Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • ایران جنگ میں گزشتہ ہفتے بمباری پر پوچھا کون اتنے بم گرا رہا؟جواب ملا یو اے ای،ٹرمپ کا انکشاف

    ایران جنگ میں گزشتہ ہفتے بمباری پر پوچھا کون اتنے بم گرا رہا؟جواب ملا یو اے ای،ٹرمپ کا انکشاف

    واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان کے بارے میں ایک غیر معمولی دعویٰ کرتے ہوئے انہیں بہترین فائٹر قرار دیا-

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان کے لیے "جنگجو” اور "ایک اچھا فائٹر” ہونے کے الفاظ استعمال کیے ٹرمپ نے اماراتی صدر کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ اپنے اتحادیوں کی حمایت میں کھڑے رہے ہیں۔

    ٹرمپ نے کہا کہ ’محمد (امیر متحدہ عرب امارات) ایک ناقابلِ یقین جنگجو ہیں گزشتہ ہفتے وہ بمباری کر رہے تھے میں نے پوچھا کہ آخر اتنے بم کون گرا رہا ہے؟ تو جواب ملا کہ یہ یو اے ای ہے۔ وہ ایک اچھے فائٹر ہیں،ٹرمپ نے شیخ محمد بن زاید کو ایک قابلِ احترام، باصلاحیت اور بہترین وژن رکھنے والا رہنما قرار دیا، انہوں نے اماراتی صدر کو ایک ایسا "جنگجو” کہا جو خطے کے استحکام کے لیے ٹھوس اقدامات کرتا ہے-

    یہ غیر معمولی دعویٰ فرانس میں منعقد ہونے والے جی سیون (G7) سمٹ کے موقع پر ایک پریس بریفنگ کے دوران سامنے آیا، اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ امریکہ اور متحدہ عرب امارات کے مابین سٹریٹجک شراکت داری اور دفاعی تعلقات انتہائی مستحکم ہیں۔

    ٹرمپ کے اس بیان کے بعد مختلف حلقوں میں چہ مگوئیاں شروع ہوگئی ہیں، تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ امریکی صدر کا اشارہ کسی مخصوص فوجی کارروائی کی جانب تھا یا انہوں نے یہ بات علامتی انداز میں کہی دوسری جانب تاحال متحدہ عرب امارات کی حکومت کی جانب سے اس بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ اسی طرح ایران کے خلاف کسی حالیہ اماراتی فضائی کارروائی کی بھی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

    سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر اس بیان کی مزید وضاحت سامنے آتی ہے تو یہ مشرق وسطیٰ کی حالیہ کشیدگی اور علاقائی اتحادوں کے بارے میں اہم سوالات کو جنم دے سکتی ہے۔

  • ہالی ووڈ  اداکارہ 35 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں

    ہالی ووڈ اداکارہ 35 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں

    ہالی ووڈ کی معروف اداکارہ اور وائس آرٹسٹ ڈیوی چیس 35 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔

    امریکی رپورٹس کے مطابق ڈیوی چیس کے منیجر جان ریان جونیئر نے ان کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اداکارہ میننجائٹس کے باعث پیدا ہونے والی پیچیدگیوں اور سیپسس کا شکار ہو گئی تھیں، جس کے بعد وہ لاس اینجلس کے ایک اسپتال میں دم توڑ گئیں، چیس کو انتقال سے قبل غذائی قلت کے باعث اسپتال میں داخل کیا گیا تھا انہوں نے بتایا کہ اداکارہ گزشتہ کئی برسوں سے شہرت کی چکاچوند سے دور سادہ زندگی گزار رہی تھیں اور جانوروں، خصوصاً بلیوں، سے بے حد محبت کرتی تھیں۔

    ڈیوی چیس نے کم عمری میں ہی اداکاری کا آغاز کیا اور صرف 7 سال کی عمر میں ہالی ووڈ میں اپنا پہلا ٹی وی کردار حاصل کیا۔ انہیں 2001 میں فلم Donnie Darko سے شہرت ملی، تاہم 2002 میں ہارر فلم The Ring میں سمارا مورگن کے خوفناک کردار نے انہیں عالمی شناخت دلائی اس کردار پر انہیں 2003 میں MTV مووی ایوارڈ برائے بہترین ولن سے نوازا گیا اسی سال انہوں نے ڈزنی کی کامیاب اینیمیٹڈ فلم Lilo & Stitch میں مرکزی کردار لیلو کو آواز دی، جس پر انہیں اینی ایوارڈ بھی حاصل ہوا۔

