افغانستان کے دارالحکومت کابل میں طالبان داخل ہونا شروع ہو گئے ہیں جس کے بعد روس کی جانب سے بیان سامنے آیا ہے کہ کابل سفارت خانے کو خالی کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق روس کی وزارت خارجہ کے اہلکار ضمیر کابلوف نے انٹرفیکس نیوز ایجنسی کو بتایا کہ طالبان جنگجو دارالحکومت کابل ے مضافات میں پہنچ گئے ہیں اور ان کا ملک پر تقریباً قبضہ ہے مگر ایسے میں بھی روس کا کابل میں اپنا سفارت خانہ خالی کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے ۔
کابلوف نے کہا کہ وہ کابل میں ماسکو کے سفیر کے ساتھ "براہ راست رابطے میں ہیں” اور یہ کہ روسی سفارت خانے کے ملازمین "پرسکون” کام جاری رکھے ہوئے ہیں اور "انخلاء کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
واضح رہے کہ کابل میں افغان طالبان کے داخلے کے بعد امریکی حکام نے کہا ہے کہ سفارتخانہ محدود سٹاف کے ساتھ کابل ایئرپورٹ سے اپنا کام جاری رکھے گا اور امریکہ نے کابل میں دیگر سفارتخانوں کو ہدایت کی ہے کہ کسی مناسب جگہ پر محدود سٹاف کے ساتھ آپریٹ کریں افغان ملازمین سمیت امریکی سفارتخانے کے تمام لوگوں کو منگل سے پہلے نکالنے کے لیے چوبیس گھنٹے آپریشن جاری رہے گا –
خیال رہے کہ افغانستان میں دو ماہ تک جاری رہنے والی طالبان اور حکومتی فورسز کی لڑائی کے بعد طالبان آج دارالحکومت کابل میں داخل ہو رہے ہیں ، طالبان کی جانب سے اپنے جنگجوؤں کو ہدایت کی گئی ہے کہ جو لوگ کابل سے باہر جانا چاہتے ہیں انہیں محفوظ راستہ دیا جائے۔
دوحہ میں طالبان عہدیدار نے اپنے بیان میں کہا کہ طالبان رہنما ملا عبدالغنی برادر افغانستان آنے کی تیاری کر رہے ہیں-
باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق دوحہ سے جاری طالبان عہدیدار کے مطابق طالبان رہنما ملا عبدالغنی برادر افغانستان آنے کی تیاری کر رہے ہیں جبکہ دوسری جانب اقتدار کی پر امن منتقلی کیلئے مذاکرات کے لئے افغان طالبان کا وفد افغان صدارتی محل میں داخل ہو گیا ہے جہاں مذاکرات جاری ہیں-
افغان میڈیا کے مطابق عبداللہ عبداللہ معاملے میں ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں جبکہ علی احمد جلالی کو نئی عبوری حکومت کا سربراہ مقرر کیا جائے گا عبوری حکومت کو اقتدار کی منتقلی پُرامن ماحول میں ہو گی –
واضح رہے کہ طالبان کابل میں داخل ہو چکے ہیں قائم مقام وزیر داخلہ نے کہا کہ کابل پر حملہ نہیں کیا جائے گا، اقتدار پرامن طریقے سے منتقل ہو گا طالبان کا کہنا ہے لوگ ملک چھوڑ کر نہ جائیں، ہم انتقام لینے کا ارادہ نہیں رکھتے کابل میں تمام تجارتی ادارے اور بینک اپنا کام جاری رکھیں۔ تجارتی ادارے اور بینکوں میں کام کرنے والوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔
اقتدار کی پر امن منتقلی کیلئے مذاکرات کے لئے افغان طالبان کا وفد افغان صدارتی محل میں داخل ہو گیا۔
باغی ٹی وی : افغان میڈیا کے مطابق کہ طالبان کا ایک وفد اقتدار کی منتقلی پر مذاکرات کے لیے افغان صدارتی محل پہنچا ہے جہاں مذاکرات جاری ہیں افغان حکومت کے حکام نے ابھی تک ان رپورٹس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق عبداللہ عبداللہ معاملے میں ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں جبکہ علی احمد جلالی کو نئی عبوری حکومت کا سربراہ مقرر کیا جائے گا۔
اس سے قبل طالبان نے ایک بیان میں طالبان نے اقتدار کی پُرامن منتقلی پر زور دیا تھا۔
