Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • بجلی کی 3 بڑی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا عمل تیز کرنے کا فیصلہ

    بجلی کی 3 بڑی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا عمل تیز کرنے کا فیصلہ

    حکومت نے اسلام آباد، فیصل آباد اور گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنیوں کی نجکاری کا عمل تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کااجلاس ہوا،اجلاس میں، اسلام آباد، فیصل آباد اور گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنیوں کی نجکاری کا عمل تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا ،متعلقہ حکام کو آئندہ ہفتے کے آغاز تک مشاورتی عمل مکمل کرنے کی ہدایت کردی گئی، جس کے بعد کمیٹی نجکاری سے متعلق آئندہ لائحہ عمل طے کرے گی۔

    اجلاس میں اسلام آباد، فیصل آباد اور گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنیوں کی نجکاری کے عمل میں ہونے والی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا،کمیٹی نے نجکاری کمیشن کو پاور ڈویژن کے ساتھ جاری مشاورت آئندہ ہفتے کے آغاز تک مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ حکام کی جانب سے مشاورتی عمل مکمل ہونے کے بعد کابینہ کمیٹی نجکاری کے حوالے سے آئندہ فیصلہ کرے گی۔

    اجلاس کے دوران نجکاری پروگرام کا دائرہ وسیع کرنے اور مزید سرکاری اداروں کو پروگرام میں شامل کرنے کی تجاویز بھی زیر غور آئیں،کمیٹی نے نجکاری ڈویژن کی سفارشات میں ترامیم کے ساتھ ان تجاویز کی منظوری دے دی۔ اس کے علاوہ نجکاری کمیشن کے بجٹ کی بھی ترامیم کے ساتھ منظوری دی گئی۔

    اجلاس میں سالانہ نجکاری پروگرام کا بھی جائزہ لیا گیا اور نجکاری کے آئندہ لائحہ عمل پر غور کیا گیاانہوں نے مختلف وزارتوں اور محکموں کے درمیان بروقت اور مؤثر رابطہ یقینی بنانے پر بھی زور دیا،بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری حکومت کے وسیع تر نجکاری پروگرام کا حصہ ہے، جس کا مقصد سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانا، مالی بوجھ کم کرنا اور نجی شعبے کی شمولیت کے ذریعے خدمات کے معیار میں بہتری لانا ہے۔

    اسلام آباد، فیصل آباد اور گوجرانوالہ کی بجلی تقسیم کار کمپنیوں سے متعلق موجودہ پیش رفت میں مشاورتی مرحلہ مکمل ہونے کے بعد نجکاری کے اگلے مراحل طے کیے جائیں گے۔

  • پاکستان نے امریکا، ایران کو مذاکرات کی میز پر لا کر وہ سفارتی کردار اداکیا جو بڑی طاقتیں نہ کرسکیں، ساؤتھ ایشین وائسز

    پاکستان نے امریکا، ایران کو مذاکرات کی میز پر لا کر وہ سفارتی کردار اداکیا جو بڑی طاقتیں نہ کرسکیں، ساؤتھ ایشین وائسز

    ساؤتھ ایشین وائسز نے کہا ہے کہ پاکستان نے امریکا، ایران کو مذاکرات کی میز پر لا کر وہ سفارتی کردار اداکیا جو بڑی طاقتیں ادا نہ کرسکیں۔

    ساؤتھ ایشین وائسز کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانے میں پاکستان کا ثالثی کردار اہم رہا امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات اسلام آباد میں ہوئے، جہاں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام نے براہِ راست مذاکرات کیے پاکستان نے دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے سفارتی رابطوں اور اپنی جغرافیائی اہمیت کو مؤثر انداز میں استعمال کیا۔

    ساؤتھ ایشین وائسز کے تجزیے میں کہا گیا ہے کہ جنگ بندی اور دیرپا امن کے درمیان فرق کو سمجھنا ضروری ہے، تجزیے کے مطابق پاکستان نے ایسے وقت میں دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لایا جب تنازع ‘انتہائی خطرناک‘ مرحلے میں داخل ہوچکا تھا، جنگ کے دوران ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ملک کو اس وقت تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب مذاکرات فوری طور پر دیرپا امن میں تبدیل نہ ہوں، تاہم تنازعات کے حل کی پیچیدگی کو مدنظر رکھتے ہوئے ثالث کو ناکامی کا ذمہ دار قرار دینا درست نہیں۔

    تجزیے میں تنازعات کے حل کے ماہر ولیم زارٹمین کے تصور ‘دوطرفہ تکلیف دہ تعطل’ کا حوالہ دیا گیا ہے، ساؤتھ ایشین وائسز کے مطابق جب دونوں فریقین یہ سمجھنے لگیں کہ وہ اضافی نقصان اٹھائے بغیر تنازع حل نہیں کر سکتے، تو یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب تیسرے فریق کی ثالثی کے لیے حالات سازگار ہوتے ہیں، پاکستان نے عین اسی وقت مداخلت کی جب امریکا اور ایران دونوں اس تعطل کی کیفیت تک پہنچ چکے تھے۔

