Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • مفلس کے بدن کو بھی ہے چادر کی ضرورت

    مفلس کے بدن کو بھی ہے چادر کی ضرورت

    مفلس کے بدن کو بھی ہے چادر کی ضرورت
    اب کھل کے مزاروں پہ یہ اعلان کیا جائے

    قتیل شفائی

    قتیل شفائی یا اورنگزیب خان (پیدائش 24 دسمبر، 1919ء – وفات 11 جولائی، 2001ء) پاکستان کے ایک مشہور و معروف اردو شاعر تھے۔ قتیل شفائی خیبر پختونخوا، ہری پور، ہزارہ میں پیدا ہوئے۔ اس کے بعد لاہور میں سکونت اختیار کی۔ یہاں پر فلمی دنیا سے وابستہ ہوئے اور بہت سی فلموں کے لیے گیت لکھے۔
    ابتدائی زندگی اور کیرئر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    قتیل شفائی 1919ء میں برطانوی ہند (موجوہ پاکستان) میں پیدا ہوئے۔ ان کا پیدائشی نام محمد اورنگ زیب تھا، انھوں نے 1938ء میں قتیل شفائی اپنا قلمی نام رکھا اور اردو دنیا میں اسی نام سے مشہور ہیں، اردو شاعری میں وہ قتیل تخلص کرتے ہیں، شفائی انھوں نے اپنے استاد حکیم محمد یحیی شفاؔ کانپوری کے نام کی وجہ سے اپنے نام کے ساتھ لگایا۔ 1935ء میں ان کے والد کی وفات ہوئی اور ان پر اعلیٰ تعلیم چھوڑنے کا دباؤ بنا۔ انھوں نے کھیل کے سامان کی ایک دکان کھول لی مگر تجارت میں وہ ناکام رہے اور انھوں نے اپنے چھوٹے سے قصبے سے راولپنڈی منتقل ہونے کا فیصلہ کیا جہاں انھوں نے ایک ٹرانسپورٹ کمپنی کے لیے کام کرنا شروع کیا۔ بعد میں 1947ء میں انھوں نے پاکستانی سنیما میں قدم رکھا اور نغمہ لکھنے لگے۔ ان کے والد ایک تاجر تھے اور ان کے گھر میں شعر و شاعری کا کوئی رواج نہ تھا۔ ابتدا میں انھوں حکیم یحیی کو اپنا کلام دکھانا شروع کیا اور بعد میں احمد ندیم قاسمی سے اصلاح لینے لگے اور باقاعدہ ان کے شاگرد بن گئے، قاسمی ان کے دوست بھی تھے اور پڑوسی بھی۔
    فلمی دنیا
    ۔۔۔۔
    1948ء میں ریلیز ہونے والی پاکستان کی پہلی فلم ’’تیری یاد‘‘ کی نغمہ نگاری سے ان کے فلمی سفر کا آغاز ہوا۔ جس کے بعد انھوں نے مجموعی طور پر 201 فلموں میں 900 سے زائد گیت تحریر کیے۔ وہ پاکستان کے واحد فلمی نغمہ نگار تھے جنھیں ہندستانی فلموں کے لیے نغمہ نگاری کا اعزاز بھی حاصل ہوا تھا۔ انھوں نے کئی فلمیں بھی بنائیں جن میں پشتو فلم عجب خان آفریدی کے علاوہ ہندکو زبان میں بنائی جانے والی پہلی فلم ’’قصہ خوانی‘‘ شامل تھی۔ انھوں نے اردو میں بھی ایک فلم ’’اک لڑکی میرے گائوں کی‘‘ بنانی شروع کی تھی مگر یہ فلم مکمل نہ ہوسکی تھی۔ فلمی مصروفیات کے ساتھ ساتھ قتیل شفائی کا ادبی سفر بھی جاری رہا۔ اپنی عمر کے آخری دور میں متعدد مرتبہ ممبئی کا بھی سفر کیا اور ’سر‘، ’دیوانہ تیرے نام کا‘، ’بڑے دل والا‘ اور ’پھر تیری کہانی یاد آئی‘ جیسی ہندستانی فلموں کے لیے بھی عمدہ گیت لکھے۔

