Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • چرنوبل کی باقیات سے تابکاری کے اخراج میں اضافہ، 35 سال بعد کسی نئے ایٹمی حادثے کا خطرہ

    چرنوبل کی باقیات سے تابکاری کے اخراج میں اضافہ، 35 سال بعد کسی نئے ایٹمی حادثے کا خطرہ

    یوکرائن: سابق سوویت یونین کے جوہری بجلی گھر ’’چرنوبل‘‘ کے ملبے میں موجود تابکار مادوں سے 35 سال بعد ایک بار پھر تابکاری کے اخراج میں اضافہ ہونے لگا ہے جس سے کسی نئے تابکار حادثے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔

    باغی ٹی وی :سابق سوویت یونین کی ریاست یوکرائن کے قصبے پریپیات میں 1986 میں چرنوبل کا تابکار حادثہ آج بھی دنیا بھر میں لوگوں کو یاد ہے۔ موجودہ یوکرائن میں قائم اس جوہری بجلی گھر میں حادثے کے بعد پھیلنے والی تابکاری نے پورے یورپ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ اس حادثےنے سابق سوویت یونین کو نہ صرف مالی نقصان پہنچایا بلکہ اس تابکاری کےاثرات آئندہ کئی سال تک لوگوں کو موت کے گھاٹ اُتارتے رہے۔

    وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس ایٹمی بجلی گھر کی باقیات میں موجود تابکار مادّوں سے تابکاری کا اخراج بتدریج کم ہوتا گیا لیکن اب یہ خبر ملی ہے کہ چرنوبل کی باقیات سے تابکاری کے اخراج میں ایک بار پھر اضافہ ہونے لگا ہے۔

    امریکی تحقیقی جریدے ’’سائنس‘‘ میں شائع ہونے والی ایک حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چرنوبل کے ملبے تلے دبے ہوئے ری ایکٹر ہال میں موجود یورینیم ایندھن کی باقیات سے تابکار نیوٹرونوں کے اخراج میں ایک بار پھر اضافہ ہونے لگا ہے لیکن بظاہر اس کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آرہی۔ یہی نہیں بلکہ اس تابکاری کا اخراج رکنے کے بھی کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے۔

    برطانیہ کی شفیلڈ یونیورسٹی میں جوہری مادوں کے کیمیا دان نیل حیات کے مطابق ’اب یہ تابکار فضلہ اسی طرح سلگ رہا ہے جس طرح باربی کیو کے گڑھے میں کوئلہ سلگتا ہے،‘ تاہم اگر طویل عرصے تک اسے یونہی چھوڑ دیا گیا تو اس ’سلگتے ہوئے مادے‘ کے مکمل طور پر بھڑکنے کے امکانات ہیں جس کا نتیجہ ایک اور ایٹمی حادثے کی صورت میں سامنے آسکتا ہے۔

    یوکرائن میں ، نیوکلیئر پاور پلانٹس (ISPNPP) کے اناطولی ڈوروشینکو ، ری ایکٹر کو ختم کرنے کے بارے میں بات چیت کے دوران گذشتہ ہفتے اطلاع دیے گئے سینسر ، ایک ناقابل فراموش کمرے سے بہتے ہوئے ، نیوٹران کی بڑھتی ہوئی تعداد کا پتہ لگارہے ہیں۔ آئی ایس پی این پی پی کے میکسم سولیو کا کہنا ہے کہ "بہت سی غیر یقینی صورتحال ہیں۔” "لیکن ہم کسی حادثے کے امکان کو رد نہیں کرسکتے ہیں۔

    اس پلانٹ کی مانیٹرنگ کرنے والے سائنس دانوں کا کہا ہے کہ پلانٹ کے زیر زمین کمرے سے (جسے 305/2 کے نام سے جانا جاتا ہے) نیوٹرونوں کے اخراج میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ یہ کمرہ اُس تابکار مادّے سے بھرا ہوا ہے جو چرنوبل حادثے کے دوران شدید گرمی کے باعث پگھل کر لاوے کی شکل میں آگیا تھا اور بعد ازاں ٹھوس شکل اختیار کرکے یہاں پرت در پرت جمع ہوگیا۔ یہ مادّہ تابکار یورینیم، گریفائٹ اور مٹی پر مشتمل ہے جسے مجموعی طور پر ’’ایندھن والا مواد‘‘ (فیول کنٹیننگ مٹیریلز) یا مختصراً ’’ایف سی ایم‘‘ بھی کہا جاتا ہے جو تقریبا 170 ٹن شعاع زدہ یورینیم — 95 فیصد اصلی ایندھن سے لیس ہیں۔

    سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ نیوٹرونوں کا بڑھتا ہوا اخراج یہ اشارہ کر رہا ہے کہ اس ’’ایف سی ایم‘‘ کے یورینیم ایٹموں میں ٹوٹ پھوٹ کا عمل (فشن ری ایکشن) ایک بار پھر شروع ہوچکا ہے۔

    یوکرائن کے دارالحکومت کیو کے انسٹیٹیوٹ فار سیفٹی پرابلمز آف نیوکلیئر پاور پلانٹ کے سینئر ریسرچر، میکسم سولیو کا کہنا ہے کہ یہ حادثہ اتنا تباہ کن نہیں ہوگا جیسا 1986 میں ہوا تھا؛ جس کا نتیجہ ہزاروں اموات کی صورت میں سامنے آیا تھا اور تابکار بادل پورے یورپ پر چھا گئے تھے۔

