Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • سی اے اے نے ملک کے تمام اہم ایئرپورٹس پر ریپڈ پی سی آر ٹیسٹ کا آغاز کردیا

    سی اے اے نے ملک کے تمام اہم ایئرپورٹس پر ریپڈ پی سی آر ٹیسٹ کا آغاز کردیا

    سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) نے ملک کے تمام اہم ایئرپورٹس پر ریپڈ پی سی آر ٹیسٹ کا آغاز کردیا ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق متحدہ عرب امارات میں داخلے کے لیے ریپڈ پی سی آر ٹیسٹ کی لازمی شرط عائد کی گئی ہے جس کے بعد سے اسلام آباد، کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ، ملتان اورفیصل آباد ایئرپورٹس پر ریپڈ پی سی آر ٹیسٹ کا آغازکردیا گیا ہے جس کے بعد پاکستانی مسافروں کو لے کر پروازوں نے متحدہ عرب امارات کے لیے اڑانیں بھرنا شروع کردی ہیں۔

    اعداد و شمار کے مطابق ریپڈ پی سی آر ٹیسٹ کے آغاز سے اب تک وفاقی دارالحکومت اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے دو ہزار 50 مسافر متحدہ عرب امارات کے لیے روانہ ہو چکے ہیں۔

    جناح انٹرنیشنل ائیر پورٹ سے اب تک چھ پروازوں کے ذریعے 1742 مسافروں کی روانگی ہوئی ہے جب کہ ملتان انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے اب تک چھ پروازوں کے ذریعے 938 مسافروں کو متحدہ عرب امارات روانہ کیا گیا ہے۔

    لاہورایئرپورٹ سے اب تک 8 پروازوں کے ذریعے 1626 مسافروں کی متحدہ عرب امارات روانگی ہوئی ہے جب کہ باچا خان انٹرنیشنل ائیر پورٹ سے 2561 مسافروں کو لے کر 14 پروازوں نے اڑان بھری ہے۔

    فیصل آباد انٹرنیشنل ائیر پورٹ سے اب تک دو پروازوں کے ذریعے 277 مسافروں کو متحدہ عرب امارات روانہ کیا گیا ہے 18 اگست سے معمول کے مطابق متحدہ عرب امارات کے لیے پروازیں اڑانیں بھریں گی۔

  • بچوں اور خواتین سے زیادتی کے ملزم کو نامرد بنانے کا بل منظور

    بچوں اور خواتین سے زیادتی کے ملزم کو نامرد بنانے کا بل منظور

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون انصاف نے کریمنل لاء(ترمیمی)بل 2021پاس کرلیاپاکستان کی تاریخ میں پہلی بار سزائے موت ،عمرقید کے علاوہ ایک اور سزا تاحیات عمر قید کا اضافہ کردیا گیابچوں اور خواتین سےباربار زیادتی کرنے والوں کو تاحیات عمرقید کی سزادی جاسکے گی بچوں اور خواتین سے زیادتی کرنے والوں کوکیمیکل کے ذریع مخصوص مدت کے لیے نامرد بنایاجاسکے گا-

    اسلام آباد(محمداویس )سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون انصاف نے کریمنل لاء(ترمیمی)بل 2021پاس کرلیا،پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار سزائے موت ،عمرقید کے علاوہ ایک اور سزا تاحیات عمر قید کا اضافہ کردیا گیا۔بچوں اور خواتین سے زیادتی کرنے والوں تاحیات عمرقید کی سزادی جاسکے گی،بچوں اور خواتین سے زیادتی کرنے والوں کوکیمیکل کے ذریع مخصوص مدت کے لیے نامرد بنایاجاسکے گا۔بل کی مسلم لیگ ن اور جے یوآئی نے مخالفت کردی-

    وزیر قانون نے کہاکہ انجکشن و گولیوں سے نامردہونے والے مخصوص عرصے کے بعد دوبارہ مرد بن سکے گا،تاحیات عمرقید کی وجہ سے جرم کوخوف پید اہوگا۔

    مسلم لیگ ن نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہاکہ جب شریعت میں سزائے موت موجود ہے تو تاعمر قید دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہےیہ پاکستانی تاریخ میں پہلی بار تجربہ کیا جارہاہے یہ تجربہ ان ملکوں میں کیا گیا جہاں سزائے موت نہیں ہے۔اس قانون کاغلط استعمال ہوگا گھر سے بھاگ کرشادی کرنے والوں پر بھی یہی قانون لاگو ہوگا۔