    ساؤتھ ایشین وائسز کے تجزیے کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان دہائیوں سے جاری کشیدگی اور 1979 کے انقلاب کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات انتہائی تلخ چلے آ رہے ہیں،مئی 2025 کے بعد خطے میں پیدا ہونے والی سنگین صورتحال اور جنگ کے بادلوں کے درمیان پاکستان نے اپنی جغرافیائی اہمیت، رسائی اور بھرپور سفارتی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے فریقین کے درمیان رابطہ قائم کیا،اسلام آباد میں ہونے والے ان تاریخی اور طویل مذاکرات کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے اعلیٰ ترین سطح کے نمائندے 20 گھنٹے سے زیادہ عرصے تک مذاکرات کی میز پر بیٹھے، جسے پاکستان کی ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا گیا۔

    ساؤتھ ایشین وائسز کے مطابق پاکستان نے اس وقت فریقین کے درمیان ثالثی کا کٹھن فریضہ سر انجام دیا جب وہ شدید ترین کشیدگی اور باہمی نقصان کے مرحلے میں داخل ہو چکے تھے، پاکستان نے چین، فرانس، جرمنی، بھارت اور برطانیہ جیسی بڑی عالمی طاقتوں کے برعکس اپنی منفرد جغرافیائی پوزیشن اور دونوں اطراف کے ساتھ اعتماد کا بھرپور فائدہ اٹھایا،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے کی جانے والی بروقت سفارتی کوششوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی قیادت کو جنگ روکنے اور بات چیت کی طرف لانے پر مجبور کیا، جو کہ 1971 میں ہنری کسنجر کے خفیہ دورۂ چین کے بعد پاکستان کا دوسرا بڑا سفارتی کارنامہ ہے۔

    تجزیے میں کہا گیا ہے کہ مئی 2025 کے تنازع کے بعد پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں نمایاں بہتری آئی، جس میں اسلام آباد نے صدر ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے لیے نامزد کیا اور ٹرمپ نے جون 2025 میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی وائٹ ہاؤس میں میزبانی کی، جہاں اسرائیل، ایران جنگ پر بھی مشاورت کی گئی، پاکستان کی اہمیت صرف اس کی سفارتی کوششوں تک محدود نہیں بلکہ اس کی جغرافیائی پوزیشن بھی اسے ایک منفرد ثالث بناتی ہے،پاکستان ایران کے ساتھ تقریباً 900 کلومیٹر طویل سرحد رکھتا ہے، جبکہ امریکا کے ساتھ اس کے دیرینہ سفارتی تعلقات ہیں اسی طرح چین کے ساتھ پاکستان کے قریبی تعلقات بھی اسے خطے کے اہم ممالک کے درمیان رابطے کے لیے موزوں بناتے ہیں۔

    تجزیے میں بھارت، اسرائیل، امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم، ولیم زارٹمین اور دیگر بعض حلقوں کی جانب سے اس عمل پر تحفظات کا اظہار کیا گیا، لیکن تجزیے نے واضح کیا کہ تنازعات کے حل کا عمل وقت اور مناسب حالات کا متقاضی ہوتا ہے جسے ‘میوچل ہرٹنگ سٹیلمیٹ’ یعنی باہمی نقصان کے اصول کے تحت ہی سمجھا جا سکتا ہے امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں سے ایران کی قیادت، فوجی صلاحیت اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا، تاہم ایران نے بھی خطے میں جوابی کارروائیاں کرتے ہوئے اسرائیل اور خلیجی تعاون کونسل کے ممالک میں اہداف کو نشانہ بنایا۔

    ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کیے جانے کے نتیجے میں تیل، گیس اور دیگر اہم اشیا کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا۔ یوں تنازع کے اثرات صرف امریکا اور ایران تک محدود نہ رہے بلکہ پورے خطے اور عالمی معیشت تک پھیلنے لگے اسی صورتحال میں پاکستان نے سفارتی رابطے کے ذریعے جنگ بندی کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی،تجزیے میں پاکستان کے موجودہ کردار کو 1971 کی ایک اہم سفارتی پیش رفت سے بھی جوڑا گیا ہے، جب پاکستان نے اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر کے چین کے خفیہ دورے میں سہولت فراہم کی تھی،یہ دورہ واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کے عمل میں ایک اہم ابتدائی قدم ثابت ہوا تھا۔

    تجزیے کے مطابق 1971 میں پاکستان نے 2 ایسی حکومتوں کے درمیان رابطے کا قابل اعتماد ذریعہ فراہم کیا جن کے درمیان براہ راست سفارتی تعلقات موجود نہیں تھے، جبکہ 2026 میں اس کی جغرافیائی پوزیشن اور امریکا و ایران دونوں کے ساتھ روابط نے اسے دوبارہ ایک اہم ثالثی کردار ادا کرنے کا موقع دیا، امریکا اور ایران نے جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کے ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے اور بعد میں دونوں جانب سے یہ مؤقف بھی سامنے آیا کہ مفاہمت کی شرائط معطل ہوچکی ہیں۔