    ان کا کہنا ہے کہ چار سال سے روم نمبر 305/02 میں نیوٹرونز کی سطح میں اضافہ ہورہا ہے اور اس کی سطح میں بغیر کسی حادثے کے اگلے کئی سال تک اضافہ ہوسکتا ہے، لیکن اگر اس کی سطح ایسے ہی بڑھتی رہی تو پھر سائنس دانوں کو کسی حادثے سے بچنے کےلیے اس کا حل نکالنا پڑے گا۔

    اگر یہ تابکار مادے ایک بار پھر بھڑک گئے تو ان سے ہونے والے دھماکوں سے خصوصی فولاد اور کنکریٹ کے وہ مضبوط جنگلے تباہ ہوجائیں گے جنہیں حادثے کے ایک سال بعد ہی تباہ ہونے والے ری ایکٹر4 کے گرد لگادیا گیا تھا۔ یہ حفاظتی جنگلے اب پرانے ہوچکے ہیں اور بھاری ملبے اور تابکار مٹی سے بھرے علاقے میں یہ شدید دھماکے سے بہ آسانی تباہ ہوسکتے ہیں۔

    سولیو کہتے ہیں چرنوبائل کے رکھوالوں کو درپیش دوبارہ اٹھنے والے فیوژن رد عمل ہی چیلنج نہیں ہیں بلکہ شدید تابکاری اور تیز نمی کا سامنا کرتے ہوئے ، ایف سی ایمز ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہے ہیں – اس سے کہیں زیادہ تابکار مٹی پھیل رہی ہے جو شیلٹر کو ختم کرنے کے منصوبوں کو پیچیدہ بناتی ہے۔ ابتدائی طور پر ، یہ نہایت بھاری ہاتھی کا پاؤں نامی ایک ایف سی ایم تشکیل اتنا سخت تھا کہ سائنسدانوں کو تجزیہ کے لئے کلاشنیکوف رائفل کا استعمال کرنا پڑا۔ "اب اس میں کم و بیش ریت کی مستقل مزاجی ہے –

    یوکران کا طویل عرصہ سے FCMs کو ہٹانے اور انہیں ارضیاتی ذخیرے میں محفوظ کرنے کا ارادہ ہے۔ ستمبر تک ، تعمیر نو اور ترقی کے لئے یورپی بینک کی مدد سے ، اس کا مقصد ایسا کرنے کے لئے ایک جامع منصوبہ بنانا ہے۔ لیکن ابھی بھی شیلٹر کے اندر زندگی چمکتی رہتی ہے ، ری ایکٹر کی باقیات کو دفن کرنا پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہوسکتا ہے-

  • عمران خان اورعمران عباس سوشل میڈیا پر یکساں مقبول

    عمران خان اورعمران عباس سوشل میڈیا پر یکساں مقبول

    وزیراعظم عمران خان اور معروف اداکار و ماڈل عمران عباس کی سوشل میڈیا ویب سائٹ انسٹاگرام پر مقبولیت برابر ہوگئی۔

    باغی ٹی وی : اس ضمن میں عمران عباس نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری میں ایک تصویر شیئر کی جس میں عمران خان اور اداکار کے انسٹاگرام فالوورز کی برابر تعداد کے بارے میں بتایا گیا تھا۔

    اداکار نے انسٹا گرام پر اسٹوری میں تصویر شیئر کرتے ہوئے ’عمران‘ لکھا۔

    کرکٹ اور پھربعد میں سیاست میں بھی مقبولیت حاصل کرنے والے وزیراعظم عمران خان کے سماجی رابطے کی ویب سائٹ انسٹاگرام پر موجود تصدیق شدہ اکاؤنٹ کی طرف نظر دوڑائی جائے تو اِس وقت اُن کے فالوورز کی تعداد 5 اعشاریہ 1 ملین ہے جبکہ انہوں نے خود کسی کو بھی فالو نہیں کیا ہوا-

    وزیر اعظم نے اب تک اکاؤنٹ پر اپنے 11.6K پوسٹس شئیر کر رکھی ہیں جن میں سیاسی امور اور ملکی صورتحال کی تازہ ترین تفصیلات سے عوام کو آگاہ کرتے نظر آتے ہیں، اس کے علاوہ عمران خان ماضی کی حسین یادیں بھی اپنے مداحوں کے ساتھ شیئر کرتے ہیں۔

    دوسری جانب خوبرواور پُرکشش اداکار عمران عباس کے تصدیق شدہ انسٹاگرام اکاؤنٹ پر فالوورز کی تعداد اب بھی 5 اعشاریہ 1 ملین ہی ہے انہوں نے خود صرف 262 لوگوں کو فالو کیا ہوا ہے-

    جبکہ ان کے اکاؤنٹ پر شئیر کی گئیں پوسٹس کی تعداد 2 ہزار 546 ہے جس میں وہ مختلف ویڈیوز اور تصویریں شیئر کرتے ہیں جس کے ذریعے وہ مداحوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتے ہیں۔

  • سلمان خان  نےاپنی فلم ’’دبنگ‘‘ کا اینیمیٹڈ ورژن پیش کر دیا

    سلمان خان نےاپنی فلم ’’دبنگ‘‘ کا اینیمیٹڈ ورژن پیش کر دیا

    معروف بھارتی اداکار سلمان خان نےاپنی بلاک بسٹر فلم ’’دبنگ‘‘ کا اینیمیٹڈ ورژن پیش کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

    باغی ٹی وی : مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر بالی ووڈ سُپر اسٹار سلمان خان نے فلم دبنگ کے اینیمیٹڈ ورژن کا پرومو جاری کرتے ہوئے مداحوں کو یہ خوشخبری سنائی-