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون انصاف کا اجلاس چیرمین سید علی ظفر کی سربراہی میں ہوا۔اجلاس میں سینیٹر مصدق ملک، سینیٹراعظم نزیر تاڑار، سینیٹر کامران مرتضیٰ، سینیٹر اعظم سواتی،سینیٹر شبلی فراز، سینیٹر منظور احمد کاکڑ، سینیٹر ثمینہ ممتاز، سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر اور سینیٹر ولید اقبال نے شرکت کی۔وزارت کی طرف سے وزیر قانون فروغ نسیم ،پارلیمانی سیکرٹری ملیکہ بخاری اور دیگر حکام نے کمیٹی میں شرکت کی ۔اجلاس میں کریمنل لاء(ترمیمی)بل 2021 پر بحث کی گئی۔

    سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہاکہ جب شریعت میں سزائیں ہیں تو ان کو ہی سزا رکھی جائے اگر شریعت میں سزائیں نہیں ہیں تو دیگر سزائیں دیں۔اعظم نزیر تاڑار نے کہاکہ اس کی تعریف اچھی ہے ۔

    مصدق ملک نے کہاکہ بل کی تعریف اچھی ہے تمام پہلوؤں کو کور کرتی ہے اعظم سواتی نے کہاکہ بل کی تعریف بہت اچھی کی ہے جس سے مجرموں کو سزا ملتی رہے اور وہ نہ بچ سکیں ۔

    وزیر قانون فروغ نسیم نے کہاکہ اس قانون کی لاہور ہائی کورٹ نے بہت تعریف کی ہے ۔چیرمین کمیٹی علی ظفر نے کہاکہ عمر کی حد 16سال رکھی ہے ۔

    جس پر سیکرٹری پارلیمانی امور نے کہاکہ تمام لوگ اس پر متفق ہیں کہ حد 16 سال ہونی چاہیے 18 سال پر اختلاف ہے اس لیے عمر 16 سال رکھی ہے ۔مسلم لیگ ن کے ارکان نے تاحیات عمر قید کی سز اپر شدید اختلاف کیا کہ یہ نئی سزا آپ قانون میں ڈال رہے ہیں اس سے مسائل ہوں گے ۔

    اعظم نزیر تاڑار نے کہاکہ ہم سزا موت کو ختم نہیں کرسکتے کیوں کہ یہ سزا قرآن میں ہے ۔ بچوں و خواتین کے خلاف سنگین جرم کرنے والے مجرم کو سزائے موت دیں ۔

    فروغ نسیم نے کہاکہ ہم نے بل میں چار قسم کی سزائیں تجویز کی ہیں عمرقید،سزائے موت اور تاحیات عمر قید اس میں شامل ہیں ۔ بعض اوقات ثبوت نہیں ہوتے کہ سزائے موت دی جاسکے ایسی صورت میں مجرم کوتاحیات عمر قید کی سزا سنائی جائے گی جب تک وہ زندہ ہوگا وہ جیل میں ہی ہوگا ۔

    اعظم نزیر تاڑار نے کہاکہ موت تک جیل کی سزا سزائے موت سے سخت سزا ہے ۔

    فروغ نسیم نے کہاکہ یوپ یونین میں جی ایس پلس سٹیٹس کی وجہ سے ہمیں کہاجارہاہے کہ آپ سزائے موت کو ختم کریں مگر ہم ختم نہیں کرسکتے کہ ہم ایک اسلامی ملک ہیں ۔اعظم نزیر تاڑار نے کہاکہ تاحیات عمرقید کی وجہ سے جیلوں پر دباؤ پڑے گا جیلوں میں بزرگ شہریوں کو جو عمر قید کی سزا ہوتی ہے ان کو سنبھالنا بہت مشکل ہوتاہے ۔

    مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہاکہ قانون بنانے کے بعد کیا یہ اس قابل ہوگا کہ معاشرے میں اس کا خوف ہو۔مغرب نے سزائے موت کے باجود معاشرے میں جرم کے خلاف خوف پیدا کیا ہے ۔

    ثمینہ ممتاز نے کہاکہ زیادتی کے مجرم کو سزائے موت کی سزا ہونی چاہیے ۔

    مصدق ملک نے کہاکہ ریپ کاجرم طاقت کی نشے میں کیا جاتا ہے مجرم کو تاحیات جیل میں ڈالنے کی قیمت ٹیکس دینے والے لوگ ادا کریں گے ریاست کو اس کے جرم کی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔ اس سے بہتر ہے کہ ایسے مجرم کو سزائے موت دی جائے ورنہ ہمارا معاشرہ اس کی قیمت ادا نہیں کرسکتاہے اس لیے سزا موت ہی دی جائے۔

    وزیر قانون فروغ نسیم نے ٹیکس کے پیسے خرچ ہونا کے سوال پر کہاکہ اس کا اتنا زیادہ اثر نہیں ہوگا اس سے معاشرے میں جرم کا خوف ہوگا اور بہت کم لوگ ہوں گے جن کو اس کی سزا ہوگی دو چار لوگوں کے ذریعے مثال قائم کی جائے گی۔

    سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ خرچ کی وجہ سے سزائے موت نہیں دی جاسکتی ہے ۔مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہاکہ جیلوں کی گنجان آبادی ایک الگ مسئلہ ہے اڈیالہ جیل میں 7ہزار قیدی ہیں ان میں زیادہ تر انڈر ٹرائل کیسوں کے قیدی ہیں اگر نظام ٹھیک کرلیاجائے تو یہ مسائل حل ہوجائیں گے۔

    اعظم نزیر تاڑار نے کہاکہ سزائے موت موجود ہے تو تاعمر قید دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اس سے مسائل ہوں گے ۔یہ تاریخ میں پہلی بار یہ تجربہ کیا جارہاہے یہ تجربہ ان ملکوں میں کیا گیا جہاں سزائے موت نہیں ہے ۔

    فروغ نسیم نے کہاکہ امریکہ میں ابھی بھی سزائے موت ہے اور تاعمر قید کی بھی سزا ہے ۔ثمینہ ممتاز نے کہاکہ حالات دن بدن خراب ہورہے ہیں ہمیں اس حوالے سے جلد قانون سازی کرنی چاہیے ۔

    کمیٹی میں بچوں اور خواتین سے زیاتی کے مجرم کوتاحیات عمرقید کی سزاپر اتفاق رائے نہ ہونے پر چیرمین کمیٹی سید علی ظفر نے ووٹنگ کرائی جس میں پیپلزپارٹی تحریک انصاف اور اتحادی باپ پارٹی نے تاحیات عمرقید کی سزاکے حق میں ووٹ دیا اور مسلم لیگ ن نے اس کے خلاف ووٹ دیا جبکہ جمعیت علماء اسلام (ف)نے کسی کو ووٹ نہیں دیا۔اس طرح بل کے حق میں 6ارکن نے ووٹ دئیےاور 2نے مخالفت میں ووٹ دیئے جبکہ جےیو آئی نے ووٹ نہیں دیا۔اس طرح بل میں ترامیم پاس ہوگئی۔اس طرح بل میں دوسرے ترامیم جو کہ بچوں اور خواتین سے زیادتی کرنے والوں کوکیمیکل کے ذریع نہ جنسی صلاحیت ختم کرنے کے حوالے سے تھی اس پر وزیرقانون فروغ نسیم نے کمیٹی کوبتایاکہ جومجرم باربار ریپ کرے اس کو نامرد بنایا جائے ۔

    اعظم نزیر تاڑار نے کہاکہ اس قانون کا اطلاق غریب پر ہی ہوگا اس کے ساتھ جو گھر سے بھاگ کر شادی کرتے ہیں ان پر بھی یہ قانون لگے گا۔پولیس سٹیشن سے ڈیٹا منگوالیں کہ ریپ کے کیس کتنے ہیں اور گھرسے بھاگ کرشادی کے کیس کتنے ہیں ۔

    فروغ نسیم نے کہاکہ کیمیکل کے ذریعے نامرد بنانے کے حوالے سے کسی کو ایک مدت کے لیے نامرد بنایا جاسکے گا یہ دوبارہ مرد بن سکیں گے ۔اس عرصے کے بعد اس کی جنسی صلاحیت بحال ہوجائے گی ۔ہمیشہ کے لیے نامرد بنانے کے لیے آپریشن کرناپڑتاہے بل کے تحت انجکشن اور ادویات کے ذریع نامرد بنایاجائے گا اور پورا میڈیکل بورڈ ہوگاجو یہ کام کرئے گا۔

    فروغ نسیم نے کہاکہ جب بھی سنگین جرم ہوتا ہے تو وزیر اعظم مجھے کال اور میسج کرتے ہیں کہ اس حوالے سے جلدی قانون سازی کرو۔ اس بل کے حوالے سے رولز بنانے کے لیے تمام سٹاک ہولڈرز سے بات کی جائے گی ۔اس ترامیم پر بھی ووٹنگ کرائی گئی جس پر بل کے حق میں پانچ ووٹ جبکہ مخالفت میں 4 ووٹ آئے اس طر یہ ترامیم بھی پاس ہوگئی اور بل پاس ہوگیاکمیٹی نے انٹی ریپ(انویسٹی گیشن اینڈ ٹرائل)بل2021 پر بھی بحث ہوئی ۔

    وزیر قانون نے کمیٹی کوبتایاکہ بچوں اور خواتین سے جرائم کے حوالے سے کیس سپیشل کورٹ میں جائیں گے مردوں اور خواجہ سراؤں کے کیس نارمل کورٹ میں جائیں گے۔ اعظم نزیر تاڑار نے کہاکہ صوبوں میں سپیشل کورٹ کے جج لگانے کا اختیار متعلقہ صوبہ کی ہائیکورٹ کوہوناچاہیے نہ کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ تعیناتیاں کرئے۔جج کے لیے عمر کی حد 60سال کریں 70سال نہیں ہونی چاہیے ۔

