Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • انڈونیشیا میں شدید زلزلہ:1300 عمارتیں منہدم سینکڑوں افراد لاپتہ،ہلاکتوں کی تصدیق

    انڈونیشیا میں شدید زلزلہ:1300 عمارتیں منہدم سینکڑوں افراد لاپتہ،ہلاکتوں کی تصدیق

    انڈونیشیا کے جزیرے جاوا میں 6.1 شدت کے زلزلے میں 1300 عمارتیں منہدم اور آٹھ افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہوگئی جبکہ سینکڑوں افراد لاپتہ ہیں-

    باغی ٹی وی: عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق زلزلے کا مرکز جنوبی ساحل میں 10 کلومیٹر گہرائی میں تھا سب سے زیادہ نقصان سیاحتی مقام بالی میں ہوا جہاں ہزار سے زائد گھر اور دیگر عمارتیں گر گئیں۔ عمارتوں کے ملبے سے آٹھ افراد کی لاشیں نکالی گئی ہیں جبکہ مزید ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ مقامی حکام کے مطابق سیکڑوں شہری لاپتہ ہیں۔

    تاہم اب بھی درجنوں افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے جن کے بچنے کی امید بہت کم ہے کیونکہ بڑی تعداد میں عمارتیں منہدم ہونے کی وجہ سے ریسکیو کاموں میں بہت زیادہ دشواریوں کا سامنا ہے۔


    ریسکیو ادارے کے مطابق سیکڑوں افراد لاپتہ ہیں، امدادی کاموں کے درمیان لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے ہوسکتا ہے۔ حکومت نے مذکورہ علاقے میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے آرمی کو بھی ریسکیو کاموں کی ذمہ داری سونپ دی ہے۔

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 6.1 ریکارڈ کی گئی جبکہ اس کا مرکز جاوا کا مشرقی ساحل اور گہرائی دس کلومیٹر تھی۔ مقامی ماہرین کے مطابق زلزلے کا مرکز ملنگ شہر سے 67 کلومیٹر دور تھا، اسی وجہ سے بالی میں بہت زیادہ تباہی ہوئی۔

  • امریکی عوام کی بڑی تعداد ’دی راک‘ کو صدر بنانے کی خواہاں

    امریکی عوام کی بڑی تعداد ’دی راک‘ کو صدر بنانے کی خواہاں

    ہالی ووڈ سپر اسٹار اور مشہور ریسلر ڈوین جانسن (دی راک) کو امریکی عوام کی بڑی تعداد ملک کا صدر بنانا چاہتی ہے۔

    باغی ٹی وی :غیرملکی میڈیا کے مطابق ایک ریسرچ کمپنی نے پول کرایا جس میں ڈوین جانسن کی حمایت میں 46 فیصد لوگوں نے مثبت تاثرات کا اظہار کیا۔ 29 فیصد بالغ امریکی لوگوں نے ’دی راک‘ کے مکمل طور پر صدر بننے کی حمایت کی جبکہ 17 فیصد نے کہا کہ وہ انکی مہم کی بھرپور حمایت کریں گے۔

    ڈوین جانسن نے ریسرچ کمپنی کے پول کا نتیجہ بھی اپنے تصدیق شدہ انسٹاگرام اکاؤنٹ پر شیئر کرتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا اور مزاحیہ انداز میں لکھا کہ مجھے نہیں لگتا کہ ہمارے ملک کے بانیوں نے کبھی سوچا بھی ہوگا کہ پک اپ ٹرک چلانے والا 6فٹ4 انچ قد کا گنجا شخص جس کے جسم پر ٹیٹو بنے ہوں وہ ہمارے کلب کو جوائن کرے گا۔

    انہوں نے مزید لکھا کہ اگر کبھی ایسا ہوا تو آپ لوگوں کی خدمت کرنا میں اپنی عزت تصور کروں گا۔

    ڈوین جانسن کے اس پیغام کو ان کے اکاؤنٹ پر 56 لاکھ 63 ہزارسے زائد بار پسند کیا گیا اور ہزاروں لوگوں نے ان کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا جبکہ متعدد افراد نے ابھی سے ہی کمنٹ سیکشن میں ’دی راک‘ کو ووٹ دینے کا وعدہ بھی کرلیا۔

    واضح رہے کہ رواں سال ڈوین جانسن(دی راک) نے مستقبل میں امریکی صدارت کے لئے دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے اس فیصلے کو مکمل طور پر لوگوں کی خواہشات سے جوڑ دیا تھا۔

    ڈوین جانسن نے کہا تھا کہ یہ فیصلہ عوام کے فیصلے کی بنیاد پر کروں گا۔ یہ لوگوں پر منحصر ہوگا لہٰذا میں انتظار کروں گا اور سنوں گا۔

    ڈوین جانسن کی جانب سے امریکی صدارت میں دلچسپی کے اظہار پر ردعمل دیتے ہوئے امریکا کے حال ہی میں ریسلنگ سے ریٹائرمنٹ لینے والے لیجنڈ ریسلر دی انڈرٹیکر نے کہا تھا کہ ڈوین جانسن امریکا کے لوگوں کو متحد کرسکتا ہے۔

  • جنگ احد معاملہ :غیر ذمہ دارانہ کلمات نشر کرنے پر پمیرا نے ایکسپریس نیوز کو جوابدہی کا نوٹس بھجوادیا

    جنگ احد معاملہ :غیر ذمہ دارانہ کلمات نشر کرنے پر پمیرا نے ایکسپریس نیوز کو جوابدہی کا نوٹس بھجوادیا

    اینکر ومیز بان آفتاب اقبال کا اپنے شو میں غزوہ احد میں مال غنیمت کے حوالے سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کا غیر مناسب انداز میں ذکر کیا تھا جس پر انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تاہم اب پیمرا نے بھی ایکسپریس نیوز سے جواب طلب کر لیا-

