Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • پاکستان کے پہلے ڈیجیٹل ریٹیل بینک کے قیام میں اہم پیشرفت

    پاکستان کے پہلے ڈیجیٹل ریٹیل بینک کے قیام میں اہم پیشرفت

    پاکستان کے پہلے ڈیجیٹل ریٹیل بینک کے قیام میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے،جہاں ایس ای سی پی نے ہیوگو بینک کے پیڈ اپ کیپٹل میں 1.5 ارب روپے اضافے کی منظوری دے دی ہے۔

    سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے مطابق ہیوگو بینک کے پیڈ اپ کیپیٹل میں 1.5 ارب روپے اضافے کی منظوری دی گئی ہے، پاکستان اور سنگاپور کے سرمایہ کاروں کا کنسورشیم پہلا ڈیجیٹل بینک قائم کر رہا ہےیوگو بینک کے اسپانسرز 60 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گے، ہیوگو بینک موبائل اور آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے برانچ لیس بینکاری سروسز فراہم کرے گا۔

    ایس ای سی پی کا کہنا تھا کہ نئی سرمایہ کاری سے ہیوگو بینک کے کمرشل آپریشنز کے آغاز کی راہ ہموار ہوگی بینک کو اس سے قبل اسٹیٹ بینک سے ڈیجیٹل ریٹیل بینک کے قیام کی اصولی منظوری بھی حاصل ہو چکی ہے ہیوگو بینک کی آمد سے پاکستان کے ڈیجیٹل مالیاتی شعبے میں مقابلہ بڑھے گا اور صارفین کو جدید بینکاری سہولیات میسر آئیں گی۔

    ہیوگو بینک آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے برانچ لیس بینکاری خدمات فراہم کرے گا، جس سے صارفین کو کم لاگت، تیز رفتار اور آسان مالیاتی خدمات تک رسائی حاصل ہوگی، جبکہ ملک میں ڈیجیٹل بینکنگ کے فروغ کو بھی تقویت ملے گی۔

  • ربیع الاول  کے چاند کی رویت کے حوالے سے اہم پیشگوئی

    ربیع الاول کے چاند کی رویت کے حوالے سے اہم پیشگوئی

    محکمہ موسمیات نے ربیع الاول 1448 ہجری کے چاند کی رویت کے حوالے سے اہم پیشگوئی کر دی۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق یکم ربیع الاول 15 اگست بروز ہفتہ ہونے کا امکان ہے، ربیع الاول کے آغاز اور چاند کی رویت کا حتمی اعلان مرکزی رویت ہلال کمیٹی کرے گی13 اگست کی شام ربیع الاول کا چاند نظر آنے کا امکان نہیں، یکم ربیع الاول 15 اگست بروز ہفتہ اور 12 ربیع الاول 26 اگست بروز بدھ کو ہونے کا امکان ہے۔

    محکمہ موسمیات نے بتایا کہ ملک کے بیشترعلاقوں میں 13 اگست کی شام موسم جزوی ابر آلود رہنے کی توقع ہے کراچی میں چاند غروب ہونے کا وقت شام سات بجکر چالیس منٹ مقرر ہے، فلکیاتی پیرا میٹرز کے باعث 13 اگست کو رویت ممکن نہیں۔

    دوسری جانب ہلال ریسرچ کونسل کے سیکرٹری جنرل خالد اعجاز مفتی نے بتایا کہ نیا چاند 12 اور 13 اگست کی درمیانی شب پاکستانی وقت کے مطابق رات 10 بجکر 36 منٹ پر ہو گا اور 13 اگست یعنی 29 صفر کو ربیع الاول کا چاند نظر آنے کے امکانات نہایت کم ہیں۔

    ہلال ریسرچ کونسل نے واضح کیا کہ یہ تمام تاریخیں فلکیاتی اندازوں پر مبنی ہیں، جبکہ ربیع الاول کے چاند اور عید میلاد النبیؐ کی حتمی تاریخ کا اعلان مرکزی رویت ہلال کمیٹی کی شہادتوں اور سرکاری فیصلے کے بعد کیا جائے گا۔

  • اسلام آباد میں مزید 2 نئے انڈر پاس بنانے کا فیصلہ

    اسلام آباد میں مزید 2 نئے انڈر پاس بنانے کا فیصلہ

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مزید 2 نئے انڈر پاس بنیں گے-

