Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • شوبز شخصیات کے معاوضوں پر قانون سازی کے اعلان کے بعد فنکار فیصل جاوید مشکور

    شوبز شخصیات کے معاوضوں پر قانون سازی کے اعلان کے بعد فنکار فیصل جاوید مشکور

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر اور سینیٹ کی اطلاعات و نشریات کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین فیصل جاوید خان کی جانب سے شوبز شخصیات کے معاوضوں پر قانون سازی کے اعلان کے بعد اداکاروں میں خوشی لی لہر دوڑ گئی-

    باغی ٹی وی : گزشتہ سال فیصل جاوید خان سے قبل وزیر اطلاعات شبلی فراز نے بھی اکتوبر 2020 میں ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ حکومت نے وزیر اعظم کی ہدایات کے مطابق فلم انڈسٹری کی بحالی سے متعلق قانون سازی تیار کرلی ہے اور اسے مارچ 2021 تک نافذ کیا جائے گا۔

    علاوہ ازیں پی ٹی آئی رہنما فردوس عاشق اعوان نے بھی میڈیا سے بات کرتے ہوئے ماضی میں بتایا تھا کہ حکومت نے شوبز انڈسٹری کی بحالی سے متعلق اقدامات اٹھاکر شوبز انڈسٹری کو ایک صنعت کا درجہ دینے سے متعلق اقدامات کرلیے ہیں-

    تاہم اب سینیٹر فیصل جاوید خان کی جانب سے بھی شوبز انڈسٹری کے لیے قانون سازی کرنے کا اعلان کیا گیا، جو کو شوبز شخصیات نے سراہا ہے۔

    فیصل جاوید خان نے رواں ماہ 12 اپریل کو ٹوئٹر پر اپنی دو سلسلہ وار ٹوئٹس میں بتایا تھا کہ وہ پاکستان میں ڈراما و فلم پروڈیوسرز کی جانب سے فنکاروں کو کم معاوضہ یا ڈراموں یا فلموں کے دوبارہ نشر کیے جانے پر انہیں دوبارہ معاوضہ نہ دیے جانے کے مسائل کو حل کرنے کے لیے قانون سازی پر کام کر رہے ہیں۔

    فیصل جاوید خان نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ دنیا کے دوسرے ممالک میں ڈراموں یا فلموں کے دوبارہ نشر ہونے پر اداکاروں کو دوسری مرتبہ معاوضہ ملتا ہے جب کہ تیسری مرتبہ بھی نشر کرنے پر انہیں معاوضہ دیا جاتا ہے۔

    انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان میں ایسا نہیں ہوتا اور ساتھ ہی لکھا کہ ہمارے ہاں تو پہلے ہی بہت سارے فنکاروں کو کام کا یا تو معاوضہ ہی نہیں دیا جاتا یا پھر بہت کم دیا جاتا ہے۔

    فیصل جاوید خان کے مطابق ملک میں ایسا کوئی قانون یا پالیسی نافذ نہیں ہے، جس سے مذکورہ مسائل حل کیے جائیں۔

    انہوں نے اپنی دوسری ٹوئٹ میں لکھا کہ وہ اس سنگین مسئلے کو حل کرنے کے لیے قانون سازی کرنے میں مصروف ہیں اور وہ متعلقہ معاملے پر اسٹیک ہولڈرز سے بھی رابطے میں ہیں۔

    فیصل جاوید خان نے بتایا کہ جلد ہی وہ فنکاروں کو ان کے حقوق دلانے کا قانون سامنے لائیں گے، جس سے فنکاروں کا دیرینہ مسئلہ حل ہوجائے گا اور وہ بہتر معاوضہ حاصل کریں گے۔
    https://twitter.com/SakinaSamo/status/1381551181483413504?s=20


    علی ظفر اور سکینہ سموں سمیت متعدد شوبز شخصیات نے فیصل جاوید خان کی ٹوئٹس پر ان کا شکریہ ادا کرنے سمیت ان کی ٹوئٹس کو شیئر کرتے ہوئے ان کی تعریفیں کیں اور مذکورہ قانون سازی کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔




    خیال رہے کہ گزشتہ چند سال سے مختلف شوبز شخصیات پرانے ڈراموں یا فلموں کو دوبارہ نشر یا ریلیز کرنے پر فنکاروں کو بھی دوبارہ معاوضہ دینے کا مطالبہ کرتے آ رہے ہیں جن میں میکال ذوالفقار ، یاسر حسین اور نائلہ جعفری سر فہرست ہیں-

    کینسر کا شکار نائلہ جعفری کی وائرل ویڈٰیو پر شوبز فنکاروں کا رد عمل

    سندھ حکومت کا کینسر کا شکار نائلہ جعفری کی مالی معاونت کا اعلان

  • عروسہ صدیقی نے اپنا وزن کم کرنے کے سب کو حیران کر دیا

    عروسہ صدیقی نے اپنا وزن کم کرنے کے سب کو حیران کر دیا

    ڈرامہ سیریل ’ٹکے کی آئے گی بارات‘ میں بھاری بھرکم جسم کے ساتھ اپنی اداکاری کے ساتھ شائقین کو متاثر کرنے والی اداکارہ عروسہ صدیقی نے اپنا وزن کر کے سب کو حیران کر دیا-

    باغی ٹی وی : اداکارہ عروسہ صدیقی کی اداکاری کو مداحوں نے موٹاپے میں بھی بہت پسند کیا لیکن اس کے باوجود اداکارہ نے خود کو انڈسٹری میں مزید آگے بڑھانے کے لیے اپنا وزن کم کرنے پر بہت محنت کی اور اب ان کے موٹاپے اور وزن کم کرنے کے بعد کی متعدد تصاویر سوشل میڈیا پر بہت وائرل ہو رہی ہیں۔


    متعدد ڈرامہ سیریلز میں اداکاری کے جوہر دکھانے والی اداکارہ عروسہ صدیقی کو انڈسٹری میں قدم رکھنے کے وقت سے ہی بھاری بھرکم جسم کے ساتھ اداکاری کرتے دیکھا گیا اور ڈرامہ سیریل ’ٹکے کی آئے گی بارات‘ میں ان کی اداکاری نے سب کو بہت متاثر بھی کیا۔

    لیکن اس کے باوجود اداکارہ نے اپنا وزن کم کرنے کی ٹھانی اور پھر ہمت نہ ہاری، تین سال کی مسلسل جدوجہد کے بعد عروسہ صدیقی آج ایک بالکل ہی مختلف روپ میں نظر آتی ہیں۔

    اداکارہ کی جانب سے اپنے انسٹاگرام پر شئیر کی گئی تصاویر کودیگر اداکاروں کی طرح ژالے سرحدی ،حنا الطاف اور منال خان نے بھی عروسہ صدیقی کے وزن کم کرنے کو خوب سراہا-

    کچھ مداحوں نے عروسہ کی کم وزن کے ساتھ تصاویر پر حیرت کا اظہار کیا اور اداکارہ سے وزن کم کرنے کی ٹپس اور ڈائٹ پلان مانگا-

  • فیس بک کی مختلف گروپس کیلئے کمنٹس کی اپ اور ڈاؤن ووٹنگ کے فیچر کی آزمائش

    فیس بک کی مختلف گروپس کیلئے کمنٹس کی اپ اور ڈاؤن ووٹنگ کے فیچر کی آزمائش

    دنیا بھر میں معروف سماجی ویب سائٹ فیس بک مختلف گروپش کے لیے کمنٹس کی اپ اور ڈاؤن ووٹنگ کے آپشن پر کام کررہی ہے۔