    فروغ نسیم نے کہاکہ آرٹیکل 203 کہتاہے کہ ماتحت عدالتوں پر ہائیکورٹ کا کنٹرول رہے گا۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو ججوں کے بارے میں پتہ ہوتا ہے ۔سینیٹر اعظم سواتی نے کہاکہ اس بل کوموخر کریں تاکہ اس پر ارکان اپنے ترامیم لاسکیں اور وزیر بھی ان چیزوں کودوبارہ زیر غور لائے جس پر چیرمین کمیٹی نے بل اگلے اجلاس تک موخر کردیا۔

  • بھارت اگر چاہے تو افغانستان میں اپنے منصوبے مکمل کر سکتا ہے  سہیل شاہین

    بھارت اگر چاہے تو افغانستان میں اپنے منصوبے مکمل کر سکتا ہے سہیل شاہین

    افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا ہے کہ بھارت اگر چاہے تو افغانستان میں اپنے منصوبے مکمل کر سکتا ہے یونکہ وہ عوام کے لیے ہیں-

    باغی ٹی وی : ہم نیوز کے پروگرام ’ہم مہر بخاری کے ساتھ‘ میں طالبان ترجمان نے کہا کہ گزشتہ تین ماہ سے بغیر لڑائی کے اضلاع ہمارے کنٹرول میں آرہے تھے ہم پر امید تھے کہ کابل پر قبضہ کرلیں گے لیکن خلاف توقع یہ بہت جلدی ہوا-

    انہوں ںے کہا کہ افغان عوام کو پریشان نہیں ہونا چاہیے تعجبٕ ہوا کہ لوگ جہازوں پر چڑھ رہے ہیں۔

    پروگرام میں طالبان ترجمان سہیل شاہین نے کہا کہ سابقہ کابل انتظامیہ کے جو لوگ پریشان ہیں وہ بھی پرسکون رہیں لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے کےحق سے محروم نہیں کریں گے۔

    سہیل شاہین نے کہا کہ ہماری پالیسی واضح ہے کہ کسی گروپ کو افغان سرزمین استعمال نہیں کرنے دیں گے یہ صرف پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے کہ افغان سرزمین کسی کے خلاف استعمال ہو گی۔

    بھارت نئی افغان حکومت کو تسلیم کرے اور اس کا احترام کرے سہیل شاہین

    ترجمان افغان طالبان نے کہا کہ افغانوں پر مشتمل اسلامی حکومت چاہتے ہیں ابھی فیصلہ نہیں ہوا کہ افغانستان کا نیا سربراہ کون ہوگا؟-

    سہیل شاہین نے واضح طور پر کہا کہ اگر امریکہ آئندہ 20 سال مزید بھی لڑتا تو وہ پھر بھی یہاں سے جانے پر مجبور ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی تاریخ سب کے سامنے ہے۔

    سہیل شاہین نے کہا کہ بھارت افغانستان میں ترقیاتی منصوبے مکمل کرے کیونکہ وہ عوام کے لیے ہیں-

    انہوں نے کہا کہ سابق حکومت بہت کرپٹ تھی اس لیے آفیشل نے سرنڈر کیا اشرف غنی کسی کو بتائے بغیر بھاگ گئے ان کے اس طرح جانے کی توقع نہیں تھی۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل نجی ٹی وی دنیا نیوز کے پروگرام نقطہ نظر میں گفتگو کرتے ہوئے سہیل شاہین نے کہا تھا کہ اشرف غنی عوام کو بتائے بغیر ملک چھوڑ گئے ان کے اس طرح جانے کی توقع نہیں تھی۔

    دوحہ میں بات چیت کا آپشن اب ختم ہوچکا ہے سہیل شاہین

    انہوں نے کہا تھا کہ ملا عبدالغنی برادر قطر میں موجود ہیں لیکن اب دوحہ میں بات چیت کا آپشن اب ختم ہوچکا ہے سابق نائب صدر امراللہ صالح اور دیگر کو افغان عوام نے مسترد کردیا ہے، امراللہ صالح پنج شیر جائیں یا کہیں اور، ان کی اب کوئی حیثیت نہیں ہے۔

    سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ طالبان اسلامی حکومت تشکیل دیں گے، وہ بین الاقوامی برادری سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں، افغان سرزمین کسی کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

    سہیل شاہین نے کہا تھا کہ انڈیا کا رونا دھونا اس لیے لگا ہوا ہے کہ افغانستان کی حکومت کیوں ختم ہوگئی۔ بھارت کو چاہیے کہ نئی افغان حکومت کو تسلیم کرے اور اس کا احترام کرے۔

  • ازبکستان نے46افغان طیاروں کو زبردستی اتارلیا

    ازبکستان نے46افغان طیاروں کو زبردستی اتارلیا

    ازبکستان نے46افغان طیاروں کو زبردستی اتارلیا.

