Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • پشاور:20 سالہ ٹک ٹاکر نے رشتے سے انکار پرخودکُشی  کر لی

    پشاور:20 سالہ ٹک ٹاکر نے رشتے سے انکار پرخودکُشی کر لی

    پشاور کی تحصیل تہکال سے تعلق رکنے والے 20 سالہ ٹک ٹاکر نے لڑکی والوں کی جانب سے رشتے سے انکار ہونے پرخودکُشی کرلی۔

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ پشاور کی تحصیل تہکال سے تعلق رکنے والے 20 سالہ ٹک ٹاکر شہزاد احمد کے بھائی سجاد نے پولیس کو اس کے لاپتا ہونے کی رپورٹ درج کروائی تھی۔

    پولیس کے مطابق بعدازاں سجاد نے اطلاع دی کہ دوسرے کمرے میں شہزاد نے خود کو چھت کے پنکھے کے ساتھ لٹکا لیا سجاد اپنے بھائی کو اسپتال لے کر پہنچا تاہم وہاں اسے مردہ قرار دے دیا گیا۔

    رپورٹس کے مطابق شہزاد کے بھائی کا کہنا ہے کہ وہ ایک لڑکی سے شادی کرنا چاہتا تھا لیکن لڑکی کے والد نے رشتے سے انکار کردیا تھا جس کی وجہ سے وہ شدید مایوسی اور ذہنی دباؤ کا شکار تھا۔

    رپورٹس کے مطابق شہزاد کے ایک دوست عامر نے میڈیا کو بتایا کہ وہ ایک ٹک ٹاک اسٹار تھا اور ویڈیو شیئرینگ ایپ پر اس کے 3 لاکھ سے زائد فالوور ز تھے دو سال قبل اسے اپنی ایک فین سے محبت ہوگئی تھی تاہم لڑکی کی عمر اس وقت محض 16 برس تھی اور اسی بنیاد پر لڑکی کے گھر والوں نے رشتے سے انکار کردیا تھا۔

    ٹک ٹاکر کے دوست نے بتایا کہ لڑکی نے اس کے بعد شہزاد سے دوبارہ نہ ملنے کا کہا تھا جس پر شہزاد نے 50 نیند کی گولیاں کھا کر خود کُشی کرنے کی کوشش کی تھی مگر اس کی جان بچ گئی تھی اس واقعے کے بعد شہزاد کا اس لڑکی سے دوبارہ رابطہ ہوگیا۔

    رپورٹس کے مطابق ٹک ٹاکر کے دوست کا کہنا ہے کہ کچھ عرصہ قبل دوبارہ اُسی لڑکی کو شادی کا پیغام بھیجا اور اس بار پھر انکار ہوگیا۔ لڑکی کے گھر والوں نے یہ اعتراض بھی کیا تھا کہ شہزاد اپنا سارا وقت ٹک ٹاک پر گزارتا ہے۔ اس اعتراض پر شہزاد نے اپنے تین لاکھ فالوورز والا اکاؤنٹ بھی ڈیلیٹ کردیا تھا لیکن اس کے باوجود لڑکی کے گھر والے رشتے کے لیے نہیں مانے۔

    شہزاد کے دوست کا کہنا تھا کہ جب اس کا دوست شہزاد اس لڑکی کو مہنگے تحفے دیتا تھا تو اس کے گھر والوں نے کوئی اعتراض نہیں کیا تاہم جب دونوں کا ایک دوسرے کی جانب رجحان ہوا تو گھر والوں نے رشتے سے انکار کردیا عامر نے مزید بتایا کہ شہزاد ٹک ٹاکر ہونے کے علاوہ ایک آن لائن اسٹور میں اس کا پارٹنر تھا جس سے انہیں اچھی آمدن ہوتی تھی۔

    ٹک ٹاک شائقین کے لئے ایک بار پھر بری خبر..

  • اداکاری اپنی جگہ لیکن میرا اصل مقصد اسمبلی ہی ہے    گل رعنا

    اداکاری اپنی جگہ لیکن میرا اصل مقصد اسمبلی ہی ہے گل رعنا

    پاکستان ڈرامہ انڈسٹری کی سینئیر اداکارہ و پروڈیوسر گل رعنا کا کہنا ہے کہ اگر مجھے سیاسی ذمہ داریاں مل گئیں تو میں اداکاری کو خیرباد کہہ دوں گی-

    باغی ٹی وی : ایک ویب سائٹ کو دیئے گئے انٹرویو میں گل رعنا کا کہنا تھا کہ وہ اداکارہ باقاعدہ سوچ کر نہیں بنی تھیں بلکہ وقت نے بنا دیا کیوںکہ وہ تو بطور پروڈیوسر ڈراموں میں کام کرتی تھیں لیکن اداکار و پروڈیوسر محمد احمد نے اصرار کرکے انہیں اداکاری کرنے پر مجبور کیا اور قسمت کا کرنا یہ ہوا کہ اداکاری ہی کرتی رہی۔

    گل رعنا نے سیاست میں انٹری سے متعلق سوال پر کہا کہ سیاست میں میرے آنے کا واقعہ کچھ اس طرح ہوا کہ ایک روز مجھے قیصر نظامانی کی کال موصول ہوئی انہوں نے بتایا کہ کلچرل ونگ ٹیم کی تشکیل نو ہو رہی ہے کیا اس میں نام دے دوں جس پر میں نے فوری پر طور پر رضامندی ظاہر کردی جس کے بعد سیاسی سفر شروع ہوا تو ہم آگے بڑھتے گئے۔

    سینئیر اداکارہ نے کہا کہ میرا تعلق سیاست سے ہے تو مزید سفر بھی اسی جانب جاری رہے گا میں 2018 کا الیکشن بھی لڑ چکی ہوں اداکاری اپنی جگہ لیکن میرا اصل مقصد اسمبلی ہی ہے اور اگر مجھے سیاسی ذمہ داریاں مل گئیں تو میں اداکاری کو خیرباد کہہ دوں گی۔

    انہوں نے یہ بھی کہا کہ انسان کو ہمیشہ ایک وقت میں ایک ہی کام کرنا چاہیے اور اگر میں اسمبلی میں جانے لگی تو پھر اداکاری کرنا مشکل ہوگا لیکن میں تھیٹر پھر بھی کروں گی کیوںکہ مجھے تھیٹر کرنا بہت پسند ہیں۔

    واضح رہے کہ مجھے خدا پر یقین ہے،پیار کے صدقے، فریاد، رقص بسمل، ڈنک جیسے سپرہٹ ڈراموں میں اداکاری کرنے والی گل رعنا نے چند سال قبل پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلال زرداری کے ساتھ بھی تصویر شیئر کی تھی۔

  • اداکارہ شگفتہ اعجاز کی والدہ کے انتقال پر شوبز فنکاروں کا اظہار افسوس

    اداکارہ شگفتہ اعجاز کی والدہ کے انتقال پر شوبز فنکاروں کا اظہار افسوس

    پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کی ورسٹائل اور سینئیراداکارہ شگفتہ اعجاز کی والدہ انتقال کرگئیں۔

    باغی ٹی وی : پاکستان ڈرامہ انڈسٹری کی نامور اور لیجنڈری اداکارہ شگفتہ اعجازکی والدہ علالت کے باعث انتقال کرگئی ہیں-

    شگفتہ اعجازنے انسٹاگرام پر اپنی والدہ کی تصویر شئیر کرتے ہوئےاس حوالے سے لکھا کہ میری مضبوط اورحوصلہ مند ماں اس دنیا میں نہیں رہیں۔ آپ کے ساتھ میری روح بھی آج مرگئی۔

    ذرائع کے مطابق طویل العمری کے باعث شگفتہ اعجاز کی والدہ کو متعدد طبی مسائل لا حق تھے، تاہم گزشتہ کچھ عرصے سے ان کی بیماریوں میں اضافہ ہوگیا تھا-

    اداکارہ نے اس سے قبل بھی اسپتال سے والدہ کے ساتھ ایک تصویر شیئرکی تھی جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ ’ماں راضی توسب راضی‘

    شگفتہ اعجاز کی والدہ کی وفات پر مداحوں اور شوبز ستاروں کی جانب سے افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے-