    ان کے دیگر نمایاں منصوبوں میں Charmed، ER، Touched by an Angel اور HBO کا ڈراما Big Love شامل ہیں ڈیوی چیس نے 2015 میں فل ٹائم اداکاری سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی۔

  • امریکا نے ایران کو معاہدے کے لیے مجبور کیا، امریکی وزیر دفاع

    امریکا نے ایران کو معاہدے کے لیے مجبور کیا، امریکی وزیر دفاع

    امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والا کوئی بھی امن معاہدہ ایک اچھا معاہدہ ہوگا،، تاہم معاہدے پر عمل درآمد اور مستقبل کے مذاکرات کو بھی قریب سے مانیٹر کیا جائے گا۔

    امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے برسلز میں میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ امریکا نے ایران کو معاہدے کے لیے مجبور کیا، ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے یا خرندنے کی اجازت نہیں ہوگی، امریکا خطے میں استحکام اور جنگ کے خاتمے کا خواہاں ہے، تاہم معاہدے پر عمل درآمد اور مستقبل کے مذاکرات کو بھی قریب سے مانیٹر کیا جائے گا۔

    امریکی وزیر دفاع نے نیٹو اتحادیوں پر بھی زور دیا کہ وہ اپنی دفاعی ذمہ داریوں میں زیادہ کردار ادا کریں، انہوں نے بعض اتحادی ممالک پر ایران جنگ کے دوران امریکا کو مطلوبہ سہولتیں اور فضائی رسائی فراہم نہ کرنے پر تنقید کی،ہیگسیتھ کا کہنا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمت مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے، جبکہ حتمی معاہدے کے لیے آئندہ مذاکرات میں متعدد اہم امور پر پیشرفت متوقع ہے، امریکا اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر خطے میں امن و استحکام کے لیے کام جاری رکھے گا۔

  • مچھر کچھ لوگوں کو زیادہ کیوں کاٹتے ہیں؟ نئی تحقیق میں  حیران کن انکشاف

    مچھر کچھ لوگوں کو زیادہ کیوں کاٹتے ہیں؟ نئی تحقیق میں حیران کن انکشاف

    حالیہ سائنسی تحقیقات سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ مچھر انسانوں کو منتخب کرنے کے لیے ایک منظم اور حساس حیاتیاتی نظام استعمال کرتے ہیں۔ تحقیقات کے بڑھتے ہوئے شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ مچھر پہلے سے زیادہ ’چناؤ کرنے والے‘ ہوتے ہیں وہ انسانوں کو تلاش کرنے کے لیے بو، جسمانی کیمسٹری، حرارت اور بصری اشاروں کا استعمال کرتے ہیں تاکہ اپنا اگلا شکار منتخب کر سکیں۔

    اکثر یہ منظر عام ہوتا ہے کہ کچھ افراد مچھروں کے حملوں کا زیادہ شکار بنتے ہیں جبکہ دوسرے تقریباً محفوظ رہتے ہیں سائنسدانوں کے مطابق یہ محض اتفاق نہیں بلکہ انسانی جسم کی مخصوص بو، سانس کے ذریعے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ (CO₂) اور جلد کی کیمیائی ساخت وہ بنیادی عوامل ہیں جو مچھروں کو اپنے شکار کے انتخاب میں رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔

    مچھر اپنے شکار کو تلاش کرنے کے لیے سانس کے ذریعے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو کئی میٹر کی دوری سے سونگھ لیتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ لمبے قد کے حامل افراد، حاملہ خواتین، یا وہ لوگ جو زیادہ گہری سانس لیتے ہیں (جیسے ورزش کے بعد)، مچھروں کو زیادہ متوجہ کرتے ہیں انسانی جلد پر قدرتی طور پر بیکٹیریا کی ایک بڑی تعداد موجود ہوتی ہے جو پسینے کو مختلف کیمیکلز (جیسے لیکٹک ایسڈ اور یورک ایسڈ) میں تبدیل کرتی ہے ہر انسان کے جسم میں ان کیمیکلز کی مقدار مختلف ہوتی ہے، اور جن لوگوں کے جسم سے ان کی بو زیادہ آتی ہے، مچھر ان کا زیادہ رخ کرتے ہیں-

