Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • وزیر اعظم ہاؤس یونیورسٹی کے چانسلرعمران خان خود ہیں یا کوئی اور؟  ن لیگی رہنما کے وزیراعظم سے سوال

    وزیر اعظم ہاؤس یونیورسٹی کے چانسلرعمران خان خود ہیں یا کوئی اور؟ ن لیگی رہنما کے وزیراعظم سے سوال

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سینئر رہنما طاہرہ اورنگ زیب نے وزیراعظم عمران خان سے ماضی میں کئے گئے عوام کے ساتھ وعدوں پر سوالات کی بوچھاڑ کردی۔

    باغی ٹی وی : طاہرہ اورنگ زیب نے کہا ہے کہ عمران خان نے وزیراعظم کا حلف اٹھاتے ہی اعلان کیا تھا کوئی پروٹوکول نہیں لیں گے، سائیکل پر وزیراعظم ہاؤس جائیں گے، لیکن ان کا ہیلی کاپٹر بنی گالہ سے وزیراعظم ہاؤس یونیورسٹی اترتا ہے۔

    انہوں نے وزیر اعظم کے آفس کے بجٹ بڑھنے پر بھی سوال اٹھایا کہا کہ وزیراعظم ہاؤس کا خرچہ اگر صفر ہوچکا ہے تو پھر اس کے لیے بجٹ میں اور بھی زیادہ پیسے کیوں رکھے گئے ہیں؟۔

    ن لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم ہاؤس یونیورسٹی کے چانسلر عمران خان خود ہیں یا کوئی اور؟۔

    طاہرہ اورنگزیب کا کہنا تھا کہ شہزاد اکبر براڈ شیٹ سے کتنے پیسے لے کر آئے ہیں؟ وزیر اعظم کی اے ٹی ایمز کو این آر او دے دیا گیا-

  • مقبوضہ کشمیرجموں ایئرپورٹ کےہائی سیکیورٹی ٹیکنیکل  ایریا میں 2 دھماکے

    مقبوضہ کشمیرجموں ایئرپورٹ کےہائی سیکیورٹی ٹیکنیکل ایریا میں 2 دھماکے

    مقبوضہ کشمیرجموں ایئرپورٹ کےہائی سیکیورٹی ٹیکنیکل ایریا میں 2دھماکے-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق مقبوضہ کشمیرجموں ایئرپورٹ کےہائی سیکیورٹی ٹیکنیکل ایریا میں 2دھماکے ہوئے دھماکہ کےباعث عمارت کی چھت تباہ ہوگئی جبکہ جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے-

    بھارتی میڈیا کے مطابق دھماکےکےوقت ایئرپورٹ پرایک اعلیٰ سطح اجلاس جاری تھا-

  • پاکستان میں کورونا سے شرح اموات میں کمی

    پاکستان میں کورونا سے شرح اموات میں کمی

    پاکستان میں کورونا کی لہر کی شرح میں کمی،24 گھنٹوں میں 23 اموات-

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کی تیسری لہر جاری ہے، کورونا مریضوں اور اموات میں کی شرح میں کمی ہو رہی ہے-


    نیشنل کمانڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے اعداد و شمار کے مطابق عالمی وبا کورونا وائرس پر پاکستان میں کافی حد تک قابو پا لیا گیا ہے اور ملک بھر میں کورونا سے اموات اور مثبت کیسز کی شرح میں کسی حد تک کمی دیکھنے میں آئی ہے گزشتہ 24 گھنٹوں میں کرونا سے مزید 23 اموات ہوئی ہیں-

    این سی او سی کے مطابق گزشتہ روز کورونا کے 44 ہزار 544 نئے ٹیسٹ کئے گئے901 نئے کیسز سامنے آ گئے۔ ملک بھر میں مثبت کیسز کی شرح تقریباً 2.02 فی صد رہی۔

    پاکستان میں کورونا سے اموات کی مجموعی تعداد 22 ہزار 211 تک پہنچ گئی جبکہ متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 9 لاکھ 54 ہزار743 ہو چکی ہے۔

  • ڈیڑھ لاکھ سال قدیم انسان سے متعلق حیران کن انکشافات

    ڈیڑھ لاکھ سال قدیم انسان سے متعلق حیران کن انکشافات

    ماہرین آثار قدیمہ نے ڈیڑھ لاکھ سال قدیم انسان سے متعلق نئے حیران کن انکشافات کر دیئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق چینی یونیورسٹی کے ماہرین نے 1930 میں چین سے ملنے والی انسانی کھوپڑی پر مزید تحقیق کی تھی۔

    ماہرین کے مطابق زمانہ قدیم کے ڈریگن مین کی آنکھیں مربع شکل اور منہ بڑا تھا ڈریگن مین نامی اس دور کے انسان کا دماغ آج کے انسان سے ملتا جلتا ہے، تاہم اس کے آئی سوکٹ مربع شکل کے تھے جبکہ ڈیڑھ لاکھ سال پہلے زمین پر موجود انسان کے دانت بھی بڑے تھے۔

    دنیا کی پہلی حنوط شدہ حاملہ مصری ممی دریافت

    ماہرین کا کہنا ہے کہ راملہ شہر کے نزدیک دریافت کی جانے والی باقیات ایک انتہائی قدیم انسانوں کی نسل کے ’آخری بچ جانے والوں‘ کی ہیں۔

    برطانوی خبر رساں ادارے نے سائنسی جریدے ’سائنس‘ میں شائع کردہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ محققین کی ٹیم کے مطابق یہ انسان اس نسل سے تعلق رکھتا ہے جو اس خطے میں لاکھوں سال قبل پھیل گئی تھی اور انھی کی نسل سے یورپ میں نینڈرتھل آئے تھے سائنسدانوں نے اپنی اس دریافت کو ’نیشر رملاہ ہومو‘ کا نام دیا ہے۔

    تل ابیب یونیورسٹی کی ڈاکٹر ہلا مے نے کہا کہ اس دریافت کے انسانی ارتقا کی کہانی بدل سکتی ہے، بالخصوص نینڈرتھل نسل کے انسانوں کے بارے میں نینڈرتھلز کے ارتقا کو عمومی طور پر یورپ سے جوڑا جاتا ہے یہ سلسلہ اسرائیل میں شروع ہوا ہمارا خیال ہے کہ یہاں کا ایک مقامی گروپ اس آبادی کا ذریعہ تھا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ نیشر رملہ نسل کے لوگ مشرق وسطی سے پھر یورپ منتقل ہوتے چلے گئے۔‘

    ماہرین کی اس ٹیم کا کہنا تھا کہ اس گروپ سے تعلق رکھنے والے پہلے ممبران کوئی چار لاکھ برس قبل موجود تھے محققین کو اس نسل میں اور یورپ میں ملنے والے نینڈرتھلز نسل سے بھی پہلے کے انسانوں میں کچھ مماثلت نظر آئی ہے۔

    تل ابیب یونیورسٹی کی ڈاکٹر ریچل سارگ کہتی ہیں کہ پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ ہم نے لیوانت (بحیرۂ روم کا مشرقی علاقہ) میں رہنے والے ماضی کے انسانوں میں سے کوئی تعلق جوڑا ہوقاسم، زوتیاہ اور تبون کی غاروں سے ایسے کئی انسانی فوسلز ملے ہیں جنھیں ہم اس زمانے میں موجود ہیں انسانوں کے کسی مخصوص گروہ سے منسوب نہیں کر سکت۔ لیکن ان کی شکلوں کا نوشیر رملا سے ملنی والی نئی باقیات سے موازنہ کرنے سے (نئے انسانی) گروہ میں ان کی شمولیت کا جواز بنتا ہے ڈاکٹر مے کے مطابق یہ انسان نینڈرتھل نسل کے آباؤ اجداد تھے۔

