Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • ڈیزائنر علی ذیشان کے ہاں بیٹے کی پیدائش

    ڈیزائنر علی ذیشان کے ہاں بیٹے کی پیدائش

    پاکستان فیشن انڈسٹری کے نامور ڈیزائنر علی ذیشان کے ہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی ہے۔

    باغی ٹی وی :ڈیزائنرعلی ذیشان نے اپنے تصدیق شدہ انسٹاگرام اکاؤنٹ پر اپنی پوسٹ کے ذریعے دی-

    بعد ازاں انہوں نے اپنی اہلیہ اور اپنے نومولود بیٹے کے ہمراہ تصویر شیئر کی۔تصویر میں علی ذیشان نے گود میں اپنے بیٹے کو اُٹھایا ہوا ہے جبکہ وہ اور اُن کی اہلیہ محبت بھری نگاہوں سے اپنے بیٹے کو دیکھ رہے ہیں۔

    علی ذیشان نے یہ خوبصورت تصویر شیئر کرتے ہوئے کیپشن میں سورۃ الرحمٰن کی ایک آیت کا انگریزی زبان میں ترجمہ لکھا کہ اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے-

    اُنہوں نے اپنے مداحوں کو خوشخبری سُناتے ہوئے لکھا کہ ’الحمداللہ! اللہ تعالیٰ نے ہمیں بیٹے کی نعمت سے نوازا ہے۔‘

    علی ذیشان نے بتایا کہ اُنہوں نے اپنے بیٹے کا نام جان شیر علی رکھا ہے۔

    علی ذیشان کی اس پوسٹ پر گلوکار امانت علی اور اداکارہ و صدف کنول نے مبارکباد دی جبکہ مداحوں کی جانب سے مبارکبادوں کا سلسلہ جاری ہے-

    واضح رہے کہ علی ذیشان کا شمار پاکستان کے معروف اور شہرت یافتہ ڈیزائنرز میں ہوتا ہے اور رواں سال ہونے والے برائیڈل کیٹور ویک (بی سی ڈبلیو) 2021 کی رنگا رنگ تقریب کے آخری روز علی ذیشان نے اپنی حاملہ اہلیہ کے ہمراہ ریمپ پر واک کی تھی۔

    برائیڈل کیٹور ویک 2021: ڈیزائنر علی ذیشان کی حاملہ بیوی کے ساتھ ریمپ واک

  • راکھی ساونت نے سلمان خان کے ساتھ نیا رشتہ بناکر سب کو حیران کر دیا

    راکھی ساونت نے سلمان خان کے ساتھ نیا رشتہ بناکر سب کو حیران کر دیا

    بالی ووڈ کی متنازعہ اداکارہ اور بگ باس کے سیزن 14 کی کنٹینسٹ راکھی ساونت نے سلمان خان کو بھائی بنا لیا-

    باغی ٹی وی :دنیا بھر مین دیکھا جانے والا بھارت کا مقبول ترین متنازع شو ’ بگ باس 14‘ حال ہی میں اختتام پذیر ہوا جس میں دیگر کھلاڑیوں کے ہمراہ راکھی ساونت بھی شامل تھیں۔

    راکھی ساونت نے فائنل میں پہنچنے سے قبل آفر قبول کرتے ہوئے 14 لاکھ روپے لیکر شو چھوڑ دیا تھا جس کی وجہ انہوں نے والدہ کی کیمو تھراپی بتائی تھی۔

    تاہم اب اداکارہ نے شو کے میزبان سلمان خان کے ساتھ نیا رشتہ بناکر سب کو حیران کر دیا ہے۔

    راکھی ساونت نے انسٹا گرام پر ایک پوسٹ شیئر کی جس میں وہ سلمان خان کے ساتھ مسکراتے ہوئے تصویر بنوا رہی ہیں اور انہوں نے سلمان خان کا دیا ہوا بریسلٹ بھی پہن رکھا ہے تصویر کے ساتھ کیپشن میں انہوں نے سلمان خان کو اپنا بھائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بادشاہوں کے بادشاہ اور کوئی نہیں بلکہ سلمان خان ہی ہیں۔

    راکھی نے سلمان خان کو دعائیں دیتے ہوئے کہا کہ خدا اُن کو نہ صرف بہت ساری خوشیاں عطا کرے بلکہ اُن کی تمام مرادیں بھی پوری کرے۔

    واضح رہے کہ سیزن 14 کے فائنل میں پہنچنے والوں میں 5 امیدواروں میں راکھی ساونت بھی شامل تھیں لیکن وہ 14 لاکھ روپے کی پیشکش قبول کرکے گرینڈ فنالے چھوڑ گئی تھیں اور اب انہوں نے بتایا ہے کہ یہ انہوں نے اپنی ماں کے علاج کے لئے کیا ہے-

    بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق راکھی ساونت کا کہنا ہے کہ مجھے شو میں اپنے سفر پر فخر ہے اور مجھے اس بات کا کوئی افسوس نہیں کہ میں آخر تک نہیں رکی اور 14 لاکھ روپے لے کر باہر آگئی۔لوگ مجھے کہہ رہے ہیں کہ مجھے وہیں رکنا چاہیے تھا، کہ میں شو جیت سکتی تھی یا دوسرے نمبر پر آجاتی لیکن میں چانس نہیں لینا چاہتی تھی۔

    انہوں نے کہا کہ میری والدہ کی سرجری ہونے کا امکان ہے مجھے پیسوں کی اشد ضرورت ہے اور میرا بینک بیلنس صفر ہے میں کیش لے کر چلی گئی کیونکہ دوسرے یا تیسرے رنر اپ کو کچھ نہیں ملتا اور میں کوئی خطرہ مول لینا نہیں چاہتی تھی۔

    راکھی ساونت کا کہنا تھا کہ انہیں والدہ کے علاج، کیموتھراپی کے لیے رقم کی ضرورت تھی میرے لیے اپنی ماں سے بڑھ کرکچھ بھی نہیں ٹرافی بھی نہیں میرے لیے مداحوں کی محبت اور سلمان خان کی طرف سے دیا گیا بریسلیٹ ٹرافی کی طرح ہے۔