    سائنسی تحقیقی رپورٹس کے مطابق، مچھروں کی ترجیح میں خون کی اقسام بھی شامل ہوتی ہیں ایک تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ O بلڈ گروپ کے حامل افراد مچھروں کا سب سے زیادہ نشانہ بنتے ہیں، جبکہ اس کے بعد بلڈ گروپ A والے افراد کو زیادہ کاٹا جاتا ہے مچھر جسمانی حرارت (گرمی) کے بھی بہت حساس ہوتے ہیں زیادہ درجہ حرارت، مشقت یا ورزش کے دوران نکلنے والا پسینہ مچھروں کو فوری طور پر راغب کرتا ہے لیکن سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ اصل میں جسم کی قدرتی بو اس سے کہیں زیادہ اہم کردار ادا کرتی ہےمختلف مطالعات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ الکحل کا استعمال کرنے والوں کا جسمانی درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے، جس سے وہ مچھروں کے لیے زیادہ پرکشش ہدف بن جاتے ہیں-

    Rockefeller University کی تحقیق میں یہ بھی پایا گیا کہ جن افراد کی جلد پر قدرتی طور پر موجود کاربوکسلک ایسڈز زیادہ ہوتے ہیں، وہ مچھروں کو زیادہ متوجہ کرتے ہیں ہر انسان سانس کے ساتھ کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتا ہے جسے مادہ مچھر بہت دور سے بھی محسوس کر سکتے ہیں وہ افراد جو زیادہ CO₂ خارج کرتے ہیں جیسے بڑے جسم والے بالغ افراد، حاملہ خواتین، یا وہ لوگ جنہوں نے حال ہی میں ورزش کی ہو انہیں زیادہ مچھر کاٹتے ہیں کیونکہ وہ آسانی سے پہچانے جاتے ہیں۔ جسم کی گرمی اور نمی بھی مچھروں کو قریب آ کر شکار تک پہنچنے میں مدد دیتی ہے۔

    مچھر ان لوگوں کو زیادہ آسانی سے دیکھ لیتے ہیں جو گہرے رنگ کے کپڑے پہنتے ہیں، جیسے کالا، نیوی بلیو اور سرخ، خاص طور پر جب وہ پہلے ہی CO₂ محسوس کر چکے ہوں۔ اس کے مقابلے میں ہلکے رنگ جیسے سفید اور سبز کم پرکشش ہوتے ہیں۔

    مچھر کے کاٹنے سے بچاؤ کے مؤثر طریقے
    ماہرین صحت کے مطابق مچھر کے کاٹنے سے بچاؤ کے لیے درج ذیل اقدامات مؤثر ہیں:

    DEET، picaridin یا قدرتی تیل پر مشتمل ریپیلنٹس کا استعمال،صبح اور شام کے اوقات میں مکمل بازو اور ٹانگیں ڈھانپنے والے کپڑے پہننا، ہلکے رنگوں کا انتخاب، کھڑا پانی ختم کرنا جہاں مچھر افزائش پاتے ہیں،کھڑکیوں پر جالیاں اور پنکھوں کا استعمال

    سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مچھر جلد ختم ہونے والے نہیں ہیں۔ تاہم یہ سمجھنا کہ کچھ لوگ ’مچھر میگنیٹ‘ کیوں ہوتے ہیں، مستقبل میں بہتر ریپیلنٹس اور بیماریوں جیسے ڈینگی، ملیریا، ویسٹ نائل وائرس اور زیکا سے بچاؤ کے نئے طریقوں کی ترقی میں مدد دے سکتا ہے۔

  • 2026-27 کا بجٹ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں مختلف نوعیت کا ہے، مراد علی شاہ

    2026-27 کا بجٹ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں مختلف نوعیت کا ہے، مراد علی شاہ

