Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • وزیراعظم کی عوام سے فون پر براہ راست بات چیت ،چوتھی نشست آج ہوگی

    وزیراعظم کی عوام سے فون پر براہ راست بات چیت ،چوتھی نشست آج ہوگی

    وزیراعظم عمران خان کی عوام سے فون پر براہ راست بات چیت ،چوتھی نشست آج ہوگی-

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی عوام سے فون پر براہ راست بات چیت ،چوتھی نشست آج ہوگی –

    وزیراعظم سےعوام کی گفتگو ٹیلی ویژن، ریڈیو اور ڈیجیٹل میڈیا پر براہ راست نشر کی جائے گی-

    وزیراعظم دوپہر 3 بجے عوام کے سوالات کے جوابات دیں گے-

  • ڈیرہ غازی خان میں وزیراعلی پنجاب کی ہدایت پر”خدمت مہم” کے تحت تجاوزات کیخلاف آپریشن جاری

    ڈیرہ غازی خان میں وزیراعلی پنجاب کی ہدایت پر”خدمت مہم” کے تحت تجاوزات کیخلاف آپریشن جاری

    وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان احمد خان بزدار کی ہدایت پر ڈیرہ غازی خان میں "خدمت مہم”میں تیزی آگئی۔عوامی آمدورفت رکاوٹ بننے والی تجاوزات کے خلاف آپریشن کرتے ہوئےوہوا میں تنگ روڈ کو 66 فٹ تک چوڑا کردیا گیادکانیں سمیت تمام پختہ تعمیرات مسمار کردی گئیں-

    باغی ٹی وی : رپورٹ کے مطابق تجاوزات کے خلاف آپریشن میں بھاری مشینری استعمال کی گئی۔اسسٹنٹ کمشنر تونسہ رابعہ سیال اور اے ایس پی میر روحیل نے آپریشن کی نگرانی کی۔ریونیو ریکارڈ دیکھ پر غیر قانونی تعمیرات گرادی گئیں ۔

    ڈپٹی کمشنر کیپٹن ریٹائرڈ محمد علی اعجاز نے کہا کہ خدمت مہم کے تحت ہر قسم کی تجاوزات کا خاتمہ کیا جائیگا انہوں نے کہا کہ خدمت آپ کی دہلیز پر،پورے ضلع میں سرگرمیاں جاری ہیں۔

    ضلع ڈیرہ غازی خان "خدمت آپ کی دہلیز پر”مہم پر سرگرمیوں کی تعداد کے حوالے سے ڈویژن بھر میں بازی لے گیاڈیش بورڈ کی رینکنگ کے مطابق ضلع ڈیرہ غازی کی راجن پور،مظفر گڑھ اور لیہ اضلاع سے زیادہ سرگرمیاں خدمت آپ کی دہلیز کی ڈیش بورڈ پر ریکارڈ ہوئیں۔

    ضلع ڈیرہ غازی خان میں 1445،راجن پور 1247،مظفر گڑھ 1225 اور لیہ ڈسٹرکٹ میں 922 سرگرمیاں ظاہر کی گئیں۔

    ڈپٹی کمشنر۔ ڈیرہ غازی خان کیپٹن ریٹائرڈ محمد علی اعجاز نے کہا کہ مسابقت کی فضا ڈویژن سے بڑھا کر صوبہ میں لائی جائے۔

    ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ خدمت مہم کے تحت متعلقہ محکمہ کی ہفتہ وار چھٹیاں منسوخ ہیں،اتوار کے روز بھی سرگرمیاں جاری رکھی جائیں ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ افسران کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے شاباش دی۔

  • نیو کراچی صنعتی ایریا گارمنٹ فیکٹری میں آتشزدگی

    نیو کراچی صنعتی ایریا گارمنٹ فیکٹری میں آتشزدگی

    کراچی: نیو کراچی صنعتی ایریا گارمنٹ فیکٹری میں آتشزدگی۔

    باغی ٹی وی : کہ ایم ڈی واٹراینڈ سیوریج بورڈ اسداللہ خان کا کہنا ہےواٹربورڈ کے نیپا ہائیڈرنٹ پر ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے-