    دبنگ خان کی جانب سے شئیر کئے گئے پرومو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ سلمان خان اپنے ‘چلبل پانڈے ‘والے انداز میں نظر آ رہے ہیں ۔

    سلمان خان نے پرومو ٹوئٹ کرتے ہوئے فلم دبنگ کے مشہور ڈائیلاگ بھی تحریر کیے۔

    انہوں نے نے لکھا کہ ‘بھیا جی اسمائل ! آگئے ہیں چلبل پانڈے اپنے اینیمیٹڈ انداز دبنگ میں ، دی اینیمیٹڈ سیریز، 31 مئی سے، ہر روز 12 بجے، کارٹون نیٹ ورک پر،

  • فیس بک کا جھوٹی خبریں اور معلومات پھیلانے والوں کیخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ

    فیس بک کا جھوٹی خبریں اور معلومات پھیلانے والوں کیخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ

    کیلیفورنیا: سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بُک نے جھوٹی خبریں اور معلومات پھیلانے والے اکاؤنٹس، پیجز اور گروپس کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : فیس بُک نے اپنی حالیہ پریس ریلیز میں کہا ہے کہ جو سوشل میڈیا اکاؤنٹس باقاعدگی سے غلط اور گمراہ کن معلومات پھیلاتے ہیں، ان کی پوسٹس کو ہٹانے کے بجائے ان پر لیبل لگا کر صارفین کو خبردار کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ فیس بُک سمیت، تقریباً تمام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے جھوٹی اور بے بنیاد معلومات کا مسئلہ سنگین سے سنگین تر ہوتا جارہا ہے چاہے اس کا تعلق انتخابات سے ہو، ماحول کی تبدیلی سے ہو یا پھر پچھلے ڈیڑھ سال سے کورونا وبا اور حالیہ مہینوں میں کورونا ویکسین ہی سے کیوں نہ ہو۔

    فیس بک کے بانی سمیت 50 کروڑ صارفین کی تفصیلات آن لائن لیک

    فیس بُک انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جھوٹ پر مبنی پوسٹس ڈیلیٹ کرنا اس مسئلے کا مؤثر حل ثابت نہیں ہوا، لہذا ماہرانہ مشوروں کے بعد نوٹیفکیشن تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    فیس بک نے نفرت اور نسل کی بنا پر نازیبا جملوں کو روکنے کا ایک اہم ٹول پیش کردیا

    مثلاً اب اگر آپ کسی ایسے فیس بُک اکاؤنٹ، پیج یا گروپ کا وزِٹ کریں گے جہاں غلط معلومات والی پوسٹس اکثر لگائی جاتی ہیں تو آپ کے سامنے ایک نوٹی فکیشن آجائے گا جس کے ذریعے آپ کو خبردار کیا جائے گا کہ یہ ’’اکاؤنٹ/ پیج/ گروپ باقاعدگی سے غلط معلومات پیش کرتا ہے۔‘‘

    اگرچہ فیس بُک کی مذکورہ پریس ریلیز میں یہ تو نہیں بتایا گیا کہ کسی پوسٹ میں دی گئی معلومات کو کن بنیادوں پر جھوٹی، غلط یا گمراہ کن قرار دیا جائے گا، تاہم اتنا ضرور واضح کیا گیا ہے کہ اس مقصد کےلیے معلومات کی تصدیق کرنے والے ’’قابلِ بھروسہ ذرائع‘‘ سے مدد لی گئی ہے۔

    جھوٹ پھیلانے والے انفرادی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو ’’سزا دینے‘‘ کےلیے ان کا ’’آن لائن رُتبہ‘‘ کم کردیا جائے گا؛ یعنی دوسرے صارفین کو ان اکاؤنٹس کی پوسٹس بہت کم دکھائی دیا کریں گی۔

    فیس بک پلیٹ فارم اور انسٹاگرام پر بطورعطیہ جمع کی گئی رقم پانچ ارب ڈالرتک جا پہنچی

    کورونا ویکسین سے متعلق گمراہ کن معلومات :فیس بک نے وینزویلا کے صدر کا آفیشل پیج…

    فیس بک منفرد رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں اور لکھاریوں کو 50 لاکھ ڈالر دے گا

  • مرغابی کڑاہی بنانے کی ترکیب

    مرغابی کڑاہی بنانے کی ترکیب

    مرغابی کڑاہی

    وقت :60 سے70 منٹ

    6 سے 8 افراد کے لئے

    اجزائے ترکیبی مقدار
    مرغابیاں 2پرندے (1 کلو کا ایک)
    تیل ½کپ
    دہی ½کپ
    پیاز (کٹے ہوئے) ½کپ
    ادرک (باریک کٹا ہوا) 1کھانے کا چمچ
    ادرک لہسن کا پیسٹ 2کھانے کے چمچ
    ٹماٹر (باریک کٹے ہوئے) 2کپ
    نمک حسب ذائقہ
    سرخ مرچ پاؤڈر 1کھانے کا چمچ
    ہلدی پاؤڈر 1چائے کا چمچ
    خشک دھنیا (کٹا ہوا) 1چائے کا چمچ
    زیرہ (کٹا ہوا) 1چائے کا چمچ

    سجاوٹ کے لئے:
    ہرا دھنیا 1کھانے کا چمچ
    ہری مرچیں (قتلے) 1چائے کا چمچ
    ادرک (لمبائی میں باریک کٹا ہوا) 1کھانے کا چمچ