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 164 کے تحت صوبائی حکومتیں وفاق کو گرانٹ فراہم کر سکتی ہیں، جس کے تحت چاروں صوبوں نے قومی دفاع اور قومی یکجہتی کے پیش نظر وفاق کو گرانٹ دینے پر اتفاق کیا –

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبائی وزرا ناصر حسین شاہ، مکیش کمار چاولہ اور جام خان شورو کے ہمراہ پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ مالی سال 2026-27 کا بجٹ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں مختلف نوعیت کا ہے، کیونکہ ملکی اور عالمی صورتحال کے باعث وفاقی حکومت نے صوبوں سے مشاورت کی ابتدا میں این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کے حصے میں کمی کی تجویز زیر غور آئی، تاہم صوبوں نے اپنے آئینی حقوق کا دفاع کیا بعد ازاں وفاق، چاروں صوبائی حکومتوں اور اتحادی سیاسی جماعتوں نے آئین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے مسئلے کا حل نکالا۔

    وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق آئین کے آرٹیکل 164 کے تحت صوبائی حکومتیں وفاق کو گرانٹ فراہم کر سکتی ہیں، جس کے تحت چاروں صوبوں نے قومی دفاع اور قومی یکجہتی کے پیش نظر وفاق کو گرانٹ دینے پر اتفاق کیا مالی سال 2026-27 کا بجٹ پیش کر دیا گیا ہے اور پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت مسلسل 18واں صوبائی بجٹ پیش کر رہی ہے، صوبے میں سرمایہ کاری، ترقیاتی منصوبے اور معاشی سرگرمیوں کا فروغ ہمیشہ حکومت کی ترجیحات میں شامل رہا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ ایف بی آر کی وصولیوں کا ہدف 15.264 ٹریلین روپے مقرر کیا گیا ہے، جبکہ 13.35 ٹریلین روپے کی وصولیوں تک صوبوں کو ان کا مقررہ حصہ ملے گا اس سے زائد وصول ہونے والی رقم صوبوں کو منتقل کی جائے گی اور صوبے یہ رقم وفاق کو گرانٹ کی صورت میں فراہم کریں گے حکومت کو توقع ہے کہ ایف بی آر مقررہ ہدف حاصل کر لے گا، جبکہ نیشنل اسٹریٹجک انیشی ایٹو کے لیے درکار فنڈز کی فراہمی کے باعث وفاق ایف بی آر پر اہداف کے حصول کے لیے دباؤ برقرار رکھے گا۔

    مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ سندھ ریونیو بورڈ کی محصولات میں رواں سال 23 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے گزشتہ سال مختلف ترقیاتی اور فلاحی منصوبوں پر خطیر رقم خرچ کی گئی، جبکہ عوام کو ٹرانسپورٹ، ایندھن اور بجلی کے شعبوں میں ریلیف فراہم کیا گیاسندھ حکومت نے کسانوں کی بھی بھرپور معاونت کی اور صوبے میں گندم کی پیداوار 1.4 ملین ٹن تک پہنچ گئی۔

  • ایران کو بیلسٹک میزائل رکھنے سے منع کرنا نا انصافی ہوگی،صدر ٹرمپ

    ایران کو بیلسٹک میزائل رکھنے سے منع کرنا نا انصافی ہوگی،صدر ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کو بیلسٹک میزائل رکھنے سے منع کرنا نا انصافی ہوگی۔

    صدرٹرمپ نے پیرس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں یہ کہہ رہا ہوں کہ اگر خطے کے دیگر ممالک جیسے سعودی عرب اور قطر کے پاس بیلسٹک میزائل ہیں تو ایران کے پاس بھی یہ میزائل مناسب تعداد میں ہونے چاہئیں اگر سعودی عرب، قطر اور دیگر علاقائی ممالک کے پاس بیلسٹک میزائل موجود ہیں تو ”متناسب سطح پر“ ایران کے پاس بھی ایسی صلاحیت ہونا قابل قبول ہے امریکہ اپنی فوجی موجودگی خلیجی خطے میں فوری طور پر ختم نہیں کرے گا بلکہ امریکی افواج ”کچھ عرصے“ تک وہاں تعینات رہیں گی، انہوں نے واضح کیا کہ تہران کے ساتھ معاہدے کے باوجود خطے کی صورتحال اور سکیورٹی معاملات کے پیش نظر امریکی فوج کی موجودگی برقرار رکھی جائے گی۔