    اسداللہ خان کے مطابق پانی سے بھرے متعدد ٹینکر حادثہ کے مقام کی جانب روانہ کردیئے گئے ہیں اور فو کل پرسن ہائیڈرنٹس سیل کو بھی حادثے کے مقام پر پہنچنے کی ہدایت جاری کر دی ہے-

    ایم ڈی واٹربورڈ نے بتایا کہ آگ پر قابو پائے جانے تک فائربریگیڈ کو بلامعاوضہ پانی کی فراہمی جاری رہے گی-

  • کراچی: سندھ حکومت نے 27 ڈاکوؤں کے سر کی قیمت مقرر کردی

    کراچی: سندھ حکومت نے 27 ڈاکوؤں کے سر کی قیمت مقرر کردی

    کراچی: سندھ حکومت نے 27 ڈاکوؤں کے سر کی قیمت مقرر کردی-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ڈاکوؤں کے سر کی قیمت 5 سے 30لاکھ روپے تک مقرر کی گئی نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا-

    نوٹیفکیشن کے مطابق سب سے زیادہ سر کی قیمت بیلو تیغانی نامی ملزم کی 30لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے-

    محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے لاڈو تیغانی نامی ڈاکو کے سر کی قیمت 20لاکھ روپے مقرر کی گئی ،مجرم واجد، بدر، ڈاہانی کے سر کی قیمت 10 ،10لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے-

    جبکہ محکمہ داخلہ سندھ نے مجرم واشو کے سر کی قیمت 15لاکھ روپے مقرر کی ہے-

    سندھ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ مجرم غلام کی زندہ یا مردہ گرفتاری، نشاندہی پر انعام دیا جائے گا، خادم بھیو، مہیسر بنگانی، عطاء محمد چولیانی کی گرفتاری پر بھی انعام کا اعلان کیا گیا ہے-

  • پاکستان میں کورونا سے مزید 56 اموات، مثبت کیسز میں اضافہ

    پاکستان میں کورونا سے مزید 56 اموات، مثبت کیسز میں اضافہ

    پاکستان میں کورونا کی لہر میں شدت،24 گھنٹوں میں 56 اموات

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کی تیسری لہر جاری ہے، کورونا مریضوں اور اموات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے


    نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے اعداد و شمار کے مطابق عالمی وبا کورونا وائرس پاکستان میں تیزی سے پھیل رہا ہے ملک بھر میں کورونا سے اموات کا اموات کا سلسلہ جاری ہے گزشتہ 24 گھنٹوں میں کرونا سے مزید 56 اموات ہوئی ہیں-

    این سی او سی کے مطابق گزشتہ روز کورونا کے 55 ہزار965 ٹیسٹ کئے گئے2 ہزار697 نئے کیس سامنے آ گئے۔ ملک بھر میں مثبت کیسز کی شرح تقریبا 4.81 فی صد رہی۔

    پاکستان میں کورونا سے اموات کی مجموعی تعداد 20 ہزار527 تک پہنچ گئی جبکہ متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 9 لاکھ 13 ہزار 139 ہو چکی ہے۔

    خیال رہے کہ پاکستان میں کورونا کی ویکسینیشن جاری ہے اور پانچویں مرحلے میں30 سال سے زائد سال کے درمیان عمر والے افراد کو ویکسین لگائی جا رہی ہے جبکہ 18 سال سے زائد عمر کے افراد کی ویکسین کی رجسٹریشن جاری ہے-


    اس حوالے سے این سی او سی نے ٹوئٹر پر جاریاپنے پیغام میں کہا ہےکہ تیس سال اور زائد عمر کے افراد کے لئے walkin ویکسینیشن کا آغاز کر دیا گیا ہے. اگر آپ کو ابھی تک کوڈ نہیں موصول ہوا تو اپنا شناختی کارڈ نمبر 1166 پر دوبارہ بھیجیں اور کسی بھی قریبی ویکسینیشن مرکز جاکر ویکسین لگوائیں.