    باغی ٹی وی : گزشتہ شب آفتاب اقبال نے نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز پر اپنے شو، خبردار، میں غزوہ احد میں مال غنیمت کے حوالے سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کا غیر مناسب انداز میں ذکر کیا تھا جس پر انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا یہاں تک کہ یہ معاملہ ٹوئٹر پر ٹرینڈ کرنے لگا اور #صحابہ_کا_گستاخ_آفتاب_اقبال صبح سے ٹوئٹر ٹرینڈ فہرست میں پہلے نمبر پر ہے اور لوگ شدید غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں اور حکومت سے آفتاب اقبال کو سزا دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں-

    تاہم صارفین کے غم و غصے اور مطالبے کو دیکھتے ہوئے پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے بھی ایکسپریس نیوز کو نوٹس جاری کر دیا ہے-


    پریس ریلیز کے مطابق پیمرا نے ایکسپریس نیوز کو اس کے پروگرم ، خبردار، جو کہ مورخہ 11 اپریل 2021 کو نشر ہوا میں غیر ذمہ دارانہ کلمات نشر کرنے پر اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کرتے ہوئے چینل ہذا کو 7 یوم میں جوابدہی کا حکم دیا ہے –

    واضح رہے کہ اس سے قبل سوشل میڈیا پر تنقید کے بعد آفتاب اقبال نے ایک وضاحتی ویڈیو جاری کی اور اپنی گستاخی کی معافی مانگی-


    آفتاب اقبال نے کہا کہ ایک بہت ضروری وضاحت اور معذرت کے ساتھ میں حاظر ہوا ہوں خواہش تو یہ ہے کہ پہلے میں وضاحت کروں لیکن میں غیر مشروط معافی اور معذرت سے آغاز کروں گا-

    آفتاب اقبال نے اپنی غلطی مانتے ہوئے کہا کہ گزشتہ شب شو خبردار کی قسط میں ہم سے ایک حماقت سرزد ہوئی اور یہ مثال یہاں پر کس طرح ظاہر ہوئی ہے ویسے بنتی نہیں تھی جنگ احد کا حوالہ دے کر میں نے تو بات کہہ دی میں اس پر معذرت خواہ ہوں خدانخواستہ اس پر دور دور تک تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ صحابہ کی شان میں گستاخی کی جائے یا ایسی طنزیہ کوئی بات کی جائے-

  • سماجی ضابطہ اخلاق اور فکری آزادی    تحریر: محمد نعیم شہزاد

    سماجی ضابطہ اخلاق اور فکری آزادی تحریر: محمد نعیم شہزاد

    سماجی ضابطہ اخلاق اور فکری آزادی
    محمد نعیم شہزاد

    فرد معاشرے کی اکائی ہے اور معاشرہ ایک فرد کی ضرورت ہے۔ گویا دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ خلائق میں انسان کو شرف فضیلت اس کے علم کی بدولت دیا گیا اور علم کا منبع خدائے بزرگ و برتر کی ذات اور وحی الٰہی ہے۔ علم اور آداب و اخلاق کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور دونوں ایک دوسرے کے بغیر نامکمل اور ادھورے ہیں۔ وہ علم جو انسان کے دل و دماغ میں تکبر اور رعونت بھر دے ایسے علم سے جہالت بھلی۔ بات کو آگے بڑھاتے ہوئے بتاتا چلوں کہ معاشرے میں فرد کے مختلف کردار ہیں جن کے اعتبار سے اسے عزت و تکریم اور فضیلت دی جاتی ہے۔ اس قرابت اور تفاوت کا لحاظ عین حکم ربی بھی ہے اور ہمارے معاشرے کا حسن بھی۔

    "کل بنی آدم خطاؤن” جیسے فرمان نبوی علیہ الصلوۃ و السلام سے ہر بشر سے خطا کا امکان واضح ہے مگر اگر ہمارے آباؤ اجداد یا بڑوں میں سے کسی سے کوئی غلطی سرزد ہو جائے تو ہمارے انداز تکلم کچھ اور ہوتا ہے اور ادب و احترام کو لازم ملحوظ رکھا جاتا ہے۔ شاہ کی غلطی پر وزیر اور مشیر متنبہ کر سکتے ہیں مگر شان کا لحاظ کرتے ہوئے ورنہ گردن زدنی لازم آئے گی اور یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ بات کرنے والا شاہ کا وفادار اور خیر خواہ ہے بلکہ اسے گستاخ محض مانا جائے گا اور اسے اپنے عمل کی سزا بھگتنا ہو گی۔

    دین اسلام میں ایک عام قاعدہ بھی سکھا دیا گیا ہے کہ جو اس جہان فانی سے چلا جائے اس کے متعلق کسی برائی کا تذکرہ نہ کیا جائے مگر جو بات ہمارے سامنے موجود ہے یہ تو ان اصحاب رضی اللہ عنہم اجمعین سے متعلق ہے جن کے بارے خود رب لم یزل نے خود رضا مندی کی سند عطا کی۔ جن مالک اپنے بندے سے راضی ہے تو کسی کو اختیار نہیں کہ وہ نقض و نقص بیان کرے اور اپنے تئیں دانش ور و عقل کل قرار دے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شان اقدس پر ہمارا ایمان ہے کہ ایک ادنیٰ سے ادنیٰ صحابی رسول بھی بڑے سے بڑے ولی کامل، مجدد اور فقہیہ سے کہیں بڑھ کر ہے۔ اور کوئی بھی ان کے کف پا کا مقابلہ بھی نہیں کر سکتا۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرما دیا کہ "میرے صحابہ کو برا مت کہو”۔

    ان ساری تمہیدات کا مقصد آفتاب اقبال صاحب کا اپنے شو میں غزوہ احد میں مال غنیمت کے حوالے سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کا غیر مناسب انداز میں ذکر ہے جو ہرگز ان کے شایان شان نہیں ہے۔ ہم حسن ظن سے کام لیتے ہوئے خیال کرتے ہیں کہ یہ موصوف کی بشری لغزش ہے اور ان کے لیے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی خطاؤں سے صرف نظر برتے اور خیال کرتے ہیں کہ وہ یقیناً اس سے رجوع کریں گے کہ اہل علم و دانش کی شان ہی یہ ہے کہ وہ غلطی پر اتراتے نہیں بلکہ توبہ اور اصلاح کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ اور تکب و رعونت میں آ کر ابطال حق نہیں کرتے۔