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں اسلام آباد میں جاری اور نئے ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا گیا،سی ڈی اے کے ریونیو میں اضافے کے لیے تجاویز پربھی غور کیاگیا،اسلام آباد کے میگا پراجیکٹس اور آئندہ منصوبہ بندی پر بریفنگ دی گئی ۔

    اس موقع پر وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے کہا کہ اسلام آباد میں 2 نئے انڈر پاس بنیں گے ،کشمیرچوک اور فیصل مسجد انڈر پاس پر کام ستمبرمیں شروع کیا جائے گا،کیپٹل ایمرجنسی سروسز کو فعال ادارہ بنانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر کام کیا جائے ،مالی خود انحصاری کے لیے دیرپا ریونیو ماڈل پر کام کیا جائے۔

    وزیر داخلہ نے ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ ادارے کی مالی مضبوطی بھی یکساں اہمیت کی حامل ہے،ریونیو بڑھانے کے قابلِ عمل منصوبوں پر جلد پیش رفت یقینی بنائی جائے،ایکسپریس وے سروس روڈ پراجیکٹ پر کام مقررہ ٹائم لائن کے مطابق مکمل کیا جائے۔

  • پاکستان کشمیری عوام کی منصفانہ جدوجہد کی غیرمتزلزل حمایت جاری رکھے گا ،وزیراعظم

    پاکستان کشمیری عوام کی منصفانہ جدوجہد کی غیرمتزلزل حمایت جاری رکھے گا ،وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر کہا ہے کہ ترقی کے کھوکھلے دعوے کشمیری عوام کے اس ناقابلِ تنسیخ حق کا متبادل نہیں ہو سکتے کہ وہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق آزادانہ اور غیرجانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ 5 اگست 2019 کو بھارت کے یکطرفہ اور غیرقانونی اقدامات کو 7 سال مکمل ہونے کے باوجود جموں و کشمیر کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت تبدیل نہیں کی جا سکتی اور نہ ہی کشمیری عوام کے بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت تسلیم شدہ حقوق سلب کیے جا سکتے ہیں۔

    شہباز شریف نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھاری فوجی موجودگی اور سخت قوانین کے ذریعے آبادی کا تناسب تبدیل کرنے اور کشمیری عوام کی شناخت مٹانے کی کوششیں جاری ہیں، جبکہ ان کی آواز دبانے کے لیے منظم اقدامات کیے جا رہے ہیں،ترقی کے کھوکھلے دعوے کشمیری عوام کے اس ناقابلِ تنسیخ حق کا متبادل نہیں ہو سکتے کہ وہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق آزادانہ اور غیرجانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں۔

    وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی منصفانہ جدوجہد کی غیرمتزلزل حمایت جاری رکھے گا اور بھارت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنے غیرقانونی اقدامات واپس لے، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرے اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل کے لیے سازگار ماحول پیدا کرے۔

  • افغان طالبان کا خواتین کے لباس پر متعلق ضوابط پر عمل درآمد مزید سخت، ایک ہفتے میں 10 سے زائد خواتین گرفتار

    افغان طالبان کا خواتین کے لباس پر متعلق ضوابط پر عمل درآمد مزید سخت، ایک ہفتے میں 10 سے زائد خواتین گرفتار

    افغانستان کے صوبہ ہلمند میں طالبان کی اخلاقی پولیس نے خواتین کے لباس سے متعلق ضوابط پر عمل درآمد مزید سخت کر دیا ہے، جہاں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران مبینہ طور پر 10 سے زائد خواتین کو مقررہ حجاب اور لباس کے قواعد کی خلاف ورزی کے الزام میں حراست میں لے لیا گیا۔

    مقامی رہائشیوں نے بتایا کہ زیادہ تر گرفتاریاں ہلمند کے دارالحکومت لشکر گاہ کے علاقے کارتے لگان میں قائم خواتین کی مارکیٹ کے اطراف کی گئیں،ان کارروائیوں کے باعث خواتین میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے جبکہ مارکیٹ کی کاروباری سرگرمیاں بھی شدید متاثر ہوئی ہیں۔

    ہلمند کے رہائشی نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران 10 سے زائد خواتین کو طالبان کے مقرر کردہ حجاب اور لباس کے ضوابط پر عمل نہ کرنے یا وزارتِ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے اہلکاروں کی ہدایات نہ ماننے کے الزام میں حراست میں لیا گیا،گرفتاری کے خدشے کے باعث اب بہت سی خواتین مارکیٹ جانے سے گریز کر رہی ہیں،گزشتہ دو روز کے دوران بھی متعدد خواتین کو اسی مارکیٹ سے مبینہ طور پر مناسب حجاب نہ پہننے اور کسی محرم مرد کے بغیر سفر کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔

    عینی شاہدین نے بتایا کہ خواتین کی مارکیٹ کے قریب ایک خاتون اور طالبان کی اخلاقی پولیس کے اہلکار کے درمیان جھڑپ بھی پیش آئی،خاتون گاڑی سے اتر کر مارکیٹ میں داخل ہونا چاہتی تھیں لیکن اہلکار نے انہیں روک لیااہلکار نے خاتون کا ہاتھ پکڑا جس پر انہوں نے اپنے جوتے سے اہلکار کو مارا، جس کے بعد دونوں کے درمیان ہاتھا پائی شروع ہوگئی۔ بعد ازاں متعدد شہریوں نے مداخلت کر کے معاملہ ختم کرایا۔

    عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد طالبان کی اخلاقی پولیس نے مارکیٹ میں خواتین کی نگرانی، تلاشی اور پوچھ گچھ میں مزید اضافہ کر دیا اور پابندیاں مزید سخت کر دیں،اب بہت سی خواتین گرفتاری سے بچنے کے لیے خود بازار جانے کے بجائے خریداری کی ذمہ داری اپنے مرد رشتہ داروں کو سونپ رہی ہیں۔

    دوسری جانب خواتین کی مارکیٹ کے تاجروں نے بتایا کہ طالبان کی سخت پابندیوں کے باعث گاہکوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے اور کاروبار تقریباً ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے،فروخت میں شدید کمی کے باعث متعدد دکاندار کرایہ ادا کرنے سے بھی قاصر ہیں،اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو انہیں اپنی دکانیں بند کرنا پڑیں گی۔

    طالبان حکام نے ہلمند میں خواتین کی مبینہ گرفتاریوں سے متعلق ان اطلاعات پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا ہے۔

  • سندھ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ایکٹ میں مجوزہ ترامیم کی منظوری مل گئی

    سندھ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ایکٹ میں مجوزہ ترامیم کی منظوری مل گئی

    سندھ کابینہ نے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کی قیادت میں مؤثر، شفاف اور جدید پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) فریم ورک کے قیام کی جانب اہم پیش رفت کرتے ہوئے پی پی پی یونٹ کی تنظیمِ نو کی منظوری دے دی۔

    کابینہ نے پی پی پی یونٹ کو مکمل سرکاری ملکیت کی پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی میں تبدیل کرنے کی بھی منظوری دی، جس کا مقصد ادارہ جاتی صلاحیت، منصوبوں پر عملدرآمد اور مالیاتی پائیداری کو مضبوط بنانا ہےوزیراعلیٰ سندھ کے مطابق نئی کمپنی کمپنیز ایکٹ 2017ء کے تحت قائم کی جائے گی اور موجودہ پی پی پی یونٹ کی جانشین ہوگی نئی کمپنی پی پی پی پالیسی سازی، گورننس، منصوبوں کی سہولت کاری اور پورٹ فولیو مینجمنٹ کی ذمہ دار ہوگی، جبکہ تنظیمِ نو کے ذریعے پی پی پی منصوبوں کی نگرانی کو مزید مؤثر اور جدید بنایا جائے گا۔

    سندھ کابینہ نے نئی پی پی پی کمپنی کے لیے 8 ارب روپے مجاز سرمایہ، 2 ارب روپے ادا شدہ سرمایہ اور کمپنی کے قیام کے لیے 50 کروڑ روپے بطور ابتدائی سرمایہ فراہم کرنے کی منظوری بھی دے دی کابینہ نے کمپنی کے قیام سے متعلق تمام قانونی اور انتظامی مراحل مکمل کرنے کا اختیار محکمہ خزانہ کو سونپ دیا، جبکہ موجودہ ڈائریکٹر جنرل پی پی پی یونٹ نئی کمپنی کے پہلے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) ہوں گے۔

    کابینہ نے سندھ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ایکٹ میں مجوزہ ترامیم کی بھی منظوری دے دی وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ ان ترامیم سے پی پی پی نظامِ حکمرانی کو مزید مضبوط قانونی بنیاد ملے گی، صوبے بھر میں پی پی پی منصوبوں کی نگرانی اور شفافیت مزید مؤثر ہوگی، نجی سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا اور ترقیاتی منصوبوں کی رفتار تیز ہوگی،سندھ حکومت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے نظام کو مزید مؤثر، پائیدار اور سرمایہ کار دوست بنا رہی ہے، جبکہ ان اصلاحات سے انفراسٹرکچر اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل میں بھی مدد ملے گی۔