    باغی ٹی وی : خبر رساں ایجنسی کے مطابق افغان طیارے غیرقانونی طور پر ازبکستان کی فضائی حدود استعمال کررہےتھے جس کے باعث انہیں اتار لیا گیا طیاروں میں سیکڑوں فوجی موجود تھے۔

    اس سے قبل ازبک وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ فضائی حدودکی خلاف ورزی کرنے پرافغان طیارہ مارگرایا،طیارہ ازبکستان کی افغان سرحد کے قریب شہر میں گرا، حادثے کے بعد پائلٹ زخمی ہو گئے۔جنہیں طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے

    ازبک وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ طیارے کو فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے پر نشانہ بنایا گیا، افغان حکومت کی جانب سے ابھی تک اس پر کوئی رد عمل نہیں دیا گیا ہے-

    قبل ازیں یہ کہا گیا تھا کہ افغان فوج کے جہاز نے ازبکستان میں پناہ لینے کی کوشش کی لیکن اجازت نہیں ملی اور اس جہاز کا ایندھن ختم ہو گیا، جس کی وجہ سے طیارہ گر کر تباہ ہو گیا، تا ہم اب ازبک وزیر دفاع نے اس بات کی تائید کی ہے کہ فضائی حدود کی‌ خلاف ورزی پر طیارے کو گرایا گیا ہے-

    ایئرلائنزکابل کی فضائی حدود استعمال کرنے سے گریز کریں افغانستان سول ایوی ایشن اتھارٹی

    دوسری طرف افغان سول ایوی ایشن کا کہنا ہے کہ کابل کی فضائی حدود مسافرطیاروں کیلئےبند ہے،صرف فوجی طیارےفضائی حدوداستعمال کرسکیں گے۔

    افغانستان سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ائیر مین (نوٹم) کو ایک نوٹس جاری کیا ، جس میں کہا گیا تھا کہ حامدکرزئی ایئرپورٹ کابل کو عام مسافروں کیلئےبندکردیاگیا جبکہ کابل کی فضائی حدودصرف فوجی پروازوں کیلئے کھلی رہےگی-

    نوٹس میں کہا گیا کہ حامد کرزئی بین الاقوامی ہوائی اڈے کا سویلین حصہ اگلی اطلاع تک بند رہے ‏صرف فوجی طیارےفضائی حدوداستعمال کرسکیں گےدونوں انتباہات 18 اگست تک رہیں گے-

    ازبکستان نے افغانستان کا طیارہ گرا دیا

  • کابل: سی این این کی کلاریسا وارڈ  کی برقع پہن کر رپورٹنگ کرنے کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل

    کابل: سی این این کی کلاریسا وارڈ کی برقع پہن کر رپورٹنگ کرنے کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل

    سی این این کی خاتون رپورٹر کلاریسا وارڈ کی برقع پہن کر کابل میں رپورٹنگ کرنے کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے-

    باغی ٹی وی : طالبان کی افغانستان میں حکومت کے اثرات ایک ہی دن میں ہونا شروع ہو چکے ہیں اس کی تازہ مثال سی این این کی خاتون رپورٹر کلاریسا وارڈ کی ہے جو برقع پہن کر رپورٹنگ کر رہی ہیں اور ان کی تصاویر سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہو رہی ہیں۔

    کلاریسا وارڈ سی این این کیلئے سڑکوں پر عوام اور طالبان کے ساتھ بات چیت کر رہی ہیں برقع میں ملبوس سی این این کی رپورٹر نے شہر کے مختلف علاقوں کا چکر لگایا اور اپنے چینل کے ذریعے شہر کے حالات سے آگاہ کیا-

    کلاریسا وارڈ نے سیاہ رنگ کا برقع پہن رکھا ہے اور مختلف مقامات سے رپورٹس بھیج رہی ہیں کہ افغان طالبان کے آنے کے بعد کابل کی کیا صورتحال ہے۔

    سی این این کی خاتون رپورٹر کے مطابق فتح پر خوشی سے سرشار طالبان شہر کی سڑکوں پر گشت کرتے دکھائی دیئے افغان صدارتی محل اور امریکی سفارتخانے کا کنٹرول بھی ان کے ہاتھ میں ہے شہریوں کے ساتھ ان کا رویہ دوستانہ ہے اور عوام ان کے ساتھ تصویریں بھی بنوا رہے ہیں –

    کلاریسا وارڈ نے رپورٹ دی کہ طالبان جنگجووں کا کہنا تھا کہ صورتحال قابو میں ہے کسی کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں تاہم طالبان جنگجوؤں نے امریکہ کے خلاف نعرے بھی لگائے ۔