    تاہم اہم بات یہ ہے کہ دونوں فریقوں نے مذاکراتی عمل کو مکمل طور پر ترک نہیں کیا۔ تجزیے میں اسی نکتے کو پاکستان کے ثالثی کردار کے خلاف ناکامی کے دعوے کو کمزور کرنے والی بنیادی وجہ قرار دیا گیا ہے اگر فریقین ایک دوسرے پر الزام تراشی کے باوجود مذاکرات کا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں کرتے تو اس کا مطلب ہے کہ سفارتی عمل ابھی ختم نہیں ہوا۔

    تجزیے میں قطر کی مثال بھی پیش کی گئی ہے، جس نے اسرائیل اور حماس کے درمیان مختلف مواقع پر ثالثی کی، ثالثی کرنے والے ملک کو اس وقت دونوں جانب سے تنقید کا سامنا ہوسکتا ہے جب مذاکرات مطلوبہ رفتار سے آگے نہ بڑھیں مسئلہ اکثر ثالث نہیں بلکہ تنازع کی بنیادی پیچیدگیاں ہوتی ہیں،امریکا اور ایران کے درمیان کئی دہائیوں سے موجود عدم اعتماد اور دونوں ممالک کے اسٹریٹجک مفادات کسی ایک مذاکراتی دور سے ختم نہیں ہوسکتے۔

    تجزیے میں تجویز دی گئی ہے کہ مستقبل میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کو ایک وسیع تر کثیرالفریقی عمل میں تبدیل کیا جاسکتا ہے، جس میں عمان، قطر اور عراق جیسے ممالک بھی شامل ہوں،اس نقطہ نظر کے مطابق تیسرے فریقوں کی موجودگی اعتماد سازی میں مدد دے سکتی ہے اور دونوں ممالک کو براہ راست تصادم کے بجائے مسلسل مشاورت اور مسئلہ حل کرنے کے عمل میں رکھنے کا موقع مل سکتا ہے۔

    تجزیے میں امریکا اور ایران کے درمیان ماضی کے مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 2013 میں عمان میں ہونے والی خفیہ ملاقاتوں نے بعد میں 2015 کے جوہری معاہدے تک پہنچنے کے لیے ماحول بنانے میں کردار ادا کیا تھا امریکا اور ایران کے درمیان تنازع میں سب سے بڑا چیلنج صرف جنگ بندی کرانا نہیں بلکہ دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد بحال کرنا ہے۔ مسلسل کشیدگی نے ایک دوسرے کے ارادوں پر شکوک کو گہرا کردیا ہے، جس کے باعث دیرپا جنگ بندی کا عمل مشکل ہوگیا ہےاس صورتحال میں پاکستان کے لیے سب سے اہم کام یہ ہوسکتا ہے کہ وہ فریقین کے درمیان رابطے کا راستہ کھلا رکھے۔ تجزیے کے مطابق ثالث کا کام فریقین کو امن پر مجبور کرنا نہیں بلکہ وہ وقت آنے پر مذاکرات کی میز موجود رکھنا ہے جب دونوں فریق دوبارہ بات چیت کے لیے آمادہ ہوں۔

    تجزیے کے مطابق پاکستان کے ثالثی کردار پر امریکا اور خطے کے بعض دیگر ممالک کے حلقوں سے تنقید سامنے آنا اس نوعیت کی سفارت کاری کا معمول ہے جنگ بندی کے بعد دوبارہ کشیدگی پیدا ہونے کو محض ثالثی کی ناکامی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ جب تک امریکا اور ایران اپنے بنیادی اختلافات، باہمی عدم اعتماد اور علاقائی مفادات کے تنازعات حل نہیں کرتے، اس وقت تک کسی بھی جنگ بندی کے کمزور پڑنے کا امکان موجود رہے گا،پاکستان نے کم از کم دونوں فریقوں کو ایک ایسے وقت میں مذاکرات کی میز تک پہنچایا جب براہ راست رابطے کے امکانات انتہائی محدود تھے اسی لیے تجزیے کے مطابق اگر مستقبل میں کشیدگی دوبارہ بڑھتی ہے تو اسلام آباد کا کردار ختم ہونے کے بجائے مزید اہم ہوسکتا ہے۔

  • جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی اور مہنگے پیٹرول کے خلاف 9 اگست کا احتجاج مؤخر کردیا

    جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی اور مہنگے پیٹرول کے خلاف 9 اگست کا احتجاج مؤخر کردیا

    جماعت اسلامی پاکستان نے پیٹرولیم لیوی اور مہنگے پیٹرول کے خلاف احتجاجی دھرنوں کی تاریخ تبدیل کرتے ہوئے ملک گیر دھرنے 16 اگست کو کرنے کا اعلان کردیا۔

    امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 9 اگست کو ہونے والے احتجاجی دھرنے یوم آزادی کی تقریبات کے باعث ملتوی کیے جائیں گے، اب یہ دھرنے 16 اگست کو منعقد ہوں گےاجلاس میں یوم آزادی کی تقریبات کو بھرپور انداز میں منانے کا فیصلہ بھی کیا گیا، جس کے پیش نظر احتجاجی سرگرمیوں کو ایک ہفتے کے لیے آگے بڑھایا گیا ہے۔

