Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • پنجاب فوڈ اتھارٹی کاموٹروے پر فوڈ چینز کیخلاف بڑا کریک ڈاؤن ،4 ن آؤٹ لیٹس سیل

    پنجاب فوڈ اتھارٹی کاموٹروے پر فوڈ چینز کیخلاف بڑا کریک ڈاؤن ،4 ن آؤٹ لیٹس سیل

    پنجاب فوڈ اتھارٹی نے ایم-2 موٹروے کے سکھیکی انٹرچینج پر قائم معروف فوڈ چینز کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن کرتے ہوئےفوڈچینزپرچھاپےمارے،کارروائی کے دوران ایک من سے زائد ناقص اور ممنوع خوراک بھی تلف کر دی گئی۔

    پنجاب فوڈ اتھارٹی نے حافظ آباد میں ایم-2 موٹروے کے سکھیکی انٹرچینج پر واقع معروف فوڈ چینز کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے 5 فوڈ چینز کا معائنہ کیا،کارروائی معاون خصوصی وزیراعلیٰ پنجاب برائے فوڈ سیفٹی سلمیٰ بٹ اور ڈائریکٹر جنرل پنجاب فوڈ اتھارٹی راجہ منصور احمد کی نگرانی میں کی گئی۔

    فوڈ اتھارٹی کے مطابق کارروائی کے دوران 4 نیشنل فوڈ چینز کے آؤٹ لیٹس کو ناقص انتظامات پر سیل کر دیا گیا، جبکہ مجموعی طور پر 35 لاکھ روپے کے جرمانے بھی عائد کیے گئےمعائنہ کے دوران ایک من سے زائد ناقص، غیر معیاری اور ممنوعہ اجزاء تلف کر دیے گئے۔

    معاون خصوصی سلمیٰ بٹ نے بتایا کہ مختلف آؤٹ لیٹس میں فریزر اور واشنگ ایریا انتہائی گندے پائے گئے، بدبودار پانی جمع تھا اور صفائی کے انتظامات انتہائی ناقص تھےضروری سپلائی ریکارڈ، ریٹرن ریکارڈ اور دیگر قانونی دستاویزات بھی دستیاب نہیں تھیں، جبکہ کئی مقامات پر حشرات کی بھرمار تھی اور خوراک کی اشیاء فرش پر رکھی ہوئی تھیں۔

    ان کے مطابق بیکری مصنوعات پر تاریخِ تیاری اور تاریخِ تنسیخ درج نہیں تھی، جبکہ کھلی نالیاں اور تعفن زدہ ماحول بھی پایا گیا، جو خوراک کی تیاری کے لیے مقررہ معیار کے خلاف ہے پنجاب فوڈ اتھارٹی کی ٹیمیں صوبے بھر میں ملاوٹ اور جعلسازی کے خاتمے کے مشن پر عمل پیرا ہیں اور خوراک کی تیاری سے لے کر ترسیل تک سخت نگرانی کی جا رہی ہے۔

    انہوں نے واضح کیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر جعل سازوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں جاری رہیں گی اور غیر معیاری یا زائد المعیاد خوراک کو کسی صورت مارکیٹ تک پہنچنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

  • ارطغرل کے اداکار جلال آل کا پاکستان آنے کا اعلان

    ارطغرل کے اداکار جلال آل کا پاکستان آنے کا اعلان

    شہرۂ آفاق ڈرامہ دریلیش: ارطغرل میں عبدالرحمٰن الپ کے کردار سے دنیا بھر میں شہرت حاصل کرنےوالے ترک اداکار جلال آل نے جلد پاکستان آنے کا اعلان کیا ہے۔

    جلال آل نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری کے ذریعے پاکستانی مداحوں کے لیے خصوصی پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ سب کو بہت یاد کرتا ہوں اور جلد ہی پاکستان کا دورہ کروں گا، میرے پیارے پاکستانی بھائیوں اور بہنو! میں آپ سب کو بہت یاد کرتا ہوں، میں بہت جلد پاکستان واپس آ رہا ہوں اور آپ سب کے لیے بہت سے سرپرائزز بھی لے کر آؤں گا، کیا آپ پاکستان میں اس شاندار ملاقات کے لیے تیار ہیں؟