    ’یورپی نینڈرتھل دراصل یہاں لیوانت سے شروع ہوئے تھے اور پھر یورپ ہجرت کر گئے، جبکہ انسانوں کے دوسرے گروہوں کے ساتھ ان کے جنسی تعلق سے بچے پیدا ہوتے رہے۔

    پروفیسر اسرائیل ہرشکوٹز کہتے ہیں کہ باقی کچھ افراد مشرق میں انڈیا اور چین کی طرف نکل گئے۔ اس طرح وہ یورپ میں قدیم مشرقی ایشیائی انسان اور نینڈرتھلز کے درمیان تعلق کی طرف اشارہ کرتے ہیں مشرقی ایشیا میں دریافت ہونے والے کچھ فوسلز کی خصوصیات نیشر راملہ کی طرح نینڈرتھل سے ملتی جلتی ہیں۔

    محققین کہتے ہیں کہ ان کے دعوے اس بنیاد پر ہیں کہ اسرائیل میں ملنے والے فوسلز اور یورپ اور ایشیا سے ملنے والے فوسلز میں کئی خصوصیات مشترک ہیں، اگرچہ ان کا یہ دعویٰ متنازعہ ہے۔ لندن کے نیچرل ہسٹری میوزیم سے تعلق رکھنے والے پروفیسر کرس سٹرنگر حال ہی میں چینی انسانی باقیات کا مطالعہ کر رہے تھے۔

    پروفیسر کرس سٹرنگرکہتے ہیں کہ نیشر رملہ اس لیے اہم ہے کہ یہ تصدیق کرتی ہے کہ زحتلف سپیشیز اُس وقت خطے میں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر رہتی تھیں اور اب ہمارے پاس مغربی ایشیا میں بھی یہی کہانی ہے تاہم، میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت اسرائیل کے کچھ پرانے فوسلز کو نینڈرتھلز سے جوڑنا ایک دور کی کوڑی ہے۔ میں نیشر رملہ اور چین کے فوسلز کے مابین کسی تعلق کی بات پر بھی حیران ہوں۔‘

    نیشر رملہ کی باقیات ایک ایسی جگہ سے ملی تھیں جو کبھی ایک سنک ہول ہوا کرتا تھا، اور اس علاقے میں قدیم انسان آیا کرتے تھے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ وہ علاقہ رہا ہو جہاں وہ جنگلی جانوروں، گھوڑوں اور ہرنوں کا شکار کرتے ہوں، جسکا اشارہ ہزاروں پتھر کے آلے اور شکار کیے گئے جانوروں کی ہڈیوں سے ملتا ہے۔

    یروشلم کی عبرانی یونیورسٹی کے ڈاکٹر یوسی زیدنر کے ایک تجزیے کے مطابق یہ اوزار بھی اسی انداز میں بنائے گئے تھے جس طرح اس وقت کے جدید انسان نے اپنے لیے بنائے تھے یہ حیران کن بات ہے کہ قدیم انسان بھی اسی طرح کے آلات استعمال کر رہے تھے جو عموماً ہومو سیپیئنز یا موجودہ نسل کے انسان استعمال کرتے تھے۔‘

    ’ہم سمجھتے ہیں کہ یہ صرف اسی طرح ممکن ہے کہ آلات کو (بنتا) دیکھ کر یا زبانی طریقے سے سیکھ کر ہی بنایا جا سکتا ہے۔ ہماری دریافتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی ارتقا بالکل سادہ نہیں ہے اور اس میں انسان کی مختلف سپیشیز کے درمیان بہت سا انتشار، روابط اور تعامل شامل ہے۔‘

    یاد رہے کہ چند ماہ قبل مشرقی کینیا کے ایک غار میں چھوٹے بچے کی ہڈیاں ملی تھیں جس کے متعلق کہا گیا تھا کہ یہ افریقہ میں سب سے قدیم تدفین ہے۔

    یہ قبر کینیا میں آثارِ قدیمہ کے حوالے سے مشہور مقام ’پنجہ یا سعیدی‘ میں ایک غار کے دہانے پر ملی ہے ماہرین نے ریڈیو کاربن تاریخ نگاری اور دیگر تکنیکوں کے استعمال سے اس قبر کے زمانے اور بچے کی عمر کے بارے میں تو اندازہ لگا لیا گیا تھا لیکن بچے کی ہڈیاں اس قدر بوسیدہ ہوچکی ہیں کہ ان سے یہ پتا نہیں چل رہا کہ وہ لڑکا تھا یا لڑکی۔

    اس بچے کی عمرعمر 2 ½ اور 3 سال کے درمیان تھی ایک اندازے کے مطابق باقیات 7 8ہزار سال پرانی ہیں۔

    شواہد بتاتے ہیں کہ اس بچے ’مٹوٹو‘ کی موت قدرتی طور پر ہوئی تھی جبکہ اسے مرنے کے فوراً بعد ہی پورے اہتمام سے دفنا دیا گیا تھا ’مٹوٹو‘ کی باقیات سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ اسے نرم چھال کے کفن میں لپیٹ کر قبر میں اتارنے کے بعد، اس کے ننھے سر کو کسی نرم تکیے جیسی کسی چیز پر رکھا گیا اور اسے سیدھی (دائیں) کروٹ سے لٹا کر دفن کیا گیا ٹانگیں جوڑ کر سینے کی طرف اکٹھی کی گئی تھیں۔

    3 سالہ بچے کی 78 ہزار سال پرانی باقاعدہ قبر دریافت

  • قیمہ پھل مکھانے بنانے کا طریقہ

    قیمہ پھل مکھانے بنانے کا طریقہ

    قیمہ پھل مکھانے

    وقت : 60 سے 70 منٹ

    3 سے 4 افراد کے لئے

    اجزائے ترکیبی ………… مقدار …………
    مٹن قیمہ ………… ½کلو
    پھل مکھانے ………… 1کپ
    تیل ………… ½کپ
    پیاز (کٹا ہوا) ………… 1کپ
    ادرک لہسن کا پیسٹ ………… 1 کھانے کا چمچ
    ٹماٹر (گرائنڈ کئے ہوئے) ………… 1کپ
    نمک ………… حسب ذائقہ
    سرخ مرچ پاؤڈر ………… 2چائے کے چمچ
    ہلدی پاؤڈر ………… ½چائے کاچمچ
    موٹی الائچی ………… 2عدد
    زیرہ ثابت ………… 1 چائے کا چمچ
    خشک دھنیا پاؤڈر ………… 1چائے کاچمچ

    سجاوٹ کے لئے :
    ہری مرچیں (موٹی کٹی ہوئی قتلوں میں) ………… ½کھانے کا چمچ
    گرم مصالحہ پاؤڈر ………… ½چائے کا چمچ

    طریقہ کار :
    برتن میں تیل گرم کرکے پیاز کوہلکا براؤن کریں۔ ادرک لہسن کا پیسٹ شامل کرکے مزید 2منٹ پکائیں۔ گرائنڈ کئے ہوئے ٹماٹر، نمک، مرچ، ہلدی،موٹی الائچی، زیرہ اور خشک دھنیا پاؤڈر ڈال کر تقریباً 10 منٹ مصالحہ تیا ہو کر گھی چھوڑنے تک پکائیں۔ مٹن قیمہ اور ایک کپ پانی شامل کریں۔ 30 سے35منٹ قیمہ مکمل پکنے تک پکائیں۔ 5سے 6منٹ گھی چھوڑنے تک بھونیں۔ اب پھل مکھانے شامل کرکے اسے دو منٹ پکائیں۔ ہری مرچوں سے سجا کر گرم مصالحہ چھڑکیں۔ نان یا روٹی کے ساتھ پیش کریں۔ پھل مکھانے ہمیشہ تازہ استعمال کریں۔