    طریقہ کار:
    مرغابیوں کوچھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ لیں۔ مرغابی کا گوشت کڑاہی میں ڈالیں۔ اس میں پیاز، ہلدی ایک چمچ نمک اور ایک کپ پانی ڈال کر دو سے تین منٹ تک ابالیں۔ پانی پھینک دیں اور مرغابیوں کودھو کر ایک طرف رکھ دیں۔ کڑاہی میں تیل گرم کریں پیاز ڈال کر ہلکا براؤن کرلیں۔ اب ادرک لہسن کا پیسٹ شامل کرکے ایک سے دومنٹ تک پکائیں۔مرغابیاں شامل کرکے چار سے پانچ منٹ تک تیز آنچ پر بھونیں۔ ٹماٹر، مصالحے اور دو کپ پانی شامل کرکے 40سے 45 منٹ تک ہلکی آنچ پر پکائیں کہ گوشت گھل جائے۔ دہی شامل کرکے پانچ سے چھ منٹ تک تیل چھوڑنے تک بھونیں۔ ہرے دھنیے، ہری مرچوں اور ادرک کے ساتھ سجائیں۔ نان یا خمیری روٹی کے ساتھ پیش کریں۔ مرغابیوں کو ابالنے سے اس کا گندا ذائقہ ختم ہوجاتا ہے۔

  • کورونا وائرس میں سب سے مشکل کام تنہا رہنا ہے     کنگنا رناوت

    کورونا وائرس میں سب سے مشکل کام تنہا رہنا ہے کنگنا رناوت

    بالی ووڈ اداکارہ کنگنا رناوت نے کہا ہے کہ کورونا وائرس میں سب سے مشکل کام تنہا رہنا ہے۔

    باغی ٹی وی: کورونا وائرس کو شکست دینے کے بعد کنگنا رناوت نے اپنے دوستوں اور رشتہ داروں سے ملاقات کی جس کی تصویریں اُنہوں نے اپنے تصدیق شدہ انسٹاگرام اکاؤنٹ پر شیئر کیں۔

    کنگنا رناوت نے تصویریں شیئر کرتے ہوئے کیپشن میں لکھا کہ کورونا وائرس کے دوران سب سے مشکل کام تنہائی تھی۔

    اداکارہ نے بتایا کہ اُنہوں نے منالی میں اپنے دوستوں اور رشتہ داروں سے ملاقات کی۔

    اُنہوں نے مزید کہا کہ اب وہ اپنی دادی سے ملاقات کرنے جائیں گی۔

    خیال رہے کہ رواں ماہ 18 مئی کو کنگنا رناوت نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں بتایا تھا کہ اُنہوں نے کورونا وائرس کو شکست دے دی ہے۔

    اداکارہ نے اپنے پیغام میں لکھا تھا کہ’ہیلو، آج میرا کورونا ٹیسٹ منفی آگیا ہے۔

    کنگنا نے وائرس سے صحتیابی کے بارے میں بات کرتے ہوئے لکھا تھا کہ میں اس بارے میں بہت کچھ کہنا چاہتی ہوں کہ میں نے کورونا وائرس کو کس طرح شکست دی لیکن مجھے کہا گیا ہے کہ کورونا فین کلب کو ناراض نہ کروں۔

    واضح رہے کی 8 مئی کو کنگنا رناوت کورونا وائرس کا شکار ہوئی تھیں جس کے بعد انہوں نے خود کو قرنطینہ کرلیا تھا۔

  • فلم  ’’رادھے‘‘ کے حذف شدہ سین منظر عام پر آ گئے

    فلم ’’رادھے‘‘ کے حذف شدہ سین منظر عام پر آ گئے

    بالی ووڈ اداکار سلمان خان کی فلم ’رادھے‘ میں ان کی بہن کا کردار ادا کرنے والی اداکارہ نینسی جین نے سوشل میڈیا پر فلم کے وہ لمحات شئیر کئے جو فلم سے حذف کر گئے تھے-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق سلمان خان کی فلم ’’رادھے، یورموسٹ وانٹڈ بھائی‘‘ میں ان کی بہن کا کردار ادا کرنے والی اداکارہ نے سوشل میڈیا پر ایسی تصاویر شیئر کردیں جنہیں مداح فلم میں نہیں دیکھ سکتے کیوںکہ شوٹنگ کے دوران ان سین کو حذف کردیا گیا تھا۔

    نینسی جین نے اپنے انسٹا گرام اکاونٹ پر تین تصاویر شیئر کیں۔ اداکارہ نے پہلی تصویر شیئر کی جس میں فلم میں ان کے ساتھ سلمان خان اور والدین کا رول ادا کرنے والے زرینہ وہاب اور وریندرا سکسینہ موجود ہیں۔

    اس تصویر کے بارے میں نینسی جین نے لکھا کہ یہ میری پسندیدہ تصویر ہے جس نے میرے دل میں ایک خاص مقام حاصل کرلیا، یہ وہ تصور ہے جہاں سے سب شروع ہوا اور مجھے بے پناہ محبت ملنے لگی، میں نے زندگی میں کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ مجھے زندگی میں اس قدر خوشی نصیب ہوگی، مجھے امید ہے خدا مجھے اور مواقع فراہم کرے گا، میں اس قدر پیار اور تعاون ملنے پر بےحد خوش ہوں۔‘‘

    نینسی جین نے ایک اور تصویر اپ لوڈ کی اور کیپشن میں لکھا ’’ایک لڑکی بھولی بھالی سی” ۔

    اداکارہ نے تیسری تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’’راہ میں ان سے ملاقات ہوگئی جبکہ ایک اور تصویر شئیر کرتے ہوئے نینسی نے لکھا کہ ،،تم ملے دل کھلے،،-