واضح رہے کہ طالبان کابل میں داخل ہو چکے ہیں قائم مقام وزیر داخلہ نے کہا کہ کابل پر حملہ نہیں کیا جائے گا، اقتدار پرامن طریقے سے منتقل ہو گا طالبان کا کہنا ہے لوگ ملک چھوڑ کر نہ جائیں، ہم انتقام لینے کا ارادہ نہیں رکھتے-
ترجمان افغان طالبان نے کہا کہ کابل میں تمام تجارتی ادارے اور بینک اپنا کام جاری رکھیں۔ تجارتی ادارے اور بینکوں میں کام کرنے والوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔
ترجمان افغان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ افغان صوبہ خوست پر بھی قبضہ کر لیا گیا ہے جبکہ گورنر، پولیس چیف، انٹیلی جنس سینٹرسے وابستہ افراد کو کنٹرول میں لے لیا ہے۔
ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ہتھیار، ساز و سامان اور گاڑیاں بھی قبضے میں لے لی گئی ہیں اب افغان فورسز فائرنگ بند کر کے غیر ملکیوں اور شہریوں کو راستہ دے۔
ذرائع کے مطابق افغان طالبان نے پاک افغان بارڈر انگور اڈا پر قبضہ کر لیا ہے جو پہلے ہی سیکیورٹی صورتحال کی وجہ سے بند ہے انگور اڈا پر تعینات افغان فورسز نے ہتھیار بھی ڈال دیئے ہیں۔
واضح رہے کہ طالبان سے لڑائی میں افغان فوج کی ناکامیوں کے بعد صدر اشرف غنی پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور ان سے استعفی مانگا جا رہا ہے۔ ان کے پاس اب دو ہی راستے ہیں، استعفی دیں یا دارالحکومت پر حکومتی کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے لڑائی جاری رکھیں-
کابل : ہر طرف سے دارلحکومت کابل میں طالبان کے داخلے کے بعد امریکہ نے انخلاء کی کوششیں تیز کردی ہیں ۔
باغی ٹی وی : امریکی ٹی وی چینل ” سی این این ” کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے کہا ہے کہ سفارتخانہ محدود سٹاف کے ساتھ کابل ایئرپورٹ سے اپنا کام جاری رکھے گا اور امریکہ نے کابل میں دیگر سفارتخانوں کو ہدایت کی ہے کہ کسی مناسب جگہ پر محدود سٹاف کے ساتھ آپریٹ کریں۔
برطانوی اخبار دی گارجیئن کے مطابق سی این این کی نمائندہ نے بتایاکہ افغان ملازمین سمیت امریکی سفارتخانے کے تمام لوگوں کو منگل سے پہلے نکالنے کے لیے چوبیس گھنٹے آپریشن جاری رہے گا ایسا محسوس ہوتا ہے کہ افغان حکومت کابل کی حفاظت کے قابل نہیں۔
ان کا مزید کہنا تھاکہ کابل جاتے یا وہاں موجود امریکی فورسز اور طالبان کے درمیان جھڑپ کا بھی خطرہ ہے ۔
واضح رہے کہ طالبان کابل میں چاروں اطراف سے داخل ہو رہے ہیں نیٹو اہلکار نے روئٹرز کو بتایا کہ کابل میں یورپی یونین کے ممبران کو ایک نامعلوم حفاظتی مقام پر منتقل کر دیا گیا ہےافغانستان کے دارالحکومت سے سفارتی اور بین الاقوامی عملے کی واپسی کے لیے کوششوں کو تیز کر دیا گیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق اتوار کی صبح کئی ہیلی کاپٹروں کو امریکی سفارتخانے آتے دیکھا گیا ہے یہاں بکتر بند گاڑیاں کی آمد کا سلسلہ بھی جاری ہے نام نہ ظاہر کرتے ہوئے فوجی اہلکاروں نے اے پی کو بتایا کہ سفارتی عملے کی جانب سے حساس دستاویزات کو جلایا گیا ہے اور سفارتخانے سے دھواں اٹھتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔
افغانستان کی موجو دہ صورتحال کے پیش نظر افغان قومی اسمبلی کے سپیکر اسمبلی میر رحمان رحمانی اسلام آباد روانہ ہوگئے ۔
