Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • سائفر کیس:بانی پی ٹی آئی  اور شاہ محمود قریشی کو 10،10 سال قید کی سزا سنادی گئی

    سائفر کیس:بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو 10،10 سال قید کی سزا سنادی گئی

    راولپنڈی : سائفر کیس کی خصوصی عدالت نے کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو 10،10 سال قید با مشقت کی سزا سنادی،خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سزا سنائی۔

    باغی ٹی وی : اس حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کے سابق رہنما فیاض الحسن چوہان کا کہنا ہے کہ اسپیشل کورٹ کے جج نے بڑا مناسب اور بہترین فیصلہ کیا ہے، بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان جب باہر آتی تھیں تو کہتی تھیں کہ میرے بھائی کو سزائے موت سنائی جائےگی،وہ پوری قوم کا ذہن بنا رہی تھیں میری دعا تھی انہیں سزائےموت نہ ہو،شکر ہےایسی کوئی سزا نہیں آئی جج صاحب نے بڑا اچھا فیصلہ دیا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی کیا رویہ اپناتے ہیں۔

    پاکستان تحریک انصاف کے وکیل حامد خان نے دعویٰ کیا ہے کہ سائفر کیس میں سماعت کے دوران ہمارے وکیلوں کو خوفزدہ کرنے کیلئے ایک چھوٹے کمرے میں لے جاکر ان پر بندوقیں تانیں گئیں۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حامد خان نے کہا کہ آج تک وکیلوں کو کبھی عدالت سے نہیں نکالا گیا، پہلی دفعہ ڈیفینس لائرز کو عدالتوں سے نکالا گیا جہاں انہوں نے جرح کرنی تھی، اور جرح اپنے من پسند وکیل سے کرائی گئی، جو کہ جرح نہیں کہلا سکتی،پہلی دفعہ وکیلوں پر بندوقیں تانی گئیں، جو واقعات سامنے آئے ہیں کہ انہیں ایک چھوٹے کمرے میں لے جا کر ان کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور ان پر بندوقیں تانی گئی ہیں، جو کہ بدترین مثال ہے ملک میں انصاف کے نظام کو کنورٹ کرنے کی، لہٰذا اس کو ہم ٹرائل نہیں مانتے-

    بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا ہے کہ ہم ہائیکورٹ آئے ہیں تاکہ جج ذوالقرنین کو ہٹایا جائے۔

    علیمہ خان نے کہا کہ انہوں نے گواہان کے بیانات کروائے لیکن جرح کے وقت فیصلہ دے دیا، گزشتہ روز ہمارے ساتھ بدتمیزی کی گئی، ہمارے ساتھ جو فراڈ کیا وہ سب کے سامنے ہے، مجھے بھی جیل میں ڈال دیں، میں اسے فراڈ کہوں گی ،عدلیہ کا کام انصاف دینا ہے، انہیں تنخواہ ملتی ہے۔

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے کہا کہ عمران خان مان لیں جو وہ کرتے آرہے تھے وہ غلط تھا، ایسا نہ ہو کہ وہی خان صاحب جیل سے باہر نکلیں۔

    یوٹیوب پر ڈیجیٹل چینل کو انٹرویو دیتے میں بلاول بھٹو زراداری نے کہا کہ میں نے سیاست کے ذریعے ہی ٹوٹی پھوٹی اردو سیکھی میرے خیال میں دونوں ایک دوسرے سے کافی جڑے ہوئے ہیں۔

    بانی پی ٹی آئی عمران خان سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ انہیں مشورہ دونگا کہ پرانی سیاست چھوڑ دیں، آئیں جمہوری سیاست کریں۔ مان لیں کہ آپ غلط تھے، جو آپ کرتے آرہے تھے وہ غلط تھا عمران خان اُن لوگوں سے معافی مانگیں جنہیں انہوں نے چور کہا اور زندہ لاشیں کہا مجھے امید ہے کہ عمران خان جو وقت جیل میں گزار رہے ہیں، اس سے ان میں بہتری آئے، ایسا نہ ہو کہ وہی خان صاحب جیل سے باہر نکلیں۔

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثنا اللہ نے کہا کہ سائفر کیس میں سابق چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو سزا سنائے جانے پر کہا ہے کہ عمران نیازی اور شاہ محمودقریشی کا جرم بڑا ہے۔

    رانا ثناء اللہ نے کہا کہ سائفر جیسے کلاسیفائیڈ ڈاکومنٹ کو پبلک کرنا جرم ہے جس سے ریاست کا نقصان ہوا،عدالتی فیصلے پر ہمیں مکمل بھروسہ ہے ریاست پرحملہ کرنے والوں کے ساتھ یہی سلوک ہوناچاہیے، انہوں نے مزید کہا کہ نوازشریف کو سزا ہی سپریم کورٹ سے ہوئی تھی جس میں وہ اپیل تک نہیں کرسکتے تھے۔

    اس فیصلے پر قانون ماہرین کا کہنا تھا کہ استغاثہ کی کامیابی ہے کہ عمران نیازی اور شاہ محمود مجرم ثابت ہوگئے،قانونی ماہرین نے مزید کہا کہ عمران نیازی اور شاہ محمود کے وکلا ان کا دفاع کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

    سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر کا کہنا ہے کہ بانی چیئرمین تحریک انصاف عمران خان اور وائس چیئرمین شاہ محمود کو سائفر کیس میں 10 سال غیر قانونی سزا دلوا کر جج ابوالحسنات نے قانون کو اپنے پاؤں تلے روند ڈالا۔

    بانی پی ٹی آئی کو سزا کے بعد وڈیو پیغام میں اسد قیصر نے کہا کہ اس فیصلے کے خلاف ہم ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ جائیں گے اور یہ فیصلہ جلد کالعدم ہوجائے گا انہوں نے ورکرز سے اپیل کی کہ اپنا پورا زور 8 فروری کے الیکشن پر مرکوز کریں اور عمران خان کو جتوا کر اس نظام کو شکست دیں۔عمران خان اور شاہ محمود کی سزا کا فیصلہ جلد کالعدم ہوجائے گا

    تحریک انصاف کے رہنما اور بیرسٹر علی ظفر نے کہاہے کہ یہ کیس کی سماعت نہیں تھی، عدالتی نظام سے ایک فراڈ تھا۔

    بیرسٹر علی ظفر نے کہاکہ بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کے وکیل کو ہٹا دیاگیاتھا،وکیل کو نکال کر جن کو رکھا گیا اجازت کے بغیر رکھا گیا، اگر فیصلے کی کاپی مل جاتی ہے تو کل ہی اس کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کردی جائے گی،اس کیس میں انصاف کے تقاضوں کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں،وکلا کو ایک روز پہلے کیس فائل دی گئی، انہوں نے چھوٹی سی جرح کی۔