    شائقین نے کمنٹس سیکشن میں محبت کا اظہار کیا ، کچھ نے اداکار حذف شدہ مناظر سے مزید تصاویر شائع کرنے کی درخواست بھی کی۔ ایک شخص نے لکھا ،کہ آہستہ آہستہ یہاں حذف ہونے والے سارے سین یہاں شئیر کر دیں-

    سلمان خان نے معروف فلمی تجزیہ نگار کیخلاف ہتک عزت کا مقدمہ درج کرا دیا

    میں سلمان خان کو سڑک پر لے آؤں گا اس نے اس بار غلط آدمی سے پنگا لے لیا ہے…

  • اداکار بلال قریشی کے ہاں دوسرے بیٹے کی پیدائش

    اداکار بلال قریشی کے ہاں دوسرے بیٹے کی پیدائش

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکار جوڑی بلال قریشی اور عروسہ بلال کے ہاں دوسرے بیٹے کی پیدا ئش ہوئی ہے ۔

    باغی ٹی وی : ویڈیو اینڈ فوٹوشیئرنگ ایپ انسٹاگرام پر اداکار بلال قریشی نے اپنے نومو لود بیٹےکے ہمراہ تصویر شیئرکرتے مداحوں کو اس خوشخبری سے آگاہ کیا۔

    اداکار نے اپنی تصویر کے کیپشن میں قرآنی آیت : اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت جھٹلاؤ گے ، شیئر کرتے ہوئے اللہ کا شکر ادا کیا اور لکھا کہ ان کے دوسرے بیٹے کا نام رومان ہے ۔

    بلال قریشی کی اس پوسٹ پر فنکاروں سمیت مداحوں کی جانب سے مبارکباد کا سلسلہ جاری ہے-

    خیال رہے کہ اداکار جوڑی نے فروری 2015میں شادی کی تھی اداکار جوڑی کا ایک بیٹا اور بھی ہے جس کا نام محمد سوہان ہے-

  • ہمارا اصل مقابل تو عالم کفر ہے مگر ہم نے اک دوسرے پربندوقیں کیوں تانی ہیں    تحریر کاشف علی ہاشمی  کشف الاسرار

    ہمارا اصل مقابل تو عالم کفر ہے مگر ہم نے اک دوسرے پربندوقیں کیوں تانی ہیں تحریر کاشف علی ہاشمی کشف الاسرار

    ہمارا اصل مقابل تو عالم کفر ہے مگر ہم نے اک دوسرے پربندوقیں کیوں تانی ہیں
    تحریر کاشف علی ہاشمی
    کشف الاسرار

    ہمارے ہاں مسلمانو کے مابین اختلافات کو قومیت کی سطح پر لے جایا جانے میں یقینًا درمے دامے سخنے غیرمسلم ایکسپرٹ سوشل ایکٹیویسٹ بھی شامل ہیں ان کے باقاعدہ ڈس انفارمیشن یونٹ اور مس انفارمیشن یونٹس قائم ہیں جہاں سے باقاعدہ اسلام کی تعلیم لیے خرانٹ شست باندھ کر نشانے لگانے والے شکاری لوگ بیٹھے ہیں جو مسلمان ملکوں کے مابین نفرت کو ہوا دینے کے لیے اکثر اہم شخصیات یا کسی خاص خبر کے نیچے اختلافات ظاہر فرما رہے ہوتے ہیں زہر انڈیل رہے ہوتے ہیں-

    عربوں ترکوں ایرانیوں پاکستانیوں کو آپس میں لڑوا رہے ہوتے ہیں اور خود کو کسی ملک سے وابسطہ کر کے خود کو فرشتے ثابت کر رہے ہوتے ہیں اور ایسی گفتگو چھیڑتے ہیں کہ خومخواہ سمجھدار سنجیدہ لوگوں کو بھی دونوں طرف سے مدمقابل لے آتے ہیں بعد میں یہ سمجھ دار اپنا دعوی ثابت کرنے کی چکر اس سوکھی لکڑی کی طرح جلتے ہیں جو اپنے ارد گرد دیگر کو بھی شامل کر لیتی ہے اور آگ مزید بھڑکتی ہے دشمن تیلی پھینک کر تماشا دیکھتے ہیں-

    ایسا میں نے کچھ انڈین پاکستانی مکس گروپس میں رہ کر دیکھا کہ وہ عربی ناموں اور تصاویر کے ساتھ جہاں بظاہر عربوں یا ترکوں کا دفاع کر رہے ہوتے ہیں مگر درحقیقت وہ ہمیں اپس میں لڑا رہے ہوتے ہیں-

    ریاستوں کے مابین معاملات میں اونچ نیچ ہوتی رہتی ہے مگر اب ان سیاسی نوعیت کے اختلافات کو بہت ہوا دی جاتی ہے اور عرب یوں ہیں ترک ایسے ہیں افغان نے یہ کر دیا-

    چنانچہ اردگان کی تمام طرح مثبت کوششوں اور کاوشوں کو کھوہ کھاتے میں ڈالنے کے بعد ہم اسے پلاسٹکی خلیفہ اور اسلام دشمن ثابت کرنے کے لیے دلائل کے انبار لگا رہے ہوتے ہیں کہ دیکھیں جی اس کے اسرائیل سے سفارتی و تجارتی تعلقات ہیں اس نے سفیر کیوں نہیں نکالا یقینًا طیب اردگان کوئی فرشتہ نہیں اور نا ہی کسی خلافت کے منصب پر بیٹھا ہے البتہ اہل اسلام سے ہمدردی کے جذبات رکھتا ہے اپکا مسلک جو بھی ہے مگر وہ دین سے محبت کرتا ہے اور ملک سے سیکولرازم کو آہستہ آہستہ دیس نکالا دے رہا ہے-