  • جنگ احد کا معاملہ: آفتاب اقبال کی معذرت اور وضاحتی بیان

    جنگ احد کا معاملہ: آفتاب اقبال کی معذرت اور وضاحتی بیان

    اینکر ومیز بان آفتاب اقبال کا اپنے شو میں غزوہ احد میں مال غنیمت کے حوالے سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کا غیر مناسب انداز میں ذکر کیا تھا جس پر انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا-

    باغی ٹی وی :آفتاب اقبال نے اپنے شو میں غزوہ احد میں مال غنیمت کے حوالے سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کا غیر مناسب انداز میں ذکر کیا تھا جس پر انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا یہاں تک کہ یہ معاملہ ٹوئٹر پر ٹرینڈ کرنے لگا اور #صحابہ_کا_گستاخ_آفتاب_اقبال صبح سے ٹوئٹر ٹرینڈ فہرست میں پہلے نمبر پر ہے اور لوگ شدید غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں اور حکومت سے آفتاب اقبال کو سزا دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں-


    https://twitter.com/Tanveerkh786/status/1381529957537611778?s=20


    https://twitter.com/shani1352001/status/1381520588934684677?s=20


    سوشل میڈیا پر تنقید کے بعد آفتاب اقبال نے ایک وضاحتی ویڈیو جاری کی اور اپنی گستاخی کی معافی مانگی-

    آفتاب اقبال نے کہا کہ ایک بہت ضروری وضاحت اور معذرت کے ساتھ میں حاظر ہوا ہوں خواہش تو یہ ہے کہ پہلے میں وضاحت کروں لیکن میں غیر مشروط معافی اور معذرت سے آغاز کروں گا-


    آفتاب اقبال نے اپنی غلطی مانتے ہوئے کہا کہ گزشتہ شب شو خبردار کی قسط میں ہم سے ایک حماقت سرزد ہوئی اور یہ مثال یہاں پر کس طرح ظاہر ہوئی ہے ویسے بنتی نہیں تھی جنگ احد کا حوالہ دے کر میں نے تو بات کہہ دی میں اس پر معذرت خواہ ہوں خدانخواستہ اس پر دور دور تک تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ صحابہ کی شان میں گستاخی کی جائے یا ایسی طنزیہ کوئی بات کی جائے-

  • امر جلیل اور بعض دیگر کے باطل نظریات اور راہ اعتدال   بقلم: جویریہ بتول

    امر جلیل اور بعض دیگر کے باطل نظریات اور راہ اعتدال بقلم: جویریہ بتول

    امر جلیل اور بعض دیگر کے باطل نظریات اور راہ اعتدال

    (بقلم:جویریہ بتول).

    اللّٰہ تعالٰی اس کائنات کا خالق،مالک،رازق اور وارثِ حقیقی ہے…اس بات کا معمولی عقل رکھنے والا انسان بھی کہیں نہ کہیں اعتراف کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے…چاہے وہ رب تعالٰی کی وحدانیت کا قائل ہو یا نہ ہو…
    اُس عظیم ذات نے جب اپنا تعارف اپنی آخری الہامی کتاب قرآن مجید میں کروایا تو کبھی "الغنی” کہہ کر کہ وہ ہر چیز،ضرورت و حاجت سے بے پرواہ ہے… وہ تو خود "البدیع” یعنی ہر چیز کا پیدا کرنے والا موجد ہے…وہ "الخبیر” مکمل اگاہی و خبر رکھنے والا… وہ "الحکیم” کمال حکمت اور "العلیم” یعنی کمال علم والا ہے…جس کے سامنے انسان کی تمام بودی دلیلیں،اعتراضات اور سوالات بے وقعت رہ جاتے ہیں…اُس نے جو کچھ تخلیق کیا ہے… ایک خاص اندازے اور مقصد کے تحت پیدا کیا ہے…جسے چیلنج کرنے والے ازل سے سرگرداں ہیں اور ابد تک رہیں گے…!
    اُس ذات نے جب اپنا تعارف کروایا تو کیا ہی بہترین وضاحت کی کہ تمام شبہات پر لَا کی ضرب لگ گئی…نفی کر دی گئی…اور صرف اُس کے وجود کا اثبات باقی رہا…اِلَّا اللّٰہ…! احد و صمد نےفرمایا کہ اے میرے پیغمبر حضرت محمدﷺ اعلان کر دیجئے:
    قل ھو اللّٰہ احد¤ اللّٰہ الصمد¤لم یلد ولم یولد¤ولم یکن لہ کُفُوًا احد¤ (سورۃ اخلاص:1_4)
    "کہہ دیجئے کہ اللّٰہ ایک ہے،اللّٰہ بے نیاز ہے،نہ اُس سے کوئی پیدا ہوا،اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا،اور نہ ہی کوئی اُس کا ہمسر ہے…!!!”
    وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا…
    Neither He begets and nor (He) is born…
    یعنی وہ اپنی ذات،صفات اور افعال میں…لیس کمثلہ شئیٌ ہے…!
    حدیث قدسی کا مفہوم ہے کہ:
    "اللّٰه تعالٰی فرماتا ہے،ابنِ آدم مجھے گالی دیتا ہے یعنی میرے لیے اولاد ثابت کرتا ہے،حالاں کہ میں نے نیاز ہوں،میں نے کسی کو جنا ہے،نہ کسی سے پیدا ہوا ہوں اور نہ میرا کوئی ہمسر ہے…”
    (صحیح بخاری…کتاب التفسیر).
    یعنی قرآن کی صرف یہ ایک مختصر سی سورت اللّٰہ تعالٰی کا اس قدر جامع اور بلیغ تعارف ہے کہ معمولی عقل رکھنے والا انسان بھی اِسے بآسانی سمجھ سکتا ہے،جو متعدد خداؤں کے نظریہ کا بھی رد ہے…
    اور اُس سوچ کا بھی کہ اللّٰہ کی کوئی اولاد ہے،یا اُس کے شریک ہیں یا وہ نظریہ رکھنے والے جو وجود باری تعالٰی کے قائل ہی نہیں…
    یہ سب سفاہت کی نشانیاں ہیں کیوں کہ انسان یہ تو ماننے کو تیار نہیں ہے کہ بجلی سے چلنے والا معمولی سا بلب بغیر کسی بنانے والے یا ایجاد کے ممکن ہے…
    لیکن بسا اوقات اس وسیع کائنات،سورج،چاند اور ستاروں کی باقاعدہ تخلیق سے انکار کر دیتا ہے…!
    جس رب نے اس کائنات کے ذرے ذرے کو بامقصد بنایا ہے…:
    "ہم نے آسمان اور زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کو کھیلتے ہوئے نہیں بنایا،اگر ہم یوں کھیل تماشے کا ارادہ کرتے تو اسے اپنے پاس سے ہی بنا لیتے،اگر ہم کرنے والے ہی ہوتے…
    بلکہ ہم سچ کو جھوٹ پر دے مارتے ہیں پس سچ جھوٹ کا سر توڑ دیتا ہے اور وہ نابود ہو جاتا ہے تم جو باتیں بناتے ہو وہ تمہارے لئے باعثِ خرابی ہیں…”
    (الانبیآء:16_18).
    اپنی یکتائی،تنہا ہونے اور وحدانیت کی مذید دلیل دیتے ہوئے اللّٰہ تعالٰی نے فرمایا:
    "اگر آسمان و زمین میں اللّٰہ کے سوا اور معبود ہوتے تو یہ دونوں درہم برہم ہو جاتے پس اللّٰہ ہی عرش کا رب ہر اس وصف سے پاک ہے جو مشرک بیان کرتے ہیں…”
    (الانبیآء:22).