  • فیس بُک کا اپنے "شی مینز بزنس” کو پاکستان میں توسیع دینے کا فیصلہ

    فیس بُک کا اپنے "شی مینز بزنس” کو پاکستان میں توسیع دینے کا فیصلہ

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘فیس بک’ خواتین کو بااختیار بنانے پر مبنی اقدام ‘شی مینز بزنس’ کو پاکستان میں بھی بڑھا رہا ہے۔

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ‘شی مینز بزنس’ اقدام دنیا بھر کے 21 ممالک میں کام کر رہا ہے اور فیس بک اور اس کے شراکت داروں نے دنیا بھر میں 10 لاکھ سے زائد خواتین کو ڈیجیٹل مہارت کی تربیت دی ہے۔

    اسٹیٹ بینک اور امریکی ایڈ پروگرام کے نئے جزو ‘مالیاتی تعلیم کے ذریعے کاروباری لچک (بی آر ایف ای)’ کے ساتھ شراکت میں کام کیا گیا ہے، اس کا مقصد مالی انتظام کی مہارت کو بہتر بنانا ہے تاکہ خواتین کی زیر قیادت ملک میں چھوٹے اور درمیانے کاروبار (ایس ایم ایز) میں ابھرنے کی قوت اور استحکام کو بڑھایا جاسکے۔

    فیس بک کے بانی کا واٹس ایپ میں شاپنگ کو لانے کا اعلان

    اپنے ویڈیو پیغام میں نائب گورنر اسٹیٹ بینک سیما کامل نے پاکستان میں خواتین کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے فیس بک اور دیگر شراکت داروں کی کاوشوں کو سراہا۔

    انہوں نے کہا کہ خواتین کی زیرقیادت چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں میں مہارت میں اضافہ اور مالی اعانت تک رسائی کے ذریعے استحکام اور ابھرنے کی قوت حاصل کرنا بہت ضروری ہے بی آر ایف ای جیسے اقدامات پاکستانی خواتین کو قومی تعمیر کے عمل میں اپنی شراکت کو بڑھانے کے قابل اور مستحکم بنائیں گے۔

    شی مینز بزنس کی عالمی سربراہ بیتھ این لِم کا کہنا تھا کہ ‘پاکستان اور دنیا بھر میں کہیں بھی خواتین کی زیر قیادت کاروبار کے استحکام کے لیے مالیاتی تعلیم بہت ضروری ہےشی مینز بزنس، ایشیا بحرالکاہل پیسفک خطے میں خواتین کی معاشی ترقی میں مدد کے لیے فیس بک کے عزم کی عکاسی ہے۔

    امریکی صدر نے چینی ایپلیکیشنز پرعائد پابندی اٹھا لی

    امریکی ناظم الامور لیسیلی وگویری نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ امریکی حکومت، پاکستان اور پوری دنیا میں خواتین کی معاشی بااختیاری کو ترقی کا اہم جزو سمجھتی ہے اور اس پر پختہ یقین رکھتی ہے کہ خواتین کو بااختیار بنانے میں سرمایہ کاری کرنے سے متحرک معیشتوں کو غربت کے خاتمے اور تعمیر میں مدد مل سکتی ہے۔

    اس تقریب میں مہمانوں نے چیلنجز اور مواقع پر خصوصی توجہ کے ساتھ ‘شی مینز بزنس’ کے لیے خواتین کی مالیاتی انتظام میں مہارت کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا اور موجودہ رکاوٹوں کو دور کرتے ہوئے خواتین کی مالی شمولیت کے فروغ کے لیے خیالات کا تبادلہ کیا۔

    درجنوں پاکستانی فیس بک اور انسٹاگرام اکاؤنٹس مشکوک سرگرمیوں کے الزام میں بند کر…

  • دور حاضر میں سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی بندش اور صارفین     تحریر: محمد نعیم شہزاد

    دور حاضر میں سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی بندش اور صارفین تحریر: محمد نعیم شہزاد

    دور حاضر میں سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی بندش اور صارفین
    تحریر: محمد نعیم شہزاد

    اکیسویں صدی کو یقینی طور پر سوشل میڈیا کے استعمال کے لحاظ سے انقلاب کی صدی کے طور پر تسلیم کیا جاسکتا ہے۔ زندگی کے تمام شعبوں سے وابستہ افراد اپنی زندگی اور خیالات کے اظہار کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں۔ جدید دور نے آزادی اظہار کو جنم دیا ہے لیکن بہت ساری سائٹس اور ایپس کچھ لابیزکے مکروہ ایجنڈے پر کام کر رہی ہیں اور صارفین پر مختلف مبینہ پابندیاں عائد کرتی ہیں اور انہیں اپنی آزادانہ مرضی کے مطابق کام کرنے نہیں دیتی ہیں۔

    معطل اور محدود کردہ صارفین کو اپیل کرنے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے لیکن جب وہ اپیل کرتے ہیں تو اس کا مناسب انداز میں جواب ​​نہیں دیا جاتا ہے۔ متعدد بار درخواست کرنے کے بعد بھی صارف کو حکام کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملتا۔

    جب میں اکاؤنٹ کی بندش کے لیے اپیل کرتا ہوں تو معاونتی ٹیم جواب نہیں دیتی ہے اور مجھے بے بس چھوڑ دیتی ہے۔ ایک صارف نے کئی ماہ کے تجربات بیان کرتے ہوئے بتایا۔ اس طرح کے سلوک کی مذمت کی جاتی ہے اور آج کے دور میں یہ سلوک صارفین کے لیے اذیت ناک ہے۔

    یقیناً یہ انداز آزادی اظہار رائے کے منافی ہے لیکن صارفین ان تنگ ذہنوں کے ہاتھوں بے بس ہیں۔

    مجھے ذاتی طور پر ایک ایسی سوشل سائٹ کی طرف سے اس طرح کی پابندیوں کا سامنا ہے جس نے مجھے یہ مضمون لکھنے پر ابھارا۔ میں اس سوشل سائٹ کو یہاں نامزد کرنا بہتر نہیں سمجھتا ہوں لیکن میں یہ خواہش ضرور کروں گا کہ اس پیغام کو اس سائٹ کے مالکان کی نظر میں قبولیت ملے اور کسی سازگار اقدام کی امید بھی کرتا ہوں ۔

    دوم ، میں یہ ذکر کروں گا کہ قواعد و ضوابط کو کسی بھی قسم کی جانبداری اور حمایت کے بغیر پالیسی کے مطابق لاگو کیا جانا چاہئے۔ امید ہے کہ یہ الفاظ سائٹ کے مالکان پر اپنا اثر دکھا سکیں گے اور وہ صارفین کی تقریر کی آزادی کا احترام کریں گے اور انہیں اپنے میڈیا سے بیزار نہیں کریں گے۔

    ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے میں صارفین کی مرضی کے خلاف سوشل سائٹوں کی اجارہ داری ختم کرنے کا مطالبہ کرتا ہوں۔ صارفین پر صرف ان سائٹس کی پالیسیوں کی خلاف ورزی پر پابندی لگانی چاہئے اور میل یا الگ نوٹیفیکیشن کے توسط سے اس کی خلاف ورزی کی وضاحت کرنی چاہئے۔ معطلی کے معاملے پر صارف اور سوشل سائٹ کے مابین کسی بھی چیز کو پوشیدہ یا نجی نہیں رکھا جانا چاہئے اور کسی بھی پالیسی کی خلاف ورزی کرنے والے صارف کو واضح طور پر مطلع کیا جانا چاہئے۔ واضح اور قابل اعتراض خلاف ورزی کی اطلاع کے بغیر کسی صارف کا اکاؤنٹ معطل کرنا ایک جرم قرار دیا جانا چاہیے۔