    حافظ نعیم الرحمان نے کہاکہ گزشتہ روز ملک بھر میں 510 سے زائد مقامات پر پُرامن احتجاج کیا گیا، جس میں عوام نے پیٹرولیم لیوی کو مسترد کردیاپورا پاکستان پیٹرولیم لیوی اور مہنگے پٹرول کے خلاف ایک آواز بن چکا ہے، جبکہ عوام کا مطالبہ ہے کہ پٹرول کی قیمت 225 روپے فی لیٹر مقرر کی جائے 16 اگست سے چاروں صوبوں میں بیک وقت دھرنوں کا آغاز کیا جائے گا۔

    حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ لاہور میں وزیر اعلیٰ ہاؤس جبکہ سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں گورنر ہاؤسز کے باہر احتجاجی دھرنے دیے جائیں گےاحتجاج کے ذریعے حکمرانوں کو عوام دشمن فیصلوں سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا جائے گا جماعت اسلامی نے آئی پی پیز کے خلاف بھی جدوجہد کی اور حکومت کو مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور کیا، جس کے نتیجے میں آئی پی پیز کے ساتھ مذاکرات کے بعد بجلی کی قیمتوں میں کمی ہوئی۔

  • ’پرواز کارڈ‘ اسکیم :بیرون ملک جانے کے لیے 10 لاکھ روپے تک بلا سود قرض

    ’پرواز کارڈ‘ اسکیم :بیرون ملک جانے کے لیے 10 لاکھ روپے تک بلا سود قرض

    بیرون ملک روزگار کے لیے جانے کے خواہشمند پنجاب کے شہریوں کو صوبائی حکومت کی جانب سے مالی معاونت فراہم کرنے کے لیے ’پرواز کارڈ‘ اسکیم شروع کردی گئی ہے، جس کے تحت اہل افراد کو ابتدائی اخراجات پورے کرنے کے لیے 10 لاکھ روپے تک کا بلا سود قرض دیا جائےگا۔

    حکومت پنجاب کے اس پروگرام کے تحت بیرونِ ملک ملازمت کے لیے روانہ ہونے والے مستحق ورکرز ویزا، ہوائی ٹکٹ، میڈیکل اور دیگر ضروری ابتدائی اخراجات کے لیے قرض حاصل کرسکیں گے،پنجاب اسکل ڈیولپمنٹ فنڈ کے تعاون سے شروع کی گئی اسکیم کا مقصد بیرونِ ملک روزگار حاصل کرنے والے ہنر مند اور غیر ہنر مند افراد کو درپیش مالی مشکلات کم کرنا اور ان کے لیے قانونی طریقے سے بیرونِ ملک روانگی آسان بنانا ہے۔

    یہ سہولت ان افراد کے لیے دستیاب ہوگی جن کے پاس کسی غیر ملکی کمپنی کی جانب سے ملازمت کا کنفرم افر لیٹر موجود ہو، تاہم وہ بیرونِ ملک روانگی سے قبل درکار اخراجات اپنی مدد آپ کے تحت ادا کرنے کی مالی استطاعت نہ رکھتے ہوں،اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے درخواست دہندہ کا پنجاب کا رہائشی ہونا ضروری ہے، جبکہ عمر کم از کم 18 سال مقرر کی گئی ہےامیدوار کے پاس معتبر قومی شناختی کارڈ کے ساتھ بیرونِ ملک ملازمت کا تصدیق شدہ آفر لیٹر بھی ہونا چاہیے۔

    اس کے علاوہ غیر ملکی ملازمت سے حاصل ہونے والی ماہانہ تنخواہ 5 ہزار سعودی ریال یا اس کے مساوی دیگر کرنسی سے کم ہونی چاہیےاس اسکیم میں مرد اور خواتین دونوں درخواست دے سکتے ہیں، جبکہ ہنر مند اور غیر ہنر مند ورکرز بھی قرض حاصل کرنے کے اہل ہوں گے۔

    ’پرواز کارڈ‘ کے تحت فراہم کیا جانے والا بلا سود قرض بیرونِ ملک ملازمت کے سلسلے میں درکار مختلف ابتدائی اخراجات کی ادائیگی کے لیے استعمال کیا جاسکے گاان اخراجات میں ویزا پروسیسنگ فیس، میڈیکل ٹیسٹ، ہوائی ٹکٹ، پروٹیکٹر رجسٹریشن، اسکلز ویریفیکیشن اور لائسنس یافتہ اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز کی فیس شامل ہےاہل امیدوار ’پرواز کارڈ‘ کے باضابطہ آن لائن پورٹل کے ذریعے درخواست دے سکتے ہیں۔

    درخواست کے دوران ضروری دستاویزات اور بیرونِ ملک ملازمت سے متعلق ثبوت آن لائن اپ لوڈ کرکے درخواست جمع کرائی جاسکتی ہےدرخواست جمع ہونے کے بعد امیدوار پورٹل کے ذریعے اپنی درخواست کی پیش رفت بھی معلوم کرسکیں گے درخواست گزاروں کی جانب سے جمع کرائی جانے والی تمام دستاویزات کی باقاعدہ تصدیق کی جائے گی، جبکہ غلط یا نامکمل معلومات فراہم کرنے کی صورت میں درخواست منسوخ کردی جائے گی۔