    "آسمان کو محفوظ چھت بھی ہم نے ہی بنایا ہے لیکن لوگ اس کی قدرت کے نمونوں پر دھیان نہیں دھرتے…
    وہی اللّٰــــہ ہے جس نے رات اور دن اور سورج اور چاند کو پیدا کیا،ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے مدار میں تیرتے ہیں…”
    (الانبیآء:33).

    اللّٰه ہی نے مردوں اور عورتوں کو پیدا کیا حضرت آدم علیہ السلام کا خالق بھی وہی،اماں حوّا کا خالق بھی وہی…
    مرد و عورت کے حقوق و فرائض اور مقام و مرتبہ کا تعین کرنے والا بھی وہی…
    اُس کے سبھی فیصلے اور ارادے پر ازحکمت ہیں…
    "اور اس چیز کی آرزو نہ کرو،جس کے باعث اللّٰــــہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے،مردوں کا اس میں سے حصہ ہے جو انہوں نے کمایا اور عورتوں کا اُس میں سے حصہ ہے جو انہوں کے کمایا…”
    (النسآء:32).
    اللّٰہ تعالٰی کا مردوں کو ہی انبیاء و رسل بنا کر بھیجنا بھی اس کے کامل علم کی نشانی ہے…یہ اس کی قدرت کا اٹل فیصلہ ہے…نیکی و اطاعت کے کاموں میں سب کے لیے برابر اجر ہے لیکن ان کے درمیان استعداد،صلاحیت اور قوت کار کا جو فرق ہے وہ محض آرزو سے تبدیل نہیں ہو گا…
    جو خالق ہوتا ہے وہ اپنی مخلوق کی صلاحیت و استعداد سے بخوبی آگاہ ہوتا ہے تبھی فرمایا
    لا یکلف اللّٰہ نفسًا الا وسعھا…
    وہ اپنی مخلوق پر بوجھ بھی وسعت و صلاحیت کے مطابق ہی ڈالا کرتا ہے…
    یہ اعتراض کہ عورت نبیہ کیوں نہیں،اور اللّٰہ تعالٰی کی ماں نہیں،معاذ اللّٰــــہ…بیوقوفانہ اور بے معنی دلیل اور سوچ ہے…!
    "جس کی ملکیت میں آسمانوں اور زمین اور ان دونوں کے درمیان اور تہہِ خاک کے نیچے کی ہر چیز ہے…”(طٰہٰ:6).
    ”وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے…”(البروج:16)
    یعنی اُس کے حکم و مشیت کو ٹالنے والا کوئی نہیں،اور نہ ہی اُسے کوئی پوچھنے والا ہے…!!!
    اپنی ذاتِ بلند و برتر کی شان بیان کرتے ہوئے فرمایا:
    "شانِ رحمٰن کے لائق ہی نہیں کہ وہ اولاد رکھے،آسمان و زمین میں جو بھی ہیں سب کے سب اُس کے بندے ہی بن کر آنے والے ہیں،ان سب کو اس نے گھیر اور پوری طرح گن رکھا ہے،یہ سارے کے سارے قیامت کے دن اکیلے اکیلے اُس کے پاس حاضر ہونے والے ہیں…!!!”
    (مریم:92_95).
    اللّٰه اکبر…
    حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر صبحِ قیامت تک جتنے بھی انسان ہیں سب کو اُس نے گن کر اپنی گرفت و قابو میں رکھا ہے،کوئی بھی اپنے کرتوتوں سمیت اُس سے مخفی نہیں ہے اور اکیلا ہی اُس کی بارگاہ میں پیش بھی ہونے والا ہے…!
    رسول اللّٰہ ﷺ وادی نخلہ میں صحابہ کرام رضوان اللہ کو نمازِ فجر پڑھا رہے تھے کہ کچھ جنوں کا وہاں سے گزر ہوا جنہوں نے قرآن سنا…اللّٰہ تعالٰی نے اُن کی اس کیفیت کو سورۂ جن میں یوں بیان فرمایا:
    "جنوں کی ایک جماعت نے قرآن سنا اور کہا ہم نے عجیب قرآن سنا ہے… جو راہ راست کی طرف راہ نمائی کرتا ہے،ہم اس پر ایمان لا چکے اب ہم ہر گز کسی کو اپنے رب کا شریک نہیں بنائیں گے…اور بے شک ہمارے رب کی شان بڑی بلند ہے،نہ اُس نے کسی کو بیوی بنایا،نہ بیٹا، اور یہ کہ ہم میں کا بے وقوف اللّٰــــہ کے بارے میں خلافِ حق بات کرتا تھا…”
    (الجن:1_4)
    اللّٰه کی مخلوق جن بھی شعور سے گزرے تو ایسی کمزوریوں سے رب کی تقدیس بیان فرمائی کہ تَعٰالٰی جَدُّ رَبِّنَا…!!!
    ترجمہ درج بالا آیات میں سفیھنا سے مراد ہر وہ شخص یا جنس ہے جو اللّٰہ کے بارے میں گمانِ باطل رکھتا ہے…جھوٹ و باطل میں مبالغہ کر کے…راہِ اعتدال سے دوری و تجاوز کر کے…اور ایسے سارے لوگ افترا پرداز ہیں…
    جو تصوراتی ابہام و ابطال کو زبان پر لے آ کر رب بزرگ و برتر اور خالق و مالکِ کائنات کے بارے میں گستاخانہ زبان کے مرتکب ہوتے اور اپنے اوپر حجت تمام کر کے بدترین سوچ و مثال قائم کرنے والوں میں شامل ہو جاتے ہیں…ایسے لوگ جو معاشرے میں اُلجھن اور حدود و ادب سے تجاوز کا باعث بنیں اور آئین و قانون اور میڈیائی فورم کا غلط استعمال کریں،ان کے خلاف ایکشن لینا ذمہ داران کی ذمہ داری ہے…تاکہ ایک اسلامی مملکت اور معاشرے میں اصلاح و اثبات کو فروغ ملے نہ کہ منفیت و گستاخانہ ذہنیت کا پھیلاؤ منہ زور ہوتا چلا جائے…!!!