    باغی ٹی وی :اس فیچر کے ذریعے کسی گروپ پر جاری مباحثے میں شامل افراد کی رائے کو اپ ووٹ یا ڈاؤن ووٹ دے کر تبصرے کو اہم بناکر بامعنی گفتگو کی جاسکے گی۔

    فیس بک نے نومبر 2020 میں اس پر کام کیا تھا اور اب دوبارہ اس کی آزمائش کی جارہی ہے اس طرح کسی کی رائے کو قابلِ قدر یا غیراہم قرار دینے میں مدد ملے گی۔

    سوشل میڈیا کے ماہر جوہانس وان زِل نے اپنے بلاگ میں اس کی نشاندہی کی ہے۔ لیکن یہ معلوم نہیں کہ آیا یہ آپشن کب پیش کیا جائے گا اور اس کی اندرونی آزماش کب تک جاری رہے گی۔

    بعض تجزیہ نگاروں نے فیس بک کے نئے آئکن کی بنا پر انہیں شناخت کیا ہے اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ اس طرح کسی پوسٹ پر کمنٹس کو ’مفید‘ اور ’معلوماتی‘ قرار دیا جاسکتا ہے یا پھر اسے غیراہم قرار دینے میں بھی مدد مل سکتی ہے تاہم فیس بک ورک پلیس پر اپ اور ڈاؤن کمنٹس کا آپشن پہلے سے ہی موجود ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل 2018 میں بھی فس بک گروپ کی بجائے انفرادی صارفین کی پوسٹ پر بھی اپ اور ڈاؤن ووٹنگ کی سہولت کا تجربہ کیا گیا تھا۔

    اس وقت فیس بک کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اس فیچر کو آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں آزما کر دیکھا جارہا ہے کہ یہ لوگوں کے لیے کتنا مفید ثابت ہوتا ہے۔

    ترجمان کا کہنا تھا کہ اس فیچر کے ذریعے لوگوں کو بامقصد کمنٹس کو اوپر لانے میں مدد دے گا جبکہ انہیں مناسب نہیں لگا تو اسے نیچے بھی دھکیل سکتے ہیں، جبکہ اس سے کسی صارف کی نیوزفیڈ یا دوستوں سے بات چیت بھی متاثر نہیں ہوگی۔

    اگرچہ فیس بک نے اسے ترک کردیا تھا لیکن کمپنی کی دوبارہ اس آپشن میں دلچسپی سے معلوم ہوا ہے کہ فیس بک اس آپشن کو بطور کمنٹ ماڈریشن استعمال کرنا چاہتا ہے تاہم فیس بک نے اس کی مزید تفصیلات نہیں بتائی ہیں-

  • بالی ووڈ سُپر اسٹارز کی اداکاری بناوٹی ہوتی ہے  نوازالدین صدیقی

    بالی ووڈ سُپر اسٹارز کی اداکاری بناوٹی ہوتی ہے نوازالدین صدیقی

    بالی ووڈ کے معروف اداکار نواز الدین صدیقی کا کہنا ہے کہ بالی ووڈ کے تمام سپراسٹار حقیقی اداکاری کی بجائےجعلی اداکاری کرتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق نواز الدین صدیقی نے بالی ووڈ کے اداکاروں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بہترین اداکاری کی وجہ سے کہلائے جانے والے بالی ووڈ کے سپر اسٹار حقیقی اداکاری کے بجائے بناوٹی اداکاری کرتے ہیں۔

    نواز الدین صدیقی نے اداکاری میں شوق رکھنے والے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنے تجربے سے یہ کہوں گا کہ اگر آپ لوگوں کو اداکاری کرنی ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ آپ اپنے اندر چھپے حقیقی اداکار کو سامنے لائیں، بجائے اس کے کہ آپ کسی اور سے متاثر ہو کر اس کی طرح اداکاری کریں۔

    انہوں نے کہا کہ سپراسٹار جعلی اداکاری کرتے ہیں تو ان کی پیروی نہ کریں، نئے اداکار خود سے کچھ منفرد کرکے دکھائیں کیوںکہ لوگ آپ کی اداکاری دیکھنا چاہتے ہیں اگر آپ کسی سپراسٹار کی طرح ہی اداکاری کریں گے تو پھر لوگ آپ کو کیوں دیکھیں گے لیکن اگر آپ اداکاری کے فن کو قدرتی صلاحیتوں کے ساتھ دکھائیں گے تو لوگوں کی تمام تر توجہ آپ پر ہی ہوگی اور ایسے اداکاروں کو لوگ دیکھنا بھی پسند کرتے ہیں۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل اپنے ایک انٹر ویو میں نواز الدین صدیقی کا کہنا تھا کہ ابتداء سے بالی ووڈ میں یہ تاثر رہا ہے کہ سپر ہٹ فلم کرنے والے کو اچھا اداکار سمجھا جاتا ہے صرف اسے ہی بہتر اداکار سمجھا جاتا ہے جو 100 کرو کا بزنس کرے لیکن مجھے ایسا لگتا ہے کہ مجھے بھی کچھ اس طرح کی فلموں میں کام شروع کردینا چاہیے جوکہ کامیڈی کے تڑکے سے بھرپور ہوں لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ میں ہمیشہ ویسی ہی فلم کرتا ہوں جس پر مجھے پورا یقین اور اعتماد ہوتا ہے لیکن اس طرح کی فلمیں بہت ہی کم دیکھی جاتی ہیں۔

  • احتجاج کے شرعی آداب   بقلم :عمران محمدی

    احتجاج کے شرعی آداب بقلم :عمران محمدی

    احتجاج کے شرعی آداب

    بقلم
    عمران محمدی
    ( عفا اللہ عنہ )

    =============

    وطن عزیز پاکستان میں توڑ پھوڑ، جلاؤ گھیراؤ اور قتل و غارت کا سلسلہ بڑھی تیزی سے پروان چڑھتا جا رہا ہے، سیاست اور مذہب کے نام پر نوجوانوں کو ورغلا کر ان کے جذبات کو غلط جگہ استعمال کرنا تو گویا فنکاروں کے دائیں ہاتھ کا فن ہے

    وطن عزیز پاکستان میں احتجاجی مظاہروں، دھرنوں، ریلیوں لانگ مارچ اور بڑے بڑے سیمینارز کا سلسلہ تقریباً پورا سال ہی جاری و ساری رہتا ہے
    جن میں سے بعض مستقل اور بعض ہنگامی ہوتے ہیں اور بعض مذہبی اور بعض سیاسی نوعیت کے ہوتے ہیں
    جن میں لوگوں کی کثیر تعداد اپنے گھروں سے نکل کر باہر سڑکوں پر اپنی مذہبی اور سیاسی وابستگی کا اظہار کرتی ہے،

    یہ مظاہرے اپنے مظاہرین کے عقائد و نظریات اور حقوق کے ترجمان ہوتے ہیں
    احتجاجی مظاہرے کے انداز اور اسٹائل سے ہی متعلقہ افراد کے اخلاق و کردار کا اندازہ ہوتا ہے اور ان کا چہرہ کھل کر سامنے آتا ہے کہ آیا یہ لوگ پر امن شہری ہیں یا پر تشدد ذہنیت کے حامل ہیں

