Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • مثبت سوچ اور متوازن انداز ہماری خوشی و اطمینان کا باعث   بقلم:جویریہ بتول

    مثبت سوچ اور متوازن انداز ہماری خوشی و اطمینان کا باعث بقلم:جویریہ بتول

    مثبت سوچ اور متوازن انداز ہماری خوشی و اطمینان کا باعث…!!!
    (بقلم:جویریہ بتول).
    ہم میں سے اکثر لوگ پریشان رہتے اور خوشی کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں لیکن ہم یہ اہم ترین نکتہ سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں کہ خوشی کا وجود ہمارے اندر سے پھوٹتا ہے جس کی طرف ہماری توجہ نہیں جاتی اور ہم ہمیشہ اُسے باہر تلاش کرتے رہتے ہیں…

    خوشی اور اطمینان کا بنیادی تعلق یقین،شکر،مثبت سوچ، متوازن اندازِ زندگی اور رضا بالقضا سے ہوتا ہے…

    اس تحریر میں آپ کو چند ایسی چھوٹی چھوٹی باتیں بتائی جا رہی ہیں جنہیں سفرِ زندگی میں خوش رہنے اور اُداسی و غم اور قلق و اضطراب کے بچنے کے نسخے کہا جا سکتا ہے…!

    ہمیشہ دوسروں کی خوبیوں کو اُجاگر کریں،چھوٹی چھوٹی خامیوں کو نظر انداز کریں…بتدریج اُن کی نشاندہی اور اصلاح کی جانب توجہ دلائیں،کیوں کہ ایک دم کسی کو اُس کی خامیاں ہی خامیاں بتانا اُسے سخت نفسیاتی دباؤ میں لے جا کر چڑچڑا کر سکتا ہے،جبکہ کسی کو اُس کی مثبت خوبیوں اور صلاحیتوں کا یقین دلانا،حوصلہ بڑھانا،گائیڈ لائن دینا اُس کے اندر کی مذید خوبیوں کو اختراع کرنے سامنے لانے اور نکھارنے میں مددگار ہوتے ہیں…وہ بسر و سہولت کے پہلو پر خوشی محسوس کرتے ہوئے آگے بڑھے گا…کیوں کہ دین اصلًا قلبی اضطراب،بے چینی،ذہنی انتشار اور اجتماعی بے راہ روی سے نجات دلانے کے لیے ہے کیوں کہ یہ ساری چیزیں،اُمید،حوصلہ،تدریج اور نرمی کی متقاضی ہیں…سو اُمید بنیں،مایوسی نہیں…حوصلہ بڑھانے والے ثابت ہوں،گِرانے والے نہیں…!!!

    آزمائش اور رنج و الم دو وجہ سے آتے ہیں…کبھی ہماری اوقات بڑھانے کے لیے…کبھی ہمیں اوقات دکھانے کے لیے…پہلی صورت میں ہمیں ٹیسٹ کرنے کے لیے کہ ہم کتنے مضبوط ہیں…کھرے اور کھوٹےکی پہچان کے لیے…یقین و شک کو جدا جدا کرنے کے لیے…پھر جو اُس امتحان کے معیار پر پورا اترتا ہے و بشر الصبرین¤بشارتوں کے سندیسہ کا حقدار ٹھہرا دیا جاتا ہے…کبھی کبھی جب ہم حد سے باہر پاؤں مارنے لگ جاتے ہیں…بے جا غرور میں کھیلنے لگتے ہیں…گھمنڈ میں مبتلا ہونےلگتے ہیں…زیادہ پھولنے کی طرف بڑھنے لگتے ہیں تو ہماری حفاظت،ہمیں صحیح راستے پر گامزن رکھنے کے لیے یہ رنج ہی معاون بن جاتے ہیں،ہمیں ہماری اوقات،انسان کی کمزوری اور حقیقت کی پہچان کروا جاتے ہیں…ولا تفرحو بما ما اٰتکم…یہ دو اصول ہمارا نفسیاتی دباؤ کم اور اعصاب کو درست رکھتے ہیں.

    راحت کے بنیادی اسباب میں میں سب سے زیادہ توانائی فراہم کرنے والی چیز قضا و قدر پر ایمان ہے کہ جب انسان کو یہ یقین ہو کہ تقدیر لکھی جا چکی ہے…میں نے کوشش کرنی ہے باقی میرے رزق،نفع و نقصان،نشیب و فراز،چیزوں کا آنا جانا،غموں کو ٹالنے اور خوشیوں سے نوازنے کا اختیار میرے رب کے ہاتھ میں ہے تو وہ کبھی پریشان نہیں رہ سکتا…واقعات پر افسوس کرتا ہے اور نہ رنجیدہ ہوتا ہے…

    ماضی چلا گیا ہے وہ کبھی لوٹنے کا نہیں،مستقبل ابھی آیا نہیں وہ بہت دُور ہے،ہاں بہت دُور کہ کیا خبر سانس کی آخری ہچکی پہنچ کر یومِ جزا و سزا تک کا فاصلہ پیدا کر دے…ہماری زندگی تو صرف آج ہے…ہم غم و قلق کو اپنے اندر قید کیوں کریں؟نیکی،احسان،شکر و خوشی کا تو ہمارے پاس آج ہی کا دن ہے…اس کی برکات و ثمرات سمیٹ لیں یہی یقینِ مومن ہوا کرتا ہے…!!!

    جب ہم زندگی کا کوئی مقصد بنا لیتے ہیں…چاہے وہ چھوٹے سے چھوٹا ہی کیوں نہ ہو…اپنی راہ کی روشنی،نیکیوں میں اضافہ اور دوسروں کی زندگی میں روشنی کی کرن پھیلانے کی ادنٰی سی کوئی کاوش ہی کیوں نہ ہو…تو یہ چیز ہمیں راحت دیتی ہے…

    بندۂ مومن کے دل کو یہ بات اُمید کے باغ و بہار سے ہم آہنگ کر دیتی ہے کہ یہاں چھوٹی چھوٹی باتوں پر اجر و ثواب ہے،دس گنا سے سات سو گنا بلکہ اس سے بھی زیادہ تک…کسی کا درد بانٹ دیں،بات چیت کا موقع دے کر اُس کے اضطراب و بے چینی کو سمجھیں،کسی کو معاف کر دیں،جہالت پر اندازِ تکریمانہ اختیار کر جائیں،اچھے نام سے پکار دیں،اچھی بات کہہ دیں،اچھی بات اور کام دیکھ کر حسد کی بجائے برکت کی دُعا دے دیں…یہ چیزیں ہمیں حرص،دل کی تنگی سے محفوظ رکھتی ہیں اور اپنےمقصد کو یاد رکھناہمیں متحرک رکھتا ہے.

    ہم لوگ تنہائی اور ملنے ملانے کے بارے میں افراط و تفریط کا شکار رہتے ہیں…یا مکمل تنہائی اختیار کر لیتے ہیں یا پھر سوار ہو کر کوئی بھی تعلق نبھانے لگ جاتے ہیں…یعنی کُچھ لوگ اس انتہا تک چلے جاتے ہیں کہ بالکل ہی سب چھوڑ دیتے ہیں خوشی نہ غمی،عیادت نہ مفید اجتماعات میں شرکت…اور کئی ہر وقت ہی اختلاط،محفل،لہو و لعب،ہنسی مذاق،فضول مباحات،قیل و قال یہ دونوں صورتیں ہی نقصان دہ ہیں، ہماری تنہائی کا مقصد غلط معاشرتی اثرات سے محفوظ رہنا،لوگوں کو تکلیف دینےسے بچنا اور مفید سرگرمیوں کے لیے وقت نکالنا ہو یعنی ولا تعاونو علی الاثم و العدوان…اور ہمارا میل ملاپ کا مقصد حقوق کی ادائیگی،اجتماعی عبادات میں شرکت،اچھے اجتماعی و سماجی کاموں پر تعاونو علی البر والتقوی کی صورت میں ہو یہی اعتدال ہے اور یہی مقصود ہے…!!!