    کلاریسا کے مطابق انہیں دیکھ کر طالبان جنگجو تھوڑا پریشان دکھائی دیئے تاہم انہیں کوریج سے نہیں روکا ۔

  • سعودی آرمی چیف کی وزیراعظم عمران خان سے ملاقات

    سعودی آرمی چیف کی وزیراعظم عمران خان سے ملاقات

    سعودی عرب کے آرمی چیف نے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی ہے۔

    باغی ٹی وی : وزیراعظم سے ملاقات میں اہم باہمی امور پر تباد ہ خیال کیا گیا۔وزیراعظم نے پاکستان سعودیہ دفاعی تعلقات پر اظہار اطمینان کیا عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب میں دفاعی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔

    وزیراعظم عمران خان نے یمن کی صورت حال کے حوالے سے سعودی عرب کے کردار کی تعریف کی ’وزیراعظم عمران خان نے سعودی فرمانروا اور ولی عہد کے لیے بھی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔‘

    سعودی چیف آف جنرل سٹاف کی آرمی چیف سے ملاقات، افغانستان سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال

    عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام سعودی قیادت کو احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں پاکستان سعودی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے حمایت جاری رکھے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ تعلقات اور باہمی تعاون کو بہت اہمیت دیتا ہے سعودی پاکستان سپریم کونسل دونوں ممالک کے دو طرفہ تعلقات اور تمام شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے اہم کردار ادا کرے گی۔

  • سعودی چیف آف جنرل سٹاف کی آرمی چیف سے ملاقات، افغانستان سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال

    سعودی چیف آف جنرل سٹاف کی آرمی چیف سے ملاقات، افغانستان سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال

    ایک اعلیٰ سطحی فوجی وفد کی سربراہی جنرل فیاض بن حامد الرویلی ، چیف آف جنرل سٹاف مملکت سعودی عرب نے جنرل ہیڈ کوارٹر میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی۔

    باغی ٹی وی : ملاقات کے دوران جیو اسٹریٹجک ماحول ، افغانستان میں سکیورٹی کی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا جس میں دو طرفہ دفاعی تعاون اور ٹریننگ ایکسچینج پروگرام شامل ہیں۔ علاقائی سلامتی کی بڑھتی ہوئی صورت حال کے پیش نظر سعودی سی جی ایس نے خطے میں امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کی مکمل حمایت کا اظہار کیا۔

    معززین نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی کامیابیوں اور علاقائی امن و استحکام کے لیے شراکت کا اعتراف کیا۔ سعودی سی جی ایس نے سعودی مسلح افواج کی تربیت میں پاکستان کی مسلسل مدد پر شکریہ ادا کیا اور دوطرفہ دفاعی تعاون بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔

    اس سے قبل جی ایچ کیو پہنچنے پر جنرل فیاض بن حامد الرویلی نے یادگار شہدا پر پھولوں کی چادر چڑھائی۔ پاک فوج کے چاق و چوبند دستے نے آنے والے معززین کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔

  • ایئرلائنزکابل کی فضائی حدود استعمال کرنے سے گریز کریں     افغانستان سول ایوی ایشن اتھارٹی

    ایئرلائنزکابل کی فضائی حدود استعمال کرنے سے گریز کریں افغانستان سول ایوی ایشن اتھارٹی

    طالبان کے افغان دارالحکومت پر قبضہ کرنے کے بعد ایئرلائنز کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ کابل کی فضائی حدود سے گریز کریں جس کی فلائٹ انفارمیشن ریجن پورے افغانستان پر محیط ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق افغانستان سول ایوی ایشن اتھارٹی نے 21 اگست 2021 کو ائیر مین (نوٹم) کو ایک نوٹس جاری کیا ، جس میں مشورہ دیا گیا تھا کہ حامدکرزئی ایئرپورٹ کابل کو عام مسافروں کیلئےبندکردیاگیا جبکہ کابل کی فضائی حدودصرف فوجی پروازوں کیلئے کھلی رہےگی-

    نوٹم کے مطابق ‏کابل کی فضائی حدود مسافرطیاروں کیلئےبند کر دی گئی ہے ٹرانزٹ ہوائی جہاز کو دوبارہ راستے کا مشورہ دیں کابل فضائی حدود کے ذریعے کوئی بھی نقل و حمل بے قابو ہو جائے گی-

    نوٹس میں کہا گیا کہ حامد کرزئی بین الاقوامی ہوائی اڈے کا سویلین حصہ اگلی اطلاع تک بند رہے ‏صرف فوجی طیارےفضائی حدوداستعمال کرسکیں گےدونوں انتباہات 18 اگست تک رہیں گے-