باغی ٹی وی : افغان میڈیا کے مطابق افغانستان کے قومی اسمبلی کے سپیکر میر رحمان رحمانی اور استاد محمد محقق اورافغان وفد کے دیگراراکین پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن(پی آئی اے) کی پرواز سے اسلام آباد روانہ ہو ئے ہیں۔
واضح رہے کہ افغانستان میں دو ماہ تک جاری رہنے والی طالبان اور حکومتی فورسز کی لڑائی کے بعد طالبان آج دارالحکومت کابل میں داخل ہو رہے ہیں ، طالبان کی جانب سے اپنے جنگجوؤں کو ہدایت کی گئی ہے کہ جو لوگ کابل سے باہر جانا چاہتے ہیں انہیں محفوظ راستہ دیا جائے۔
طالبان کا کہنا ہے کہ وہ طاقت یا جنگ کے زور پر شہر میں داخل نہیں ہوں گے-
ان کا کہنا ہے کہ ’دارالحکومت کابل ایک بڑا اور گنجان آباد شہر ہے۔ امارت اسلامیہ کے مجاہدین طاقت یا جنگ کے ذریعے شہر میں داخل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتے، بلکہ کابل کے ذریعے پُرامن طریقے سے داخل ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں کسی کی جان، مال اور عزت پر سمجھوتہ کیے بغیر-
دوحہ میں طالبان رہنماؤں نے کہا ہے کہ مسلح جنگجوؤں کو یہ ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ کابل میں پُرتشدد کارروائیوں سے گریز کریں، شہر سے باہر نکلنے والوں کو راستہ دیں اور خواتین و بچوں کو حفاظتی مقامات تک پہنچائیں۔
ترجمان طالبان نے کہا کہ (ہم) اپنی تمام افواج کو ہدایت کرتے ہیں کہ وہ کابل کے دروازوں پر کھڑے رہیں، شہر میں داخل ہونے کی کوشش نہ کریں ہم اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ امارت اسلامیہ کسی سے انتقام لینے کا ارادہ نہیں رکھتی۔‘
ترجمان افغان طالبان نے کہا کہ کابل میں تمام تجارتی ادارے اور بینک اپنا کام جاری رکھیں تجارتی اداروں اور بینکوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا افغان طالبان نے حکومت اور فوج میں کام کرنیوالے تمام اہلکاروں کو معاف کردیا ہمارا کسی سے بدلہ لینے کاکوئی ارادہ نہیں کوئی تشدد نہیں ہوگا-
طالبان نے پاک افغان سرحد طورخم پر تعینات افغان فوجیوں کو فرار ہونے پر مجبور کر دیا پاک افغان سرحد طورخم کو آمدورفت کے لیے بند کر دیا گیا ہے طالبان نے جلال آباد پر بغیر لڑے ہی کنٹرول حاصل کر لیا اور گورنر جلال آباد نے طالبان کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔
اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ امریکہ نے افغانستان سے واپسی کا فیصلہ ہم سے پوچھ کر نہیں کیا امریکہ کے فیصلوں کا خمیازہ ہمیں بھگتنا پڑتا ہے اس لیے ہمیں زمینی حقائق کے مطابق فیصلے کرنے ہوں گے۔
باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے فیصلوں کا خمیازہ ہمیں بھگتنا پڑتا ہے اس لیے ہمیں اپنے زمینی حقائق کے مطابق فیصلے کرنے ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ فرقہ وارانہ فسادات کے پیچھے سب سے بڑا ہاتھ بھارت میں بیٹھے پاکستان مخالف عناصر کا ہے جبکہ ریاست مخالف بیانیہ کو بھارت سے سپورٹ ملی۔
انہوں نے کہا کہ کراچی میں جب ٹی ایل پی کے خلاف آپریشن شروع ہوا تو تین گھنٹوں کے دوران ہزاروں ٹویٹس ہوئے کہ کراچی میں سول وار شروع ہو گئی اور ان سارے ٹویٹس میں ہندوستان کا بڑا ہاتھ تھا۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہمیں اصل اور جعلی خبر میں فرق تلاش کرنے کا چیلنج درپیش ہے امریکہ کے سابق صدر اوباما نے 2013 میں کہا تھا کہ حکومتوں کا سب سے بڑا چیلنج فلو آف انفارمیشن سے نمٹنا ہے۔