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل فائل کی تھی کہ خدشہ ہے سزا آج سنا دی جائے گی اسے روکا جائے جتنے بھی دستاویزات تھے اس سے ظاہر ہورہا تھا کہ یہ ٹرائل نہیں تھا، انصاف نظام کے ساتھ مذاق تھا، انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوئے بلکہ ان کی دھجیاں اڑادی گئی ہیں، کیس ٹھیک چل رہا تھا، اوپن ٹرائل نہیں ہورہا تھا، چار پانچ دنوں میں انصاف اور قانون کے تقاضوں کو رد کیا گیا، یہ مس ٹرائل ہے، آرٹیکل 10 اے کی خلاف ورزی ہے، سزاتب ہوتی ہے جب جرم ثابت ہو، یہاں تو ٹرائل ہی نہیں ہوا، سزا کم تب ہوتی ہے جب اعتراف ہو کہ جرم کیا ہے سزا کم کی جائے۔

    سائفر کے معاملے پر بانی پی ٹی آئی عمران خان اور اعظم خان کی مبینہ آڈیو لیک ہوگئی۔

    مبینہ آڈیو میں بانی پی ٹی آئی کو کہتے سنا جاسکتا ہے کہ اچھا اب ہم نے صرف کھیلنا ہے، نام نہیں لینا امریکا کا، بس صرف کھیلنا ہے اس کے اوپر کہ یہ ڈیٹ پہلے سے تھی، نئی جو چیز آئی ہے نا کہ وہ جو لیٹر‘، جس پر اعظم خان کہتے ہیں کہ ’سر میں یہ سوچ رہا تھا کہ یہ جو سائفر نا، میرا خیال ہے کہ ایک میٹنگ کر لیتے ہیں اس کے اوپر، دیکھیں اگر آپ کو یاد ہو تو آخر میں سفیر نے لکھا ہوا تھا کہ ڈیمارچ کریں، اگر ڈیمارچ نہیں بھی دینا تو انٹرنل میٹنگ، کیونکہ رات میں نے بڑا سوچا ہے اس کے اوپر شاید‘۔

    اعظم خان نے مزید کہا کہ آپ نے کہا کہ شاید اُنہوں نے اُٹھایا لیکن نہیں پھر میں نے سوچا کہ How to cover all this? ایک میٹنگ کریں شاہ محمود قریشی اور فارن سیکرٹری کی، شاہ محمود قریشی یہ کریں گے کہ وہ لیٹر پڑھ کر سُنائیں گے، تو جو بھی سُنائیں گے تو اُس کو کاپی میں بدل دیں گے، وہ میں منٹس میں کر دوں گا کہ فارن سیکرٹری نے یہ چیز بنا دی ہے، بس اس کا یہ کام ہوگا، مگر یہ کہ اس کا Analysis ادھر ہی ہو گا، پھر Analysis اپنی مرضی کے منٹس میں کر دیں گے تاکہ منٹس آفس کے ریکارڈ میں ہو، ’Analysis یہ ہوگا کہ یہIndirect Threat ہے۔ Diplomatic Language میں اسے تھریٹ کہتے ہیں، دیکھیں منٹس تو پھر میرے ہاتھ میں ہیں نا، وہ اپنی مرضی سے ڈرافٹ کر لیں گے‘۔

    جس پر عمران خان نے کہا کہ ’تو پھر کس کس کو بُلائیں اس میں؟ شاہ محمود، آپ، میں اور سہیل‘، اعظم خان نے کہا کہ ’بس‘، بانی پی ٹی آئی نے کہا ’ ٹھیک ہے کل ہی کرتے ہیں’۔

    اعظم خان نے کہا کہ ’تاکہ وہ چیزیں ریکارڈ میں آجائیں آپ یہ دیکھیں کہ وہ Consulate for State ہیں۔ وہ پڑھ کر سنائے گا تو میں کاپی کر لوں گا آرام سے، تو آن ریکارڈ آ جائے گی کہ یہ چیز ہوئی ہے، آپ فارن سیکرٹری سے سنوائیں تاکہ Political نہ رہے اور Bureaucratic Level پر یہ چیز آئے‘۔

    بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ ’نہیں تو اُس نے ہی لکھا ہے Ambassador نے‘، اعظم خان نے کہا کہ ’ہمارے پاس تو کاپی نہیں ہے نا یہ کس طرح انہوں نے نکال دیا؟‘بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ یہ یہاں سے اٹھی ہے، اس نے اٹھائی ہے، لیکنany how ہے تو فارن سازش‘۔

    مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال کاکہنا ہے کہ میرے خیال میں عدالت نے نرم فیصلہ دیا ہے-

    نجی ٹی وی سے گفتگو میں احسن اقبال نے کہا کہ ان کے رویے سے پاکستان کے سفارتی تعلقات متاثر ہوئے،بانی پی ٹی آئی نے اپنے خلاف ایف آئی آر خود اپنی حرکتوں سے کٹوائی، بانی پی ٹی آئی نے لاپروائی اورسلامتی کے معاملات پر ظلم کیا ہے، پی ٹی آئی سے جڑے لوگوں کو اپنے آنکھیں اپنے کھول لینی چاہئے،وہ کون ہو سکتا ہے جو شہدا کی یادگاروں کو نقصان پہنچائے، بانی پی ٹی آئی نے اپنی ذات کو ریاست سے بڑا سمجھا،بانی پی ٹی آئی کے منظور نظر لوگ سب ان کو چھوڑ کرجا چکے ہیں،ہر روز پی ٹی آئی کے لوگوں کی بڑی تعداد ن لیگ میں شامل ہو رہی ہے۔

    سابق اٹارنی جنرل اشتراوصاف نے کہاہے کہ میرا خیال ہے سائفر کیس میں جو سزا سنائی گئی وہ قانونی ہے۔

    اس حوالے سے اپنے بیان میں اشتراوصاف نے کہاکہ نیشنل سکیورٹی کے معاملات میں کوتاہی نہیں برتی جا سکتی،ملکی سالمیت کے معاملات کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا گیا،ان کاکہناتھا کہ میرا خیال ہے سائفر کیس میں جو سزا سنائی گئی وہ قانونی ہے ۔

    سائفر کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سزا پر بیرسٹر گوہر نے کہاہے کہ کارکنان اور پی ٹی آئی سے لگاؤ رکھنے والے تحمل کا مظاہرہ کریں۔
    https://x.com/PTIofficial/status/1752224508075774414?s=20
    اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر خان نے کہاکہ بنیادی حق سے محروم کیا جائے تو فیصلہ کیا آنا ہے دنیا کو معلوم ہے،جج صاحب سائفر کیس آئین و قانون سے ہٹ کر چلا رہے ہیں، ہمیں سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ پر اعتماد ہے،ہمیں عدالتوں سے انصاف ملے گا، کارکنان اور پی ٹی آئی سے لگاؤ رکھنے والے تحمل کا مظاہرہ کریں، یہ اشتعال دلائیں گے،مشتعل نہیں ہونا- فوکس الیکشن پر کریں، عدلیہ پر اعتماد ہے، ریلیف ملے گا سزا بھی کالعدم ہو جائیگی،،کوئی قانون ہاتھ میں نہ لیں، ہماری توجہ الیکشن سے ہٹانے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن 8 فروری کو سب کا محاسبہ ہوگا۔