  • کشف الاسرار    تحریر: کاشف علی

    کشف الاسرار تحریر: کاشف علی

    تحریر کاشف علی
    کشف الاسرار

    میڈیا میں زرائع کے حوالے سے خبر ہے کہ پنجاب میں مکمل لاک ڈاون کا سوچا جارہاہے فیصلہ کل کے اجلاس میں ہوگا ۔ ہم امید کرتے ہیں کہ خان صاحب یو ٹرن نہیں لیں گے اور اپنے فیصلے پہ قائم رہیں گےاور لاک ڈاون لگانے کا دباو مسترد کر دیں گے-

    البتہ ان سرکاری زعماء افسر شاہی، میڈیا اور ڈاکٹروں کی خدمت میں عرض ہے کہ اگر آپ ان غریبوں کے کھانے اور دیگر ضروریات کو پورا نہیں کرسکتے تو آپ کو لاک ڈاون لگانے کا کوئی حق نہیں ہے ۔ اسلام آباد لاہور کے وہ لوگ جو ٹوئیٹر پر بیٹھے ہیں انکے گھروں میں مہینوں کا راشن ہے لاک ڈاون کی حمائت کرتے ہیں۔ لیکن غریب جس کا چولہا ہی تب جلتا ہے دیہاڑی لگتی ہے اسکا احساس کسی کو نہیں ہے-

    آپ سروے کر لو پچھلے سال کے کرونا لاک ڈاون کا اٹھایا گیا قرض ابھی تک نہیں اتار سکے کیونکہ مہنگائی نے پیس دیا ہے ۔ اس رمضان میں لاک ڈاون سے جیسا کہ ابھی اس پہ مشاورت جاری ہے جہاں مذہبی استحصال ہوگا وہیں اس غریب کا معاشی قتل ہے کہ وہ عید پہ کپڑے تو دور کی بات روٹی کے لالے پڑ جائیں گے سفید پوش طبقہ پس کر رہ جائے گا ۔ اور ملک کی معاشی صورتحال اس کی متحمل نہیں ہے جیسا کہ وزیر اعظم پہلے بھی کہہ چکے ہیں اس سارے منظر نامے سیکولر لابیز بھی متحرک ہیں جو رمضان میں کرونا کے نام خاص طور پر لاک ڈاون کی حمائت کرکے اپنا الو سیدھا کرنا چاہتے ہیں

    ابھی اک ٹرانسپورٹ سے متعلقہ رشتہ دار سے بات ہوئی کہنے لگے حکومت نے کہا کہ سواریاں آدھی کرو جب کرایا بڑھایا تو ایڈ منسٹریٹرلاری اڈا صاحب آکر جرمانے کر رہے ہیں 5000 دو ورنہ گاڑی بند۔ اب 5000 ہزار بھرنے والے کرایہ تو چاہے نا کم کریں مگر یہ پانچ ہزار کن کن کی جیبوں میں جائے گا ؟ درحقیقت یہ بیوروکریسی میڈیا اور ڈاکٹرز کے علاوہ کسی کا بھلا نہیں ہوگا سب جانتے ہیں کہ پچھلے سالوں مارکیٹوں سے افسر شاہی نے کیسے کمایا اور بند دوکانوں کے اندر ہوتی تجارت سے کون آکر جرمانے کے نام پر جیبیں بھرتا رہا ہے اور ڈاکٹروں کی بھی چاندی ہے پس اور مر عوام رہی ہے-

    دوسری طرف بیماری ہے تو اس بیماری کی دہشت دلوں میں اسقدر کیوں بٹھائی جارہی ہے جبکہ اس سے مرنے والوں کی ریشو پاکستان میں 2% بھی نہیں جبکہ اس میں بھی اک بڑی تعداد ایسے ہی کرونا کے کھاتے میں ڈالی گئی ہےجن کی موت کو کرونا کی وجہ بتایا جارہاہے سائنسی طور پر اور میڈیکلی طور پر ابھی وہ بھی پروف نہیں کیا جاتا بس جو مرگیا اور اسکو کرونا تھا تو بس کرونا کی وجہ سے ہی مرا جبکہ وجہ کچھ اور بھی تو ہوسکتی ہے۔

    پہلے مسلمان حکمران وہ تھے جو کہتے تھے کہ فرات کنارے کتا بھی بھوکا مرا تو وہ ذمہ دار ہیں البتہ آجکل ذمہ داری سابقہ حکومتوں پر ہرآنے والی حکومت ڈالتی ہے-