فواد چوہدری نے کہا کہ ملک میں 18 کروڑ موبائل فون کنکشن ہیں اور ملک میں 114 ٹی وی چینلز کام کر رہے ہیں جبکہ 258 ایف ایم چیلنز موجود ہیں اس کے علاوہ ایک ہزار 672 اخبارات ہیں ہم پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی لا رہے ہیں جبکہ مستقبل ڈیجیٹل میڈیا کا ہے۔
نیٹو حکام کے مطابق یورپی سفارتی عملے کو کابل میں ہی ایک نامعلوم محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
باغی ٹی وی : بی بی سی نے خبر رساں ادارے روئٹرزکے حوالے سے بتایا کہ افغان وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ طالبان کابل میں چاروں اطراف سے داخل ہو رہے ہیں۔ افغانستان میں کابل وہ واحد اہم شہر ہے جو اس وقت افغان طالبان کے قبضے میں نہیں ہے۔
نیٹو اہلکار نے روئٹرز کو بتایا کہ کابل میں یورپی یونین کے ممبران کو ایک نامعلوم حفاظتی مقام پر منتقل کر دیا گیا ہےافغانستان کے دارالحکومت سے سفارتی اور بین الاقوامی عملے کی واپسی کے لیے کوششوں کو تیز کر دیا گیا ہے۔
جبکہ بی بی سے نے خبر رساں ادارے اے پی کے حوالے سے بتایا کہ اتوار کی صبح کئی ہیلی کاپٹروں کو امریکی سفارتخانے آتے دیکھا گیا ہے یہاں بکتر بند گاڑیاں کی آمد کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
بی بی سی کے مطابق نام نہ ظاہر کرتے ہوئے فوجی اہلکاروں نے اے پی کو بتایا کہ سفارتی عملے کی جانب سے حساس دستاویزات کو جلایا گیا ہے اور سفارتخانے سے دھواں اٹھتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔
بی بی سی کے مطابق کابل میں کچھ دکانیں بند کر دی گئی ہیں اور حکومتی دفاتر خالی کرا لیے گئے ہیں۔ جبکہ سرکاری سطح پر اس کی کوئی وجہ نہیں دی گئی۔
روئٹرز کے مطابق امریکا کی طرف سے یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں دیکھنے میں آئی جب افغان طالبان نے ملک کے آخری بڑے شہر جلال آباد پر بھی قبضہ کر لیا اس طرح افغان حکومت صرف کابل تک ہی محدود ہو کر رہ گئی ہے جبکہ دارالحکومت میں بھی طالبان داخل ہونا شروع ہو گئے ہیں-
روئٹرز نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ طالبان کی تیز تر پیش قدمی کے بعد گزشتہ روز افغان صدر اشرف غنی پہلی مرتبہ قوم سے خطاب کے لیے سامنے آئے تھے بظاہر لگتا ہے کہ وہ تیزی سے تنہائی کا شکار ہو رہے ہیں۔ وہ قبائلی سردار جنہوں نے ایک روز قبل ہی صدر غنی سے ملاقات کی تھی، یا تو بھاگ گئے ہیں یا پھر انہوں نے طالبان کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے ہیں اس طرح صدر اشرف غنی بغیر کسی ‘فوجی طاقت تنہا رہ‘ گئے ہیں۔
واضح رہے کہ اتوار کو طالبان نے مشرقی شہر جلال آباد کا کنٹرول سنبھال لیا اور اس سے ایک دن قبل انھوں نے مزار شریف پر قبضے کا اعلان کیا تھا جلال آباد میں طالبان اور فوج کے درمیان کوئی لڑائی نہیں ہوئی کیونکہ گورنر نے سرینڈر کر دیا تھا طالبان نے کل 34 میں سے 23 صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کر لیا ہے۔
طالبان سے لڑائی میں افغان فوج کی ناکامیوں کے بعد صدر اشرف غنی پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور ان سے استعفی مانگا جا رہا ہے۔ ان کے پاس اب دو ہی راستے ہیں، استعفی دیں یا دارالحکومت پر حکومتی کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے لڑائی جاری رکھیں۔
بریکنگ :طالبان نے چاروں اطراف سے دارالحکومت کابل میں داخل ہونا شروع کر دیا ہے: افغان وزارت داخلہ
