باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کی تیسری لہر جاری ہے، کرونا مریضوں اور اموات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے کورونا مریضوں کی تعداد کے حوالے سے مرتب کی گئی فہرست میں پاکستان 31 ویں نمبر پر ہے۔
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں کورونا سے اموات کا ریکارڈ آج پھر ٹوٹ گیا۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 135 افراد انتقال کر گئے یہ جون 2020 کے بعد ایک دن میں اموات کی سب سے بڑی تعداد ہے۔
Statistics 14th April 21: Total Tests in Last 24 Hours: 48,092 Positive Cases: 4681 Positivity % : 9.73% Deaths : 135
جب بھی فلسطین کی بات ہوتی ہے تو اذہان میں حق اور باطل کا پیمانہ سامنے آجاتا ہے ۔ یہ بالکل اسی طرح سے ہے کہ جب جب کربلا کا ذکر ہوتا ہے تو حسینی کردار یزیدی کردار کو شکست خوردہ کرتا ہوا نظر آتا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی اذہان حق اور باطل کے معرکہ کی جانب متوجہ ہو جاتے ہیں ۔ یہ فارمولہ رہتی دنیاتک قائم و دائم رہے گا ۔ حق کی قوتیں باطل قوتوں کے ساتھ نبرد آزما رہیں گی اور ممکن ہے کبھی ظاہری طور پر حق کی قوت کو دو قدم پیچھے ہونا پڑتا ہو لیکن آخر کار حق ہی ہے جو غالب آتا ہے اور غالب ہی آنے والاہے ۔ بالآخر باطل کو نابود ہونا ہی ہے ۔
فلسطین کی جب جب بات ہوتی ہے تو ہمارے سامنے ایک ایسا خاکہ کھنچا چلا جاتا ہے کہ جس میں صہیونی جرائم کی ایک طویل داستان رقم ہے ۔ صہیونیوں کے فلسطینی عوام کے خلاف جرائم کی تاریخ ایک سو سال پر محیط ہو چکی ہے ۔ جیسا کہ مقالہ کے عنوان میں ہی بیان کیا گیا ہے کہ فلسطینی عوام کے خلاف صہیونی جرائم میں عالم مغرب کی آشیرباد یا شراکت داری ۔ جی ہاں یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے ۔
تاریخ کا مطالعہ کرنے سے علم ہوتا ہے کہ سرزمین فلسطین پر صہیونیوں کی ناجائز ریاست بنانے کے لئے برٹش آرتھر بالفور ،امریکی ٹریو مین اور اسی طرح دیگر مغربی ممالک کے مختلف سیاست مداروں نے صہیونیوں کا ساتھ دیا ۔ صہیونیوں کے ان مغربی آقاءوں نے نہ صرف فلسطین پر صہیونیوں کی ناجائز ریاست کے قیام کے لئے ان کا ساتھ دیا بلکہ فلسطین پر صہیونیوں کے ناجائش تسلط کے لئے صہیونیوں کو ہر قسم کی آزادی فراہم کی تا کہ وہ فلسطینی عوام کا قتل کریں اور ان کو انہی کی زمینوں اور گھروں سے بے دخل کریں ۔ پہلی جنگ عظیم اور دوسری جنگ عظیم کے درمیانی حالات میں اگر صرف فلسطین کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں پائی جاتی ہے کہ عالم مغرب نے صہیونیوں کے فلسطینی عوام کے خلاف جرائم کی پشت پناہی اور ان کی مدد کی ہے ۔ اس لئے اگر آج کہ جدید دنیا میں یہ بات کہی جائے کہ فلسطینی عوام کے خلاف صہیونیوں کے ایک سو سالہ جرائم اور ظلم میں امریکہ، برطانیہ او ر دیگر مغربی ممالک برابر کے شریک ہیں تو یہ بات بالکل بے جا نہ ہو گی ۔