    البتہ جہاں اردگان سے متعلق کوئی مثبت بات ہوتی ہے وہیں اک بندہ آکر کہتا کہ اس کے تعلقات فلاں فلاں سے ہیں اور یہ امریکی یا یہودی ایجنٹ مسلمانوں کا مخالف ہے اس پر اک لمبی چوڑی تحریر بھی آتی ہے جس میں کسی نامعلوم دانشور نے اسے یہودی امریکی تیار کردہ ایجنٹ ثابت کیا ہوتا ہے
    اسی طرح معاملہ آپ سعودیہ اور آل سعود کا لگا لیں بلاجواز اور جھوٹ ہر مبنی پروپیگنڈا کے خلافت کو ان لوگوں نے ختم۔کیا جب کہ انکی قوت اس وقت بہت ہی چھوٹی سے علاقے میں تھی حجاز پر شریف مکہ کی حکومت تھی جو ہاشمی تھے
    پاکستان کی گرتی اکانومی کو پہلے بھی اور آج بھی سہارا دیا ساری دنیا میں مسلمانو کی سب سے زیادہ امداد بھی سعودی کرتے ہیں ہمارے ایٹم بم سے فوج تک میں ان کی انویسٹ منٹ ہے اور ریال لگا ہے-

    لیکن ہم تو فرشتے ہیں ان سے امداد بھی لیتے ہیں اور انکے خلاف مسلکی نفرت کی بنیاد پر سچ جھوٹ پر مبنی پروپیگنڈا بھی کرتے ہیں ہم احسان کا بدلہ بدنام کر کے دیتے ہیں اور جو خبر سعودیہ کے خلاف آتی ہے اسکو پھیلانا فرض ہے چاہے خبر تخیلاتی اور فرض پر مبنی ہو مگر ہمارا کیا ہم نے تو انکو اچھا سمجھنا ہی نہیں نا ان کے نقطہ نظر کو جاننا ہے اصل بات یہ ہے کہ ہمارے نزدیک وہ اسلام مخالف ہیں یہ الگ بات ہے کہ مسلہ بیچ میں مسلک کا ہو آپ لاکھ بتائیں سعودیہ نے اپ اور امت کے لیے یہ یہ کیا ہے مگر وہاں اک بات ہی دماغوں انڈیلی ہوئی ہے کہ اسرائیل ایجنٙٹ ہیں حالانکہ وہ سرکاری سطح پر بار بار اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار کر چکے ہیں مگر ہمارا کیا ہے ہم کیوں مانیں اور ہم نے تو بدگمانی ہے کرنی ہے فرضی اور تخیلاتی کہانیوں پر ہی یقین کرنا ہے-

    اسی طرح اخوان کے لوگوں کا سیسی سے اختلاف ہے جوں جنرل سیسی کی کوئی مثبت خبر آئے گی فورًا نیچے کمنٹ آتا جنرل سیسی یہودی ایجنٹ ہے اس نے یہ کر دیاں ایسے کر دیا لہذا یہ سب ڈرامہ ہے اصل میں اسرائیل کا ساتھی ہے وغیرہ-

    آپ افغان قوم کو دیکھ لیں اکثر ان کےخلاف نفرت انگیز گفتگو ہورہی ہوتی ہے جبکہ افغان وہ قوم جس نے روس کے بعد امریکہ کو روند دیا ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا مرد قسم کی قوم ہے مگر تھوڑا سامسلہ ہوجائے جیسے یہاں سب فرشتے آباد افغانو کو گالیاں دیتے کف اڑاتے غصے سے بھرے ہم اپس میں اختلافات کو بڑھاوا دے رہے ہوتے ہیں-

    ماشاءاللہ سے ہم مسلمان دنیا کے لوگ اک دوسرے ک برا بھلا کہہ کبھی ایرانیوں کو لتاڑ کر کبھی ترکوں اور کبھی افغان قوم کی صرف برائی ہی ظاہر کرتے ہیں اور عربوں کو لعن طعن کرتے کبھی پاکستانیوں کو طعنے دیتے آپسی لڑائی کا شکار ہیں یقینًا مڈل ایسٹ کی لڑائی میں اکیلے ایران کو الزام نہیں دیا جاسکتا اس میں۔دیگر لوگ بھی شامل ہوں گے لیکن اپ ایران کی تاریخ پر اک لمبا چوڑا مضمون پائیں گے کہ انہوں نے یہ یہ کیا لہذا اب کوئی بھی اچھائی انکی تسلیم ہی نہیں کی جائے گی-

    کبھی عمران خان کو یخودی ایجنٹ قرار دے رہے ہوتے پاکستان پر سوالیہ نشان اٹھائے جارہے ہوتے ہیں حالانکہ پاکستان عالم اسلام کی نمبر ون فوج اور ایٹمی طاقت ہے جہاں بھی مسلمانو پر ظلم ہوا یا جنگی معاملات ہوے پاکستانی چاہے چپ چاپ سہی ٹانگ اڑا کر دشمن کو گرانے سے باز نہیں آتے وہ الگ بات کہتے ہیں ہم تو اپنے معاملے میں مصروف تھے ہمیں نہیں پتہ رو س ہو یا امریکہ یا بوسنیاء کا معاملہ پاکستان ہمیشہ ہر جگہ نظر آئے گا آزربائیجان کا معاملہ ہو یا فلسطین آپ یاد رکھو اسلامی دنیا کی جنگ میں پاکستان بیس کیمپ ہے-