    سینئر اداکارہ صباء فیصل نے لکھا کہ اللہ تعالی آپ کی والدہ کی مغفرت فرمائے آمین جبکہ اداکار جنید خان نے بھی افسوس کا اظہار کیا-

    خیال رہے کہ شگفتہ اعجاز کی والدہ گزشتہ چند ماہ سے کافی علیل تھیں اور انہیں متعدد بار ہسپتال بھی منتقل کیا گیا اداکارہ والدہ کی ہسپتال میں علاج کی تصاویر و ویڈیوز شیئر کرتی رہتی تھیں، تاہم انہوں نے کبھی کھل کر والدہ کی بیماری سے متعلق کوئی معلومات نہیں دی تھی۔

  • انڈسٹری میں ایسے 50 افراد ہیں جو ذاتی وجوہات کی بنا پر میری فلمیں پسند نہیں کرتے   شاہ رخ خان

    انڈسٹری میں ایسے 50 افراد ہیں جو ذاتی وجوہات کی بنا پر میری فلمیں پسند نہیں کرتے شاہ رخ خان

    بالی ووڈ اداکار اور کنگ شاہ رخ خان کا کہنا ہے کہ ا جب لوگ میری فلمز پر تنقید کرتے ہیں تو مجھے بالکل برا نہیں لگتا لیکن اگر معاملات ذاتیات تک پہنچ جائیں تو یہ مجھے پسند نہیں-

    باغی ٹی وی : ایک انٹرویو میں شاہ رخ خان کا کہنا تھا کہ میں جانتا ہوں انڈسٹری میں ایسے 50 افراد ہیں جو ذاتی وجوہات کی بنا پر میری فلمیں پسند نہیں کرتے تاہم انڈسٹری سے باہر ایسے کروڑوں افراد ہیں جنہیں میری فلموں سے محبت ہے۔

    واضح رہے کہ شاہ رخ خان 2018 میں فلم ’زیرو‘ میں اداکارہ کترینہ کیف اور انوشکا شرما کے ساتھ نظر آئے تھے جب کہ آج کل اداکار اپنی نئی فلم پٹھان کی شوٹنگ میں مصروف ہیں جو آئندہ سال 2022 میں ریلیز ہوگی۔

    خیال رہے کہ حال ہی میں بالی ووڈ کی کامیاب ترین فلموں کی فہرست جاری ہوئی جس میں سلمان خان کی فلموں نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا ہے بھارتی میڈیا کے رپورٹس کے مطابق سپر ہٹ فلموں میں سُپر اسٹار سلمان خان نے سب کو پیھچے چھوڑدیا ہے سلمان خان کی تین فلموں نے 300 کروڑ،تین فلموں نے 200 کروڑ جبکہ نو فلموں نے 100 کروڑ سے زائد کا بزنس کیا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق اس فہرست میں ایکشن ہیرو اکشے کمار دوسرے نمبر پر ہیں اور ان کی 11 فلمز نے 100 کروڑ سے زائد کا بزنس کیا تاہم اکشے کی کوئی ایسی فلم نہیں جس نے200 یا 300 کروڑ سے زائد پیسے کمائے ہوں ۔

    بالی ووڈ کے مسٹر پرفیکشنسٹ عامر تیسرے نمبر پر ہیں جن کی صرف دو فلمیں ایسی تھیں جنہوں نے 300 کروڑ سے زائد جبکہ دو فلموں نے 100 کروڑ سے زائد کا بزنس کیا۔

    جبکہ اس فہرست میں اجے دیوگن چوتھے، شاہ رخ خان پانچویں ، ہرتیک روشن چھٹے اور رنویر سنگھ ساتویں نمبر پر ہیں۔

    سُپر ہٹ فلموں میں سلمان خان سب سے آگے ،عامر خان اور شاہ رخ کا کونسا نمبر ہے؟

  • میشا شفیع سمیت 4 شریک ملزمان کے پیش نہ ہونے پر عدالت برہم

    میشا شفیع سمیت 4 شریک ملزمان کے پیش نہ ہونے پر عدالت برہم

    ‏لاہور: علی ظفر کیخلاف سوشل میڈیا پر مہم چلانے کا کیس ایف آئی اے نے میشا شفیع کیخلاف چالان پیش کردیا-

    باغی ٹی وی :آج علی ظفر کیخلاف سوشل میڈیا پر مہم چلانے کے کیس کی سنوائی ہوئی جس میں میشا شفیع کی گواہ اداکارہ وفت عمر پیش ہوئیں –
    جبکہ میشا شفیع سمیت 4 شریک ملزمان کے پیش نہ ہونے پر عدالت برہم ہوگئی-

    ملزمہ عفت عمر عدالت میں پیش ہوئیں اور 4 ملزمان کی حاضری معافی کی درخواست دائر کی –

    جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کی ملزمان نے طبیعت ناساز ہونے کا بہانہ کیا ایک ساتھ سب کی طبیعت ناساز کیسے ہوگئی؟

    تاہم عدالت نے میشا شفیع سمیت تمام ملزمان کو 27 مارچ کو طلب کرلیا-

    دوسری جانب اور ایف آئی اے نے میشا شفیع کے خلاف عدالت کو چالان پیش کر دیا-

    واضح رہے کہ اس سے قبل میشا شفیع نے لاہور کی سیشن عدالت سے ویڈیو لنک کے ذریعے گلوکار علی ظفر کے دائر کردہ ہتک عزت کے دعوے پر جرح کی درخواست کی تھی کیونکہ وہ اور ان کے شوہر کورونا وائرس کی وجہ سے کینیڈا سے پاکستان نہیں آسکتے۔

    میشا شفیع کے وکیل، ایڈووکیٹ ثاقب جیلانی نے میشا شفیع کی والدہ اور سینئر اداکارہ صبا حمید کی موجودگی میں عدالت سے درخواست کی تھی

    وکیل نے عدالت کو بتایا تھا کہ گزشتہ برس مارچ میں ہتک عزت کے دعوے کی سماعت کرنے والے پہلے جج نے میشا شفیع کو بیرون ملک رہتے ہوئے ویڈیو لنک کے ذریعے اپنے گواہان کے بیانات حاصل کرنے کی اجازت دے دی تھی۔

    تاہم علی ظفر کے وکیل عمر گل نے ویڈیو لنک کے ذریعے جرح کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر میشا شفیع اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات کے لیے کورونا وائرس کی وبا کے عروج کے دوران پاکستان آسکتی ہیں تو عدالتی کارروائی کے لیے کیوں نہیں آسکتیں کینیڈا سے پاکستان آنے پر کوئی سفری پابندی عائد نہیں ہے۔

    سماعت کے دوران ایڈووکیٹ ثاقب جیلانی نے کہا تھا کہ اعلیٰ عدالتوں نے عدالت کے ذریعے منظور شدہ جگہ پر ویڈیو لنک کے ذریعے بیانات ریکارڈ کرنے کی اجازت دی ہے اس مقصد کے لیے بیرون ملک موجود پاکستانی سفارتخانوں یا قونصل خانے کے احاطوں کو استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔

    جس پر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج اظہر اقبال رانجھا نے میشا شفیع کے وکیل کو اس ضمن میں باضابطہ درخواست جمع کرنے کا کہا تھا کہ عدالت قانون کے مطابق درخواست پر فیصلہ سنائے گی۔

    یاد رہے کہ یہ کیس علی ظفر کی جانب سے میشا شفیع کے خلاف دائر کیا گیا تھا، ہتک عزت کا مذکورہ کیس علی ظفر نے اس وقت دائر کیا تھا جب گلوکارہ نے ان پر جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کیے تھے۔

    میشا شفیع نے اپریل 2018 میں اپنی ٹوئٹس میں علی ظفر پر جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کیے تھے۔

    جس کے بعد انہوں نے گورنر پنجاب اور محتسب اعلیٰ پنجاب میں علی ظفر کے خلاف جنسی ہراسانی کی شکایت بھی دائر کروائی تھیں مگر دونوں جگہوں سے ان کی درخواست مسترد کردی گئی تھی۔

    میشا شفیع اور علی ظفر کے درمیان جاری اس کیس کو 2 سال مکمل ہونے کو ہیں مگر تاحال کیس کا فیصلہ نہیں ہوسکا اور یہ کیس ملک کا اہم ترین ہتک عزت کا کیس بن چکا ہے

    علی ظفر میشا شفیع کیس: عفت عمر عدالت میں پھر پیش نہ ہو سکیں، لینا غنی نے بیان…

    50 کروڑ روپے ہرجانے کے کیس میں علی ظفر کو 15 فروری تک جواب جمع کروانے کی مہلت

    میشا شفیع علی ظفر کیس: میشا کے وکیل کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات غور طلب ہیں عدالت

    علی ظفر میشا شفیع کیس: عدالت نے ہتک عزت کے دعوے پر تحریری حکم جاری کر دیا

    علی ظفر میشا شفیع ہتک عزت کیس : عدالت نے میشا شفیع کو طلب کر لیا

    علی ظفر پگڑیاں اچھالنے والے مافیا کے سامنے ڈٹ گیا.