    یہ دھرنے اور احتجاج خواہ مذہبی ہوں یا سیاسی مجموعی طور پر ان کا چہرہ مایوس کن اور انتہائی غیر مناسب ہے
    مد مقابل کی عزت و حرمت سے کھیلنا
    املاک کو نقصان پہنچانا
    دکانیں جلانا
    سڑکوں پر ٹائر جلا کر بلاک کرنا
    گاڑیوں کو نظر آتش کرنا
    انسانی جانوں سے کھیلنا
    الغرض کہ دھرنے کی دنیا میں یہ سب کچھ جائز سمجھ لیا جاتا ہے الا کہ کسی کو اللہ تعالٰی نے عقل و دانش سے کام لینے کی توفیق دے رکھی ہو

    سو ہم اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ ایک مسلم کی جان، مال اور عزت کی کیا اہمیت ہے اور احتجاجی دھرنوں کے شرعی اصول و ضوابط کیا ہیں

    احتجاج کرنے کے شرعی آداب

    احتجاج کرنا انسان کی جبلت میں شامل ہے اور اس کا پیدائشی حق ہے
    بچہ دنیا میں آتے ہی احتجاج کرتا ہے
    جب تک بچہ روئے نہیں ماں دودھ نہیں دیتی

    اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ اپنے جائز حقوق منوانے، امت مسلمہ کے مفادات، اسلامی شعائر اور ارکان اسلام کے دفاع کے لیے اگر احتجاج اور دھرنا ناگزیر ہو جائے تو پھر احتجاج کرنے، دھرنا دینے اور لانگ مارچ کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے، ایسا کیا جا سکتا ہے اور بعض اوقات احتجاجی مظاہرے نا صرف یہ کہ جائز بلکہ واجب اور ضروری ہو جاتے ہیں

    غیرت اسلامی کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ جب بھی اور جہاں کہیں بھی ”احتجاج“ کی ضرورت محسوس ہو، ضرور کیا جائے تاکہ اپنے جذبہ ایمانی کا اعلان ہوسکے اور کل روز قیامت ہم یہ کہہ سکیں کہ جب کبھی بھی اسلام یا اسلامی اقدار کے خلاف کوئی عمل ہوا، ہم نے مقدور بھر اس کے خلاف آواز بلند کی

    لیکن کسی بھی قسم کے احتجاج کے دوران کبھی بھی کوئی ایسا عمل نہیں کرنا چاہئے جو اسلامی تعلیمات کے خلاف ہو اور یہ خیال رکھنا بھی بہت ضروری ہے کہ کہیں دوران احتجاج جذبات کی لہر میں بہتے ہوئے شرعی حدود سے متجاوز نہ ہو جائیں
    احتجاجی مظاہروں کے لیے چند اھم امور مد نظر رکھنا ضروری ہیں

    احتجاج کے لیے پر امن اور مہذب طریقہ اپنایا جائے

    جاہلوں، بدؤں اور بد تمیز لوگوں سا انداز ہر گز نہ اپنایا جائے
    اللہ تعالٰی فرماتے ہیں
    ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ السَّيِّئَةَ ۚ
    (سورة المؤمنون 96)
    ” آپ برائی کو احسن (سب سے بہتر) طریقہ سے دفع کریں۔”

    مثال کے طور پر پریس کانفرنس احتجاج ریکارڈ کرانے کا ایک سلجھا طریقہ ہے

    احتجاج کریں مگر گالی مت دیں

    اپنی زبان سے ”مجرموں“ کے خلاف گالم گلوچ یا نازیبا الفاظ نہیں ادا کرنا چاہئے بلکہ تقریر و تحریر میں اخلاقی قدروں میں رہتے ہوئے مجرموں کے اقدامات کی مذمت کی جائے
    نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا
    لَيْسَ الْمُؤْمِنُ بِالطَّعَّانِ وَلَا اللَّعَّانِ وَلَا الْفَاحِشِ وَلَا الْبَذِيءِ
    مومن بہت زیادہ لعن طعن کرنے والا، فحش گو اور بدزبان نہیں ہوتا
    ترمذی

    احتجاج میں فساد فی الارض نہ ہو

    مظاہروں اور جلوسوں کے دوران سرکاری و غیر سرکاری املاک کو نقصان نہیں پہنچانا چاہئے۔ بلکہ اگر ”مجرمان سے متعلقہ املاک“ بھی ہماری دسترس میں آجائیں تو انہیں بھی نقصان نہیں پہنچایا جاسکتا۔ توڑ پھوڑ اور پولس یا انتظامیہ پر پتھراؤ وغیرہ کرنا بالکل غلط ہے

    اللہ تعالٰی فرماتے ہیں
    وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ …
    (سورة الأعراف 56)
    ” اور زمین میں فساد برپا نہ کرو

    وَاللَّہ ُلَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ
    ﴿ سورة آل عمران: 5 ﴾
    اللہ تعالٰی ظالموں کو پسند نہیں کرتے

    احتجاج، اسلام اور اہلیان اسلام کی بدنامی کا باعث نہ بنے

    دوران احتجاج ایسا کچھ بھی نہ کیا جائے کہ سیکولر لابی کو باتیں کرنے کا موقع ملے
    یا اسلام کا غلط چہرہ دنیا کے سامنے ظاہر ہو
    یا یہ کہ اس سے بڑا کوئی اور ’’منکر‘‘ جنم نہ لے

    کیونکہ پھر یہ احتجاج دفاع اسلام نہیں بلکہ اسلامیان کے لیے ایک نئے فتنے اور کئی طرح کی مشکلات کا پیش خیمہ ثابت ہو گا

    وَالْفِتْنَةُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ …
    (سورة البقرة 119)
    ” اور فتنہ قتل سے زیاده سخت ہے”

    لہذا حرمت رسول اور دین اسلام کی حفاظت کرتے کرتے حرمتِ دینِ رسول پامال نہ کیجئے

    دوران احتجاج اگر کسی کی گاڑی جلا دی گئی یا دکان جلا دی گئی یا اس کی کسی اور چیز کو نقصان پہنچا دیا گیا تو یہ ایسے ہی ہے گویا اس شخص کو ہمیشہ ہمیش کے لیے مذہب اور اہلیان مذہب سے متنفر کردیا گیا ہےسوچئے کہ یہ کتنا بڑا فتنہ و فساد ہےکیا یہ اسلام کی خدمت ہوگی یا اسلام سے دشمنی

    دوران احتجاج راستے مت روکے جائیں

    احتجاج سے ٹریفک میں خلل نہیں پڑنا چاہئے اور نہ ہی راستہ بلاک کرکے عام شہریوں کو مشکلات میں ڈالنا چاہئے

    جیسا کہ ایک حدیث مبارکہ میں ہے
    عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : غَزَوْتُ مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ كَذَا وَكَذَا، فَضَيَّقَ النَّاسُ الْمَنَازِلَ، وَقَطَعُوا الطَّرِيقَ، فَبَعَثَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنَادِيًا يُنَادِي فِي النَّاسِ : ” أَنَّ مَنْ ضَيَّقَ مَنْزِلًا أَوْ قَطَعَ طَرِيقًا فَلَا جِهَادَ لَهُ ".