    انہوں نے اپنے پیغام کے اختتام پر دل دل پاکستان اور جان جان ترکیہ بھی تحریر کیا۔

    جلال آل کے مطابق وہ ایک معروف ترک برانڈ کے سلسلے میں پاکستان کا دورہ کریں گے، تاہم انہوں نے اس تعاون یا اپنے دورے کی تاریخ سے متعلق مزید تفصیلات شیئر نہیں کیں۔

    جلال آل دریلیش: ارطغرل کے علاوہ 2012ء کی تاریخی فلم فتح 1453 میں بھی اداکاری کر چکے ہیں، جبکہ ایوارڈ یافتہ مختصر فلم Zemberek کے شریک پروڈیوسر بھی رہے ہیں،اداکاری کے ساتھ ساتھ جلال آل فلاحی سرگرمیوں میں بھی سرگرم ہیں اور ترک ریڈ کریسنٹ سمیت مختلف بین الاقوامی امدادی اداروں کے ساتھ انسانی خدمت کے منصوبوں میں حصہ لیتے رہے ہیں۔

  • کینیڈین  وزیراعظم  کا نیوز کانفرنس کے دوران صدر  ٹرمپ پر  طنز

    کینیڈین وزیراعظم کا نیوز کانفرنس کے دوران صدر ٹرمپ پر طنز

    کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے ایک نیوز کانفرنس کے دوران ٹیلی پرامپٹر اچانک بند ہونے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ہلکا پھلکا طنز کیا-

    یہ واقعہ بدھ کے روز ٹورنٹو میں ہاؤسنگ پالیسی سے متعلق ایک پریس کانفرنس کے دوران پیش آیا، جب وزیراعظم مارک کارنی تقریر کر رہے تھے اور اچانک ان کے ٹیلی پرامپٹر نے کام کرنا بند کردیا،مارک کارنی نے مسکراتے ہوئے کہا کہ میں آپ کو اطلاع دینا چاہتا ہوں کہ ٹیلی پرامپٹر نے کام کرنا بند کر دیا ہے۔ ایک مخصوص عالمی رہنما کے برعکس، میں اسے کسی سازش کا حصہ نہیں سمجھتا،ان کے اس جملے پر نیوز کانفرنس میں موجود صحافیوں اور شرکاء نے قہقہے لگائے۔

    کارنی کا یہ تبصرہ بظاہر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گزشتہ برس کے اس واقعے کی طرف اشارہ تھا، جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ان کی تقریر کے دوران ٹیلی پرامپٹر نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا اور ایک برقی سیڑھی (ایسکلیٹر) بھی رک گئی تھی،اس کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے ان واقعات کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے انہیں ممکنہ سازش قرار دیا تھا۔

    واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے دوبارہ وائٹ ہاؤس آنے کے بعد امریکا اور کینیڈا کے تعلقات میں کشیدگی دیکھی جا رہی ہے ٹرمپ نے کینیڈا پر وسیع تجارتی محصولات (ٹیرف) عائد کیے تھے اور یہ بھی کہا تھا کہ کینیڈا کو امریکا کی 51ویں ریاست بن جانا چاہیے،دوسری جانب وزیراعظم مارک کارنی متعدد مواقع پر کہہ چکے ہیں کہ وہ ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں کا بھرپور مقابلہ کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ کینیڈا کو سفارتی اور معاشی طور پر امریکا پر اپنا انحصار کم کرنا ہوگا۔

  • میچ کے دوران آسمانی بجلی گرنے سے ایک کھلاڑی جاں بحق، 12 زخمی

    میچ کے دوران آسمانی بجلی گرنے سے ایک کھلاڑی جاں بحق، 12 زخمی

    تھائی لینڈ میں فٹبال میچ کے دوران آسمانی بجلی گرنے سے 24 سالہ فٹبالر سوفوان آوائے جان کی بازی ہار گئے جبکہ 12 دیگر کھلاڑی زخمی ہو گئے۔