    اُن کے گیتوں کی مجموعی تعداد ڈھائی ہزار سے زیادہ بنتی ہے، جن میں ’صدا ہوں اپنے پیار کی‘، ’اے دل کسی کی یاد میں ہوتا ہے بے قرار کیوں‘، ’یوں زندگی کی راہ سے ٹکرا گیا کوئی‘ کے ساتھ ساتھ ’یہ وادیاں، یہ پربتوں کی شاہزادیاں‘ جیسے زبان زدِ خاص و عام گیت بھی شامل ہیں۔ ان میں سے کئی گیتوں پر اُنھیں خصوصی اعزازات سے نوازا گیا-

    کلام کی خصوصیات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    قتیل شفائی نہایت ہی مقبول اور ہردلعزیز شاعر ہیں، ان کے لہجے کی سادگی و سچائی، عام فہم زبان کا استعمال اور عوام الناس کے جذبات و محسوسات کی خوبصورت ترجمانی ہی ان کی مقبولیت کا راز ہے یوں تو انھوں نے مختلف اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی مگر ان کا اصل میدان غزل ہے، ان کی شاعری میں سماجی او رسیاسی شعور بھی موجود ہے، اور انھیں صف اول کے ترقی پسند شعرا میں اہم مقام حاصل ہے فلمی نغمہ نگاری میں بھی انھوں نے ایک معتبر مقام حاصل کیا ان کا کلام پاکستان اور ہندستان دونوں ملکوں میں یکساں طور پر مقبول ہے۔

    اعزازت
    ۔۔۔۔۔
    صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی 1994ء، آدم جی ادبی انعام، امیر خسرو ایورڈ، نقوش ایورڈ۔ نیز ہندستان کی مگدھ یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے ’’قتیل اور ان کے ادبی کارنامے‘‘ کے عنوان سے ان پر پی ایچ ڈی کی۔ صوبہ مہاراشٹر میں ان کی دو نظمیں شامل نصاب ہیں۔ علاوہ ازیں بہاول پور یونیورسٹی کی دو طالبات نے ایم اے کے لیے ان پر مقالہ تحریر کیا۔
    فلمی نغمہ نگاری
    ۔۔۔۔۔۔
    پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد سے نغمہ نگاری کا آغاز کیا۔ اڑھائی ہزار سے زائد نغمے لکھے۔ انہیں نیشنل فلم ایورڈ کے علاوہ دو طلائی تمغے اور بیس ایورڈ بھی دیے گئے۔
    تصانیف
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)ہریالی
    ۔ (2)گجر
    ۔ (3)جلترنگ
    ۔ (4)روزن
    ۔ (5)جھومر
    ۔ (6)مطربہ
    ۔ (7)چھتنار
    ۔ (8)گفتگو
    ۔ (9)پیراہن
    ۔ (10)آموختہ
    ۔ (11)ابابیل
    ۔ (12)برگد
    ۔ (13)گھنگرو
    ۔ (14)سمندر میں سیڑھی
    ۔ (15)پھوار
    ۔ (16)صنم
    ۔ (17)پرچم
    انتخاب (منتخب مجموعہ)
    کلیات
    ۔۔۔۔۔
    رنگ خوشبو روشنی (تین جلدیں)
    وفات
    ۔۔۔۔۔
    11 جولائی 2001ء کو قتیل شفائی لاہور میں وفات پاگئے اور علامہ اقبال ٹائون کے کریم بلاک کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے
    منسوبات
    ۔۔۔۔۔
    لاہور جہاں رہتے تھے وہاں سے گزرنے والی شاہراہ کو ان کے نام سے منسوب کیا گیا ہے جبکہ ہری پور میں ان کے رہائشی محلے کا نام محلہ قتیل شفائی رکھ دیا گیا۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجا لے مجھ کو
    میں ہوں تیرا تو نصیب اپنا بنا لے مجھ کو
    میں جو کانٹا ہوں تو چل مجھ سے بچا کر دامن
    میں ہوں گر پھول تو جوڑے میں سجا لے مجھ کو
    ترک الفت کی قسم بھی کوئی ہوتی ہے قسم
    تو کبھی یاد تو کر بھولنے والے مجھ کو
    مجھ سے تو پوچھنے آیا ہے وفا کے معنی
    یہ تری سادہ دلی مار نہ ڈالے مجھ کو
    میں سمندر بھی ہوں موتی بھی ہوں غوطہ زن بھی
    کوئی بھی نام مرا لے کے بلا لے مجھ کو
    تو نے دیکھا نہیں آئینے سے آگے کچھ بھی
    خود پرستی میں کہیں تو نہ گنوا لے مجھ کو
    باندھ کر سنگ وفا کر دیا تو نے غرقاب
    کون ایسا ہے جو اب ڈھونڈ نکالے مجھ کو
    خود کو میں بانٹ نہ ڈالوں کہیں دامن دامن
    کر دیا تو نے اگر میرے حوالے مجھ کو
    میں کھلے در کے کسی گھر کا ہوں ساماں پیارے
    تو دبے پاؤں کبھی آ کے چرا لے مجھ کو
    کل کی بات اور ہے میں اب سا رہوں یا نہ رہوں
    جتنا جی چاہے ترا آج ستا لے مجھ کو
    بادہ پھر بادہ ہے میں زہر بھی پی جاؤں قتیلؔ
    شرط یہ ہے کوئی بانہوں میں سنبھالے مجھ کو