    خصوصی عدالت کے جج ابوالحسنات ذوالقرنین اڈیالہ جیل میں آفیشل سیکریٹ ایکٹ سے متعلق سائفر کیس کی سماعت کر رہے ہیں، جبکہ بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی بھی کمرہ عدالت میں موجود ہیں، بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی نے بیانات کی کاپییاں حاصل کرلی ہیں، شاہ محمود قریشی بھی خود جوابات لکھوا رہے

    سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923 کے تحت سزا سنائی گئی، بانی پی ٹی آئی پر مقدمہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ 1923 کے سیکشن 5 اور9 کی دفعات کے تحت درج تھا جب کہ سائفرکیس میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 34 بھی لگائی گئی تھی،سیکرٹ ایکٹ 1923 سیکشن 5 حساس معلومات کو جھوٹ بول کر آگے پہنچانے سے متعلق ہے، سیکرٹ ایکٹ 1923 کا سیکشن 9 جرم کرنےکی کوشش کرنے یاحوصلہ افزائی سے متعلق ہے۔

    کسی کے پاس حساس دستاویز، پاسورڈ یا خاکہ ہو اوراس کا غلط استعمال ہو تو سیکشن 5 لگتی ہے، حساس دستاویزات رکھنے کے حوالے سے قانونی تقاضے پورے نہ کرنے پربھی سیکشن 5 لاگو ہوتا ہے پاکستان پینل کوڈ سیکشن 34 کے تحت شریک ملزمان کا کردار بھی مرکزی ملزم کے برابر ہوگا، سیکرٹ ایکٹ 1923 سیکشن 5 سب سیکشن 3 اے کے تحت سزائے موت بھی ہوسکتی ہے جب کہ سیکرٹ ایکٹ 1923 سیکشن 5 سب سیکشن 3 اے کے تحت زیادہ سے زیادہ14 سال قیدکی سزا ہوسکتی ہے۔

    سماعت کے دوران جج نے کہا کہ آپ کے وکلا حاضر نہیں ہورہے ،آپ کو اسٹیٹ ڈیفنس کونسل فراہم کی گئی، اس پر وکلا صفائی نے کہا کہ ہم جرح کرلیتے ہیں،جج نے وکلا صفائی سے کہا کہ آپ نے مجھ پر عدم اعتماد کیا ہے۔

    عدالت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کا 342 کا بیان ریکارڈ کیا جس میں عمران خان نے کہا کہ سائفر میرے آفس آیا تھا لیکن اس کی سکیورٹی کی ذمہ داری ملٹری سیکرٹری کی تھی، اس حوالے سے ملٹری سیکرٹری کو انکوائری کا کہا تھا، انہوں نے بتایا کہ سائفر کے بارے میں کوئی کلیو نہیں ملا۔

    بانی پی ٹی آئی عمران خان نے سائفرکیس میں سرکاری وکلا صفائی کی تقرری کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کردیابانی پی ٹی آئی عمران خان کی وساطت سے ان کے وکلا نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں سائفر کیس میں عدالت کا 26جنوری کا حکم کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے،سرکاری وکلا کی تقرری کے بعد کی گئی کارروائی بھی کالعدم قرار دی جائے۔

    واضح رہے کہ آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت قائم خصوصی عدالت نے سائفر کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے وکلا کے نہ آنے پر اسٹیٹ ڈیفنس کونسل کو بطور وکلا صفائی مقرر کیا تھا۔

    عدالتی حکم میں کہا گیا تھا کہ ملک عبدالرحمان بانی پی ٹی آئی کیلئے ڈیفنس کونسل ہوں گے جبکہ یونس شاہ محمود قریشی کیلئے ڈیفنس کونسل ہوں گے، دونوں سرکاری وکلا ملزمان کی جانب سے بطور وکیل صفائی پیش ہوں گے۔

    سرکاری وکلا صفائی مقرر ہونے پر عمران خان نے جج سے مکالمہ کیا تھا کہ جن وکلا پر ہمیں اعتماد ہی نہیں وہ کیا ہماری نمائندگی کریں گے، جج صاحب یہ کیا مذاق چل رہا ہے ؟ میں تین ماہ سےکہہ رہا ہوں کہ سماعت سے پہلے مجھے وکلا سے ملنے کی اجازت دی جائے، بارہا درخواست کے باوجود وکلا سے مشاورت نہیں کرنے دی جاتی، مشاورت نہیں کرنے دی جائے گی تو کیس کیسے چلے گا۔

    علاوہ ازیں گزشتہ سماعت پر بانی پی ٹی آئی کے وکلا نے جج کے خلاف عدم اعتماد کی درخواست جمع کروائی تھی، عدم اعتماد کی درخواست دائر ہونے کے بعد فاضل جج نے کمرہ عدالت تبدیل کر دیا تھا بانی پی ٹی آئی کے 342 کے ریکارڈ کی کاپیاں آج ملزمان کو فراہم کی گئی ہیں۔

    بیلٹ پیپرز کی ڈیلوری کا کام چاروں صوبوں میں شروع ہو چکا ہے،الیکشن کمیشن

    گزشتہ روز اسٹیٹ ڈیفینس کونسل نے مزید 12 گواہان پر جرح مکمل کی تھی اب تک 4 گواہوں پر وکلا صفائی جبکہ 21 پر اسٹیٹ ڈیفینس کونسل جرح مکمل کر چکے ہیں عدالت نے عدم اعتماد کی درخواست کے بعد اسٹیٹ ڈیفینس کونسل کو جرح مکمل کرنے کا حکم دیا تھا۔

    عمران خا ن کا سائفر کیس کی کارروائی کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ

    بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر کیس حتمی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے گزشتہ روز کیس میں مزید 11 گواہان کے بیانات پر جرح مکمل کرلی گئی، سائفر کیس میں مجموعی طور پر تمام 25 گواہان پر جرح کا عمل مکمل ہوگی، گواہان پر جرح کے بعد ملزمان کے 342 کے بیانات ریکارڈ کرنے کیلئے سوالنامے تیار کرلیے گئے،عدالت نے دلائل سننے کے بعد سائفر کیس نہ سننے کی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔

    پی ٹی آئی نے امریکا میں لابنگ فرم کی خدمات حاصل کرلیں

    سائفر کا معاملہ کیا ہے؟

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے امریکا میں پاکستانی سفیر کے مراسلے یا سائفرکو بنیاد بنا کر ہی اپنی حکومت کے خلاف سازش کا بیانیہ بنایا تھا جس میں عمران خان نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی حکومت کے خاتمے میں امریکا کا ہاتھ ہے تاہم قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں سائفر کو لے کر پی ٹی آئی حکومت کے مؤقف کی تردید کی جاچکی ہے۔

    اس کے علاوہ سائفر سے متعلق عمران خان اور ان کے سابق سیکرٹری اعظم خان کی ایک آڈیو لیک سامنے آئی تھی جس میں عمران خان کو کہتے سنا گیا تھا کہ ’اب ہم نے صرف کھیلنا ہے، امریکا کا نام نہیں لینا، بس صرف یہ کھیلنا ہے کہ اس کے اوپر کہ یہ ڈیٹ پہلے سے تھی جس پر اعظم خان نے جواب دیا کہ میں یہ سوچ رہا تھا کہ اس سائفر کے اوپر ایک میٹنگ کر لیتے ہیں‘۔

    اس کے بعد وفاقی کابینہ نے اس معاملے کی تحقیقات ایف آئی اے کے سپرد کیا تھا اعظم خان پی ٹی آئی کے دوران حکومت میں اس وقت کے وزیراعظم عمران خان کے پرنسپل سیکرٹری تھے اور وہ وزیراعظم کے انتہائی قریب سمجھے جاتے تھے۔

    سائفر کے حوالے سے سابق ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار نے کہا تھا سائفر پر ڈرامائی انداز میں بیانیہ دینے کی کوشش کی گئی اور افواہیں اور جھوٹی خبریں پھیلائی گئیں جس کا مقصد سیاسی فائدہ اٹھانا تھا۔

    سائفر آخر ہوتا کیا ہے؟

    بی بی سی کے مطابق سائفر دراصل کسی بھی اہم اور حساس نوعیت کی بات یا پیغام کو لکھنے کا وہ خفیہ طریقہ کار ہے جس میں عام زبان کے بجائے کوڈز پر مشتمل زبان کا استعمال کیا جاتا ہے،سائفر کسی عام سفارتی مراسلے یا خط کے برعکس کوڈڈ زبان میں لکھا جاتا ہے،سائفر کو کوڈڈ زبان میں لکھنا اور اِن کوڈز کو ڈی کوڈ کرنا کسی عام انسان نہیں بلکہ متعلقہ شعبے کے ماہرین کا کام ہوتا ہے،اس مقصد کے لیے پاکستان کے دفترخارجہ میں گریڈ 16 کے 100 سے زائد اہلکار موجود ہیں، جنہیں ”سائفر اسسٹنٹ“ کہا جاتا ہے، یہ سائفر اسسٹنٹ پاکستان کے بیرون ملک سفارت خانوں میں بھی تعینات ہوتے ہیں۔

    عمران خان کا 342 کا بیان کیا ہے؟

    ماہر قانون وقاص ابریز کا کہنا ہے کہ 342 کا بیان دراصل ملزم کا بیان ہے، جس میں ملزم اگر اپنی صفائی میں کچھ کہنا چاہتا ہے تو کہ سکتا ہے ملزم کا بیان زیر دفعہ 342 ض ف قلمبند کرتے ہوئے عدالت خود ملزم سے سوالات کرتی ہے اور ملزم خود ان سوالات کا جواب دیتا ہےاس حوالے سے پراسیکوٹر یا کونسل مستغیث کا سوالنامہ تیار کر کے دے دینا اور کونسل ملزم کا ان کے جوابات تیار کر کے دے دینا دفعہ 342 ض ف کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔

    بانی پی ٹی آئی کا 342 کا بیان کمرہ عدالت میں ریکارڈ کیا گیا جج ابوالحسنات نےکہا کہ بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی روسٹرم پر آجائیں جس پر بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ میں آرہا ہوں جلدی تو آپ کو ہے، ہم نے تو جیل میں ہی رہنا ہےجج نے بانی پی ٹی آئی سے استفسار کیا کہ 342 کے بیان پر دستخط کریں گے؟ جس پر عمران خان نے کہا کہ مجھے پہلے بتائیں یہ ہوتا کیا ہے۔

    جج ابو الحسنات نے کہا کہ قانون کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ کو سوالوں کے جواب دینے کا موقع دے رہا ہوں بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ میں اپنا جواب خود لکھوانا چاہتا ہوں جس پر جج نے کہا کہ اچھی بات ہے آپ اپنا جواب خود لکھوائیں۔

    جب عدالت نے عمران خان سے کہا کہ اگر وہ عدالت کو کچھ بتانا چاہتے ہیں تو عدالت کو بتا دیں جس پر عمران خان نے کہا کہ میں عدالت کو کچھ بتانا چاہتا ہوں،عمران خان کا بیان مکمل ہونے کے بعد عدالت نے استفسار کیا، ’خان صاحب، آپ سے آسان سا سوال ہے، سائفر کہاں ہے؟، جس پر عمران خان نے جواب دیا کہ ’میں نے وہی بیان میں کہا ہے کہ مجھے نہیں معلوم، سائفر میرے دفتر میں تھا‘۔

    عدالت نے عمران خان سے پوچھا کہ کیا سائفر آپ کے پاس ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ سائفر میرے پاس نہیں بلکہ میرے دفتر میں تھا اور وہاں کی سکیورٹی کی ذمہ داری میری نہیں ہے بلکہ وہاں پر ملٹری سیکرٹری اور پرنسپل سیکرٹری بھی ہوتے ہیں۔

  • اسرائیل کاغزہ میں  ناجائز  یہودی بستیوں کا نیا منصوبہ تیار

    اسرائیل کاغزہ میں ناجائز یہودی بستیوں کا نیا منصوبہ تیار

    غزہ : اسرائیلی بمباری سے 24 گھنٹوں میں مزید 215 فلسطینی شہید ہوگئے،جبکہ اسرائیل نے غزہ اور دیگر فلسطینی علاقوں میں ناجائز یہودی بستیوں کا نیا منصوبہ تیار کرلیا۔

    باغی ٹی وی :غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق اسرائیل کی غزہ میں واپسی کے عنوان سے ایک کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں قومی سلامتی وزیر اور ارکان پارلیمنٹ بھی پیش پیش رہے، کانفرنس میں غزہ میں 6 غیرقانونی بستیوں سمیت 21 تعمیرات کا نقشہ پیش کیا گیا۔

    اسرائیل کی غزہ میں واپسی کے عنوان سے ہونے والی کانفرنس پر امریکا اور فرانس کی جانب سے مذمت کا اظہار کیا گیا ہے، ترجمان وائٹ ہاوس جان کربی کا کہنا تھا کہ واضح کرچکے غزہ کی سرزمین میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔

    مودی سرکار کی قانونی کارروائی کا خوف،بھارتی شہریوں کا آن لائن پول یا سماجی رائے …

    دوسری جانب اسرائیلی فوج نے شمالی غزہ میں اقوام متحدہ امدادی ایجنسی کے پناہ گزین اسکول کا محاصرہ کرلیا، گولہ باری اور فائرنگ سے 10 فلسطینی شہید ہوگئے۔

    فلسطینی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں 24 گھنٹوں میں مزید 215 فلسطینی شہید ہوگئے7 اکتوبر سے فلسطینی شہدا کی تعداد 26 ہزار 637 ہوگئی جبکہ اسرائیلی حملوں میں اب تک 65 ہزار 387 فلسطینی زخمی ہوئے ہیں،اسرائیل کی جانب سے غزہ میں رہائشی علاقوں پر بھی بمباری کی جارہی ہے جس کی وجہ سے متعدد شہادتوں کا خدشہ ہے اسرائیل کا ال امل اسپتال کا محاصرہ آٹھویں روز بھی جاری ہے، اسپتال کے اطراف اسرائیلی فوج کی فلسطینی مزاحمت کاروں سے شدید لڑائی ہوئی۔

    بھارتی وزیر کی تاریخی درگاہ کی جگہ مندر بنانے کی دھمکی

    دوسری جانب اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے میں بھی فائرنگ کردی، آنسو گیس کی شیلنگ کی وجہ سے مزید5 فلسطینی شہید ہوگئے جبکہ متعدد کو گرفتار کیا گیا، اس کے علاوہ شام میں ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا کے ٹھکانے پر اسرئیل نے فضائی حملہ کیا جس کے نتیجے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ حزب اللہ نے شمالی اسرائیل میں اسرائیلی فوجی اڈوں کو ٹینک شکن میزائلوں سے نشانہ بنایا۔

    اردن میں امریکی فوجی اڈے پر ڈرون حملے، 3 امریکی فوجی ہلاک اور …

  • صحافیوں کو ہراساں کرنے سے متعلق کیس،ہمارے اوپر تنقید کریں وہ برداشت، لیکن قانون کی خلاف ورزی برداشت نہیں،چیف جسٹس

    صحافیوں کو ہراساں کرنے سے متعلق کیس،ہمارے اوپر تنقید کریں وہ برداشت، لیکن قانون کی خلاف ورزی برداشت نہیں،چیف جسٹس

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں صحافیوں کو ہراساں کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ ایک ادارہ ہے کوئی اکھاڑہ یا پارلیمان نہیں، عدالتی فیصلوں پر تنقید کرنے سے ہمیں کوئی مسئلہ نہیں-

    باغی ٹی وی: چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی بنچ میں شامل ہیں، سماعت شروع ہوئی تو اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان اور عامر میر کے وکیل جہانگیر جدون روسٹرم پر آئے-

    جہانگیر جدون نے کل کا حکمنامہ پڑھ کر سنایا اور کہا کہ حکومت سے پوچھا جائے کہ عامر میر کیس میں عدالتی احکامات پرعمل ہوا یا نہیں، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کس حکومت سے پوچھیں؟ جس پر جہانگیر جدون نے کہا کہ وفاقی حکومت سے پوچھیں، چیف جسٹس نے کہا کہ پھر آرڈر بھی آپ کے خلاف پاس ہوگا، آپ کے موکل کیا ایک وزیر ہیں؟جہانگیر جدون نے کہا کہ جی وہ وزیر ہیں۔

    پی ٹی آئی نے امریکا میں لابنگ فرم کی خدمات حاصل کرلیں

    چیف جسٹس نے پوچھا، کیا وہ بطور وزیر بے یارومددگار ہیں؟ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ جی وہ ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ پھر وہ کون پراسرار ہے جو ملک چلا رہا ہے؟جہانگیر جدون نے جواب دیا کہ سب کو پتا ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ ایسی باتیں مت کریں یہ کورٹ ہے اکھاڑہ نہیں، ہم اب از خود نوٹس نہیں لیں گے۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ صدر پریس ایسوسی ایشن کہہ رہے ہیں نوٹسز کی فہرست نہیں، ان کو لسٹ دیں یا نا دیں لیکن آ پ کے پاس تو ہوگی ، کیا کل کوئی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ نہیں سر کوئی پیش نہیں ہوا، میں نے جے آئی ٹی کو بتا دیا تھا کیس چل رہا ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارے اوپر تنقید کریں وہ برداشت کریں گے، لیکن قانون کی خلاف ورزی برداشت نہیں۔

    گھریلو تشدد کے الزامات، اینکر پرسن اشفاق اسحق ستی معطل

    چیف جسٹس نے صحافیوں کی جانب سے متفرق درخواست دائر نہ ہونے پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا کہ جب تک تحریری طور پر ہمارے سامنے کچھ نہیں آئے گا ہم آرڈر کیسے جاری کریں، اب سپریم کورٹ میں تین رکنی کمیٹی ہے وہ طے کرتی ہے کہ درخواست آنے کے بعد طے کرے گی، کوئی بندہ اپنا کام کرنے کوتیارنہیں، ہم پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کو دیکھ رہے ہیں، اس قانون سے متعلق کیس براہ راست نشرہوا تھا جسے پورے ملک نے دیکھا، ہمیں کوئی کاغذ تو دکھائیں ہم اس کیس میں آگے کیسے بڑھیں؟

    چیف جسٹس نے کہا کہ توقع تھی کوئی تحریری درخواست آئے گی، جب تک ججز کمیٹی میں معاملہ نہ چلا جائےعدالت کوئی حکم جاری نہیں کرسکتی، پہلے عدالت میں درخواست لے کر کارروائی کی تھی، اب قانون کے مطابق سسٹم بن چکا ہے، کمیٹی کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتے، جے آئی ٹی کونوٹیفکشن کہاں ہے؟

    9وزیر اعظم،4عام انتخابات،2024انتخابات کتنےسابق وزرائے اعظم میدان میں؟

    چیف جسٹس نے کہا کہ اگرعدالت ایسے سوموٹولے تو بھی صحافی اعتراض کریں گے، سپریم کورٹ ایک ادارہ ہے کوئی اکھاڑہ یا پارلیمان نہیں، عدالتی فیصلوں پر تنقید کرنے سے ہمیں کوئی مسئلہ نہیں، تنقید سے اعتراض نہیں بلکہ قانون کی خلاف ورزی پر اعتراض ہے، عدالت قانون کے مطابق ہی چلے گی۔