  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اختیاری زہد اور پرتعیش زندگی سے کنارہ کشی

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اختیاری زہد اور پرتعیش زندگی سے کنارہ کشی

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اختیاری زہد اور پرتعیش زندگی سے کنارہ کشی

    بقلم :عمران محمدی عفا اللہ عنہ

    1️⃣ مکے کی انتہائی مالدار خاتون خدیجہ رضی اللہ عنھا آپکی زوجہ محترمہ تھیں اور ایسی جانثار، وفادار تھیں کہ انہوں نے اپنا سارا کاروبار، ساری تجارتی انویسٹمنٹ اور ساری دولت اشاعت و تبلیغ اسلام کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد کر دی

    2️⃣ مکے کے سب سے زیادہ مالدار شخص ابوبکر رضی اللہ عنہ نہ صرف یہ کہ آپ کے خاص دوست تھے بلکہ ان کی بیٹی سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آپ کی زوجہ محترمہ تھی
    حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ایسے سخی اور فراخ دل تھے کہ آپ نے ایک موقع پر اپنا سارا مال حاضرِ خدمت کردیا۔ اور بال بچوں کے لیے اللہ اور اس کے رسول کے سواکچھ نہ چھوڑا۔ اس وقت ان کے صدقے کی مقدار چار ہزار درہم تھی

    3️⃣ مکے کے بہت ہی مالدار شخص عثمان رضی اللہ عنہ آپ کے داماد تھے
    صرف تبوک کے موقع پر حضرت عثمان بن عفانؓ نے جو صدقہ کیا اس صدقے کی مقدار
    ساڑھے پانچ کلو سونا
    ساڑھے انتیس کلو چاندی
    نوسو اونٹ
    اور ایک سو گھوڑے تک جاپہنچی
    (الرحیق المختوم)

    اگر آج کے حساب سے اسے کیلکولیٹ کیا جائے تو ساڑھے پانچ کلو سونا 550 تولے بنتا ہے اور ایک تولہ کم و بیش ایک لاکھ کا ہے اور یوں نقد رقم جو عثمان رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کی تھی ساڑھے پانچ کروڑ روپے بنتی ہے
    یہ صرف سونے کا حساب ہے
    اونٹ، گھوڑے اور چاندی کی قیمت اس سے الگ ہے

    4️⃣ لاکھوں، کروڑوں اور اربوں روپے کی مالیت کے برابر ملنے والے مال غنیمت میں سے خمس، پانچواں حصہ آپ کی ملکیت ہوتا تھا

    اور مال فے پورے کا پورا آپ کا ہوتا تھا

    5️⃣ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں :
    ’’جب خیبر فتح ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خمس میں سے ہر بیوی کو اسّی (۸۰) وسق (دو سو چالیس من) کھجوریں اور بیس (۲۰) وسق (ساٹھ من) جو دیا کرتے تھے (اور یہ وظیفہ آپ کی وفات کے بعد بھی جاری رہا)۔‘‘
    [ أبو داوٗد، الخراج، باب ما جاء في حکم أرض خیبر : ۳۰۰۶، و قال الألباني حسن الإسناد ]

    کھجور اچھی بھی ہوتی ہے درمیانی بھی ہوتی ہے اور ناقص بھی
    اگر ہم اوسط ریٹ فی کلو 500 کے مطابق بھی حساب کریں تو 80 وسق یعنی 240 من کھجور (جوکہ 9600 کلو بنتی ہے) 48 لاکھ روپے مالیت ہے

    اور 20 وسق یعنی 60 من جو (جوکہ 2400 کلو بنتے ہیں)
    فی کلو جو کا اوسط ریٹ 80 روپے ہے
    60 من جو تقریباً 2 لاکھ روپے کے بنتے ہیں

    گویا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ہر زوجہ محترمہ کو ٹوٹل 50 لاکھ روپے سالانہ دیا کرتے تھے

    اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیک وقت 9 ازواج مطہرات موجود رہی ہیں

    اس حساب سے 9 بیویوں کا سالانہ خرچ ساڑے چار کروڑ روپے بنتا ہے

    کیا دنیا میں کوئی شخص اتنا مالدار پایا گیا ہے جو اپنی بیویوں کو اتنی بھاری رقم سالانہ جیب خرچ کے طور پر دیتا ہو ❓

    خلفائے راشدین کے زمانے میں روم و شام، مصر اور فارس فتح ہوئے، تو امہات المومنین میں سے ہر ایک کا سالانہ وظیفہ بارہ ہزار درہم مقرر ہو گیا، جو تقریباً ایک ہزار دینار (ساڑھے چار کلو یعنی 450 تولہ سونے) کے برابر تھا۔ جوکہ ساڑھے چار کروڑ روپے مالیت کے برابر ہے یہ الگ بات ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کی برکت سے ان کی ایسی تربیت ہوئی تھی کہ وہ اسے اللہ کی راہ میں خرچ کر دیتی تھیں
    اور اسی زندگی پر قناعت کرتیں جو انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا پر ترجیح دیتے ہوئے اختیار کی تھی

    6️⃣ بڑے بڑے مالدار صحابہ جان نچھاور کرنے اور مال پیش کرنے کے لئے آپ کے اشارہ ابرو کے منتظر رہتے تھے
    کہ اگر آپ اظہار خواہش کرتے تو دنیا جہاں کی دولت آپ کے قدموں میں ہوتی

    7️⃣ زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے ایک ہزار غلام تھے جو روزانہ شام کو آپ کے پاس پیسے کما کر لایا کرتے تھے

    8️⃣ آپ کے انتہائی قریبی دوست عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا شمار انٹرنیشنل تاجروں میں ہوتا تھا

    تبوک کے موقع پر حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ دوسو اوقیہ (تقریباً ساڑھے ۲۹ کلو ) چاندی لے آئے

    9️⃣ تبوک کے موقع پر حضرت عاصم بن عدیؓ نوے وسق (یعنی ساڑھے تیرہ ہزار کلو ،ساڑھے ۱۳ ٹن ) کھجور لے کر آئے۔
    جو کہ تقریباً اڑسٹھ(68) لاکھ روپے کی مالیت ہے

    🔟 دوپہاڑوں کے درمیان(چرنے والی) بکریاں ایک ہی شخص کو دے دیں

    انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
    آپ فرماتے ہیں
    ” مَا سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْإِسْلَامِ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ، قَالَ: فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَأَعْطَاهُ غَنَمًا بَيْنَ جَبَلَيْنِ، فَرَجَعَ إِلَى قَوْمِهِ، فَقَالَ: يَا قَوْمِ أَسْلِمُوا، فَإِنَّ مُحَمَّدًا يُعْطِي عَطَاءً لَا يَخْشَى الْفَاقَةَ ”
    (مسلم، كِتَابُ الْفَضَائِلِ،بَابُ حُسنِ خُلُقِهِ النبي صلى الله عليه وسلم، 6020)

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام (لا نے) پر جوبھی چیز طلب کی جا تی آپ وہ عطا فر ما دیتے ،کہا: ایک شخص آپ کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوپہاڑوں کے درمیان(چرنے والی) بکریاں اسے دے دیں ،وہ شخص اپنی قوم کی طرف واپس گیا اور کہنے لگا : میری قوم !مسلمان ہو جاؤ بلا شبہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اتنا عطا کرتے ہیں کہ فقر وفاقہ کا اندیشہ تک نہیں رکھتے۔

    1️⃣1️⃣ اکیلے صفوان کو تین سو اونٹ دے دیئے

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین میں خونریز جنگ کی، اللہ نے اپنے دین کو اور مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی
    وَأَعْطَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ مِائَةً مِنَ النَّعَمِ ثُمَّ مِائَةً ثُمَّ مِائَةً
    اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفوان بن امیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سو اونٹ عطا فرمائے ،پھر سواونٹ پھر سواونٹ۔