    میشا شفیع علی ظفرکیس: میشا شفیع نے عدالت میں پیش نہ ہونے کی وجہ بتا دی

    علی ظفر پر ہراسانی کا ایک اور الزام، خاتون کی جانب سے 50 کروڑ روپے ہرجانے کا دعویٰ

  • سُپر ہٹ فلموں میں سلمان خان سب سے آگے ،عامر خان اور شاہ رخ کا کونسا نمبر ہے؟

    سُپر ہٹ فلموں میں سلمان خان سب سے آگے ،عامر خان اور شاہ رخ کا کونسا نمبر ہے؟

    نیودہلی:بالی ووڈ انڈسٹری کی سپر ہٹ فلموں میں سُپر اسٹار سلمان خان نے سب کو پیھچے چھوڑدیا ہے۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے رپورٹس کے مطابق سپر ہٹ فلموں میں سُپر اسٹار سلمان خان نے سب کو پیھچے چھوڑدیا ہے سلمان خان کی تین فلموں نے 300 کروڑ،تین فلموں نے 200 کروڑ جبکہ نو فلموں نے 100 کروڑ سے زائد کا بزنس کیا ہے۔

    اس فہرست میں ایکشن ہیرو اکشے کمار دوسرے نمبر پر ہیں اور ان کی 11 فلمز نے 100 کروڑ سے زائد کا بزنس کیا تاہم اکشے کی کوئی ایسی فلم نہیں جس نے200 یا 300 کروڑ سے زائد پیسے کمائے ہوں ۔

    بالی ووڈ کے مسٹر پرفیکشنسٹ عامر تیسرے نمبر پر ہیں جن کی صرف دو فلمیں ایسی تھیں جنہوں نے 300 کروڑ سے زائد جبکہ دو فلموں نے 100 کروڑ سے زائد کا بزنس کیا۔

    جبکہ اس فہرست میں اجے دیوگن چوتھے، شاہ رخ خان پانچویں ، ہرتیک روشن چھٹے اور رنویر سنگھ ساتویں نمبر پر ہیں۔

  • چار ارب ساٹھ کروڑ سال پُرانا شہابی پتھر دریافت

    چار ارب ساٹھ کروڑ سال پُرانا شہابی پتھر دریافت

    کرہ ارض پر خود زمین سے بھی پرانا ایک شہابیہ ملا ہے اس کی عمر چار ارب ساٹھ کروڑ سال بتائی گئی ہے یعنی یہ زمینی تاریخ سے بھی پرانا ہے۔

    باغی ٹی وی :میڈیا رپورٹس کے مطابق اس نایاب ترین پتھر کو الجزائر کے ریگستان سے تلاش کیا گیا ہے یہ اپنی فطرت میں آتش فشانی پتھر ہےجو باقاعدہ صحارا ریگستان کا ایک حصہ ہے۔ 2020 میں جاپانی اور فرانسیسی ماہرین نے اسے دریافت کیا تھا اور اگلے ہی دن اس پر غوروفکر شروع کردیا تھا۔

    ماہرین کے مطابق خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ پتھرنظامِ شمسی بننے کے صرف 20 لاکھ سال بعد وجود پذیر ہوا ہےاس کا مطالعہ ہمیں اپنے نظامِ شمسی کے ماضی سے آگاہ کرے گا اور ہم زمین کے ارتقا کو بھی جان سکیں گے۔

    اس شہابیے کو ایرگ چیک 002 کا نام دیا گیا ہے اور مختصراً اسے ای سی 002 پکارا جارہا ہے کے بارے میں فرانس فرانس کی یونیورسٹی آف ڈی بریٹاگین آسیڈینڈل کے ماہر جین ایلکس بیرے نے کہا ہے کہ وہ گزشتہ 20 برس سے شہابیوں پر تحقیق کررہے ہیں اور یہ ان کی زندگی کی سب سے حیرت انگیز دریافت ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ زمین پر اس طرح کے پتھر اینڈیسائٹ کہلاتے ہیں جو ارضیاتی سبڈکشن زون میں عام پائے جاتے ہیں۔ ان مقامات پر زمین کی قدرتی ارضیاتی پلیٹیں ملتی ہیں اور ایک دوسرے سے نبردآزما رہتی ہیں لیکن اب تک جو پتھریلے شہابئے ملے ہیں وہ بیسالٹ سے بنے ہیں۔

    ابتدائی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہ پگھلے ہوئے مادے سے بنا ہے اور اپنی فطرت میں آتش فشانی ہے۔ پھر چار ارب ساٹھ کروڑ سال قبل یہ جم کر ٹھوس شکل اختیار کرگیا تھا۔

    خیال ہے کہ یہ شہابی پتھر کسی ایسے ناکام سیارے یا پروٹوپلانیٹ کا حصہ رہا ہے جو سیارہ تو نہ بن سکا لیکن ٹوٹ پھوٹ کر کہیں بکھر گیاتاہم ابھی اس پر تحقیق جاری ہے-

    سائنسدانوں نے کرہ ارض کے قریب نئی ’سپر ارتھ‘ دریافت کر لی

    زمین کے قریب سے گزرنےوالا پیرس کے ایفل ٹاور سے بھی بڑا 1115 فٹ سیارچہ

    جاپانی ارب پتی کا چاند پر جانے والوں کے لئے فری ٹکٹ کا اعلان

    خلاء میں بنایا جانے والا دنیا کا پہلا ہوٹل

  • کیا آپ جانتے ہیں؟  از قلم: محمد اختر نعیم

    کیا آپ جانتے ہیں؟ از قلم: محمد اختر نعیم

    کیا آپ جانتے ہیں؟
    از قلم: محمد اختر نعیم

    شنکیاری مانسہرہ میں دوسال قبل لگایا جانے والا ٹی پروسیسنگ پلانٹ ایک شخص کی کاوشوں سے پاکستان کو تحفہ میں ملا۔

    یہ نیشنل ٹی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر فرخ سیر حامد تھے جو اب ریٹائرڈ ہوچکے ہیں، وہ ترکیہ گئے ہوئے تھے جہاں انھوں نے ترکی کے شمال مشرقی علاقے رزے Rize میں چائے کے باغات اور ٹی پروسیسنگ پلانٹ کا دورہ بھی کیا اس موقع پر انھیں اس ڈنر میں مدعو کیا گیا جہاں ترک صدر طیب اردعان بھی مدعو تھے وہیں ترک صدر کی جناب حامد صاحب سے خصوصی ملاقات کرائی گئی، چونکہ حامد صاحب ترک النسل ہیں اور یہ بات جب ترک صدر کے علم میں آئی تو وہ بہت خوش ہوئے، انھوں نے حامد کی دلچسبی ایک پلانٹ میں دیکھی تو اسی وقت وہ پلانٹ تحفہ دینے کا اعلان کردیا اور یوں وہ پلانٹ پاکستان پہنچ گیا۔

    ملک کے لئے ایک اہم کام کرنے پر پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل یا حکومت کی جانب سے ان کے لئے کسی قسم کے تعریفی کلمات نہ کہے گئے اور نہ ہے انھیں کسی قسم کا کوئی ایوارڈ ملا۔ اسی طرح انھوں نے پاکستانی سبز چائے کی جاپان میں مارکیٹ بنائی وغیرہ
    فرخ سیر حامد ترک کاتعلق بفہ سے ہے، کیا یہ ہماری یہ ذمہ داری نہیں کہ ہم ایسے شخص کے لئے آواز اٹھا سکیں؟