آج بین الاقوامی فورم پر امریکی اور مغربی سامراج فلسطین پر قائم غاصب صہیونیوں کی جعلی ریاست کا حامی نظر آتا ہے ۔ مغربی ذراءع ابلاغ کی حالت تو اس طرح کی ہے جیسے صہیونیوں کے غلام ہوں ۔ امریکی اور یورپی سامراج فلسطین میں جاری قتل و غارت گری اور ہر قسم کی انسانی حقوق کی پامالی سمیت نا انصافیوں میں برابر کا شریک جرم ہے ۔
آج جو کچھ جدید دنیا میں فلسطین کے ساتھ کیا جا رہاہے یہ خود جدید دنیا کے چہرے پر ایک بد نما داغ کی مانند ہے ۔ عالمی اداروں کی کھلی بے حسی ان کی کمزوری اور حیثیت کو واضح کر رہی ہے ۔ آج فلسطینی عوام دنیا کی سب سے زیادہ مظلوم عوام ہے ۔ جہاں اس معاملہ میں غرب برابر کا شریک ہے وہاں آج عرب بھی اس معاملہ میں صہیونیوں کے جرائم میں برابر کا شریک کار ہے ۔ آج مغربی دنیا کی ایماء پر عرب دنیا کے چند ممالک فلسطینی عوام کے خلاف کھڑے ہو چکے ہیں ۔ انہیں فلسطین کی مذہبی اور ثقافتی حمیت سے بھی کوئی غرض نہیں ۔ ان کے لئے فلسطینی عوام کا بہنے والا خون شاید نالیوں میں بہنے والے گندے پانی سے بھی کم قیمت رکھتا ہے ۔ انتہائی دکھ کے ساتھ یہ بات کہنا پڑتی ہے کہ مسلم دنیا کی سب سے مقدس زمین حجاز و یثرب پر قائم آل سعود کی حکومت اسرائیل کے ساتھ یارانہ بنا چکی ہے ۔ یمن میں براہ راست امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ مل کر اپنے ہی کلمہ گو بھائیوں کا قتل عام کر رہی ہے ۔ بحرین ، عرب امارات اور ان کی دیکھا دیکھی کچھ افریقی ممالک بھی اسی راستہ پر چل نکلے ہیں ۔ انہوں نے قدس شریف کا سودا کرنے کی ٹھان رکھی ہے ۔ ان کو انبیاء علیہم السلام کی سرزمین سے کوئی لگاءو باقی نہیں رہا ۔ اب ایسے حالات میں یہ عرب حکمران ہوں یا مغربی حکمران ہوں ، ان میں کوئی فرق باقی نہیں رہا ہے ۔ یہ تاریخی اعتبار سے شاید فلسطینی عوام کے لئے بدترین دور تشبیہ کیا جائے ۔ یہاں ان عرب حکمرانوں کے اس گھناءونے کردار سے نہ صرف فلسطین کی تاریخ کے لئے سیاہ باب ہے بلکہ دنیا کی دیگر مظلوم اقوام کہ جن میں سرفہرست فلسطین کے بعد کشمیری ہیں ، ان کو بھی دھچکا اور گہری چوٹ پہنچ رہی ہے ۔ یہ سوال مقبوضہ کشمیر کی وادی میں جنم لے چکا ہے کہ جن مسلمان اور عرب ممالک نے مغربی ممالک کی تقلید کرتے ہوئے اسرائیل کی پردہ داری شروع کر دی ہے تو اب ان سے کشمیر کے معاملہ پر کیا توقع کی جا سکتی ہے;238; ۔ یقینا مقبوضہ کشمیر کے حریت پسندوں کی یہ تشویش بر حق ہے ۔
حیرت انگیز اور افسوس ناک بات تو یہ ہے کہ عرب دنیا کے حکمرانوں نے اسرائیل کے ساتھ دوستانہ تعلقات کی ابتداء ایک ایسے زمانہ میں شروع کی ہے کہ جب خود صہیونی جعلی ریاست اسرائیل سیاسی طور پر غیر مستحکم نظر آ رہی ہے اور اسی طرح عسکری عنوان سے بھی اب صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کی پوزیشن یہ ہے کہ آخری معرکہ انہوں نے اڑھتالیس گھنٹوں سے زیادہ میدان میں باقی نہیں رہ پائے ۔ اسی طرح حماس اور دیگر فلسطینی مزاحمتی گروہوں نے سیاسی و عسکری میدان میں دن دگنی اور رات چوگنی ترقی حاصل کی ہے ۔ جہاں اسرائیل میں ایک سال میں تین مرتبہ انتخابات ہوئے ہیں وہاں فلسطین کی قانون ساز کونسل کے انتخابات میں حماس اور مزاحمتی گروہوں کی کامیابی نے بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے ۔
