Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • قطر ایئرویز  کے پائلٹس کی تنخواہوں اور مراعات سے متعلق تفصیلات جاری

    قطر ایئرویز کے پائلٹس کی تنخواہوں اور مراعات سے متعلق تفصیلات جاری

    دوحہ: دنیا کی معروف ایئرلائن قطر ایئرویز نے 2026 کے لیے اپنے پائلٹس کی تنخواہوں اور مراعات سے متعلق تفصیلات جاری کر دیں۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق قطر ایئرویز کمپنی بدستور خطے میں سب سے زیادہ پرکشش ایوی ایشن ایمپلائرز میں شامل ہے جس کے فرسٹ آفیسرز کی سالانہ تنخواہ تقریباً 3 لاکھ 60 ہزار قطری ریال سے 6 لاکھ 60 ہزار قطری ریال (تقریباً 99 ہزار سے ایک لاکھ 81 ہزار امریکی ڈالر) کے درمیان ہے، جو تجربے، طیارے کی نوعیت اور فلائنگ آورز پر منحصر ہے۔

    اسی طرح کپتان پائلٹس کی سالانہ آمدن 9 لاکھ سے 16 لاکھ قطری ریال (تقریباً 2 لاکھ 47 ہزار سے 4 لاکھ 40 ہزار امریکی ڈالر) تک پہنچ سکتی ہے جبکہ طویل دورانیے کی پروازیں اور بڑے طیارے چلانے والے کپتان زیادہ آمدن حاصل کرتے ہیں علاوہ ازیں پائلٹس کو ٹیکس فری تنخواہ، رہائش یا ہاؤسنگ الاؤنس، ٹرانسپورٹ سہولت، میڈیکل انشورنس اور بین الاقوامی لی اوور الاؤنسز بھی فراہم کیے جاتے ہیں۔

    قطر ایئرویز کا کہنا ہے کہ اس کا جدید بیڑے اور عالمی نیٹ ورک پائلٹس کو کیریئر میں ترقی کے وسیع مواقع فراہم کرتا ہے۔ جس میں سینئر فرسٹ آفیسر اور کپتان کے عہدے تک ترقی شامل ہے۔

  • سوئٹزر لینڈ  میں   امریکا  ایران تکنیکی مذاکرات ، وزیراعظم  شہباز شریف کی شرکت بھی متوقع

    سوئٹزر لینڈ میں امریکا ایران تکنیکی مذاکرات ، وزیراعظم شہباز شریف کی شرکت بھی متوقع

    اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت سوئٹزر لینڈ میں ہونے والے امریکا ایران تکنیکی مذاکرات میں وزیراعظم شہباز شریف کے بھی شامل ہونےکا امکان ہے۔

    ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کے آج رات زیورخ کے لیے روانہ ہونےکا امکان ہے جبکہ امریکی نمائندے وٹکوف اور جیرڈکشنر پہلے ہی سوئٹزر لینڈ میں موجود ہیں جب کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی آج سوئٹزرلینڈ روانگی متوقع ہے۔

    دوسری جانب ایران کا مذاکراتی وفد باقر قالیباف کی سربراہی میں سوئٹزرلینڈ روانہ ہوگیا ہے ایرانی میڈیا کے مطابق وفد میں وزیر خارجہ عباس عراقچی، ایرانی قومی سلامتی کونسل کے عہدیدار علی باقری، ایرانی مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی، کاظم غریب آبادی اور اسماعیل بقائی شامل ہیں۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت تکنیکی سطح کے مذاکرات 21 جون کو سوئٹزرلینڈ میں ہوں گے سوئٹزرلینڈکے شہر برگن اسٹاک میں ہونے والے مذاکرات میں امریکا، ایران، پاکستان اور قطر کے نمائندے شریک ہوں گے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد فالو اپ کے طور پر تکنیکی سطح کے مذاکرات کا انعقاد کیا جا رہا ہے پاکستان ثالث کے طور پر مذاکراتی عمل کو سہولت فراہم کرتا رہےگا، پاکستان کا مقصد اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت طے مفاہمت کو آگے بڑھانا ہے، پاکستان امن عمل میں ثالثی کےکردار کو جاری رکھےگا۔

  • پیپلز پارٹی نےگلگت بلتستان میں امجد حسین ایڈووکیٹ کو وزیر اعلیٰ کیلئے نامزدکردیا

    پیپلز پارٹی نےگلگت بلتستان میں امجد حسین ایڈووکیٹ کو وزیر اعلیٰ کیلئے نامزدکردیا

    پیپلز پارٹی نےگلگت بلتستان میں امجد حسین ایڈووکیٹ کو وزیر اعلیٰ کے لیے نامزد کر دیا۔

    ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی نے گلگت ریجن سے پہلی بار کسی کو وزیر اعلیٰ نامزدکیا ہے امجد حسین ایڈووکیٹ پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے صدر بھی ہیں امجد حسین ایڈووکیٹ حالیہ الیکشن میں جی بی اے 1 گلگت سے کامیاب ہوئے ہیں جبکہ حالیہ گلگت بلتستان انتخابات میں پیپلز پارٹی 9 نشستوں کے ساتھ اکثریتی جماعت بن کر سامنے آئی ہے۔

    واضح رہےکہ الیکشن کمیشن گلگت بلتستان کی جانب سے 24 میں سے 21 حلقوں کے سرکاری نتائج کا اعلان کیا گیا ہے، پیپلزپارٹی 9، مسلم لیگ (ن) 6، آئی پی پی 4، ایم ڈبلیو ایم 1 اور آزاد امیدوار 1نشست پرکامیاب ہوئے جبکہ جی بی اے 9 اسکردو 3، جی بی اے 17 دیامر 3 اور جی بی اے 15 دیامر 1 کے نتانج کا اعلان بعد میں ہوگا جبکہ خواتین کی 6 مخصوص نشستوں میں سے 3 پیپلزپارٹی، 2 ن لیگ اور ایک آئی پی پی کےحصے میں آئی ٹیکنوکریٹ کی 3 نشستوں میں سے پیپلزپارٹی، ن لیگ اور آئی پی پی کو ایک ایک نشست ملی۔

  • پارٹی پالیسی سے متصادم بیانات پرڈاکٹر زرقاء کو شوکاز نوٹس جاری

    پارٹی پالیسی سے متصادم بیانات پرڈاکٹر زرقاء کو شوکاز نوٹس جاری

    پاکستان تحریک انصاف کی رہنما سینیٹر ڈاکٹر زرقاء کو پارٹی پالیسی سے متصادم بیانات دینے پر شوکاز نوٹس جاری کر دیا گیا، جس میں ان سے آزاد جموں و کشمیر سے متعلق دیئے گئے بیانات پر وضاحت طلب کی گئی ہے۔

    سینیٹر ڈاکٹر زرقاء کو نوٹس پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کے دستخط سے جاری کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ سینیٹ فلور پر دیا گیا بیان پارٹی مؤقف سے متصادم ہے شوکاز نوٹس میں آزاد کشمیر کے عوام سے متعلق استعمال کی گئی زبان پر بھی اعتراض اٹھایا گیا ہے۔ جبکہ سینیٹ میں کی گئی تقریر اور بعد ازاں میڈیا پر دیئے گئے بیانات کو بھی نوٹس کا حصہ بنایا گیا ہے۔

    پارٹی مؤقف کے مطابق ذاتی آراء کو پارلیمانی پلیٹ فارم سے پیش کرنے پر سوالات اٹھائے گئے ہیں اور اسے پارٹی بیانیے کے لیے نقصان دہ قرار دیا گیا ہے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ قومی اہمیت کے حساس معاملات پر پارٹی پالیسی کی پابندی لازم ہے، جبکہ آئندہ غیر مجاز بیانات سے گریز کی ہدایت بھی کی گئی ہے اور ڈاکٹر زرقاء سے 7 روز میں تحریری جواب طلب کیا گیا ہے، پارٹی قیادت نے ہدایت کی ہے کہ حساس قومی و علاقائی معاملات پہلے پارٹی فورم پر اٹھائے جائیں اور عوامی سطح پر بیان بازی سے اجتناب کیا جائے۔

  • سوئٹرز لینڈ امن مذاکرات: ایران اور امریکی وفد میں کون، کون شامل ؟

    سوئٹرز لینڈ امن مذاکرات: ایران اور امریکی وفد میں کون، کون شامل ؟

    امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے ٹیکنیکل سطح کے امن مذاکرات کے لیے نامزد ایرانی اور امریکی وفود کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کا ایک اعلیٰ سطح کا وفد، جس کی قیادت وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کر رہے ہیں، آج رات سوئٹزرلینڈ کے لیے روانہ ہوگا، اس وفد میں ایران کی سیاسی، سیکیورٹی اور معاشی نظام کی طاقتور ترین شخصیات کو شامل کیا گیا ہے،اس ہائی پروفائل ایرانی وفد میں اسپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف، سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے بین الاقوامی امور کے نائب علی باقری کنی، گورنر مرکزی بینک آف ایرانعبدالناصر ہمتی، نائب وزرائے خارجہ کاظم غریب آبادی اور سعید خطیب زادہ اور نائب وزیرِ تیل اور نیشنل ایرانی آئل کمپنی کے سربراہ حمید بورد شامل ہیں۔

    ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے وفد کی روانگی کے موقع پر تہران کا مؤقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ وفد سوئٹزرلینڈ میں بنیادی طور پر دوسرے فریق (امریکا) کی ذمہ داریوں پر عمل درآمد کا باریک بینی سے جائزہ لے گا اور اس بات کی وضاحت طلب کرے گا کہ معاہدے پر کس حد تک عمل کیا جا رہا ہے.اگر معاہدے کے کسی ایک حصے پر بھی عمل درآمد نہ ہوا تو پورا سمجھوتا متاثر ہو سکتا ہےہم نے معاہدہ اس لیےنہیں کیا کہ اس پر عمل نہ ہو، ہمارا واضح مؤقف ہے کہ ذمہ داری کے بدلے ذمہ داری پوری کی جا ئے۔

    دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان ایک روزہ تعطل کے بعد امن مذاکرات دوبارہ بحال ہو گئے ہیں سوئٹزرلینڈ کی وزارتِ خارجہ نے باقاعدہ تصدیق کی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے اور مذاکرات برگن اسٹاک ریزورٹ میں بدستور جاری ہیں یہ مذاکرات ابتدائی طور پر 60 روزہ مدت کے لیے طے کیے گئے ہیں، جس میں ضرورت پڑنے پر توسیع کی گنجائش بھی موجود ہے-

    سوئس وفاقی محکمہ خارجہ نے ہفتہ کے روز جاری کردہ اپنے ایک اہم بیان میں کہا کہ برگن اسٹاک ریزورٹ امریکا اور ایران کے درمیان جاری حساس مذاکرات کے لیے ایک ’پرسکو ن اور قابلِ اعتماد مقام‘ کے طور پر خدمات انجام دے رہا ہےتاہم روایتی رازداری کو برقرار رکھتے ہوئے سوئس حکام نے فی الحال مذاکرات میں شریک شخصیات کے ناموں یا زیرِ بحث آنے والے اہم ترین نکات کے بارے میں مزید کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

  • آج 50 سے زائد تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے بحفاظت گزرے ہیں،امریکی فوج

    آج 50 سے زائد تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے بحفاظت گزرے ہیں،امریکی فوج

    امریکی فوج کے سینٹرل کمانڈ سینٹکام نے ایرانی پاسداران انقلاب کے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کرنے کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آج 50 سے زائد تجارتی جہاز بحفاظت گزرے ہیں۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری بیان مین کہا گیا ہے کہ امریکی افواج علاقے میں موجود ہیں اور بین الاقوامی بحری راستوں پر آزادانہ اور محفوظ نقل و حرکت کو یقینی بنانے کے لیے چوکنا ہیں عالمی اہمیت کی اس بحری گزرگاہ سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت معمول کے مطابق جاری ہے 20 جون کو آبنائے ہرمز سے تجارتی بحری جہازوں کی آمدورفت میں اضافہ دیکھا گیا اور مجموعی طور پر 55 تجارتی جہاز بحفاظت گزرے اور ایک کروڑ 70 لاکھ بیرل سے زائد خام تیل اور دیگر تجارتی سامان عالمی منڈیوں تک پہنچایا گیا۔

    سینٹکام نے جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن سینٹر کی تازہ ایڈوائزری کا بھی حوالہ دیا جس میں کہا گیا ہے کہ جہاز ایک مخصوص بین الاقوامی بحری راستے کے ذریعے محفوظ طریقے سے سفر کر رہے ہیں اور اس راستے پر کسی قسم کی غیر قانونی پابندی یا رکاوٹ موجود نہیں-

    واضح رہے کہ ایران کے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر اور پاسدارانِ انقلاب بحریہ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے جنگ بندی اور مفاہمتی معاہدے کی خلاف ورزی اور جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں کے ردعمل میں آبنائے ہرمز کو تمام بحری آمدورفت کے لیے بند کر دیا گیا ہےدونوں ممالک کے متضاد دعوؤں نے آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے غیر یقینی کیفیت پیدا کر دی ہے

  • معاہدے کی خلاف ورزی ، ایران کا دوبارہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان

    معاہدے کی خلاف ورزی ، ایران کا دوبارہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان

    ایران نے لبنان پر اسرائیل کے مسلسل حملوں کے بعد امریکا پر معاہدے کی خلاف ورزی اور وعدہ خلافی کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان کردیا۔

    ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق ایک بیان میں ترجمان خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر تمام بحری جہازوں کی آمدورفت کے لیے بند کیا جا رہا ہے،امریکا مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہا ہے جبکہ اسرائیل نے جنوبی لبنان میں حملے بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    ترجمان خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر نے اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز کو تمام بحری جہازوں کی آمدورفت کے لیے بند کیا جا رہا ہے ، یہ دشمن کی وعدہ خلافی کا پہلا جواب ہے، انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر جارحیت جاری رہی تو دشمن کو اپنی ذمہ داریوں پر عمل درآمد کے لیے مجبور کرنے کی خاطر مزید اقدامات بھی کیے جائیں گے۔

    دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب نے بھی اپنے علیحدہ بیان میں تصدیق کی کہ ہفتے کی صبح سے آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند کر دی گئی ہے ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے مطا بق یہ تصدیق پاسداران انقلاب کے ایک فوجی ذریعے نے کی کہ اسٹریٹجک آبی گزرگاہ اب ہر قسم کی بحری آمدورفت کے لیے بند ہے یہ اقدام امریکا کی جانب سے جنگ بندی پر عمل درآمد سے متعلق وعدوں کی خلاف ورزی اور لبنان میں اسرائیلی حملوں کے ردعمل میں کیا گیا ہے تمام تجارتی، تیل بردار اور دیگر بحری جہازوں کو سختی سے خبردار کیا گیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کے قریب آنے سے گریز کریں کیونکہ ایسا کرنے کی صورت میں ان کی سلامتی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ بدھ کے روز امریکا، ایران اور پاکستان کی جانب سے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد سے آبنائے ہرمز کو کھول دیا گیا تھا جس کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی واقع ہوئی تھی۔

  • صدر ٹرمپ اپنی مقبولیت پر توجہ دیں،اطالوی وزیراعظم

    صدر ٹرمپ اپنی مقبولیت پر توجہ دیں،اطالوی وزیراعظم

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اطالوی وزیر اعظم جورجیا میلونی سے متعلق متنازع ریمارکس کے بعد اٹلی اور امریکا کے درمیان سفارتی کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اٹلی کی وزیر اعظم جورجیا میلونی نے ٹرمپ کے بیان کے درعمل میں کہا کہ ٹرمپ کے مسلسل اور بلاوجہ کے حملے بےمعنی ہیں، ٹرمپ کا دوست ہونے پر میری مقبولیت کو فائدہ نہیں ہوا، میں نے ہمیشہ اٹلی کے قومی مفادات کا دفاع کیا ہے، اور امریکا فوجی اڈوں پر معاہدوں کی خلاف ورزی نہیں کر سکتا،میری مقبولیت سے ٹرمپ کا کوئی لینا دینا نہیں ہونا چاہیے، اور میرا مشورہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنی مقبولیت پر توجہ دیں۔

    دوسری جانب اطالوی وزیرِ خارجہ انتونیو تاجانی نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے امریکا کا طے شدہ دورہ منسوخ کر دیا ہے، جہاں ان کی ملاقات امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ہونی تھی یہ فیصلہ ٹرمپ کے ان بیانات کے ردعمل میں کیا گیا ہے جنہیں اطالوی حکام نے ’توہین آمیز‘ قرار دیا ہے۔

    تنازع اس وقت شروع ہوا جب ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اطالوی وزیر اعظم جورجیا میلونی نے جی 7 اجلاس کے دوران ان سے تصویر لینے کی درخواست کی اور وہ ان پر ترس کھا کر راضی ہوئے، میلونی نے ان سے ملاقات اور تصویر کے لیے اصرار کیا،میلونی کی اٹلی میں مقبولیت کا گراف مسلسل گر رہا ہےمیلونی نے ہمیں ایران کے خلاف اٹلی کے اڈے استعمال نہیں کرنے دیئے، تاہم امریکا نے ایران کو عسکری طور پر شکست دے دی ہے۔

    اطالوی وزیر اعظم میلونی نے ان دعوؤں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ باتیں بالکل من گھڑت ہیں اور انہوں نے اس پر فوری وضاحت کی ضرورت محسوس کی،انہوں نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ وہ حیران ہیں کہ امریکی صدر اپنے اتحادی ملک کے بارے میں ایسے الفاظ استعمال کر رہے ہیں، اٹلی نے کبھی کسی سے بھیک نہیں مانگی اور یہ تاثر مکمل طور پر غلط ہے۔