    ٹی پروسیسنگ پلانٹ کی بات کہاں سے چلی اور اس کی پاکستان میں آمد اور تنصیب کے حوالے سے کیا کیا رکاوٹیں پیش آئیں، اس بارے کچھ اہم انکشافات چند روز میں اخبارات کی زینت بننے والے ہیں۔ انتظار فرمائیں۔

  • خودی کو کر بلند اتنا   از قلم:  ام شاہد

    خودی کو کر بلند اتنا از قلم: ام شاہد

    خودی کو کر بلند اتنا…
    ✍️از قلم: ام شاہد
    اپنے اخلاق و کردار سے دوسروں کو اتنا متاثر کریں کہ وہ تمہارے نقش قدم پر چلنا باعث فخر سمجھیں محبت کے قابل وہ لوگ ہوتے ہیں جو نیکی کر کے فراموش کر دیتے ہیں وہ انسان خوش نصیب ہوتے ہیں جو اپنے بلند کردار کی وجہ سے دوسروں کے لئے آئیڈیل یا ہیرو بن جاتے ہیــــــــں-

    لوگ جب آپ سے محبت کرتے ہیں تو اس کی وجہ صرف آپ کی شخصیت ہی نہیں ہوتی بلکہ اس کے پس پردہ آپ کا وہ کردار ہوتا ہے
    جو آپ کو چاہے جانے کے قابل بنا دیتا ھے یہ کردار آپکی طبعی موت کے بعد بھی آپ کو زندہ رکھتا ھے لوگ آپ کی غیر موجودگی میں آپ کے بارے مَیــــں جو رائے قائم کر تے ہیں-

    وہ آپ کے کردار کی عظمت و پستی کی بدولت وجود میں آئی ہیں لہٰذا یہ بات بعید از قیاس نہیں کہ باوجود اس کے کہ اس جہاں سے گزر جائیں گے-

    مگر اپنی عظمت و کردار کی بدولت ہمیشہ لوگوں کے دلوں میں زندہ رہیں
    یا پھر آپ کے کردار کی پستی آپ کو اس حد تک گرا دے کہ آپ موت سے پہلے ہی لوگوں کے دلوں میں مر جائیں
    یا پھر آپ اپنے کردار کو اتنا بلند کریں کہ آسمان آپ پر فخر کرے
    زمین آپ پر فخر کرے
    زندگی آپ پر فخر کرے
    موت بھی آپ پر فخر کرے
    سب سے بڑھ کر اللّٰــــــہ تعالیٰ آپ پر فخر کرے کیونکہ اللّٰــــــہ رب العزت نے تجھے پسند کیا اور اشراف المخلوقات کا لقب بلند کردار کی وجہ سے عطا فرمایا
    اسی لئے تو شاعر مشرق نے کہا کہ
    خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے……
    خدا بندے سے خود پوچھے بتا تری رضا کیا ہے؟

  • اچھی اور بری صحبت کے اثرات   بقلم: عمران محمدی

    اچھی اور بری صحبت کے اثرات بقلم: عمران محمدی

    اچھی اور بری صحبت کے اثرات

    بقلم: عمران محمدی عفا اللہ عنہ

    سچے لوگوں کے ساتھی بننے کے متعلق حکم الہی

    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ
    اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کے ساتھ ہو جاؤ۔
    التوبة : 119

    دو اینٹوں کی مثال

    ایک آدمی نے دو اینٹیں لی ایک اینٹ کو مسجد میں لگا دیا..
    اور ایک اینٹ بیت الخلا میں لگا دی
    اینٹیں ایک جیسی
    بنانے والا اک جیسا
    لگانے والا بھی ایک ہی آدمی
    لیکن ایک کی نسبت مسجد سے ہوئی اور ایک کی نسبت بیت الخلا سے
    جس اینٹ کی نسبت بیت الخلا سے ہوئی
    وہاں ہم ننگے پاوں بھی رکھنا پسند نہیں کرتے
    اور جس اینٹ کی نسبت بیت اللہ سے ہوئی
    وہاں ہم اپنی پیشانیاں ٹیکتے پھرتے ہیں
    دونوں کے رتبے میں فرق کیوں ہوا
    قیمت ایک تھی چیز بھی ایک تھی
    ایک ہی طریقے سے دونوں اینٹ ایک انسان نے لگائی بھی
    فرق صرف یہ تھا کہ دونوں کی نسبت الگ الگ تھی
    اپنی نسبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے رکھئیں
    صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے رکھیں
    یقینا بہت فرق پڑے گا اللہ والوں کی محفل اور اللہ والوں سے نسبت اللہ تک پہنچا دیتی ہے.

    دوستی، صحبت، مجلس اور تعلقات کے ماحول پر کیسے کیسے اثرات مرتب ہوتے ہیں

    مرغے اور گدھے کی صحبت میں فرق

    ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    «إِذَا سَمِعْتُمْ صِيَاحَ الدِّيَكَةِ فَاسْأَلُوا اللَّهَ مِنْ فَضْلِهِ، فَإِنَّهَا رَأَتْ مَلَكًا، وَإِذَا سَمِعْتُمْ نَهِيقَ الحِمَارِ فَتَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَإِنَّهُ رَأَى شَيْطَانًا»
    (بخاری ،كِتَابُ بَدْءِ الخَلْقِ،بَابٌ: خَيْرُ مَالِ المُسْلِمِ غَنَمٌ يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الجِبَالِ،3303)
    جب مرغ کی بانگ سنو تو اللہ سے اس کے فضل کا سوال کیا کرو ، کیوں کہ اس نے فرشتے کو دیکھا ہے اور جب گدھے کی آواز سنو تو شیطان سے اللہ کی پناہ مانگو کیو ںکہ اس نے شیطان کو دیکھا ہے

    اس حدیث سے یہ نکلا کہ نیک لوگوں کی صحبت میں دعا کرنا مستحب ہے۔ کیوں کہ قبول ہونے کی امید زیادہ ہوتی ہے۔

    سیدنا زید بن خالد ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
    لَا تَسُبُّوا الدِّيكَ, فَإِنَّهُ يُوقِظُ لِلصَّلَاةِ
    (ابوداؤد ،كِتَابُ النَّومِ،بَابُ مَا جَاءَ فِي الدِّيكِ وَالْبَهَائِمِ،5101صحیح)
    ” مرغ کو گالی مت دیا کرو ، اس لیے کہ یہ نماز کے لیے جگاتا ہے ۔ “

    گھوڑوں اور بکریوں کی صحبت میں فرق

    بکریوں کی طبعیت میں چونکہ نرمی ہوتی ہے اس لیے بکریوں کے ساتھ رہنے کی وجہ سے انسان کی طبیعت نرم ہوتی ہے اور اونٹوں اور گھوڑوں کی طبیعت میں چونکہ نخرا، سختی اور شیخی ہوتی ہے اس لئے ان کے ساتھ رہنے کی وجہ سے انسان کی طبیعت میں بھی فخر اور تکبر پیدا ہوتا ہے

    حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    «رَأْسُ الكُفْرِ نَحْوَ المَشْرِقِ، وَالفَخْرُ وَالخُيَلاَءُ فِي أَهْلِ الخَيْلِ وَالإِبِلِ، وَالفَدَّادِينَ أَهْلِ الوَبَرِ، وَالسَّكِينَةُ فِي أَهْلِ الغَنَمِ»
    (بخاری ،كِتَابُ بَدْءِ الخَلْقِ،بَابٌ: خَيْرُ مَالِ المُسْلِمِ غَنَمٌ يَتْبَعُ بِهَا شَعَفَ الجِبَالِ،3301)
    کفر کی چوٹی مشرق میں ہے اور فخر اور تکبر کرنا گھوڑے والوں ، اونٹ والوں اور زمینداروں میں ہوتا ہے جو ( عموماً ) گاوں کے رہنے والے ہوتے ہیں اور بکری والوں میں دل جمعی ہوتی ہے ۔

    درندوں کی کھال کے قالین وغیرہ استعمال کرنے سے منع فرمایا

    حضرت ابوملیح بن اسامہ رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے
    نَہٰی عَنْ جُلُوْدِ السَّبَاعِ ۔
    رَوَاہُ اَحْمَدُ وَاَبُوْدَاؤُدَ وَالنَّسَائِیُّ
    درندوں کی کھال استعمال کرنے سے منع فرمایاہے۔