    آخری شیڈول مسافر پروازوں میں سے ایک ، ترکش ایئرلائن کی پرواز TK707 ، ایک بوئنگ 777-300 بالآخر مقامی وقت کے مطابق 13:14 بجے ، اپنے مقررہ روانگی کے وقت کے پانچ گھنٹوں کے بعد کابل سے روانہ ہوئی۔

    ایمریٹس ای کے 640 سمیت دیگر پروازوں نے 15 اگست 2021 کو کابل لینڈ کرنے کے بجائے دبئی واپس آنے کا فیصلہ کیا۔

    انہوں نے کابل کی فضائی حدود سے دور رہنے کی وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ ایئرلائنز کو بعض مقامات تک پہنچنے کے لیے لمبے لمبے راستے اختیار کرنے پڑیں گے ، ان پر وقت اور ایندھن کا اضافی بوجھ پڑے گا-

    لوفتھانسا (LHAB) (LHA) نے کہا کہ اس کی تمام گروپ ایئر لائنز – بشمول Lufthansa (LHAB) (LHA) ، آسٹریا ، برسلز ، سوئس اور یوروونگس برانڈز ، اگلے نوٹس تک افغانستان سے زیادہ پرواز سے گریز کریں گی۔ گروپ نے ایک بیان میں کہا کہ ہندوستان میں پروازوں کے سفر کے اوقات میں ایک اضافی گھنٹہ شامل کیا گیا ہے۔

    لوفتھانسا (ایل ایچ اے بی) (ایل ایچ اے) نے مزید کہا کہ وہ جرمن حکومت کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ وہ جرمن شہریوں کو وطن واپس لانے میں کس طرح مدد کر سکتی ہے۔

    فرانس کی وزارت مسلح افواج نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ فرانس اپنے سفارتی اہلکاروں کے باقی ماندہ افراد کو بھی نکال رہا ہے ، اور ساتھ ہی "افغانی جنہوں نے اپنی فوج کی مدد کی ہے”۔

    اب جب کہ طالبان نے شہر پر قبضہ کر لیا ہے اور ملک پر اپنا اقتدار قائم کر لیا ہے ، ہزاروں لوگ انتقام کے خوف سے بھاگنا چاہتے ہیں۔

    اب تک ، باقی امریکی افواج نے حامد کرزئی بین الاقوامی ہوائی اڈے (KBL) کو محفوظ رکھا جبکہ غیر ملکی شہریوں کو باہر نکالا۔ لیکن مقامی لوگوں کا رن وے پر رش مچ گیا ہے یہاں تک کہ فوج کو ہوائی فائر کرنے پڑے اطلاعات کے مطابق بھگدڑ میں پانچ افراد ہلاک ہوئے۔


    ایسی کوئی صورت حال نہیں ہوگی جہاں آپ لوگوں کو سفارت خانے کی چھت پر سے فرار ہوتا ہوا دیکھیں، "امریکی صدر جو بائیڈن نے 8 جولائی 2021 کو وعدہ کیا تھا ، کیونکہ لوگوں نے کابل کی صورتحال کا موازنہ اپریل 1975 میں ویتنام کے شہر سیگون سے نکالنے سے کیا تھا۔


    اس کے باوجود صورتحال توقع سے زیادہ تیزی سے بگڑ گئی ، جس سے امریکہ کو مجبور کیا گیا کہ وہ 2،000 فوجیوں کو تعینات کرے جو پہلے ہی شہر کے انخلا کی نگرانی کرنے والے تین ہزار کی مدد کرے۔ اور 15 اگست 2021 کو تاریخ نے اپنے آپ کو دہرایا کیونکہ ایک چنوک ٹرانسپورٹ ہیلی کاپٹر بقیہ اہلکاروں کو ہوائی اڈے تک پہنچانے کے لیے امریکی سفارت خانے کی چھت پر اترا۔

  • طالبان کی تیز رفتار پیش قدمی سے جوبائیڈن انتظامیہ پریشان

    طالبان کی تیز رفتار پیش قدمی سے جوبائیڈن انتظامیہ پریشان

    واشنگٹن: افغان طالبان کی تیز رفتار پیش قدمی نے نہ صرف دنیا کے بیشتر ممالک کو حیرت میں ڈال دیا ہے بلکہ صدر جوبائیڈن کی انتظامیہ کو بھی پریشان کر دیا ہے-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق افغان حکومت کے خاتمے کی رفتار اور اس کے نتیجے میں جنم لینے والی افراتفری نے صدر جوبائیڈن کو بطور کمانڈر انچیف انتہائی مشکل صورتحال سے دوچار کردیا ہے۔

    امریکی صدر بائیڈن نے تسلیم کیا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے تیز ترین پیش قدمی حیران کن تھی، جبکہ افغان و دیگر غیر ملکیوں کے افغانستان سے انخلاء میں تاخیر کی زمہ دار اشرف غنی کی حکومت ہے۔