    بگ باس سیزن 14 کا ٹائٹل اداکارہ ربینہ دلیک نے اپنے نام کر لیا

    کون ہو گا بگ باس کے سیزن 14 کا فاتح؟

    سلمان خان بگ باس کے اگلے سیزن کی میزبانی کا کتنا معا وضہ لیں گے؟

    کالے ہرن شکار کیس میں سلمان خان کے خلاف راجستھان حکومت کی درخواست مسترد

    6 سالہ بچے نے سلمان خان کے شادی شدہ ہونے کا دعویٰ کر دیا

    پیسے لے کر بگ باس کا فائنل کیوں چھوڑا؟ راکھی نے وجہ بتا دی

    مہنگی برانڈز کے بجائے سروجنی نگر کی شلوار قمیض میں ہی خوش ہوں سارہ علی خان

  • شہزاد رائے نے جسمانی تشدد کے تدارک کا بل منظور ہونے کو پاکستانی بچوں کے لیے خوشخبری قرار دیا

    شہزاد رائے نے جسمانی تشدد کے تدارک کا بل منظور ہونے کو پاکستانی بچوں کے لیے خوشخبری قرار دیا

    پاکستان میوزک انڈسٹری کے عالمی شہرت یافتہ گلوکار شہزاد رائے نے گزشتہ روز بچوں پر جسمانی تشدد کے تدارک کا بل منظور ہونے کو پاکستانی بچوں کے لیے خوشخبری قرار دیا –

    باغی ٹی وی : رواں ماہ 23 فروری 2021 کو قومی اسمبلی میں بچوں پر جسمانی تشدد کے تدارک کا بل اکثریت رائے سے منظور کرلیا گیا۔ بچوں پر تشدد پر پابندی کا بل مسلم لیگ (ن) کی رکن اسمبلی مہناز اکبرعزیز نے اسلام آباد میں بچوں کو جسمانی سزا دینے کے خلاف احکام وضع کرنے کا بل پیش کیا جسے ایک شق میں وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کی ترمیم کے بعد منظور کیا گیا۔

    بل کے متن میں کہا گیا تھا کہ سرکاری و غیر سرکاری، کام کرنے کی جگہ، تعلیمی اداروں، مدارس، ٹیوشن سینٹرز میں بچوں پر جسمانی تشدد کی ممانعت ہو گی۔

    تاہم اب اس حوالے سے ایک ویڈیو پیغام میں گلوکار شہزاد رائے نے گزشتہ روز بچوں پر جسمانی تشدد کے تدارک کا بل منظور ہونے کو پاکستانی بچوں کے لیے خوشخبری قرار دیا –

    انسٹاگرام پر اپلوڈ کی گئی اپنی ویڈیو کے ذرعیے گلوکار نے بچوں کو آسان الفاظ میں سمجھایا کہ اب ان پر اسکولوں، مدرسوں یا کام کرنے کی جگہوں پر کوئی بھی تشدد نہیں کرسکتا۔

    انہوں نے تشدد کرنے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اب اگر کوئی بچوں کا کان مروڑے، ان کے منہ پر تھپڑ مارے، دھکا دے، جھنجھوڑے یا بچوں کو پکڑ کر بلیک بورڈ پر دے مارے تو اسے بھی جرم تصور کیا جائے گا آئندہ کوئی بھی آپ کے ساتھ ایسے نہیں کر سکتا اور اس شخص کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی۔

    شہزاد رائے نے قومی اسمبلی میں اس کے حق میں ہونے والے فیصلے کی ویڈیو بھی شئیر کی اور بچوں کو بتایا کہ وہ کس طرح مار پیٹ سے بچ سکتے ہیں-انہوں نے ماں باپ سے بھی درخواست کی کہ وہ اپنے بچوں کو مار پیٹ سے بچائیں کیونکہ مارنے سے نقصان زیادہ ہے اور فائدہ کم ہے-

    واضح رہے کہ اس سے قبل قومی اسمبلی کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ پر اسپیکر اسد قیصر کا کہنا تھا کہ بچوں پر جسمانی تشدد کے تدارک کے لیے قانون سازی تاریخی اہمیت کی حامل ہے بچوں پر جسمانی تشدد کے تدارک کے لیے قانون سازی تاریخی اہمیت کی حامل ہے اسکولوں میں بچوں پر جسمانی سزاؤں کے تدارک کے لیے قانون سازی ناگزیر تھی۔

    اسپیکر اسد قیصر کا کہنا تھا کہ جسمانی سزاؤں سے بچوں کی ذہنی اور جسمانی نشوونما سمیت تعلیمی سرگرمیاں بھی متاثر ہورہی تھیں۔ ساتھ ہی بچوں پر تشدد روکنے کی گلوکار وسماجی کارکن شہزاد رائے کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ زندگی ٹرسٹ کے سربراہ شہزاد رائے کی بچوں پر جسمانی تشدد کے تدارک کے لیے کوششیں قابل ستائش ہیں۔

    خیال رہے کہ گزشتہ برس گلوکار شہزاد رائے نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں بچوں پر تشدد اور جسمانی سزا پر پابندی کے حوالے سے درخواست دائر کی تھی عدالت نے وفاقی دارالحکومت میں بچوں پر تشدد پر پابندی لگادی تھی۔

    عدالتی فیصلے کے بعد شہزاد رائے کا کہنا تھا کہ بچوں پر تشدد کے خاتمے سے متعلق بل قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا اور اس حوالے سے قانون جلد آئے گا۔ (یہی بل دو روز قبل قومی اسمبلی میں منظور کیا گیا ہے)۔

    شہزاد رائے کا مزید کہنا تھا کہ جسمانی سزا ہماری ذہنیت ہے، بچوں پر مار پیٹ اسلامی تعلیمات کےخلاف ہے، ہم نے عالمی معاہدے پر دستخط کئے ہیں، بچوں کو جسمانی سزا دینے والے سیکشن 89 کا سہارا لیتے ہیں کہ اچھی نیت سے مارا۔