    یہ زندگی بہت سادہ اور آسان بھی ہے لیکن ہم اسے نفس کی تسکین…لوگ کی رضا کے لیے تکلفات کی دلدل میں اُتر کر اِسے مشکل بنا دیتے ہیں…اور ستم یہ کہ اہلِ دنیا راضی پھر بھی نہیں ہوتے…

    ہم جب رب کے احکامات پر عمل اس زندگی کا مقصد بنا لیں تو یہاں ہماری ذات پر ہماری برداشت سے زیادہ بوجھ ہے ہی نہیں…کوئی طعنہ،شرمندگی اور احساسِ کمتری نہیں…قضا و قدر پر یقین ہے…اپنے رزق،پونجی،اور صلاحیتوں پر اطمینان ہے… جو جو بس میں ہے کرتے جانا ہے،ذرا کوتاہی نہیں لیکن جہاں بے بسی یا غیر ضروری بوجھ ہے وہاں کوئی طوق اور بیڑی بھی نہیں…میسر نعمتوں،احسانات اور خیر کا شکر ہےاور اس کے ساتھ ساتھ اللّٰہ کے عطیات سے مستفید ہو کر انہیں ثمر خیز بنانا ہے لیکن ہم ایسی صلاحیتوں کو عقل و بدن میں خفتہ رکھتے اور پریشان و شکوہ کناں رہتے ہیں…!

    یہ قانونِ فطرت ہے کہ سب لوگ جمال،سیرت،رزق،چستی،ہشیاری اور تعلیم و تعلم میں برابر نہیں ہو سکتے…یہ تفاوت اس کائنات کا حُسن ہے…اگر سبھی لوگ ہر معاملے میں یکساں اور برابر ہوں تو کتنی یکسانیت اور بوریت جنم لے، ایک دوسرے کی قدر کون کرے…؟

    صرف خوب صورتی کی اہمیت ہوتی تو سیرتوں کو صورتوں پر ترجیح کون دیتا؟اللّٰہ تعالٰی نے فرمایا کہ ہم نے بعض کو بعض سے بلند کیا ہے تاکہ ایک دوسرے سے کام لے سکیں،یہ اللّٰہ تعالٰی کی حکمت ہی ہے جس سے کائنات کا یہ نظام بحسن و خوبی چل رہا ہے،برابری میں تو کوئی کسی کے کام کے لیے تیار ہی نہ ہوتا…یہ احتیاجِ انسانی ہی ہے جو لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑ کر رکھتی ہے…

    تو ہمیں چاہیے کہ اچھے معاشرے کی تشکیل کے لیے دوسروں کی کمیوں کو اُچھالنے، حوصلےپست کرنے کی بجائے آگے بڑھنے کی جہت دیں…!

    ہم سمجھتے ہیں کہ معاشرہ ہمیں بدلے گا…ماحول ہمیں متاثر کرے گا…جب کہ ہم یہ بات بھول جاتے ہیں کہ معاشرہ اور ماحول تشکیل کون دیتا ہے؟سوسائٹی تو انفرادی چیز ہے،اُسے اجتماعیت کا رنگ تو ہم افراد ہی دیتے ہیں…

    لیکن جب ہم نفس کی اصلاح،تزکیہ اور خواہشات کی غلامی سے جان چُھڑانے کی کوشش ہی نہیں کرتے تو آہستہ آہستہ ماحول بھی خراب ہونے لگتا ہے…پھر معاشرہ بدلنے لگتا ہے اور بالآخر ہم بھی اس ماحول کی طلب اور خواہشات کی غلامی کرتے کرتے سٹریس،ڈپریشن اور اینگزائٹی کی وادیوں میں اُتر کر کھوکھلے اجسام کی شکل اختیار کر لیتے ہیں،اپنے ہاتھوں ہم وائٹل فورس کا نقصان کرتے ہیں اور پھر شکایتیں لوگوں سے،معاشرے اور ماحول سے کرتے رہ جاتے ہیں…

    بے شک انسان خسارے میں ہے،سوائے اُن لوگوں کے جو ایمان لائے اور عملِ صالح کیے…!!!اچھائی اور برائی کی تخلیق کا مقصد انسان کی آزمائش ہے،اگر اچھائی ہی اچھائی کا وجود ہو اور برائی کہیں بھی موجود نہ ہو پھر آزمائش کیسی…؟

    یہ اچھائی یا برائی سوچیں ہیں،نیتیں ہیں،جس طرف دلچسپی بڑھتی جائے گی،ویسے ہی عمل سرزد ہو کر نتائج پر اثر انداز ہوتے چلے جائیں گے…اگر نفس اچھائی کو ریسپانڈ ہی نہیں کرے گا،اُس کی ترجیحات دنیوی سرکل میں ہی گھومتی رہیں گی تو یقینًا وہ تزکیہ کی بھٹی سے گزرنا پسند نہیں کر رہا…برائی اور مفاد ہی اُس کی تسکین بنتی جا رہے ہیں،تو پھل بھی ویسا ہی سامنے آئے گا لیکن اگر مقصد اللّٰہ کی رضا بن رہا ہے تو سارے بند دریچے کھلتے چلے جائیں گے نفس برائی پر مزاحمت کرے گا اور بھلائی کو ریسپانس…تب رب کا سارا سسٹم آہستہ آہستہ اس کی راہ کی رکاوٹیں دور کرتا جاتا ہے،قد افلح من تَزَکّٰی¤

    جو سامنے ہے اُسے دیکھنے،سمجھنے اور ہینڈل کرنے کی کوشش کیجیے…آنے والے واقعات و حالات سے حد سے زیادہ جذباتی وابستگی ہماری توجہ موجود سے ہٹا اور منقسم کر دیتی ہے…پھر انسان اُسی چیز کو سوچتا اور یاد کرتا رہتا ہے جس کے بارے میں یقین سے کُچھ کہا بھی نہیں جا سکتا،ہمیشہ نفس کو اپنا ہمدرد نہ سمجھیں بلکہ حقائق کا مشاہدہ کریں…

    ذہنی سکون کے لیے جو کام گھرکےاندر ہوں اُن کا دباؤ باہر کےکاموں کےدوران اور جو کام باہر کے ہوں،ان کی سوچ گھر میں گزرتے وقت پر مسلط نہ کریں کیوں کہ ایمان داری سے اَدا کیے جانے والے گھر اور باہر کے فرائض پریشان نہیں کر سکتے…لیکن جب جزئیات میں سُقم رہ جائےاور کام دھیان اور یکسوئی سےنہ ہو تو ضمیر میں خلش باقی رہتی ہے…

    اس کا آسان حل حال میں موجود رہنا اور توجہ ہے… ماضی و مستقبل میں نہیں…نفس امارہ انسان کو برائی پر اُکساتا ہے…اگر انسان کسی غلطی یا برائی کا مرتکب ہو جائے تو پھر اُس کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ وہ ظاہر نہ ہو…دو ہی صورتیں ہوتی ہیں کہ یا تو انسان کھلم کھلا یہ بات تسلیم کر لے کہ وہ بُرا ہے،دنیا کے سامنے،دوستوں کے سامنے لیکن یقینًا وہ اس کے لیے تیار نہیں ہوتا نفسِ لوامہ ملامت کرنے لگ جاتا ہے…توہین محسوس ہوتی ہے خود کی…تب ایک لمحہ آتا ہے دل کی دنیا میں ہدایت کی طلب کا…لیکن ہدایت صرف منہ سے کہہ دینے سے نہیں آیا کرتی،اس کے لیے تو خلوص درکار ہے…جب وہ پودا اُگ آئے تو پھر ہدایت پر گامزن رہنے کی راہیں بتدریج آسان ہوتی چلی جاتی ہیں…ہدایت کے بعد کوئی آزمائش،تکلیف وبال،مایوسی اور تناؤکا ذریعہ نہیں بنتی کیونکہ نفس مطمئن رہتاہے کہ یہ سب عبث نہیں بلکہ ایک عظیم اجر میں بدلنے والا ہے.