باغی ٹی وی: غیر ملکی خبررساں ادارے سی این این نے بھی تصدیق کی ہے کہ کہ طالبان کابل میں داخل ہوئے ہیں سی این این کا کہنا ہے کہ طالبان نے چاروں اطراف سے دارالحکومت کابل میں داخل ہونا شروع کر دیا ہے-
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق طالبان کابل پہنچ گئے، طالبان نے شہر میں ’پُرامن طریقے سے داخلے‘ کا اعلان کیا ہے-
افغان وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ طالبان نے دارالحکومت کابل میں چاروں اطراف سے داخل ہونا شروع کر دیا ہے۔ جبکہ طالبان کا کہنا ہے کہ وہ طاقت یا جنگ کے زور پر شہر میں داخل نہیں ہوں گے-
بی بی سی رپورٹنگ کے مطابق طالبان کو افغان دارالحکومت میں بہت زیادہ مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑ رہا ہے افغان طالبان نے ایک بیان میں کابل میں ’لڑائی نہ کرنے کا اعلان‘ کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’دارالحکومت کابل ایک بڑا اور گنجان آباد شہر ہے۔ امارت اسلامیہ کے مجاہدین طاقت یا جنگ کے ذریعے شہر میں داخل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتے، بلکہ کابل کے ذریعے پُرامن طریقے سے داخل ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں کسی کی جان، مال اور عزت پر سمجھوتہ کیے بغیر طالبان نے اپنے جنگجووں کو کابل میں تشدد سے اجتناب کی بھی ہدایت کی-
ترجمان طالبان نے کہا کہ (ہم) اپنی تمام افواج کو ہدایت کرتے ہیں کہ وہ کابل کے دروازوں پر کھڑے رہیں، شہر میں داخل ہونے کی کوشش نہ کریں ہم اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ امارت اسلامیہ کسی سے انتقام لینے کا ارادہ نہیں رکھتی۔‘
ترجمان افغان طالبان نے کہا کہ کابل میں تمام تجارتی ادارے اور بینک اپنا کام جاری رکھیں تجارتی اداروں اور بینکوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا افغان طالبان نے حکومت اور فوج میں کام کرنیوالے تمام اہلکاروں کو معاف کردیا ہمارا کسی سے بدلہ لینے کاکوئی ارادہ نہیں کوئی تشدد نہیں ہوگا-
طالبان نے تمام شہریوں اور حکومتی اہلکاروں کے لئے عام معافی کا اعلان کیا اور مذاکرات کے ذریعے پرامن طریقے سے کابل کا کنٹرول حاصل کرنے کا عزم ظاہر کیا-
بھارتی تجزیہ نگار اور بلاگر نوین کمار نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ بھارتی سیاستدانوں اور صحافت کو پاکستانی سیاستدانوں اور صحافت سے سیکھنے کی ضرورت ہے –
باغی ٹی وی : سوشل میڈیا پر بھارتی بلاگر اور تجزیہ کار نوین کمار نے اپنے ویڈیو پیغام میں بھارتیوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ اگر میں کہوں کہ پاکستان کو سلام کرنے کو جی چاہتا ہے تو آپ ناراض تو نہیں ہو جائیں گے آپ کا تو پتہ نہیں لیکن گریراج سنگھ کا بس چلے تو گولی مروا دےلیکن اب میں نے کہہ دیا ہے-
بھارتی بلاگر نے ہندو سیاستدانوں کا چہرہ بے نقاب کرتے ہوئے کہا کی میں سچ میں کہہ رہاہوں کہ ہمارے دیش کے ہندو رہنماؤں کو اپنے بونے پن سے اوپر اٹھ کر سوچنا چاہیئے اور پاکستان سے سیکھنا چاہیئے کیوں سیکھنا چاہیئے اس کے بارے میں ہم بتائیں گے لیکن پہلے غور کیجیئے کہ ہمارے ہندو رہنماؤں کی سیاست کیا کہتی ہے ان کی بھاشن ان کی سوچ ان کی سمجھداری کیا کہتی ہے وہ کہتی ہے کہ مسلمانوں کو مار دو انہیں عرب ساگر میں پھینک دو ان کی عورتوں کے ساتھ بد سلوکی کرو عیسائی لوگوں پادریوں اور ان کے مذہبی رہنماؤں کو ذلیل کرو یہاں تک کہ وہ اتنی گھٹیا سوچ رکھنے والے ہندو بونے کہتے ہیں کہ اس ملک میں 5 ہزار مسجدوں کو گرانے والے ہیں وہ بونے نعرے لگاتے ہیں ایودھیا تو ابھی جھانکی ہے کاشو متھورا باقی ہے-