    دریں اثنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران مثبت اور تعمیری رویہ اختیار کرتا ہے تو اسے تقریباً 300 ارب ڈالر کے منجمد فنڈز تک رسائی دی جا سکتی ہےجبکہ اسرائیلی قیادت ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے پر اطمینان کا اظہار کر رہی ہے اور مذاکرات کے نتائج سے خوش ہے-

    اپنے ایک بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی عمل میں حتمی معاہدے کے لیے 60 روزہ مدت کوئی سخت یا حتمی ڈیڈ لائن نہیں ہے ، امر یکی فوج کچھ عرصے تک خلیج میں موجود رہے گی،تاکہ خطے کے امن و استحکام کو برقرار رکھا جا سکے، مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد اور مثبت طرز عمل ضروری ہے۔

    امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے اربوں ڈالر کے اثاثے اور فنڈز مختلف پابندیوں کے باعث منجمد ہیں،اور وقت آنے پر یہ واپس کریں گے، اگر تہران مثبت رویہ اپناتا ہے اور بین الاقوامی توقعات کے مطابق اقدا مات کرتا ہے تو ان فنڈز تک رسائی کے حوالے سے پیشرفت ہو سکتی ہے ایران اس بات پر آمادہ ہے کہ وہ نہ جوہری ہتھیار تیار کرے گا اور نہ ہی انہیں حاصل کرنے کی کو شش کرے گا جوہری پروگرام اور ذخائر سے متعلق تکنیکی سطح کے مذاکرات بھی جلد شروع ہونے کی توقع ہے اسرائیلی قیادت ایران کے ساتھ ممکنہ معاہد ے پر اطمینان کا اظہار کر رہی ہے اور مذاکرات کے نتائج سے خوش ہے۔

  • افغانستان میں انخلا کے دوران  چھوڑا گیا امریکی فوجی سازوسامان ہم واپس لے سکتے ہیں، ٹرمپ

    افغانستان میں انخلا کے دوران چھوڑا گیا امریکی فوجی سازوسامان ہم واپس لے سکتے ہیں، ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ افغانستان سے امریکی انخلا کے دوران چھوڑا گیا فوجی سازوسامان اب کچھ پرانا ہو چکا ہے، تاہم امریکا اسے واپس حاصل کرسکتا ہے۔

    فاکس نیوز اور دیگر ذرائع ابلاغ کے مطابق، جی 7 اجلاس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے افغانستان سے امریکی انخلا کو انتہائی افسوسناک قرار دیا صدر ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ اس تمام امریکی سازوسامان کی واپسی چاہتے ہیں، جس کی مالیت کا تخمینہ اربوں ڈالرز لگایا گیا ہے کہا کہ سابق امریکی انتظامیہ نے اربوں ڈالر مالیت کا فوجی سامان افغانستان میں چھوڑ دیا تھا –

    ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ انخلا کرتے تو اسے وقار اور منصوبہ بندی کے ساتھ انجام دیتے اور تمام فوجی سازوسامان واپس لے جاتے ان کی حکومت افغانستان سے انخلا کے دوران ایک ایک چیز واپس لانے کا ارادہ رکھتی تھی اور فوجی کیمپوں کے خیمے تک اتارنے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی مستقبل میں افغانستان کو دی جا نے والی کسی بھی مالی امداد کو وہاں موجود امریکی فوجی سازوسامان کی واپسی سے مشروط کیا جا سکتا ہے، اگرچہ یہ سامان قدرے پرانا ہو چکا ہے، لیکن اس کی واپسی اب بھی علامتی اور عملی طور پر اہمیت رکھتی ہے-

    امریکی صدر کے حالیہ بیان کو پاکستان کے اس مؤقف کی تائید بھی قرار دیا جا رہا ہے جس میں اسلام آباد بارہا کہہ چکا ہے کہ 2021 میں امریکی انخلا کے بعد افغانستان میں رہ جانے والے جدید ہتھیار دہشتگرد تنظیموں، خصوصاً تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، کے ہاتھ لگے اور پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں میں استعمال ہوئے ،پاکستانی دفتر خارجہ اس سے قبل بھی واضح کر چکا ہے کہ افغانستان میں موجود جدید امریکی اسلحہ اور فوجی سازوسامان پاکستان اور اس کے شہریوں کی سلامتی کے لیے ایک سنجیدہ تشویش کا باعث ہے۔