    حیدر وحید ایڈووکیٹ نے کہا کہ وفاقی حکومت کو ہدایت کی جائے کہ سٹیک ہولڈرز سے مل کر سوشل میڈیا کیلئے ضابطہ اخلاق بنائیں، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا عدالت ایسا حکم جاری کر سکتی ہے؟جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ڈیجیٹل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کیلئے کوئی قانون نہیں ہے، جوقانون ہے وہ صرف فوجداری کارروائی کیلئے ہے یوٹیوب پر ہتک عزت قانون تو لاگو ہوتا ہے لیکن کوئی ریگولیٹری قانون نہیں۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت قانون کی تشریح کر سکتی ہے جب قانون ہی نہیں تو کیا کریں؟ عدالت صرف سٹیک ہولڈرز کو ایک ساتھ بیٹھنے کی درخواست کر سکتی ہے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اٹارنی جنرل نے کل عدالت کو یقین دہانی کرائی تھی، باضابطہ درخواست تو آئے ایسے حکم کیسے جاری کر سکتے ہیں۔

    عمران خا ن کا سائفر کیس کی کارروائی کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے …

    صدر پریس ایسوسی ایشن سپریم کورٹ نے کہا کہ عدالت کی آبزرویشن کے باوجود نوٹسز واپس نہیں ہوئے، چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں تنقید سے فرق نہیں پڑتا کیونکہ آئین اور قانون کے مطابق چلتے ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ جو یقین دہانی کرائی تھی اس پر قائم ہوں، نوٹس واپس کرنے کا طریقہ کار ہے۔

    عدالت نے آج کی سماعت کے حکم نامے میں لکھوایا کہ اٹارنی جنرل کے مطابق ابصار عالم پر حملے کا ذکر کرنا بھول گئے تھے، عدالت نے ابصارعالم پرحملے کی تحقیقاتی رپورٹ بھی مانگ لی سپریم کورٹ نےپی ایف یوجے کو مقدمہ میں فریق بننے کی اجازت دے دی۔

    حکم نامہ میں کہا گیا کہ پریس ایسوسی ایشن میڈیا کی آزادی اور موجودہ حالات پر درخواست دائرکرنا چاہتی ہے، عدالت نے پریس ایسوسی ایشن کی درخواست ملنے پر رجسٹرار آفس کو فوری نمبر لگانے کی ہدایت کردی اور کہا کہ رجسٹرار آفس درخواست ملتے ہی ججز کمیٹی کے سا منے پیش کرے اٹارنی جنرل نے انتخابات تک صحافیوں کو جاری نوٹسز پر کارروائی مؤخر کرنے کی یقین دہانی کرائی، اور کہا کہ الیکشن کے بعد دوبارہ نوٹسزجاری کئے جائیں گے،بعدا زاں سپریم کورٹ نے مزید سماعت مارچ کے پہلے ہفتے تک ملتوی کردی۔

    کراچی میں صبح سویرے بارش سے سردی بڑھ گئی

  • کراچی میں سی ٹی ڈی کی کارروائی،ریٹائرڈ ایف سی اہلکار سمیت 2 ملزمان گرفتار

    کراچی میں سی ٹی ڈی کی کارروائی،ریٹائرڈ ایف سی اہلکار سمیت 2 ملزمان گرفتار

    کراچی: سی ٹی ڈی نےغیر قانونی اسلحہ کی سپلائی میں ملوث ریٹائرڈ ایف سی اہلکار سمیت 2 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔

    باغی ٹی وی : ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق خفیہ اطلاع پر اورنگی ٹاؤن بنارس کے علاقے میں کارروائی کرکے ایف سی کے ریٹائرڈ اہلکار سمیت دو ملزمان کو گرفتار کیا گیاملزمان زردار خان اور سلیم خان غیر قانونی اسلحہ کراچی میں سپلائی کرنے میں ملوث ہیں ملزمان نے دوران تفتیش غیر قانونی اسلحہ درہ آدم خیل سے کراچی لانے کا انکشاف کیا ہے۔

    ملزمان کے مطابق گروہ کا سرغنہ مختیار درہ آدم خیل میں غیر قانونی طریقے سے اسلحہ تیار کرتا ہے اور گرفتار ملزمان زردارخان، سلیم خان سے غیر قانونی اسلحہ سپلائی کرواتا ہے،کراچی میں گینگ کا اہم کارندہ اقبال جرائم پیشہ افراد کو اسلحہ فراہم کرتا ہےگروہ کے سرغنہ مختیار نے اسلحہ اسمگلنگ کے لیے زیادہ تر ایف سی کے ریٹائرڈ اہلکاروں کو شامل کیا ہوا ہے،گرفتار ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے مزید تفتیش شروع کردی گئی ہے۔

    گھریلو تشدد کے الزامات، اینکر پرسن اشفاق اسحق ستی معطل

    پی ٹی آئی نے امریکا میں لابنگ فرم کی خدمات حاصل کرلیں

    کراچی میں صبح سویرے بارش سے سردی بڑھ گئی

  • بیلٹ پیپرز کی ڈیلوری کا کام چاروں صوبوں میں شروع ہو چکا ہے،الیکشن کمیشن

    بیلٹ پیپرز کی ڈیلوری کا کام چاروں صوبوں میں شروع ہو چکا ہے،الیکشن کمیشن

    اسلام آباد: ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق بیلٹ پیپرز کی چھپائی کا کام تین سرکاری پریسوں میں جاری ہے ، بیلٹ پیپرز کی چھپائی کا کام 2 فروری تک مکمل ہو جائے گا جب کہ بیلٹ پیپرز کی ڈیلوری کا کام چاروں صوبوں میں شروع ہو چکا ہے۔

    باغی ٹی وی : چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا ہےکہ 8 فروری کے عام انتخابات کے انعقاد کی تیاریاں تیزی سے تکمیل کے مراحل کی طرف گامزن ہیں، بیلٹ پیپرز کی چھپائی کا کام تسلی بخش طریقے سے جاری ہے، بیلٹ پیپرز کی چھپائی کا کام تین سرکاری پریسوں میں جاری ہے۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہےکہ بیلٹ پیپرز کی چھپائی کا کام انتخابی نشان کی الاٹمنٹ کے بعد 16 جنوری سے شروع ہوا تھا،اس کے علاوہ سکیورٹی اداروں، آر اوز اور ڈسٹرکٹ ایڈ منسٹریشن کی مدد سے بیلٹ پیپرز کی ڈیلیوری کا کام کیا جا رہا ہے۔

    دوسری جانب کوہستان میں خواتین کی انتخابی مہم چلانے پرپابندی کےفتوے پر الیکشن کمیشن نے خبردار کردیا،الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہےکہ دوران انتخابات کسی خاتون کو انتخابی مہم چلانے یا ووٹ ڈالنےسے روکا گیا تو الیکشن کمیشن کارروائی کرےگا۔