    آپ sop پر عمل کروائیں مگر آپ لوگوں کو دہشت ذدہ مت کریں کیونکہ خوف سے اموات ہونا بھی بالکل ثابت ہے لہذا بے جا خوف پھیلا کر لوگوں کا قتل عام مت کریں-

  • رمضان المبارک کی روح اور تقاضے     بقلم:جویریہ بتول

    رمضان المبارک کی روح اور تقاضے بقلم:جویریہ بتول

    رمضان المبارک کی روح اور تقاضے

    (بقلم:جویریہ بتول).
    خزاں زدہ اشجار اور پودوں پر جب بادِ بہاری کے جھونکے گزر جاتے ہیں تو کیسے خوش رنگ گُل اور شگوفے پھوٹ آتے ہیں…نرم و نازک سی کلیاں اُمیدِ بہار کا پیغام بن کر دل کو اک عجب راحت اور آنکھوں کو گہری ٹھنڈک فراہم کرتی ہیں…بعینہ ہجری سال کا نواں مہینہ رمضان بھی نیکیوں کا موسمِ بہار کہلاتا ہے جو اپنے نام کے لغوی و اصطلاحی معنوں میں بھی ہمارے نامۂ اعمال سے گناہوں کے مٹنے اور نیکیوں کی بہار کا باعث ہے… یہ رحمت و مغفرت اوربرکات کے نزول کا مہینہ ہے…جب جنت کے دروازے کھل جاتے،سرکش شیاطین جکڑ دیے جاتے اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں…ایک ایک نیکی کا اجر و ثواب کئی کئی سو گنا بڑھ جاتا ہے…
    رمضان شھر القرآن ہے… یہی وہ مہینہ ہے جس میں لیلۃ القدر جیسی قدر و منزلت والی عظیم رات ہے…جس کی عبادت ایک ہزار مہینوں کی عبادت کے بہتر ہے… روحانی و جسمانی امراض کے لیے یہ بہترین تربیتی کورس اپنے مقصد کے اعتبار سے کیا پیغام لے کر آتا ہے…؟
    کہ لعلکم تتقون¤
    تاکہ تم تقویٰ والے بن جاؤ…

    اس ایک ماہ کی تربیت کے رنگ کو سال کے باقی ماہ و ایام میں نافذ کرکے عملی اعتبار سے مستقل مزاج اور ابدی فلاح والے بن جاؤ…
    رحمت کی یہ برسات زرخیز دلوں کی زمین کے لیے نہایت موزوں اور ہر سیاہی و آلودگی کو بہا لے جانے کا باعث ہے…مگر اجاڑ و بنجر زمین کے لیے بارش کچھ زیادہ فائدہ مند ثابت نہیں ہوتی…چٹیل زمین فصلِ بہار کو اُگانے سے محروم ہی رہتی ہے…
    یہی وجہ ہے کہ رمضان المبارک کا مہینہ بھی کچھ نفوس کے لیے عام مہینوں کی طرح گزر جاتا ہے اُن کے معمولات،عبادات اور معاملات میں سنوار کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا…

    اور دوسری طرف ہم میں سے کچھ لوگ اگر اس مہینے کی خاص عبادت روزہ بجا لاتے بھی ہیں تو اُس کے مقصد سے لا علم ہی رہتے ہیں…

    یاد رہے کہ روزہ صرف کھانے پینے سے رکنے کا ہی نام نہیں بلکہ جسم کے ایک ایک عضو کی اصلاح کے سفر کا بھی نام ہے کہ اللّٰہ تعالٰی کی رضا کی خاطر حرام تو کجا حلال سے بھی رکنے کا وقت آ جائے تو اس سے بھی رُک جانا ہے…!!!
    اگر روزہ رکھ کر بھی ہماری زبانیں،کان،آنکھیں اور دل بھٹک رہے ہوں تو جان لیجئے کہ ہم روزہ کا مقصد پورا تو کیا سمجھ ہی نہیں سکے…!

    غیبت،جھوٹ،دھوکہ،سوشل میڈیا پر وقت کا فضول زیاں،یو ٹیوب اور دیگر ایسے فورمز پر غلط مواد و فحاشی کی ترویج و استعمال…!
    اِسی طرح اشیائے خوردونوش کی مصنوعی قلت و گراں فروشی جیسے دیگر اقدامات ہمیں سچا مسلمان ہر گز ثابت نہیں کرتے…کہ جب غریب معمول کی اشیاء کی خریداری سے بھی محروم نظر آنے لگتا ہے…!

    گویا اکثریت کے لیے یہ مہینہ بجائے نرمی،سخاوت،اور رعایت کے مجبور لوگوں کی جیب سے پیسہ نکالنا اور بٹورنا ہے…
    اور اتنا بابرکت مہینہ بھی ہمارے بنجر رویوں کی اصلاح نہیں کر پاتا…ہونا تو یہ چاہیے کہ حکومت و تاجران باقی گیارہ ماہ کی نسبت اس مہینے میں کچھ خاص اور نہایت رعایتی اقدامات قربانی کے جذبے سے کریں تاکہ رب سے اجر کی اُمید کی تجارت کرتے ہوئے اس مہینہ میں ناجائز منافع خوری سے بچنے کی رِیت ڈالی جائے،مگر…؟

    لیکن جب دل کی دھرتی بنجر ہو جاتی ہے تو پھر ربیع کی بارشیں بھی اس پر اثر انداز ہونا چھوڑ دیتی ہیں ناں…؟

    تب احساس کی بجائے صرف اپنی ذات اور مفاد مدنظر رہتے ہیں اور معاشرتی مسائل کے حل کی طرف راہیں مسدود ہی رہ جاتی ہیں…!!!

    ہم نے اس بار عہد کرنا ہے کہ رمضان کے اصل پیغام تقویٰ کا صحیح اور مکمل مفہوم سمجھنا ہے…!

    ایمان و احتساب کی نیت سے صیام و قیام کا حق اَدا کرتے ہوئے گناہوں سے اٹے دامنوں کو دھونا ہے.