  • خرگوش کھڑا مصالحہ بنانے کی ترکیب

    خرگوش کھڑا مصالحہ بنانے کی ترکیب

    خرگوش کھڑا مصالحہ

    وقت : 60 سے 70منٹ

    4 سے 5 افراد کے لئے

    اجزائے ترکیبی مقدار
    خرگوش 1پورا (تقریباً 1½ کلو کا)
    تیل ½کپ
    دہی 2کپ
    پیاز(قتلے) 1کپ
    نمک حسب ذائقہ
    خشک ثابت لال مرچ 6 سے8 عدد
    زیرہ ثابت 1چائے کا چمچ
    کالی مرچ ثابت 1چائے کا چمچ
    لانگ ثابت 8عدد
    ثابت موٹی الائچی 2عدد
    ثابت چھوٹی الائچی 4عدد
    دارچینی 2ٹکڑے (2½ سینٹی میٹر لمبا)
    تیزپات 1عدد

    سجاوٹ کے لئے :
    سرخ مرچ ثابت (تیل میں تلی ہوئی) 5 سے 6 عدد

    طریقہ کار :
    خرگوش کو چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ لیں اور ایک طرف رکھ دیں۔ برتن میں تیل گرم کریں پیاز ڈال کر 4سے 5منٹ تک پکائیں لیکن براؤن نہ کریں۔ اب تمام مصالحے ڈال کر مزید 1سے 2 منٹ تک پکائیں۔ اب خرگوش کے ٹکڑے ڈال کر 4سے 5 منٹ تک تیز آنچ پر بھونیں۔ دہی اور 2 کپ پانی شامل کریں 40سے 45 منٹ تک ڈھکن دے کر ہلکی آنچ پر خرگوش کے تیار ہونے تک پکائیں۔ اب 5سے 6 منٹ تک تیل چھوڑنے تک بھونیں۔ ہلکی فرائی کی ہوئی سرخ مرچوں سے سجائیں نان یا خمیری روٹی کے ساتھ پیش کریں۔ پورا خرگوش بھی اسی طریقے سے پکایا جاسکتا ہے۔

  • ہمایوں سعید پیدائشی اداکار ہیں ان کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا

    ہمایوں سعید پیدائشی اداکار ہیں ان کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی خوبرو اور باصلاحیت اداکارہ عائزہ خان نے کہا ہے کہ شوبز میں اداکار ہمایوں سعید کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : حال ہی میں عائزہ خان نے اپنے تصدیق شدہ انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک خصوصی اسٹوری شیئر کی عائزہ خان نے اپنی انسٹا اسٹوری میں ہمایوں سعید کے ماضی کے مقبول ترین ڈرامہ سیریل ’تُم ہی تو ہو‘ کا ایک مختصر ویڈیو کلپ مداحوں کے ساتھ شیئر کیا۔

    اداکارہ نے ویڈیو کلپ شیئر کرتے ہوئے کیپشن میں لکھا کہ شوبز انڈسٹری میں ہمایوں سعید کی جگہ کوئی اداکار نہیں لے سکتا ہے۔

    اُنہوں نے یہ بھی لکھا کہ ہمایوں سعید کو خُدا کی طرف سے اداکاری کا ٹیلنٹ ملا ہے اور وہ پیدائشی اداکار ہیں۔

    واضح رہے کہ عائزہ خان اور ہمایوں سعید نے گزشتہ سال 2020 کے سُپر ہٹ ڈرامہ سیریل ’میرے پاس تُم ہو‘ میں ایک ساتھ کام کیا تھا جس میں ہمایوں سعید نے دانش کا مقبول ترین کردار ادا کیا تھا۔

  • انٹرنیٹ پر اداکارہ ایمن خان کی ہمشکل کے چرچے

    انٹرنیٹ پر اداکارہ ایمن خان کی ہمشکل کے چرچے

    شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ و ماڈل ایمن خان سے مشابہت رکھنے والی ٹک ٹاک اسٹار مناہل حمید کے سوشل میڈیا پر خوب چرچے ہورہے ہیں۔

    باغی ٹی وی : فوٹو اینڈ ویڈیو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام پر ایک شوبز پیچ کی جانب سے ٹک ٹاک اسٹار مناہل حمید کی کچھ تصویریں شیئر کی گئیں جن میں اُنہوں نے اپنے نومولود بھانجے کو گود میں لیا ہوا ہے۔