    وَزَادَ التِّرْمِذِیُّ وَالدَّارِمِیُّ :
    ترمذی اور دارمی نے اس حدیث میں ان الفاظ کا اضافہ کیاہے
    اَنْ تُفْتَرَشَ
    (صحیح)
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے درندوں کی کھال نیچے بچھانے سے منع فرمایاہے۔

    اس کی وجہ یہ ہے کہ خونخوار درندوں سے بنی ہوئی اشیاء کی صحبت کا انسان کی طبیعت پر یہ برا اثر پڑتا ہے کہ اس کے اندر بھی درندگی کے اوصاف در آتے ہیں

    مردوں پر ریشم اور سونے کے زیورات حرام قرار دینے میں حکمت

    سیدنا علی بن ابی طالب ؓ نے بیان کیا کہ اللہ کے نبی کریم ﷺ نے
    أَخَذَ حَرِيرًا فَجَعَلَهُ فِي يَمِينِهِ وَأَخَذَ ذَهَبًا فَجَعَلَهُ فِي شِمَالِهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ هَذَيْنِ حَرَامٌ عَلَى ذُكُورِ أُمَّتِي
    (ابو داؤد، كِتَابُ اللِّبَاسِ،بَابٌ فِي الْحَرِيرِ لِلنِّسَاءِ،4057)
    ریشم لیا اور اپنے دائیں ہاتھ میں پکڑا اور سونا لیا اور اپنے بائیں ہاتھ میں پکڑا ‘ پھر فرمایا ” بلاشبہ یہ دونوں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں ۔ “

    اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ چونکہ نرم اور ملائم ہیں یا نرمی کو لازم ہیں لہذا ان کے استعمال سے مردوں کی طبیعت میں نزاکت، آرام پسندی، کمزوری اور بزدلی پیدا ہو گی-

    جیسا کہ اللہ نے یہی بات عورت کے متعلق زیوارت کے استعمال کی وجہ سے بیان کی ہے
    فرمایا
    أَوَمَنْ يُنَشَّأُ فِي الْحِلْيَةِ وَهُوَ فِي الْخِصَامِ غَيْرُ مُبِينٍ
    اور کیا (اس نے اسے رحمان کی اولاد قرار دیا ہے) جس کی پرورش زیور میں کی جاتی ہے اور وہ جھگڑے میں بات واضح کرنے والی نہیں؟
    الزخرف : 18

    اصحاب کہف کی چوکیداری کی وجہ سے کتے کا تذکرہ تاقیامت باقی رکھا گیا

    کتا ایک ایسا جانور ہے کہ جس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    [ لاَ تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيْهِ كَلْبٌ وَلاَ تَصَاوِيْرُ ]
    [ بخاری، اللباس، باب التصاویر : ۵۹۴۹ ]
    ’’فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جہاں کتا یا تصویر ہو۔‘‘

    لیکن جب وہی کتا چند نیک افراد کی چوکیداری کے لیے ان کے ساتھ چلا تو اللہ تعالیٰ نے صحبت صالحین کی وجہ سے ناصرف یہ کہ محل مدح میں اس کا تذکرہ کیا بلکہ تاقیامت اس کی یاد زندہ کردی
    فرمایا
    وَكَلْبُهُمْ بَاسِطٌ ذِرَاعَيْهِ بِالْوَصِيدِ
    اور ان کا کتا اپنے دونوں بازو دہلیز پر پھیلائے ہوئے ہے۔
    الکہف :18

    ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ محبت کی وجہ سے ایک جانور کی جان بخشی اور دشمنی کی وجہ سے دوسرے کے قتل کا حکم

    ام شریک رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھپکلی کو مار دینے کا حکم دیا اور فرمایا :
    [ وَكَانَ يَنْفُخُ عَلٰی إِبْرَاهِيْمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ ]
    [ بخاري، الأنبیاء، باب قولہ تعالٰی: « واتخذ اللہ إبراہیم خلیلا… » : ۳۳۵۹ ]
    ’’یہ ابراہیم علیہ السلام پر پھونکیں مارتی تھی۔‘‘

    محدث عبد الرزاق نے اپنی مصنف (۸۳۹۲) میں معمر عن الزہری عن عروہ عن عائشہ رضی اللہ عنھا روایت کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    [ كَانَتِ الضِّفْدَعُ تُطْفِئُ النَّارَ عَنْ إِبْرَاهِيْمَ وَكَانَ الْوَزَغُ يَنْفُخُ فِيْهِ فَنَهَی عَنْ قَتْلِ هٰذا وَ أَمَرَ بِقَتْلِ هٰذَا ]
    ’’مینڈک ابراہیم علیہ السلام سے آگ بجھاتے تھے اور چھپکلی اس میں پھونکیں مارتی تھی، سو انھیں قتل کرنے سے منع فرمایا اور اسے قتل کرنے کا حکم دیا۔‘‘

    اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں :
    [ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِهِ ]
    [ بخاري : ۳۳۰۶ ] ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے(چھپکلی کو) قتل کرنے کا حکم دیا ہے۔‘‘

    اچھے اور برے دوست کی مثال

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    [ مَثَلُ الْجَلِيْسِ الصَّالِحِ وَالسَّوْءِ كَحَامِلِ الْمِسْكِ وَ نَافِخِ الْكِيْرِ، فَحَامِلُ الْمِسْكِ إِمَّا أَنْ يُّحْذِيَكَ وَ إِمَّا أَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ وَ إِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيْحًا طَيِّبَةً، وَ نَافِخُ الْكِيْرِ إِمَّا أَنْ يُحْرِقَ ثِيَابَكَ وَ إِمَّا أَنْ تَجِدَ رِيْحًا خَبِيْثَةً ]
    [ بخاري، الذبائح و الصید، باب المسک : ۵۵۳۴، عن أبي موسٰی رضی اللہ عنہ ]
    ’’نیک اور برے ہم نشین کی مثال کستوری رکھنے والے اور بھٹی دھونکنے والے کی ہے، کستوری رکھنے والا یا تو تجھے عطیہ دے دے گا، یا تو اس سے خرید لے گا، یا اس سے عمدہ خوشبو پاتا رہے گا اور بھٹی دھونکنے والا یا تو تیرے کپڑے جلا دے گا، یا تو اس سے گندی بو پاتا رہے گا۔‘‘

    نیک لوگوں کی صحبت کی تمنا کیجئے

    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    وَمَا لَنَا لَا نُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَمَا جَاءَنَا مِنَ الْحَقِّ وَنَطْمَعُ أَنْ يُدْخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصَّالِحِينَ
    اور ہمیں کیا ہے کہ ہم اللہ (پر) اور اس چیز پر ایمان نہ لائیں جو حق میں سے ہمارے پاس آئی ہے اور یہ طمع نہ رکھیں کہ ہمارا رب ہمیں نیک لوگوں کے ساتھ داخل کر لے گا۔
    المائدة : 84

    نیک لوگوں کے پیچھے چلنے اور ان کے ساتھی بننے کی دعا سکھاتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے یوں تعلیم دی ہے
    فرمایا
    اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ
    ہمیں سیدھے راستے پر چلا۔
    الفاتحة : 6
    صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ
    ان لوگوں کے راستے پر جن پر تو نے انعام کیا، جن پر نہ غصہ کیا گیا اور نہ وہ گمراہ ہیں۔
    الفاتحة : 7

    مومن کے علاوہ کسی اور کو اپنا ساتھی نہ بناؤ

    ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺکو فرماتے ہوئے سنا :
    لَا تُصَاحِبْ إِلَّا مُؤْمِنًا وَلَا يَأْكُلْ طَعَامَكَ إِلَّا تَقِيٌّ
    (ترمذی ،ابْوَابُ الزُّهْدِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ،بَاب مَا جَاءَ فِي صُحْبَةِ الْمُؤْمِنِ،​2395)
    مومن کے سوا کسی کی صحبت اختیار نہ کرو، اور تمہارا کھانا صرف متقی ہی کھائے

    سچے لوگوں کے ساتھی بننے کے متعلق حکم الہی

    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ
    اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کے ساتھ ہو جاؤ۔
    التوبة : 119

    ہر آدمی قیامت کے دن اپنے دوستوں کے ساتھ اٹھایا جائے گا

    انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    «إِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ»
    (بخاري ،بَابُ عَلاَمَةِ حُبِّ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ،6168)
    تم قیامت کے دن ان کے ساتھ ہو گے جس سے تم محبت رکھتے ہو