ایک طرف صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل ہے کہ جس نے اعلان کر رکھا ہے کہ وہ کسی طور پر بھی اپنے ظالمانہ اقدامات سے رکنے والا نہیں ہے ۔ اس کی بنیادی وجہ شاید امریکہ اور یورپی ممالک سمیت اب عرب دنیا کے حکمرانوں کی جانب سے اسرائیل کی کمر تھپ تھپانا ہو ۔ بہر حال مسلم دنیا کے عرب ممالک کو چاہئیے کہ وہ فلسطینی عوام کی امنگوں کا خیال رکھیں ۔ اگر فلسطین کی مدد نہیں کر سکتے اور کرنا نہیں چاہتے تو کوئی بات نہیں لیکن ان کی پیٹھ پر خنجر بھی نہ گھونپے ۔ عرب دنیا کے حکمرانوں کو چاہئیے کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کرنے اور اس کے ساتھ سفارتکاری کے فیصلے واپس لیں ۔ اس عنوان سے لاطینی امریکہ کے ممالک اگرچہ وہ کئی ممالک سے نسبتا چھوٹے ہیں لیکن پھر بھی انہوں نے اسرائیل سے تعلقات منقطع کرنے کے اقدامات کئے ہیں جو قابلِ تحسین ہے ۔
خلاصہ یہ ہے کہ فلسطین پر صہیونیوں کی ناجائز ریاست اسرائیل کا قیام اس لئے عمل میں لایا گیا تھا تا کہ مغربی ایشیائی ممالک میں مسلمان حکومتوں کو کمزور کر کے اس خطے کے وسائل پر اسرائیل قابض ہو جائے اور گریٹر اسرائیل کے ناپاک منصوبہ کو عملی جامہ پہنا سکے ۔ عالم مغرب نےاس منصوبہ کی تکمیل کے لئے اسرائیل کی ہر ممکنہ مدد جاری رکھی تا کہ اسرائیل محفوظ رہے ۔ بہر حال گذشتہ ستر سالوں میں اب اسرائیل کی صورتحال یہ ہے کہ وہ مسلسل سازشوں اور قتل و غارت گری سمیت قبضوں کے بعد آخر کار اپنے ہی گرد دیواریں قائم کر رہا ہے ۔ یعنی اسرائیل پھیلنے کی بجائے سکڑ رہا ہے ۔ ان سب باتوں سے بڑھ کر آج امریکہ میں یہودیوں کی ایک بہت بڑی تعداد ایسی بھی موجود ہے جو اسرائیل کے وجود کو جعلی تصور کرتی ہے اور فلسطین کو فلسطینیوں کا مانتی ہے ۔ مسئلہ فلسطین اور اس کی حمایت ایک ایسا وسیلہ ہے کہ جس کی مددسے مسلم امہ متحد ہو سکتی ہے بلکہ عالم مغرب کی تمام سازشوں اور جرائم کا منہ توڑ جواب بھی دے سکتی ہے ۔ آج دنیا بھر میں عوام کے جذبات اسرائیل مخالف ہیں ، دنیا کے عوام مظلوم اقوام کے ساتھ ہیں ۔ خوش آئند بات ہے کہ پاکستان میں ہماری نوجوان نسل فلسطینیوں کیساتھ بھرپور اظہار یکجہتی کر رہی ہے ۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے کہ جس نے روز اول سے ہی فلسطین کاز کی حمایت جاری رکھی ہے اور یہ حمایت پاکستان کو بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ;231; کی اصولی و نظریاتی سیاست کے اجزاء سے حاصل ہوئی ہے ۔
اجزائے ترکیبی مقدار
پورا بے بی پوم فریٹ (صاف) 8ٹکڑے
گھی ¼کپ
