے کہ پاکستان ان کے ساتھ ڈبل گیم کر رہا ہے یعنی چھوٹے موٹے لوگ پکڑوا دیتے ہیں مگر اصل لوگوں کو تحفظ دیتے ہیں جو کہ پاکستانی اداروں کی مدد کے ذریعہ سے افغانستان میں امریکہ کے خلاف کاروائیاں کرتے ہیں-

    امریکہ کے اس شور پر پاکستان پر بہت پریشان تھا اسی دوران جنرل مشرف پر بہت زیادہ اندرونی سیاسی اور بیرونی پریشر ڈالا جا رہا تھا اور انہیں Do more کا کہا جا رہا تھا اور اسی ڈو مور کیلئے امریکہ کی طرف سے اندرونی طور پر پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات اور سیاسی بحران پیدا کیا جا رہا تھا-

    بے نظیر بھٹو کا قتل کرویا گیا اور ان پر پریشر ڈالا گیا کہ وہ حکومت چھوڑیں اور ملک کی حکمرانی جمہوری حکومت کے حوالے کریں
    جنرل مشرف کی ڈبل گیم امریکہ پر کھل چکی تھی (یہ ایک لمبی تفصیل ہے جس کے لیے آپ بی بی سی کی فل ڈاکومنٹری Secret Pakistan دیکھیں)-

    اسی اثناء میں 18 اگست سنہ 2008 کو جنرل مشرف نے حکومت چھوڑ دی اور ملک میں جمہوری حکومت آ گئی اور
    پاکستان میں امریکہ کی مرضی سے ڈرون حملے ہونا شروع ہوگئے اور امریکہ نے ڈبل ایجنٹس بھرتی کرنا شروع کر دیے اور پاکستان میں آن گراونڈ امریکی ایجنسیوں کے لوگ آپریشن کرنے لگ پڑے جبکہ یہ سارے کام جنرل مشرف کے دور میں نا ہونے کے برابر تھے جس کی وجہ جنرل مشرف کی یہ پالیسی تھی کہ آپ ہمیں ٹارگٹ بتائیں گے اور آپریشن ہم کریں گے نیز اگر ڈرون اٹی بھی کرنا ہوگا تو ہمیں اطلاع دی جائے گی-

    جنرل مشرف کی یہی پالیسی امریکہ کو قبول نہیں تھی پہلے چھ سال تک امریکہ کو پاکستان کی ڈبل گیم کا پتہ تو چل چکا تھا مگر باقاعدہ پروف نا تھے ان کے پاس جنرل مشرف کے جاتے ہی پاکستان میں ڈرون اٹکیز میں اضافہ ہو گیا اور امریکہ کے من مرضی کے ڈرون اور زمینی آپریشن شروع ہو گئےجن کا اصل ٹارگٹ کوئٹہ شوریٰ کی قیادت اور حقانی نیٹ ورک تھا –

    اسی دوارن امریکہ نے بھارت کے ساتھ مل کر افغانستان میں ٹی ٹی پی کی نرسری کو کھولا تاکہ افغان مجاہدین اور ٹی ٹی پی میں فرق باقی نا رہے اور عوام کی نظر میں افغان طالبان کے خلاف نفرت ڈالی جائے اور اسی آڑ میں مجاہدین کے خلاف دہشت گردی کی آڑ میں کاروائیاں کی گئیں جس میں بہت سے اہم افغان کمانڈروں کی شہادت و گرفتاری ہوئی

    اس ساری گیم میں ٹی ٹی پی اور بیرونی دہشت گرد ایک پلیٹ فارم پر جمع کر دیے گئے تھے مگر اس کےساتھ ساتھ پاکستان کی ایجنسی آئی ایس آئی بھی اپنا کام جاری رکھے ہوئے تھی اور پاکستان کے اندر کاروائیاں کرنے والوں کو خوب جانتی تھی اور فرق رکھتی تھی آئی ایس آئی خوارج فکر رکھنے والے دہشت گردوں اور کشمیری و افغان مجاہدین میں فرق جانتی تھی –

    اسی لیے کوئٹہ شوریٰ حقانی نیٹ ورک اور کشمیری جہادی تنظیمیں لشکر طیبہ اور جیش محمد والوں کے ساتھ رابطوں میں تھی اور نظر رکھے ہوئے تھے تاکہ اگر ان تمام تنظیموں میں سے بھی کوئی خوارج ذہنیت والے افراد ہیں تو انہیں پکڑا جائے آئی ایس آئی مکمل مطمئن تھی اسی لیے اس نے بیرونی پریشر کے باوجود ان جماعتوں و قائدین کو شیلٹرز میں رکھا ہوا تھا ملکوں دفاع کے لیے عسکری قیادت اور سول سیاسی قیادت کی سوچوں میں بہت فرق ہوتا ہے-