  • وزیراعظم پاکستان  نے  اسلام آباد مفاہمتی یاداشت پر دستخط کر دیئے

    وزیراعظم پاکستان نے اسلام آباد مفاہمتی یاداشت پر دستخط کر دیئے

    وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے اسلام آباد مفاہمتی یاداشت (اسلام آباد میمورنڈم آف انڈراسٹیڈنگ) پر بطور ثالث دستخط کردیے۔

    وزیر اعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے اسلام آباد مفاہمتی یاداشتپر بطور ثالث دستخط کردیے، اسلام آباد مفاہمتی یاداشت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے دستخط موجود ہیں-

    اس سے قبل وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے ایک بڑی سفارتی کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے بتایا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط مکمل ہو گئے ہیں معاہدے پر دونوں ممالک کے صدور نے دستخط کیے جبکہ پاکستان نے ثالث کے طور پر اس کی توثیق کی ہے،اعلیٰ ترین حکومتی سطح پر ہونے والے اس معاہدے نے اس امر کا واضح ثبوت دیا ہے کہ واشنگٹن اور تہران تنازع کے حل کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرنے پر متفق ہیں۔

    امریکا اور ایران کے مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط کر دیے، آج سےمعاہدہ نافذ العمل ہوگیا

    ،انہوں نے کہا کہ مفاہمتی یادداشت فوری طور پر نافذ العمل ہو گئی ہےمعاہدے کے تحت پہلے مرحلے میں ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے کھول دے گا جبکہ امریکا اپنی بحری ناکہ بندی فوری طور پر ختم کرے گا، پاکستان شریک ثالث ریاست قطر کے تعاون سے 19 جون 2026 کو سوئٹزرلینڈ میں اس تاریخی پیش رفت کی یاد میں باضابطہ تقریب کی میزبانی کرے گا جہاں دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات کا آغاز بھی متوقع ہے۔

    اس موقع پر شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ ان کی سفارت کاری سے وابستگی اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دینے کی پالیسی نے ایک ایسے بحران کا خاتمہ ممکن بنایا جو پورے خطے اور دنیا کے لیے تباہ کن نتائج کا سبب بن سکتا تھا۔

    وزیر اعظم نے امریکی مذاکراتی ٹیم کے ارکان جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیریڈ کشنر کی خدمات کو بھی سراہا گیا، جنہوں نے معاہدے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا شہباز شریف نے ایرانی قیادت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خمینی اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی بصیرت، دور اندیشی اور امن کے لیے عزم کو سراہا گیا۔

    صدر ٹرمپ نے فرانسیسی صدر کی موجودگی میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے

    وزیر اعظم نے اسی طرح ایرانی مذاکراتی ٹیم کے ارکان محمد باقر قالیباف، عباس عراقچی اور اسکندر مومینی کی کوششوں کو بھی معاہدے کی کامیابی میں کلیدی قرار دیا گیا بیان میں شہباز شریف نے قطر کی قیادت کی تعمیری شمولیت اور سفارتی تعاون کو خصوصی طور پر سراہا گیا، جبکہ سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کی قیادت کے کردار کو بھی ناگزیر اور انتہائی اہم قرار دیا گیا۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نے خصوصی طور پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ ان کی انتھک کاوشیں، بے لوث وابستگی اور پسِ پردہ سفارتی کردار اس پیش رفت کو ممکن بنانے اور خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینے میں فیصلہ کن ثابت ہوئےاس امید کا اظہار کیاکہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت خطے میں بہتر باہمی تفہیم، احترام، اعتماد اور مشترکہ خوشحالی کی ایک مضبوط اور دیرپا بنیاد ثابت ہوگی اور مستقبل میں امن و تعاون کے نئے دروازے کھولے گی۔