    کراچی میں صبح سویرے بارش سے سردی بڑھ گئی

    کمیشن کے مطابق حلقےمیں انتخابات کاعمل کالعدم بھی قرار دیا جاسکتا ہے،ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ افسر کوہستان نےرپورٹ میں واضح کیا کہ خبر درست نہیں اور یہ غلط فہمی کا نتیجہ ہے۔

    علاوہ ازیں بلوچستان کی 12 جیلوں اور 17 جوڈیشل لاک اپ میں پابند سلاسل 3 ہزار قیدیوں میں سےصرف 166قیدیوں نے پوسٹل بیلٹ کیلئے درخواستیں دے دیں، محکمہ جیل بلوچستان کے حکام کے مطابق صوبے کی 12 میں سے 7 جیلوں مچ ، مستونگ، ژوب، ڈیرہ مراد جمالی، لورالائی، پشین اور سبی کے 162 قیدیوں نے پوسٹل بیلٹ کے ذریعے ووٹ دینے کیلئے اپنے اپنے ریٹرننگ آفیسر کو درخواستیں دی ہیں۔

    پی ٹی آئی نے امریکا میں لابنگ فرم کی خدمات حاصل کرلیں

    ان میں سینٹرل جیل مچ کے 103قیدی، سینٹرل جیل مستونگ کے 3، ڈسٹرکٹ جیل ڈیرہ مراد جمالی کے 18، ڈسٹرکٹ جیل لورالائی کے 15، ڈسٹرکٹ جیل ژوب کے 12، ڈسٹرکٹ جیل سبی کے 6 اور ڈسٹرکٹ جیل پشین کے 5 قیدی شامل ہیں،صوبے کے 17 جوڈیشل لاک اپ میں سے صرف 2 قلعہ سیف اللہ، جوڈیشل لاک اپ کے 3 قیدیوں اور ڈیرہ بگٹی جوڈیشل لاک اپ کا ایک قیدی پوسٹل بیلٹ کے ذریعے ووٹ دے گا۔

    عمران خا ن کا سائفر کیس کی کارروائی کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے …

  • گھریلو تشدد کے الزامات، اینکر پرسن اشفاق اسحق ستی  معطل

    گھریلو تشدد کے الزامات، اینکر پرسن اشفاق اسحق ستی معطل

    نجی ٹی وی چینل اے آر وائی نیوز کے اینکر پرسن اشفاق اسحق ستی کو اہلیہ کی جانب سے گھریلو تشدد کے الزامات کے بعد فوری طور پر معطل کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی : اشفاق اسحٰق ستی پر ان کی دوسری اہلیہ نوامیکا نے بدترین تشدد اور جان سے مارنے کی کوشش جیسے الزامات عائد کیے تھےچینل انتظامیہ نے ان الزامات پر سخت نوٹس لیتے ہوئے یہ فیصلہ لیا، معطل کرنے کا فیصلہ نومیکا طاہر محمود کی شکایت پر ایف آئی آر درج ہونے کے بعد سامنے آیا جو اینکر پرسن کی دوسری اہلیہ ہیں۔

     

    https://x.com/ARYNEWSOFFICIAL/status/1751974406287757576?s=20

    اشفاق ستی پر اہلیہ کیجانب سے تشدد کا الزام،میزبان کرن ناز نے کہانی کے دوسرے …

    اے آر وائی نیوز کے مطابق اینکر پرسن اس وقت تک معطل رہیں گے جب تک کہ معاملے کا قانونی طور پر کوئی فیصلہ نہیں ہو جاتا۔ ادارے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ تشدد یا تشدد کی دھمکیوں پر زیرو ٹالرنس کی پالیسی ہے چاہے وہ کام کی جگہ پر ہو یا گھریلو سطح پر، اس لیے ایسے کسی بھی واقعے کو انتائی سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔

    منفرد عمارت جس کے درمیان میں سے شاہراہ گزرتی ہے

    عمران خا ن کا سائفر کیس کی کارروائی کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے …

  • پی ٹی آئی نے امریکا میں لابنگ فرم کی خدمات حاصل کرلیں

    پی ٹی آئی نے امریکا میں لابنگ فرم کی خدمات حاصل کرلیں

    لاہور: پاکستان تحریک انصاف نے (پی ٹی آئی) کے لیے امریکا میں لابنگ فرم کی خدمات حاصل کرلی گئیں۔

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ لابنگ فرم کی خدمات پی ٹی آئی کے حامی پاکستانی نژاد امریکن فیاض قریشی نے حاصل کیں ، لابنگ فرم ایل جی سی ایل ایل کی خدمات 16 جنوری سے یکم مارچ تک 45 دن کے لیے حاصل کی گئیں، لابنگ فرم کو 45 ہزار ڈالر ادا کیے جائیں گے،جبکہ 35 ہزار پاؤنڈ ادا کیے جا چکے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق فیاض قریشی کی لابنگ فرم کے سربراہ اسٹیفن پائن سے اپنے دفتر میں ملاقات ہوئی،فرم پاکستان میں پی ٹی آئی ارکان کو درپیش مسائل سے متعلق کانگریس میں آگاہی پیدا کرے گی، پی ٹی آئی امریکا کے ذرائع کے مطابق فرم کی خدمات پارٹی کی پاکستانی قیادت کی ہدایت پر حاصل کی گئی ہیں۔

    واضح رہے کہ قبل ازیں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ذرائع نے انکشاف کیا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے مبینہ طور پر پاکستان کے خلاف ایک نیا محاذ کھولنے کا منصوبہ شروع کر دیا ہےاس اقدام کے لیے پی ٹی آئی کے بیرون ملک مقیم اراکین اور مختلف اداکاروں نے فنڈز فراہم کیے ہیں اس مبینہ منصوبے کے بنیادی مقاصد، سفارتی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے ذریعے پاکستان پر دباؤ بڑھانا شامل ہے حتمی مقصد حکومت اور اسٹیبلشمنٹ پر عالمی دباؤ ڈال کر پی ٹی آئی کے سابق چیئرمین کے لیے مراعات حاصل کرنا ہے۔

    ایف آئی اے ذرائع نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس منصوبے میں پروپیگنڈا کی کوششوں کے ذریعے 9 مئی کو جھوٹے فلیگ آپریشن کا الزام لگا کر مسلح افواج اور عوام کے درمیان خلیج پیدا کرنا بھی شامل ہے، ذرائع کے مطابق اس کا مقصد 8 فروری کے انتخابات کو متنازعہ بنانا اور پی ٹی آئی کی مقبولیت کو بڑھانا ہے،ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے، ایف آئی اے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس منصوبے پر عمل درآمد شروع ہو چکا ہے، جس کے شواہد مبینہ طور پر فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) جیسے اداروں کے پاس پہنچ چکے ہیں-