    حکومت پنجاب کے مطابق ’پرواز کارڈ‘ اسکیم کا مقصد شہریوں کو بیرونِ ملک روزگار کے لیے غیر قانونی ذرائع اختیار کرنے سے روکنا اور انہیں قانونی و محفوظ طریقے سے روزگار کے مواقع تک رسائی فراہم کرنا ہے، جس سے روزگار حاصل کرنے والے افراد کو معاشی طور پر مستحکم ہونے میں بھی مدد ملے گی۔

  • پولیس تفتیش کے بجائے میر رضا کے اہلِ خانہ کو ہراساں کر رہی ہے، وکیل

    پولیس تفتیش کے بجائے میر رضا کے اہلِ خانہ کو ہراساں کر رہی ہے، وکیل

    کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا علی کے والد میر حسین علی کے وکیل جبران ناصر نے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس کیس کی تفتیش کرنے کے بجائے خاندان کو ہراساں کر رہی ہے اور اہل خانہ پر واقعے کو خودکشی تسلیم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔

    کراچی میں میر رضا علی کے اہلِ خانہ اور ان کے وکیل جبران ناصر نے دوسرے پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ سامنے آنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ طبی شواہد نے ان کے اس مؤقف کی تائید کی ہے کہ میر رضا نے خودکشی نہیں کی بل کہ انہیں قتل کیا گیا دوسرے پوسٹ مارٹم کے لیے 17 سیمپلز بھیجے گئے ہیں، طبی شواہد سے یہ بات سامنے آگئی ہے کہ میر رضا کو گولی لگی اور اس کے اثرات پانچویں پسلی پر بھی آئے۔

    جبران ناصر نے الزام عائد کیا کہ پولیس میر رضا کی موت کی تفتیش کرنے کے بجائے ان کے اہلِ خانہ کو ہراساں کر رہی ہے ان کا کہنا تھا کہ انہیں موجودہ تفتیش پر اعتماد نہیں اور وہ پوری تفتیشی ٹیم تبدیل کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں،انہوں نے پہلے پوسٹ مارٹم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس عمل میں شامل ڈاکٹر کے خلاف انکوائری کے لیے درخواست دی گئی تھی، جب کہ متعلقہ ڈاکٹر کو معطل بھی کیا جا چکا ہے۔

    جبران ناصر نے میر رضا کے معاملے میں سامنے آنے والی ویڈیوز کا حوالہ دیتے ہوئے بھی پولیس کی تفتیش پر سخت اعتراض کیا اور کہا کہ اہلِ خانہ کے مؤقف کو نظر انداز کرنے کے بجائے واقعے کی مکمل تحقیقات کی جانی چاہئیں۔

    واضح رہے کہ میر رضا علی کراچی کے علاقے فیروز آباد سے لاپتہ ہوئے تھے، جس کے بعد 29 جولائی کو ان کی لاش گلستانِ جوہر سے ملی تھی،لاش ملنے کے بعد ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں موت کی وجہ گولی لگنا بتائی گئی تھی، تاہم میر رضا کے جسم پر تشدد اور جلنے کے نشانات کے باعث اہلِ خانہ نے ابتدائی میڈیکل رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا۔

  • آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی’اسلام آباد میمورنڈم‘ کی خلاف ورزیوں کے ازالے سے مشروط ہے، عباس عراقچی

    آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی’اسلام آباد میمورنڈم‘ کی خلاف ورزیوں کے ازالے سے مشروط ہے، عباس عراقچی

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ عمان کے ساتھ جاری مذاکرات کا مقصد آبنائے ہرمز کی دوبارہ بحالی نہیں ہےآبنائے ہرمز کی مکمل بحالی امریکا کی جانب سے ’اسلام آباد میمورنڈم‘ کی خلاف ورزیوں کے ازالے سے مشروط ہے۔

    ایرانی خبر ایجنسی مہر نیوز کے مطابق عباس عراقچی نے کہا ہے کہ عمان کے ساتھ جاری مذاکرات میں پیش رفت کو آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی سے تعبیر نہیں کیا جانا چاہیےعمان مذاکرات کا مقصد فی الحال عارضی بحری راستے قائم کرنا ہے تاکہ آبنائے ہرمز سے محدود آمدورفت ممکن بنائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ تکنیکی پیچیدگیوں کے باوجود ان عارضی راستوں کے تعین کا عمل جاری ہے، جو اب آخری مراحل میں ہے۔

    ان کے مطابق ایرانی مسلح افواج کی جانب سے فراہم کیے گئے نقشوں کی بنیاد پر ان عارضی راستوں کا تعین کیا جا رہا ہے اور اس حوالے سے جلد نتائج سامنے آنے کی توقع ہے تاہم ان اقدامات کو آبنائے ہرمز کی عمومی یا مکمل بحالی نہیں کہا جا سکتا ہے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنے کے لیے دیگر شرائط بھی پوری ہونا ضروری ہیں، جن میں خاص طور پر امریکا کی جانب سے معاہدے کی مبینہ خلاف ورزیوں کا ازالہ شامل ہے۔