    سیکشن 89 کہتی ہے بچوں کا گارجین(سرپرست) اچھی نیت کے ساتھ تشدد کی اجازت دے سکتا ہے، والدین یا بچوں کے گارجین کو بھی کیسے حق ہے کہ وہ تشدد کی اجازت دیں۔

    شہزاد رائے کی بچوں پر جسمانی تشدد کے تدارک کے لیے کوششیں قابل ستائش ہیں اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر

  • شہزاد رائے کی بچوں پر جسمانی تشدد کے تدارک کے لیے کوششیں قابل ستائش ہیں    اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر

    شہزاد رائے کی بچوں پر جسمانی تشدد کے تدارک کے لیے کوششیں قابل ستائش ہیں اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر

    اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے بچوں پر جسمانی تشدد روکنے کے لئے گلوکار و سماجی کارکن شہزاد رائے کی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے کہنا ہے کہ شہزاد رائے کی بچوں پر جسمانی تشدد کے تدارک کے لیے کوششیں قابل ستائش ہیں۔

    باغی ٹی وی :رواں ماہ 23 فروری 2021 کو قومی اسمبلی میں بچوں پر جسمانی تشدد کے تدارک کا بل اکثریت رائے سے منظور کرلیا گیا۔ قومی اسمبلی کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ پر اسپیکر اسد قیصر نے کہا کہ بچوں پر جسمانی تشدد کے تدارک کے لیے قانون سازی تاریخی اہمیت کی حامل ہے


    انہوں نے مزید کہا بچوں پر جسمانی تشدد کے تدارک کے لیے قانون سازی تاریخی اہمیت کی حامل ہے اسکولوں میں بچوں پر جسمانی سزاؤں کے تدارک کے لیے قانون سازی ناگزیر تھی۔


    اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ جسمانی سزاؤں سے بچوں کی ذہنی اور جسمانی نشوونما سمیت تعلیمی سرگرمیاں بھی متاثر ہورہی تھیں۔

    اسپیکر قومی اسمبلی نے بچوں پر تشدد روکنے کی گلوکار وسماجی کارکن شہزاد رائے کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ کہ زندگی ٹرسٹ کے سربراہ شہزاد رائے کی بچوں پر جسمانی تشدد کے تدارک کے لیے کوششیں قابل ستائش ہیں۔

    خیال رہے کہ بچوں پر تشدد پر پابندی کا بل مسلم لیگ (ن) کی رکن اسمبلی مہناز اکبرعزیز نے اسلام آباد میں بچوں کو جسمانی سزا دینے کے خلاف احکام وضع کرنے کا بل پیش کیا جسے ایک شق میں وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کی ترمیم کے بعد منظور کیا گیا۔

    بل کے متن میں کہا گیا تھا کہ سرکاری و غیر سرکاری، کام کرنے کی جگہ، تعلیمی اداروں، مدارس، ٹیوشن سینٹرز میں بچوں پر جسمانی تشدد کی ممانعت ہو گی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ برس گلوکار شہزاد رائے نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں بچوں پر تشدد اور جسمانی سزا پر پابندی کے حوالے سے درخواست دائر کی تھی عدالت نے وفاقی دارالحکومت میں بچوں پر تشدد پر پابندی لگادی تھی۔

    عدالتی فیصلے کے بعد شہزاد رائے کا کہنا تھا کہ بچوں پر تشدد کے خاتمے سے متعلق بل قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا اور اس حوالے سے قانون جلد آئے گا۔ (یہی بل دو روز قبل قومی اسمبلی میں منظور کیا گیا ہے)۔

    شہزاد رائے کا مزید کہنا تھا کہ جسمانی سزا ہماری ذہنیت ہے، بچوں پر مار پیٹ اسلامی تعلیمات کےخلاف ہے، ہم نے عالمی معاہدے پر دستخط کئے ہیں، بچوں کو جسمانی سزا دینے والے سیکشن 89 کا سہارا لیتے ہیں کہ اچھی نیت سے مارا۔

    سیکشن 89 کہتی ہے بچوں کا گارجین(سرپرست) اچھی نیت کے ساتھ تشدد کی اجازت دے سکتا ہے، والدین یا بچوں کے گارجین کو بھی کیسے حق ہے کہ وہ تشدد کی اجازت دیں۔

  • شوبز میں اقربا پروری کی وجہ سےسینئر اداکاروں کو ہی مرکزی کرداروں میں کاسٹ کیا جاتا ہے   یاسر حسین

    شوبز میں اقربا پروری کی وجہ سےسینئر اداکاروں کو ہی مرکزی کرداروں میں کاسٹ کیا جاتا ہے یاسر حسین

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے نامور اداکار یاسر حسین کا کہنا ہے کہ شوبز انڈسٹری میں اقربا پروری موجود ہے اور بعض اداکاروں کو کئی سال تک کام کرنے کے باوجود اچھے منصوبے نہیں ملتے اور سینئر اداکاروں کو ہی مرکزی کرداروں میں کاسٹ کیا جاتا ہے۔

    باغی ٹی وی : حال ہی میں اداکار یاسر حسین نے میزبان و اداکار واسع چوہدری کے شو ’گھبرانا نہیں ہے‘میں شرکت کی جہاں انہوں نے میزبا کے دلچسپ سوالات کے جوابات دیئے-

    دوران شو میزبان کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں یاسر حسین نے کہا کہ ماضی میں ان کا بھی یہی خیال تھا کہ جب ایک ڈاکٹر کا بیٹا ڈاکٹر بن سکتا ہے تو اداکار کا بیٹا اداکار کیوں نہیں؟

    یاسر حسین نے کہا کہ پھر انہیں کسی نے سمجھایا کہ ڈاکٹر کے بیٹے کو ڈاکٹر بننے کے لیے ایم بی بی ایس کی ڈگری درکار ہوتی ہے جب کہ اداکار کے بیٹے کو اداکار بننے کے لیے بس تھوڑا سا اچھے طریقے سے بولنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

