Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • امریکا کی 7 ریاستوں میں پانی کے نظام پر سائبر حملوں کا  انکشاف

    امریکا کی 7 ریاستوں میں پانی کے نظام پر سائبر حملوں کا انکشاف

    امریکا کی 7 ریاستوں میں پانی کے نظام پر سائبر حملوں کا انکشاف ہواہے-

    امریکا کی ریاست منیسوٹا میں 30 سے زائد واٹر سسٹمز پر ایک باہم مربوط سائبر حملے کے بعد ایف بی آئی نے انکشاف کیا ہے کہ ملک کی سات مختلف ریاستوں میں پانی کے نظام پر سائبر حملے رپورٹ ہوئے ہیں،جبکہ،امریکی سائبر سیکیورٹی اینڈ انفراسٹرکچر سیکیورٹی ایجنسی (سی آئی ایس اے) نے ان حملوں میں ایران کے ملوث ہونے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے، تاہم سائبر ماہرین کا ماننا ہے کہ ان اقدامات کے تار تہران سے جڑے ہو سکتے ہیں۔

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منیسوٹا کے گورنر ٹم والز اور مقامی حکام کو ناکارہ قرار دیا، جبکہ گورنر والز نے پلٹ کر جواب دیتے ہوئے کہا کہ ”ٹرمپ کو اچھی طرح معلوم ہے کہ اس حملے کا ذمہ دار کون ہے اور وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ دیگر ریاستیں بھی اس سے متاثر ہوئی ہیں“۔

    اگرچہ ایران نے ان مخصوص واقعات پر اب تک کوئی تبصرہ نہیں کیا، تاہم وہ ماضی میں ایسے تمام سائبر حملوں کے الزامات کی مسلسل تردید کرتا رہا ہے،ماضی میں اسی نوعیت کے ایک الزام پر ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان حسین جابری انصاری نے کہا تھا کہ ایران کے ایجنڈے میں سائبر دنیا میں کبھی بھی کوئی خطرناک اقدام شامل نہیں رہا اور نہ ہی وہ ایسی کسی بھی پیش رفت کی حمایت کرتا ہے۔

    امریکی تحقیقاتی ادارے اس پہلو کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ کیا حملہ آوروں نے صرف ایران کا روپ دھار کر امریکا کے اندر مزید سنسنی اور تنازع پیدا کرنے کی کوشش کی ہے؟اس حوالے سے سائبر سیکیورٹی کے سابق نائب ڈائریکٹر جیک براؤن نے ’بی بی سی‘ سے گفتگو میں کہا کہ یہ حملہ آور دراصل حکومت کی بنیادی خدمات فراہم کرنے کی صلاحیت پر عوام کے اعتماد کو نشانہ بنا رہے ہیں، اور وہ بھی ایسے وقت میں جب جنگ کے باعث ملک پہلے ہی شدید تقسیم کا شکار ہے، امریکا میں واٹر سسٹمز پر حملہ کرنا آسان اس لیے ہے کیونکہ یہاں کی ٹیکنالوجی اور بنیادی ڈھانچہ پرانا ہو چکا ہے۔

    امریکا کے سابق محکمہ خارجہ کے انسدادِ دہشت گردی کے مشیر مورگن رائٹ نے صورتِ حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کسی قوم کو گھٹنوں کے بل لانا چاہتے ہیں تو آپ دو چیزوں کو نشانہ بناتے ہیں، ایک بجلی اور دوسرا پانی، اگر امریکی حکومت نے ان پانی کے سسٹمز کے تحفظ کو فوری طور پر اپ گریڈ نہ کیا اور انہیں انٹرنیٹ سے الگ نہ کیا تو مستقبل میں کیمیکلز کی مقدار میں نقصان دہ تبدیلی یا پانی کی فراہمی میں طویل تعطل جیسے سنگین خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔

  • تحریکِ آزادیٔ جموں و کشمیر، تحریکِ تکمیلِ پاکستان ہے،رانا ثنا اللہ

    تحریکِ آزادیٔ جموں و کشمیر، تحریکِ تکمیلِ پاکستان ہے،رانا ثنا اللہ

    وزیراعظم کے مشیر برائے بین الصوبائی رابطہ رانا ثنا اللہ نے یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر کہا ہے کہ 5 اگست بھارتی غیر قانونی زیرِ تسلط جموں و کشمیر کے عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم کی یاد دلاتا ہے۔