میری نیشن:
دہی ¼کپ
ادرک لہسن کا پیسٹ 2کھانے کے چمچ
نمک حسب ذائقہ
سرخ مرچ پاؤڈر 1½کھانے کے چمچ
ثابت لال مرچ (کٹی ہوئی) 1چائے کا چمچ
ہلدی پاؤڈر ½چائے کا چمچ
زیرہ پاؤڈر 1چائے کا چمچ
اجوائن 1چائے کا چمچ
گر م مصالحہ پاؤڈر ½چائے کا چمچ
سفید سرکہ 2کھانے کے چمچ
لیموں کا رس 2کھانے کے چمچ
چھڑکاؤ کے لئے :
لیموں کا رس 4کھانے کے چمچ
چاٹ مصالحہ ½کھانے کے چمچ
طریقہ کار:
تیز چاقو سے پوم فریٹ کے دونوں طرف کٹ لگالیں۔ ایک پیالے میں دہی اور میری نیشن کے تمام مصالحے ڈالیں۔ پوم فریٹ کو آدھے گھنٹے کے لئے میری نیٹ کریں۔ کوئلوں کی انگیٹھی پر پکائیں۔ 80 فیصد پکنے تک 6سے 8 منٹ تک پکائیں۔ برش سے گھی لگاتے رہیں ور مزید پکنے تک 2سے 3منٹ پکائیں۔ لیموں کا رس اور چاٹ مصالحہ چھڑکیں۔ پودینے اور دہی کی چٹنی کے ساتھ پیش کریں۔ آپ اسی طرح پوری ٹراؤٹ مچھلی بھی استعمال کرسکتے ہیں۔
مشہور امریکی اقتصادی جریدے فوربز نے مختلف شعبہ جات میں ’30 انڈر 30‘ کی عمر میں نمایاں خدمات سر انجام دینے والے افراد کی مختلف خطوں کی یورپی فہرست جاری کردی جس میں 2 پاکستانی نژاد لڑکیوں سمیت متعدد مسلمان لڑکیاں اور لڑکے بھی شامل ہیں۔
باغی ٹی وی : فوربز کی یورپی فہرست میں کھیل، میڈیا مارکیٹنگ، شوبز، سوشل امپیکٹ اور گیمز سمیت دیگر شعبوں کی فہرست جاری کی گئی ہے۔فوربز کی جانب سے جاری کردہ ہر فہرست میں 30 افراد کو شامل کیا گیا ہے جن کی عمریں 30 سال یا اس سے کم ہیں اور انہوں نے انتہائی مختصر مدت میں نمایاں نام کمایا۔
’فوربز 30 انڈر 30‘ کی یورپی فہرست میں پاکستانی نژاد شیف زہرا خان بھی شامل ہیں، جو لندن میں اپنا کیفے چلاتی ہیں زہرا خان دو بچوں کی ماں بھی ہیں اور انہوں نے اپنے کیفے کو چلانے کے لیے تمام خواتین ملازمین رکھی ہوئی ہیں۔
زہرا خان کے کیفے پر 30 خواتین کل وقتی ملازمت کرتی ہیں اور ان کے کیفے پر نہ صرف روایتی کھانے دستیاب ہوتے ہیں بلکہ ان کے کیفے پر مختلف خطوں کے کھانے بھی دستیاب ہوتے ہیں۔
فوربز کی فہرست میں زہرا خان کو ’ریٹیل ای کامرس‘ کی کیٹیگری میں شامل کیا گیا ہے اور انہیں لندن میں اپنا کیفے کامیابی سے چلانے کی وجہ سے فہرست میں شامل کیا گیا ہے جس کے بعد سے انہیں 150سے زائد فرنچائزز کی جانب سے ساتھ کام کرنے کی آفرزموصول ہورہی ہیں پورے یورپ مڈل ایسٹ یہاں تک کہ پاکستان سے بھی-
مبشر لقمان سے بات کرتے ہوئے زہر ا نے بتایا کہ تھوڑا جلدی سٹارٹ لے لیا تھا اور میرے والدین نے بھی اس حوالے سے بہت سپورٹ کیا کیونکہ میرا خواب تھا کافی شاپ اور بیکری شاپ کھولنا-
انہوں نے کہا کہ والدہ ڈاکٹر ہیں اور وہ مجھے ڈاکٹر بنانا چاہتی تھیں اسی لئے یونیورسٹی تک ڈاکٹری پڑھی ہے اور پھر انہیں کنوینس کیا کہ مجھے یہ پڑھنے دیں اور پھر لندن میں کلنری میں تعلیم اور ٹریننگ مکمل کر کے سائٹس ڈھونڈیں اور دو ڈھائی سال پہلے جیم اسٹریٹ میں سائٹ ملی اور وہاں پر میں نے اپنا کافی شاپ ،فیا ، کھولا-