    تصویریں شیئر کرتے ہوئے کیپشن میں لکھا گیا کہ ’یہ لڑکی اداکارہ ایمن خان لگ رہی ہیں لیکن یہ ایمن خان نہیں بلکہ اُن سے مشابہت رکھنے والی ٹک ٹاک اسٹار مناہل حمید ہیں۔‘

    پوسٹ پر سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مناہل حمید اور ایمن خان آپس میں کافی مشابہت رکھتی ہیں۔

    دوسری جانب مناہل حمید کے انسٹاگرام اکاؤنٹ شئیر کی گئیں تصاویر میں بھی صارفین تبصرے کرتے ہوئے اُنہیں ایمن خان کی ہمشکل کہتے نظر آتے ہیں-

    مناہل حمید کی ایک تصویر پر کمنٹ کرتے ہوئے صارف نے لکھا کہ ’آپ اس تصویر میں ایمن خان لگ رہی ہیں۔‘


    ایک صارف نے لکھا کہ ’آپ تو ایمن خان کی کاپی ہو۔‘

    ان کے علاوہ بھی دیگر صارفین نے یہی کہا کہ مناہل حمید اداکارہ ایمن خان کی ہمشکل لگتی ہیں۔

    مناہل حمید کے ٹک ٹاک اکاؤنٹ کی بات کریں تو اُنہیں ایک اعشاریہ 5 ملین یعنی 15 لاکھ صارفین نے فالو کیا ہوا ہے۔

    منشا پاشا اور بھارتی اداکارہ سارہ علی خان کی مشابہت کے چرچے

    رمشا خان نے بھارتی اداکارہ انوشکا شرما کا انداز اپنا لیا

    پاکستانی اداکارہ ایمن سلیم کے انوشکا شرما کے ساتھ مشابہت کے چرچے

  • چینی سائنس دانوں نے کوویڈ کو  لیب میں بنایا ہے سائنسدانوں کا دعویٰ

    چینی سائنس دانوں نے کوویڈ کو لیب میں بنایا ہے سائنسدانوں کا دعویٰ

    ڈیڑھ برس قبل چین کے شہر ووہان میں کووڈ کی اولین دریافت کے بعد ابھی تک اس سوال کا حتمی جواب نہیں ملا ہے کہ کورونا وائرس سے ہونے والی اس بیماری کی شروعات کیسے ہوئی تھی۔

    باغی ٹی وی : حالیہ ہفتوں میں اس دعوے کو دوبارہ سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے جس کے مطابق کہا جاتا ہے کہ یہ کورونا وائرس ایک چینی لیب سے نکلا ہے۔ ماہرین نے اب تک اسے سازشی مفروضہ کہتے ہوئے مسترد کیا ہے کیونکہ اس کے کوئی شواہد دستیاب نہیں ہو پائے ہیں۔

    اس نظریے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ووہان شہر میں چین کی ایک اہم تجربہ گاہ اور تحقیقی مرکز ہے اور ووہان انسٹٹیوٹ آف وائرولوجی (ڈبلیو آئی وی) میں چمگادڑوں سے ملنے والے مختلف نوعیت کے کورونا وائرس پر تحقیق کئی سالوں سے جاری ہے۔

    یہ مرکز اس مارکیٹ سے محض چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہے جہاں سے کورونا وائرس کے سب سے پہلے متاثرین کی تشخیص ہوئی تھی۔

    اس نظریے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ وائرس اس مرکز سے نکل کر اس مارکیٹ میں پھیلا ہے۔

    دوسری جانب ماہرین کی واضح اکثریت اس بات پر یقین کرتی ہے کہ یہ ایک قدرتی طور پر پیدا ہونے والا ایک وائرس ہے جو کہ جنگلی جانوروں یا جنگلات سے آیا ہے نہ کہ اسے مصنوعی طور پر کسی تجربہ گاہ میں بنایا گیا ہے۔

    اس متنازع نظریے کا سب سے پہلے آغاز وبا کی شروعات کے ساتھ ہی ہوا تھا اور اس کو پھیلانے والوں میں سے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پیش پیش تھے۔ کئی نے تو اس خیال کا بھی اظہار کیا کہ یہ وائرس بطور حیاتیاتی ہتھیار بنایا گیا تھا۔