  • وزیراعظم، فیلڈ مارشل، وزیر خارجہ اور وزیر داخلہ کی سفارتی کاوشیں رنگ لے آئیں،وفاقی وزیرِ پیٹرولیم

    وزیراعظم، فیلڈ مارشل، وزیر خارجہ اور وزیر داخلہ کی سفارتی کاوشیں رنگ لے آئیں،وفاقی وزیرِ پیٹرولیم

    وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعا ت کی قیمتوں کے تعین کے لیے ایک شفاف ہفتہ وار فارمولا مرتب کرنے کی غرض سے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے-

    اپنے بیان میں علی پرویز ملک نے کہا کہ وزیراعظم، فیلڈ مارشل، وزیر خارجہ اور وزیر داخلہ کی سفارتی کاوشیں رنگ لے آئیں اور ایران و امریکا جنگ بندی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں وزیراعظم نے ہدایت دی ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ فوری طور پر عوام تک منتقل کیا جائے پیٹرولیم مصنوعا ت کی قیمتوں کے تعین کے لیے ایک شفاف ہفتہ وار فارمولا مرتب کرنے کی غرض سے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے نئے شفاف فارمولے کی بدولت عوام قیمتو ں میں ہونے والی تبدیلیوں کی وجوہات کو بہتر انداز میں سمجھ سکیں گے، جبکہ اس فارمولے کی تیاری تمام متعلقہ فریقین سے مکمل مشاورت کے بعد کی جائے گی۔

    علی پرویز ملک نے کہا کہ علاقائی کشیدگی کے باوجود پاکستان میں تیل کی سپلائی چین بلا تعطل برقرار رکھی گئی ہے اور حکومت توانائی سلامتی کے فریم ورک کا ازسرِنو جائزہ لے رہی ہےریاستی مفادات کے تحفظ اور توانائی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے متعدد نئے اقدامات پر کام جاری ہے، جبکہ بحران کے دوران تعاون کرنے والے تمام شراکت داروں اور عوام کے شکر گزار ہیں۔

    واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘‘ پر الیکٹرانک دستخط ہو چکے ہیں، جس کے ذریعے دونوں ممالک نے جاری تنازع کے سفارتی حل پر اتفاق کیا ہے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انہوں نے اس معاہدے کی ثالث کے طور پر توثیق کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں فریق تنازع کے پرامن اور سفارتی حل کے لیے پُرعزم ہیں جبکہ معاہدہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔

  • عالمی مارکیٹ میں  تیل مزید سستا ہو گیا، پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں بڑی کمی کا امکان

    عالمی مارکیٹ میں تیل مزید سستا ہو گیا، پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں بڑی کمی کا امکان

    عالمی مارکیٹ میں تیل مزید سستا ہو گیا ہے۔

    ایران اور امریکا کے صدور کی جانب سے امن معاہدے کی یادداشت پر دستخط کرنے کے بعد تیل کی قیمتوں میں مزید کمی ہوئی ہے امریکی خام تیل کی فی بیرل قیمت 75 ڈالر پر پہنچ گئی ہے، برطانوی خام تیل 77 ڈالر فی بیرل پر فروخت ہو رہا ہے،متحدہ عرب امارات کا مربن تیل 74 ڈالر فی بیرل میں ٹریڈ ہو رہا ہے،جاپان،جنوبی کوریا اور دیگر ایشیائی مارکیٹوں میں سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ، جس کے نتیجےمیں اسٹاک انڈیکسز میں بہتری ریکارڈ کی گئی ہے۔

    عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہونے سے پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی ہو سکتی ہے، حکومت پیٹرول و ڈیزل کی قیمت میں کمی کا اعلان کر سکتی ہے، قیمتوں کے حوالے سے حتمی فیصلہ وزیراعظم کریں گے۔

    دوسری جانب وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وزیراعظم نے ہدایت دی ہے ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام کو فوری منتقل کیا جائے ، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا شفاف ہفتہ وار فارمولا مرتب کرنے کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے شفاف فارمولے کی بدولت عوام قیمتوں میں تبدیلی کی وجوہات کو سمجھ سکیں گے، نیا فارمولا تمام سٹیک ہولڈرز سے مکمل مشاورت کے ساتھ بنایا جائے گا۔