  • سندھ حکومت کی یلو لائن بی آر ٹی منصوبے کی بروقت تکمیل  کی ہدایات

    سندھ حکومت کی یلو لائن بی آر ٹی منصوبے کی بروقت تکمیل کی ہدایات

    سندھ حکومت نے یلو لائن بی آر ٹی منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیے کام کی رفتار بڑھانے کی ہدایات جاری کردیں۔

    سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کی زیر صدارت محکمہ ٹرانسپورٹ کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن، یلو لائن بی آر ٹی کے پراجیکٹ ڈائریکٹر کمال دایو اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی،اجلاس میں یلو لائن بی آر ٹی منصوبے کےتعمیراتی کام کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور منصوبے پر پیش رفت مزید تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

    اجلاس میں یلو لائن منصوبے کے حکام نے شرجیل انعام میمن کو مختلف حصوں پر جاری تعمیراتی کام سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی، جس میں بتایا گیا کہ تعمیراتی سرگرمیاں منصوبہ بندی کے مطابق جاری ہیں اور توقع ہے کہ آئندہ سال کی پہلی سہ ماہی میں منصوبے کے ڈپوز مکمل ہو جائیں گے۔

    شرجیل میمن نے سندھ حکومت کی جانب سے منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیے تمام یوٹیلٹی رکاوٹیں پیشگی بنیادوں پر دور کرنے کے احکامات جاری کیے انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ تاخیر سے بچنے کے لیے یوٹیلٹی شفٹنگ، ری لوکیشن اور اس سے متعلق تمام اقدامات فوری اور ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیے جائیں، منصوبے کی رفتار ہر صورت برقرار رکھی جائے اور تمام رکاوٹیں فوری طور پر دور کی جائیں تاکہ تکمیل میں کسی قسم کی تاخیر نہ ہو۔

    انہوں نے تمام متعلقہ اداروں کو باہمی تعاون اور مؤثر رابطہ کاری کے ذریعے درپیش مسائل فوری حل کرنے کی بھی ہدایت دی، شرجیل انعام میمن نے عوام کو دشواریوں سے بچانے کے لیے تاج حیدر پل کے دوسرے حصے کا کام بھی جلد مکمل کرنے کے احکامات جاری کیے یلو لائن بی آر ٹی کراچی کے عوام کے لیے ایک اہم عوامی منصوبہ ہے اور اس کی بروقت تکمیل سندھ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

  • امریکا کی 7 ریاستوں میں پانی کے نظام پر سائبر حملوں کا  انکشاف

    امریکا کی 7 ریاستوں میں پانی کے نظام پر سائبر حملوں کا انکشاف

    امریکا کی 7 ریاستوں میں پانی کے نظام پر سائبر حملوں کا انکشاف ہواہے-

    امریکا کی ریاست منیسوٹا میں 30 سے زائد واٹر سسٹمز پر ایک باہم مربوط سائبر حملے کے بعد ایف بی آئی نے انکشاف کیا ہے کہ ملک کی سات مختلف ریاستوں میں پانی کے نظام پر سائبر حملے رپورٹ ہوئے ہیں،جبکہ،امریکی سائبر سیکیورٹی اینڈ انفراسٹرکچر سیکیورٹی ایجنسی (سی آئی ایس اے) نے ان حملوں میں ایران کے ملوث ہونے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے، تاہم سائبر ماہرین کا ماننا ہے کہ ان اقدامات کے تار تہران سے جڑے ہو سکتے ہیں۔

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منیسوٹا کے گورنر ٹم والز اور مقامی حکام کو ناکارہ قرار دیا، جبکہ گورنر والز نے پلٹ کر جواب دیتے ہوئے کہا کہ ”ٹرمپ کو اچھی طرح معلوم ہے کہ اس حملے کا ذمہ دار کون ہے اور وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ دیگر ریاستیں بھی اس سے متاثر ہوئی ہیں“۔

    اگرچہ ایران نے ان مخصوص واقعات پر اب تک کوئی تبصرہ نہیں کیا، تاہم وہ ماضی میں ایسے تمام سائبر حملوں کے الزامات کی مسلسل تردید کرتا رہا ہے،ماضی میں اسی نوعیت کے ایک الزام پر ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان حسین جابری انصاری نے کہا تھا کہ ایران کے ایجنڈے میں سائبر دنیا میں کبھی بھی کوئی خطرناک اقدام شامل نہیں رہا اور نہ ہی وہ ایسی کسی بھی پیش رفت کی حمایت کرتا ہے۔