    یاسر حسین کے خیال میں شوبز انڈسٹری میں اچھا کام کرنے والے بعض اداکاروں کو کافی عرصے تک اچھے منصوبے نہیں ملتے اور سینئر اداکاروں کو ہی مرکزی کرداروں میں کاسٹ کیا جاتا ہے گوہر رشید، عمران اشرف اور علی عباس جیسے اداکار کافی عرصے سے کام کر رہے ہیں مگر انہیں اب جاکر اچھے منصوبے مل رہے ہیں۔

    یاسر حسین نے بتایا کہ بڑے اداکاروں کو لیڈ رول دے کر، اچھا کام کرنے والے چھوٹے اداکاروں کو سیکنڈ لیڈ رول دے کر انہیں پیچھے دھکیل دیا جاتا ہے۔

    یاسر حسین نے بتایا کہ اقرا عزیز کو ایوارڈ شو میں شادی کی پیش کش کرنے سے قبل صرف اور صرف فریحہ الطاف اور فیفی ہارون کو ہی اس بات کا علم تھا اور انہیں فریحہ الطاف نے پہلے ڈرایا بھی کہ اگر اقرا عزیز نے انکار کیا تو کیا کروگے؟

    شو کے دوران یاسر حسین نے یہ بھی تصدیق کی کہ ان کا ٹوئٹر اور فیس بک پر کوئی اکاؤنٹ نہیں ہے، ان کا صرف انسٹاگرام پر اکاؤنٹ ہے یاسر حسین کے مطابق انہیں ٹوئٹر چلانا نہیں آتا، کیوں کہ ٹوئٹر چلاتے ہوئے انہیں بوریت محسوس ہوتی ہے۔

    انہوں نے انکشاف کیا کہ انسٹاگرام پر وہ صرف ان ہی شوبز شخصیات کو فالو کرتے ہیں، جو انہیں بھی فولو کرتے ہیں تاہم کچھ ایسی شخصیات بھی ہیں، جو انہیں فالو نہیں کرتیں مگر وہ انہیں فالو کرتے ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں اداکارہ زارا نور عباس نے انہیں ان فالو کیا اور بدلے میں انہوں نے بھی انہیں ان فالو کردیا۔

    یاسر حسین کا کہنا تھا کہ وہ ہر سماجی مسئلے پر سوشل میڈیا پر بات نہیں کرتے، وہ صرف ان مسائل یا موضوعات پر بات کرتے ہیں، جن کا انہیں اچھی طرح سے علم ہوتا ہے۔

    ’ارطغرل غازی‘ پر تنقید کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں یاسر حسین نے واضح کیا کہ وہ ترک ڈرامے کے خلاف نہیں ہیں بلکہ ان کا غصہ پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) پر ہے۔

    انہوں نے سوال اٹھایا کہ پی ٹی وی پاکستان کے سینئر اداکاروں و ہدایت کاروں کے ساتھ خود اپنا ‘ارطغرل غازی‘ کیوں نہیں بناتی؟ کیوںکہ مذکورہ ڈراما اسلامی کہانی پر مبنی ہے اور اس پر پاکستانی لوگ اچھا ڈراما بنا سکتے ہیں اور پھر اسے پوری دنیا میں بھیج بھی سکتے ہیں۔

    اقرا عزیز اور یاسر حسین کی شادی پر کون سے فنکار بن بلائے پہنچے؟

  • کیارا ایڈوانی کی تصاویر کھینچنے پرسدھارتھ ملہوترا اورفوٹوگرافرز کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

    کیارا ایڈوانی کی تصاویر کھینچنے پرسدھارتھ ملہوترا اورفوٹوگرافرز کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

    بھارتی اداکارہ کیارا ایڈوانی کی تصاویر کھینچنے پر اداکار سدھارتھ ملہوترا فوٹوگرافرز پر برس پڑے۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ان دنوں بالی ووڈ میں سدھارتھ ملہوترا اور کیارا ایڈوانی کے خوب چرچے ہیں نہ صرف دونوں ہر جگہ ایک ساتھ نظر آرہے ہیں چاہے کوئی پارٹی ہو یا ایوارڈ فنکشن بلکہ کیارا ایڈوانی ہر دوسرے دن سدھارتھ ملہوترا کے گھر پر موجود ہوتی ہیں تاہم دونوں کی جانب سے ابھی تک اس حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق دونوں کے درمیان بڑھتی قربتوں کے باعث جب کیارا سدھارتھ کے گھر جاتی ہیں تو فوٹوگرافرز کی بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر کیمرا لگا کر بیٹھ جاتی ہے اور اس بات پر سدھارتھ فوٹوگرافرز پر برس پڑے۔

    رپورٹ کے مطابق سدھارتھ ملہوترا گھر کے باہر موجود فوٹوگرافرز پر غصے میں آگئے سدھارتھ نے فوٹوگرافرز سے تمام تصاویر اور ویڈیوز ڈیلیٹ کرنے کا بھی کہا –

    فوٹوگرافرز کے انکار پر اداکار اور فوٹوگرافرز کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا جس کے بعد سدھارتھ ملہوترا واپس گھر میں چلے گئے۔

  • عالیہ بھٹ کی فلم  گنگو بائی کاٹھیاواری کی ریلیز کی تاریخ سامنے آ گئی

    عالیہ بھٹ کی فلم گنگو بائی کاٹھیاواری کی ریلیز کی تاریخ سامنے آ گئی

    گنگو بائی کے بیٹے بابوجی راؤجی شاہ نے بھنسالی پروڈکشن تلے بننے والی فلم گنگو بائی کاٹھیا واڑی میں مرکزی کردار ادا کرنے والی عالیہ بھٹ اورسنجے لیلا بھنسالی پروڈکشن کے خلاف مقدمہ درج کروا کر فلم کی ریلیز کو مشکل میں ڈال دیا تھا-