    اور ایک روایت میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    «المَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ»
    (بخاری ،كِتَابُ الأَدَبِ،بَابُ عَلاَمَةِ حُبِّ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ،6168)
    انسان اس کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت رکھتا ہے

    سیدنا ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
    مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ
    (ابو داؤد، كِتَابُ اللِّبَاسِ،بَابٌ فِي لُبْسِ الشُّهْرَةِ،4031حسن)
    ” جس نے کسی قوم سے مشابہت اختیار کی تو وہ انہی میں سے ہوا ۔ “

    متقی لوگ قیامت کے دن اپنے دوستوں کی سفارش کریں گے

    اللہ تعالیٰ نے فرمایا
    الْأَخِلَّاءُ يَوْمَئِذٍ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ إِلَّا الْمُتَّقِينَ
    سب دلی دوست اس دن ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے مگر متقی لوگ۔
    الزخرف : 67

    امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا:

    "جب اہل جنت، جنت میں داخل کیے جائیں گے اور وہ وہاں ان لوگوں کو نہیں پائیں گے جن کے ساتھ وہ دنیا میں خیر کے کاموں پر ہوا کرتے تھے، تو وہ ان کے بارے میں رب العزت سے سوال کریں گے، اور کہیں گے
    "اے ہمارے رب! ہمارے بھائی ہوا کرتے تھے جو ہمارے ساتھ نماز پڑھتے تھے اور روزے رکھتے تھے۔ ہم انہیں یہاں نہیں دیکھتے۔؟

    تو اللہ عزوجل و تعالی فرمائیں گے،
    (جاؤ آگ سے انہیں نکال لاؤ جن کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہے)

    حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا:

    مؤمن دوست بنانے میں کثرت سے کام لو، کیونکہ قیامت کے دن ان کے لیے شفاعت (کرنے کا اختیار) ہوگا۔
    وفادار دوست : وہ ہے جو تمہارے ساتھ جنت تک جائے!

    ابن جوزي رحمہ اللہ فرماتے ہیں

    اگر تم جنت میں مجھے اپنے درمیان نہ پاؤ تو میرے بارے میں سوال کرنا
    پھر کہنا
    "اے ہمارے رب! تیرا فلاں بندہ ہمیں تیری یاد دلاتا تھا۔
    پھر آپ رحمہ اللہ رو دئیے
    اللہ تعالی وسیع رحمت نازل فرمائے

    جہنمی خواہش کریں گے کہ کاش ہمارا کوئی نیک دوست ہوتا جو ہماری سفارش کرتا اور ہمیں چھڑا لیتا

    اللہ تعالیٰ نے فرمایا جہنمی لوگ کہیں گے

    وَمَا أَضَلَّنَا إِلَّا الْمُجْرِمُونَ
    اور ہمیں گمراہ نہیں کیا مگر ان مجرموں نے۔
    الشعراء : 99
    فَمَا لَنَا مِنْ شَافِعِينَ
    اب نہ ہمارے لیے کوئی سفارش کرنے والے ہیں۔
    الشعراء : 100
    وَلَا صَدِيقٍ حَمِيمٍ
    اور نہ کوئی دلی دوست۔
    الشعراء : 101

    یعنی کفار کا قیامت کے دن کوئی دلی دوست ہو گا نہ رشتے دار، سب ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے، جب کہ مومنوں کے دوست انبیاء، فرشتے اور تمام مومن ہوں گے

    دوست انسان کی پہچان ہوتے ہیں لہذا اچھے لوگوں کو دوست بنائیں

    عدي بن زيد نے کہا ہے

    إِذَا كُنْتَ فِي قَوْمٍ فَصَاحِبْ خَيَارَهُمْ
    وَلَا تُصَاحِبِ الأَرْدَى فَتَرْدَى مَعَ الرَّدِي

    عَنِ المَرءِ لاَ تَسْأَلْ وَاسئَلْ عَنْ قَرِينِهِ
    فَكُلّ قَرِينٍ بالمُقَارِنِ يَقْتَدِي

    جب تولوگوں کے درمیان ہو تو ان میں بہترشخص کو اپنا ساتھی بنا،اور یاد رکھ کہ خراب اوربدمزاج انسان کو اپنا ساتھی اوردوست نہ بنانا،چونکہ اس سے دوستی تیری خرابی کا باعث بنے گی۔
    آدمی کے بارے میں معلومات نہ لے بلکہ اس کے دوست یا ساتھی کے بارے میں معلومات لے
    چونکہ ہر دوست اور ساتھی اپنے ہم جولیوں کی اتباع کرتا ہے

    عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ

    عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
    «اعْتَبِرُوا النَّاسَ بِأَخْدَانِهِمْ»
    [الطبراني ,المعجم الكبير للطبراني8919 ,9/187]
    لوگوں کو ان کے دوستوں سے پہچانو

    آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے

    آدمی کو خوب سوچ سمجھ کر دوست کا انتخاب کرنا چاہیے۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
    [ اَلرَّجُلُ عَلٰی دِيْنِ خَلِيْلِهِ فَلْيَنْظُرْ أَحَدُكُمْ مَنْ يُّخَالِلُ ]
    [ أبوداوٗد، الأدب، باب من یؤمر أن یجالس : ۴۸۳۳، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ و حسنہ الألباني ]
    ’’آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، اس لیے تم میں سے ہر ایک کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کسے دلی دوست بنا رہا ہے۔‘‘

    مربہ اور سرکہ کی مثال

    کچھ گاجریں خریدیں ان میں سے آدھی پانی اور چینی میں ڈال دیں اور آدھی پانی اور نمک میں ڈال دیں

    کچھ دنوں کے بعد آپ دیکھیں گے گے کہ پہلے والی مربہ اوربعدوالی سرکہ بن چکی ہیں

    گاجر وہی ہے لیکن ماحول تبدیل ہوا ہے
    پس اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ نیک بنیں تو نیک لوگوں کے ساتھ رہیں اور اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ برے بنیں نے تو برے لوگوں کے ساتھ رہیں

    یہودی کے بیٹے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت فائدہ دے گئی

    انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
    ایک یہودی لڑکا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا، ایک دن وہ بیمار ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا مزاج معلوم کرنے کے لیے تشریف لائے اور اس کے سرہانے بیٹھ گئے اور فرمایا:
    أَسْلِمْ
    مسلمان ہوجا۔
    اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا، باپ وہیں موجود تھا۔ اس نے کہا
    أَطِعْ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمَ
    ( کیا مضائقہ ہے )
    ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ کہتے ہیں مان لے۔ چنانچہ وہ بچہ اسلام لے آیا۔
    جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْقَذَهُ مِنَ النَّارِ
    شکر ہے اللہ پاک کا جس نے اس بچے کو جہنم سے بچا لیا
    بخاری 1356

    پیغمبر کا بیٹا اور بیوی ہونے کے باوجود بری صحبت لے ڈوبی

    نوح علیہ السلام کے بیٹے اور لوط علیہ السلام کی بیوی کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ دونوں کو اللہ تعالیٰ نے بہت بڑے اعزاز سے نوازا تھا
    اور کو پیغمبر کا بیٹا بنایا تو دوسری کو پیغمبر کی بیوی بنایا
    مگر افسوس کہ دونوں کے تعلقات اور مراسم برے لوگوں کے ساتھ ہونے کی وجہ سے دونوں دھتکار دیئے گئے

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کو برے دوست جہنم لے گئے

    صحیح بخاری و مسلم میں موجود ہے کہ جب ابوطالب کی وفات کا وقت قریب آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے۔ دیکھا تو ان کے پاس اس وقت ابوجہل بن ہشام اور عبداللہ بن ابی امیہ بن مغیرہ موجود تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ چچا! آپ ایک کلمہ «لا إله إلا الله» ( اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں کوئی معبود نہیں ) کہہ دیجئیے تاکہ میں اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کلمہ کی وجہ سے آپ کے حق میں گواہی دے سکوں۔ اس پر ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ مغیرہ نے کہا ابوطالب! کیا تم اپنے باپ عبدالمطلب کے دین سے پھر جاؤ گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم برابر کلمہ اسلام ان پر پیش کرتے رہے۔ ابوجہل اور ابن ابی امیہ بھی اپنی بات دہراتے رہے۔ آخر ابوطالب کی آخری بات یہ تھی کہ وہ عبدالمطلب کے دین پر ہیں۔ انہوں نے «لا إله إلا الله» کہنے سے انکار کر دیا