    اپنے پیغام میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ بھارت نے 5 اگست 2019 کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرکے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت پر براہِ راست حملہ کیا پاکستان جموں و کشمیر کی حیثیت، آبادی کے تناسب اور سیاسی شناخت کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتا ہے،5 اگست 2019 کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال مزید ابتر ہوئی ہے، جبکہ ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، فوجی کارروائیاں اور طویل حراستوں نے مقامی آبادی میں عدم تحفظ کو بڑھا دیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ اس موقع پر وہ اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں”کشمیر پاکستان ہے اور پاکستان کشمیر ہے” جبکہ تحریکِ آزادیٔ جموں و کشمیر، تحریکِ تکمیلِ پاکستان ہے پاکستان کشمیری عوام کی لازوال قربانیوں، ہمت، ثابت قدمی اور انصاف کے لیے غیرمتزلزل عزم کو سلام پیش کرتا ہے اور ان کی منصفانہ جدوجہد کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔

    رانا ثناء اللہ نے اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لے اور مسئلہ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حل کرانے کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ صرف کشمیریوں کا نہیں بلکہ انسانیت اور عالمی انصاف کا مسئلہ ہے۔

    چیئرمین پرائم منسٹر یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان نے یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر کہا ہے کہ 5 اگست بھارتی غیر آئینی اور غیر قانونی اقدامات کے خلاف کشمیری عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور ان کے حقِ خودارادیت کی حمایت کے عزم کی تجدید کا دن ہے۔

    اپنے پیغام میں رانا مشہود احمد خان نے کہا کہ بھارت نے 5 اگست 2019 کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرکے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی،کشمیری عوام کی جدوجہد انصاف، امن، بنیادی انسانی حقوق اور حقِ خودارادیت کی جدوجہد ہے،مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، اظہارِ رائے پر پابندیاں اور شہری آزادیوں پر قدغنیں تشویش کا باعث ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 کے بعد بھارت کے اقدامات سے علاقے کی آبادیاتی اور سیاسی ساخت تبدیل ہونے کے خدشات پیدا ہوئے، جبکہ غیر کشمیری افراد کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹس کے اجرا نے مقامی آبادی کے حقوق، شناخت اور سیاسی نمائندگی سے متعلق تحفظات کو مزید بڑھا دیا ہے،عالمی برادری مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال کا فوری نوٹس لے اور مسئلہ کشمیر کے منصفانہ، پرامن اور دیرپا حل کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔

    رانا مشہود احمد خان نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا اور مسئلہ کشمیر کا حل اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہونا چاہیےانہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور ان کے حقوق کے لیے ہر عالمی فورم پر آواز بلند کرتا رہے گا۔

  • مالدووا کے وزیراعظم کی طالبان رجیم  کے وفد کی ملک آمدپروضاحت جاری

    مالدووا کے وزیراعظم کی طالبان رجیم کے وفد کی ملک آمدپروضاحت جاری

    مالدووا کے وزیراعظم نے طالبان رجیم کی وزارت زراعت کے وفد کی ملک آمد کو ’شرمناک‘ اور ’ناقابل قبول‘ قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کرتا۔

    وزیراعظم نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں واضح کیا کہ مالدووا طالبان ’حکومت‘ کو تسلیم نہیں کرتا، وفد کے دورے کی منظوری انتظامی جانچ پڑتال کے بعد دی گئی، تاہم اس کے ممکنہ سیاسی اور سفارتی نتائج کو نظر انداز کر دیا گیا انہوں نے کہا کہ وفد کو ویزے جاری کرنے کا فیصلہ انتظامی طریقہ کار کے تحت تو کیا گیا، تاہم اس کے سیاسی اور سفارتی اثرات کا درست اندازہ نہیں لگایا گیا، جس کے بعد حکومت نے معاملے کی اندرونی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ وفد کی آمد کی درخواست ایک مقامی کمپنی نے دی تھی، جو ازبکستان کو زرعی مصنوعات برآمد کرتی ہے اور افغانستان کی منڈی میں بھی اپنا کاروبار بڑھانا چاہتی تھی،وزارت زراعت و خوراک نے یہ درخواست وزارت خارجہ، جنرل انسپکٹریٹ برائے مائیگریشن اور بارڈر پولیس کو بھیجی متعلقہ اداروں نے جانچ کے دوران پایا کہ طالبان وفد کے ارکان یورپی یونین کی پابندیوں کی فہرست میں شامل نہیں تھے، جس کے بعد مائیگریشن حکام نے مثبت رائے دی اور وزارت خارجہ نے انہیں ویزے جاری کر دیے، اس عمل میں مالدووا کی انٹیلی جنس اور سیکیورٹی سروس سے مشاورت نہیں کی گئی، کیونکہ موجودہ ضوابط کے تحت ایسا کرنا لازمی نہیں تھا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ اگرچہ تمام انتظامی مراحل بظاہر مکمل کیے گئے، لیکن ضروری سیاسی اور سفارتی تجزیہ نہیں کیا گیا، جس کے باعث ایک حساس معاملے کو معمول کی انتظامی کارروائی سمجھا گیا اور غلط فیصلہ سامنے آیا سرکاری اداروں کو صرف قواعد پر عمل درآمد تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ ہر فیصلے کے پس منظر، ممکنہ خطرات اور نتائج کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔

    سرکاری حکام کے استعفوں کے مطالبات پر وزیراعظم نے کہا کہ محض کسی ایک فرد کو ذمہ دار ٹھہرانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا ان کے بقول اصل ضرورت ان طریقہ کار کا ازسرنو جائزہ لینے اور اصلاحات کی ہے، جن کے باعث ایسا فیصلہ ممکن ہواحکومت انٹیلی جنس و سیکیورٹی سروس کے ساتھ مشاورتی نظام کا ازسرنو جائزہ لے گی، جبکہ فیصلے کے ذمہ دار افراد کا تعین کرکے ان کے خلاف مناسب کارروائی بھی کی جائے گی۔

    دوسری جانب مالدووا کی وزارت خارجہ نے پیر کو تصدیق کی کہ طالبان کی وزارت زراعت کے وفد کو ملک میں داخلے کے لیے ویزے جاری کیے گئے تھے، تاہم وزارت نے واضح کیا کہ وفد کے ساتھ کوئی سرکاری ملاقات نہیں کی جائے گی حکومت نے اس پورے معاملے کی اندرونی تحقیقات بھی شروع کر دی ہیں۔

  • طویل فاصلے تک مار کرنے والے امریکی میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے قریب

    طویل فاصلے تک مار کرنے والے امریکی میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے قریب

    ایران کے ساتھ جاری پانچ ماہ طویل جنگ کے دوران امریکی فوج نے اپنے انتہائی درست نشانہ لگانے اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے جدید میزائلوں کے عالمی ذخائر کا ایک بڑا حصہ استعمال کر لیا ہے-

    ’رائٹرز‘ کے مطابق، امریکی فوج نے اپنے زمین سے زمین پر مار کرنے والے اہم ہتھیاروں، بالخصوص اٹیکمس (ATACMS) اور پریسجن اسٹرائیک میزائلوں (PrSM) کا بڑا ذخیرہ تقریباً ختم کر دیا ہے،یہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیار، جن میں سے ایک کی قیمت 10 لاکھ ڈالر سے زیادہ ہے، امریکی فوج کو محفوظ فاصلے سے درست نشانہ بنانے کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔

    رائٹرز کے مطابق ان میں تیزی سے ہوتی کمی کا مطلب یہ ہے کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر دوبارہ بڑے پیمانے پر حملے شروع کرتے ہیں تو انہیں پائلٹ والے بمبار طیاروں پر زیادہ انحصار کرنا پڑ سکتا ہے، جنگ طویل ہونے کے باعث دفاعی امور کے ماہرین کا ماننا ہے کہ میزائلوں کے کم ہوتے ذخائر سے روس اور چین جیسے دیگر عالمی حریفوں کو روکنے کی امریکی صلاحیت محدود ہو سکتی ہے۔

    دوسری جانب وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون نے ان خدشات کی تردید کرتے ہوئے امریکی فوجی صلاحیت کو مضبوط قرار دیا ہے،وائٹ ہاؤس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان جاری کیا ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ ”امریکا کے پاس دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ اور ہماری ضرورت سے کہیں زیادہ ہتھیار موجود ہیں، اور اس وقت ہماری دفاعی کمپنیاں کسی بھی دور سے زیادہ پیداوار کر رہی ہیں اور اپنے کارخانوں کو ریکارڈ سطح پر وسعت دے رہی ہیں۔