    باغی ٹی وی : تاہم گزشتہ دنوں ممبئی کی مقامی عدالت نے فلم گنگو بائی کاٹھیاواری پر پابندی کی درخواست مسترد کی تھی اور اب اداکارہ عالیہ بھٹ کی فلم کی ریلیز کی تاریخ سامنے آ گئی ہے۔

    حال ہی میں اداکارہ عالیہ بھٹ نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر اپنی آنے والی فلم ’گنگو بائی کاٹھیاواری‘ کا پوسٹر شیئر کرنے کے ساتھ ساتھ فلم کی ریلیز کی تاریخ کا بھی اعلان کی-
    عالیہ بھٹ نے پوسٹر کے کیپشن میں بتایا کہ ان کی فلم 30 جولائی کو سینما گھروں کی زینت بنے گی۔

    علاوہ ازیں عالیہ بھٹ نے فلم کا ٹیزر شئیر کرتے ہوئے سنجے لیلی بھنسالی کو سالگرہ کی مبارکباد دی-

    خیال رہے کہ سنجے لیلا بھنسالی کی یہ فلم 1960ءکی دہائی میں ممبئی کے علاقے کماٹھی پورا میں غیر قانونی پیشوں سے وابستہ خاتون گنگو بائی کی زندگی پر مبنی ہے اور اس کی کہانی ایس حسین زیدی کے تحریر کردہ ناول ’مافیا کوئنز آف ممبئی‘ سے لی گئی ہے۔

    گزشتہ دنوں فلم پر پابندی عائد کرنے کے حوالے سے ممبئی کی ایک مقامی عدالت میں ایک شہری نے درخواست دائر کی تھی ممبئی کی سول کورٹ نے فلم ‘ گنگو بائی کاٹھیا واڑی’ کے خلاف درخواست گزار کی استدعا مستردکرتے ہوئے فلم کو ریلیز کرنے کی اجازت دی تھی۔

    درخواست گزار بابوجی راؤجی شاہ نے خود کو گنگو بائی کا بیٹا قرار دیتے ہوئے عدالت سے استدعا کی تھی کہ ناول کے کچھ حصے ان کے حق رازداری، عزت نفس اور حق آزادی کی خلاف ورزی اور ہتک عزت پر مبنی ہیں اس لیے ناول ’مافیا کوئنز آف ممبئی‘ میں گنگوبائی کی زندگی سے متعلق اسباق کو حذف، ناول کی اشاعت و تقسیم پر مکمل پابندی اور اس ناول پر مبنی فلم کی ریلیز کو روکا جائے بابوجی راؤجی شاہ نے ناول کے لکھاری حسین زیدی کے خلاف بھی مقدمہ درج کروایا تھا۔

    رپورٹس کے مطابق دوران سماعت درخواست گزار اپنا گنگو بائی سے کسی قسم کا رشتہ ثابت کرنے میں ناکام رہا ۔

    واضح رہے کہ یہ فلم گذشتہ سال ستمبر میں ریلیز ہونی تھی لیکن کورونا وائرس کی وجہ سے فلم کی ریلیز تاخیر کا شکار ہوگئی اور اب اسے رواں سال 30 جولائی کو ریلیزکیا جائےگا-

    عالیہ بھٹ اورسنجے لیلا بھنسالی پروڈکشن کے خلاف مقدمہ درج

  • ہمیں فکری لحاظ سے بالغ ہونے کی ضرورت ہے   بقلم:جویریہ بتول

    ہمیں فکری لحاظ سے بالغ ہونے کی ضرورت ہے بقلم:جویریہ بتول

    ہمیں فکری لحاظ سے بالغ ہونے کی ضرورت ہے…!!!
    (بقلم:جویریہ بتول)

    قوم کی مضبوطی کا انحصار صرف معاشی برتری یا بلند و بالا عمارات پر ہی نہیں ہوتا بلکہ فکری بلوغت اور دور اندیشی سے مالا مال اقوام ہر دور اور ہر وقت میں خود کو کامیاب بنا سکتی ہیں…وہ چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت کے ساتھ ہر مشکل گھڑی سے گزر سکتے ہیں… لیکن فکر و شعور کی کمی اکثر مادی مضبوطی پر بھی حاوی ہو جاتی ہے…جب وسائل کی نگہداشت،منصفانہ استعمال اور انہیں بروئے کار لانے کا شعور ہی قوم کو نہ ملے…!

    ایک معاشرہ اُس وقت تک نہیں سدھر سکتا جب تک اُس کے تمام طبقات،اکثریت،اقلیت اپنے اپنے فرائض و حقوق کا شعور حاصل نہیں کرتے…!!

    وہ حکمران طبقہ ہو یا دیگر ادارے یا اُن میں کام کرنے والے ملازمین…جب تک سب شعور کی دولت سے تہی دست اور ذاتی مفادات کے چکر میں گھومنے والے لٹو بنیں رہیں گے…اُس وقت تک نا انصافی، شکایتیں،بغاوت اور غلط فہمیاں جنم لیتی رہیں گی…

    کہیں فرائض کی غفلت ہوتی ہے جو عتاب اور کہیں حقوق کی کمی بغاوت کی وجہ بن جاتی ہے.
    ریاست کی مضبوطی کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ وہ معاشرے کے تمام لوگوں کی خیر خواہ اور شیلٹر بنے…
    ہم سب اکثر ایک ریاست کا ذکر کرتے رہتے ہیں اور اپنی روحانی وابستگی کا یقین دلانے کے لیے اُس کامیاب سٹیٹ کا حوالہ دیتے ہیں…یعنی”ریاستِ مدینہ”

    لیکن وہ ریاست کامیاب کیسے ہوئی کہ تئیس سال کے قلیل عرصہ میں جس سے قیصر و کسریٰ کے گنبد لرزنے لگے؟

    وجہ حقوق و انصاف کی یکساں فراہمی،ظلم و جبر کا فوری خاتمہ،عملی تربیت و احتساب کا اہتمام…تقویٰ و جوابدہی کے احساس کا شعور…انسانی حقوق کی پاسداری و مساوات کا لحاظ…حقوق اللّٰہ کی ادائیگی و حدود اللّٰہ کا نفاذ تھا یہی وجہ تھی کہ وہ اوّلین ریاست دنیا کی کامیاب ترین ریاست اور رہتی دنیا تک کے لیے انمٹ مثال بن گئی…جسے مستشرقین نے بھی داد و تحسین پیش کی اور کہا کہ وہ محمدﷺ تھے جنہوں نے دین اور دنیا ہر دو محاذوں پر قلیل وقت میں کامیابی حاصل کی…اور اسی نقشِ قدم پر آپ کے اصحاب و خلفاء نے بھی عمل کیا…!!!