    انہوں نے اسلام آباد میمورنڈم کا حوالہ دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ امریکی افواج بارہا انتباہ کے باوجود متبادل بحری راستے زبردستی کھولنے کی کوشش کر رہی ہیں،ایران نہ تو معاہدے کی خلاف ورزی برداشت کرے گا اور نہ ہی کسی فریق کو آبنائے ہرمز پر اس کے اختیار اور کنٹرول کو چیلنج کرنے کی اجازت دے گا۔

    اس سے قبل ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان جنرل حسین محبی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا معاملہ ایران اور عمان کے درمیان جاری مذاکرات سے الگ ہے اور اس کے لیے ایران کے پاس اپنا قانونی اور دفاعی طریقہ کار موجود ہے انہوں نے واضح کیا کہ اس اہم ترین بحری گزرگاہ کو کھولنے کا فیصلہ ایران اور عمان کے درمیان جاری مذاکراتی عمل سے الگ ہے۔

    پاسداران انقلاب کے ترجمان نے آبنائے ہرمز کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کو محض ایک بحری گزرگاہ یا آبی راستہ نہیں بلکہ ایران کے اہم جغرافیائی اثاثے اور طاقت کے طور پر دیکھتا ہے، جسے ایران کی دفاعی اور خودمختاری سے متعلق پالیسیوں کے مطابق استعمال کیا جاتا ہے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مکمل طور پر ان شرائط سے مشروط ہے جو ایران نے باضابطہ طور پر طے کرکے امریکا تک پہنچائی ہیں۔

  • غزہ امن منصوبہ: حماس کا دوسرے مرحلے پر عملدرآمد کے لیے آمادگی کا اعلان

    غزہ امن منصوبہ: حماس کا دوسرے مرحلے پر عملدرآمد کے لیے آمادگی کا اعلان

    فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس نے کہا ہے کہ وہ امریکا کے حمایت یافتہ غزہ امن منصوبے پر عملدرآمد کے لیے تیار ہے اور اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے، تاہم اسرائیل کا اصرار ہے کہ وہ معاہدے کے تازہ ترین حصے پر رضامند نہیں ہوا۔

    حماس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ کو آگاہ کیا ہے کہ وہ منصوبے کے تازہ ترین مرحلے پر قائم ہے، جس کے تحت حماس جنگ سے تباہ حال غزہ میں قائم ہونے والی فلسطینی انتظامی کمیٹی کے حوالے اپنے ہتھیار کرے گی۔

    حماس کے ایک عہدیدار نے’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ حماس اور دیگر فلسطینی دھڑوں نے ثالثوں کو اپنی اس آمادگی سے آگاہ کردیا ہے کہ وہ معاہدے پر عملدرآمد شروع کرنے اور دوسرے مرحلے کی جانب بڑھنے کے لیے تیار ہیں، تاہم اس کے لیے اسرائیل کی منظوری اور اسرائیل کی جانب سے معاہدے پر عملدرآمد شروع کرنا ضروری ہے۔

    نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر حماس کے عہدیدار نے کہاکہ حماس امریکی انتظامیہ پر زور دے رہی ہے کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالے تاکہ اسے معاہدے کی پاسداری اور دوسرے مرحلے کی جانب پیشرفت پر مجبور کیا جاسکے۔

    اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو، جو غزہ معاہدے کے حوالے سے اپنی دائیں بازو کی حمایت رکھنے والے حلقوں کی شدید مخالفت کا سامنا کر رہے ہیں، نے منگل کو کہا تھا کہ اسرائیل نے ’بورڈ آف پیس‘ کی جانب سے پیش کیے گئے مسودے پر رضامندی ظاہر نہیں کی،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے اس پیشرفت کو اہم کامیابی قرار دیا تھا کہ حماس نے منصوبے کے تحت غیر مسلح ہونے پر رضامندی ظاہر کردی ہے’بورڈ آف پیس‘ کا کہنا تھا کہ اس کے بدلے میں اسرائیل غزہ کے بیشتر علاقوں سے مرحلہ وار انخلا کرے گا۔

    نیتن یاہو نے پیر کو ’بورڈ آف پیس‘ کے غزہ کے لیے اعلیٰ نمائندے نکولے ملادینوف سے ملاقات کی، جنہوں نے بعد میں اپنے مؤقف میں تبدیلی کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے کے بعد ہی غزہ سے انخلا کرے گا،اسرائیلی فوج نے بھی فلسطینی گروپ کے خلاف حملے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے، تاہم غزہ میں اسرائیلی حملے جاری رہنے کے باوجود حالیہ دنوں میں ان کی شدت میں کمی دکھائی دے رہی ہے۔

    ہفتے کے روز خان یونس کے ناصر اسپتال نے اطلاع دی کہ اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 3 افراد زخمی ہوئےفلسطینی وزارت صحت کے مطابق گزشتہ سال اکتوبر سے اب تک اسرائیل نے 1257 فلسطینیوں کو شہید کیا ہے، جب دونوں فریقوں نے ٹرمپ کی حمایت یافتہ جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا۔