    اسی طرح پینٹاگون کے چیف ترجمان شان پارنیل نے موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فوج دنیا کی سب سے طاقتور فوج ہے اور اس کے پاس صدر کے حکم پر ہر جگہ کارروائی کے لیے تمام ضروری وسائل موجود ہیں، ہم نے اپنے لوگوں اور مفادات کے تحفظ کے لیے مختلف محاذوں پر کامیاب آپریشنز کیے ہیں-

    سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کی رپورٹ کے مطابق فروری سے جولائی کے دوران امریکا کے پاس موجود پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کا تقریباً 65 فیصد حصہ استعمال ہو چکا ہے، جبکہ دفاعی تھاڈ سسٹم کے میزائل بھی جنگ کے آغاز کے مقابلے میں کم از کم 38 فیصد کم ہو چکے ہیں اس کے علاوہ بحریہ کے بحری جہازوں اور آبدوزوں سے چلائے جانے والے مشہور ٹوما ہاک کروز میزائلوں کا بھی تقریباً آدھا عالمی ذخیرہ اس جنگ کی نذر ہو چکا ہے، جس کے بعد اب امریکی وزارتِ دفاع اور اس کی تیاری کرنے والی کمپنیوں کے درمیان پیداوار بڑھانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر معاہدے کیے جا رہے ہیں۔

  • پاکستانی تیل بردار جہاز باب المندب سے نکلنے میں کامیاب

    پاکستانی تیل بردار جہاز باب المندب سے نکلنے میں کامیاب

    حوثی ملیشیا کی جانب سے بحیرہ احمر میں کی جانے والی ناکہ بندی کے باوجود دو پاکستانی ایندھن بردار جہاز سعودی عرب کا خام تیل لے کر بغیر کسی،،نرکاوٹ کے باب المندب اور بحیرہ احمر سے کامیابی کے ساتھ گزر گئے۔

    بحری نقل و حمل پر نظر رکھنے والی عالمی انٹیلی جنس کمپنی ’ونڈوارڈ‘ کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق، افرامیکس کلاس کے ان دونوں تیل بردار جہازوں نے سعودی عرب کی ینبع بندرگاہ سے خام تیل لوڈ کیا اور اپنا ٹریکنگ سسٹم مسلسل آن رکھتے ہوئے واپس پاکستان روانہ ہوئے۔

    ونڈوارڈ کے مطابق 20 جولائی کو حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کی بندرگاہوں اور متعلقہ جہاز رانی پر ناکہ بندی کے اعلان کے بعد سے، چین سے منسلک بحری جہازوں کے علاوہ سعودی عرب سے وابستہ دیگر تمام تیل بردار جہازوں کو یا تو حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا تھا یا پھر انہیں طویل اور دشوار گزار راستہ، یعنی کیپ آف گڈ ہوپ سے چکر لگا کر گزرنا پڑ رہا تھا۔

    ایسے کشیدہ ماحول میں پاکستانی جہازوں کا یہ محفوظ سفر ایک انتہائی اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہےپاکستانی جہازوں کا یہ کامیاب بحری سفر ایک ایسے وقت میں ممکن ہوا ہے جب کچھ ہی دن قبل پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے حوثیوں کو واضح اور سخت وارننگ دی تھی۔

    پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اور حکام کی جانب سے اپنے بیان میں کہا گیا تھا کہ ”کسی بھی پاکستانی پرچم بردار بحری جہاز پر کیا جانے والا کوئی بھی حملہ ملک کی سلامتی اور قومی تحفظ کے لیے برا راست خطرہ تصور کیا جائے گا-

  • لاہور: ٹاؤن شپ پولیس کی تحویل میں دو خواتین  جاں بحق

    لاہور: ٹاؤن شپ پولیس کی تحویل میں دو خواتین جاں بحق

    لاہور کے تھانہ ٹاؤن شپ پولیس کی تحویل میں دو خواتین کے جاں بحق ہونے کا واقعہ پیش آیا ہے۔

    پولیس کے مطابق دونوں خواتین کو مبینہ چوری اور فراڈ کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، تاہم ویمن پولیس اسٹیشن منتقل کرتے ہوئے ان کی طبیعت اچانک خراب ہوگئی اور اسپتال پہنچنے کے باوجود انہیں بچایا نہ جا سکا۔