    روزے کا صحیح حق اَدا کر کے الصوم لی و انا اجزی بہ کی کیٹیگری والوں کے اعزاز کا مستحق بننا ہے.

    قرآن سے اپنا تعلق مضبوط تر بنانا ہے اور اس کی تعلیمات کو عمیقِ نظر اور صدقِ دل سے سمجھنے اور پھر عمل کی سنجیدہ کوشش کرنی ہے…کہ یہ قرآن پیاسی روحوں کی غذا اور دل کی نرمی کا باعث ہے…یہ مدہم سانسوں کی جِلا،بیمار دلوں کی شفا اور اُداسی کے پہاڑوں کی دوا ہے…جانتے ہیں ناں کہ دل کی یہ سختی اور ویرانی تو لمحہ لمحہ روح کو تڑپاتی ہے…اور ہم نے نفسِ مطمئنہ تک کا سفر اس قرآن کے سنگ ہی طے کرنا ہے جو رمضان کے مبارک مہینہ میں ہمارے لیے اُتار کر ابدی معجزہ کی صورت ضابطۂ حیات بنا دیا گیا.

    ہمیں صرف رمضان کا مسلمان بننے کی بجائے اس مہینہ میں بجا لائی جانے والی تمام عبادات کو سال بھر کے لیے عملی طور پر اپنانا ہے.

    تمام اخلاقی و روحانی بیماریوں سے یہ دل صاف کرنے کی مکمل کوشش کرنی ہے.

    جھوٹ،چغلی،غیبت،حسد،انتقامی سوچ،بے حیائی اور فحش گوئی سے بتدریج دُور ہوتے چلے جانا ہے.

    عفو و درگزر اور صلح و آشتی میں پہل کرنے کی ہمیشہ کوشش کرنی ہے.

    تاکہ ہمارے نیک اعمال جب اللّٰــــہ کے حضور پیش ہوں تو ہماری باہمی رنجشیں اور کدورتیں اُن کی قبولیت کی راہ رکاوٹ نہ بننے پائیں.

    دعاؤں کا خصوصی اہتمام کرنا ہے،ہم بیماریوں،وباؤں اور آفات کی زد میں ہیں…ہمیں قومِ یونس علیہ السلام کی طرح استغفار کے آنسوؤں سے گناہوں کی تپتی آگ کو بجھانا ہے…!

    اپنی فلاح و اصلاح،صحت و عافیت کی دُعا نیز بیماروں،مستحقین اور اُمتِ مسلمہ کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں.

    اُن خوش نصیبوں میں شامل ہونے کی جستجو کرنی ہے جنہوں نے رمضان کو پا کر اس کی قدر کا حق اَدا کیا…نہ کہ اُن بدنصیبوں میں جن کی زندگی میں رمضان کے قیمتی و مبارک ایام بھی آ کر عام لمحات کی مانند گزر گئے اور اُن کا شعور بیدار نہ ہوا…!

    اپنے ارد گرد کے ضرورت مند اور مستحقین کی مقدور بھر امداد کی ضرور کوشش کرنی ہے.

    ہم چاہے کسی بھی شعبہ یا فیلڈ سے تعلق رکھتے ہوں،اپنے تئیں دوسروں کے لیے آسانی و رعایت کا باعث بننے کی کوشش کرنی ہے.

    یہ تنکہ تنکہ نیکیاں…یہ بکھری بکھری اکائیاں جوڑ کر کامیابی کی شاہراہ کا نقشہ تشکیل دینا ہے…

    اور خالصتًا اللّٰــــہ کی رضا مندی کی خاطر اعمال کرتے ہوئے جنت کی مہک بھری عطر دار ہواؤں اور خوشبوؤں کے آنگن میں باب الریان کے خصوصی اعزاز و دروازے سے ملائکہ کے سلام و دعاؤں کے ہمراہ مسکراتے ہوئے داخلے کا سامان کرنا ہے…ان شآ ءَ اللّٰــــہ.

    ہمارا رب تو ہمارے چھوٹے چھوٹے اعمال کے بہانے سے ہم پر اپنی رحمتوں اور نعمتوں کی برسات کرنا چاہتا ہے مگر ہم غفلت کی چادر تانے جانے کیوں صرف خوابوں کی نگری میں گم ہیں…!

    اور یقینًا اُس کی سب سے بڑی نعمت اُس کی رضا و جنّت ہے…جو جزا کی سب سے بڑی حقیقت ہے اور جس کا مستحق بنانے کے لیے یہ رمضان کا مہینہ بھی ہمیں ایک بہترین موقع فراہم کرتا ہے…حافظ ابنِ رجب رحمہ اللّٰــــہ کیا خوب فرماتے ہیں کہ:
    "اے طویل عرصہ تک ہم سے جدا رہنے والے،صلح کے دن قریب آ گئے ہیں…اے مستقل خسارے میں پڑے انسان،نفع کمانے کے دن قریب آ گئے ہیں…
    جو اس مہینہ میں بھی نفع نہ کمائے وہ کب نفع کمائے گا…؟
    جو اس مہینہ میں بھی رب کے قریب نہ ہو تو وہ دُور ہی رہے گا…
    تمہیں کتنا پکارا گیا آؤ فلاح کی طرف مگر تم نقصان میں پڑے رہے…تمہیں کتنی ہی بھلائی کی طرف دعوت دی گئی مگر تم فساد کی روش پر قائم رہے…!!!”
    =================================

  • غیر ملکی ڈیجیٹل اتھارٹی نے مفت وائی فائی استعمال کرنے والوں کو خبر دار کر دیا

    غیر ملکی ڈیجیٹل اتھارٹی نے مفت وائی فائی استعمال کرنے والوں کو خبر دار کر دیا

    متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی ریاست ابوظبی کی انتظامیہ نے شہریوں کو مفت وائی فائی سروس کے استعمال سے خبردار کردیا۔