    شہوات،جذبات اور علم تینوں چیزوں میں اعتدال سعادت کی راہ ہے…کیوں کہ انسان کا ہر معاملہ میں معتدل ہونا ہی اُسے سیدھی راہ دکھاتا اور اُس پر سنجیدگی سے گامزن رہنے کا حوصلہ بھی فراہم کرتا ہے،اگر ایسا نہیں ہو گا تو کشتی ڈانواں ڈول…پھر آدمی شہوات کے بے لگام ہونے سے فسق و فجور کی رخصتیں ڈھونڈتا اور ہلاکت کی طرف بڑھنے لگتا ہے…

    منفی جذبات مثلًا غصہ،حسد،تکبر بڑھے تو انسان سرکشی کی حدیں پار کر جاتا ہے…غصہ میں عقل کا خراج دے کر غلط اقدامات کی طرف بڑھنے لگے گا اور اگر "سب ٹھیک ہے” کہنے والا اور بالکل ہی نرمی اختیار کرنے والا ہو گا تو اہم معاملات میں بھی حمیت سے تہی دست ہو جائے گا،علم میں اعتدال سے ہٹنا شدت پسندی کی طرف مائل کر دے گا…چنانچہ اعتدال ہی وہ راستہ ہے جہاں نجات ہےفرمایا وکذلک جعلنکم امۃ وَّسَطًا…ہمیشہ دوسروں کی معتدل اور مؤدبانہ حوصلہ افزائی کرتے رہیں…اُن کی خامیوں سے صرفِ نظر کرتے ہوئے خوبیوں کو اُجاگر کرتے رہیں اگر چہ وہ آپ کے سخت مخالفین ہی کیوں نہ ہوں،اچھائی کے اعتراف میں بخل نہ کریں یہ چیز لوگوں پر اثر کرتی ہے اور وہ بسا اوقات اپنی غالب صفات کے ساتھ معاشرے کا بہترین فرد بن سکتے ہیں،لوگوں کو قرار واقعی مقام اور حوصلہ دینا تعلیمِ اسلام ہے…

    زندگی کا مزہ دوبالا ہی تب ہوتا ہے جب ہم اپنی تحسین کے ساتھ دوسروں کو بھی خوش دیکھیں اور رکھیں،یہ چوں کہ انسانی نفسیات ہے…سو بہتر آرزوؤں کی حوصلہ افزائی کریں نہ کہ محنت پر پانی پھیر کر کردار کی نفی کرتے ہوئے نیچا دکھانے کی کوشش…صرف اپنے آپ کو دیکھنا،نابغۂ روزگار اور نادر العصر بننا اور باقی سب کو قاصروکمتر سمجھنا زندگی کے حُسن کو ماند کر دیتا ہے.

    اپنی ذات پر تنقید کا جواب تنقید کی بجائے ہمیشہ اپنے کردار سے دیجیے…کیوں کہ ناقدین کو ہرانے اور مؤثر انداز میں جواب دینے کا یہی طریقہ سب سے بہترین ہے…جواب میں تنقید کی برسات کرنے سے وہ دس گنا برائی پر آمادہ ہو گا اور ہو سکتا ہے آپ تنقید سے اُسے اپنی کم ظرفی اور غلطی پہ مصر اور اپنا وقار بحال کرنے میں ناکام رہیں اور یہ سلسلہ پھر چل سو چل کی صورت اختیار کر جائے…برداشت کر لینے سے ہی مصائب و معائب دفن ہو جاتے ہیں…

    آپ کا حاسد اُس وقت تھک جائےگا جب اُسےاہمیت ہی نہیں ملے گی…آپ اُس کی منفی باتوں کی پرواہ ہی نہیں کریں گے،اثبات کے فروغ میں جتے رہیں گے اور طرزِ تغافل سے اُسے مات دیں گے…اور حکم بھی یہی ملا…احسن طریقہ سے جواب دو،معاف کر دو،اعراض کرو…فضول گوئی کرنے والے جاہلوں کو سلام کہہ دو…

    یہی بہترین پالیسی ہے،وہ بیماری جوجہدِ مسلسل،عملِ پیہم،مستقل مزاجی،یکسوئی اور عاجزی کی راہ میں اکثر رکاوٹ بنتی ہے وہ عیش و عشرت ہے…تبھی رسول اللّٰہﷺ نے عیش کی زندگی سے بچنےکی تاکید فرمائی ہے… نفس کے نکھار میں بھی یہ چیز رکاوٹ بنتی ہے کیوں کہ اِسے نکھارنے کے لیے تو تھکانا ضروری ہے نہ کہ مطیع ہو جانا…بہت سے لوگ ایسے تو نظر آئیں گے جن کے اقوال اُن کے اعمال کے موافق نہیں ہوتے لیکن بہت تھوڑے ایسے ہوں گے جن کے کردار اُن کی گفتار کے موافق ہیں…اس دنیا کی زندگی میں جائز ضروریات کو ضرور پورا کرنا اور نفع اُٹھانا چاہیے مگر صرف انہیں ہی مقصد حیات نہیں بنا لینا چاہیے…روٹی کا مقصد بھوک مٹانا،پانی کا پیاس بجھانا،کپڑے کا آرائش سے زیادہ آسائش اور ستر پوشی اور گھر کا مقصد رہائش کی مناسب جگہ کا بندوبست ہو…عیش کا گھر تو جنت ہے ناں…!

    اسی طرح خود اعتمادی ہمیں زندگی کی تلخیوں سے نبرد آزما ہونا سکھاتی ہے جب کہ احساسِ کمتری دوسروں جیسا بننے کا بھوت ذہن پر سوار کرنے کے ساتھ ساتھ بسا اوقات حسد جیسی جہالت کو جنم دیتی ہے…یہ بات سچ ہے کہ دوسروں کی نقل اپنی منفرد شخصیت کی خود کشی اور حسد جیسی بیماری واقعتاً جہالت ہے…

    کیوںکہ نفسیاتی پیچیدگیوں کو کم کرنےکے اسباب میں ایک چیز منفرد انداز میں جینا یعنی ہر طرح کے حالات میں اپنے آپ کو ویسا ہی سمجھنا جیسا کہ فی الواقع ہے،اپنے نصیب پر راضی رہنا…کیوںکہ اس سے بڑی نامرادی کیا ہو سکتی ہے کہ انسان اپنی ذات،زندگی،صلاحیتوں،معاملات،واقعات سے بے خبر اپنی رفتارِ ترقی کو پرکھے بغیر دوسروں سے موازنہ میں کھپ جائے،کیوںکہ بآسانی ہو سکنے والےکام،جو ملے اُس پر رضا مندی سے حزن ختم اور اعصابی دباؤ سے نجات ملتی ہے،روح کے لیے مہلک بیماری غرور کرنا،خود کو کامل وبرترسمجھنا …پھر دوسروں کو کمتر اور حقیر سمجھنا یہ ایسی بیماری ہے جس کے علاج کے لیے کوئی دوا کارگر ثابت نہیں ہوتی سوائے نشانِ عبرت کے…کیوں کہ یہ حقائق کو جھٹلا کر’میں’ کے لبادہ میں لپٹ جانا ہے،تکبر کے زعم میں انسان جتنا مرضی اپنےتئیں کامیاب بن جائےلیکن توبہ و عاجزی اختیار کیے بغیر بالآخر انجام رسوائی ہوا کرتا ہے…

    قرآن ہمیں طاقتور فرعون و مالدار قارون جیسے متکبرین کے قصے سے کیا سبق دے رہا ہے…کہ قدرت کےسامنے سمندر کی لہروں میں ہچکولے کھاتا فرعون پکار اُٹھتا ہے میں موسٰی و ہارون کے رب پر ایمان لایا…اور قارون زمین میں دھنستے ہوئے نشانِ عبرت بن جاتا ہے…تکبر صرف رب کی شان ہے انسان مٹی سے تخلیق ہوا اس پر ہمیشہ عاجزی ہی جچتی،اور تکبر سوائے ذلت کے کچھ نہیں.