    شروع شروع میں میڈیا، ماہرین اور سیاستدانوں نے اس خیال کو مسترد کر دیا تاہم چند لوگ پھر بھی مُصر تھے کہ اس پر تحقیق ہونی چاہیے۔ لیکن اب حالیہ چند روز میں یہ خیال دوبارہ سے منظر عام پر آ گیا ہے۔

    تاہم اب دو سائنس دانوں نے اس حوالے سے کچھ دھماکہ خیز نئے انکشافات کئے ہیں –

    ایک دھماکہ خیز نئی تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کوویڈ 19 کو ووہان کے سائنس دانوں نے تیار کیا تھا جس نے پھر وائرس کے "ریٹرو انجینئرنگ” ورژن کے ذریعے خو د کو اس طرح ڈھانپ لیا تاکہ یہ ظاہر ہو کہ یہ جانوروں سے جسمانی طور پر تیار ہوا ہے۔

    اس مطالعے کے مصنفین ، برطانوی آنکولوجی ماہر پروفیسر انگوس ڈیلیگیش اور ناروے کے سائنسدان ڈاکٹر برجر سیرسن ، کے مزید دعوے کے ثبوت کو ماہرین نے نظرانداز کردیا ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے نے ڈیلی میل کی رپورٹ کا حوالی دیتے ہوئے لکھا کہ ان سائنسدانوں کے مطابق کوویڈ ۔19 کے مروجہ "قدرتی اصلیت” کے نظریہ کو چیلنج کرتا ہے کہ ، یہ وائرس ووہان کے بازار میں قدرتی طور پر چمگادڑوں سے انسانوں تک پھلایا گیا ہے-

    پروفیسر ڈیلگلیش لندن میں سینٹ جارج یونیورسٹی میں آنکولوجی کے پروفیسر ہیں جنھوں نے "ایچ آئی وی ویکسین” پر کام کیا تھا اور ڈاکٹر بیرگر سیرنسن ایک ماہر معاشیات اور دوا ساز کمپنی امیونور کے چیئرمین ہیں نے ایک کوویڈ -19 ویکسین تیار کی ہےجسے بائیوواک -19 کہا جاتا ہے۔

    انہوں نے دعوی کیا کہ جب گذشتہ سال کوویڈ 19 کے نمونوں کی ویکسین تیار کرنے کے لئے تجزیہ کیا گیا تو ، انھوں نے "انفرادیت سے متعلق انگلیوں کے نشانات” کو محسوس کیا جو صرف لیبارٹری کے ہیرا پھیری سے منسوب ہوسکتی ہے – لیکن اس وقت ان کی تلاش کو شائع کرنے کی ان کی کوششوں کو بڑے سائنسی جرائد نے مسترد کردیا تھا۔

    ڈیلی میل کے مطابق مزید مطالعے کے بعد ، پروفیسرڈیلگلیش اور ڈاکٹر سیرنسن نے 22 صفحات پر مشتمل ایک نئی رپورٹ جاری کی ، جو بائیو فزکس ڈسکوری کے سہ ماہی جائزہ میں شائع کی جائے گی اور اس کا اختتام ہوا کہ "سارس – کورونا وائرس 2 کا کوئی قابل اعتبار قدرتی اجداد نہیں ہے” اور یہ کہ یہ وائرس "معقول شک سے پرے” لیب میں تخلیق کیا گیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ 2002 اور 2019 کے درمیان ووہان لیب میں تجربات کرنے کے بعد ، انھیں شواہد ملے ہیں کہ ووہان سائنسدانوں نے غار کے چمگادڑوں میں پائے جانے والے ایک قدرتی کورونویرس کو ”ریڑھ کی ہڈی“ لیا اور اس پر ایک نیا “سپائیک” لگا دیا ، جو کوویڈ ۔19 بن گیا۔