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ابوظبی کی انتظامیہ نے خبردار کیا ہے کہ عوامی مقامات پر مفت وائی فائی انٹرنیٹ سروس استعمال کرنے سے صارفین ہیکرز کا نشانہ بن سکتے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق عوامی مقامات پر مفت انٹرنیٹ کی سروس یوں تو باآسانی میسر ہوتی ہے مگر اس کے بے حد نقصانات ہوتے ہیں۔


    ابوظبی کی ڈیجیٹل اتھارٹی (اے ڈی ڈی اے) نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری اپنے پیغام میں بتایا کہ صارفین مفت وائی فائی کے استعمال سے قبل وی پی این کا استعمال کریں تاکہ ان کا ڈیٹا محفوظ رہ سکے۔

    انہوں نے بتایا کہ سائبر کرائم کرنے والے افراد بھی اکثر ایسے ہی وائی فائی کا استعمال کررہے ہوتے ہیں تاکہ لوگوں کو دھوکا دے سکیں۔


    انہوں نے کہا کہ احتیاط ہی سائبر خطرات سے آپ کو محفوظ رکھ سکتی ہے محتاط رہیں ، محفوظ رہیں۔

  • آپ اپنے تیر چلائیں میری ڈھال میرا قرآن ہے رابی پیرزادہ کا ناقدین کو جواب

    آپ اپنے تیر چلائیں میری ڈھال میرا قرآن ہے رابی پیرزادہ کا ناقدین کو جواب

    سابق اداکارہ رابی پیر زادہ نے خود پر تنقید کرنے والی خاتون کو کرارا جواب دے دیا-

    باغی ٹی وی : ابی پیرزادہ نے مذہبی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کے لئے شوبز کو خیرباد کہنے کے بعد پینٹنگ و آرٹ ورک کا کام شروع کیا تھا اور وہ سوشل میڈیا پر اپنے آرٹ ورک کی تصاویر و ویڈیوز شیئر کرتی رہتی ہیں جبکہ وہ گلوکاری کے بعد نعت و حمد بھی پیش کرتی دکھائی دیں اور انہوں نے قرآن پاک لکھنے کاکام شروع کر دیا ہے۔

    رابی پیرزادہ نے دیگر لوگوں کے ہمراہ ’چھوٹی سی بات‘ نامی ایک ویب سائٹ پر بھی متعارف کرائی تھی بعد ازاں رابی نے اپنے نام سے ہی فلاحی تنظیم بھی متعارف کرائی تھی، جس کے تحت وہ غریب خاندانوں اور خواتین کی مدد کرتی ہیں۔

    رابی پیرزادہ نے جنوری 2021 میں فاؤنڈیشن کا آغاز کیا، جس کے تحت اب تک 2 ہزار سے زائد خاندانوں کی مدد کی جا چکی ہے، جبکہ 60 سے زائد خواتین کو مالی طور پر بااختیار بھی بنایا گیا ہے۔

    رابی پیرزادہ کی جانب سے فاؤنڈیشن کے آغاز کے بعد ’حیا بائے رابی‘ کے نام سے ’عبایہ‘ برانڈ بھی متعارف کرایا گیا، جس کے تحت مختلف رنگوں اور ڈیزائن کے نہ صرف پاکستانی بلکہ مشرق وسطی انداز کے دیدہ زیب و فیشن ایبل ’عبایہ‘ اور ’حجاب‘ تحت تسبیح اور جائے نماز (مصلہ) سمیت دیگر چیزیں بھی فروخت کے لیے پیش کی جاتی ہیں-

    شوبز کو خیر باد کہنے کے بعد سابق اداکارہ کی مذہبی سرگرمیوں پر جہاں کچھ لوگوں کی جانب سے ان کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے وہیں کچھ لوگ تنقید کا نشانہ بھی بناتے رہتے ہیں اور اس کو دکھاوا اور ایکٹنگ قرار دیتے ہیں جس پر رابی پیر زادی بھی خاموش نہیں رہتیں اور ان کو تنقید کے جواب میں اخلاق کے دائرے میں رہتے ہوئے جواب دیتی ہیں-

    تاہم اب بھی سوشل میڈیا پر فائزہ شیخ نامی خاتون نے رابی کی نعت ریکارڈ کراتے ہوئے تصویر شئیر کی اور کہا کہ طارق جمیل کے بعد اسلام سے سب سے زیادہ فائدہ اس لڑکی نے اٹھایا ہے-

    رابی پیر زادہ نے اس خاتون صارف کی پوسٹ اپنے انسٹاگرام پر شئیر کرتے ہوئے جواب دیا-

    رابی پیرزادہ نے سوالیہ انداز میں لکھا کہ فائدہ؟ –

    انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے لکھا کہ شوبز میں میرا پروڈکشن ہاؤس تھا، کروڑوں کے ڈرامے اور پروگرام بنا کر بیچے، ہر ہفتہ اور اتوار کنسرٹ کے 5 سے 10 لاکھ، ٹی وی پر تنخواہ 4 سے 7 لاکھ، جس پروگرام میں گیسٹ جانا ایک لاکھ روپےلینا، کم سے کم ماہانہ آمدنی پچیس لاکھ تھی-

    رابی پیر زادہ نے لکھا کہ ان کی وہ پچیش تیس لاکھ آمدنی سب میری ایک کیلیگرافی کے بیس ہزار پر قربان-

    انہوں نے کہا کہ آپ مجھے طعنے دے کر واپس نہیں بھیج سکتے مگر شائد ایسی باتیں کرکے اللہ کو ناراض کرتے ہیں-

    انہوں نے کہا کہ میری جگہ کوئی بھی ہوتی وہ یہ سوچ کر شوبز میں واپس جاتی کہ کم از کم وہاں طعنے نہیں پیسہ شہرت اور پروٹوکول ہے، مگر میرے لیے میرا اللہ اور اسکے وہ لوگ جو میرا ساتھ دیتے ہیں کافی ہیں، آپ اپنے تیر چلائیں میری ڈھال میرا قرآن ہے، الحمداللہ-

    رابی پیرزادہ نے ’حیا بائے رابی‘ کے نام سے اپنا ’عبایہ‘ برانڈ متعارف کرادیا

    رابی پیر زادہ نے قرآن پاک لکھنے کاکام شروع کر دیا