    خوشی ایک روشنی ہے جو ہمارے اندر سے پھوٹتی اور ارد گرد کو روشن کرتی ہے…اُداسی کا بہترین علاج خود کو مثبت کاموں اور تفکر میں مصروف رکھنا ہے…نیکی کے جذبے سے چھوٹے چھوٹے کاموں کو خوب صورتی سے ترتیب دینا ہے… ایسے کام جو ہمیں ذہنی بالیدگی،راحت اور روحانی سکون فراہم کر کے دل کو خوش کریں…اور یقین و اطمینان کی دولت ہمارے باطن میں بتدریج بڑھنے لگ جائے…خوشی کی تلاش کے لیے اگر راستہ ہی غلط اختیار کر لیا جائے اور روح کے لیے مہلک کاموں،چیزوں اور راستوں پر نکل جایا جائے تو بجائے خوشی کے اُداسی ہی بڑھتی ہے-

    اسی لیے کہا جاتا ہے کہ خوشی کی تلاش اُس راستے پر کی جائے جو دل میں نرمی،سوز وگداز،رنگینی اور تابانی لائے،اُداس و فضول لٹریچر،لغو موسیقی،حرام روابط اُداسیوں کو دور کرنے اور خوشی کے راستے ہر گز نہیں ہیں…چھوٹی چھوٹی فکریں ذہن میں پالتے رہنا بندۂ مومن کے لیے باعثِ غفلت بن جاتی ہیں…کسی کے ساتھ احسان کریں تو بھلا دیں اگر چہ وہ نیکی کا انکار ہی کر دے…اِسے سوچتے رہنا رنجیدہ کر دے گا جب عمل خالصتًا اللّٰــــہ کی رضا کے لیے کیا جائے تو لوگوں کے شکریہ کی اُمید رکھنا ہی فضول ہے کیوں کہ وہ تو اپنی سوچ و مزاج کے موافق ہی سمجھنے کی کوشش اوربرتاؤ و ردعمل کا اظہار کریں گے…

    جو لوگ سنجیدگی اور نتیجہ خیز کام کے اعتبار سے مفلس ہوں اُن کا سرمایہ پریشان خیالات و افواہیں ہوا کرتی ہیں…اس سے بچنے کا راستہ خود کو حرکت میں رکھنا،وقت کو کام میں لانا،بےکار و معطل نہ رہنا ہے…مصروف رہیں،عبادات وقت پر بجا لائیں،کام کریں،لکھنے،پڑھنے کی کوئی سرگرمی تشکیل دیں اور خالی پن و طویل فراغت سے خود کو دُور رکھنا بہت مفید ہے…جس چیز کو خریدنے کی طاقت نہ ہو،اُسے فروخت کرنے سے ہی گریز کیا جائے…
    وہ ایمان ہو…عزت ہو…
    وہ حیا ہو یا کردار ہو…
    ادب و تربیت کے دیرپا نقوش ہوں…

    عملِ صالح کی توفیق کا ملنا ہو یا علمِ نافع کی صورت خود کی پہچان ہو… بہترین اوصاف کی منفرد دولت ہو تو یہ سب قدرت کی عطا کردہ نعمتیں ہیں…انہیں نفس کی خواہش و تسکین یا دنیاوی منفعت کی خاطر کبھی کہیں بھی ضمیر کو سُلا کر بیچیں نہ ضائع کریں…یہی اصل طاقت کے بحال رہنے کی صورت ہے…کیوں کہ جب قوتِ خرید ہی باقی نہ ہو تو پھر مفلسی و معدومیت یقینی ہو جایا کرتی ہے…

    زندگی کے سفر میں کبھی کبھی ایسی مناسب و صحتمند تنہائی جو خیر کا ذریعہ اور شر کے کاموں اور فضول باتوں سے بچائے،سینہ کھولتی اور احتسابِ نفس کے لیے مفید ہے…انسان یکسوئی سے اُس وقت میں استغفار کرتا ہے…جولانِ فکر،گوہرِ حکمت نکالتا،مقاصد پر غور کرتا،تدبر و تفکر کا مزہ لیتا،اور اچھی رائے کا خوب صورت ہیکل تعمیر کر سکتا ہے…ریا کاری سے بھی بچاؤ ہوتا اور انسان تفکرات سے آزاد رہتا ہے…

    بغیر کسی مقصد کے ہر وقت لوگوں کی مجلس میں رہنا ہمیں قیل و قال،نفسیاتی دباؤ میں مبتلا اور سوچیں منتشر کر دیتا ہے بہت خوب کہا ہے کسی نے ”علم سے زیادہ باعزت کوئی چیز نہیں،کاپیاں میری غم خوار ہیں،چراغ سے مجھے محبّت ہے…” ایک مناسب حد تک لوگوں سے فاصلہ پر رہنا محاسن کے چہرے کا حجاب،مناقب کا غلاف اور فضیلت کا صدف ہے…!!!

  • اصل سکندر اعظم کون ؟

    اصل سکندر اعظم کون ؟

    اصل سکندر اعظم کون ؟؟

    حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ یا الیگزینڈر (سکندر اعظم )

    ﮨﻢ ﻧﮯ ﺑﭽﭙﻦ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﮬﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﻘﺪﻭﻧﯿﮧ ﮐﺎ الیگزینڈر 20 سال کی عمر میں بادشاہ بنا 23 سال کی عمر میں مقدونیہ سے نکلا اس نے سب سے پہلے یونان فتح کیا پھر ترکی میں داخل ہوا پھر ‏ﺍﯾﺮﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﺍﺭﺍ ﮐﻮ ﺷﮑﺴﺖ ﺩﯼ، ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﺷﺎﻡ ﭘﮩﻨﭽﺎ، ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﯾﺮﻭﺷﻠﻢ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺑﻞ ﮐﺎ ﺭﺥ ﮐﯿﺎ، ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﻣﺼﺮ ﭘﮩﻨﭽﺎ، ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﺍٓﯾﺎ، ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻧﮯ ﭘﻮﺭﺱ ﺳﮯ ﺟﻨﮓ ﻟﮍﯼ، ﺍﭘﻨﮯ ﻋﺰﯾﺰ ﺍﺯ ﺟﺎﻥ ﮔﮭﻮﮌﮮ ﮐﯽ ﯾﺎﺩ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﺎﻟﯿﮧ ﺷﮩﺮ ﺍٓﺑﺎﺩ ﮐﯿﺎ،

    ﻣﮑﺮﺍﻥ ﺳﮯ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﻮﺍ ﻭﺍﭘﺴﯽ ﮐﺎ ﺳﻔﺮ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﺎ، ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﭨﺎﺋﯿﻔﺎﺋﯿﮉ ﻣﯿﮟ ﻣﺒﺘﻼ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ 323 ﻗﺒﻞ ﻣﺴﯿﺢ ﻣﯿﮟ 33 ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﺨﺖ ﻧﺼﺮ ﮐﮯ ﻣﺤﻞ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ ﮐﺮ ﮔﯿﺎ، ﺩﻧﯿﺎ ﮐﻮ ﺍٓﺝ ﺗﮏ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ، ﻭﮦ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﺎ ﻋﻈﯿﻢ ﺟﺮﻧﯿﻞ، ﻓﺎﺗﺢ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮐﺎﺭﻧﺎﻣﻮﮞ‏ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﺳﮯ ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ ﺩﯼ ﮔﺮﯾﭧ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺳﮑﻨﺪﺭ ﺍﻋﻈﻢ ﯾﻌﻨﯽ ﺑﺎﺩﺷﺎﮨﻮﮞ ﮐﺎ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺑﻨﺎﺩﯾﺎ-

    ﻟﯿﮑﻦ ﺍٓﺝ ﺍﮐﯿﺴﻮﯾﮟ ﺻﺪﯼ ﻣﯿﮟ ﭘﻮﺭﯼ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﻣﻮﺭﺧﯿﻦ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﯾﮧ ‏ﺳﻮﺍﻝ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﯿﺎ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ ﮐﻮ ﺳﮑﻨﺪﺭﺍﻋﻈﻢ ﮐﮩﻼﻧﮯ ﮐﺎ ﺣﻖ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﮯ؟

    ﻣﯿﮟ ﺩﻧﯿﺎ ﺑﮭﺮ ﮐﮯ ﻣﻮﺭﺧﯿﻦ ﮐﻮ ﺳﮑﻨﺪﺭ ﺍﻋﻈﻢ ﺍﻭﺭﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﯽ ﻓﺘﻮﺣﺎﺕ ﺍﻭﺭ ﮐﺎﺭﻧﺎﻣﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﻮﺍﺯﻧﮯ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ، ﺍٓﭖ ﺑﮭﯽ ﺳﻮچیےﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﮐﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﺗﮭﺎ، ﺍﺳﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ‏ﮔﮭﮍﺳﻮﺍﺭﯼ ﺳﮑﮭﺎﺋﯽ، ﺍﺳﮯ ﺍﺭﺳﻄﻮ ﺟﯿﺴﮯ ﺍﺳﺘﺎﺩﻭﮞ ﮐﯽ ﺻﺤﺒﺖ ﻣﻠﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﻭﮦ ﺑﯿﺲﺳﺎﻝ ﮐﺎ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﺗﺨﺖ ﺍﻭﺭ ﺗﺎﺝ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ-