انہوں نے بتایا کہ جب میری بیٹی پیدا ہوئی تو اس کا نام صوفیہ رکھا تو بیٹی کے نام سے ہی اپناکافی شاپ کھولا کیونکہ بیٹی میرا لکی چارم ہے پھر آہستہ آہستہ ہم نے اپنے اس کام کو وسیع کیا-
زہرہ نے بتایا چونکہ آج کل کی جنریشن کا فوکس انسٹاگرام پر ہے تو ہم نے اپنا مینیو انسٹاگرام ایبل کلر فل ڈیزائن کیا اور ہماری ڈیشز میں بہت محنت ہوتی ہے اس کو ایک چھوٹاسی آرٹ کا حصہ بنایا جاتا ہے اس وجہ سے ہمیں پاپولیرٹی ملی اور لوگ ابھی تک ،فیا ، کے برنچ مینیو اور ڈیشز کے متعلق بات کرتے ہیں-
انہوں نے بتایا کہ ان کے کیفے میں بننے والی ڈیشنز میں وہ آرگینک کلرز اور آرگینک اجزاء استعمال کرتے ہیں –
زہرا کے مطابق نہ صرف ان کے کیفے میں اچھی اچھی ڈیشز بنتی ہیں بلکہ وہ اپنی بیکری پراڈکٹس بھی خود بناتے ہیں اور علاوہ ازیں انہوں نے اپنے کیفے کے نام سے چیرٹی بھی کھول رکھا ہے-
زہرا خان نے نوجوان نسل کو دیئے گئے اپنے پیغام میں کہا کہ جو آپ کا خواب ہے اور جو بھی آپ کرنا چاہتے ہیں وہ ضرور کرو چاہے معاشرہ اس کے خلاف ہی ہو انہوں نے اپنی مثال دیتے ہوئے کہا کہ مجھے شیف بننا تو مجھے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اپنے والدین سے بھی فیملی میں بھی لوگوں سے تو آپ جو کچھ بھی کرنا چاہتے ہیں اس کو ضرور کریں اور پوری محنت سے کرو تا کہ آپ کو بعد میں پچھتاوا نہ ہو کہ آپ یہ کر سکتے تھے کیوں نہیں کیا-
قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم کی اہلیہ اور سماجی کارکن شنیرا پاکستانی معروف اسپورٹس پریزینٹر اور میزبان زینب عباس کو عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کرنے کا موقع ملنے پر خصوصی پیغام دیا ہے-
باغی ٹی وی : زینب عباس کو عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کرنے پرجہاں ملکی و غیر ملکی اسپورٹس شخصیات مبارکباد دے رہے ہیں اور اس نئے سفر کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کررہے ہیں وہیں شنیرا اکرم نے بھی ایک خصوصی پیغام جاری کیا-
شنیرااکرم نے مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر اس حولے سے زینب عباس کو خصوصی پیغام دیتے ہوئے اپنی خوشی کا اظہار کیا اورزینب عباس کے ٹوئٹ کو اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ری ٹوئٹ کرتے ہوئے شنیرا نے لکھا کہ ’ہمارے جھنڈے کو ہمیشہ اونچا لہرانا۔‘
خیال رہے کہ پاکستان کی معروف اسپورٹس پریزنٹر زینب عباس نامور برطانوی ٹی وی چینل اسکائی اسپورٹس پر پاکستان کی نمائندگی کریں گی جبکہ زینب عباس پہلی پاکستانی اسپورٹس پریزنٹر ہیں جنہیں غیر ملکی ٹی وی چینل پر پاکستان کی نمائندگی کرنے کا موقع ملا ہے۔
اسحوالے سے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے زینب عباس کا کہنا تھا کہ میں یہ شئیر کرتے ہوئے بہت پرجوش ہوں کہ میں پاکستان بمقابلہ انگلینڈ سیریز اور اس کے بعد ہونے والے ’دی ہنڈریڈ ٹورنامنٹ‘ کے لیے اسکائی اسپورٹس پر ڈیبیو کروں گی۔‘