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    صدمہ تو ہے مجھے بھی کہ تجھ سے جدا ہوں میں
    لیکن یہ سوچتا ہوں کہ اب تیرا کیا ہوں میں
    بکھرا پڑا ہے تیرے ہی گھر میں ترا وجود
    بے کار محفلوں میں تجھے ڈھونڈتا ہوں میں
    میں خودکشی کے جرم کا کرتا ہوں اعتراف
    اپنے بدن کی قبر میں کب سے گڑا ہوں میں
    کس کس کا نام لاؤں زباں پر کہ تیرے ساتھ
    ہر روز ایک شخص نیا دیکھتا ہوں میں
    کیا جانے کس ادا سے لیا تو نے میرا نام
    دنیا سمجھ رہی ہے کہ سچ مچ ترا ہوں میں
    پہنچا جو تیرے در پہ تو محسوس یہ ہوا
    لمبی سی ایک قطار میں جیسے کھڑا ہوں میں
    لے میرے تجربوں سے سبق اے مرے رقیب
    دو چار سال عمر میں تجھ سے بڑا ہوں میں
    جاگا ہوا ضمیر وہ آئینہ ہے قتیلؔ
    سونے سے پہلے روز جسے دیکھتا ہوں میں

    متفرق اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ہمیں بھی نیند آ جائے گی ہم بھی سو ہی جائیں گے
    ابھی کچھ بے قراری ہے ستارو تم تو سو جاؤ

    آخری ہچکی ترے زانوں پہ آئے
    موت بھی میں شاعرانہ چاہتا ہوں

    جب بھی آتا ہے مرا نام ترے نام کے ساتھ
    جانے کیوں لوگ مرے نام سے جل جاتے ہیں

    چلو اچھا ہوا کام آ گئی دیوانگی اپنی
    وگرنہ ہم زمانے بھر کو سمجھانے کہاں جاتے

    اف وہ مرمر سے تراشا ہوا شفاف بدن
    دیکھنے والے اسے تاج محل کہتے ہیں

    یوں لگے دوست ترا مجھ سے خفا ہو جانا
    جس طرح پھول سے خوشبو کا جدا ہو جانا

    دل پہ آئے ہوئے الزام سے پہچانتے ہیں
    لوگ اب مجھ کو ترے نام سے پہچانتے ہیں

    دور تک چھائے تھے بادل اور کہیں سایہ نہ تھا
    اس طرح برسات کا موسم کبھی آیا نہ تھا