    ﺟﺐ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ‏ﻣﻘﺎﺑﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﯽ 7 ﭘﺸﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﮔﺰﺭﺍ ﺗﮭﺎ، ﺍٓﭖ ﺑﮭﯿﮍ ﺑﮑﺮﯾﺎﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﻧﭧ ﭼﺮﺍﺗﮯ ﭼﺮﺍﺗﮯ ﺑﮍﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺗﻠﻮﺍﺭ ﺑﺎﺯﯼ ﺍﻭﺭ‏ﺗﯿﺮﺍﻧﺪﺍﺯﯼ ﺑﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﺍﮐﯿﮉﻣﯽ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﯿﮑﮭﯽ ﺗﮭﯽ۔

    ﺳﮑﻨﺪﺭ ﺍﻋﻈﻢ ﻧﮯ ﺍٓﺭﮔﻨﺎﺋﺰﮈ ﺍٓﺭﻣﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ 10 ﺑﺮﺳﻮﮞ ﻣﯿﮟ 17 ﻻکھ ﻣﺮﺑﻊ ﻣﯿﻞ ﮐﺎ ﻋﻼﻗﮧ ﻓﺘﺢ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ، ﺟﺐ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ‏ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ 10 ﺑﺮﺳﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍٓﺭﮔﻨﺎﺋﺰﮈ ﺍٓﺭﻣﯽ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ 22 ﻻﮐﮫ ﻣﺮﺑﻊ ﻣﯿﻞ ﮐﺎ ﻋﻼﻗﮧ ﻓﺘﺢ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﻡ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﺮﺍﻥ ﮐﯽ ﺩﻭ ﺳﭙﺮ ﭘﺎﻭﺭ ﺑﮭﯽ ﺷﺎﻣﻞ ﺗﮭﯿﮟ۔

    ﺍٓﺝ ﮐﮯ ﺳﯿﭩﻼﺋﭧ، ﻣﯿﺰﺍﺋﻞ‏ﺍﻭﺭ ﺍٓﺑﺪﻭﺯﻭﮞ ﮐﮯ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﮐﺴﯽ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺍﺗﻨﯽ ﺑﮍﯼ ﺳﻠﻄﻨﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﻧﮧ ﺻﺮﻑ ﮔﮭﻮﮌﻭﮞ ﮐﯽ ﭘﯿﭩﮫ ﭘﺮ ﻓﺘﺢ ﮐﺮﺍﺋﯽ ﺗﮭﯽ، ﺑﻠﮑﮧ‏ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﻭ ﺍﻧﺼﺮﺍﻡ ﺑﮭﯽ ﭼﻼﯾﺎ ﺗﮭﺎ، ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ ﻧﮯ ﻓﺘﻮﺣﺎﺕ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﮯ ﺷﻤﺎﺭ ﺟﺮﻧﯿﻞ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﺍﺋﮯ، ﺑﮯ ﺷﻤﺎﺭ ﺟﺮﻧﯿﻠﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺟﻮﺍﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺳﺎﺗﮫ ﭼﮭﻮﮌﺍ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ بغاوتیں‏ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻓﻮﺝ ﻧﮯ ﺍٓﮔﮯ ﺑﮍﮬﻨﮯ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﺩﯾﺎ-

    ﻟﯿﮑﻦ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﮐﺴﯽ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﮐﻮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﺳﮯ ﺳﺮﺗﺎﺑﯽ ﮐﯽ ﺟﺮﺍٔﺕ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﯽ.‏ﻭﮦ ﺍﯾﺴﮯ ﮐﻤﺎﻧﮉﺭ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﻋﯿﻦ ﻣﯿﺪﺍﻥ ﺟﻨﮓ ﻣﯿﮟ ﻋﺎﻟﻢ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﮮ ﺳﭙﮧ ﺳﺎﻻﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﺧﺎﻟﺪ ﺑﻦ ﻭﻟﯿﺪ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ ﻣﻌﺰﻭﻝ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺣﮑﻢ ﭨﺎﻟﻨﮯ ﮐﯽ ﺟﺮﺍٔﺕ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﯽ۔

    ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﺳﻌﺪ ﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﻭﻗﺎﺹ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ ﮐﻮﻓﮯ ﮐﯽ ﮔﻮﺭﻧﺮﯼ ﺳﮯ ﮨﭩﺎ ﺩﯾﺎ۔ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﺣﺎﺭﺙ ﺑﻦ ﮐﻌﺐ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺳﮯ ﮔﻮﺭﻧﺮﯼ ﻭﺍﭘﺲ ﻟﮯ ﻟﯽ۔ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ‏ﻋﻤﺮﻭ ﺑﻦ ﺍﻟﻌﺎﺹ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﺎ ﻣﺎﻝ ﺿﺒﻂ ﮐﺮﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺣﻤﺺ ﮐﮯ ﮔﻮﺭﻧﺮﮐﻮ ﻭﺍﭘﺲ ﺑﻼ ﮐﺮ ﺍﻭﻧﭧ ﭼﺮﺍﻧﮯ ﭘﺮ ﻟﮕﺎ ﺩﯾﺎ، ﻟﯿﮑﻦ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺣﮑﻢ ﻋﺪﻭﻟﯽ ﮐﯽ ﺟﺮﺍٔﺕ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﯽ۔

    ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭﻧﮯ 17‏ﻻکھ ﻣﺮﺑﻊ ﻣﯿﻞ ﮐﺎ ﻋﻼﻗﮧ ﻓﺘﺢ ﮐﯿﺎ، ﻟﯿﮑﻦ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﻈﺎﻡ ، ﮐﻮﺋﯽ ﺳﺴﭩﻢ ﻧﮧ ﺩﮮ ﺳﮑﺎ، ﺟﺐ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﻮ ﺍﯾﺴﮯ ﺳﺴﭩﻢ ﺩﯾﮯ ﺟﻮ ﺍٓﺝ ﺗﮏ ﭘﻮﺭﯼ ﺩﻧﯿﺎ‏ﻣﯿﮟ ﺭﺍﺋﺞ ﮨﯿﮟ-

    ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﯿﮕﺰﯾﻨﮉﺭ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺻﺮﻑ ﮐﺘﺎﺑﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﻤﭧ ﮐﺮ ﺭﮦ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ، ﺟﺐ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﺑﻨﺎﺋﮯ ﻧﻈﺎﻡ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ 245 ﻣﻤﺎﻟﮏ ﻣﯿﮟ ﺍٓﺝ ﺑﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﻧﮧ کسی‏ﺷﮑﻞ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﯿﮟ۔

    ﺍٓﺝ ﺑﮭﯽ ﺟﺐ ﮐﺴﯽ ﮈﺍﮎ ﺧﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﻂ ﻧﮑﻠﺘﺎ ﮨﮯ، ﭘﻮﻟﺲ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﭙﺎﮨﯽ ﻭﺭﺩﯼ ﭘﮩﻨﺘﺎ ﮨﮯ، ﮐﻮﺋﯽ ﻓﻮﺟﯽ ﺟﻮﺍﻥ 4 ﻣﺎﮦ ﺑﻌﺪ ﭼﮭﭩﯽ ﭘﺮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﺴﯽ‏ﺑﭽﮯ، ﻣﻌﺬﻭﺭ، ﺑﯿﻮﮦ ﯾﺎ ﺑﮯ ﺍٓﺳﺮﺍ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﻭﻇﯿﻔﮧ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻣﻌﺎﺷﺮﮦ، ﻭﮦ ﺳﻮﺳﺎﺋﭩﯽ، ﺑﮯ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ ﻋﻈﯿﻢ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ، ﻭﮦ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﺎ‏ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﺳﮑﻨﺪﺭ ﻣﺎﻥ ﻟﯿﺘﯽ ﮨﮯ، ﻣﺎﺳﻮﺍﺋﮯ ﺍﻥ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺟﻮ ﺍٓﺝ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮐﻤﺘﺮﯼ ﮐﮯ ﺷﺪﯾﺪ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﻣﯿﮟ ﮐﻠﻤﮧ ﺗﮏ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﺑﺎﺋﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔

    ﻻﮨﻮﺭ ﮐﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ‏ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﺳﺮﮐﺎﺭ ﮐﻮ ﺩﮬﻤﮑﯽ ﺩﯼ ﺗﮭﯽ’’ ﺍﮔﺮ ﮨﻢ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﭘﮍﮮ ﺗﻮ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﭼﻨﮕﯿﺰ ﺧﺎﻥ ﯾﺎﺩ ﺍٓﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔‘‘
    ﺍﺱ ﭘﺮ ﺟﻮﺍﮨﺮ ﻻﻝ ﻧﮩﺮﻭ ﻧﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ ’’ﺍﻓﺴﻮﺱ ﺍٓﺝ ﭼﻨﮕﯿﺰ‏ﺧﺎﻥ ﮐﯽ ﺩﮬﻤﮑﯽ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﯾﮧ ﺑﮭﻮﻝ ﮔﺌﮯ، ﺍﻥ ﮐﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ( ﺣﻀﺮﺕ ) ﻋﻤﺮ ﻓﺎﺭﻭﻕ ( ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ) ﺑﮭﯽ ﺗﮭﺎ۔‘‘جن کے بارے میں مستشرقین اعتراف کرتے ہیں کہ "اسلام ‏میں اگر ایک عمر اور ہوتا تو آج دنیا میں صرف اسلام ہی دین ہوتا.”

    ﮨﻢ ﺍٓﺝ ﺑﮭﯽ ﯾﮧ ﺑﮭﻮﻟﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﮨﻢ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺣﻀﺮﺕ عمر فاروق تھے جن کے بارے میں حضور ﷺ نے فرمایا میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو عمر فاروق ہوتا ۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اپنی کھوئی ہوئی شاندار عظمت رفتہ پر غور و فکر عطا فرمائے اور اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلائے ۔۔۔ آمین یا رب العالمین

    (سوشل میڈیا وائرل پوسٹ)

  • جہلم میں واقع عظیم سائنسدان ابوریحان البیرونی سے منسلک تاریخی عمارت حکومت کی توجہ کی منتظر

    جہلم میں واقع عظیم سائنسدان ابوریحان البیرونی سے منسلک تاریخی عمارت حکومت کی توجہ کی منتظر

    یہ کھنڈر ضلع جلہم کے شہر پنڈ دادنخان میں واقع ہیں۔ یہ کوئی عام کھنڈر نہیں یہ دسویں صدی کے مشہور سائنسدان ابوریحان البیرونی کی لیبارٹری ہے جس میں انھوں نے ان پہاڑوں کی چوٹیوں کا استعمال کر کے زمین کی کل پیمائش کا صحیح اندازہ لگایا-

    البیرونی کے مطابق زمین کا قطر 3928.77 تھا جبکہ موجودہ ناسا کی جدید کیلکولیشن کے مطابق 3847.80 ہے یعنی محض81 کلومیٹر کا فرق_ البیرونی نے ڈھائی سو سے زیادہ کتابیں لکھیں، وہ محمود غزنوی کے دربار سے منسلک تھے، افغان لشکر کے ساتھ کلرکہار آئے، افغانوں نے البیرونی کے ڈیزائن پر انکو یہ لیبارٹی بنا کر دی-

    ‏اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم اپنے ورثہ کی کیسے قدر کرتے ہیں، اس میں ماسوائے چند بکریاں چرانے والوں کے علاوہ کوئی نہیں جاتا، اگر اس کا خیال نہیں رکھا گیا تو بہت ہی جلد ہم اس عجوبہ سے محروم ہوجائینگے، اس کے علاوہ یہاں تک جانے کا راستہ بھی ٹھیک نہیں ہے، اس کے لئے تقریبا ایک گھنٹہ کا پیدل سفر کرنا پڑے گا-

    ‏حکومت کو چاہیئے کہ دوبارہ سے ٹھیک کرے اور تعلیمی اداروں کو چاہیئے کہ Study Tours ایسے تاریخی مقامات پر کروایا کریں۔ یہ جو سٹڈی ٹور مری، نتھیا گلی وغیرہ میں کیئے جاتے ہیں یہ صرف اور صرف تفریح ہی ہو سکتے ہیں ان سے تعلیمی مقاصد حاصل نہیں کیئے جا سکتے-

    ‏1974 میں سوویت یونین نے ابو ریحان محمد بن البیرونی پر ایک فلم بھی بنائی ھے جس کا نام ھے ابو ریحان البیرونی، البیرونی کی وفات 1050 میں غزنی افغانستان میں ہوئی اور وہیں آسودہ خاک ہیں-

  • کوئی خواہش نہ رہی باقی  از قلم: ام شاہد

    کوئی خواہش نہ رہی باقی از قلم: ام شاہد

    کوئی خواہش نہ رہی باقی…!
    ✍️از قلم: ام شاہد
    اتنا ہنسے کہ کوئی خوشی
    نہ رہی باقی…………….
    اتنا روئے کہ کوئی آنسو
    نہ رہا باقی……………..
    اتنا تڑپے کہ کوئی درد
    نہ رہا باقی……………..
    اتنا ترسے کہ کوئی خواہش
    نہ رہی باقی………………
    اتنا جاگے کہ کوئی خواب
    نہ رہا باقی…………….
    آنکھیں بھول گئی خوب
    کیا ہوتے ہیں…………….
    اچھا ھے کوئی خواب نہ آئے
    یقین دلائے کہ وہ ھیــــں……
    یہیں ھیــــں……….
    آہ خواب نہیں آتے…
    خیال آتے ھیــــں……
    وہ کب آئے گا…….
    وہ آئے نہ آئے……
    اس کا سایہ تو آئے………
    قلم چلتے چلتے رک گیا…….
    خیالوں نے ساتھ چھوڑ دیا….
    میں خاموش رہیں کیونکہ….
    سائے نے بھی ساتھ چھوڑ دیا…………..
    کتنی عجیب بات ھیــــں…..
    زندگی دکھ سے بھری پڑی تھی……………
    مگر قلم خالی ہو گیا………
    میں نے گہری سانس لی کیونکہ……………………….. حالات و خیالات اک نیا انداز اپنا رہے تھے…………..
    میں نے خاموشی سے ڈائری
    بند کر دی………….
    ساتھ ہی آنکھیں بند ہو گئی..
    تصورات کے ادھورے سپنے…
    خیالات میں ابھر نے لگے…..
    سنجیدگی سے سوچنے لگیں
    کہ یہ اتفاق ھیــــں…….
    یا قلم کی شرات………
    قلم وہاں رکا جہاں تمناؤں کی………..
    شدت دعائیہ انداز اپنا رہی تھی……….
    خاموشی کے ساتھ آنسوؤں
    کے ساتھ……….
    شدت غم کے ساتھ……..
    آہ جدائی کے ساتھ…….
    آہ جدائی کے ساتھ…….