    دوسری جانب اسرائیلی فوج نے اسی عرصے کے دوران اپنے 5 اہلکاروں کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔

  • آبنائے ہرمز تب کھولی جائے گی جب امریکا ایران کی تمام شرائط تسلیم کرلے،پاسدارانِ انقلاب

    آبنائے ہرمز تب کھولی جائے گی جب امریکا ایران کی تمام شرائط تسلیم کرلے،پاسدارانِ انقلاب

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز اسی صورت مکمل طور پر کھولی جائے گی جب امریکا ایران کی تمام شرائط تسلیم کرلے۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے کہاہےکہ،آبنائے ہرمز کا کھلنا عمان کے ساتھ جاری مذاکرات سے براہِ راست منسلک نہیں اور کسی بیرونی فریق کو ان مذاکرات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے،ایران کے لیے آبنائے ہرمز صرف ایک تجارتی گزرگاہ نہیں بلکہ ملک کی جغرافیائی اور تزویراتی طاقت کا اہم ذریعہ ہے،انھوں نے زور دیا کہ اگر دشمن ممالک آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانا چاہتی ہے تو ایران کی تمام شرائط تسلیم کرنا ہوں گی۔

    یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے لیے ایک عارضی انتظام پر اتفاق کے امکانات بڑھ گئے ہیں،ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی کہا ہے کہ دونوں ممالک ایک نئے بحری انتظام کے قریب پہنچ چکے ہیں تاہم اس کے مکمل نفاذ کے لیے مزید معاملات طے ہونا باقی ہیں۔

    قبل ازیں امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ ایران، امریکا اور عمان کئی ہفتوں سے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے ایک عبوری سمجھوتے پر کام کر رہے ہیں یہ مجوزہ انتظام تقریباً 60 روز کے لیے ہو سکتا ہے جس میں بعد ازاں توسیع کی گنجائش بھی رکھی جا سکتی ہے نامہ نگار باراک راویڈ نے ایک ثالث ملک کے سفارت کار کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایرانی مذاکرات کار معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے تہران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کی منظوری کے منتظر ہیں۔

  • مختلف علاقوں میں سیلاب کا خدشہ، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

    مختلف علاقوں میں سیلاب کا خدشہ، این ڈی ایم اے کا الرٹ جاری

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (این ای او سی) نے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ اور ڈیموں میں پانی کے ذخیرے کی موجودہ صورتحال کا تفصیلی جائزہ جاری کردیا ہے۔

    این ای او سی کے مطابق دریائے سندھ میں کالاباغ، چشمہ، تونسہ اور گڈو کے مقامات پر نچلے درجے کا سیلاب موجود ہے، جبکہ دریائے راوی، چناب، جہلم، کابل اور ستلج میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ریکارڈ کیا گیا ہےڈی جی خان اور راجن پور کے پہاڑی نالوں جبکہ نالہ لئی میں بھی پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے۔

    این ای او سی کے مطابق 8 سے 9 اگست کے دوران ملک کے بڑے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کا امکان ہے دریائے سندھ میں کالاباغ، چشمہ، تونسہ، گڈو اور سکھر، دریائے چناب میں مرالہ جبکہ دریائے راوی میں بلوکی کے مقام پر نچلے درجے کے بہاؤ کا امکان ظاہر کیا گیا ہےدریائے جہلم اور منگلا ڈیم سے بالائی علاقوں اور ملحقہ دریاؤں میں بھی نچلے درجے کے بہاؤ کا امکان ہے، جبکہ دریائے کابل میں ادیزئی کے مقام پر بھی نچلے درجے کا بہاؤ متوقع ہے۔

    این ای او سی کے مطابق خیبر پختونخوا میں چترال، اپر دیر، ایبٹ آباد، شانگلہ، خیبر، اورکزئی، کوہاٹ، ٹانک، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان کے ندی نالوں اور برساتی نالوں میں کم سے درمیانے درجے کے سیلاب کا خطرہ ہے،آزاد کشمیر میں باغ اور کوٹلی کے علاقوں میں اچانک کم سے درمیانے درجے کے سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

    بلوچستان میں ژوب، موسیٰ خیل، کوہلو، بارکھان اور ڈیرہ بگٹی میں کم سے درمیانے درجے کی سیلابی صورتحال کا خطرہ ہےپنجاب میں ڈی جی خان اور راجن پور کے پہاڑی برساتی نالوں میں بھی کم سے درمیانے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہےراولپنڈی، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، نارووال، فیصل آباد، اوکاڑہ اور لاہور کے شہری علاقوں میں بھی کم سے درمیانے درجے کے سیلاب کا خطرہ ظاہر کیا گیا ہے۔