    جو کام امریکی و اتحادی جنرل مشرف کے دور میں اگست 2008تک نا کر سکے وہ کام انہوں نے جمہوری حکومت میں اگست 2008کے فوراً بعد ہی تیزی سے شروع کر دیا جن میں ان کا اولین کام کوئٹہ حقانی نیٹ ورک اور کوئٹہ شوریٰ پر حملے تھے-

    انہیں دنوں میں ملا عبدالغنی برادر کوئٹہ سے کراچی جاتے ہیں اور کراچی پہنچتے ہی فروری 2010 میں انہیں گرفتار کر لیا جاتا ہے جبکہ جنرل مشرف اس وقت جا چکے تھے-

    پاکستانی ایجنسی کو رپورٹ مل چکی تھی کہ ملاں عبدالغنی کی موجودگی کی مخبری ہوچکی اور امریکہ انہیں مروا دے گا یا پکڑ کر لے جائے گا تو اسی وقت ایجنسی نے یہ گیم کھیلی کہ انہیں پکڑا جائے اور ان پر کیس چلایا جائے وہ بھی پاکستانی عدالت میں
    سو انہیں پاکستان میں پکڑا گیا اور پاکستان ہی میں رکھا گیا تھا بلکل ایسے جیسے بھارت کا منہ بند کرنے کے لیے کچھ امن پاکستانی مجاھدین کو انڈر کسٹڈی رکھا گیا ہے-

    قارئین کرام آپ اس بات سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ملا عبدالغنی برادر کو امریکہ کے کہنے پر بھی امریکہ کے حوالے نہیں کیا گیا اور یہ کام ایجنسی نے پاکستانی عدالتی فیصلے کے ذریعہ سے کروایا گیا-

    نیز آپ کو یہ جان کر مذید حیرانگی ہوگی کہ اس سارے کام کو ایجنسی نے ایک زبردست طریقے سے انسانی حقوق کی ایک تنظیم کے سربراہ خالد خواجہ صاحب کے ذریعے سے کروایا جو کہ آئی ایس آئی کے لیے ہی کام کرتے تھے اور جہنیں امریکہ نے اس کام کے جرم میں اس کام کے فوراً بعد ہی ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کے ذریعے کرنل امام سمیت شہید کروا دیا تھا کیونکہ امریکہ کو اصل معاملہ کا علم ہو گیا تھا

    فوران اسیری ملا عبدالغنی برادر جو کام اوپن بیٹھ کر کوئٹہ میں کوئٹہ شوریٰ کی صورت میں کرتے وہی کام پاکستان کی ایجنسی کے مہان خانے میں سیف ہاوس میں بیٹھ کرتے رہے ہیں پھر جب پاکستان کو مکمل اطمينان ہوگیا کہ امریکہ بدمست ہاتھی مکمل طور پر گِر چکا ہے اور صلح کی طرف مائل ہو رہا ہے تو ملا عبدالغنی کو دنیاوی نظر میں رہا کر دیا جاتا اور اس سارے معاملے میں وہ ایک اہم کام سر انجام دیتے ہیں جس کا نتیجہ آپ سب کے سامنے ہے

    قارین کرام یقين و اطمينان رکھیں کہ ملا عبد الغنی برادر پاکستانی ایجنسی کے قریب ترین ہیں
    آپ نے وہ جھپھی والی تصویر تو دیکھی ہی ہو گی جس میں ملا عبدالغنی برادر موجودہ ڈی جی آئی ایس آئی جناب فیض حمید صاحب سے گلے مل رہے ہیں اب بات یہ ہے کہ وہ جپھی والی فوٹو چھپا کر گرفتاری کی فوٹو دکھانا افغان طالبان اور پاکستان کے مابین کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش اور حقائق کو مسخ کرنا نہیں تو کیا ہے ؟؟؟-


    غنی محمود قصوری

  • طالبان کی خواتین ڈاکٹرز کو اپنی ڈیوٹیاں جاری رکھنے کی ہدایت

    طالبان کی خواتین ڈاکٹرز کو اپنی ڈیوٹیاں جاری رکھنے کی ہدایت

    طالبان کے ایک مقامی وفد نے خواتین ڈاکٹرز کے ساتھ ملاقات کی-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق طالبان کے ایک مقامی وفد نے خواتین ڈاکٹرز کے ساتھ ملاقات کی اور خواتین ڈکٹرز اپنی ڈیوٹیاں جاری رکھنے کا حکم دیا ہے کہا کہ وہ اطمینان کے ساتھ اپنی ڈیوٹی جاری رکھیں انہیں کسی قسم کا خوف نہیں ہو نا چاہیئے-