    مامون الرشید کو خلق قرآن پر قائل کرنے والا اس کا ایک دوست ہی تھا

    یہ فتنہ برپا کرنے والا شخص قاضی احمد بن ابودائود تھا۔ یہ بڑا عالم فاضل اور فصیح و بلیغ آدمی تھا معتزلی عقیدہ کا مالک تھا۔ خلیفہ مامون کے بہت قریب تھا۔ اپنی قابلیت کی وجہ سے مامون کے دماغ پر چھا گیا اور اسکو قرآن کے مخلوق ہونے کے عقیدہ کی ترویج و اشاعت پر آمادہ کیا اس نے خلیفہ مامون کو پٹی پڑھائی کہ قرآن مخلوق ہے۔ اس عقیدے کی اشاعت کی جانی چاہیے
    مامون نے روم و ایران اور ہندوستان وغیرہ سے منطق و فلسفہ کی کتابیں جمع کیں اور ان کے ترجمے کراۓ ان کی اشاعت ہوئی جس کی وجہ سے طرح طرح کے شکوک وشبہات عوام میں پیدا ہونے لگے

    شیعہ استاد کی صحبت کا اثر

    "ملک محمد سبحان(صوفی محمد عبداللہ کے دادا) اور ان کے بیٹے قادر بخش فقہی مسلک کے اعتبار سے حنفی تھے۔ ملک قادر بخش کے ایک لڑکے ملک محمد رمضان اور داماد منشی محمد دین نے شیعہ مذہب اختیار کر لیا تھا۔
    وہ اس طرح کہ ایک شخص ماسٹر برکت علی سے جو شیعہ تھے، یہ ٹیوشن پڑھا کرتے تھے؛ ان سے متاثر ہو کر یہ بھی شیعہ ہو گئے۔
    ملک قادر بخش نے ان کو بہت سمجھایا، سختی بھی کی، لیکن یی شیعہ ہی رہے۔
    ان دونوں کی اولاد میں سے بھی زیادہ افراد شیعہ ہی۔*

    صوفی محمد عبداللہ رحمہ اللہ
    حیات، خدمات، آثار

    اہل بدعت اور گمراہ لوگوں کی اچھی باتوں سے بھی دور ہی رہیں

    خلیفہ مامون کے واقعہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نہ صرف یہ کہ بدعقیدہ لوگوں کی صحبت سے دور رہنا چاہئے بلکہ ان کی کتب سے بھی بچ کر رہیں

    امام احمد رحمه الله حارث محاسبي جیسے زاہد كى اچھی اچھی خشوع وزهد والى كتابوں سے سختى سے منع كرتے
    اسی طرح محدث كبير إمام ابوزرعة الرازي رحمه الله وغيرهم اور دیگر کہتے جس کیلئے كتاب الله وسنة رسوله صلى الله عليه وسلم اور سلف كى كتب میں ہدایت نہیں اسکو ان بدعتيوں کی کتابوں سے کہاں ہدایت مل سکتی

    اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
    وَلَا تَتَّبِعُوا أَهْوَاءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوا مِنْ قَبْلُ وَأَضَلُّوا كَثِيرًا وَضَلُّوا عَنْ سَوَاءِ السَّبِيلِ
    اور اس قوم کی خواہشوں کے پیچھے مت چلو جو اس سے پہلے گمراہ ہو چکے اور انھوں نے بہت سوں کو گمراہ کیا اور وہ سیدھے راستے سے بھٹک گئے۔
    المائدة : 77

    اہل بدعت، آیاتِ الہی میں کجی کے متلاشی اور ظالم لوگوں کی دوستی سے پرہیز کریں

    فرمایا
    وَإِذَا رَأَيْتَ الَّذِينَ يَخُوضُونَ فِي آيَاتِنَا فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ وَإِمَّا يُنْسِيَنَّكَ الشَّيْطَانُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرَى مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ
    اور جب تو ان لوگوں کو دیکھے جو ہماری آیات کے بارے میں (فضول) بحث کرتے ہیں تو ان سے کنارہ کر، یہاں تک کہ وہ اس کے علاوہ بات میں مشغول ہو جائیں اور اگر کبھی شیطان تجھے ضرور ہی بھلا دے تو یاد آنے کے بعد ایسے ظالم لوگوں کے ساتھ مت بیٹھ۔
    الأنعام : 68

    یعنی جب تم ایسے لوگوں کی مجلس دیکھو جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے احکام کا مذاق اڑا رہے ہوں، یا عملاً ان کی بے قدری کر رہے ہوں، یا وہ اہل بدعت ہوں جو اپنی بے جا تاویلوں اور تحریفات سے آیات الٰہی کو توڑ مروڑ رہے ہوں، یا ان پر نکتہ چینی کر رہے ہوں اور الٹے سیدھے معنی پہنا کر ان کا مذاق اڑا رہے ہوں، تو اس مجلس سے اس وقت تک کنارہ کرو جب تک وہ دوسری باتوں میں مشغول نہ ہو جائیں اور اگر شیطان کے بھلانے سے اس مجلس میں بیٹھ ہی جاؤ تو یاد آنے کے بعد ان ظالموں کی مجلس میں بیٹھے نہ رہو۔

    اہل بدعت کی صحبت اس صحبت سے بھی کئی درجے بدتر ہے جس میں گناہوں کا علانیہ ارتکاب ہو رہا ہو، خصوصاً اس شخص کے لیے جو علمی اور ذہنی طور پر پختہ نہ ہو اور بدعتیوں کی غلط تاویلوں کی غلطی سمجھنے کی اہلیت نہ رکھتا ہو۔

    سورہ نساء میں ہے
    فَلَا تَقْعُدُوا مَعَهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ إِنَّكُمْ إِذًا مِثْلُهُمْ
    تو ان کے ساتھ مت بیٹھو، یہاں تک کہ وہ اس کے علاوہ کسی اور بات میں مشغول ہو جائیں۔ بے شک تم بھی اس وقت ان جیسے ہو۔
    (النساء، آیت 140)

    برے شخص کی صحبت اس کے مرنے کے بعد بھی ناقابل قبول قرار

    ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    أَسْرِعُوا بِالْجِنَازَةِ فَإِنْ تَكُ صَالِحَةً فَخَيْرٌ تُقَدِّمُونَهَا وَإِنْ يَكُ سِوَى ذَلِكَ فَشَرٌّ تَضَعُونَهُ عَنْ رِقَابِكُمْ
    (بخاری ،كِتَابُ الجَنَائِزِ،بَابُ السُّرْعَةِ بِالْجِنَازَةِ،1315)
    کہ جنازہ لے کر جلد چلا کرو کیونکہ اگر وہ نیک ہے تو تم اس کو بھلائی کی طرف نزدیک کررہے ہو اور اگر اس کے سوا ہے تو ایک شر ہے جسے تم اپنی گردنوں سے اتارتے ہو

    اپنے آپ کو فاحش قسم کےلوگوں کی بری صحبت سے دور رکھیں

    اپنی عزت، دین، ایمان اور تقویٰ کی حفاظت کے لئے ہمیں ان تمام دوستوں، سوسائٹیز، مقامات اور اشیاءسے دوری اختیار کرنی چاہئے جو فتنہ وفساد کا باعث بن سکتی ہیں
    جیسے بازار، مخرب اخلاق میگزین اور رسائل، حیا سوز فلمیں، ٹی وی چینلز، انٹر نیٹ کے ویب سائٹس اور عریاں اشتہارات وغیرہ وغیرہ

    ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’
    الرَّجُلُ عَلَى دِينِ خَلِيلِهِ فَلْيَنْظُرْ أَحَدُكُمْ مَنْ يُخَالِلُ
    آدمی اپنے دوست کے دین پرہوتا ہے ، اس لیے تم میں سے ہرشخص کویہ دیکھنا چاہئے کہ وہ کس سے دوستی کررہاہے
    ترمذي /2378

