Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • لندن میں وائٹ سٹی کی عمارت میں آتشزدگی، 3 افراد ہلاک

    لندن میں وائٹ سٹی کی عمارت میں آتشزدگی، 3 افراد ہلاک

    برطانوی دارالحکومت لندن کے علاقے وائٹ سٹی میں ایک عمارت میں خوفناک آگ لگنے کے واقعے میں 3 افراد ہلاک ہو گئے ہیں-

    برطانوی میڈیا کے مطابق آگ لگنے کے بعد عمارت میں شدید دھواں بھر گیا، جس کے باعث امدادی کارروائیاں انتہائی مشکل صورتحال میں کی گئیں فائر بریگیڈ حکام نے بتایا کہ عملے نے عمارت سے کئی افراد کو نکالا جنہیں ابتدائی طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت کا عمل جاری ہے جبکہ ان کے اہلخانہ کو اطلاع دے دی گئی ہے، پولیس نے واقعے کی باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ آگ لگنے کی وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔

    فائر بریگیڈ کا کہنا ہے کہ آگ پر قابو پانے کے بعد کولنگ آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے تاہم عمارت کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ عمارت کا ایک بڑا حصہ شدید متاثر ہوا ہے، ابتدائی طور پر آگ لگنے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی لندن پولیس اور فائر حکام نے مشترکہ طور پر اس واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مکمل تحقیقات کے بعد ہی اصل حقائق سامنے آ سکیں گے۔

  • وفاق کا کفایت شعاری کے تحت  اضافی اقدامات ختم کرنے کا اعلان

    وفاق کا کفایت شعاری کے تحت اضافی اقدامات ختم کرنے کا اعلان

    وفاقی حکومت نے ملک میں نافذ فیول کنزرویشن اور کفایت شعاری کے تحت کیے گئے اضافی اقدامات ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے-

    میڈیا رپورٹ کے مطابق کابینہ ڈویژن کی جانب سے اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ 9 مارچ سے نافذ کیے گئے اضافی کفایت شعاری اقدامات اب ختم تصور ہوں گےاور تمام متعلقہ ادارے اپنی معمول کی پالیسیوں پر واپس آ جائیں گے ریستوران، کیفے اور دیگر فوڈ آؤٹ لیٹس رات 11 بجے تک کاروبار جاری رکھ سکیں گے، جبکہ ٹیک اوے اور ہوم ڈیلیوری سروسز کو اس پابندی سے استثنیٰ حاصل ہوگا اسی طرح میڈیکل اسٹورز، اسپتال، لیبارٹریز اور پیٹرول پمپس کو اوقات کار کی پابندی سے مکمل استثنیٰ حاصل رہے گا، تاکہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔

    حکومتی فیصلے کے بعد ملک بھر میں کاروباری سرگرمیوں اور ٹرانسپورٹ کے معمولات پہلے کی طرح بحال ہو گئے ہیں، جبکہ متعلقہ اداروں کو نوٹیفکیشن پر فوری عمل درآمد کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔

  • ایران امریکا مذاکرات:وزیراعظم اور فیلڈ مارشل سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے

    ایران امریکا مذاکرات:وزیراعظم اور فیلڈ مارشل سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے

    وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) فیلڈ مارشل سید عاصم منیر امریکا اور ایران کے درمیان جاری اعلیٰ سطحی مذاکرات میں شرکت کے لیے سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک پہنچ گئے ہیں-

    وزیراعظم آفس کے مطابق دونوں اعلیٰ شخصیات 21 جون کو ہونے والے اہم مذاکرات میں شریک ہوں گی، جو امریکا اور ایران کے درمیان پہلے سے طے شدہ معاہدے کے فالو اپ کے طور پر منعقد کیے جا رہے ہیں، وزیراعظم شہباز شریف اس موقع پر ایک اعلیٰ سطحی پاکستانی وفد کی قیادت بھی کر رہے ہیں۔

    دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ ان مذاکرات میں ایران، قطر اور امریکا کے اعلیٰ سطحی وفود بھی شریک ہوں گے۔ ترجمان کے مطابق یہ اجلاس 17 جون کو طے پانے والے اسلام آباد میمورنڈم کے بعد پہلا باضابطہ سفارتی رابطہ ہے، جو خطے میں کشیدگی میں کمی کے لیے ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے پاکستان ابتدا سے ہی امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے میں سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہےاسلام آباد کی کوششیں ایک متوازن، اصولی اور تعمیری سفارتی حکمت عملی کی عکاس ہیں۔