  • پشتو گلوکارہ گل پانڑہ نے بھی ٹک ٹاک کی دُنیا میں قدم رکھ دیا

    پشتو گلوکارہ گل پانڑہ نے بھی ٹک ٹاک کی دُنیا میں قدم رکھ دیا

    معروف پشتو فوک گلوکارہ گُل پانڑہ نے گلوکاری کے بعد اب معروف چینی ویڈیو شئیرنگ ایپ ٹک ٹاک کی دُنیا میں بھی قدم رکھ دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : اس حوالے سے گُل پانڑہ نے اپنے تصدیق شدہ انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک خصوصی اسٹوری شیئر کی جس میں گل پانڑہ نے اپنی ٹک ٹک ویڈیو شیئر کی ۔

    گلوکارہ نے اپنی انسٹا اسٹوری میں اپنے ٹک ٹاک اکاؤنٹ کی آئی ڈی بھی شیئر کرتے ہوئے اور مداحوں سے کہا کہ اُنہیں انسٹاگرام کے علاوہ اب ٹک ٹاک پر بھی فالو کریں۔

    دوسری جانب اگر ہم گُل پانڑہ کے ٹک ٹاک اکاؤنٹ کا جائزہ لیں تو اُنہوں نے اب تک لاتعداد ویڈیوز اپ لوڈ کی ہیں جن پر لاکھوں لائکس آئے ہیں۔

    جبکہ گُل پانڑہ کے فالوورز کی تعداد دو ملین پانچ اعشاریہ یعنی 25 لاکھ ہے جبکہ گلوکارہ نے کسی کو فالو نہیں کیا ہوا ۔

    یاد رہے کہ گُل پانڑہ کا شمار پاکستان کی مقبول ترین پشتو گلوکاراؤں میں ہوتا ہےوہ کوک اسٹوڈیو میں عالمی شہرت یافتہ گلوکار عاطف اسلم کے ہمراہ بھی اپنی سُریلی آواز کا جادو دکھا چکی ہیں۔

  • ماضی میں سلمان خان کو والد سلیم خان نے کس طرح سزا سے بچایا تھا؟

    ماضی میں سلمان خان کو والد سلیم خان نے کس طرح سزا سے بچایا تھا؟

    بالی وڈ سُپر اسٹار سلمان خان کا کہنا ہے کہ ماضی میں ان کے والد سلیم خان نے ان کو سزا سے بچانے کے لئے خود سزا بھگتی تھی-

    باغی ٹی وی :بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سلمان خان نے ایک انٹرویو میں اپنے بچپن کا قصہ سناتے ہوئے بتایا کہ کس طرح ان کے والد سلیم خان نے اسکول میں ان کی جگہ سزا بھگتی۔

    سلمان خان نے بتایا کہ جب وہ چوتھی جماعت میں تھے تو اسکول کی فیس نہ بھرنے پر انہیں کلاس سے باہر کھڑا کردیا گیا تھا جب ان کے والد کام سے لوٹ رہے تھے تو انہوں نے سلمان کو کلاس کے باہر کھڑا دیکھا اور پوچھا کہ اب تم نے کیا شرارت کردی؟ جس پر سلمان نے کہا کہ پتہ نہیں ڈیڈی کیوں پرنسپل نے مجھے کلاس سے باہر نکال دیا، میں پورا دن یہیں کھڑا رہا ہوں۔

    سلمان نے بتایا کہ ان کے والد یہ سن کر سیدھا پرنسپل کے پاس گئے اور وجہ پوچھی جس پر پرنسپل نے کہا کہ اسکول کی فیس نہ بھرنے کی وجہ سے سلمان کو باہر کھڑا کیا گیا ہے۔

    سلمان کے مطابق اس موقع پر سلیم خان نے کہا کہ اسکول کی فیس بھرنا سلمان کی نہیں میری ذمہ داری ہے، آپ کو اسے کلاس میں رکھنا چاہیے، میرے پاس اس وقت پیسوں کی کمی ہے میں فیس بھردوں گا لیکن ابھی اگر آپ نے سزا دینی ہے تو مجھے دیجئے یہ کہہ کر سلیم خان، سلمان کی جگہ باہر جا کر کھڑے ہوگئے۔

    واضح رہے کہ سلمان خان اپنے والدین کے کافی قریب ہیں اور وہ اب بھی پرتعیش گھر کے بجائے اس فلیٹ میں ہی رہنے کو ترجیح دیتے ہیں جہاں ان کے والدین بھی رہائش پذیر ہیں۔

  • عرشی خان اپنا سب سے بڑا خواب پورا ہونے پر سلمان خان اور بگ باس کی مشکور

    عرشی خان اپنا سب سے بڑا خواب پورا ہونے پر سلمان خان اور بگ باس کی مشکور

    بھارت کے مقبول ترین رئیلیٹی شو بگ باس سیزن 14 میں چیلنجرز کی حیثیت سے قدم رکھنے والی کھلاڑی عرشی خان کا ممبئی میں اپنا ذاتی گھر خریدنے کا سب سے بڑا خواب پورا ہو گیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق عرشی خان نے حال ہی میں ممبئی میں اپنا گھر خریدا ہےجس کے لیے وہ بالی وڈ اداکار سلمان خان کی مشکور ہیں۔

    اس ضمن میں اداکارہ عرشی خان کا کہنا تھا کہ میرا شروع سے ہی خواب تھا کہ میرا اپنا خود کا گھر ہو اور مجھے یقین نہیں آرہا ہے کہ میرا یہ خواب پورا ہو گیا۔

    انہوں نے بتایا کہ چند روز قبل میں کرائے کے گھر میں رہائش پزیر تھی لیکن اب میرا خود کا گھر ہے اور اس احساس سے مجھے خود پر فخر ہو رہا ہے میں خدا کا بہت شکر ادا کرتی ہوں جو ہمیشہ میرا ساتھ دیتا ہے اس کے بعد میں اپنے والدین کا شکریہ ادا کروں گی جنہوں نے مجھ پر بھروسہ کیا۔

    علاوہ ازیں عرشی خان نے کہا کہ میں بگ باس اور اداکار سلمان خان کا خاص طور پر شکریہ ادا کرنا چاہوں گی۔

    خیال رہے کہ اداکارہ عرشی خان بہت جلد بالی وڈ کی دنیا میں قدم رکھنے کو تیار ہیں اور ان کی آنے والی فلم خواتین کو با اختیار بنانے کے حوالے سے ہے اس حوالے سے عرشی خان کا کہنا تھا کہ میں اس پروجیکٹ کے لیے بے حد خوش ہوں میں جس ہدایت کار کے ساتھ کام کر رہی ہوں انہوں نے ہی مجھے اس کردار کے لیے منتخب کیا ہے اور لوگ مجھے بالکل مختلف روپ میں دیکھیں گے۔

    بگ باس سیزن 14 کی چیلنجرز کھلاڑی عرشی خان کی بالی وڈ میں انٹری

  • کچھ لکھنے سے پہلے اپنے حقائق درست کریں گوہر خان بھارتی میڈیا پر برہم

    کچھ لکھنے سے پہلے اپنے حقائق درست کریں گوہر خان بھارتی میڈیا پر برہم

    بھارت کے معروف رئیلیٹی شو بگ باس سیزن7 کی فاتح اداکارہ و ماڈل گوہر خان شوہر کی عمر اور اپنے حاملہ ہونے سے متعلق خبروں پر بھارتی میڈیا پر برہم ہو گئیں-

    باغی ٹی وی: حال ہی میں بھارتی ویب سائٹ کی جانب سے ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اداکارہ گوہر خان کے شوہر زید دربار ان سے 12 سال چھوٹے ہیں جب کہ اداکارہ 3 ماہ سے حاملہ ہیں۔

    جس کے بعد گوہر خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وہ خبر شئیر کرتے ہوئے بھارتی میڈیا کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے خوب کھڑی کھڑی سنائیں-


    گوہر خان نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ تمہارا دماغ خراب ہے اورحقائق بھی 12 سال چھوٹے ہونے کی خبر ہوئی پرانی لہٰذا کچھ لکھنے سے پہلے اپنے حقائق درست کریں-

    اداکارہ نے مزید لکھا کہ میں نے اپنے والد کو کھویا ہے لہٰذاآپ کی بے بنیاد رپورٹ کو لے کر حساسیت پیدا ہوگئی۔

    گوہر خان نے بھارتی ویب سائٹ کو ٹیگ کرتے ہوتے لکھا کہ میں حاملہ نہیں ہوں بہت شکریہ۔

    ساتھ ہی اپنے ٹوئٹ میں انہوں نے غصے والے ایموجی کا بھی استعمال کیا-

  • زین ملک کی گریمی ایوارڈز کی نامزدگیوں پر کڑی تنقید

    زین ملک کی گریمی ایوارڈز کی نامزدگیوں پر کڑی تنقید

    برطانوی گلوکار زین ملک نے دنیائے موسیقی کے مقبول ترین گریمی ایوارڈز کی نامزدگیوں پر کڑی تنقید کی ہے۔