    کہ ایک دفعہ جہادی سفر کے دوران لوگوں نے راستے بلاک کر دیے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے لوگوں میں اعلانات کروادیے کہ جس نے راستے بلاک کیے اس کا کوئی جہاد نہیں ہے
    حكم الحديث: حسن

    حتی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے راستوں پر بیٹھنے سے بھی منع کردیا فرمایا

    ایاکم والجلوس علی الطرقات
    راستوں میں مت بیٹھا کرو

    راستے بلاک ہونے کی وجہ سے روزانہ اجرت پر کام کرکے کھانے والےغریب و مسکین کام نہیں کرسکتے لہذا وہ اور انکے بچے بھوکے رہنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

    بیمار علاج کیلئے بھی نہیں جا سکتے۔ بے شمار لوگ اذیت میں دن گزارتے ہیں اور اسی طرح مسلمانوں کی اکثریت کو اذیت پہنچتی ہے اور مسلمانوں کو ایذا پہنچانا کبیرہ گناہ ہے

    فرمایا
    وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُّبِينًا
    (الأحزاب:۵۸)
    ” اور وہ لوگ جو ناحق مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایذا پہنچاتے ہیں انھوں نے یقیناً بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اٹھا یا۔”

    احتجاج روڈ بلاک کیے بغیر بھی ہو سکتا ہے۔
    سڑک کے کنارے کھڑے ہوکر بھی مظاہرہ ہوسکتا ہے
    عجیب بات ہے کہ ہمیں راستہ روکے بغیر احتجاج کا کوئی طریقہ سجھائی نہیں دے رہا۔

    ڈبل سڑکوں پہ ایک جانب بند کر لیں تاکہ دوسری طرف ٹریفک بحال رہے۔

    احتجاج کو بغاوت و خروج کا جامہ مت پہنایا جائے
    احتجاج کے لیے نکلنے سے پہلے اپنے کارکنان کو خوب اچھی طرح بریف کریں
    کہ
    احتجاج کرنا ہے بدمعاشی نہیں کرنی
    احتجاج کا مقصد حکومت تک اپنی بات پہنچانا ہے, بغاوت کرنا نہیں

    دوران احتجاج کسی بھی حکومتی وغیر حکومتی عہدیدار کی تکفیر مت کریں، کسی بھی انسان کے قتل کے فتوے مت جاری کریں اور نہ ہی عوام الناس اور کارکنان کو جوش دلائیں کہ فلاں فلاں شخص اگر آپ کو کہیں مل جائے تو اسے قتل کر دیا جائے

    اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے کہ:

    یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰہِ شُہَدَآءَ بِالْقِسْطِ وَلاَ یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓی اَلَّا تَعْدِلُوْا اِعْدِلُوْا ہُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی وَاتَّقُوا اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ.(۸)
    ’’ ایمان والو، اللہ کی خاطر عدل وانصاف کے گواہ بن کر کھڑے ہو جاؤ، اور ایسا نہ ہو کہ کسی قوم کے ساتھ دشمنی تمھیں برانگیختہ کر کے ناانصافی پر آمادہ کردے۔ عدل پر قائم رہو، یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ تمھارے اعمال کی پوری پوری خبر رکھنے والا ہے۔‘

    احتجاج کے دوران افراتفری، توڑ پھوڑ، ہنگامہ آرائی اور جلاؤ گھیراؤ کا سا ماحول بنا کر معاشرے میں دہشت نہ پھیلائی جائے

    جیسا کہ حدیث میں آیا ہے
    عَنْ عَبْدﷲِ بْنِ عُمَرَ رضی اﷲ عنهما قَالَ: کُنَّا قُعُودًا عِنْدَ رَسُولِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم فَذَکَرَ الْفِتَنَ، فَأَکْثَرَ فِي ذِکْرِهَا حَتَّی ذَکَرَ فِتْنَةَ الْأَحْلَاسِ. فَقَالَ قَائِلٌ: يَا رَسُولَ اﷲِ! وَمَا فِتْنَةُ الْأَحْلَاسِ؟ قَالَ: هِيَ هَرَبٌ وَحَرْبٌ.
    أبوداود، السنن،کتاب الفتن والملاحم، باب ذکر الفتن، 4: 94، رقم: 4242

    ’’حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتنوں کا ذکر فرمایا۔ پس کثرت سے ان کا ذکر کرتے ہوئے فتنہ احلاس کا ذکر فرمایا۔کسی نے سوال کیا کہ یا رسول اﷲ! فتنہ احلاس کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ وہ افراتفری، فساد انگیزی اور قتل و غارت گری ہے۔‘‘

    نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا
    إِنَّﷲَ يُعَذِّبُ الَّذِينَ يُعَذِّبُونَ النَّاسَ فِي الدُّنْيَا.
    مسلم، الصحيح، کتاب البر والصلة والآداب، باب الوعيد الشديد لمن عذب الناس بغير حق، 4 : 2018، رقم : 2613
    اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو عذاب دے گا جو دنیا میں لوگوں کو اذیت و تکلیف دیتے ہیں

    اسی طرح حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

    المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده.
    (بخاری، الصحيح، باب من سلم المسلمون، رقم11

    ’’مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں‘‘۔

    سورۃ البروج کی آیت نمبر دس (10) میں اللہ تعالٰی فرماتے ہیں
    اِنَّ الَّذِيْنَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ لَمْ يَتُوْبُوْا فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمْ عَذَابُ الْحَرِيْقِ
    (بے شک جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو اذیت دی پھر توبہ (بھی) نہ کی تو ان کے لیے عذابِ جہنم ہے اور ان کے لیے (بالخصوص) آگ میں جلنے کا عذاب ہے)

    دوران احتجاج اسلحہ کی بے جا نمائش مت کریں

    حالیہ مظاہروں کے دوران ایسے بہت سے مناظر دیکھنے کو ملے ہیں
    حتی کہ ایک صاحب نے تو ننگی تلوار ہاتھ میں پکڑ رکھی تھی
    جبکہ اس سلسلے میں اسلامی تعلیمات ملاحظہ فرمائیں

    ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرو ی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

    لَا يُشِيرُ أَحَدُکُمْ إِلَی أَخِيهِ بِالسِّلَاحِ، فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَحَدُکُمْ لَعَلَّ الشَّيْطَانَ يَنْزِعُ فِي يَدِهِ، فَيَقَعُ فِي حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ.

    مسلم، الصحيح، کتاب البر والصلة والآداب، باب النهي عن إشارة بالسلاح، 4: 2020، رقم: 2617
    ’’تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی طرف ہتھیار سے اشارہ نہ کرے، تم میں سے کوئی نہیں جانتا کہ شاید شیطان اس کے ہاتھ کو ڈگمگا دے اور وہ (قتلِ ناحق کے نتیجے میں) جہنم کے گڑھے میں جا گرے۔‘‘

    اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    مَنْ أَشَارَ إِلَی أَخِيهِ بِحَدِيدَةٍ، فَإِنَّ الْمَلَائِکَةَ تَلْعَنُهُ حَتَّی يَدَعَهُ، وَإِنْ کَانَ أَخَاهُ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ.