    یہ افسوسناک واقعہ جنوبی تھائی لینڈ کے شہر سنگائی کولوک کے سانتی پھاپ اسٹیڈیم میں گولوک ایف اے کپ کے ایک مقامی میچ کے دوران پیش آیا بجلی میدان میں گری جس سے سوفوان آوائے شدید زخمی ہو گئے،ساتھی کھلاڑی فوری طور پر ان کی مدد کے لیے پہنچے اور ابتدائی طبی امداد بھی دی گئی اور فوری اسپتال منتقل کیا گیا تاہم اسپتال میں ڈاکٹروں کی تمام کوششیں ناکام رہیں،زخمی ہونے والوں میں ایک ملائیشین کھلاڑی بھی شامل ہے۔

    سوفوان آوائے سیمکولٹس ٹیم کی نمائندگی کر رہے تھے اور حال ہی میں تھائی لینڈ کے تھرڈ ڈویژن کلب یالا ایف سی سے معاہدہ کیا تھاکلب نے ان کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اہل خانہ سے تعزیت کی ہے۔

    واضح رہے کہ تھائی لینڈ میں آسمانی بجلی گرنے کے واقعات نسبتاً عام ہیں اور گزشتہ چند برسوں کے دوران اس طرح کے متعدد جان لیوا حادثات رپورٹ ہو چکے ہیں۔

  • پی سی بی نے دو ٹیموں کو نئے ڈومیسٹک سیزن سے باہر کردیا

    پی سی بی نے دو ٹیموں کو نئے ڈومیسٹک سیزن سے باہر کردیا

    پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) نے نئے ڈومیسٹک سیزن (2026-27) کے لیے گریڈ ون ڈیپارٹمنٹل کرکٹ سے واپڈا اور ساہیر ایسوسی ایٹس کی ٹیموں کو باہر کر دیا ہے-

    پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے نئے ڈومیسٹک سیزن کے لیے اہم فیصلہ کرتے ہوئے موجودہ فرسٹ کلاس چیمپئن واپڈا اور ساحر ایسوسی ایٹس کو صدرز ٹرافی اور صدرز کپ سے باہر کر دیا ہے دونوں ادارے جون میں متعارف کرائے گئے نئے قواعد و ضوابط پر عمل درآمد کرنے میں ناکام رہے۔

    پی سی بی کا کہنا ہے کہ ڈومیسٹک کرکٹ کو مزید پیشہ ورانہ اور معیاری بنانے کے لیے ٹیموں کے لیے مالی شفافیت، کھلاڑیوں کو سال بھر کے معاہدے، تنخواہوں اور میچ فیس کی نگرانی، رہائش، یومیہ الاؤنس اور فٹنس پروگرام سے متعلق نئی شرائط لازمی قرار دی گئی ہیں۔

    ذرائع کے مطابق سب سے بڑا اختلاف شرکت کی فیس میں تین گنا اضافے پر سامنے آیا جسے بڑھا کر ڈیڑھ کروڑ روپے کردیا گیا۔

    دیگر چھ اداروں نے پی سی بی کی جانب سے لائیو اسٹریمنگ، گراؤنڈ کرایہ اور میچ بالز کے اخراجات برداشت کرنے کی یقین دہانی کے بعد نئی شرائط قبول کرلیں تاہم واپڈا نے فیس میں نظرثانی کا مطالبہ کیا تھا،واپڈا اور ساحر ایسوسی ایٹس کی جگہ آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) اور کنگزمین اکیڈمی صدرز ٹرافی اور صدرز کپ میں شرکت کریں گی۔

  • عالمی مارکیٹ میں سونا مزید مہنگا

    عالمی مارکیٹ میں سونا مزید مہنگا

    عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں آج،مسلسل چوتھے روز اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد سونے کی قیمت 7 ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔

    اسپاٹ گولڈ کی قیمت ایک فیصد اضافے کے ساتھ 4,285.84 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی، جو 18 جون کے بعد بلند ترین سطح ہےاس کے علاوہ امریکی گولڈ فیوچرز 0.9 فیصد اضافے کے ساتھ 4,345.80 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ کرتے رہےدیگر قیمتی دھاتوں میں اسپاٹ چاندی 0.1 فیصد اضافے سے 62.16 ڈالر، پلاٹینم 1.7 فیصد بڑھ کر 1,764.10 ڈالر جبکہ پیلیڈیم 1.1 فیصد اضافے کے ساتھ 1,377.83 ڈالر فی اونس پر پہنچ گیا۔

    قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجوہات میں امریکی ڈالر کی کمزوری، ٹریژری بانڈز کی کم ہوتی ہوئی پیداوار اور آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کی امیدیں شامل ہیں،آئی جی مارکیٹس کے تجزیہ کار ٹونی سائکامور کے مطابق مشرق وسطیٰ میں سفارتی پیش رفت کی توقعات نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو تقویت دی ہے، اگر سونا اپنی 200 روزہ موونگ ایوریج سے اوپر مضبوطی سے برقرار رہتا ہے تو قیمت 5,000 ڈالر فی اونس کی سطح کی جانب بڑھ سکتی ہے۔

  • پاکستان  خطے میں امن کے قیام کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے،ترجمان دفتر خارجہ

    پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے،ترجمان دفتر خارجہ

    ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے بتایا کہ پاکستان فلسطین، مشرقِ وسطیٰ، انسدادِ دہشت گردی، علاقائی تعاون اور اقتصادی شراکت داری کے حوالے سے سفارتی سطح پر سرگرم کردار ادا کر رہا ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف اپنے آئندہ دورۂ سعودی عرب کے دوران ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کریں گے، جس میں پاک۔سعودی تعلقات، دوطرفہ تعاون، سرمایہ کاری، علاقائی اور عالمی امور سمیت باہمی دلچسپی کے مختلف معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوگا، دونوں رہنما مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، خصوصاً غزہ، مقبوضہ فلسطینی علاقوں، مشرقی یروشلم، بحیرہ احمر اور باب المندب کی تازہ پیش رفت پر بھی گفتگو کریں گے، پاکستان برادر اسلامی ممالک کے ساتھ مل کر خطے میں امن کے قیام کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے،وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل و چیف آف ڈیفنس فورسز جنرل عاصم منیر اور دیگر ارکان ہونگے-

    ترجمان کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے 5 اگست کو اردن میں القدس (یروشلم) سے متعلق وزارتی اجلاس میں شرکت کی، جس میں عرب لیگ کے رکن ممالک اور منتخب اسلامی ممالک نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر مشترکہ لائحہ عمل پر غور کیا،اجلاس کے شرکا نے اس بات پر زور دیا کہ مسئلہ فلسطین کا جامع، منصفانہ اور دیرپا حل ہی مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن اور استحکام کی ضمانت ہے۔

    انہوں نے کہا کہ وزرائے خارجہ نے 1967 سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام، القدس الشریف کو اس کا دارالحکومت بنانے اور فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا اجلاس میں علاقائی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا اور اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ امن کے فروغ کے لیے قریبی رابطوں، مشاورت اور سفارت کاری کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا، اسحاق ڈار نے اجلاس کے موقع پر اردن، ترکیہ، مصر، الجزائر، ایران اور صومالیہ کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ ملاقاتیں کیں، جبکہ ایران کے وزیر خارجہ کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔

    طاہر اندرابی نے بتایا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان انسدادِ دہشت گردی سے متعلق خصوصی مذاکرات کا حالیہ دور بھی منعقد ہوا، جس میں پاکستانی وفد کی قیادت امریکہ میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے کی۔ دونوں ممالک نے دہشت گردی کے خلاف شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے، سرحدی سلامتی بہتر بنانے، دہشت گردوں کے سہولت کاروں کے نیٹ ورکس کا خاتمہ کرنے اور موجودہ خطرات سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔

    انہوں نے کہا کہ 4 اگست کو کینیڈا میں پاکستان اور کینیڈا کے درمیان سینئر حکام کی سطح پر مذاکرات اور مشترکہ تجارتی کمیٹی کا اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں سیاسی، اقتصادی، تجارتی، سلامتی اور علاقائی تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا دونوں ممالک نے دوطرفہ شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا، پاکستان نے یومِ استحصال کشمیر کی ساتویں برسی بھی بھرپور انداز میں منائی اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔بھارت کے پاس آزاد کشمیر کے جمہوری عمل پر تبصرہ کرنے کی کوئی اخلاقی و قانونی پوزیشن نہیں –