  • کراچی میں صبح سویرے  بارش سے سردی بڑھ گئی

    کراچی میں صبح سویرے بارش سے سردی بڑھ گئی

    کراچی کے مختلف علاقوں میں صبح سویرے بارش ہوئی جس سے شہر میں سردی بڑھ گئی،ملک کے بالائی علاقوں میں برفباری کا سلسلہ جاری ہے۔

    باغی ٹی وی : آئی آئی چندریگر روڈ، صدر، لیاقت آباد سمیت دیگر علاقوں میں بارش ہوئی جس کے بعد پہلے سے سرد موسم میں مزید تیزی آگئی،محکمہ موسمیات کے مطابق شہر کا موسم آج ابر آلود رہے گا،پیر کی شام بھی سپر ہوئی وے نوری آباد،کاٹھور اور ملحقہ علاقوں میں بارش ہو ئی تھی جبکہ ملک کے بیشتر علاقوں میں آج موسم سرد اور بالائی اضلاع میں مطلع ابر آلود رہے گا۔

    دوسری جانب ملک کے بالائی علاقوں میں بھی برف باری کا سلسلہ جاری ہے، مالم جبہ میں ایک فٹ برف پڑی، کالام ،استور مری، مظفر آباد میں بھی ہرطرف برف کی سفیدی دکھائی دے رہی ہے بالائی علاقوں میں برفباری سے راستوں کی بندش کا خدشہ ہے،گلگت بلتستان، بالائی خیبر پختونخوا، خطہ پوٹھوہار، کشمیر، ملحقہ پہاڑی علاقوں میں بارش اور پہاڑوں پر برفباری کا امکان ہے۔

  • عمران خا ن کا سائفر کیس کی کارروائی کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ

    عمران خا ن کا سائفر کیس کی کارروائی کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ

    اسلام آباد: بانی پی ٹی آئی عمران خان نے سائفر کیس کی کارروائی کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

    باغی ٹی وی : بانی پی ٹی آئی کی جانب سے سائفر کیس کی کارروائی آج عدالت میں چیلنج کی جائے گی چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ آج ہائیکورٹ میں کارروائی چیلنج کریں گے اور چیف جسٹس سے جلد سماعت کی استدعا کریں گے،علاوہ ازیں توشہ خانہ نیب کیس کی کارروائی بھی ہائیکورٹ میں چیلنج کیے جانے کا امکان ہے۔

    واضح رہے کہ سائفر کیس کی سماعت راولپنڈی اڈیالہ جیل میں ہوتی ہے،بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کے خلاف سائفر کیس حتمی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے گزشتہ روز آفیشل سیکریٹ ایکٹ عدالت کے جج ابو الحسنات محمد ذوالقرنین نے کیس کی سماعت اڈیالہ جیل میں کی، کیس میں مزید 11 گواہان کے بیانات پر جرح مکمل کرلی گئی، سائفر کیس میں مجموعی طور پر تمام 25 گواہان پر جرح کا عمل مکمل ہوگی، گواہان پر جرح کے بعد ملزمان کے 342 کے بیانات ریکارڈ کرنے کیلئے سوالنامے تیار کرلیے گئے۔

    برٹش ایشین ٹرسٹ نے راحت فتح علی خان سے وابستگی ختم کر لی

    سابق سیکرٹری خارجہ سہیل محمود، سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان، سابق سیکرٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر، سیکرٹری داخلہ آفتاب اکبر درانی، امریکہ میں سابق سفیر اسد مجید اور دیگر گواہوں کے بیانات پر جرح اسٹیٹ ڈیفنس کونسل نے کی۔

    سوڈان میں پاکستانی امن دستے پر حملہ ،ایک سپاہی شہید

    جرح کے دوران شاہ محمود قریشی نے اسٹیٹ ڈیفینس کونسلز پر اعتراض کیا، جس پر جج کا کہنا تھا کہ آپ خاموشی سے بیٹھ جائیں ورنہ آپ کو کمرہ عدالت سے باہر نکال دیا جائے گا، بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت کے جج پر عدم اعتماد کا اظہار بھی کیا، عدالت نے دلائل سننے کے بعد سائفر کیس نہ سننے کی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔

    بھارتی اسٹینڈ اپ کامیڈین منور فاروقی نےبگ باس 17 کا ٹائٹل جیت لیا

  • بھارتی اسٹینڈ اپ کامیڈین منور فاروقی نےبگ باس 17 کا ٹائٹل جیت لیا

    بھارتی اسٹینڈ اپ کامیڈین منور فاروقی نےبگ باس 17 کا ٹائٹل جیت لیا

    ممبئی: بھارتی اسٹینڈ اپ کامیڈین منور فاروقی نے رئیلیٹی شو بگ باس 17 کا ٹائٹل جیت لیا ہے جبکہ ابھیشیک کمار رنر اپ قرار پائے۔

    باغی ٹی وی: بگ باس 17 کا ٹائٹل جیتنے پر منور فاروقی کو 50 لاکھ روپے، ایک کار اور بگ باس ٹرافی ملی، بھارتی رئیلیٹی شو بگ باس کا یہ سیزن 16 اکتوبر 2023 سے شروع ہوا جس میں انکیتا لوکھنڈے، ابھیشیک کمار، منور فاروقی، منارا چوپڑا اور ارون مشیٹی شو کے ٹاپ 5 کنٹیسٹنٹ کی دوڑ میں شامل تھے، بالی وڈ کے سپر اسٹارسلمان خان نے اس مقبول ریئیلٹی شو کی میزبانی کی۔

    سلمان خان نے جب بگ باس 17 کے فائنل میں ٹاپ 2 کنٹیسٹنٹ منور فاروقی اور ابھیشیک کمار کا اعلان کیا تو سب کو یہی لگ رہا تھا کہ ابھیشیک کے سر ہی بگ باس 17 کا تاج سجے گا کیونکہ شو میں منور فاروقی تنازعات کا شکار رہے،شو کے میزبان سلمان خان نے بگ باس 17 کے فاتح کے طور پر جب منور فاروقی کا نام لیا تو سب حیران رہ گئے، منور فاروقی نے جیت کا ٹائٹل اپنے نام کیا جبکہ ابھیشیک کمار رنر اپ قرار پائے۔

    بگ باس 17 میں منور کے سفر کے بارے میں بات کرتے ہوئے، بہت سے مقابلہ کرنے والوں اور خود سلمان خان نے بھی ان کے کھیل کو بورنگ قرار دیا تھا، اکثر لوگوں کو ان کی غلطیوں پر مؤقف دیتے ہوئے نہیں دیکھا گیا، اس پر منور نے کہا تھا کہ وہ اپنی زندگی میں ایک پرسکون انسان ہیں جو چیخنے چلانے کے بجائے پرسکون طریقے سے حالات سے نمٹنے کو ترجیح دیتے ہیں۔