بھارتی تجزیہ کار نے ویڈیو میں ہندو رہنماؤں کو مزید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ بونے چاہتے ہیں کہ اس دیش یعنی بھارت کے مسلمان سرکاروں سے ڈریں ہندوؤں سے ڈریں اپنی بات کہتے ہوئے ڈریں اگر نہیں تو وہ مسلمانوں کو مار دیں گے ان سے گھینا کا پرچار کریں گے ہتھیاروں کا جلوس نکالیں گے انہیں پھول مالا پہنائیں گے –
کمار نے کہا لیکن بھارت کی اس تصویر کے برعکس پاکستان میں کیا ہوا وہاں پر بھی ایک پنجاب ہے جب بٹوارا ہوا تو آدھا پنجاب اُدھر چلا گیا آدھا ادھر رہ گیا لاہور بھی پہلے پنجاب کا حصہ تھا اصغر وضاحت کی ایک مشہور کتاب ہے جس نے "لاہور نہیں دیکھا وہ پیدا نہیں ہوا ” لیکن خیر پاکستان کے پنجاب میں ایک ضلع ہے رحیم یار خان جس میں ایک قصبہ ہے بھوم-
کمار نے ویڈیو میں مزید کہا کہ پاکستان ریاستی طور ایک اسلامی ملک ہے لیکن اس ریاست میں کچھ ہندو بھی رہتے ہیں وہاں کے کچھ لوگوں نے جو اپنے آپ کو مسلمان بتاتے تھے ایک گنیش مندر توڑ دیا کیوں توڑ دیا اس کی وجہ پاکستان کی قومی اسمبلی میں کھڑے ہوئے ایک رکن اسمبلی کےمطابق کہ 21 جولائی کو مدرسے کے اندر چلا گیا مدرسے کے کتب نے اسے پکڑا کہ تم ایک ہندو ہو یہاں کیوں آئے ہو اس کو اس نے پکڑا او رمارا یہاں تک کہ اس کا پیشاب نکل آیا جس کی وجہ سے اس کے خلاف ایکش لیا گیا دوسرے دن اس کی ایف آئی آر 295 اے میں کاٹی گئی دو دن 8 سال کا بچہ جیل میں رہا-
تجزیہ کار نے کہا کہ پاکستان کی حکومتی سطح پر ہنگامہ مچ گیا کہ 8 سال کے بچے کو جیل میں کیسے ڈال دیا گیا پاکستان کی سپریم کورٹ نے اس پر ایکشن لیا اور بچے کو چھوڑ دیا سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر کچھ لوگ اتنے ناراض ہوئے کہ مندر پر دھاوا بول دیا گیا لیکن سپریم کورٹ آف پاکستان سے لے کر حکومت اور عوام نے ایک سُر میں کہا کہ ہم یہ ہونے نہیں دیں گے پاکستان کے اندر اقلیتیں محفوظ ہیں اور محفوظ رہیں گی کچھ عناصر جن کی سوچیں غلط ہیں ان کو کبھی بھی آے بڑھنے نہیں دیں گے پاکستان سپریم کورٹ نے کہا کہ ہم خود اس معاملے کی نگرانی کریں گے-
بھارتی تجزیہ کار کمار نے بھارت کا پاکستان سے موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ فرض کیجیئے بھارت میں کسی مسجد پر یہ دھاوا ہندوؤں نے بولا ہوتا میں اودھیا کاشی متھورا کی بات نہیں کر رہا گزشتہ سال 2020 کی جنوری میں بھارت کے دارالحکومت دہلی میں مسجدوں کے میناروں پر چڑھائے تھے ہندو غنڈے مسلمانوں کے درجنوں گھر اور دوکانیں پھونک دی گئیں تھیں لیکن نہ سرکار کو اس سے کوئی فرق پڑا نہ پولیس کو نہ سماج کو ایک منتری نے نعرہ لگایا تھا دیش کے غداروں کو جوتے مارو سالوں کو-
بھارتی شہری کمار نے کہا کہ لیکن پاکستان اسلامک دیش ہونے کے باوجود اقلیتیوں پر کوئی آنچ آتی ہے تو وزیراعظم سے لے کرعوام ، اخبار، ٹی وی، میڈیا چینل تک بے چین ہو جاتے ہیں عمران خان حکم دیتے ہیں کہ مندر کو دوبارہ بنایا جائے اور بنانے والے ہوتے ہیں مسلمان وہ آپس میں چندہ اکٹھا کرتے ہیں وہ ہندو برادری سے معافی مانگتے ہیں اور خود مندر کو سجانے سنوارنے کا بیڑہ اٹھاتے ہیں-