    جہاں پاکستان کی مثبت قسم کی خبروں پر فیک اکاونٹس سے عرب افغانی بن کر زہر اگلا جارہا ہوتا ہے وہیں کچھ دیگر عام لوگ اور بزر جمہر بھی جو کسی کو معاف نہیں کرتے اور بڑے سخت قسم کے اصولی ہوتے ہیں آن ٹپکتے ہیں یوں کسی جگہ آگ دکھائی جاتی ہے اور سوکھی لکڑیاں دھڑا اس کو پکڑ کر جلنے لگتی ہیں اور دھواں پھیلانے لگتی ہے-

    اگرچہ اس میں ہندوستان سے بہت زیادہ مصالحہ آرہا ہے جو فیک اکاونٹ کے ساتھ عالم اسلام کو آپس میں لڑواتے ہیں تو انکی لڑائی سے عام آدمی بھی لڑنے لگتا ان جیسے بزر جمہر صرف پاکستان میں نہیں سعودیہ ایران اور ترکی میں بھی وافر مقدار میں پائے جاتے جو منفی قسم کی تحریروں کو پوری شد و مد سے پھیلا کر یقینًا مسلمانو کو بہت بڑے فتنے سے بچانے کے چکر میں اک نئے فتنے میں مبتلاء کر رہے ہوتے ہیں انکا کام مسلمانو کے آپسی اختلافات کو ہوا دینا اور بلاجواز اک قوم کو پکڑ خود کو اور اپنے پسندیدہ لیڈر اور ملک کو فرشتہ ثابت کرنا ہے-

    آپ کسی اک ملک کے حوالے سے مثبت پوسٹ کریں مثلاً سعودیہ یا ایران یا مصر فورًا نیچے اک لمبی چوڑی تحریر یا کوئی قلت وقت کی بناء پر یہودی ایجنٹ کو فتوی لگا کر اس کے اس مثبت کام کو بھی یہودیوں کی کوئی چھپی ہو سازش ہی قرار دے رہے ہوتے ہیں
    جبکہ غلطیاں کمیاں کوتاہیاں سب میں ہوتی ہیں اختلافات بھی ہو تے ہیں اور مثبت کام بھی ہوتے ہیں-

    مطلب ہمارا مزاج منفی گفتگو زیادہ پھیلانا بن چکا ہے جبکہ مثبت گفتگو کو کم پھیلاتے مثال جیو نیوز کی اک خبر کہ کرونا سے آج 50 لوگ مارے گئے چند منٹوں میں اس کو بہت زیادہ ری ٹویٹ کیا جاتا ہے اب اک خبر ہم نے دیکھی کہ کہ آج اتنے ہزاروں لوگ کرونا سے صحت یاب ہوگئے مگر گھنٹوں میں چند ری ٹویٹ یوں ہم نے منفی خبر کو خبر سمجھتے ہیں جبکہ مثبت خبر کو بس ٹھیک ہے-

    ہمیں حتی الامکان مسلمان ملکوں کے مابین اختلافات سے بچنا ہوگا سوشل میڈیا سے دنیا اب گلوبل ویلج بن چکی ہے لہذا میں نے ہمیشہ کہا کہ آپ یہ مت سمجھیں کہ آپ عام آدمی ہیں اپ کی بات اثر نہیں ہے بلکہ آپ اچھی طرح سمجھ لو آگ ہمیشہ چھوٹی لکڑیوں سے شروع کی جاتی ہے قوموں کے درمیان نفرت انکو مدمقابل لے آتی ہے-

    ہمارا اصل ٹارگٹ کفار ہیں ہمارا سارا زور حماس الفتح میں سے کسی اک کو اہم یا مجاہد جبکہ دوسرے کو یہودی ایجنٹ ثابت کرنے پر نہیں بلکہ اسرائیل کو دہشت گرد لکھنے پر ہونا چاہیے ہم ہر دفعہ اصل بیانیے سے ہٹ کر اختلافات کی جنگ شروع کر دیتے ہیں اور اسلام اور کفر کی جنگ کی جگہ مسالک کی جنگ چھیڑ دیتے ہیں-

    یقینًا ہمیں تھوڑا صبر کرنا ہوگا اپ اپنے پسندیدہ لیڈر کی مثبت خبر کو ضرور پھیلائیں مگر بے کار لوگوں سے بحث سے بچیں کیوں کہ وہ آپ کو اکسا کر پھر اختلافات کا شکار کر دیں گے وہ اپکے لیڈر پر تنقید کریں گے اب لازمی نہیں جوابی طور پر اپ بھی کسی دوسرے ملک یا لیڈر کو یہودی ایجنٹ ثابت کریں کیوں کہ اس سے نیچے تو ہم رکتے ہی نہیں-

    بلکہ ہم تحمل سے مثبت خبروں کو پھیلاتے رہیں اور مثبت بات کرتے رہیں یقینًا یہ بھاری کام ہے مگر اہل ایمان کا یہی شیوہ ہے کہ وہ فضول اور لایعنی باتوں سے بچتے ہیں-

  • خواہش ہے کہ حلیمہ سلطان خود میرے کام کی تعریف کریں     وائس اوور آرٹسٹ ربیعہ راجپوت