    صفوان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا :
    «وَاللهِ لَقَدْ أَعْطَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَعْطَانِي، وَإِنَّهُ لَأَبْغَضُ النَّاسِ إِلَيَّ، فَمَا بَرِحَ يُعْطِينِي حَتَّى إِنَّهُ لَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ»
    (مسلم، كِتَابُ الْفَضَائِلِ،بَابُ حُسنِ خُلُقِهِ النبي صلى الله عليه وسلم، 6022)
    اللہ کی قسم!رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جو عطا فر ما یا ،مجھے تمام انسانوں میں سب سے زیادہ بغض آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تھا ۔پھر آپ مجھے مسلسل عطا فرما تے رہے یہاں تک کہ آپ مجھے تمام انسانوں کی نسبت زیادہ محبوب ہو گئے

    2️⃣1️⃣ مقروض میت کا قرض اپنے ذمے لیتے ہیں

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان کر رکھا تھا
    فَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ مَاتَ وَتَرَكَ مَالًا فَلْيَرِثْهُ عَصَبَتُهُ مَنْ كَانُوا وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَلْيَأْتِنِي فَأَنَا مَوْلَاهُ
    (بخاری ،كِتَابُ فِي الِاسْتِقْرَاضِ وَأَدَاءِ الدُّيُونِ وَالحَجْرِ وَالتَّفْلِيسِ،بَابُ الصَّلاَةِ عَلَى مَنْ تَرَكَ دَيْنًا،2399)
    جو مومن بھی انتقال کر جائے اور مال چھوڑ جائے تو اس کے ورثاءاس کے مالک ہوں۔ وہ جو بھی ہوں
    اور جو شخص قرض چھوڑ جائے یا اولاد چھوڑ جائے تو وہ میرے پاس آجائیں کہ ان کا ولی میں ہوں۔

    اس سب مال و دولت کے باوجود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں میں اکڑ، تکبر یا غرور نہیں تھا

    حضرت ابو مسعود (عقبہ بن عمرو انصاری)ؓ سے روایت ہے‘انھوں نے فرمایا:
    أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَكَلَّمَهُ، فَجَعَلَ تُرْعَدُ فَرَائِصُهُ
    ایک آدمی نبیﷺکی خدمت میں حاضر ہوا اور آ پ سے بات کرنے لگا۔(رسول اللہﷺ کے رعب کی وجہ سے )اس کے کندھے کانپنے لگے(اس پر کپکپی طاری ہو گئی)
    رسول اللہﷺ نے فرمایا:
    «هَوِّنْ عَلَيْكَ، فَإِنِّي لَسْتُ بِمَلِكٍ، إِنَّمَا أَنَا ابْنُ امْرَأَةٍ تَأْكُلُ الْقَدِيدَ»
    (ابن ماجة، كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ،بَابُ الْقَدِيدِ،3312صحیح
    سلسلة الأحاديث الصحيحة للألبانى رقم :1876)
    ’’گھبراؤ مت‘میں بادشاہ نہیں ہوں۔میں تو ایک ایسی(عام سی غریب)عورت کا بیٹا ہوں جو خشک کیا ہوا گوشت کھایا کرتی تھی۔‘‘

    میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی سائل کو نفی میں جواب نہیں دیا

    حضرت جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا
    «مَا سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا قَطُّ فَقَالَ لَا»
    (مسلم، كِتَابُ الْفَضَائِلِ،بَابُ حُسنِ خُلُقِهِ النبي صلى الله عليه وسلم، 6018)
    : ایسا کبھی نہیں ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کو ئی چیز مانگی گئی ہو اور آپ نے (ناں یا نہیں ) فرمایا ہو۔

    دنیا سے بے تعلقی اور انفاق فی سبیل اللہ کا عزم ایسا کہ اگر احد پہاڑ برابر بھی سونا ہوتا تو اللہ کی راہ میں خرچ کردیتے

    ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    لَوْ كَانَ لِي مِثْلُ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا يَسُرُّنِي أَنْ لَا يَمُرَّ عَلَيَّ ثَلَاثٌ وَعِنْدِي مِنْهُ شَيْءٌ إِلَّا شَيْءٌ أُرْصِدُهُ لِدَيْنٍ
    (بخاری ،كِتَابُ فِي الِاسْتِقْرَاضِ وَأَدَاءِ الدُّيُونِ وَالحَجْرِ وَالتَّفْلِيسِ،بَابُ أَدَاءِ الدَّيْنِ،2389)
    اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر بھی سونا ہو تب بھی مجھے یہ پسند نہیں کہ تین دن گزر جائیں اور اس ( سونے ) کا کوئی حصہ میرے پاس رہ جائے۔ سوا اس کے جو میں کسی قرض کے دینے کے لیے رکھ چھوڑوں۔

    ضرورت کے باوجود مانگنے والے کو چادر دے دی
    سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ” بردہ “ (یعنی وہ لنگی جس میں حاشیہ بنا ہوا ہوتا ہے) لے کر آئی اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میں یہ لنگی آپ کے پہننے کے لئے لائی ہوں ۔
    حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ لنگی ان سے قبول کر لی ۔ اس وقت آپ کو اس کی ضرورت بھی تھی پھر آپ نے پہن لیا ۔
    صحابہ میں سے ایک صحابی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بدن پروہ لنگی دیکھی تو عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ بڑی عمدہ لنگی ہے ، آپ یہ مجھے عنایت فرما دیجئے ۔
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لے لو ، جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے اٹھ کر تشریف لے گئے تو اندر جا کروہ لنگی بدل کرتہہ کرکے عبدالرحمن کو بھیج دی
    (بخاري، كِتَابُ الأَدَبِ، بَابُ حُسْنِ الخُلُقِ وَالسَّخَاءِ، وَمَا يُكْرَهُ مِنَ البُخْلِ،6036)

    خریدا ہوا اونٹ لوٹا دیا اور رقم بھی واپس نہ لی

    جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہ ( ایک غزوہ کے موقع پر ) اپنے اونٹ پر سوار آ رہے تھے ، اونٹ تھک گیا تھا ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ادھر سے گزر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کو ایک ضرب لگائی اور اس کے حق میں دعا فرمائی ، چنانچہ اونٹ اتنی تیزی سے چلنے لگا کہ کبھی اس طرح نہیں چلا تھا ۔ پھر آپ نے فرمایا کہ اسے ایک اوق یہ میں مجھے بیچ دو ۔ میں نے انکار کیا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصرار پر پھر میں نے آپ کے ہاتھ بیچ دیا ، لیکن اپنے گھر تک اس پر سواری کو مستثنیٰ کرالیا ۔ پھر جب ہم ( مدینہ ) پہنچ گئے ، تو میں نے اونٹ آپ کو پیش کردیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قیمت بھی ادا کردی ، لیکن جب میں واپس ہونے لگا تو میرے پیچھے ایک صاحب کو مجھے بلانے کے لیے بھیجا ( میں حاضر ہوا تو ) آپ نے فرمایا کہ میں تمہارا اونٹ کوئی لے تھوڑا ہی رہا تھا ، اپنا اونٹ لے جاو، یہ تمہارا ہی مال ہے ۔ ( اور قیمت واپس نہیں لی )
    (صحيح البخاري كِتَابُ الشُّرُوطِ، بَابُ إِذَا اشْتَرَطَ البَائِعُ ظَهْرَ الدَّابَّةِ إِلَى مَكَانٍ مُسَمًّى جَازَ،2718)