    پولیس کے مطابق عوام نے انمول اور آمنہ نامی دو خواتین کو مبینہ چوری اور فراڈ کے الزام میں پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا تھا دونوں خواتین کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے بعد انہیں مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کیا گیا خواتین کو قانونی کارروائی کے تحت ویمن پولیس اسٹیشن منتقل کیا جا رہا تھا کہ راستے میں اچانک ان کی طبیعت خراب ہوگئی، دونوں خواتین کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ دورانِ علاج جانبر نہ ہو سکیں۔

    پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والی دونوں خواتین پہلے سے ریکارڈ یافتہ تھیں، واقعے سے متعلق مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔

  • یومِ استحصالِ کشمیر :آئی ایس پی آر کا نیا ملی نغمہ “آزادی” جاری

    یومِ استحصالِ کشمیر :آئی ایس پی آر کا نیا ملی نغمہ “آزادی” جاری

    : یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے نیا ملی نغمہ “آزادی” جاری کر دیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق معروف گلوکار واجد سعید کی آواز میں پیش کیے گئے اس نغمے میں کشمیری عوام کے عزم، امید اور حقِ خودارادیت کی جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے،نغمے کے بول “تمہارے ساتھ تھے اور ساتھ ہم رہیں گے” پاکستان اور کشمیری عوام کے درمیان اظہارِ یکجہتی اور حمایت کے پیغام کو اجاگر کرتے ہیں، دھن اور شاعری میں کشمیری عوام کی ثابت قدمی، حوصلے اور بہتر مستقبل کی امید کو نمایاں کیا گیا ہے۔

    ویڈیو میں وادیٔ کشمیر کے مناظر کے ساتھ کشمیری عوام کی مشکلات اور ان کے حقِ خودارادیت کے مطالبے کو بھی موضوع بنایا گیا ہےآئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ یہ نغمہ کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کے عزم کی عکاسی کرتا ہے اور اس بات کا اظہار ہے کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کی حمایت جاری رکھے گا۔

  • صدر ٹرمپ کا ہیلی کاپٹر حادثے سے بال بال بچ گیا

    صدر ٹرمپ کا ہیلی کاپٹر حادثے سے بال بال بچ گیا

    صدر ٹرمپ کا ہیلی کاپٹر حادثے سے بال بال بچ گیا، واقعے کی تحقیقات کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے-

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا صدارتی ہیلی کاپٹر ‘مرین ون’ (Marine One) منگل کے روز وائٹ ہاؤس سے پرواز کے دوران قریبی ایئر ٹریفک پروٹوکول کی مبینہ خلاف ورزی کا شکار ہوا، جس پر (FAA) نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کے مطابق یہ واقعہ کسی بڑے حادثے یا خطرناک حد تک قریب آنے کا خطرہ نہیں تھا-

    امریکا کے فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (ایف اے اے) نے منگل کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو لے جانے والے ایک ملٹری ہیلی کاپٹر اور ایک تجارتی مسافر طیارے کے درمیان سیکیورٹی کے ایک واقعے کی تحقیقات کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہےایف اے اے میرین ون سے متعلق پیش آنے والے سیکیورٹی واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے، تاہم یہ کوئی خطرناک تصادم کا لمحہ نہیں لگتا تھا اور نہ ہی دونوں طیارے بظاہر ایک دوسرے کے سامنے آ رہے تھے۔

    رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کا ہیلی کاپٹر وائٹ ہاؤس کے قریب واقع ایلیپس سے سہ پہر تقریباً 2 بج کر 33 منٹ پر لاس اینجلس جانے کے لیے روانہ ہوا تھا، لیکن پالیسی کے مطابق قریبی رونالڈ ریگن واشنگٹن نیشنل ایئرپورٹ پر تجارتی پروازوں کی آمد و رفت کو بروقت نہیں روکا گیا تھا۔

    ایئر ٹریفک کنٹرول کے قوانین کے مطابق ہوائی اڈوں کے قریب طیاروں کے درمیان افقی طور پر کم از کم 1.5 میل اور عمودی طور پر 500 فٹ کا فاصلہ برقرار رکھنا ضروری ہوتا ہے۔

    رائٹرز کے مطابق فلوریڈا جانے والی ایک علاقائی مسافر پرواز اور صدر کے ہیلی کاپٹر ’میرین ون‘ کے درمیان یہ درکار فاصلہ ختم ہو گیا تھا، تاہم خوش قسمتی سے دونوں جہاز محفوظ طریقے سے اپنی منزل پر لینڈ کر گئےاس واقعے کے دوران ایک اور مسافر پرواز کو بھی احتیاط کے طور پر ہوا میں چکر لگانے کی ہدایت کی گئی جس کے بعد اس نے معمول کے مطابق لینڈنگ کی۔