    ہمارا المیہ یہ ہے کہ چوہتر سالوں میں ہم ایک ہی رونا روتے اور سنتے آئے ہیں کہ جانے والے ظالم ہیں اور آنے والے عادل…
    پھر کُچھ وقت بعد وہی دودھ کے دُھلے بن کر سامنے آ جاتے ہیں…

    عوام بیچاری کی اگر کوئی حیثیت کسی کی نظر میں ہوتی بھی ہے تو وہ ووٹ بنک سے زیادہ ہر گز نہیں…پانچ سالوں میں مسائل کی فہرستیں ہی تیار نہیں ہو پاتیں کہ اور عوام یہی رونا روتی رہ جاتی ہے کہ ووٹ لے کر ہمیں بے یارو مددگار چھوڑ دیا گیا…!!!

    ریاست چوں کہ ماں کی طرح ہوتی ہے اور اُس سے کسی بھی بچے کا رونا برداشت نہیں ہوتا اس لیے وہ بیک وقت سب کی ضروریات کا خیال رکھتی اور اسباب مہیا کرنے کی جستجو میں رہتی ہے…لیکن اگر ریاست کا مقصد مخصوص اور محدود بنا دیا جائے تو مسائل کی شروعات وہاں سے ہوتی ہیں…اور پھر بچے ماں پر عدم انصاف اور کسی ایک طرف جھکاؤ کا الزام بھی لگانے لگتے ہیں-

    ہمارے ہاں ہوتا یہ رہا ہے کہ ایوانوں سے باہر رہنے والے ہمیشہ دھاندلی کا شکار نظر آئے…اور اُنہیں حکومت کے پانچ سالہ دور میں اِسی چیز سے فرصت نہیں ملتی کہ آیا وہ قوم کے مفاد کی کوئی بات یا پروگرام ہی سوچ لیں…وہ بس اپنے حقوق کے لیے ہی سرگرم رہتے رہتے ہیں یوں ایک دوسرے کے فوبیا کی بیماری مسائل کو بدستور طول دیے رکھتی ہے…حالاں کہ مضبوط ریاست کے اصولوں میں یہ چیز بھی شامل ہوتی ہے کہ حکومت چاہے جس کی بھی ہو قومی مفادات کے ہر منصوبے اور وژن کا خلوص دل سے ساتھ دیا جائے گا…مخالفت صرف وہیں ہو گی جہاں قومی مفادات کو دھچکا لگنے کا خطرہ ہو…

    اِسی طرح ایک رسمِ احتجاج ہے جو جائز ہے اور اپنے خدشات،تحفظات اور مطالبات کو واضح طور پر پیش کرنے کی راہ بھی…احتجاج کا حق ہر ایک کو ملنا چاہیے…

    ہم ریاستِ مدینہ کے راہ نما حضرت محمدﷺ کو دیکھتے ہیں جو ایک اعرابی کو جو قرض کے مطالبے میں تلخ رویہ اختیار کر لیتا ہے لیکن آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اپنے اصحاب سے فرماتے ہیں نہیں یہ اس کا حق ہے…اسے احتجاج کرنے دو…اور قرض کی بہترین اور زیادہ طریقہ سے ادائیگی کی جائے…اللّٰہ اکبر…

    رحمتِ دو عالم ﷺ ایک عام شخص کو احتجاج کا کیسے حق دے رہے ہیں؟

    کہ حاکم کے سامنے کھڑا شخص بھی مکمل مامون اور انتقام سے بے خوف ہو…اُسے اپنے حق تک رسائی ملے…
    یہ ہے انسانی حقوق کی اصل فراہمی اور خود احتسابی کا حقیقی درس…
    لیکن ہمارے ہاں شعور کی کمی احتجاج کو بھی حقیقت کی بجائے سیاسی رنگ دیتی ہے…پڑھا لکھا طبقہ بھی بعض اوقات احتجاج کے لیے نکلتا ہے تو تشدد کا رویہ اختیار کیا جاتا ہے…سنگ باری اور قومی املاک کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے جو کہ سراسر غیر مہذب طریقہ و عمل ہے…

    لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ صورت حال اُس وقت بھی پیدا ہوتی ہے جب فریقین میں اعتماد کی کمی ہوتی ہے اور اُسے بلڈ اپ نہیں کیا جاتا…احتجاجی یہی سمجھتے ہیں کہ بغیر تشدد و حد سے گزرے انہیں کچھ حاصل نہیں ہونے والا…اور دوسری طرف سے بھی کچھ گرمی تبھی نظر آتی ہے…!

    میڈیا کے میدان میں آزادئ اظہار کے نام پر کئی سقم نظر آئیں گے…کھمبیوں کی طرح اُگے چینلز قوم کو کوئی واضح راہ نمائی،تربیت،رائے عامہ کو بہترین اور مثبت سمت میں ہموار کرنا جو کہ میڈیا کا بنیادی مقصد ہوتا ہے سے قاصر رہتے ہیں…

    اور سوشل میڈیا کے طوفان کی زباں و بیاں کے طوفان پر بحث تو اور ہی الگ معاملہ ہے…ہم نے تو اختلاف رائے،تنقید اور ردعمل کے فن میں بھی ابھی مہارت حاصل کرنی ہے…اندازِ گفتگو اور لفظوں کے انتخاب کا ہنر بھی سیکھنا ہے…!