    اور مسلم کی ایک روایت میں ہے
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جابر رضی اللہ عنہ سے فرمایا
    خُذْ جَمَلَكَ وَدَرَاهِمَكَ فَهُوَ لَكَ
    (مسلم، بَاب بَيْعِ الْبَعِيرِ وَاسْتِثْنَاءِ رُكُوبِهِ،715)
    اپنا اونٹ بھی لے لے اور اپنے درہم بھی لے لے یہ تیرا مال ہے

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فقر اختیاری تھا

    لطف یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس حال پر خوش تھے اور آپ نے اسے اللہ تعالیٰ سے مانگ کر لیا تھا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    [ اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوْتًا ]
    ’’اے اللہ! آل محمد کا رزق گزارے کے برابر کر دے۔‘‘
    [ مسلم، الزکاۃ، باب في الکفاف و القناعۃ : ۱۰۵۵ ]

    انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    [ اَللّٰهُمَّ أَحْيِنِيْ مِسْكِيْنًا وَ أَمِتْنِيْ مِسْكِيْنًا وَاحْشُرْنِيْ فِيْ زُمْرَةِ الْمَسَاكِيْنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ لِمَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ!؟ قَالَ إِنَّهُمْ يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ بِأَرْبَعِيْنَ خَرِيْفًا ]
    ’’اے اللہ! مجھے مسکین ہونے کی حالت میں زندہ رکھنا، مسکین ہونے کی حالت میں موت دے اور مسکینوں کی جماعت سے اٹھا۔‘‘ عائشہ رضی اللہ عنھا نے پوچھا : ’’یا رسول اللہ! یہ کیوں؟‘‘ آپ نے فرمایا : ’’وہ جنت میں اپنے اغنیاء سے چالیس (۴۰) سال پہلے جائیں گے۔‘‘
    [ ترمذي، الزھد، باب ما جاء أن فقراء المھاجرین… : ۲۳۵۲ ]

    ابو سعید خدری‌رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے كہ (رسول اللہﷺ نے دعا فرمائی)
    اللهمّ أَحْيِنِي مِسْكِينًا، وَأَمِتْنِي مِسْكِينًا، وَاحشرنِي فِي زَمْرَة الْمَسَاكِين.
    اے اللہ مجھے مسكینی كی حالت میں زندہ ركھ ، اور مسكینی كی حالت میں فوت كر ، اور مجھےمساكین كے گروہ میں جمع كر۔
    [سلسلہ صحیحہ:1331]
    [عبد بن حمید فی المنتخب من المسند:2/110]

    آپ نے کبھی ٹیک لگا کر شاہانہ طور طریقے سے کھانا نہیں کھایا

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    لَا آکُلُ مُتَّکِئًا
    ’’میں ٹیک لگاکر نہیں کھاتا‘‘
    (صحیح بخاری: 5398)

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری زندگی کبھی میدہ نہیں کھایا

    ابو حازم نے بیان کیاکہ
    میں نے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے پوچھا
    هَلْ أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّقِيَّ؟
    ، کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی میدہ کھایا تھا ؟
    انہوں نے کہاکہ
    «مَا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّقِيَّ، مِنْ حِينَ ابْتَعَثَهُ اللَّهُ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ»
    جب اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی بنایا اس وقت سے وفات تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے میدہ دیکھا بھی نہیں تھا ۔
    میں نے پوچھا
    هَلْ كَانَتْ لَكُمْ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنَاخِلُ؟
    کیانبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں آپ کے پاس چھلنیاں تھیں
    انہوں نے کہا کہ
    «مَا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْخُلًا، مِنْ حِينَ ابْتَعَثَهُ اللَّهُ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ»
    جب اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی بنایا اس وقت سے آپ کی وفات تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے چھلنی دیکھی بھی نہیں ۔

    انہوں نے بیان کیا کہ میں نے پوچھا
    كَيْفَ كُنْتُمْ تَأْكُلُونَ الشَّعِيرَ غَيْرَ مَنْخُولٍ؟
    آپ لوگ پھر بغیر چھنا ہوا جو کس طرح کھاتے تھے ؟
    انہوں نے بتلایا
    كُنَّا نَطْحَنُهُ وَنَنْفُخُهُ، فَيَطِيرُ مَا طَارَ، وَمَا بَقِيَ ثَرَّيْنَاهُ فَأَكَلْنَاهُ
    ہم اسے پیس لیتے تھے پھر اسے پھونکتے تھے جو کچھ اڑنا ہوتا اڑجاتا اورجو باقی رہ جاتا اسے گوندھ لیتے ( اور پکاکر ) کھالیتے تھے
    (بخاری، كِتَابُ الأَطْعِمَةِ، بَابُ مَا كَانَ النَّبِيُّ ﷺ وَأَصْحَابُهُ يَأْكُلُونَ،5413)

    آپ کے گھر والوں نے کبھی مسلسل تین راتیں پیٹ بھر کر کھانہ نہیں کھایا

    عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں :
    [ مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِيْنَةَ مِنْ طَعَامِ بُرٍّ ثَلَاثَ لَيَالٍ تِبَاعًا حَتّٰی قُبِضَ ]

    ’’محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں نے، جب سے آپ مدینہ میں آئے، تین دن پے در پے گندم کا کھانا سیر ہو کر نہیں کھایا، یہاں تک کہ آپ فوت ہو گئے۔‘‘
    [ بخاري، الرقاق، باب کیف کان عیش النبي صلی اللہ علیہ وسلم و أصحابہ… : ۶۴۵۴ ]

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی پتلی روٹی یا سٹیم روسٹڈ بکری نہیں کھائی

    حضرت انس رضی اللہ عنہ لوگو ں سے کہتے کہ
    «كُلُوا، فَمَا أَعْلَمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَغِيفًا مُرَقَّقًا حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ، وَلاَ رَأَى شَاةً سَمِيطًا بِعَيْنِهِ قَطُّ»
    کھاؤ ، میں نے کبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پتلی روٹی کھاتے نہیں دیکھا اور نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اپنی آنکھ سے بھنی ہوئی بکری دیکھی ۔ یہاں تک کہ آپ کا انتقال ہوگیا ( صلی اللہ علیہ وسلم )

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ،گھر میں، کوئی چیز کل کے لیےذخیرہ نہیں کیا کرتے تھے

    انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
    «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَدَّخِرُ شَيْئًا لِغَدٍ»
    (ترمذي،أَبْوَابُ الزُّهْدِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ،بَاب مَا جَاءَ فِي مَعِيشَةِ النَّبِيِّ ﷺ وَأَهْلِهِ​2362صحيح)
    نبی اکرمﷺ آنے والے کل کے لیے کچھ نہیں رکھ چھوڑتے تھے