کمار نے ویڈیومیں کہا کہ آئین پاکستان اقلیتوں کے مکمل حقوق کا تحفظ کرتا ہے اور یہ عوام بھی اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ اقلیتوں کے حقوق اور عبادت گاہوں کا بھر پور تحفظ کیا جائے گا اس نقطے پر پوری قوم اور حکومت ایک ہے وزیر اعظم عمران خان نے جلد از جلد میں بحال کرنے کا حکم دیا تھا دن بھر اعلیٰ افسران مندر میں کام کا معائنہ اور نگرانی کی-
بھارتی بلاگر نے مزید کہا لیکن اس سے بھی خوبصورت بات ہوتی ہے کہ پاکستان کی عدالت اس تنازع پر غور کر کے اس گھٹنا کی مذمت کرتی ہے اور ایسا کرنے والے لوگوں کو سبق سکھانے کا وعدہ کرتی ہے کہتی ہے کہ اس روایت کی پاکستانی معاشرے میں کوئی جگہ نہیں ہے ہم اس کوبرداشت نہیں کریں گے-
قائداعظم نے کہا تھا کہ پاکستان میں آپ آزاد ہیں آپ آزاد ہیں اپنے مندر میں جانے کے لئے آپ آزاد ہیں اپنی مساجد میں جانے کے لئے اور کسی بھی عبادت گاہ میں، آپ کا کوئی بھی ذات ، مذہب یا مسلک ہو سکتا ہے ریاست کے امور کا اس سے کوئی تعلق نہیں جہو نیوز پر شاہزین خانزادہ کا یہ کلپ دکھاتے ہوئے کمار نے کہا کہ میں اس خبر سے گزرتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ اگر کوئی ایسی ہی گھٹنا کسی مسجد کے ساتھ بھارتمیں ہوئی ہوتی تو ان ٹی وی چینلوں کا رخ کیا ہوتا ان ٹی وی چینلوں کے رپورٹز کا رخ کیا ہوتا ہم نے اسے دیکھا ہے جب ایودھیا کا فیصلہ آنے والا تھا نیوز روم میں جشن کا ماحول تھا بڑے بڑے اینکرز لکھ رہے تھے کہ ہمیں مندر کے حق میں فیصلے کا بے صبری سے انتظار ہے –
کمار نے کہا کہ لیکن پاکستان کے ٹی وی چینل کیا کر رہے تھے وہ بتا رہے تھے کہ ہم ایسا ملک نہیں ہم بطور ایک دیش اس واقعے پر شرمندہ ہیں پاکستان کے ٹی وی چینل پر خبر چلی کہ سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ رحیم یارخان مندر پر حملےکے ملزم فوری گرفتار کئے جائیں اور شر پسندوں کے خلاف بھی کاروارئی کی جائے سپریم کورٹ نے مندر کی بحالی کے اخراجات کی رقم بھی ملزموں سے وصول کرنے کی ہدایت کی-
بھارتی تجزیہ کار نے بھارتی میڈیا اور سیاست کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ کیا بھارت کے ٹی وی چینلوں کے گدھ رپورٹر اور صحافی پاکستان کی صحافت سے کچھ سیکھیں گے کیا بھارت کے ہندو حکمران پاکستان کی حکومت اور اس کے حکمرانوں سے کچھ سیکھیں گے اس کی عوام سے کچھ سیکھیں گے مجھے اس کی امید نہ کے برابر ہے مجھے اس لئے پاکستان کو اس مُدے پر سلام کرنے کا دل کرتا ہے-
کمار نے بھارتی ہندو سمراٹوں کا کالا چہرہ بے نقاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور مسلمان سے نفرت کی راج نیت نے ہمیں انسان تک نہیں رہنے دیا ہے کیا آپ کو ایسا نہیں لگتا محبت اور نفرت آپ کا حق ہے لیکن کیا آپ اس بات سے شرمندہ محسوس نہیں کرتے کہ جب بھارت کی ہاکی ٹیم نے 41 سال بعد اولپمک میں میڈل جیتاتو پورے پاکستان نے ہمارے کھلاڑیوں کو مبارکیں پیش کیں ہماری لڑکیوں کو کمال کہا ان کی بلائیں لیں اور ہم کیا کر رہے ہیں دیش کے 18 کروڑ کروڑ لوگوں کے دل دُکھانے کا جشن منا رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ تمہارے بزرگوں سے ہمارا بدلہ ابھی پورا نہیں ہوا ہےہم بابری مسجد گرائے جانے کے ظلم پر اترائے جانے والے لوگ ہیں ان قائروں نے لبرہان کمیشن کے سامنے کبھی قبول نہیں کیا کہ یہ کوکرم ہم نے کیا تھا-
کمار نے نریندر مودی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پچھلے سات سال میں موبلنچن میں 150 سے زیادہ مسلمانوں کو مارا گیا ہے آپ نریندر مودی کا ایک ٹوئٹ بھی دکھا دیجیئے ایک بیان دکھا دیجیئے کہ ہم اقلیتوں پر یہ ظلم برداشت نہیں کریں گے سب کو سزا ملے گی-