    ایک اہم اشارہ سارس کوویڈ 2 اسپائک پر مثبت چارجڈ امینو ایسڈ کی ایک قطار تھی۔ سائنس دانوں کا کہنا تھا کہ یہاں تک کہ تین امینو ایسڈ کی ایک صف بھی فطرےی طور پر کم ہی ہائی جاتی ہے کیونکہ وہ میگنٹ کی طرح ایک دوسرے کو پیچھے ہٹاتے تھے – لہذا قدرتی طور پر پائے جانے والے حیاتیات میں چار کی ایک قطار ملنا "بے حد مشکل امکان” تھا۔

    طبیعیات کے قوانین کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو لگاتار چار مثبت چارجڈ امینو ایسڈ نہیں مل سکتے ہیں۔ پروفیسر ڈیلیگیش نے ڈیلی میل کو بتایا کہ اگر آپ مصنوعی طور پر اس کی تیاری کرتے ہیں تو آپ کو یہ حاصل کرنے کا واحد طریقہ ہے۔

    اس وجہ سے انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ (کوویڈ ۔19) قدرتی عمل کا نتیجہ ہونے کا امکان بہت کم ہے۔

    انہوں نے اپنے مطالعے میں لکھا ، "قدرتی وائرس سے وبائی مرض آہستہ آہستہ تبدیل ہوجائے گا اور زیادہ متعدی اور کم روگجنک ہوجائے گا جس کی بہت سے لوگ COVID-19 وبائی امراض سے توقع کرتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہوتا ہے۔”

    انہوں نے فنکشن تجربات کے حصول کا بھی مقصد لیا ، جس میں وائرس کو جوڑنا توڑنا ، چھڑکنا اور دوبارہ جوڑنا بھی شامل ہے۔

    مطالعے میں کہا گیا ہے کہ ، "ہماری تاریخی تعمیر نو کا اثر ، اب ہم معقول شک سے بالاتر ہیں ، مقصد کے ساتھ ہیرا پھیری شدہ چائمرک وائرس سارس-کوویڈ -2 کے بارے میں یہ ضروری سمجھا جاتا ہے کہ فنکشن کے کس قسم کے تجربات پر غور کیا جائے یہ اخلاقی طور پر قابل قبول ہے۔”

    لہذا "وسیع تر معاشرتی اثرات کی وجہ سے ، ان فیصلوں کو صرف سائنس دانوں پر تحقیق کرنے کے لئے نہیں چھوڑا جاسکتا ہے۔”

    اس تحقیق کا دعویٰ ہے کہ وبائی بیماری شروع ہونے کے بعد ، ووہان کے سائنس دانوں نے وائرس کو "ریٹرو انجینئرنگ” کے ذریعہ اپنے اپنی تحقیق پردہ ڈالنے کی کوشش کی تاکہ یہ ظاہر ہو کہ یہ فطری طور پر تیار ہوا ہے۔

    پروفیسر ڈیلگلیش نے کہا ، "انھوں نے وائرس کو تبدیل کر دیا ہے ، پھر سالانہ پہلے ہی ایک ترتیب میں آنے کی کوشش کی۔”

    انہوں نے یہ بھی دعوی کیا کہ چینی لیبز میں چند تحقیقات کی گئیں اور ان کا دعویٰ تھا کہ "چینی سائنس دان جو اپنے علم میں اشتراک کرنا چاہتے ہیں وہ ایسا کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں یا غائب ہوگئے ہیں”۔

    ڈاکٹر سرینسن نے کہا کہ ان کا خیال ہے کہ انسٹی ٹیوٹ کے نچلے سیکیورٹی والے علاقوں سے یہ وائرس بچ گیا ہے جہاں کام کی تحقیق کی جارہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ “ہم نے لیب لیک دیکھا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ یہ ہو رہا ہے۔ ہمیں ان رپورٹوں سے بھی معلوم ہے جو ہم نے دیکھی ہیں ، کہ بائیوسافٹی لیول 2 یا 3 لیبز میں کورونا وائرس پر کام کیا گیا ہے۔ اگر وہ اس طرح کی لیبز میں کام کرتے ہیں تو آپ کو کیا امید ہے؟ –

    واضح رہے کہ کوویڈ 19 کی ابتداء کا لیب فرار کا نظریہ ایک فرج نظریہ کے طور پر شروع ہوا تھا لیکن اس میں تیزی سے رفتار پیدا ہوئی ہے اور اس نظریے کے شروع ہونے کی وجہ بنی ہے –