    مسافر مہمان کو کھانہ کھلانے کے لیے میرے نبی کے گھر میں کچھ بھی نہیں تھا

    ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کے پاس پیغام بھیجا، ان کی طرف سے جواب آیا کہ ہمارے پاس پانی کے سوا کچھ نہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    [ مَنْ يَضُمُّ أَوْ يُضِيْفُ هٰذَا؟ ]
    ’’اس مہمان کو اپنے ساتھ کون لے جائے گا؟‘‘
    انصار میں سے ایک آدمی (جن کا نام ابو طلحہ رضی اللہ عنہ تھا :صحیح مسلم) نے کہا:
    ’’میں لے جاؤں گا۔‘‘
    چنانچہ وہ اسے لے کر اپنی بیوی کے پاس گیا اور اس سے کہا :
    ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مہمان کی خاطر تواضع کرو۔‘‘
    اس نے کہا:
    ’’ہمارے پاس بچوں کے کھانے کے سوا کچھ نہیں۔‘‘
    اس نے کہا:
    ’’کھانا تیار کر لو، چراغ جلا لو اور بچے جب کھانا مانگیں تو انھیں سلا دو۔‘‘
    اس نے کھانا تیار کر لیا، چراغ جلا دیا اور بچوں کو سلا دیا۔ پھر وہ اس طرح اٹھی جیسے چراغ درست کرنے لگی ہے اور اس نے چراغ بجھا دیا۔ میاں بیوی دونوں اس کے سامنے یہی ظاہر کرتے رہے کہ وہ کھا رہے ہیں، مگر انھوں نے وہ رات خالی پیٹ گزار دی۔ جب صبح ہوئی اور وہ انصاری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا
    تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    [ ضَحِكَ اللّٰهُ اللَّيْلَةَ أَوْ عَجِبَ مِنْ فَعَالِكُمَا ]
    ’’آج رات تم دونوں میاں بیوی کے کام پر اللہ تعالیٰ ہنس پڑا یا فرمایا کہ اس نے تعجب کیا۔‘‘
    تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :
    « وَ يُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ وَ مَنْ يُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓئكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ »
    [ الحشر: ۹ ]
    ’’اور اپنے آپ پر ترجیح دیتے ہیں، خواہ انھیں سخت حاجت ہو اور جو کوئی اپنے نفس کی حرص سے بچا لیا گیا تو وہی لوگ ہیں جو کامیاب ہیں۔‘‘
    [ بخاري، مناقب الأنصار، باب قول اللّٰہ عزوجل: «و یؤثرون علی أنفسہم …» : ۳۷۹۸۔ مسلم : ۲۰۵۴ ]

    مانگنے والی عورت کو دینے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں صرف ایک کھجور

    امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان فرمایا: ’’میرے پاس ایک عورت اپنی دو بیٹیوں کے ہمراہ آئی۔ اس نے مجھ سے سوال کیا، لیکن اس نے میرے پاس سوائے ایک کھجور کے اور کچھ نہ پایا۔ میں نے اس کو وہی دے دی۔ اس نے اس کو لے کر ان دونوں میں تقسیم کردیا اور خود اس میں سے کچھ نہ کھایا۔ پھر وہ اٹھی اور اپنی دونوں بیٹیوں کے ہمراہ چلی گئی۔
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے، تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا واقعہ سنایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    ’’مَنْ ابْتُلِيَ مِنَ الْبَنَاتِ بِشَيْئٍ، فأَحْسَنَ إِلَیْھِنَّ، کُنَّ لَہُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ۔
    [جس شخص کو ان بیٹیوں میں سے کسی چیز کے ساتھ آزمائش میں ڈالا گیا اور اس نے ان کے ساتھ احسان کیا، تو وہ اس کے لیے [جہنم کی] آگ کے مقابلے میں رکاوٹ ہوں گی۔‘‘]

    متفق علیہ: صحیح البخاري، کتاب الأدب، باب رحمۃ الولد وتقبیلہ ومعانقتہ، رقم الحدیث ۵۹۹۵، ۱۰/۴۲۶؛ وصحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ والآداب، باب فضل الإحسان إلی البنات، رقم الحدیث ۱۴۷۔(۲۶۲۹)، ۳/۲۰۲۷۔ الفاظ حدیث صحیح مسلم کے ہیں

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات نے جب لگزری زندگی گزارنے کی خواہش کی تو آپ ان سے ناراض ہو گئے

    بنوقریظہ کے اموال اور دوسری فتوحات کے نتیجے میں جب مسلمانوں کی حالت کچھ بہتر ہو گئی تو انصار و مہاجرین کی عورتوں کو دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں نے بھی نان و نفقہ میں اضافے کا مطالبہ کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی صورت اپنی زہد و قناعت کی زندگی ترک کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ بیویوں کے اصرار پر آپ کو سخت رنج اور صدمہ ہوا اور آپ نے قسم کھا لی کہ میں ایک ماہ تک تمھارے پاس نہیں آؤں گا۔

    يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا
    اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دے اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت کا ارادہ رکھتی ہو تو آئو میں تمھیں کچھ سامان دے دوں اورتمھیں رخصت کردوں، اچھے طریقے سے رخصت کرنا۔
    الأحزاب : 28

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر،حجرات

    ’’یہ نو حجرے تھے، ہر بیوی کے پاس ایک حجرہ تھا اور یہ کھجور کی ٹہنیوں سے بنے ہوئے تھے، ان کے دروازوں پر سیاہ بالوں کے ٹاٹ کے پردے تھے۔

    داؤد بن قیس رحمہ اللہ نے فرمایا:
    ’’میں نے وہ حجرے دیکھے ہیں، کھجور کی ٹہنیوں سے بنے ہوئے تھے، جنھیں باہر کی جانب سے بالوں کے ٹاٹوں سے ڈھانپا ہوا تھا اور میرا گمان ہے کہ صحن کے دروازے سے کمرے کے دروازے تک چھ یا سات ہاتھ (نو یا ساڑھے دس فٹ) کا فاصلہ تھا اور کمرے کا اندرونی حصہ دس ہاتھ (پندرہ فٹ) تھا اور میرا گمان ہے کہ گھر کی چوڑائی سات آٹھ ہاتھ (ساڑھے دس بارہ فٹ) کے درمیان تھی۔‘‘
    بخاری نے ’’الادب المفرد‘‘ میں اور ابن ابی الدنیا اور بیہقی نے اسے روایت کیا ہے

    اور حسن سے بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا :
    ’’میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی خلافت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے کمروں میں جایا کرتا تھا تو ان کی چھت کو ہاتھ لگا لیتا تھا۔ ولید بن عبد الملک رحمہ اللہ کے عہد میں ان کے حکم سے ان گھروں کو مسجد نبوی میں شامل کر دیا گیا جس پر لوگ بہت روئے۔‘‘

    اور سعید بن مسیب نے فرمایا :
    ’’اللہ کی قسم! مجھے پسند تھا کہ ان حجروں کو ان کی حالت پر رہنے دیا جاتا، تاکہ اہلِ مدینہ کے بچے بڑے ہوتے اور تمام دنیا سے آنے والے آتے تو دیکھتے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں کیسے گھروں پر اکتفا کیا ہے۔ اس سے ان کے دلوں میں ایک دوسرے سے بڑھ کر دنیا حاصل کرنے کی حرص اور اس پر فخر کے بجائے زہد اور دنیا سے بے رغبتی پیدا ہوتی۔‘‘

    بوقت وفات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کی کیفیت

    حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیاکہ
    «لَقَدْ تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا فِي رَفِّي مِنْ شَيْءٍ يَأْكُلُهُ ذُو كَبِدٍ، إِلَّا شَطْرُ شَعِيرٍ فِي رَفٍّ لِي، فَأَكَلْتُ مِنْهُ، حَتَّى طَالَ عَلَيَّ، فَكِلْتُهُ فَفَنِيَ»
    (بخاری ،كِتَابُ الرِّقَاقِ،بَابُ فَضْلِ الفَقْرِ،6451)
    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو میرے توشہ خانہ میں کوئی غلہ نہ تھاجو کسی جاندار کے کھانے کے قابل ہوتا، سوائے تھوڑے سے جو کے جو میرے توشہ خانہ میں تھے، میں ان میں سے ہی کھاتی رہی آخر جب بہت دن ہوگئے تو میں نے انہیں ناپا تو وہ ختم ہوگئے

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وراثت یا ترکہ

    عمر وبن حارث رضی اللہ عنہ نے بیان کیا
    مَا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا وَلَا عَبْدًا وَلَا أَمَةً إِلَّا بَغْلَتَهُ الْبَيْضَاءَ الَّتِي كَانَ يَرْكَبُهَا وَسِلَاحَهُ وَأَرْضًا جَعَلَهَا لِابْنِ السَّبِيلِ صَدَقَةً
    (بخاري ،كِتَابُ المَغَازِي،بَابُ مَرَضِ النَّبِيِّ ﷺ وَوَفَاتِهِ،4461)
    کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ درہم چھوڑے تھے ، نہ دینا ر ، نہ کوئی غلام نہ باندی ، سوااپنے سفید خچر کے جس پر آپ سوار ہواکرتے تھے اور آپ کا ہتھیار اور کچھ وہ زمین جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں مجاہدوں اور مسافروں کے لیے وقف کررکھی تھی

    میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر حالت میں اللہ کا شکر ادا کرنے والے تھے

    جب پیدا ہوئے تو باپ فوت ہو چکا تھا
    کچھ وقت گزرا تو ماں بھی دنیا سے چلی گئی
    تھوڑی ہی مدت گزری کہ چچا بھی وفات پا گئے
    اس کے ساتھ ہی وفادار بیوی داغ مفارقت دے گئی
    پھر ایک وقت آیا کہ قوم نے تنگ کرنا شروع کر دیا نوبت یہاں تک پہنچی کہ بائیکاٹ کر دیا گیا
    کچھ امید لے کر طائف میں تشریف لے گئے لیکن وہاں سے بھی پتھر کھانے پڑے
    پھر واپس آئے تو اپنی ہی قوم قتل کے منصوبے بنا رہی تھی
    مجبور ہو کر آبائی شہر چھوڑ دیا
    دیار غیر میں پناہ گزیں ہوئے لیکن دشمن نے وہاں بھی پیچھا نہ چھوڑا
    الغرض اتنی ساری تکالیف کے باوجود اپنے رب کی بہت عبادت کیا کرتے تھے ایک دن عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے پوچھ ہی لیا کہ اتنی عبادت
    تو فرمانے لگے
    أفلا اکون عبدا شکورا
    کیا میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ نہ بنوں

  • صارفین نے حرا اور مانی کو "اوورترین کپل” قرار دیا

    صارفین نے حرا اور مانی کو "اوورترین کپل” قرار دیا

    پاکستان کی معروف اداکارہ حرا اور ان کے شوہراداکار و میزبان سلمان ثاقب عرف مانی کی نئی تصویر پر سوشل میڈیا صارفین نے تنقید کرتے ہوئے انہیں "اوور ترین کپل” قرار دیا ہے۔

    باغی ٹی وی :حرا مانی ان دنوں اپنی فیملی کے ہمراہ امریکا میں چھٹیاں منا رہی ہیں اور اس دوران مختلف تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرکے مداحوں کو اپنی سرگرمیوں سے آگاہ بھی کررہی ہیں۔

    حال ہی میں حرا نے اپنے شوہر مانی کے ہمراہ ایک تصویر انسٹاگرام پر شیئر کی جس میں دونوں نے ایک دوسرے کو گلے لگایا ہوا ہے۔

    سوشل میڈیا صارفین کو یہ تصویر پسند نہیں آئی اور دونوں کو یہ تصویر شیئر کرنے پر خوب تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

    حرامانی کی "عورت مارچ” کے نعرے”اپنا کھانا خود گرم کرو” کی…

    ایک صارف نے لکھا کتنا اچھا تھا اگر یہ اپنی بیوی کو پردے میں رکھتا۔ ایک خاتون نے دونوں کو "چھچھورا” قرارد یتے ہوئے کہا سمجھدار ہونے کے بجائے چھچھورے ہوتے جارہے ہیں-

    ایک صارف نے انہیں "اوور کپل” قرار دیا۔ ایک صارف نے ان کی تصویر پر تنقید کرتے ہوئے انہیں مشورہ دیا کہ یہ حرکتیں پبلک میں کرنے کے بجائے اپنے کمرے میں کریں۔


    ایک صارف نے کہا کہ خود ساختہ عوام پر زبردستی مسلط کئے گئے فیک فنکارہیں یہ جبکہ ایک صارف نے کہا کہ انتہائی نکمے اور اوور ہیں یہ دونوں-

  • ریپ کی وجہ خواتین کا لباس نہیں بلکہ تعلیم و تربیت کی کمی ہے     ماریہ واسطی

    ریپ کی وجہ خواتین کا لباس نہیں بلکہ تعلیم و تربیت کی کمی ہے ماریہ واسطی

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی سینئر اداکارہ ماریہ واسطی نے کہا ہے کہ ریپ کی وجہ خواتین کا لباس نہیں بلکہ تعلیم و تربیت کی کمی ہے-

    باغی ٹی وی : حال ہی میں ماریہ واسطی نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام ’جشنِ کرکٹ‘ میں شرکت کی جہاں اُنہوں نے کے مختلف سوالات کے دلچسپ جوابات دیئے۔

    دورانِ گفتگو میزبان نے ماریہ واسطی کو وزیراعظم عمران خان کی تصویر دِکھائی اور ان سے پوچھا کہ ’جب 2018ء میں آپ سے تبدیلی کے حوالے سے سوال کیا گیا تھا تو آپ نے جواب دیا تھا کہ ابھی انہیں تھوڑا وقت دیں، اب تین سال گُزر چکے ہیں تو اب آپ کیا کہنا چاہیں گی؟‘

    میزبان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے ماریہ واسطی نے کہا کہ میں ہمارے وزیراعظم سے صرف اتنا کہوں گی کہ آپ نے گھبرانا نہیں ہے کیونکہ ہم بہت گھبرا چکے ہیں۔

    ریپ کا تعلق لباس سے نہیں بلکہ طاقت کے مظاہرے سے ہے، عثمان خالد بٹ کا وزیراعظم کے…

    ماریہ واسطی نے کہا کہ میں خود تبدیلی سے بہت گھبرا چکی ہوں جس پر میزبان نے کہا کہ اب تو حالات بہتر ہورہے ہیں جس پر ماریہ واسطی نے کہا کہ دیکھتے ہیں کہ حالات بہتر ہونے تک ہمارا دل اور بلڈ پریشر کتنا ہمارا ساتھ دیتا ہے۔

    ماریہ واسطی نے وزیراعظم عمران خان کے حالیہ بیان پر پوچھے گئے سوال پر کہا کہ پاکستان میں کونسی خواتین ایسی ہیں جو بازاروں میں چھوٹے کپڑے پہن کر گھوم رہی ہیں اور فحاشی پھیلا رہی ہے؟ریپ کی وجہ خواتین کا لباس نہیں بلکہ تعلیم و تربیت کی کمی ہے۔

    اُنہوں نے کہا کہ آج کل موبائل فونز پر سب کچھ ہوتا ہے، آپ فحاشی کے لیے باہر کیوں جائیں گے، آپ موبائل پر سب دیکھ سکتے ہیں۔

    اداکارہ نے کہا کہ ہمارے وزیراعظم صاحب کو اس طرح کے بیان دینا زیب نہیں دیتا، اُنہوں نے پہلے بھی خواتین کے لباس پر تنقید کی ہے جس کے بعد اب یہ لگتا ہے کہ یہ اُن کا فیصلہ نہیں بلکہ اُن کی سوچ ہے۔

    پاکستان جیسے ملک میں وزارت عظمیٰ پر رہتے ہوئے ذمہ داریاں نبھانا آسان نہیں…

    ماریہ واسطی نے کہا کہ جنسی زیادتی کو آپ خواتین یا مرد میں تقسیم نہیں کریں، مظلوم چاہے بچہ ہو یا بچی، وہ مظلوم ہے، صرف خواتین پر اُنگلی اُٹھانا درست نہیں قانون ہو تو ہر ایک کے لیے برابر کا ہو، پھر چاہے مرد مظلوم ہو یا عورت، برابری ہونی چاہیے۔

    عمران خان کےعورتوں کے پردے سے متعلق بیان پر خلیل الرحمٰن قمر کا رد عمل