    لطف و مزاح اور ادب کے دائرہ و حدود سے آگہی بھی تو حاصل کرنی ہے…!
    یہ ساری چیزیں کسی بھی قوم کے مہذب اور غیر مہذب ہونے کی عکاسی ہوتی ہیں…!!!

    صحت کے مسائل اور علاج گاہوں کی کمی کا یہ عالم ہے کہ گنجان آبادیوں میں علاج کی غرض سے گھنٹوں کا سفر طے کرنے کے بعد مریض مرہم تک پہنچ سکتا ہے…اور قوم کے شعور کی طرف دیکھا جائے تو سرکاری ہسپتالوں کے دھکوں اور علاج پر شاکی نظریں رکھتے اور پرائیویٹ کلینکس پر ڈاکٹروں کو لاکھوں روپے فیس اَدا کر کے فوری علاج کروانے میں عافیت سمجھتے ہیں یعنی کہیں سسٹم خراب ہے تو کہیں مائنڈ سیٹ…!

    غرض ہر شعبہ زندگی وہ وکلاء ہوں یا طلباء،اطباء ہوں یا علماء…اساتذہ ہوں یا سیاستدان،حکام ہوں یا عوام جب سبھی اپنے اپنے فرائض سے آگاہ اور مخلص ہو جائیں گے تو ان شآ ءَ اللّٰہ ہم جلد فکری اور تعمیری طور پر مضبوط قوم بن کر اُبھریں گے…کیوں کہ ہم نے فرقہ فرقہ،گروہ گروہ بن کر نہیں بلکہ ایک قوم بن کر سوچنا اور آگے بڑھنا ہے… ہم تو ہیں ہی ایک نظریاتی مملکت اور اس کا دفاع یقینًا ہم سب کا مضبوط دفاع ہے-

    جب قوم فرماں بردار بچوں اور ریاست مشفق ماں کا کردار ادا کرے گی…پورے گھر میں کسی کی بھی بے چینی اُس سے برداشت نہیں ہو گی اور وہ تڑپنے اور سسکنے کا فوری نوٹس لے گی تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم بے چین ہوں گے بلکہ امن و آشتی اس گُلشن میں ہنس ہنس کر کھیلیں گے…

    مانا کہ بہت سے لوگ اکیسویں صدی میں خوش حال ہوں گے مگر برادری میں کوئی گھرانہ کسی بے بس غریب کا بھی ہو سکتا ہے،جس پر نظر اور خیال رکھنا ثروت مندوں کی ذمہ داری ہے ناں…ہاں جسے ہر وقت اپنے اردگرد بیٹھے بچوں کے دو وقت کی روٹی کی ہی فکر ستائے رکھتی ہو…اور وہ امیر برادری کے چونچلوں اور رواجوں سے بے خبر اپنی ہی دُھن میں مگن رہتا ہو اور بسا اوقات کسی کے ذہن میں وہ اندھیرے، تنہائی اور مایوسی یوں بھی گھیراؤ کر لیتے ہوں کہ وہ خود کشیوں پر بھی مجبور ہو جاتے ہیں، پھر ہو سکتا ہے موٹیویشنل لیکچر بھی انہیں متاثر نہ کر پائیں،کیوں کہ دنیاوی اسباب بھی تو کسی مقصد کے لیے پیدا کیے گئے ہیں اور جب اسباب حرکت میں نہ آئیں تو مایوسی تو بڑھے گی ہی ناں؟

    اُڑتے اُڑتے آس کا پنچھی دُور افق میں ڈوب گیا…
    روتے روتے بیٹھ گئی آواز کسی سودائی کی…!
    ایسے مسائل اور خبریں اب تربیت و عمل کے بل بوتے پر ختم ہو جانے چاہئیں…ہم عمر کے لحاظ سے تو کافی بڑے ہو گئے ہیں…ابھی تک ایسا کیوں ہے…؟

    وہ عمر رضی اللّٰہ عنہ تھا ناں رعایا کی خبر گیری کر کے بچوں کے رونے کی آواز پر بے چین ہو جاتا…اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کے بار پر تڑپ اُٹھتا…

    مان لیا کہ تب تو آبادیاں بھی کم تھیں…لیکن اب جتنی آبادیاں ہیں اُس سے تیز رفتار وسائل بھی ہیں…بس غور و فکر والے دل اور بصیرت والی آنکھیں درکار ہیں…

    بس ہمیں تھوڑا سا سیاسی،معاشرتی،فکری اور تربیتی اعتبار سے بالغ ہونے کی ابھی ضرورت ہے…!!!

  • اے مسلمان عورت تو پہچان لے مقام اپنا    بقلم:جویریہ بتول

    اے مسلمان عورت تو پہچان لے مقام اپنا بقلم:جویریہ بتول

    مسلمان عورت…!!!
    (بقلم:جویریہ بتول).
    اے مسلمان عورت تو پہچان لے مقام اپنا…
    وقار اپنا……کردار اپنا……انعام اپنا…

    جب تیرا وجود بھی زمیں پر باعثِ آزار تھا…
    انداز بے رحم تھا بہت،نہ حقوق کا معیار تھا…
    پیدائش پر بیٹی کے باپ سوچتا کئی بار تھا…
    اسلام نے جو آ کر دیا، سمجھ وہ اِکرام اپنا…

    بیٹی ہو بہن ہو تم بیوی اور پھر اک ماں…
    جس صورت میں بھی ہو تم مہکاؤ یہ گلستاں…
    تمہیں عطا رب نے کیا ہے حقوق کا اِک آسماں…
    بہت خاص ہو اب تم ،وجود سمجھو نہ عام اپنا…

    مومنہ ہو تم مسلمہ ہو، قانتہ ہو تم تائبہ ہو…
    عابدہ ہو تم ساجدہ ہو،راکعہ ہو تم خاشعہ ہو…
    تاریخ کے سینے میں سیرتِ خدیجہ و آسیہ ہو…
    کیوں بھولی ہو صفات یہ،بھولا ہے کیوں نام اپنا…؟