    بی بی سی کے مطابق ایک خفیہ امریکی انٹیلیجنس رپورٹ جس میں کہا گیا ہے کہ ووہان کی تجربہ گاہ کے تین محققین کا نومبر 2019 میں ایک ایسی بیماری کا علاج کیا گیا تھا جو کہ کوویڈ 19 سے ملتی جلتی ہے۔

    لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ بائیڈن انتظامیہ نے صدر ٹرمپ کے حکم سے شروع ہونے والی امریکی محکمہ خارجہ کی اس تفتیش کو بند کر دیا تھا۔

    چند روز قبل صدر بائیڈن کے چیف میڈیکل مشیر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے امریکی سینیٹ کی ایک کمیٹی کو بتایا کہ ’اس دعوے میں بالکل حقیقت ہو سکتی ہے اور میں مکمل تفتیش کرنے کے حق میں ہوں۔

    اب نئے امریکی صدر جو بائیڈن نے اعلان کیا ہے کہ اُن کی حکومت فوری طور پر تحقیقات کا آغاز کر رہی ہے جو اس وبا کے آغاز کے حوالے سے اس مفروضے (چینی لیب سے اس کی ابتدا) کی جانچ بھی کرے گی۔

    امریکی صدر جو بائیڈن نے 90 دن میں کووڈ کے آغاز کے بارے میں تحقیقی رپورٹ طلب کی ہے جس میں یہ معلوم کیا جائے کہ ‘آیا یہ وائرس کسی متاثرہ جانور سے انسان میں منتقل ہوا یا پھر وہ کسی تجربہ گاہ سے حادثاتی طور پر نکل گیا۔’

    صدر نے کہا کہ امریکہ "پوری دنیا کے ہم خیال افراد کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا تاکہ چین پر دباؤ ڈالے کہ وہ ایک مکمل ، شفاف ، شواہد پر مبنی بین الاقوامی تحقیقات میں حصہ لیں”۔

    توقع تھی کہ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے وائرس کے آغاز پر کی گئی تحقیق سے اس سوال کا جواب مل جائے گا لیکن کئی ماہرین کا خیال ہے کہ ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ سے جوابات کے بجائے مزید سوالات پیدا ہو گئے۔

    معروف سائنسدانوں کے ایک گروپ نے عالمی ادارہ صحت پر تنقید کی کہ انھوں نے اس نظریے کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور سینکڑوں صفحات پر مبنی اس رپورٹ میں اس نظریے کا ذکر محض چند صفحات میں کر کے اسے نظر انداز کیا۔

    مؤقر جریدے ’سائنس‘ میں مشترکہ طور پر لکھے گئے اس مضمون میں سائنسدانوں نے کہا کہ ‘ہمیں اس وائرس کے قدرتی طور پر یا تجربہ گاہ سے نکلنے کے خیال کو سنجیدگی سے لینا ہوگا تاوقتیکہ ہمارے پاس معقول تعداد میں ڈیٹا نہ آ جائے۔’

    اور اب ماہرین میں اس بات پر اتفاق بڑھ رہا ہے کہ لیب لیک تھیوری پر زیادہ غور کرنا ہوگا۔

    حتی کہ عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس ادھانوم نے نے بھی نئے سرے سے تفتیش کا مطالبہ کیا ہے اور کہا کہ ‘تمام تر خیالات اور خدشات پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔’

    ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے بھی اب کہا ہے کہ وہ وائرس کے قدرتی طور پر بننے کے خیال سے ‘مکمل طور پر اتفاق نہیں کرتے’۔ یہ ان کے گذشتہ برس کے نکتہ نظر کے برعکس ہے جب انھوں نے کہا تھا کہ حد درجہ امکان یہی ہے کہ کووڈ کا وائرس جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوا ہے۔

    دوسری جانب چین نے لیب لیک نظریہ کو سختی سے مسترد کردیا ہے اور اس ہفتے امریکہ میں اپنے سفارت خانے سے ایک بیان میں اپنی پوزیشن برقرار رکھی ہے۔

    جمعرات کو جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ "سمیر مہم اور الزام تراشی سے واپسی ہو رہی ہے ، اور’ لیب لیک ‘کے سازشی نظریہ کی بحالی ہو رہی ہے۔