    مسلم، الصحيح، کتاب البر والصلة والآداب، باب النهي عن إشارة بالسلاح، 4: 2020، رقم: 2616

    ترمذی، السنن، کتاب الفتن، باب ما جاء في إشارة المسلم إلی أخيه بالسلاح، 4: 463، رقم: 2162
    ’’جو شخص اپنے بھائی کی طرف ہتھیار سے اشارہ کرتا ہے فرشتے اس پر اس وقت تک لعنت کرتے ہیں جب تک وہ اس اشارہ کو ترک نہیں کرتا خواہ وہ اس کا حقیقی بھائی(ہی کیوں نہ) ہو۔‘‘

    حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ:

    نَهَی رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم أَنْ يُتَعَاطَی السَّيْفُ مَسْلُولًا.
    ترمذی، ابو داؤد
    ’’رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ننگی تلوار لینے دینے سے منع فرمایا۔‘‘

    ________
    اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک ایک مسلمان کی عزت، مال اور جان کی حرمت

    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    وَلَا تَعۡثَوۡا فِى الۡاَرۡضِ مُفۡسِدِيۡنَ‌ۚ
    اور زمین میں فساد کرتے ہوئے دنگا نہ مچاؤ۔

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللَّهِ حجاب
    ( بخاری )
    مظلوم کی بددعا سے بچیں کیونکہ اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان پردہ نہیں ہے

    کسی مسلم کو حقیر سمجھنا حرام ہے
    نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «بِحَسْبِ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ يَحْقِرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ»
    [مسلم: 2564]
    "کسی آدمی کے برا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کی تحقیر کرے ۔”

    آپﷺ نے ایک اور موقعہ پر فرمایا:
    المسلم اخوالمسلم لا یظلمہ ولا یخذلہ ولا یحقرہ

    مسلمان مسلمان کا بھائی ہے اس پر ظلم نہیں کرتا نہ اسے اکیلا چھوڑتا ہے اور نہ اس کی تحقیر کرتا ہے
    بخاری و مسلم

    مسلمان کی حرمت کعبہ کی حرمت کی طرح ہے
    حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر انسانی جان ومال کے تلف کرنے اور قتل و غارت گری کی خرابی و ممانعت سے آگاہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :
    إِنَّ دِمَائَکُمْ وَأَمْوَالَکُمْ وأعْرَاضَکُمْ عَلَيْکُمْ حَرَامٌ، کَحُرْمَةِ يَوْمِکُمْ هذَا، فِی شَهْرِکُمْ هٰذَا، فِی بَلَدِکُمْ هٰذَا، إِلَی يَوْمِ تَلْقَوْنَ رَبَّکُمٍْ.
    بخاری و مسلم

    بے شک تمہارے خون اور تمہارے مال اور تمہاری عزتیں تم پر اِسی طرح حرام ہیں جیسے تمہارے اِس دن کی حرمت تمہارے اِس مہینے میں اور تمہارے اِس شہر میں (مقرر کی گئی)ہے اُس دن تک جب تم اپنے رب سے ملو گے۔

    حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنھما سے مروی ہے کہ انہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خانہ کعبہ کا طواف کرتے دیکھا اور یہ فرماتے سنا:
    مَا أَطْيَبَکِ وَأَطْيَبَ رِيحَکِ، مَا أَعْظَمَکِ وَأَعْظَمَ حُرْمَتَکِ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَحُرْمَةُ الْمُوْمِنِ أَعْظَمُ عِنْدَ اﷲِ حُرْمَةً مِنْکِ مَالِهِ وَدَمِهِ، وَأَنْ نَظُنَّ بِهِ إِلَّا خَيْرًا.
    ابن ماجه، السنن، کتاب الفتن، باب حرمة دم المؤمن وماله، 2: 1297، رقم: 3932
    (اے کعبہ!) تو کتنا عمدہ ہے اور تیری خوشبو کتنی پیاری ہے، تو کتنا عظیم المرتبت ہے اور تیری حرمت کتنی زیادہ ہے، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! مومن کے جان و مال کی حرمت اﷲ کے نزدیک تیری حرمت سے زیادہ ہے اور ہمیں مومن کے بارے میں نیک گمان ہی رکھنا چاہئے۔‘‘

    مسلمانوں کی عزت، مال اور جان سب کے سب دوسروں پر حرام ہیں

    نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا
    کُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَی الْمُسْلِمِ حَرَامٌ دَمُہٗ وَمَالُہٗ وَعِرْضُہٗ
    (مسلم ، کتاب البر والصلۃ، باب تحریم  ظلم المسلم ۔۔۔الخ،ص ۱۳۸۶،حدیث:۲۵۶۴)
    یعنی ہر مسلمان کا خون ،مال اور عزت دوسرے مسلمان پر حرام ہے ۔

    کسی کی ملکیت پر نا جائز قبضہ کرنے کا خوفناک انجام
     
    نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا
    مَنْ اقْتَطَعَ شِبْرًا مِنْ الْأَرْضِ ظُلْمًا طَوَّقَهُ اللَّهُ إِيَّاهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ 
    مسلم
    جو شخص کسی کی ایک بالشت زمین پر نا جائز قبضہ کرتا ہے اللہ تعالٰی اسے قیامت کے دن سات زمینوں کا طوق پہنائیں گے

    کسی کو ناحق قتل کرنے کی سنگینی

    قرب قیامت کئی فتنے ظاہر ہونگے جن میں سے ایک قتل و غارت بھی ہے

    نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا
    يَتَقَارَبُ الزَّمَانُ وَيَنْقُصُ العِلْمُ وَيُلْقَی الشُّحُّ وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ وَيَکْثُرُ الْهَرْجُ. قَالُوا: يَا رَسُولَ اﷲِ، أَيُمَا هُوَ؟ قَالَ: الْقَتْلُ، الْقَتْلُ.
    بخاری و مسلم
    ’’ زمانہ قریب ہوتا جائے گا، علم گھٹتا جائے گا، بخل پیدا ہو جائے گا، فتنے ظاہر ہوں گے اور ہرج کی کثرت ہو جائے گی۔ لوگ عرض گزار ہوئے کہ یا رسول اللہ! ہرج کیا ہے؟ فرمایا کہ قتل، قتل (یعنی ہرج سے مراد ہے: کثرت سے قتلِ عام)۔‘‘

    مسلمان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے مترادف

    قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    مَنْ قَتَلَ نَفْسًام بِغَيْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيْعًا.
    المائدة، 5: 32
    ’’جس نے کسی شخص کو بغیر قصاص کے یا زمین میں فساد (پھیلانے کی سزا) کے (بغیر، ناحق) قتل کر دیا تو گویا اس نے (معاشرے کے) تمام لوگوں کو قتل کر ڈالا۔‘‘

    عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
    لَزَوَالُ الدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَی اﷲِ مِنْ قَتْلِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ.
    (ترمذی، نسائی، ابن ماجہ)
    اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک مسلمان شخص کے قتل سے پوری دنیا کا ناپید (اور تباہ) ہو جانا ہلکا (واقعہ) ہے

    قیامت کے دن سب سے پہلے قتل کا حساب ہوگا

    حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خونریزی کی شدت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

    أَوَّلُ مَا يُقْضَی بَيْنَ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي الدِّمَاء.
    بخاری و مسلم
    ’’قیامت کے دن لوگوں کے درمیان سب سے پہلے خون ریزی کا فیصلہ سنایا جائے گا۔‘‘

    قاتل کے کسی بھی قسم کے نیک اعمال قبول نہیں ہوتے

    حضرت عبد اﷲ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

    مَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا فَاعْتَبَطَ بِقَتْلِهِ لَمْ يَقْبَلِ اﷲُ مِنْهُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا.
    جس شخص نے کسی مومن کو ظلم سے ناحق قتل کیا تو اﷲ تعالیٰ اس کی کوئی نفلی اور فرض عبادت قبول نہیں فرمائے گا۔
    ابو داؤد