    عمارہ کے نقشِ پر میدانِ جنگ میں صف آراء…
    صفیہ کی ہو تم وارث رکھ سکتی ہو دل بڑا…
    ماں عائشہ کی سیرت بنائے تمہیں علم کا دریا…
    راستوں کو پہچان لو اب، گر کرنا ہے کام اپنا…

    جنسِ بازار ہو نہ تہذیبِ مغرب کا معیار تم…
    جن راہوں کی ہیں وہ راہی،ہو گی یقینًا بیزار تم…
    حقوق کے نام پر استحصال کے وار پر رہو بیدار تم…
    آشیاں سے کرکے بغاوت،کھو نہ دو زادِ تمام اپنا…

    حیا کی تم پر چادر ہے،غیرت کا ملا ہے غازہ بھی…
    ہر دَور میں ہے کردار تمہارا،رہے یہ عزمِ تازہ بھی…
    تمہاری حفاظت کا ہے مکان ،نکلنے کا دوازہ بھی…
    حصارِ عظمت گنوا نہ دینا،حصار رکھنا دوام اپنا…!
    ================================

  • ریما خان بھی ترک ڈرامہ’ترک لالا‘ کا حصہ ہوں گی؟ سوشل میڈیا پر تبصرے

    ریما خان بھی ترک ڈرامہ’ترک لالا‘ کا حصہ ہوں گی؟ سوشل میڈیا پر تبصرے

    پاکستان کی معروف اداکارہ ریما خان کوعدنان صدیقی اور ہمایوں سعید کے ساتھ ترکی میں ‘تکدن فلمز‘ کی ٹیم کے ساتھ خصوصی ملاقات میں اداکارہ ریما خان کو بھی دیکھا گیا جس کے بعد چہ مگوئیاں ہیں کہ ممکنہ طور پر وہ بھی ’ترک لالا‘ کا حصہ ہوں گی۔

    باغی ٹی وی : ترک پروڈکشن ہاؤس ’تکدن فلمز‘ اور پاکستانی فلم ہاؤس ’انصاری فلمز‘ نے نومبر 2020 میں مشترکہ پروڈکشن کے تحت ڈراما بنانے سے متعلق معاہدہ کیا تھا اور بعد ازاں ’تکدن فلمز‘ کے سربراہ کمال تکدن جنوری 2021 میں وفد کے ہمراہ اسی سلسلے میں پاکستان بھی آئے تھے اور انہوں نے وزیر اعظم پاکستان اور صدر پاکستان سے ملاقاتیں بھی کی تھیں۔

    بعد ازاں اداکار ہمایوں سعید اور عدنان صدیقی نے تصدیق کی تھی کہ ’تکدن فلمز‘ اور ’انصاری فلمز‘ کے درمیان مشترکہ طور پر ’ترک لالا‘ نامی ڈراما بنانے سے متعلق معاہدہ ہوا ہے، جس کا پہلا سیزن 2023 تک ریلیز کیا جائے گا۔

    تاہم اب اداکارہ ریما خان امریکا میں مقیم ہیں اور وہ ’تکدن فلمز‘ کی ٹیم اور ہمایوں سعید و عدنان صدیقی کے ساتھ ہونے والی خصوصی میٹنگ کے لیے تین دن قبل ہی امریکا سے ترکی پہنچی تھیں عدنان صدیقی اور ہمایوں سعید کے ساتھ ترکی میں ‘تکدن فلمز‘ کی ٹیم کے ساتھ خصوصی ملاقات میں اداکارہ ریما خان کو بھی دیکھا گیا، جس کے بعد چہ مگوئیاں ہیں کہ ممکنہ طور پر وہ بھی ’ترک لالا‘ کا حصہ ہوں گی۔

    ریما خان نے انسٹاگرام پر ترکی پہنچنے ’تکدن فلمز‘ کی ٹیم سے خصوصی ملاقاتوں اور ہمایوں سعید و عدنان صدیقی کے ہمراہ ترکی کی مختلف تاریخی جگہوں کی سیر کی تصاویر و ویڈیوز شیئر کیں۔

    اگرچہ اپنی تصاویر و ویڈیوز میں ریما خان نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ ترکی کیوں پہنچی ہیں اور وہ کس کام کے سلسلے میں ’تکدن فلمز‘ کی ٹیم سے ہمایوں سعید و عدنان صدیقی کے ہمراہ ملاقاتیں کر رہی ہیں۔

    تاہم عدنان صدیقی و ہمایوں سعید کی موجودگی میں ریما خان کی ’تکدن فلمز‘ کی ٹیم سے ملاقاتوں سے عندیہ ملتا ہے کہ وہ بھی ’ترک لالا‘ کا حصہ ہوں گی۔

    ریما خان نے استنبول میں ’ترک لالا‘ کے مزار پر حاضری دینے کے وقت کی مختصر ویڈیو بھی شیئر کی، جس میں انہوں نے ان کی زندگی پر بنائے جانے والے ڈرامے پر بات کی اور کہا کہ یقینا مذکورہ ڈرامے سے دونوں ممالک کے لوگوں کو تاریخ کو جاننے کا موقع ملے گا۔

    ریما خان کی جانب سے ’ترک لالا‘ کی مزار پر دیگر ارکان کے ہمراہ حاضری، ان کی جانب سے ’ترک لالا‘ ڈرامے پر بات کیے جانے اور ان کی ’تکدن فلمز‘ ٹیم اور عدنان صدیقی و ہمایوں سعید سے ملاقاتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی ’ترک لالا‘ کا حصہ ہوں گی تاہم اس حوالے سے تصدیقی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

    دل دل پاکستان جان جان ترکی، ریما خان اور جلال ال کی دلچسپ ویڈیو وائرل

    ارطغرل غازی کی روشنی خاتون رشتہ ازدواج میں منسلک

    نیلم منیر اور احسن خان کی سوشل میڈیا پر دلچسپ ویڈیو وائرل

    امریکا میں غلط کار پارکنگ پر فہد مصطفیٰ کو تنقید کا سامنا