کمار نے پاکستان سے بھارت کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ پاکستان کو لاکھ گالیاں دے دیجیئے لیکن وہ چندہ کر کے توڑے ہوئے مندربنانے والا دیش ہے اقلیتوں سے معافی مانگنے وال دیش ہے ان کو یقین دلانے والا دیش ہے کہ آپ محفوظ ہیں اور ہم اپنی اقلیتوں کو دھمکی دینے ولا دیش ہی بھارت کی قومی اسمبلی میں کھڑے ہو کر ان کی ناگرکتا کی توہین کرنے والا دیش ہیں یہاں تک کہ دیوالیہ ٹی وی چینل دن رات آپ کو دکھا رہے ہیں کہ عمران خان بھکاری ہیں پاکستان کنگال ہے چین کا غلام ہے وہاں ہندوؤں کو کچلا جا رہا ہے لیکن وہ بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ دوئم درجے کے سلوک پر کچھ نہیں بولتا –
بھارتی تجزیہ کار نے اپنے ہم وطنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو برا لگتا ہے تو لگے لیکن مندر کے اس واقعے کے بعد پاکستان اور عمران خان نے جمہوریت کا جو چہرہ پیش کیا ہے اس نے دل جیت لیا ہے آپ کلیجے پر ہاتھ رکھ کر اپنے آپ سے پوچھیئے گا کہ زیادہ خوشی توڑ دینے میں ملتی یے یا کچھ بنا دینے میں-
سرینگر : لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے دونوں اطراف اور پوری دنیا میں مقیم کشمیری عوام 15 اگست بھارت کا یوم آزادی یوم سیاہ کے طور پر منا رہے ہیں-
باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق 15 اگست کو بھارت اپنا یوم آزادی مناتا ہے مگر مظلوم کشمیری اسے یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں اس دن لائن آف کنٹرول ( ایل او سی ) کے اطراف سمیت دنیا بھر میں کشمیری احتجاج کرتے ہیں ، ریلیاں نکالتے ہیں اور بھارت کے مکروہ چہرے کو بے نقاب کرتے ہیں ۔
مقبوضہ کشمیر میں آج کے روز احتجاج اور ریلیاں اس لیےنکالی جاتی ہیں تاکہ بھارت کی طرف سے کشمیر کی خصوصی حیثیت تبدیل کرنے اور ظلم وستم کی مذمت کی جا سکے یوم سیاہ منانے کا مقصد بین الاقوامی برادری کو یہ پیغام دینا ہے کہ بھارت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت دینے سے انکار کرتا آ رہا ہے-
کشمیریوں کے مظاہروں کو روکنے کیلئے بھارتی فورسز نے مقبوضہ کشمیر کے کئی علاقوں میں سخت لاک ڈاون کر رکھا ہے، انٹرنیٹ اور دیگر مواصلاتی ذرائع کو بند کردیا ہے قابض افواج نے وادی کشمیر بالخصوص سری نگر کو چاروں طرف سے بھارتی نفری اور پولیس دستے تعینات کرکے ایک فوجی چھائونی اور ایک بڑے حراستی کیمپ میں تبدیل کر دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یوم سیاہ کے موقع پر بھارتی غیر قانونی مقبوضہ جموں وکشمیر میں مکمل ہڑتال ہے جس کی کال آل پارٹیز حریت کانفرنس اور میر واعظ عمر فاروق کی قیادت میں حریت فورم نے دی ہے اور انہیں تمام حریت رہنماؤں اور تنظیموں کی حمایت حاصل ہے۔
کشمیری دنیا بھر میں بھارتی سفارتخانوں کے سامنے بھارت مخالف مظاہرے کریں گے تاکہ مقبوضہ علاقے میں بھارتی بربریت کی طرف دنیا کی توجہ مبذول کرائی جا سکے۔
بھارتی غیر قانونی مقبوضہ کشمیر میں مکمل شٹر ڈاؤن ہے جو 5 اگست سے 15 اگست 2021ء تک کل جماعتی حریت کانفرنس کی کال پر منائے جانے والے 10 روزہ مزاحمت کا حصہ ہے ہر جگہ سیاہ پرچم لہرائے جائیں گے جبکہ مقبوضہ علاقے میں بھارتی فوجیوں کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے خلاف احتجاجی ریلیاں نکالی جائیں گی۔