ساتھ ہی زینب نے کہا تھا کہ وہ ایک شاندار ٹیم کے ساتھ کام کرنے کی منتظر ہیں۔
اسمارٹ فون ایک ایسی ٹیکنالوجی ہے جسے استعمال کرتے ہوئے انسان دنیا سے بے خبر ہوجاتا ہے، لیکن انسان کا فون میں یہی انہماک کبھی کبھی کسی حادثے کا پیش خیمہ بن جاتا ہے دنیا بھر میں متعدد افراد اسمارٹ فون پر مصروف رہتے ہوئے اکثر و بیشتر کبھی کسی گاڑی سے ٹکرا جاتے ہیں تو کبھی کبھی دیوار یا کبھی کسی بڑے حادثے کا بھی باعث بن جاتےہیں-
باغی ٹی وی :سمارٹ فون کے صارفین کو ایسے ہی حادثات سے بچانے کے لئے ایک ایسی ایپلی کیشن بنائی گئی ہے جو چلتے ہوئے موبائل پر نظریں جمائے رکھنے کے عادی افراد کو سر اٹھانے پر مجبور کردیتی ہے۔
جی ہاں XDA Developers کی جانب سے بنائی گئی اس ایپلی کیشن Heads Up کوگوگل پلے اسٹور سے مفت میں انسٹال کیا جاسکتا ہے۔
یہ ایپلی کیشن ڈیجیٹل ویل بینگ کے زُمرے میں آتی ہے اس ایپ کے اسکرین شاٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر آپ چلتے وقت اس ایپ کو استعمال کر رہے ہیں تو فورا آپ کی موبائل اسکرین پر ایک نوٹیفیکیشن ظاہر ہوگا جس میں آپ کو مختلف پیغامات دیے جائیں گے جیسے کہ’ محتاط رہیے‘،’سامنے دیکھیں‘، وغیرہ وغیرہ۔
اس ایپلی کیشن کے ڈویلپر کے مطابق اس ایپ کو فون کی سیٹنگ میں جا کر سوئچ آن اور سوئچ آف بھی کیا جاسکتا ہے، اسی طرح صارف اپنی مرضی کے مظابق نوٹیفیکیشن کو بند یا اس کے ظاہر ہونے کا وقت بھی مقرر کر سکتا ہے۔ فی الحال اس ایپلی کیشن سے اینڈرائیڈ موبائل فون صارفین ہی مستفید ہوسکتے ہیں۔
پاکستان ٹی وی انڈسٹری کے خوبرو اداکار بلال عباس نے ایک انٹرویو میں اپنی پہلی محبت کے حوالے سے بتادیا۔
باغی ٹی وی : سوشل میڈیا پر بلال عباس اکثر و بیشتر اپنے بارے میں مداحون کو آگاہ کر تے رہتے ہیں جس سے ان کے مداح کافی خوش اور محفوظ ہوتے ہیں تاہم اب اداکار نے اپنی پہلی محبت کے بارے میں بتایا ہے –
اپنے حالیہ انٹرویو میں بلال عباس سے سوال کیا گیا کہ آپ کو زندگی میں پہلی محبت کس سے ہوئی یا آپ کا پہلا کَرش کون تھا؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں زندگی کی پہلی محبت اپنی اسکول کی ٹیچر سے ہوئی تھی۔
واضح رہے کہ بلال عباس ڈرامہ انڈسٹری کے ابھرتے ہوئے باصلاحیت اداکار ہیں، شوبز میں انٹری کے بعد قلیل مدت میں ہی انہوں نے اپنی صلاحیتوں سے اداکاری کی دنیا میں اپنا آپ منوایا اور اپنی ایک خاص پہچان بنا چکے ہیں
بلال عباس متعدد ڈراموں اور ویب سیریز جھوٹی لو اسٹوری میں اداکاری کاری کر چکے ہیں اور آج کل ڈرامہ سیریل ڈنک میں اداکاری کر رہے ہیں –
مسلمانوں کی اسلامی فتوحات پر مبنی ترک سیریز ’ارطغرل غازی‘ میں مرکزی کردار ادا کرنے والے اداکار انجین آلتان نے دنیا بھر کے تمام مسلمانوں کو رمضان المبارک کی آمد کی مبارکباد دی ہے۔