    قاتل کی سزا دائمی جہنم ہے

    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًاo

    ’’اور جو شخص کسی مسلمان کو قصداً قتل کرے تو اس کی سزا دوزخ ہے کہ مدتوں اس میں رہے گا اور اس پر اللہ غضب ناک ہوگا اور اس پر لعنت کرے گا اور اس نے اس کے لیے زبردست عذاب تیار کر رکھا ہے‘‘

    حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مومن کے قاتل کی سزا جہنم بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

    لَوْ أَنَّ أَهْلَ السَّمَائِ وَأَهْلَ الْأَرْضِ اشْتَرَکُوْا فِي دَمِ مُؤْمِنٍ لَأَکَبَّهُمُ اﷲُ فِي النَّارِ.
    ترمذي، کتاب الديات، باب الحکم في الدماء، 4: 17، رقم: 1398
    ’’اگر تمام آسمانوں و زمین والے کسی ایک مومن کے قتل میں شریک ہو جائیں تب بھی یقینا اللہ تعالیٰ ان سب کو جہنم میں جھونک دے گا۔‘‘

    مزید فرمایا
    إِنَّ مِنْ وَرَطَاتِ الْأُمُوْرِ الَّتِي لَا مَخْرَجَ لِمَنْ أَوْقَعَ نَفْسَهُ، فِيْهَا سَفْکَ الدَّمِ الْحَرَامِ بِغَيْرِ حِلِّهِ.

    بخاري، الصحيح، کتاب الديات، باب ومن قتل مؤمنا متعمدًا فجزاؤه جهنم، 6: 2517، رقم: 6470
    ’’ہلاک کرنے والے وہ اُمور ہیں جن میں پھنسنے کے بعد نکلنے کی کوئی سبیل نہ ہو، اِن میں سے ایک بغیر کسی جواز کے حرمت والا خون بہانا بھی ہے۔‘‘

  • مومنین اور رمضان المبارک     تحریر:حافظ امیر حمزہ سانگلوی

    مومنین اور رمضان المبارک تحریر:حافظ امیر حمزہ سانگلوی

    مومنین اور رمضان المبارک

    تحریر:حافظ امیر حمزہ سانگلوی

    ماہ صیام کی آمد آمد ہے۔مومن مسلمان خوشی سے باغ باغ ہیں۔اس کی رحمتوں اور برکات کو سمیٹنے کے لیے کمر کسی ہوئی ہے۔گویا کہ ایسے لوگوں پر خدا تعالیٰ کی رحمت و برکت بھرپور برسنے کو تیار ہے یعنی جیسے ہی رمضان المبارک کا چاند نظر آئے مومنین پر رحمت کی بارش بذات خود خوب برسنے کو بے تاب ہے۔یہ کوئی عام مہینہ نہیں بلکہ ماہ رمضان المبارک نزول قرآن کا مہینہ ہے، رب العزت کی مومنین کے لیے بنائی گئی پیاری جنت میں داخلے اور جہنم سے آزادی و چھٹکارا پانے کا مہینہ ہے۔ لوگوں کے لیے ہدایت و رہنما کتاب قرآن مجید کی کثرت سے تلاوت کرنے کا مہینہ ہے۔ فرائض کے علاوہ نوافل کو کثرت سے پڑھنے اور صدقات و خیرات کو تیز آندھی کی طرح کرنے کا مہینہ ہے۔ یوں سمجھ لیں کہ ہر قسم کی عبادات کا ایک نیکیوں کا موسم بہار ہے۔جس کے آنے سے پوری دنیا کے ہر کونے میں زندگی بسر کرنے والے مسلمان اپنے اپنے ایمان اور تقویٰ کے مطابق ان بابرکت ایام میں اپنے خالق حقیقی کی رضامندی حاصل کرنے اور بندگی کا حق ادا کرتے ہیں۔

    رمضان المبارک کے مہینے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے بخشش و رحمت کے دروازے کھولے ہوتے ہیں۔حدیث مبارکہ میں وارد ہوا ہے کہ رمضان المبارک شروع ہوتے ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمتوں اور برکتوں کا نزول شروع ہو جاتا ہے۔ جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں۔ سرکش شیطانوں کو قید کر دیا جاتا ہے۔ ایک روایت میں ہے رحمت کے دروازے کھولے جاتے ہیں۔ جنت کے آٹھ دروازے ہیں ان میں سے ایک دروازے کا نام ”ریان”ہے۔ اس دروازے سے صرف روزہ دار ہی داخل ہوں سکیں گے۔

    ان ایام میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایک فرشتے کی ڈیوٹی لگا دی جاتی ہے،جو کہ اپنے انداز سے لوگوں کو آواز لگاتا ہے۔ اے بھلائی کے چاہنے والے! جلدی کر،یہ وقت بڑا غنیمت ہے، اتنا بڑا اجر کسی دوسرے وقت میں نہیں ملے گا۔ اے برائی کرنے والے اب تو رک جا کہ یہ وقت عذاب الٰہی کو دعوت دینے کا نہیں ہے۔ پھر جو لوگ نیکی کرتے ہیں اور برائی کرنے سے رکے رہتے ہیں ان کو آگ سے یعنی جہنم سے آزاد کر دیا جاتا ہے۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت شروع سال سے لے کر آئندہ سال تک سجائی جاتی ہے۔ جب رمضان شریف کا پہلا دن ہوتا ہے تو عرش کے نیچے سے ایک ہوا جنت کے پتوں کو سرسراتی ہوئی حوروں تک پہنچتی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ اے ہمارے رب! ہمارے لیے اپنے بندوں میں سے خاوند بنا دے جن سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی رہیں۔ ایک اور مقام پر فرمایا: رمضان المبارک سے بہتر مہینہ مومن کے لیے اور کوئی نہیں۔ وہ رمضان کے اخراجات پہلے ہی تیار کر لیتا ہے اور زیادہ عبادت کی سعادت حاصل کر لیتا ہے۔ جب کہ منافق پر رمضان المبارک کا مہینہ بڑا بھاری ہوتا ہے۔ وہ اس میں مومنوں کو بد نام اور ذلیل کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے۔(ابن ماجہ)