    باغی ٹی وی : گلوکار زین ملک نے حال ہی میں اپنے تصدیق شدہ ٹوئٹر اکاؤنٹ پر گریمی ایوارڈز کی نامزدگیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گریمی اور اس جُڑے تمام تر لوگ بھاڑ میں جائیں، جب تک آپ ہاتھ نہ ملائیں اور تحائف نہ بھیجیں، نامزدگی پر غور نہیں کیا جائے گا۔


    زین ملک نے گریمی ایوارڈز انتظامیہ کے لیے طنزیہ انداز اپناتے ہوئے کہا کہ اب اگلے سال میں آپ کو کھانے پینے کی چیزوں سے بھری ٹوکری بھیجوں گا۔

    گریمی ایوارڈ پر کڑی تنقید کرنے کے بعد زین ملک نے وضاحت دینے کے لیے ایک اور ٹوئٹ بھی کی جس میں انہوں نے کہا کہ ’میرا ٹوئٹ ذاتی یا اہلیت کے حوالے سے نہیں تھا۔


    زین نے اپنی ٹوئٹ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ میری ٹوئٹ نامزدگی کے عمل میں شفافیت کے فقدان کے حوالے سے اور ووٹنگ کے عمل میں اثر انداز ہونے والی نسل پرستی اور مفاد پرستی کے حوالے سے ہے۔

    خیال رہے کہ برطانوی گلوکار زین ملک نے گزشتہ دنوں اپنے 300 لو البم پیش کیے تھے جس میں سے ان کے صرف گلوکارہ ٹیلر سوئفٹ کے ساتھ گائے جانے والے گانے کو نامزدکیا گیا۔

    گریمی ایوارڈز کے لیے زین ملک کے البم نو بڈی از لسننگ کو نامزد نہیں کیا گیا کیونکہ وہ نامزدگیوں کے عمل کی مدت ختم ہونے کے 5 ماہ بعد اور ایوارڈز کی نامزدگیوں کے اعلان کے دو ماہ بعد ریلیز کیا گیا تھا۔

  • لاہورمحکمہ وائلڈ لائف نے شادی شدہ جوڑے کی شیر کے بچے کے ساتھ ویڈیوز اور تصاویر کا نوٹس لے لیا

    لاہورمحکمہ وائلڈ لائف نے شادی شدہ جوڑے کی شیر کے بچے کے ساتھ ویڈیوز اور تصاویر کا نوٹس لے لیا

    لاہور کے محکمہ وائلڈ لائف نے سوشل میڈیا پر ایک نئے شادی شدہ جوڑے کی شیر کے بچے کے ساتھ وائرل ہونے والی ویڈیو اور تصاویر کا نوٹس لے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

    باغی ٹی وی :حال ہی میں ایک فوٹوگرافر کی جانب سے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر متعدد اسٹوریز شیئر کی گئیں جو دیکھتے دیکھتے ہی وائرل ہو گئیں۔

    سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے شادی کے فوٹو شوٹ میں دولہا دُلہن کے ساتھ ایک شیر کا بچہ بھی موجود ہے جس کا استعمال فوٹو شوٹ کے لیے کیا جا رہا ہے۔
    https://twitter.com/wildpakistan/status/1368662296663363588?s=20
    اس معاملے پر ٹوئٹر پر سیو دی وائلڈ نامی اکاؤنٹ سے پنجاب والڈ لائف کو توجہ دلاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کیا آپ کا اجازت نامہ ایک شیر کے بچے کو شادی کی تقاریب کے لیے کرائے پر دینے کی اجازت دیتا ہے؟۔

    صارف نے کہا کہ اس بیچارے شیر کے بچے کو دیکھیں جسے تقریب میں ایک پروپ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہےیہ اسٹوڈیو لاہور میں ہے جہاں اس شیر کے بچے کو قید کیا ہوا ہے، براہ کرم اسے بچائیں۔


    فیصل امین نامی صارف نے کہا کہ لوگوں کے ساتھ کیا مسئلہ ہے ، ایک متاثرہ شیر کو ایک پروپ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے اور اسٹوڈیو کو جس نے ایسا کیا اس کو شرم آنی چاہئے پنجاب گورنمنٹ کو اب سیاسی جلسوں سے لیکر شادی کی شوٹنگ ، جانوروں کی طرح کے حامیوں تک ، ان کی "اسیران نسل” کی پالیسی پر نظر ثانی کرنا ہوگی ، یہ شیر کا بچہ بیمار ہے-


    ایک صارف پنجاب وائلڈ لائف کو توجہ دلاتے ہوئے کہتی ہیں کہ ‘جانورو ں کے ساتھ اس زیادتی کو روکا جائے۔


    ڈاکٹر آصف علی خان نامی صارف نے کہا کہ ’ریاست کہاں ہے، کہاں ہے قانون، غیر فعال حکام کو کیا اس سے زیادہ کسی ثبوت کی ضرورت ہے؟‘۔

    جس کے بعد لاہور کے محکمہ وائلڈ لائف نے سوشل میڈیا پر ایک نئے شادی شدہ جوڑے کی شیر کے بچے کے ساتھ وائرل ہونے والی ویڈیو اور تصاویر کا نوٹس لے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

    غیر ملکی خبررساں ادارے بی بی سی اردو نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اس حوالے سے وائلڈ لائف لاہور کے ڈی ایف او تنویر جنجوعہ کا کہنا ہے کہ حکومت پنجاب اور وائلڈ لائف پنجاب نے کچھ شرائط کے ساتھ جنگلی حیات کی افزائش کے لیے ’بریڈنگ فارم‘ کی اجازت دے رکھی ہے جس کا لائنسس حاصل کرنے کے بعد ایسی جنگلی حیات کی جن کی پاکستان میں آماجگاہیں نہیں ہیں اور وہ پاکستان کی مقامی جنگلی حیات نہیں ہیں بریڈنگ اور فارمنگ کی اجازت دی جاتی ہے۔

    لیکن حکام کے مطابق اس میں کسی بھی صورت میں نمائش کرنے کی کوئی اجازت نہیں ہے اور یہ کہ جوڑے اور تصاویر بنانے والے سٹوڈیو نے تصاویر اور ولاہور مھیڈیو بنوا کر غیر قانونی کام کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سٹوڈیو اور جوڑے پر کم از کم ایک لاکھ روپے جرمانہ یا انھیں قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

    تنویر جنجوعہ کا کہنا تھا کہ ان کے خیال کے مطابق مذکورہ شیر کا بچہ کسی بریڈنگ فارم سے حاصل کیا گیا ہوگا اور ان کے مطابق اس بریڈنگ فارم کے خلاف بھی کارروائی ہو گی۔

    تنویر جنجوعہ کا کہنا تھا کہ تصاویر اور ویڈیو میں بظاہر لگ رہا ہے کہ ’شیر کا بچہ بے سدھ ہے۔وہ کسی قسم کی حرکت نہیں کر رہا، مگر ایسا نہیں ہےمحسوس ہوتا ہے کہ یہ تربیت یافتہ ہے اپنے مالک کے ساتھ مانوس ہو چکا ہے اور اس کی ہدایات پر عمل کرتا ہے شادی کی تصاویر اور ویڈیو میں بھی لگتا ہے کہ وہ اپنے مالک کی ہدایات پر عمل کر رہا ہے۔

    تنویر جنجوعہ کا کہنا تھا کہ بریڈنگ فارمز میں شیروں اور جنگلی حیات کو تربیت فراہم کی جاتی ہے جس کے بعد وہ انسانوں سے مانوس ہو جاتے ہیں یہ افریقی نسل کے شیر کا بچہ ہے جس کی عمر کوئی دو، تین ماہ ہو سکتی ہے۔

    جبکہ دوسری جانب بی بی سی می رپورٹ کے مطابق افضل سٹوڈیو کے احسن نے دعویٰ کیا ہے کہ شادی شدہ جوڑے کی تصاویر کے ساتھ شیر کے بچے کی تصاویر بعد میں شامل کی گئیں ہیں ان کا کہنا تھا کہ تصاویر کے موقع پر شیر وہاں موجود نہیں تھا۔

    جب ان سے کہا گیا کہ ایسی ویڈیوز بھی موجود ہیں جن میں شیر کا بچہ نظر آ رہا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے ویڈیو نہیں بنائی تھی اور ویسے بھی یہ تصاویر دس، پندرہ روز پرانی ہیں۔