    ہم اسے یاد بہت آئیں گے
    جب اسے بھی کوئی ٹھکرائے گا

    یہ ٹھیک ہے نہیں مرتا کوئی جدائی میں
    خدا کسی کو کسی سے مگر جدا نہ کرے

    تھک گیا میں کرتے کرتے یاد تجھ کو
    اب تجھے میں یاد آنا چاہتا ہوں

    گرمیٔ حسرت ناکام سے جل جاتے ہیں
    ہم چراغوں کی طرح شام سے جل جاتے ہیں

    تم پوچھو اور میں نہ بتاؤں ایسے تو حالات نہیں
    ایک ذرا سا دل ٹوٹا ہے اور تو کوئی بات نہیں

    میرے بعد وفا کا دھوکا اور کسی سے مت کرنا
    گالی دے گی دنیا تجھ کو سر میرا جھک جائے گا

    اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی
    ہم نے تو دل جلا کے سر عام رکھ دیا

    گرتے ہیں سمندر میں بڑے شوق سے دریا
    لیکن کسی دریا میں سمندر نہیں گرتا

    احباب کو دے رہا ہوں دھوکا
    چہرے پہ خوشی سجا رہا ہوں

    کچھ کہہ رہی ہیں آپ کے سینے کی دھڑکنیں
    میرا نہیں تو دل کا کہا مان جائیے

    اچھا یقیں نہیں ہے تو کشتی ڈبا کے دیکھ
    اک تو ہی ناخدا نہیں ظالم خدا بھی ہے

    لے میرے تجربوں سے سبق اے مرے رقیب
    دو چار سال عمر میں تجھ سے بڑا ہوں میں

    کیا جانے کس ادا سے لیا تو نے میرا نام
    دنیا سمجھ رہی ہے کہ سچ مچ ترا ہوں میں

    وہ میرا دوست ہے سارے جہاں کو ہے معلوم
    دغا کرے وہ کسی سے تو شرم آئے مجھے

    مجھ سے تو پوچھنے آیا ہے وفا کے معنی
    یہ تری سادہ دلی مار نہ ڈالے مجھ کو

    رہے گا ساتھ ترا پیار زندگی بن کر
    یہ اور بات مری زندگی وفا نہ کرے

    جو بھی آتا ہے بتاتا ہے نیا کوئی علاج
    بٹ نہ جائے ترا بیمار مسیحاؤں میں

    ابھی تو بات کرو ہم سے دوستوں کی طرح
    پھر اختلاف کے پہلو نکالتے رہنا

    نہ جانے کون سی منزل پہ آ پہنچا ہے پیار اپنا
    نہ ہم کو اعتبار اپنا نہ ان کو اعتبار اپنا

    ستم تو یہ ہے کہ وہ بھی نہ بن سکا اپنا
    قبول ہم نے کیے جس کے غم خوشی کی طرح

    حالات سے خوف کھا رہا ہوں
    شیشے کے محل بنا رہا ہوں

    حسن کو چاند جوانی کو کنول کہتے ہیں
    ان کی صورت نظر آئے تو غزل کہتے ہیں

    وہ دل ہی کیا ترے ملنے کی جو دعا نہ کرے
    میں تجھ کو بھول کے زندہ رہوں خدا نہ کرے

    گنگناتی ہوئی آتی ہیں فلک سے بوندیں
    کوئی بدلی تری پازیب سے ٹکرائی ہے

    میں اپنے دل سے نکالوں خیال کس کس کا
    جو تو نہیں تو کوئی اور یاد آئے مجھے

    جس برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے
    اس کو دفناؤ مرے ہاتھ کی ریکھاؤں میں