باغی ٹی وی: ارطغرل کے نام سے مشہور ترک اداکار انجین آلتان نے اپنے تصدیق شدہ انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک خصوصی اسٹوری شئیر کی ہے۔
انجین آلتان نے رمضان کی مبارکباد دیتے ہوئے لکھا کہ ’دنیا بھرسے میرے تمام مسلمان بہن بھائیوں کو رمضان مبارک۔‘
یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ ترکی میں 13 اپریل یعنی آج پہلا روزہ ہے۔
واضح رہے کہ ترک ڈرامہ سیریل گزشتہ سال پی ٹی وی پر پاکستانی وزیراعظم کی ہدایت پر اردو میں ڈب کر کے نشر کیا گیا تھا نہ صرف ڈرامے بلکہ اس کے کرداروں کو بھی پاکستان میں خوب پسند کیا گیا ہے جبکہ اس ڈراے نے پاکستان میں مقبولیت میں کے نئے ریکارڈ قائم کئے ہیں-
تاہم ڈرامے کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے اس کی نئی اقساط رمضان المبارک کے دوران نشر کی جائیں گی-
Pakistan Television @PTVHomeOfficial to telecast new episodes of Ertugral @DirilisDizisi daily at 7:45 PM throughout Ramazan. Ertugral series is a great exhibition of culture & Islamic faith – an amazing journey through the phenomenal Turkish history @trtworld. pic.twitter.com/kOLa6Jr0yj
اس حوالے سےسینیٹر فیصل جاوید خان نے گزشتہ روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پراپنی ٹوئٹ میں بتایا تھا کہ پاکستان کے سرکاری ٹی وی چینل پی ٹی وی پر رمضان کے دوران روزانہ شام کو 7:45 منٹ پر ترک ڈرامے ’دیریلش ارطغرل‘ کی نئی اقساط دکھائی جائیں گی۔
پاکستان ٹی وی انڈسٹری کی نامور اداکارہ علیزے شاہ نے انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ طویل عرصے سے ایکنی کے مسائل سے لڑ رہی ہیں۔
باغی ٹی وی : اداکارہ علیزے شاہ نے جلد کے مسائل کے شکار افراد اور خصوصی طور پر کیل مہاسوں جیسے مسائل میں مبتلا خواتین کے لیے ہمت افزا پیغام جاری کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ وہ بھی طویل عرصے سے مذکورہ مسئلے کا شکار ہیں۔
علیزے شاہ نے انسٹاگرام اسٹوری میں ایک پوسٹ اور ویڈیو شیئر کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ وہ طویل عرصے سے کیل مہاسوں (چہرے پر سرخ دانے) سے نبرد آزما ہیں۔
علیزے شاہ نے اپنی انسٹا اسٹوری میں کہا کہ آج میں آپ کو اپنے سب سے بڑے عدم تحفظ کے بارے میں بتانے جارہی ہوں اور وہ یہ ہے کہ میں ایک طویل عرصے سے ایکنی سے لڑ رہی ہوں۔
اداکارہ نے مختصر پوسٹ میں بتایا کہ وہ کافی عرصے سے چہرے پر کیل مہاسوں کے مسئلے سے لڑ رہی ہیں اور ساتھ ہی انہوں نے چہرے پر سرخ دانے دکھائے جانے کی ایک ویڈیو بھی شیئر کی۔
اداکارہ نے کہا کہ ہم میں سے بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ خوبصورت اور صاف جِلد ہی ہماری خوشگوار زندگی کا ایک اہم مقصد اور بنیاد ہے جبکہ میرا خیال اس کے بالکل برعکس ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ ’میرا ماننا یہ ہے کہ ہم کیل مہاسوں کے ساتھ بھی ایک خوشگوار زندگی گُزار سکتے ہیں۔