    رمضان المبارک کی بابرکت گھڑیوں کو معمولی نہ سمجھیں۔ان ایام کو عام دنوں کی طرح بے توجہی سے گزار دینا اور پرواہ نہ کرنا۔خدانخواستہ اگر کوئی انسان اپنے گناہوں کو معاف نہ کرا سکا،اپنی بخشش اور اپنے مالک حقیقی کی رضا مندی حاصل نہ کر سکا، تو ایسے بدنصیب سے اللہ کی رحمت دور ہو جاتی ہے۔ جیسا کہ حدیث مبارکہ میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ منبر کی پہلی سیڑھی پر اپنا قدم مبارک رکھا تو فرمایا: آمین،دوسری سیڑھی پر قدم رکھا تو فرمایا: آمین، تیسری سیڑھی پر قدم رکھا تو فرمایا: آمین، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے یہ عجیب بات دیکھی ہے۔ پہلے آپ نے کبھی اس طرح منبر پر چڑھتے ہوئے آمین نہیں کہا۔ تو آپ نے فرمایا منبر کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھتے ہی میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے اور انھوں نے کہا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: جس شخص نے رمضان المبارک میں روزے رکھے اور جنت حاصل نہ کر سکا، وہ اللہ کی رحمت سے محروم ہے۔ میں نے کہا آمین،دوسرے سیڑھی پر قدم رکھتے ہوئے جبریل نے کہا۔ جو شخص اپنے والدین میں سے کسی ایک کو بڑھاپے میں پائے اور وہ ان کی خدمت کر کے جنت حاصل نہ کرے تو وہ بھی اللہ کی رحمت سے محروم ہو۔ تیسری سیڑھی پر قدم رکھتے ہوئے جبریل علیہ السلام نے کہا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نامی سن کرآپ پر درود شریف نہ پڑھے وہ بھی اللہ کی رحمت سے محروم ہو۔ میں نے کہا: آمین۔(ترمذی)اس حدیث مبارکہ سے رمضان المبارک کی اہمیت و عظمت اچھی طرح واضح ہو جاتی ہے، کہ ہم اتنی زیادہ نیکیاں کریں کہ اللہ تعالیٰ خوش ہو کر ہمیں جنت میں داخلہ نصیب کر دے۔ اسی طرح یہ بھی واضح ہوا کہ ماں باپ کی اطاعت کرنا اور کثرت سے درود شریف کا اہتمام کرنابھی جنت میں داخلے کا ذریعہ ہے۔

  • کچھ بھی ہو جائے تو بھی کچھ نہیں ہوتا ، عروہ حسین نے ایسا کیوں کہا؟

    کچھ بھی ہو جائے تو بھی کچھ نہیں ہوتا ، عروہ حسین نے ایسا کیوں کہا؟

    پاکستان شوبز کی نامور اداکارہ ،ماڈل اور پروڈیوسر اداکارہ عروہ حسین کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی مرد میں جذباتیت اور احساس کا عنصر دیکھتی ہیں اور انہیں وہی مرد اچھے لگتے ہیں جن میں احساس اور جذبات ہوں۔

    باغی ٹی وی : عروہ حسین نے حال ہی میں اداکار و میزبان واسع چوہدری کے اے آر وائے ٹی وی پر نشر ہونے والے شو ’گھبرانا منع ہے‘ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے اپنی ذاتی زندگی اور پیشہ ورانہ زندگی پربات کی۔

    پروگرام میں عروہ حسین نے بتایا کہ ان کی پہلی پروڈیوس کردہ فلم ‘ٹچ بٹن‘ مکمل ہے مگر اسے فی الحال ریلیز نہیں کیا جا رہا ہے۔

    ’ٹچ بٹن‘ میں اداکاری نہ کرنے کے سوال پر عروہ حسین نے کہا کہ انہیں پروڈکشن کا کوئی تجربہ نہیں تھا اور انہیں سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیسے فلم کو پروڈیوس کرتے وقت اداکاری کریں گی اس لیے انہیں خود کو فلم میں کاسٹ کرنے کا خیال نہیں آیا۔

    ایک سوال کے جواب میں عروہ حسین نے کہا کہ وہ رومانوی شخصیت کی مالک ہیں مگر اس کے باوجود وہ فوری طور پر محبت نہیں کرتیں۔

    انہوں نے کہا کہ وہ کسی بھی مرد میں جذباتیت اور احساس کا عنصر دیکھتی ہیں اور انہیں وہی مرد اچھے لگتے ہیں جن میں احساس اور جذبات ہوں۔

    عروہ حسین نے کہا کہ خدا کی طرف سے ہر مرد کو احساس اور جذبات دیئے گئے ہوتے ہیں مگر بہت سارے افراد کو انہیں استعمال کرنے کا موقع نہیں ملتا یا وہ انہیں استعمال کرنے سے محروم رہتے ہیں۔

    پروگرام کے آخر میں عروہ حسین سے معنی خیز ڈائیلاگ بولا کہ انہیں کسی نے بتایا کہ اگر کچھ بھی ہو جائے تو بھی کچھ نہیں ہوتا‘ –

    جس پرواسع چوہدری نے انہیں جواب دیا کہ اداکارہ نے بریک اپ کا جو نتیجہ نکالا ہے وہ یہ ہے کہ ’کچھ بھی ہوجائے تو بھی کچھ نہیں ہوتا‘۔

    اداکارہ نے میزبان کی وضاحت پر دوبارہ مسکراتے ہوئے یہی جملہ دہرایا کہ ’کچھ بھی ہوجائے تو بھی کچھ نہیں ہوتا‘۔

    خیال رہے کہ گزشتہ برس نومبر میں عروہ حسین اور ان کے شوہر فرحان سعید کے درمیان کشیدہ تعلقات اور علیحدگی کی خبریں سامنے آئی تھیں جس کے بعد اداکارہ کے والدہ نے بیٹی کی طلاق کی خبروں کو مسترد کیا تھا۔

    تاہم حیران کن طور پر دونوں نے گزشتہ چند ماہ سے پھیلنے والی افواہوں پر کوئی وضاحت جاری نہیں کی اور نہ ہی دونوں نے سوشل میڈیا پر ایک ساتھ تصویر شیئر کی ہے، جس وجہ سے ان کے درمیان علیحدگی کی چہ مگوئیاں ہیں۔

    ’میرے پاس تم ہو‘ کے کردار کو ٹھکرانے کا آج بھی افسوس ہے عروہ حسین

  • کراچی میں ٹیلر شاپ چلانے والی ٹرانس جینڈرخواتین کے چرچے

    کراچی میں ٹیلر شاپ چلانے والی ٹرانس جینڈرخواتین کے چرچے

    مخنث افراد نے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی صدر ٹاؤن کے مصروف کاروباری علاقے محمد علی (اے ایم ) جناح روڈ پر حال ہی میں دکان کھولی تھی لیڈیز کپڑوں کی سلائی کی دکان چلا کر حلال رزق کمانے والی ٹرانس جینڈرز خواتین کی تعریفیں کی جا رہی ہیں۔

    باغی ٹی وی :خواتین کے لیے دیدہ زیب اور فیشن ایبل لباس تیار کرنے والی ٹیلر شاپ کی بانی 35 سالہ جیا نے خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کو بتایا کہ خواتین خوشی سے مرد حضرات کے بجائے انہیں کپڑے دی رہی ہیں۔

    جیا کا کہنا تھا کہ کراچی میں عام طور پر خواتین کے کپڑے سلنے والے درزی مرد حضرات ہوتے ہیں اور بعض خواتین مرد حضرات کو کپڑے دیتے وقت پریشانی کا شکار رہتی ہیں مگر ان کی جانب سے دکان کھولے جانے کے بعد خواتین کی پریشانی کم ہوئی۔

    جیا کی دکان پر آنے والی خواتین نے بھی تسلیم کیا کہ وہ مرد درزیوں کے مقابلے مخنث افراد کی دکان پر خود کو زیادہ مطمئن محسوس کرتی ہیں۔

    اپنا کاروبار شروع کرنے کے حوالے سے جیا نے بتایا کہ ابتدائی طور پر انہیں کرائے پر دکان دینے سے منع کردیا گیا تھا اور بڑی محنت کے بعد ایک شخص انہیں کرائے پر دکان دینے کے لیے راضی ہوا۔