    سفارتی ذرائع کے مطابق اطالوی وزیرِ خارجہ کا دورہ امریکا نہ صرف دوطرفہ ملاقات بلکہ ’اٹلی امریکا بزنس، انویسٹمنٹ، سائنس اینڈ انوویشن فورم‘ میں شرکت کے لیے بھی تھا، جو بعد ازاں منسوخ کر دیا گیا،امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق اس ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون، اسٹریٹجک سیکیورٹی اور اہم معدنی وسائل سے متعلق امور پر بات چیت ہونا تھی۔

    سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ اور میلونی کے درمیان پہلے بھی اختلافات سامنے آتے رہے ہیں، اگرچہ دونوں رہنما بعض پالیسی امور جیسے امیگریشن اور قومی خودمختاری پر ایک دوسرے کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔

  • پیٹرول اور ڈیزل میں کمی کے بعد جیٹ فیول بھی سستا

    پیٹرول اور ڈیزل میں کمی کے بعد جیٹ فیول بھی سستا

    حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل میں کمی کے بعد جیٹ فیول بھی سستا کردیا۔

    ذرائع کے مطابق جیٹ فیول کی قیمت میں 56 روپے 97 پیسے کی بڑی کمی کردی گئی اور جیٹ فیول کی نئی قیمت کم ہوکر 238 روپے 87 پیسے فی لیٹر ہوگئی جیٹ فیول کی قیمتوں میں کمی کےبعد فضائی کرایوں میں کمی کا امکان ہے۔

    خیال رہے کہ گزشتہ روز حکومت نے پیٹرول 74 روپے 28 پیسے اور ڈیزل 67 روپے 31 پیسے فی لیٹر کی کمی کی تھی،جس کے بعد صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ، مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے صدر کاشف چوہدری، آل پاکستان انجمن تاجراں و ٹریڈ ایکشن کمیٹی اسلام آباد کے صدر اجمل بلوچ سمیت دیگر تاجر رہنماؤں نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے پیٹرول کی قیمت میں 74روپے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 67روپے فی لیٹر کمی کے اعلان کا بھرپور خیرمقدم کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ پاکستانی عوام اور کاروباری طبقے تک منتقل کرنا حکومت کا دانش مندانہ فیصلہ ہے، ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں کمی سے اشیائے ضروریہ کی ترسیل، مال برداری، پیداواری لاگت اور کاروباری اخراجات میں کمی آئے گی جس سے مہنگائی پر قابو پانے میں مدد ملے گی اور معاشی سرگرمیوں میں تیزی آئے گی۔

  • اسلام آباد مفاہمتی یادداشت: تکنیکی سطح کے مذاکرات 21 جون کو ہوں گے

    اسلام آباد مفاہمتی یادداشت: تکنیکی سطح کے مذاکرات 21 جون کو ہوں گے

    اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت تکنیکی سطح کے اہم مذاکرات 21 جون کو سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں منعقد ہوں گے۔

    ترجمان دفتر خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ مذاکرات میں امریکا اور ایران کے نمائندے شریک ہوں گے، جبکہ پاکستان اور قطر ثالث کے طور پر اپنا کردار ادا کریں گے پا کستان ثالث کے طور پر اپنے ذمہ دارانہ کردار کو جاری رکھتے ہوئے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت طے پانے والی پیشرفت کو آگے بڑھانے کے لیے سہولت کاری جاری رکھے گا یہ عمل خطے میں کشیدگی میں کمی اور فریقین کے درمیان سفارتی رابطوں کو مضبوط بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ جبکہ مذاکرات کا مقصد باہمی فہم و فراست کے ذریعے معاملات کو آگے بڑھانا ہے۔

    دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ معاملات اچھے چل رہے ہیں اور اتوار کو ایران مذاکرات ممکن ہیں ایران سے مذاکرات کے لیے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈکشنر سوئٹزرلینڈ میں موجود ہیں اور ایران کے ساتھ معاملات اچھے چل رہے ہیں میں بھی سوئٹزرلینڈ جا سکتا ہوں اور میرا اگلے چند دنوں میں سوئٹزرلینڈ کا دورہ متوقع ہے اتوار کو ایران مذاکرات ممکن ہیں پرامید ہیں کہ ہم جنگ بندی برقرار رکھ سکتے ہیں، ایران کے ساتھ مذاکرات کو ایک موقع دینے جا رہے ہیں، اور اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ ایران آبنائے ہرمز کو بند کر رہا ہے۔