    تاہم سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ مستقبل میں اس نوعیت کی وبا کو روکنے کے لیے یہ جاننا انتہائی ضروری ہے کہ یہ وائرس کیسے اور کہاں سے آیا۔

    اگر وائرس کے قدرتی طور پر پیدا ہونے کا نظریہ صحیح ثابت ہوتا ہے تو وہ مستقبل میں کھیتی باڑی اور جنگلی جانوروں کے ساتھ منسلک کاروبار کو متاثر کر سکتی ہے۔

    لیکن دوسری جانب اگر لیب لیب کا نظریہ صحیح ثابت ہوتی ہے تو یہ سائنسی تحقیق اور بین الاقوامی تجارت پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

    اور اگر لیک کا نظریہ درست ثابت ہوتا ہے تو یہ شاید چین کی ساکھ کو بھی متاثر کرے۔ چین پر پہلے ہی شکوک کا اظہار کیا جاتا ہے کہ اس نے وبا کے آغاز میں اہم معلومات چھپائی تھیں اور اس الزام کی وجہ سے امریکی اور چین کے تعلقات میں مزید کشیدگی بڑھ گئی تھی۔

    واشنگٹن ڈی سی میں قائم تھنک ٹینک اٹلانٹک کونسل سے منسلک جیمی میٹزل لیب لیک کے نظریے پر پوری طرح یقین رکھتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ چین نے پہلے دن سے حقیقت چھپائی ہے۔

    لیکن دوسری جانب کئی لوگ چین کو مورد الزام ٹھہرانے میں جلد بازی کرنے سے منع کرتے ہیں۔

    سنگاپور کے نیشنل یونی ورسٹی ہسپتال سے منسلک پروفیسر ڈیل فشر کا کہنا ہے کہ ‘ہمیں نہ صرف تحمل سے کام لینا ہوگا بلکہ سفارتی آداب بھی ملحوظ خاطر رکھنے ہوں گے۔ ہم یہ تحقیق چین کی مدد کے بغیر نہیں کر سکتے اور ایسا ماحول نہیں قائم کر سکتے جس میں صرف چین پر الزام لگائے جائیں۔

  • اگر اسکرپٹ سے پاکستان مخالف لائنز ختم نہیں کی گئیں تو فلم چھوڑ دوں گا    اکشے کمار

    اگر اسکرپٹ سے پاکستان مخالف لائنز ختم نہیں کی گئیں تو فلم چھوڑ دوں گا اکشے کمار

    بالی ووڈ اداکار اکشے کمار نے پاکستان کے خلاف فلم میں نامناسب زبان استعمال کرنے سے صاف انکار کرکے پاکستانیوں کے دل جیت لئے-

    باغی ٹی وی : بالی ووڈ میں آئے روز پاکستان اور بھارت کے تعلقات پر متعدد فلمز بنتی رہتی ہیں جن میں زیادہ تر پاکستان اور مسلمان مخالف جذبات دکھائے جاتے ہیں –

    تاہم کبھی کبھی ایسی بھی فلمز آتی ہیں جس میں پیسوں کے لالچ میں کچھ بھارتی ہدایتکار و اداکار پاکستان دشمنی میں تمام حدیں پار کر جاتے ہیں اور پاکستان کے خلاف زہر اگلتے دکھائی دیتے ہیں-

    لیکن شاید بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ بالی ووڈ اداکار اکشے کمار نے فلم میں پاکستان کے خلاف زہر اگلنے سے صاف انکار کردیا تھا۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق ویسے تو اداکار اکشے کمار حب الوطنی پر مبنی فلم بنانے کے لیے انتہائی سنجیدہ ہیں اور اس حوالے سے اکشے متعدد فلمز بھی کرچکے ہیں لیکن فلم ’اب تمہارے حوالے وطن ساتھیوں‘ میں پاکستان کے خلاف نہ صرف نامناسب زبان استعمال کرنے سے انکار کیا بلکہ دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر اسکرپٹ سے پاکستان مخالف لائنز ختم نہیں کی گئیں تو میں فلم چھوڑ دوں گا۔