  • جرمن ایئرپورٹ پر دھماکا خیز مواد سمیت ڈرون برآمد

    جرمن ایئرپورٹ پر دھماکا خیز مواد سمیت ڈرون برآمد

    جرمن ایئرپورٹ پر سیکیورٹی عملے نے دھماکا خیز مواد سمیت ڈرون برآمد کیا ہے-

    میڈیا رپورٹس کے مطابق جرمنی کے لیپزگ ہالے ایئرپورٹ پر ایک دھماکا خیز مواد سے لیس ڈرون ملنے کے بعد سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے،حکام کے مطابق ڈرون ایک محدود رسائی والے کارگو علاقے میں رن وے کے قریب پایا گیا، جس کے بعد بم ڈسپوزل ٹیم نے اسے ناکارہ بنایا اور کچھ وقت کے لیے پروازیں معطل یا دیگر ہوائی اڈوں کی جانب موڑ دی گئیں۔

    جرمن وزیرِ داخلہ الیگزینڈر ڈوبرنٹ نے اس واقعے کو "خطرے کی ایک نئی سطح” قرار دیتے ہوئے کہا کہ تفتیش کار اسے ایک ممکنہ ہائبرڈ حملے کے تناظر میں بھی دیکھ رہے ہیں تاہم حکام نے واضح کیا ہے کہ ابھی تک کسی گروہ یا ملک کو باضابطہ طور پر ذمہ دار قرار نہیں دیا گیا اور تحقیقات جاری ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق ایک ڈی ایچ ایل کارگو طیارہ بھی راستہ تبدیل کیے جانے کے بعد ایک نامعلوم فضائی شے سے ٹکرایا جس سے اسے معمولی نقصان پہنچا۔ حکام اس واقعے اور دھماکا خیز ڈرون کے درمیان ممکنہ تعلق کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔

  • امریکا کی بڑی کمپنیوں پر ہیکرز کا حملہ

    امریکا کی بڑی کمپنیوں پر ہیکرز کا حملہ

    ہیکرز نے وال اسٹریٹ کی بڑی مالیاتی سروسز کمپنیوں کے معلوماتی نظام تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی۔

    رائٹرز کا کہنا ہے کہ دو مختلف ذرائع نے، جنہوں نے معاملے کی حساسیت کے باعث اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی، بتایا کہ دنیا کے چند بڑے ہیج فنڈز اور کئی پرائیویٹ ایکویٹی کمپنیوں کو ان حملوں میں نشانہ بنایا گیا ہے ہیج فنڈز سے مراد ایسی بڑی سرمایہ کاری کمپنیاں ہیں جو اربوں ڈالر کے اثاثے سنبھالتی ہیں۔

    ہیکرز نے فون کالز کے ذریعے کمپنیوں کے ملازمین کو دھوکا دینے کی کوشش کی تاکہ وہ انہیں اپنے کمپیوٹر سسٹمز تک رسائی دے دیں یا حساس معلومات فراہم کر دیں،سرمایہ کاری کی معروف کمپنی پوائنٹ 72 ایسیٹ مینجمنٹ نے بدھ کے روز اپنے سرمایہ کاروں کو آگاہ کیا کہ اسے بھی ہیکرز کی جانب سے حملے کا سامنا کرنا پڑا، کمپنی نے اپنے سرمایہ کاروں کو بتایا کہ اس حملے کے دوران صارفین کی کوئی معلومات چوری نہیں ہوئیں۔

    رائٹرز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ ہیکرز نے دیگر معروف ہیج فنڈز کے معلوماتی نظام میں بھی داخل ہونے کی کوشش کی، جن میں ٹو سگما انویسٹمنٹس اور سٹیڈل بھی شامل ہیں۔ ٹو سگما نے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا، جبکہ سٹیڈل اور پوائنٹ 72 نے تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔

    سائبر سکیورٹی ماہرین کے مطابق بڑی مالیاتی کمپنیوں پر ہیکنگ کی کوششیں معمول کا حصہ بن چکی ہیں، تاہم فون کالز کے ذریعے ملازمین کو دھوکا دینے کا طریقہ اب بھی ہیکرز کی جانب سے مؤثر سمجھا جاتا ہے۔ ماضی میں ”اسکیٹرڈ اسپائیڈر“ نامی سائبر جرائم پیشہ گروہ بھی اسی طرز کے حملوں کے ذریعے متعدد بڑی کمپنیوں کو نشانہ بنا چکا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق دنیا بھر کی کمپنیاں اے آئی سے مدد یافتہ سائبر حملوں اور رینسم ویئر کے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا کر رہی ہیں، جو نہ صرف کاروباری سرگرمیوں میں خلل ڈالتے ہیں بلکہ حساس ڈیٹا چوری کرنے کی بھی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    رینسم ویئر دراصل ایک قسم کا خطرناک کمپیوٹر وائرس یا نقصان دہ سافٹ ویئر (مالویئر) ہے جو کمپیوٹر، موبائل یا کسی ادارے کے پورے نیٹ ورک میں موجود فائلوں کو لاک یا انکرپٹ کر دیتا ہے اس کے بعد حملہ آور متاثرہ شخص یا ادارے سے فائلیں دوبارہ کھلوانے کے بدلے رقم کا مطالبہ کرتے ہیں۔

    ہیکنگ سے متعلق سنگین مسائل کے تناظر میں رواں سال وائٹ ہاؤس نے ایک مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کرنے کا اعلان کیا تھا، جس میں اے آئی تیار کرنے والی کمپنیوں اور اہم بنیادی ڈھانچے سے وابستہ اداروں کو شامل کیا گیا ہے تاکہ سائبر خطرات سے متعلق معلومات کا تبادلہ کیا جا سکے اور دفاعی اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

  • افغانستان دہشتگرد گروہوں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکاہے، پاکستان

    افغانستان دہشتگرد گروہوں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکاہے، پاکستان

    پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں متعدد دہشتگرد تنظیمیں بدستور سرگرم ہیں اور وہیں سے پاکستان سمیت دیگر ممالک کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے-

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں ٹی ٹی پی، بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور اس کی مجید بریگیڈ، داعش خراسان (آئی ایس آئی ایل-کے)، القاعدہ سے وابستہ گروہوں اور ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ای ٹی آئی ایم) سمیت متعدد دہشت گرد تنظیموں کو محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ یہ دہشتگرد گروہ افغانستان سے بھرتی، تربیت، منصوبہ بندی اور پاکستان میں حملے کرتے ہیں، جبکہ انہیں پاکستان کے مشرقی ہمسائے کی جانب سے مالی اور دیگر معاونت بھی حاصل ہے گزشتہ ہفتے سوات میں ٹی ٹی پی کے خودکش حملے میں 16 پاکستانی جان کی بازی ہار گئے اگرچہ پاکستان کی مؤثر کارروائیوں کے باعث داعش خراسان کو دھچکا پہنچا ہے، تاہم افغانستان میں اس تنظیم کا خطرہ اب بھی برقرار ہے۔

    سفیر عاصم افتخار نے کہا کہ انہوں نے زور دیا کہ دہشت گردی ایک سرحد پار خطرہ ہے، جس سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون، سرحدی نظم و نسق، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار میں اضافہ اور دہشتگردوں کی مالی معاونت روکنا ناگزیر ہے،دہشتگرد تنظیمیں جدید ٹیکنالوجی، ڈرونز، سوشل میڈیا، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل والٹس اور کرپٹو کرنسیوں کو بھرتی، فنڈنگ اور حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال کر رہی ہیں، جس کا مشترکہ عالمی سطح پر مقابلہ کرنا ہوگا۔

    انہوں نے مطالبہ کیا کہ طالبان حکومت کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ افغان سرزمین کسی بھی دہشتگرد گروہ کی جانب سے پاکستان یا کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہو، جبکہ دہشت گرد گروہوں کے سرپرستوں اور معاونین کو بھی جواب دہ ٹھہرایا جائے۔

    پاکستانی مندوب نے اپنے خطاب میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 5 اگست بھارت کے یکطرفہ اقدامات کی ساتویں برسی ہے انہوں نےبھارتی اقدامات کو ریاستی دہشتگردی کی بدترین مثال قرار دیتےہوئےکہا کہ عالمی برادری کو مقبوضہ کشمیر سمیت ہر جگہ ریاستی دہشتگردی کے خلاف بھی زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنانا ہوگی، دہشت گردی کے خاتمے کے لیے دوہرے معیار سے بالاتر ہو کر جامع، مربوط اور کثیرالجہتی حکمت عملی اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، اور پاکستان اس عالمی کوشش میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