    جیا کی خواہش ہے کہ وہ اپنی دکان کو بوتیک میں تبدیل کریں اور وہ مغربی و مشرقی فیشن کے امتزاج سے بنے لباس خواتین کے لیے تیار کریں جیا کے ساتھ دیگر دو مخنث افراد بھی ان کے ساتھ ٹیلر شاپ پر کام کرتے ہیں-

    واضح رہے کہ جیا نے مخنث افراد کو بااختیار بنانے والی تنظیم ’ٹرانس پرائڈ سوسائٹی‘ کی مدد لی جس نے دیگر اداروں کی معاونت سے کراچی کے کاروباری علاقے محمد علی (اے ایم ) جناح روڈ پر دکان حاصل کی۔تھی مذکورہ دکان کھولے جانے کی افتتاحی تقریب میں سندھ حکومت کی خواتین کی کمیشن کی چیئرپرسن اور کراچی بار کے اعلیٰ عہدیداروں نے بھی شرکت کی تھی-

    خواجہ سرا افراد کے اسٹاف پر مبنی ٹیلر شاپ کھولے جانے کے موقع پر ٹرانس پرائڈ سوسائٹی کی سربراہ نیشا راؤ نے اپنے پیغام میں کہا تھا کہ مذکورہ پروگرام مخنث افراد کو خودمختار بنانے کی طرف پہلا قدم ہے۔

    خیال رہے کہ پاکستان میں 2017 میں ہونے والی مردم شماری کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں مخںث افراد کی تعداد 10 ہزار تک ہے، تاہم مخنث افراد کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے مطابق ایسے افراد کی تعداد 3 لاکھ سے زائد ہے۔

    پاکستان میں مخنث افراد کو تیسری جنس کی قانونی حیثیت حاصل ہے، عدالتی حکم کے بعد ان کے شناختی کارڈ پر تیسری جنس لکھا جاتا ہے علاوہ ازیں ملک میں مخنث افراد کو ووٹ دینے اور سیاست میں حصہ لینے سمیت وہ تمام حقوق حاصل ہیں، جو دیگر عام شہریوں کو حاصل ہیں۔

    کراچی میں خواجہ سراؤں کی پہلی کمرشل ٹیلر شاپ پر کام کا آغاز

  • سام سنگ اپنی فلیگ شپ گلیکسی ایس 21 سیریز کا سستا اسمارٹ فون متعارف کرانے کے لیے تیار

    سام سنگ اپنی فلیگ شپ گلیکسی ایس 21 سیریز کا سستا اسمارٹ فون متعارف کرانے کے لیے تیار

    سام سنگ اپنی فلیگ شپ گلیکسی ایس 21 سیریز کا ایک نیا اور سستا اسمارٹ فون متعارف کرانے کے لیے تیار ہے۔

    باغی ٹی وی : گلیکسی ایس 21 ایف ای (فین ایڈیشن) کی پہلی جھلک سامنے آئی ہے تصاویر سے گلیکسی ایس 21 جیساکیمرا سیٹ اپ بیک پر دیکھا جاسکتا ہے تاہم رئیر کیمرا پینل بیک کور کی رنگت جیسا ہے۔

    فوٹو بشکریہ آنلیکس
    درحقیقت پہلی نظر میں تو یہ نیا اسمارٹ فون گلیکسی ایس 21 جیسا ہی نظر آتا ہے، مگر یہ کچھ بڑا اور چوڑا ہوگا کیونکہ گلیکسی ایس 21 میں 6.2 انچ اسکرین دی گئی ہے کیونکہ گلیکسی ایس 21 ایف ای میں 6.4 انچ کا فلیٹ پینل امولیڈ ڈسپلے موجود ہوسکتا ہے۔

    فون میں فرنٹ پر ایک کیمرا پنچ ہول ڈیزائن میں ہوگا جبکہ بیک پر 3 کیمروں کا سیٹ اپ ہوگا بیک کیمرا سیٹ اپ 12 میگا پکسل مین، 64 میگا پکسل ٹیلی فوٹو اور 12 میگا پکسل الٹرا وائیڈ کیمروں پر مشتمل ہوگا جیسا گلیکسی ایس 21 میں موجود ہے۔

    فوٹو بشکریہ آنلیکس
    اس سے قبل گزشتہ سال گلیکسی ایس 20 ایف ای کوایس 20 کے مقابلے میں زیادہ سستا ہونے کے باوجود فلیگ شپ فیچرز کی موجودگی کی وجہ سے بہت زیادہ پسند کیا گیا تھا-

    اس بار بھی سام سنگ کی جانب سے اس فارمولے کو ایف 21 ایف ای پر بھی آزمایا جائے گا جس کی قیمت 700 ڈالرز (ایک لاکھ 6 ہزار پاکستانی روپے سے زائد) ہونے کا امکان ہے۔

  • حریم شاہ کے برائیڈل فوٹو شوٹ کے چرچے

    حریم شاہ کے برائیڈل فوٹو شوٹ کے چرچے

    سوشل میڈیا پر پاکستان کی معروف ٹک ٹاک اسٹااور اداکارہ حریم شاہ کے برائیڈل فوٹو شوٹ کے چرچے ہیں۔

    باغی ٹی وی : حریم شاہ نے اپنے تصدیق شدہ انسٹاگرام اکاؤنٹ پر اپنے برائیڈل فوٹوشوٹ کی ویڈیوز اور تصویریں شیئر کی ہیں جو دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہوگئی ہیں-

    حریم شاہ کی خوبصورت تصاویر ان کے مداح شیئر کرتے ہوئے اپنی پسندیدگی کا اظہار کررہے ہیں، اداکارہ نے خود اپنی پوسٹ پر کمنٹ سیکشن بند کررکھا ہے۔

    جبکہ دوسری جانب حریم شاہ اپنی پہلی ویب سیریز ’راز‘ میں اداکاری کے میدان میں قدم رکھا ہے جس کا ٹریلر ریلیز کیا گیاتھا-

    ویب سیریز ’راز‘ کے 55 سیکنڈ دورانیے پر مشتمل ٹریلر میں حریم شاہ کی مفتی عبدالقوی کو تھپڑ مارنے کی ویڈیو بھی شامل ہے۔

    ’راز‘ کی ہدایتکاری اسد علی زیدی نے دی ہے، یہ ویب سریز اردو فلکس پر پیش کی جائیگی ۔

    یہ واضح نہیں ہے کہ ’راز‘ کی کہانی حریم شاہ کی ذاتی زندگی پر مبنی ہے یا نہیں تاہم ٹریلر سے ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ سیریز کی کہانی ان کی زندگی سے متاثر ہوکر بنائی گئی ہے۔

    واضح رہے کہ حال ہی میں دیئے گئے انٹر ویواداکارہ و ٹک ٹاکرحریم شاہ نے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کی شادی کے حوالے سے حیران کن انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے اب تک شادی میری وجہ سے نہیں کی ہے۔

    حریم شاہ نے متعدد لوگوں کی ویڈیوز وائرل کرنے کے سوال پر بھی وفاقی وزیر کا نام لیتے ہوئے کہا تھا کہ متعدد لوگوں کی ویڈیوز اور واٹس ایپ کال سامنے لانے کے بعد مجھے اس لئے جان کا خطرہ نہیں کیوںکہ میرے پیچھے شیخ رشید کا ہاتھ ہے-

    شیخ رشید کے شادی نہ کرنے کے حوالے سے حریم شاہ کاحیران کن انکشاف