    دوران ملاقات طالبان نے خواتین کو مکمل تحفظ دینے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے-

    افغانستان کرکٹ ٹیم اپنا کھیل جاری رکھیں طالبان اس کی حمایت کریں گے ترجمان طالبان

    جس کے بعد خواتین کے تحفظ اور جاب کر نے کے بارے میں جو خدشات تھے طالبان کی اس ملاقات اور یقین دہانی نے ان خدشات کو ختم کر دیا ہے-

    دوسری جانب طالبان کے سیاسی بیورو کے رکن اور سابق ترجمان سہیل شاہین نے پاکستانی چینل سے گفتگومیں بتایا کہ افغانستان میں کرکٹ اپنے ابتدائی دنوں میں شروع ہوئی تھی اور اب بھی اس نے اس کی مکمل حمایت کریں گے۔

    بھارت اگر چاہے تو افغانستان میں اپنے منصوبے مکمل کر سکتا ہے سہیل شاہین

    بھارت نئی افغان حکومت کو تسلیم کرے اور اس کا احترام کرے سہیل شاہین

    دوحہ میں بات چیت کا آپشن اب ختم ہوچکا ہے سہیل شاہین

  • افغانستان کرکٹ ٹیم اپنا کھیل جاری رکھیں طالبان اس کی حمایت کریں گے   ترجمان طالبان

    افغانستان کرکٹ ٹیم اپنا کھیل جاری رکھیں طالبان اس کی حمایت کریں گے ترجمان طالبان

    طالبان کے سیاسی بیورو کے رکن اور سابق ترجمان سہیل شاہین نے کہا ہے کہ افغانستان کرکٹ ٹیم اپنا کھیل جاری رکھیں طالبان اس کی حمایت کریں گے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق طالبان کے سیاسی بیورو کے رکن اور سابق ترجمان سہیل شاہین نے پاکستانی چینل سے گفتگومیں بتایا کہ افغانستان میں کرکٹ اپنے ابتدائی دنوں میں شروع ہوئی تھی اور اب بھی اس نے اس کی مکمل حمایت کریں گے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل افغان کرکٹ کے مستقبل کے بارے میں خدشات تھے کرکٹ پر سہیل شاہین کے ریمارکس نے خدشات کو ختم کر دیا ہے۔

    اس سے قبل انہوں نے کہا تھا کہ ہم تمام سفارت کاروں ، سفارتخانوں ، قونصل خانوں اور خیراتی کارکنوں کو یقین دلاتے ہیں ، چاہے وہ بین الاقوامی ہوں یا قومی کہ آئی ای اے کی جانب سے نہ صرف ان کے لیے کوئی مسئلہ پیدا ہوگا بلکہ ان کو ایک محفوظ ماحول فراہم کیا جائے گا ، انشاء اللہ۔

  • افغانستان کی حالیہ صورتحال پر سعودی عرب نے اپنا بیان جاری کر دیا

    افغانستان کی حالیہ صورتحال پر سعودی عرب نے اپنا بیان جاری کر دیا

    سعودی عرب نے طالبان سمیت تمام افغان فریقین پر زور دیا ہے کہ امن و استحکام کے لیے مل کر ‏کام کریں۔

    باغی ٹی وی : اشرف غنی کے ملک سے فرار اور کابل پر طالبان کے کنٹرول سے پیدا شدہ صورتحال اور رونما ہونے ‏والے واقعات پر سعودی عرب کا بیان سامنے آیا ہے-

    سعودی عرب نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ افغانستان کی صورتحال پرنظرہے اور جلد بہتری کی امید ہے اللہ ‏کےفرمان کےمطابق تمام مومنین بھائی بھائی ہیں، امید ہے طالبان اور دیگر طبقات مل کر امن ‏کیلئےکام کریں گے۔

    ریاض حکومت نے افغان عوام کو بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی ‏عرب افغان عوام کے کسی بیرونی مداخلت کے بغیر انتخاب کے ساتھ کھڑا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان عوام جو راستہ کسی بھی مداخلت کے بغیر اپنے طور پر منتخب ‏کریں گے تو سعودی عرب کو اپنا حامی پائیں گے۔