    واقعے کے بعد ایف اے اے کی جانب سے ایک سیفٹی ریویو ٹیم تشکیل دینے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے جبکہ وائٹ ہاؤس نے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

    واضح رہے کہ واشنگٹن کے رونالڈ ریگن نیشنل ایئرپورٹ کے قریب ہیلی کاپٹروں کی پروازوں پر یہ سخت پابندیاں رواں سال جنوری 2025 میں ایک ملٹری ہیلی کاپٹر اور مسافر طیارے کے بھیانک حادثے کے بعد لگائی گئی تھیں، جس میں 67 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

    اس حادثے کے بعد نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ نے ایئر ٹریفک کنٹرول کے نظام میں نقائص کو اس کا ذمہ دار قرار دیا تھا، جس کے بعد قواعد میں تبدیلی کرتے ہوئے یہ طے کیا گیا تھا کہ جب بھی صدر کا ہیلی کاپٹر میرین ون فضا میں ہوگا تو تجارتی پروازوں کو مکمل طور پر روک دیا جائے گا،عام طور پر اس کے لیے ایئر ٹریفک کنٹرول کو کم از کم تین منٹ پہلے اطلاع دی جاتی ہے تاکہ ایئرپورٹ کی آمد و رفت روک کر صدر کی پرواز کو مکمل طور پر محفوظ بنایا جا سکے۔

  • یومِ استحصالِ کشمیر: پاکستان کا کشمیر کے عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ

    یومِ استحصالِ کشمیر: پاکستان کا کشمیر کے عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج یومِ استحصالِ کشمیر انتہائی غم و غصے اور ملی جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔

    یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر ملک بھر میں صبح آٹھ بجے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی تاکہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جا سکے۔

    پانچ اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کے یکطرفہ اقدام کو سات سال مکمل ہونے پر کشمیری عوام سے یکجہتی کے اظہار کے لیے وفاقی اور صوبائی دارالحکومتوں سمیت آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور ملک کے دیگر چھوٹے بڑے شہروں میں ریلیاں، مظاہرے، سیمینارز، کانفرنسز اور تصویری نمائشوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے اس موقع پر اہم سرکاری عمارتوں پر پاکستان اور آزاد کشمیر کے قومی پرچم بھی لہرائے گئے ہیں۔

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے اپنے خصوصی پیغام میں کہا کہ پاکستان مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتا ہے اور ہر مشکل گھڑی میں کشمیریوں کے ساتھ کھڑا رہے گا، لاکھوں کشمیری سخت پابندیوں کے باوجود اپنے حقِ خودارادیت کی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں اور پاکستان ہر بین الاقوامی فورم پر ان کی آواز بلند کرتا رہے گا۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ بھارت نے 5 اگست 2019 کو مقبوضہ کشمیر کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش کی، جو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے،ن اقدامات کے نتیجے میں مقبوضہ وادی میں ریاستی جبر میں اضافہ ہوا، بنیادی آزادیوں کو محدود کیا گیا اور انسانی حقوق کی صورتحال مزید خراب ہوئی۔

    وزیراعظم نے کہا کہ جموں و کشمیر کا تنازع جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے بنیادی اور دیرینہ حل طلب مسئلہ ہےبھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں فوری طور پر بند کرے اور اگست 2019 کے یکطرفہ اقدامات واپس لے۔

    دوسری جانب پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نیول چیف اور ایئر چیف سمیت مسلح افواج کی قیادت نے اپنے مشترکہ پیغام میں کشمیری عوام کی بھرپور حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق مسلح افواج نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی بھارتی کوششیں ناقابلِ قبول ہیں اور جنوبی ایشیا میں پائیدار امن صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل سے ہی ممکن ہے۔

    ادھر آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے اپنے بیان میں کہا کہ آج کشمیری اور پاکستانی بھارت کے 5 اگست 2019 کے اقدام کے خلاف یومِ سیاہ منا رہے ہیں، مودی حکومت نے ہندوتوا نظریے کے تحت کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی، تاہم ایسے اقدامات سے کشمیر کی متنازع حیثیت تبدیل نہیں کی جا سکتی اور نہ ہی کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی جدوجہد کو دبایا جا سکتا ہے۔

    وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی خالد حسین مگسی نے یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے 5 اگست 2019 کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کا غیرقانونی اقدام ناقابلِ قبول ہے کشمیر کے معاملے پر پاکستان کے مؤقف میں کسی قسم کے سمجھوتے کی گنجائش نہیں، جبکہ کشمیری عوام کی آزادی اور حقِ خودارادیت کی حمایت پاکستان کی قومی پالیسی کا حصہ ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیری عوام کے حقوق اور ان کی جائز جدوجہد کی ہر سطح پر سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا بھارت کے اقدامات انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور اس نے اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کو پامال کیا ہے، پاکستان ہر قومی اور بین الاقوامی فورم پر مسئلہ کشمیر کو بھرپور انداز میں اٹھاتا رہے گا اور اپنے اصولی مؤقف سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا،خالد حسین مگسی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ہمیشہ کشمیری عوام کے ساتھ کھڑا رہے گا اور ان کے حقِ خودارادیت کے حصول تک ان کی حمایت جاری رکھے گا۔

    وفاقی وزیر برائے قانون، انصاف و انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر کہا ہے کہ یہ دن کشمیری عوام سے پاکستان کی غیرمتزلزل یکجہتی کے عزم کی تجدید کا دن ہے۔

    اپنے پیغام میں وفاقی وزیر نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام کئی دہائیوں سے مشکلات، ناانصافی اور بنیادی انسانی حقوق سے محرومی کا سامنا کر رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق ہر انسان کا بنیادی اور آفاقی حق ہیں اور ہر فرد کو عزت، مساوات، آزادی اور قانون کے مساوی تحفظ کا حق حاصل ہے۔

    اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ مسئلہ جموں و کشمیر کا منصفانہ اور پائیدار حل اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیےپاکستان کشمیری عوام کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت ہر سطح پر جاری رکھے گا،انہوں،نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، انسانی وقار، امن اور قانون کی بالادستی ہی خطے میں پائیدار امن کی بنیاد ہیں۔

    انہوں نے دعا کی کہ جموں و کشمیر کے عوام کو امن، آزادی اور وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق حاصل ہو اور انہیں ان کے بنیادی حقوق میسر آئیں۔

  • ایران اور امریکا عبوری معاہدے کے حوالے سے  امریکی جریدے کابڑا دعویٰ

    ایران اور امریکا عبوری معاہدے کے حوالے سے امریکی جریدے کابڑا دعویٰ

    معروف امریکی نشریاتی ادارے ایگزیوس،نےدعویٰ،کیاہےکہ،امریکا، ایران اور عمان آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنے کے لیے ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں جس کا باضابطہ اعلان جلد اور ممکنہ طور پر آج کیا جا سکتا ہے۔

    معروف امریکی نشریاتی ادارے ایگزیوس نے دو علاقائی ذرائع اور ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ مجوزہ معاہدہ 60 روز کے لیے ہوگا، جس کے تحت آبنائے ہرمز میں آنے والے تجارتی جہاز ایران کے سمندری راستے سے جبکہ روانہ ہونے والے جہاز عمان کے سمندری راستے سے گزریں گے،یہ نظام ایران کے ساتھ رابطہ کاری میں نافذ کیا جائے گا۔

    رپورٹ کے مطابق عبوری معاہدے کی مدت کے دوران تجارتی جہازوں سےکسی قسم کا ٹول ٹیکس یا ٹرانزٹ فیس وصول نہیں کی جائےگی،اس معاہدے کا مقصد امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ بندی کو مضبوط بنانا اور ایران کے جوہری پروگرام پر دوبارہ مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس سفارتی پیش رفت میں عمان، قطر، پاکستان اور سعودی عرب نے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ثالثی کا اہم کردار ادا کیا ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے گزشتہ ہفتے کے آخر میں اس فریم ورک سے اصولی اتفاق کیا تھا جبکہ ایران کی اعلیٰ قیادت نے منگل کے روز اس کی منظوری کا عمل مکمل کر لیا،تاہم، معاہدے کا باضابطہ اعلان تاحال نہیں کیا گیا اور نہ ہی امریکا، ایران یا عمان کی جانب سے اس حوالے سے سرکاری تصدیق سامنے آئی ہے-