    امریکی تحقیقاتی ادارے اس پہلو کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ کیا حملہ آوروں نے صرف ایران کا روپ دھار کر امریکا کے اندر مزید سنسنی اور تنازع پیدا کرنے کی کوشش کی ہے؟اس حوالے سے سائبر سیکیورٹی کے سابق نائب ڈائریکٹر جیک براؤن نے ’بی بی سی‘ سے گفتگو میں کہا کہ یہ حملہ آور دراصل حکومت کی بنیادی خدمات فراہم کرنے کی صلاحیت پر عوام کے اعتماد کو نشانہ بنا رہے ہیں، اور وہ بھی ایسے وقت میں جب جنگ کے باعث ملک پہلے ہی شدید تقسیم کا شکار ہے، امریکا میں واٹر سسٹمز پر حملہ کرنا آسان اس لیے ہے کیونکہ یہاں کی ٹیکنالوجی اور بنیادی ڈھانچہ پرانا ہو چکا ہے۔

    امریکا کے سابق محکمہ خارجہ کے انسدادِ دہشت گردی کے مشیر مورگن رائٹ نے صورتِ حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کسی قوم کو گھٹنوں کے بل لانا چاہتے ہیں تو آپ دو چیزوں کو نشانہ بناتے ہیں، ایک بجلی اور دوسرا پانی، اگر امریکی حکومت نے ان پانی کے سسٹمز کے تحفظ کو فوری طور پر اپ گریڈ نہ کیا اور انہیں انٹرنیٹ سے الگ نہ کیا تو مستقبل میں کیمیکلز کی مقدار میں نقصان دہ تبدیلی یا پانی کی فراہمی میں طویل تعطل جیسے سنگین خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔

  • تحریکِ آزادیٔ جموں و کشمیر، تحریکِ تکمیلِ پاکستان ہے،رانا ثنا اللہ

    تحریکِ آزادیٔ جموں و کشمیر، تحریکِ تکمیلِ پاکستان ہے،رانا ثنا اللہ

    وزیراعظم کے مشیر برائے بین الصوبائی رابطہ رانا ثنا اللہ نے یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر کہا ہے کہ 5 اگست بھارتی غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر کے عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم کی یاد دلاتا ہے۔

    اپنے پیغام میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ بھارت نے 5 اگست 2019 کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرکے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت پر براہِ راست حملہ کیا پاکستان جموں و کشمیر کی حیثیت، آبادی کے تناسب اور سیاسی شناخت کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتا ہے،5 اگست 2019 کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال مزید ابتر ہوئی ہے، جبکہ ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، فوجی کارروائیاں اور طویل حراستوں نے مقامی آبادی میں عدم تحفظ کو بڑھا دیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اس موقع پر وہ اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں”کشمیر پاکستان ہے اور پاکستان کشمیر ہے” جبکہ تحریکِ آزادیٔ جموں و کشمیر، تحریکِ تکمیلِ پاکستان ہے پاکستان کشمیری عوام کی لازوال قربانیوں، ہمت، ثابت قدمی اور انصاف کے لیے غیرمتزلزل عزم کو سلام پیش کرتا ہے اور ان کی منصفانہ جدوجہد کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔

    رانا ثناء اللہ نے اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے اور مسئلہ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حل کرانے کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ صرف کشمیریوں کا نہیں بلکہ انسانیت اور عالمی انصاف کا مسئلہ ہے۔

    چیئرمین پرائم منسٹر یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان نے یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر کہا ہے کہ 5 اگست بھارتی غیر آئینی اور غیر قانونی اقدامات کے خلاف کشمیری عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور ان کے حقِ خودارادیت کی حمایت کے عزم کی تجدید کا دن ہے۔

    اپنے پیغام میں رانا مشہود احمد خان نے کہا کہ بھارت نے 5 اگست 2019 کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرکے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی،کشمیری عوام کی جدوجہد انصاف، امن، بنیادی انسانی حقوق اور حقِ خودارادیت کی جدوجہد ہے،مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، اظہارِ رائے پر پابندیاں اور شہری آزادیوں پر قدغنیں تشویش کا باعث ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 کے بعد بھارت کے اقدامات سے علاقے کی آبادیاتی اور سیاسی ساخت تبدیل ہونے کے خدشات پیدا ہوئے، جبکہ غیر کشمیری افراد کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹس کے اجرا نے مقامی آبادی کے حقوق، شناخت اور سیاسی نمائندگی سے متعلق تحفظات کو مزید بڑھا دیا ہے،عالمی برادری مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال کا فوری نوٹس لے اور مسئلہ کشمیر کے منصفانہ، پرامن اور دیرپا حل کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔

    رانا مشہود احمد خان نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا اور مسئلہ کشمیر کا حل اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہونا چاہیےانہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور ان کے حقوق کے لیے ہر عالمی فورم پر آواز بلند کرتا رہے گا۔

  • مالدووا کے وزیراعظم کی طالبان رجیم  کے وفد کی ملک آمدپروضاحت جاری

    مالدووا کے وزیراعظم کی طالبان رجیم کے وفد کی ملک آمدپروضاحت جاری

    مالدووا کے وزیراعظم نے طالبان رجیم کی وزارت زراعت کے وفد کی ملک آمد کو ’شرمناک‘ اور ’ناقابل قبول‘ قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کرتا۔

    وزیراعظم نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں واضح کیا کہ مالدووا طالبان ’حکومت‘ کو تسلیم نہیں کرتا، وفد کے دورے کی منظوری انتظامی جانچ پڑتال کے بعد دی گئی، تاہم اس کے ممکنہ سیاسی اور سفارتی نتائج کو نظر انداز کر دیا گیا انہوں نے کہا کہ وفد کو ویزے جاری کرنے کا فیصلہ انتظامی طریقہ کار کے تحت تو کیا گیا، تاہم اس کے سیاسی اور سفارتی اثرات کا درست اندازہ نہیں لگایا گیا، جس کے بعد حکومت نے معاملے کی اندرونی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ وفد کی آمد کی درخواست ایک مقامی کمپنی نے دی تھی، جو ازبکستان کو زرعی مصنوعات برآمد کرتی ہے اور افغانستان کی منڈی میں بھی اپنا کاروبار بڑھانا چاہتی تھی،وزارت زراعت و خوراک نے یہ درخواست وزارت خارجہ، جنرل انسپکٹریٹ برائے مائیگریشن اور بارڈر پولیس کو بھیجی متعلقہ اداروں نے جانچ کے دوران پایا کہ طالبان وفد کے ارکان یورپی یونین کی پابندیوں کی فہرست میں شامل نہیں تھے، جس کے بعد مائیگریشن حکام نے مثبت رائے دی اور وزارت خارجہ نے انہیں ویزے جاری کر دیے، اس عمل میں مالدووا کی انٹیلی جنس اور سیکیورٹی سروس سے مشاورت نہیں کی گئی، کیونکہ موجودہ ضوابط کے تحت ایسا کرنا لازمی نہیں تھا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ اگرچہ تمام انتظامی مراحل بظاہر مکمل کیے گئے، لیکن ضروری سیاسی اور سفارتی تجزیہ نہیں کیا گیا، جس کے باعث ایک حساس معاملے کو معمول کی انتظامی کارروائی سمجھا گیا اور غلط فیصلہ سامنے آیا سرکاری اداروں کو صرف قواعد پر عمل درآمد تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ ہر فیصلے کے پس منظر، ممکنہ خطرات اور نتائج کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔

    سرکاری حکام کے استعفوں کے مطالبات پر وزیراعظم نے کہا کہ محض کسی ایک فرد کو ذمہ دار ٹھہرانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا ان کے بقول اصل ضرورت ان طریقہ کار کا ازسرنو جائزہ لینے اور اصلاحات کی ہے، جن کے باعث ایسا فیصلہ ممکن ہواحکومت انٹیلی جنس و سیکیورٹی سروس کے ساتھ مشاورتی نظام کا ازسرنو جائزہ لے گی، جبکہ فیصلے کے ذمہ دار افراد کا تعین کرکے ان کے خلاف مناسب کارروائی بھی کی جائے گی۔

    دوسری جانب مالدووا کی وزارت خارجہ نے پیر کو تصدیق کی کہ طالبان کی وزارت زراعت کے وفد کو ملک میں داخلے کے لیے ویزے جاری کیے گئے تھے، تاہم وزارت نے واضح کیا کہ وفد کے ساتھ کوئی سرکاری ملاقات نہیں کی جائے گی حکومت نے اس پورے معاملے کی اندرونی تحقیقات بھی شروع کر دی ہیں۔