انہوں نے ایسے مسائل کے شکار افراد کو پیغام دیا کہ وہ کیل مہاسوں کے ساتھ ہی خوش رہنا سیکھیں اور خود سے پیار کریں، تاکہ دوسرے لوگ بھی ان کی خوبصورتی کی تائید کریں۔
علیزے شاہ نے طویل عرصے سے چہرے پر کیل مہاسوں کے ہونے کو اپنے لیے مشکل بھی قرار دیا، تاہم ساتھ ہی لکھا کہ وہ ان کے ساتھ بھی خوش زندگی گزار رہی ہیں۔
خیال رہے کہ زیادہ تر ماہرین صحت کیل مہاسوں کو بڑی بیماری قرار نہیں دیتے، البتہ انہیں جلد کے ایک مسئلے کے طور پر لیا جاتا ہے۔
مشہور امریکی اقتصادی جریدے فوربز نے مختلف شعبہ جات میں ’30 انڈر 30‘ کی عمر میں نمایاں خدمات سر انجام دینے والے افراد کی مختلف خطوں کی یورپی فہرست جاری کردی جس میں 2 پاکستانی نژاد لڑکیوں سمیت متعدد مسلمان لڑکیاں اور لڑکے بھی شامل ہیں۔
باغی ٹی وی : فوربز کی یورپی فہرست میں کھیل، میڈیا مارکیٹنگ، شوبز، سوشل امپیکٹ اور گیمز سمیت دیگر شعبوں کی فہرست جاری کی گئی ہے۔
فوربز کی جانب سے جاری کردہ ہر فہرست میں 30 افراد کو شامل کیا گیا ہے جن کی عمریں 30 سال یا اس سے کم ہیں اور انہوں نے انتہائی مختصر مدت میں نمایاں نام کمایا۔
یورپی فہرست میں شامل ہونے والے زیادہ تر مسلمان افراد غیر یورپی ہیں اور ان کا تعلق مشرق وسطیٰ کے مختلف ممالک سمیت ایشیائی ملک بھارت، پاکستان ،مصر ملائیشیا ،لبنان اور بنگلہ دیش سے بھی ہے ساتھ ہی مذکورہ فہرست میں 2 پاکستانی نژاد لڑکیاں بھی شامل ہیں۔
’فوربز 30 انڈر 30‘ کی یورپی فہرست میں پاکستانی نژاد شیف زہرا خان بھی شامل ہیں، جو لندن میں اپنا کیفے چلاتی ہیں۔
فوربز کی فہرست میں زہرا خان کو ’ریٹیل ای کامرس‘ کی کیٹیگری میں شامل کیا گیا ہے اور انہیں لندن میں اپنا کیفے کامیابی سے چلانے کی وجہ سے فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
فوربز کی جانب سے شائع کردہ ان کے پروفائل کے مطابق زہرا خان دو بچوں کی ماں بھی ہیں اور انہوں نے اپنے کیفے کو چلانے کے لیے تمام خواتین ملازمین رکھی ہوئی ہیں۔
فوٹو بشکریہ فوربز :زہرا خان
زہرا خان کے کیفے پر 30 خواتین کل وقتی ملازمت کرتی ہیں اور ان کے کیفے پر نہ صرف روایتی کھانے دستیاب ہوتے ہیں بلکہ ان کے کیفے پر مختلف خطوں کے کھانے بھی دستیاب ہوتے ہیں۔
فوربز کی جانب سے ایک اور پاکستانی نژاد لڑکی آمنہ اختر کو بھی ’سوشل امپیکٹ‘ کی فہرست میں شامل کیا گیا ہےآمنہ اختر کو ’گرل ڈریمر‘ نامی ادارہ کھولنے اور اس میں ہر نسل، رنگ اور مذہب کی خواتین کو تربیت اور کام کے مواقع فراہم کرنے کی وجہ سے فہرست کا حصہ بنایا گیا۔
فوٹو بشکریہ فوربز:آمنہ اختر
آمنہ اختر کی کمپنی میں اس وقت 1200 کے قریب خواتین اور مرد حضرات کام کر رہے ہیں تاہم ان کی کمپنی کا خاص مقصد خواتین کو خودمختار بنانا ہےآمنہ اختر پاکستانی نژاد والدین کے ہاں برطانیہ میں ہی پیدا ہوئیں اور انہوں نے وہی پر تعلیم حاصل کرنے کے بعد خواتین کی خودمختاری کے لیے کام کیا۔