  • طالبان کوافغان سرکاری بینک کےغیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر تک رسائی نہیں دیں گے    امریکا

    طالبان کوافغان سرکاری بینک کےغیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر تک رسائی نہیں دیں گے امریکا

    واشنگٹن:اعلیٰ امریکی حکام نے دعویٰ کیاہے کہ افغان طالبان کو غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر تک رسائی نہیں دی جائے گی۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی حکام نے واضح طور پر کہا ہے کہ افغانستان کے سرکاری بینک کے غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر تک طالبان کو رسائی نہیں دی جائے گی۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ نے کہ افغان سینٹرل بینک میں زرمبادلہ کے ذخائر 9 ارب 40 کروڑ ڈالرز کے ہیں۔

    اس حوالے سے امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ افغان سینٹرل بینک کے زیادہ تر ذخائر بیرون ملک موجود ہیں-

    واضح رہے کہ افغان حکومت کے خاتمے طالبان کی تیز رفتار پیش قدمی کی رفتار اور اس کے نتیجے میں جنم لینے والی افراتفری نے صدر جوبائیڈن کو بطور کمانڈر انچیف انتہائی مشکل صورتحال سے دوچار کردیا ہے۔

    امریکی انٹیلی جنس حکام کی جانب سے محض چند روز قبل کیے جانے والے دعوے میں کہا گیا تھا کہ آئندہ 30 روز کے اندر طالبان کابل کا دیگر شہروں سے رابطہ منقطع کرسکتے ہیں اور 90 روز میں کابل پر قابض ہوسکتے ہیں۔

    طالبان نے اپنی جنگی حکمت عملی سے امریکی انٹیلی جنس کے بھی تمام دعوؤں کو یکسر غلط ثابت کردیا ہے جس کی وجہ سے جوبائیڈن کو ری پبلکن سمیت دیگر اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے-

    رپورٹس کے مطابق جوبائیڈن انتظامیہ کی ناکامی ہی کا نتیجہ ہے کہ امریکی افواج کے محفوظ انخلا کا منصوبہ ہنگامی بنیادوں پر اںخلا کا منصوبہ بن گیا ہے بائیڈں گزشتہ کئی ماہ سے دکھائی دینے والے واقعات کو نہ صرف دیکھنے میں ناکام رہے بلکہ حالات کو ان کی حقیقی شدت کے بجائے کم نوعیت کا بتاتے رہے۔

    موجودہ امریکی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام نے تسلیم کیا ہے کہ وہ افغان سیکیورٹی فورسز کی جانب سے ہتھیار ڈالنے کی برق رفتاری دیکھ کر قدرے محتاط ہو گئے تھے۔

  • خوشی ہےطالبان اقوام متحدہ اور دیگر اداروں سے بہتر طریقے سے پیش آئے    انتونیو گوتریس

    خوشی ہےطالبان اقوام متحدہ اور دیگر اداروں سے بہتر طریقے سے پیش آئے انتونیو گوتریس

    نیویارک: اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال میں سب کو متحد ہونا ہو گا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے افغانستان کی صورتحال پر منعقدہ سیکیورٹی کونسل کے اجلاس میں کہا کہ خوشی ہے کہ طالبان اقوام متحدہ اور دیگر اداروں سے بہتر طریقے سے پیش آئے ہیں۔

    اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے زور دے کر کہا کہ طالبان عوام کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔

    رپورٹ کے مطابق کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اپنے خطاب میں کہا کہ موجودہ صورتحال میں سب کو متحد ہونا ہو گا۔

    واضح رہے کہاپنے ایک بیان میں ترجمان طالبان سہیل شاہین نے یقین دہانی کرائی کہ ہم تمام سفارت کاروں ، سفارتخانوں ، قونصل خانوں اور خیراتی کارکنوں کو یقین دلاتے ہیں ، چاہے وہ بین الاقوامی ہوں یا قومی کہ آئی ای اے کی جانب سے نہ صرف ان کے لیے کوئی مسئلہ پیدا ہوگا بلکہ ان کو ایک محفوظ ماحول فراہم کیا جائے گا ، انشاء اللہ۔

    ان کا کہنا تھا کہ امارت اسلامیہ نے اپنے مجاہدین کو حکم دیا ہے اور ایک بار پھر انہیں ہدایت دی ہے کہ کسی کو بھی اجازت کے بغیر کسی کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔ کسی کی جان ، مال اور عزت کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا لیکن مجاہدین کے ذریعے اس کی حفاظت کی جانی چاہیے۔