    امریکی انٹیلی جنس حکام کی جانب سے محض چند روز قبل کیے جانے والے دعوے میں کہا گیا تھا کہ آئندہ 30 روز کے اندر طالبان کابل کا دیگر شہروں سے رابطہ منقطع کرسکتے ہیں اور 90 روز میں کابل پر قابض ہوسکتے ہیں۔

    طالبان نے اپنی جنگی حکمت عملی سے امریکی انٹیلی جنس کے بھی تمام دعوؤں کو یکسر غلط ثابت کردیا ہے جس کی وجہ سے جوبائیڈن کو ری پبلکن سمیت دیگر اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے-

    رپورٹس کے مطابق جوبائیڈن انتظامیہ کی ناکامی ہی کا نتیجہ ہے کہ امریکی افواج کے محفوظ انخلا کا منصوبہ ہنگامی بنیادوں پر اںخلا کا منصوبہ بن گیا ہے بائیڈں گزشتہ کئی ماہ سے دکھائی دینے والے واقعات کو نہ صرف دیکھنے میں ناکام رہے بلکہ حالات کو ان کی حقیقی شدت کے بجائے کم نوعیت کا بتاتے رہے۔

    موجودہ امریکی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام نے تسلیم کیا ہے کہ وہ افغان سیکیورٹی فورسز کی جانب سے ہتھیار ڈالنے کی برق رفتاری دیکھ کر قدرے محتاط ہو گئے تھے۔

    اس حوالے سے امریکی سیکریٹری خارجہ انتھونی بلنکن نے سی این این کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ ہم نے دیکھا کہ افغان فورسز ملک کا دفاع کرنے میں قطعی ناکام ثابت ہوئیں اور یہ سب کچھ ہمارے اندازے سے کہیں زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ ہوا۔

    رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کے سینئر عہدیداران کا کہنا ہے کہ صدر جوبائیڈن گزشتہ روز کیمپ ڈیوڈ میں رہے اور وہیں انہوں نے افغانستان کی صورتحال پر بریفنگ لی امریکی صدر نے اپنی قومی سلامتی کی ٹیم کے ساتھ کیمپ ڈیوڈ میں ہی افغانستان کی صورتحال پر مشاورت بھی کی۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق آئندہ چند روز میں اس بات کا تعین ہو جائےگا کہ امریکہ موجودہ صورتحال میں کیا کچھ کرسکتا ہے؟ اورکچھ کر بھی سکتا ہے یا نہیں؟-

  • بھارت نئی افغان حکومت کو تسلیم کرے اور اس کا احترام کرے    سہیل شاہین

    بھارت نئی افغان حکومت کو تسلیم کرے اور اس کا احترام کرے سہیل شاہین

    افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا ہے کہ انڈیا کا رونا دھونا اس لیے لگا ہوا ہے کہ افغانستان کی حکومت کیوں ختم ہوگئی۔ بھارت کو چاہیے کہ نئی افغان حکومت کو تسلیم کرے اور اس کا احترام کرے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی دنیا نیوز کے پروگرام نقطہ نظر میں گفتگو کرتے ہوئے سہیل شاہین نے کہا کہ اشرف غنی عوام کو بتائے بغیر ملک چھوڑ گئے ان کے اس طرح جانے کی توقع نہیں تھی-

    دوحہ میں بات چیت کا آپشن اب ختم ہوچکا ہے سہیل شاہین

    انہوں نے کہا بھارت کا رونا دھونا اس لیے ہے کہ سابق افغان انتظامیہ کیوں ختم ہوگئی، بھارت کو چاہیے کہ نئی افغان حکومت کو تسلیم کرے اور اس کا احترام کرے۔

    سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ طالبان اسلامی حکومت تشکیل دیں گے، وہ بین الاقوامی برادری سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں، افغان سرزمین کسی کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

    سہیل شاہین نے کہا کہ طالبان کی نظر میں افغانستان کے سب شہری برابر ہیں، اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے پرعزم ہیں۔

    سہیل شاہین کا اپنے ایک پیغام میں کہنا تھا کہ امارت اسلامیہ نے اپنے مجاہدین کو حکم دیا ہے اور ایک بار پھر انہیں ہدایت دی ہے کہ کسی کو بھی اجازت کے بغیر کسی کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔ کسی کی جان ، مال اور عزت کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا لیکن مجاہدین کے ذریعے اس کی حفاظت کی جانی چاہیے۔

    ‏بھارت اس وقت اس بچے جیسا ہے جو دو طاقتوں کی لڑائی میں ایویں ہی چپیڑیں کھا کر گھر آجاتا ہے…

    کوئی ہمیں کیوں نہیں پوچھ رہا؟ ہندوستانیوں کا سوال