    مذاکرات کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کی ایران، قطر، سوئٹزرلینڈ اور امریکا کے وفود سے الگ الگ ملاقاتیں بھی متوقع ہیں، جن میں خطے میں دیرپا امن اور مکالمے کے فروغ پر بات چیت کی جائے گی۔

    دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے ہیں، جبکہ ایران کا وفد، جس کی قیادت پارلیمنٹ اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں، زیورخ میں موجود ہے ایرانی وفد کو ’میناب 168‘ کا نام دیا گیا ہے۔

  • اسحاق ڈار کی قاہرہ میں سفارتی ملاقات اور غیر رسمی عشائیے میں شرکت کی

    اسحاق ڈار کی قاہرہ میں سفارتی ملاقات اور غیر رسمی عشائیے میں شرکت کی

    پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ایک سفارتی ملاقات اور غیر رسمی عشائیے میں شرکت کی، جہاں خطے کے اہم ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان باہمی روابط اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    اسحاق ڈار نے ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ نیل کے کنارے قاہرہ شہر میں شاندار میزبانی اور دوستانہ ماحو ل میں ایک یادگار شام گزری، انہوں نے ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فدان اور سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کی موجودگی کو بھی ونڈر فل قرار دیا-

    انہوں نے کہا کہ اس ملاقات میں دوستانہ تعلقات، باہمی تعاون اور خطے میں استحکام سے متعلق امور پر مثبت اور بامعنی گفتگو ہوئی شرکاء نے خطے میں درپیش چیلنجز اور مشترکہ تعاون کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

    سفارتی ذرائع کے مطابق اس نوعیت کی ملاقاتیں مشرق وسطیٰ اور خطے میں بڑھتی ہوئی سفارتی سرگرمیوں کا حصہ ہیں، جن کا مقصد ممالک کے درمیان رابطوں کو مضبوط بنانا اور مختلف امور پر مشترکہ فہم پیدا کرنا ہے۔

  • مستقبل میں اگر  آبنائے ہرمز پر کوئی چارج عائد ہوا تو وہ صرف امریکا کی جانب سے ہوگا،ٹرمپ کی سخت وارننگ

    مستقبل میں اگر آبنائے ہرمز پر کوئی چارج عائد ہوا تو وہ صرف امریکا کی جانب سے ہوگا،ٹرمپ کی سخت وارننگ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر کوئی ٹول یا فیس عائد نہیں کی جائے گی، تاہم انہوں نے یہ عندیہ بھی دیا ہے کہ مستقبل میں اگر کوئی چارج عائد ہوا تو وہ صرف امریکا کی جانب سے ہوگا –

    ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سوشل ٹروتھ پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدائی 60 روزہ جنگ بندی کے دوران آبنائے ہرمز میں کسی قسم کی فیس نہیں لی جائے گی، اور اس کے بعد بھی کوئی ٹول نافذ نہیں ہوگا، سوائے اس کے کہ یہ امریکا کے مفاد میں ہو،اگر معاہدہ حتمی شکل اختیار نہ کر سکا تو امریکا اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے اس را ستے پر چارجز عائد کر سکتا ہے۔

    ٹرمپ نے اس سے قبل بھی عندیہ دیا تھا کہ امریکا اس اسٹریٹجک راستے پر سیکیورٹی فیس یا ٹول سسٹم متعارف کرا سکتا ہے، جس کے بدلے واشنگٹن خطے میں سلامتی کی خدمات فراہم کرے گا ان کے اس بیان نے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

    دوسری جانب ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ کشیدگی اور خطے میں اسرائیلی کارروائیوں کے بعد آبنائے ہرمز کو بند کیا گیا ہے، جبکہ امریکا کے سینٹرل کمانڈ نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بحری آمدورفت بدستور جاری ہے۔

    آبنائے ہرمز پہلے ہی ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کا اہم مرکز رہی ہے عالمی توانائی کا ایک بڑا حصہ اسی آبی گزرگاہ سے گزرتا ہے، جس کی وجہ سے اس علاقے کی صورتحال عالمی منڈیوں پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے مفاہمتی یادداشت کے مطابق 60 روزہ عبوری دور میں اس راستے کو کھلا رکھنے اور کسی بھی فریق کو ٹول عائد کرنے سے روکا گیا ہے۔

  • بے نظیر بھٹو کی 73ویں سالگرہ، صدر آصف علی زرداری کا خراج عقیدت

    بے نظیر بھٹو کی 73ویں سالگرہ، صدر آصف علی زرداری کا خراج عقیدت

    شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی 73ویں یوم پیدائش کے موقع پر صدر مملکت آصف علی زرداری نے اپنے خصوصی پیغام میں انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔

    صدر زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ بے نظیر بھٹو کی قیادت کبھی یک رخا نہیں رہی، بلکہ انہوں نے زندگی کے مختلف کرداروں کو نہایت خوبصورتی، توازن اور ذمہ داری کے ساتھ نبھایا، وہ ایک بیٹی، ماں، بیوی، دوست، محب وطن اور امن کی عالمی علمبردار کے طور پر پہچانی جاتی تھیں، شہید بے نظیر بھٹو نے ہر ذمہ داری کو جرات، یقین اور فرض شناسی کے ساتھ انجام دیا اور ان کی سیاسی و سماجی جدوجہد آج بھی رہنمائی کا ذریعہ ہے بے نظیر بھٹو کی زندگی اس بات کی مثال ہے کہ قیادت کسی ایک دائرے تک محدود نہیں ہوتی بلکہ یہ کردار، عزم اور قربانیوں کا مجموعہ ہوتی ہے۔

    دوسری جانب شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے یومِ پیدائش کے موقع پر ملک بھر میں پارٹی کارکنان اور سیاسی حلقوں کی جانب سے بھی انہیں زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے جبکہ ان کے نظریات اور خدمات کو پاکستانی سیاست کا اہم باب قرار دیا جا رہا ہے۔

    21 جون 1953 میں کراچی میں پیدا ہونے والی سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی صاحبزادی بے نظیر پاکستان کی دو مرتبہ وزیر اعظم رہیں، وہ جنوبی ایشیا کی بااثراور عالم اسلام کی پہلی خاتون وزیراعظم تھیں برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کر کے وطن واپسی پر بے نظیر بھٹو والد وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ غیرملکی دوروں پر بھی جانے لگی تھیں ، 1977 میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا، ان کے خلاف مقدمہ چلا تو بے نظیر بھٹو عدالتوں کے چکر لگاتی رہیں۔

    1982 میں بے نظیر پاکستان پیپلزپارٹی کی چیئرپرسن منتخب ہوئیں، جنرل ضیاء الحق کی حکومت کے دوران انہیں جلا وطنی اختیار کرنا پڑی، وطن واپسی پر انہوں نے 1988 کے عام انتخابات میں حصہ لیا اور وزیراعظم منتخب ہوئیں، عوام نے انہیں 1993 میں دوبارہ اقتدار بخشا18 اکتوبر 2007 کو بے نظیر بھٹو 9 سال بعد جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں وطن واپس آئیں اور انہیں 27 دسمبر 2007 کو لیاقت باغ میں جلسے کے بعد نامعلوم افراد کی جانب سے فائرنگ کر کے شہید کر دیا گیا۔

  • برطانوی وزیراعظم کا اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا امکان

    برطانوی وزیراعظم کا اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا امکان

    برطانیہ کے وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر کے پیر کے روز اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق وہ اپنی رخصتی کے طریقہ کار اور نئے لیبر پارٹی لیڈر کے انتخاب کے لیے روڈ میپ بھی پیش کر سکتے ہیں-

    برطانوی میڈیا کے مطابق وزیراعظم کیئر اسٹارمر کو گزشتہ کئی ہفتوں سے اپنی جماعت لیبر پارٹی کے اراکینِ پارلیمنٹ کی جانب سے شدید دباؤ کا سامنا ہے کہ وہ قیادت چھوڑنے کے لیے واضح ٹائم ٹیبل دیں ،رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ وہ مبینہ طور پر اس معاملے پر اپنی اہلیہ کے ساتھ چیکرز ریزڈنس میں مشاورت کر رہے تھے،تاہم حکومتی ذرائع نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیئر اسٹارمر اب بھی اپنی ذمہ داریاں جاری رکھنے پر مکمل توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں اور وہ عہدے سے ہٹنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔

    کئیر اسٹارمر پر سیاسی دباؤ اس وقت مزید بڑھ گیا جب لیبر پارٹی کے سینئر رہنما اینڈی برنہم حالیہ ضمنی انتخاب میں کامیابی حاصل کرکے دوبارہ پارلیمنٹ پہنچے، جس کے بعد ان کی قیادت کے لیے حمایت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