    خواہش ہے کہ حلیمہ سلطان خود میرے کام کی تعریف کریں وائس اوور آرٹسٹ ربیعہ راجپوت

    ترکی کی مقبول ڈراما سیریل ارطغرل غازی کے اردو ورژن میں حلیمہ سلطان کا وائس اوور کرنے والی آرٹسٹ ربیعہ راجپوت کی خواہش ہے کہ حلیمہ سلطان (اسرا بلجیک) خود ان کی تعریف کریں-

    باغی ٹی وی : برطانوی خبر رساں ادارے انڈپینڈنٹ اردو کو دیئے گئے انٹرویو میں ربیعہ راجپوت نے بتایا کہ اکستان میں جب ارطغرل غازی اردو ترجمے کے ساتھ شروع ہوا اور پروڈکشن ہاؤس نے آڈیشن لینا شروع کیے تو مجھے بھی آفر ہوئی مگر وقت کی کمی کے باعث میں نے انکار کر دیا مگر بعد میں اس ڈراما سیریل کی نوعیت اور اہمیت کو سمجھتے ہوئے میں نے آڈیشن کے لیے ہاں کر دی۔

    ربیعہ نے بتایا کہ اب تک ہم 450 اقساط کی ڈبنگ کر چکے ہیں جو ساتھ ساتھ آن ایئر بھی ہو رہی ہیں –

    ربیعہ کے مطابق ان کی بڑی خواہش ہے کہ وہ حلیمہ سلطان کا کردار ادا کرنے والی اداکارہ اسرا بلجیک سے ملاقات کریں اور وہ خود میرے کام کی تعریف کریں-

    ربیعہ راجپوت نے کہا ایک آرٹسٹ جب کسی کردار کا لبادہ اوڑھ لیتا ہے تو اس کے سامنے پھر اپنی ذاتی زندگی نہیں ہوتی ہے اس کردار میں ڈوب جاتا ہے تو جب میں حلیمہ سلطان کی وائس اوور کررہی ہوتی ہوں تو وہ ربیعہ راجپوت نہیں رہتی بلکہ میں حلیمہ سلطان ہوتی ہوں اور میرے سامنے جنگجو ارطغرل غازی موجود ہوتا ہے اسی کیفیت میں جب ڈرامے میں رونے کا سین آتا ہے تو اسٹوڈیو میں رو رہی ہوتی ہوں اور جب ہنسنے کا سین آتا ہے تو ہینس رہی ہوتی ہوں اور میں وہ رومانس محسوس کر سکتی ہوں –

    انہوں نے بتایا کہ حالانکہ اسٹوڈیو میں ریکارڈسٹ اور میں موجود ہوتی ہوں لیکن اس کے باوجود مین اس جگہ پر موھود ہوتی ہوں یہاں پر وہ شوٹ ہو رہا تھا جہاں پر اصل میں بارہویں صدی پہلے ہوا ہو گا-

    وائس اوور آرٹسٹ ربیعہ راجپوت نے بتایا کہ ان کا ڈرامے میں سب سے پسندیدہ سین دوچار سین ہیں ایک وہ ہے جب حلیمہ کے بچے کی ولادت ہوتی ہے حالانکہ میں غیر شادی شدہ ہوں لیکن میں ان احساسات کو محسوس کرتی ہوں جن کو میں نے کبھی محسوس نہیں کیا ہے –

    اس کے علاوہ حال ہی میں جب چوتھے سیزن میں ارطغرل مر جاتا ہے اور ہمیں یہ دکھایا جاتا ہے کہ وہ نہیں ہے لیکن وہ دوبارہ واپس لوٹ آتا ہے میں اس وقت میں ریکارڈ نہیں کر رہی تھی اس وات ہم صرف سین دیکھ رہے تھے تاکہ اگلے سین کے لئے ہم ذ ہن سازی کر سکیں اس وقت ہم رورہے تھے ریکارڈسٹ بھی اور میں بھی تو وہ سین بھی میرے دل کے بہت قریب ہےتمام لوگوں کی اداکاری اور ڈبنگ بہت ہی بہترین ہے ۔

    ربیعہ راجپوت نے بتایا میری خواہش ہے بلکہ تمام آرٹسٹوں کی خواہش ہو گی بلکہ ہونی بھی چاہیئے کہ جس کردار کو آپ نبھا رہے ہیں اس کردار کی جانب سے بھی تعریف کی جائے۔ یعنی وہ حلیمہ سلطان کے کردار کے لیے وائس اوور کرتی ہیں اس لیے ان کی خواہش ہے کہ حلیمہ سلطان (اسرا بلجیک) ان کے کام کی تعریف کریں اور ان کے کام سراہیں کہ میں نے اس آواز کو سنا ہے چاہے مجھے اردو زبان نہیں آتی لیکن می اس آرٹسٹ کی کارگردگی کو سراہتی ہوں –

    اس کے علاوہ ربیعہ نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے ویسے بھی تعلقات بہت اچھے ہیں ہم ایک دوسرے سے بہت پیار کرتے ہیں ہم یہ بھی سوچتے ہیں کہ اگر کوویڈ نہ ہوتا تو ارطغرل غازی کے بہت سے کردار پاکستان آ چکے ہوتے اور کافی آ بھی چکے ہیں اور ہم بھی شاید ایک گروپ بنا کر وہاں جائیں اورترکی بھی دیکھیں اور جن کرداروں نے ڈرامے میں حصہ لیا اور جن جن کے کرداروں کو ہم نے نبھایا ان سے ملاقات کریں اور اگر اسرا بلجیک سے ملاقات ہو جائے تو بڑا خوش آئند ہوگا اور ہم سب کی ملاقات ہو اور اس آرٹسٹ کی جانب سے کام کو سراہا جائے تو بہت اچھا لگے گا-