    لہذا ایسی مجالس، دوستیاں اور سوسائٹیز ، بالخصوص غیر اسلامی ممالک میں رہائش پذیر ہونے سے اپنے آپ کو بچا کر رکھا جائے جہاں زنا کاری اور بدکاری کو گناہ نہیں سمجھا جاتا

    اگر اللہ تعالیٰ کا خاص فضل نہ ہو تو بری دوستی کا نتیجہ کتنا مہلک ہے۔

    سورہ صافات میں اللہ تعالیٰ نے جنتی لوگوں کی مجالس کا تذکرہ کیا ہے کہ جنتی جنت میں لگی مجلسوں میں بیٹھے ہوئے ایک دوسرے سے دنیا میں گزرے ہوئے حالات و واقعات پوچھیں گے اور سنائیں گے
    ان میں سے ایک جنتی کہے گا، دنیا میں میرا ایک ساتھی تھا، جو مرنے کے بعد اٹھنے کا منکر تھا، وہ مذاق کرتے ہوئے انکار کے طور پر کہا کرتا تھا کہ کیا واقعی تم بھی ان لوگوں میں شامل ہو جو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے جیسی بعید از عقل بات کو مانتے ہیں، کیا جب ہم مرکر مٹی اور ہڈیاں ہو گئے تو کیا واقعی ہمیں ہمارے اعمال کی جزا دی جائے گی؟
    پھر وہ مومن اپنے جنتی ساتھیوں اور ہم نشینوں سے کہے گا، کیا تم جہنم میں جھانکو گے، شاید وہ کہیں نظر آجائے تو دیکھیں کس حال میں ہے؟
    چنانچہ وہ مومن اپنے دوستوں کے ساتھ جھانکے گا تو قیامت کے اس منکر کو بھڑکتی ہوئی آگ کے وسط میں دیکھے گا۔
    پھر وہ اسے مخاطب کر کے کہے گا، اللہ کی قسم ! یقینا تو قریب تھا کہ مجھے راہ راست سے بہکا کر ہلاک کر دیتا۔

    اس ساری گفتگو کو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں یوں بیان کیا ہے
    فرمایا
    فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ يَتَسَاءَلُونَ
    پھر ان کے بعض بعض کی طرف متوجہ ہوں گے، ایک دوسرے سے سوال کریں گے۔
    الصافات : 50
    قَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ إِنِّي كَانَ لِي قَرِينٌ
    ان میں سے ایک کہنے والا کہے گا بے شک میں، میرا ایک ساتھی تھا۔
    الصافات : 51
    يَقُولُ أَإِنَّكَ لَمِنَ الْمُصَدِّقِينَ
    وہ کہا کرتا تھا کہ کیا واقعی تو بھی ماننے والوں میں سے ہے۔
    الصافات : 52
    أَإِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا وَعِظَامًا أَإِنَّا لَمَدِينُونَ
    کیا جب ہم مر گئے اور ہم مٹی اور ہڈیاں ہو گئے تو کیا واقعی ہم ضرور جزا دیے جانے والے ہیں؟
    الصافات : 53
    قَالَ هَلْ أَنْتُمْ مُطَّلِعُونَ
    کہے گا کیا تم جھانک کر دیکھنے والے ہو؟
    الصافات : 54
    فَاطَّلَعَ فَرَآهُ فِي سَوَاءِ الْجَحِيمِ
    پس وہ جھانکے گا تو اسے بھڑکتی آگ کے وسط میں دیکھے گا۔
    الصافات : 55
    قَالَ تَاللَّهِ إِنْ كِدْتَ لَتُرْدِينِ
    کہے گا اللہ کی قسم! یقینا تو قریب تھا کہ مجھے ہلاک ہی کر دے۔
    الصافات : 56
    وَلَوْلَا نِعْمَةُ رَبِّي لَكُنْتُ مِنَ الْمُحْضَرِينَ
    اور اگر میرے رب کی نعمت نہ ہوتی تو یقینا میں بھی ان میں ہوتا جو حاضر کیے گئے ہیں۔
    الصافات : 57

    برا دوست عذاب الہی کی ایک شکل ہے

    جب کوئی شخص دنیا کی زیب و زینت میں ہمہ تن مشغول ہو جاتا ہے اور اللہ کے ذکر سے غافل ہو جاتا ہے،تو فرشتے اس سے نفرت کرتے ہیں اور شیطان اور غلط دوست اس سے چمٹ جاتے ہیں، جو اسے ہر برائی میں مبتلا کرنے کی سر توڑ کوشش کرتے ہیں۔

    فرمایا
    وَمَنْ يَعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمَنِ نُقَيِّضْ لَهُ شَيْطَانًا فَهُوَ لَهُ قَرِينٌ
    اور جو شخص رحمن کی نصیحت سے اندھا بن جائے ہم اس کے لیے ایک شیطان مقرر کردیتے ہیں، پھر وہ اس کے ساتھ رہنے والا ہوتا ہے۔
    (الزخرفآیت 36)
    وَإِنَّهُمْ لَيَصُدُّونَهُمْ عَنِ السَّبِيلِ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ مُهْتَدُونَ
    اور بے شک وہ ضرور انھیں اصل راستے سے روکتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ بے شک وہ سیدھی راہ پر چلنے والے ہیں ۔
    الزخرف : 37
    حَتَّى إِذَا جَاءَنَا قَالَ يَا لَيْتَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ بُعْدَ الْمَشْرِقَيْنِ فَبِئْسَ الْقَرِينُ
    یہاں تک کہ جب وہ ہمارے پاس آئے گا تو کہے گا اے کاش! میرے درمیان اور تیرے درمیا ن دو مشرقوں کا فاصلہ ہوتا، پس وہ برا ساتھی ہے۔
    الزخرف : 38
    وَلَنْ يَنْفَعَكُمُ الْيَوْمَ إِذْ ظَلَمْتُمْ أَنَّكُمْ فِي الْعَذَابِ مُشْتَرِكُونَ
    اور آج یہ بات تمھیں ہرگز نفع نہ دے گی، جب کہ تم نے ظلم کیا کہ بے شک تم (سب) عذاب میں شریک ہو۔
    الزخرف : 39

    قیامت کے دن انسان خواہش کرے گاکاش کہ میں فلاں کو دلی دوست نہ بناتا

    فرمایا
    وَيَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَى يَدَيْهِ يَقُولُ يَا لَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلًا
    اور جس دن ظالم اپنے دونوں ہاتھ دانتوں سے کاٹے گا، کہے گا اے کاش! میں رسول کے ساتھ کچھ راستہ اختیار کرتا۔
    الفرقان : 27
    يَا وَيْلَتَى لَيْتَنِي لَمْ أَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيلًا
    ہائے میری بربادی! کاش کہ میں فلاں کو دلی دوست نہ بناتا۔
    الفرقان : 28
    لَقَدْ أَضَلَّنِي عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ إِذْ جَاءَنِي وَكَانَ الشَّيْطَانُ لِلْإِنْسَانِ خَذُولًا
    بے شک اس نے تو مجھے نصیحت سے گمراہ کر دیا، اس کے بعد کہ میرے پاس آئی اور شیطان ہمیشہ انسان کو چھوڑ جانے والا ہے۔
    الفرقان : 29

    ہر ایسے شخص، مجلس اور ماحول سے دور رہیں جہاں ایمان خطرے میں پڑنے کا امکان ہو

    سیدنا عمران بن حصین ؓ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
    مَنْ سَمِعَ بِالدَّجَّالِ, فَلْيَنْأَ عَنْهُ، فَوَاللَّهِ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَأْتِيهِ وَهُوَ يَحْسِبُ أَنَّهُ مُؤْمِنٌ, فَيَتَّبِعُهُ مِمَّا يَبْعَثُ بِهِ مِنَ الشُّبُهَاتِ
    (ابو داؤد، كِتَابُ الْمَلَاحِمِ،بَابُ خُرُوجِ الدَّجَّالِ،4319صحیح)
    ” جو شخص دجال کے متعلق سنے تو اس سے دور رہے ‘ اللہ کی قسم ! آدمی اس کے پاس آئے گا جب کہ وہ سمجھتا ہو گا کہ وہ صاحب ایمان ہے ‘ مگر ان شبہات کی بنا پر جو اس کی طرف سے اٹھائے جائیں گے ‘ اس کی اتباع کر بیٹھے گا ۔ “