    رپورٹس کے مطابق کیئر اسٹارمر کو اندازہ ہو چکا ہے کہ پارلیمانی لیبر پارٹی کی بڑی تعداد اب اینڈی برنہم کی حمایت کر رہی ہے برطانوی اخبارات اور سیاسی مبصرین کے مطابق اینڈی برنہم کو تقریباً 300 ارکانِ پارلیمنٹ کی تائید حاصل ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، جس کے باعث ان کے اگلے وزیراعظم بننے کے امکانات مضبوط ہو گئے ہیں،وزیراعظم اسٹارمر نے جمعہ کے روز واضح کیا تھا کہ وہ کسی بھی قیادت کے چیلنج کا مقابلہ کریں گے اور پارٹی کو اندرونی اختلافات سے بچانے کی اپیل بھی کی۔

    سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر کیئر اسٹارمر پیر کو مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہیں تو لیبر پارٹی میں قیادت کی منتقلی کا عمل فوری طور پر شروع ہو سکتا ہے اینڈی برنہم اس وقت وزارتِ عظمیٰ کے مضبوط ترین امیدوار سمجھے جا رہے ہیں اور ان کے حامی ایک منظم اور پُرامن انتقالِ اقتدار کے خواہاں ہیں۔

    دوسری جانب برطانوی میڈیا میں آنے والی اطلاعات کے مطابق اینڈی برنہم کی ممکنہ حکومت میں موجودہ وزیر داخلہ شبانہ محمود کو اہم کردار دیے جانے کا امکان ہے اور وہ کابینہ میں برقرار رہ سکتی ہیں، شبانہ محمود امیگریشن نظام میں اصلاحات کے عمل کو جاری رکھنے کی خواہاں ہیں، جبکہ غیرقانونی تارکینِ وطن کے لیے شہریت کے قوانین مزید سخت کیے جانے کی تجاویز بھی زیر غور آ سکتی ہیں۔

    تاہم برطانوی وزیراعظم ہاؤس کے بعض ذرائع کا مؤقف ہے کہ کیئر اسٹارمر تاحال اپنے فرائض پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں اور انہوں نے باضابطہ طور پر استعفے کا اعلان نہیں کیااس لیے حتمی صورتحال پیر کو متوقع اعلان کے بعد ہی واضح ہو سکے گی۔

    واضح رہے کہ 2024 کے عام انتخابات میں لیبر پارٹی کی تاریخی کامیابی کے بعد اسٹارمر اقتدار میں آئے تھے تاہم بعد ازاں مختلف سیاسی تنازعات اور پالیسی تبدیلیوں کے باعث ان کی مقبولیت میں کمی دیکھی گئی ہے جس سے حکومت کو عوامی اعتماد کے چیلنج کا سامنا ہے۔

  • صدرِ  پاکستان کے بیان پر بھارتی حکومت  تلملا اٹھی

    صدرِ پاکستان کے بیان پر بھارتی حکومت تلملا اٹھی

    پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کی جانب سے بھارت میں مسلمانوں کے تاریخی مقامات اور اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے دیے گئے ایک بیان پر بھارتی حکومت شدید سیخ پا ہو گئی ہے۔

    صدر آصف علی زرداری نے بھارت کے اندرونی حالات اور وہاں مسلمانوں کی صدیوں پرانی مساجد کو گرائے جانے کی خبروں پر اپنے گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا ہفتہ کو صدرِ پاکستان کے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے جاری کیے گئے ایک پیغام میں صدر آصف علی زرداری نے واضح طور پر کہا کہ “بھارت میں تاریخی مسلم مذہبی مقامات کو مسمار کرنے اور انہیں پہنچنے والے خطرات پر گہری تشویش ہے۔“

    انہوں نے وارانسی میں موجود ایک ہزار سال پرانی مسجد گنج شہیداں کی مثال دیتے ہوئے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ ایسے اقدامات کو فوری طور پر روکے ورنہ ایسے اقدامات بھارت کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے اور وہاں مستقل افراتفری پھیلانے کا سبب بن سکتے ہیں،انہوں نے عالمی برادری اور بھارت پر زور دیا کہ وہاں رہنے والی اقلیتوں کے حقوق اور مشترکہ ثقافتی ورثے کا ہر حال میں تحفظ کیا جائے۔

    صدر آصف علی زرداری کے اس سخت اور دوٹوک بیان کے سامنے آتے ہی بھارتی وزارتِ خارجہ آگ بگولہ ہو گئی اور انہوں نے اس بیان کو یکسر مسترد کرتے ہوئے پاکستانی صدر پر کڑی تنقید کی۔

    بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ہفتے کے روز ایکس پر جاری ایک پوسٹ میں پاکستانی صدر کے ریمارکس کو بلاجواز قرار دیا اور کہا کہ پاکستانی صدر کو بھارت کے اندر ونی معاملات پر بات کرنے کا کوئی قانونی یا اخلاقی حق حاصل نہیں ہے-

  • کراچی سے فتنہ الخوارج کا انتہائی مطلوب دہشتگرد گرفتار

    کراچی سے فتنہ الخوارج کا انتہائی مطلوب دہشتگرد گرفتار

    سندھ رینجرزنے خفیہ اطلاع پر کراچی کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے ایک مطلوب دہشت گرد کو گرفتار کر لیا۔

    ترجمان رینجرز کے مطابق گرفتار ملزم کی شناخت جاوید خان عرف سواتی کے نام سے ہوئی ہے، جو ضلع سوات کے علاقے شکردرہ کا رہائشی ہے ملزم کا تعلق کالعدم دہشت گرد کمانڈر فضل اللہ گروپ سے ہے اور وہ دہشت گردی کی متعدد سنگین کارروائیوں میں مطلوب تھاجاوید خان عرف سواتی نے سال 2007 میں فتنہ الخوارج میں شمولیت اختیار کی اور بعد ازاں مختلف دہشت گرد سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کرتا رہا۔

    ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزم متعدد اسکولوں، پولیس چوکیوں اور سرکاری تنصیبات پر حملوں میں ملوث رہا ہے، جبکہ اس پر سرکاری اسلحہ لوٹنے اور مختلف جائیدادوں پر غیر قانونی قبضوں کے الزامات بھی ہیں سال 2008 میں سوات میں ہونے والےفوجی آپریشن کے دوران ملزم مینگورہ میں روپوش رہااور بعد ازاں ملک سے فرار ہو کر بیرونِ ملک چلا گیا تھا۔

    رینجرز حکام کا کہنا ہے کہ جاوید خان سال 2022 میں دوبارہ پاکستان واپس آیا اور دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ایک بار پھر متحرک ہوگیاگرفتار دہشت گرد سے مزید تفتیش مکمل کرنے کے بعد اسے قانونی کارروائی کے لیے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) سوات کے حوالے کر دیا گیا ہےسیکیورٹی اداروں کے مطابق دہشت گردی کے خاتمے اور ملک دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں بلا امتیاز جاری رہیں گی، جبکہ گرفتار ملزم سے حاصل ہونے والی معلومات کی روشنی میں مزید کارروائیوں کا بھی امکان ہے۔

  • ملک کے مختلف علاقوں میں آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش،الرٹ جاری

    ملک کے مختلف علاقوں میں آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش،الرٹ جاری

    اسلام آباد: نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے آئندہ 12 سے 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے مختلف علاقوں میں آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارشوں کے حوالے سے الرٹ جاری کر دیا۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق راولپنڈی، مری، چکوال، منڈی بہاؤالدین، سرگودھا، گوجر خان، گجرات، جہلم، سیالکوٹ، تلہ گنگ، گوجرانوالہ، حافظ آباد، لاہور، فیصل آباد، خوشاب، جھنگ، میانوالی سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے گلگت بلتستان علاقوں اسکردو، دیامیر، استور، غذر، ہنزہ، گھانچے اور شگر جبکہ آزاد جموں و کشمیر کے نیلم ویلی، مظفرآباد، راولاکوٹ، باغ، کوٹلی، پونچھ، ہٹیاں، میرپور اور بھمبر میں بھی بارش ہو سکتی ہے۔

    خیبرپختونخوا کے اضلاع چترال، دیر، سوات، بٹگرام، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور، صوابی، مردان، چارسدہ، پشاور، کوہاٹ، پاراچنار، کرک، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان اور وزیرستان میں بھی بار ش کی پیشگوئی ہے این ڈی ایم اے نےگلگت بلتستان، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر میں گلیشیئر جھیلیں پھٹنے کےخطرے سےبھی خبردار کیا ہےبلوچستان کےتربت، کیچ، آواران، خض دار اور ژوب جبکہ سندھ کے جیکب آباد، سکھر، لاڑکانہ، خیرپور، دادو، گھوٹکی، کشمور، شکارپور، شہید بینظیر آباد اور کراچی میں بھی آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔

    این ڈی ایم اے نے تمام صوبائی اور ضلعی اداروں کو ہدایت کی ہے کہ ممکنہ موسمی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہنگامی تیاریوں کو یقینی بنایا جائے اور شہری احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