    این ڈی ایم اے نے ڈیموں میں پانی کے موجودہ ذخیرے کی صورتحال بھی جاری کردی ہےتربیلا ڈیم میں پانی کی سطح 1,548 فٹ ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ پانی کا ذخیرہ 97.94 فیصد ہے۔ گزشتہ سال اسی عرصے میں تربیلا ڈیم میں پانی کا ذخیرہ 95.98 فیصد تھامنگلا ڈیم میں پانی کی سطح 1,205.2 فٹ ریکارڈ ہوئی ہے جبکہ ذخیرے کی شرح 62.99 فیصد ہے۔ گزشتہ سال منگلا ڈیم میں پانی کا ذخیرہ 62.80 فیصد ریکارڈ کیا گیا تھا۔

    این ڈی ایم اے نے مقامی انتظامیہ کو حساس علاقوں میں ضروری وسائل پیشگی منتقل کرنے اور محفوظ انخلا کے انتظامات مکمل رکھنے کی ہدایت کی ہے،عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ سیلابی نالوں، زیر آب سڑکوں، پلوں اور تیز آبی بہاؤ کو عبور کرنے سے گریز کریں اور جاری کردہ ٹریفک ہدایات پر عمل کریں،سیلابی خطرے سے دوچار علاقوں کے رہائشیوں، سیاحوں اور مسافروں کو ندی نالوں اور دریاؤں کے کناروں سے دور رہنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق مون سون کے دوران پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ، ملبے کے ریلوں اور اچانک آنے والے سیلاب کا خطرہ بڑھ جاتا ہےعوام سفر سے قبل موسم کی تازہ ترین پیش گوئی اور سڑکوں کی صورتحال ضرور معلوم کریں۔ اگر شدید بارش یا کسی بھی ممکنہ خطرے کی وارننگ جاری ہو تو غیر ضروری سفر سے گریز کیا جائے۔

    این ڈی ایم اے نے واضح کیا ہے کہ سیلابی پانی یا تیز بہاؤ کو پیدل یا گاڑی کے ذریعے ہرگز عبور نہ کیا جائے تیز بہاؤ والا پانی خواہ کم گہرا ہی کیوں نہ دکھائی دے، انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے اور انسانوں یا گاڑیوں کو بہا لے جا سکتا ہےمون سون کے دوران برساتی ندی نالوں کے بہاؤ میں اچانک شدید اضافہ بھی ہوسکتا ہے، لہٰذا ایسے علاقوں میں سیاحتی سرگرمیوں کے دوران محتاط رہنے اور تیز بہاؤ والے پانی کے ریلوں سے دور رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    این ڈی ایم اے نے عوام پر زور دیا ہے کہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں، متعلقہ اداروں کی ہدایات پر عمل کریں اور انتظامیہ کی جانب سے بند کی گئی سڑکوں پر سفر سے مکمل گریز کریں،این ڈی ایم اے متعلقہ اداروں کو ممکنہ خطرات کے حوالے سے مسلسل اور بروقت معلومات اور الرٹس کی فراہمی یقینی بنا رہا ہے۔

  • میٹرو بس سروس 11 اگست سے بند کرنے کا اعلان

    میٹرو بس سروس 11 اگست سے بند کرنے کا اعلان

    فیول فنڈز کی عدم فراہمی پر لاہور میں میٹرو بس سروس چلانے والی نجی کمپنی نے 11 اگست سے تمام آپریشنز معطل کرنے کا اعلان کردیا۔

    میٹرو بس سروس چلانے والی کمپنی نے پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی (پی ایم اے) کو حتمی نوٹس بھجوا دیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ مالی وسائل ختم ہوچکے ہیں اور مزید میٹرو بس آپریشن جاری رکھنا ممکن نہیں 29 جولائی کے عدالتی حکم پر تاحال عملدرآمد نہیں کیا گیا، جس کے باعث آپریشن معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے 6 اگست کو ہونے والے اجلاس میں مسئلے کے حل پر اتفاق کیا گیا تھا، تاہم تاحال پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کی جانب سے کوئی مؤثر انتظام نہیں کیا گیا۔

    کمپنی نے اپنے نوٹس میں واضح کیا ہے کہ،ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے بعد اتھارٹی کی جانب سے فیول کی مد میں واجب الادا رقم ادا نہیں کی جارہی، جس کے باعث کمپنی کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے اگر فیول کی فراہمی اور واجبات کا مسئلہ حل نہ کیا گیا تو 11 اگست سے لاہور میٹرو بس کے تمام آپریشنز معطل کردیے جائیں گے۔

    کمپنی ذرائع کا کہنا ہے کہ فیول کے معاملے پر عدالت بھی نجی کمپنی کے حق میں فیصلہ دے چکی ہے جبکہ پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کو اس سے قبل بھی متعدد نوٹس بھجوائے جاچکے ہیں۔

    دوسری جانب محکمہ ٹرانسپورٹ کے ترجمان نے میٹرو بس سروس بند ہونے کی اطلاعات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ میٹرو بس سروس بند ہونے کا کوئی معاملہ نہیں ہے،نجی کمپنی کے ساتھ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے اور عدالت میں کیس کے ساتھ ساتھ فریقین کے درمیان متوازی ثالثی کا عمل بھی جاری ہے،معاملے کے حل کے لیے قانونی اور ثالثی کے دونوں راستے اختیار کیے جارہے ہیں۔