    وہ تیری بھی تو پہلی محبت نہ تھی قتیلؔ
    پھر کیا ہوا اگر وہ بھی ہرجائی بن گیا

    مفلس کے بدن کو بھی ہے چادر کی ضرورت
    اب کھل کے مزاروں پہ یہ اعلان کیا جائے

    کیا مصلحت شناس تھا وہ آدمی قتیلؔ
    مجبوریوں کا جس نے وفا نام رکھ دیا

    رابطہ لاکھ سہی قافلہ سالار کے ساتھ
    ہم کو چلنا ہے مگر وقت کی رفتار کے ساتھ

    جیت لے جائے کوئی مجھ کو نصیبوں والا
    زندگی نے مجھے داؤں پہ لگا رکھا ہے

    یوں تسلی دے رہے ہیں ہم دل بیمار کو
    جس طرح تھامے کوئی گرتی ہوئی دیوار کو

    ہم کو آپس میں محبت نہیں کرنے دیتے
    اک یہی عیب ہے اس شہر کے داناؤں میں

    آیا ہی تھا ابھی مرے لب پہ وفا کا نام
    کچھ دوستوں نے ہاتھ میں پتھر اٹھا لیے

    شمع جس آگ میں جلتی ہے نمائش کے لیے
    ہم اسی آگ میں گم نام سے جل جاتے ہیں

    تمہاری بے رخی نے لاج رکھ لی بادہ خانے کی
    تم آنکھوں سے پلا دیتے تو پیمانے کہاں جاتے

    اپنے لیے اب ایک ہی راہ نجات ہے
    ہر ظلم کو رضائے خدا کہہ لیا کرو

    انگڑائی پر انگڑائی لیتی ہے رات جدائی کی
    تم کیا سمجھو تم کیا جانو بات مری تنہائی کی

    حوصلہ کس میں ہے یوسف کی خریداری کا
    اب تو مہنگائی کے چرچے ہیں زلیخاؤں میں

    مانا جیون میں عورت اک بار محبت کرتی ہے
    لیکن مجھ کو یہ تو بتا دے کیا تو عورت ذات نہیں

    ترک وفا کے بعد یہ اس کی ادا قتیلؔ
    مجھ کو ستائے کوئی تو اس کو برا لگے

    کس طرح اپنی محبت کی میں تکمیل کروں
    غم ہستی بھی تو شامل ہے غم یار کے ساتھ

    ثبوت عشق کی یہ بھی تو ایک صورت ہے
    کہ جس سے پیار کریں اس پہ تہمتیں بھی دھریں

    کیوں شریک غم بناتے ہو کسی کو اے قتیلؔ
    اپنی سولی اپنے کاندھے پر اٹھاؤ چپ رہو

    دشمنی مجھ سے کئے جا مگر اپنا بن کر
    جان لے لے مری صیاد مگر پیار کے ساتھ

    یوں برستی ہیں تصور میں پرانی یادیں
    جیسے برسات کی رم جھم میں سماں ہوتا ہے

    ہم ان کے ستم کو بھی کرم جان رہے ہیں
    اور وہ ہیں کہ اس پر بھی برا مان رہے ہیں

    اپنی زباں تو بند ہے تم خود ہی سوچ لو
    پڑتا نہیں ہے یوں ہی ستم گر کسی کا نام

    قتیلؔ اب دل کی دھڑکن بن گئی ہے چاپ قدموں کی
    کوئی میری طرف آتا ہوا محسوس ہوتا ہے

    یہ معجزہ بھی محبت کبھی دکھائے مجھے
    کہ سنگ تجھ پہ گرے اور زخم آئے مجھے

    تھوڑی سی اور زخم کو گہرائی مل گئی
    تھوڑا سا اور درد کا احساس گھٹ گیا

    اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجا لے مجھ کو
    میں ہوں تیرا تو نصیب اپنا بنا لے مجھ کو

    نکل کر دیر و کعبہ سے اگر ملتا نہ بت خانہ
    تو ٹھکرائے ہوئے انساں خدا جانے کہاں جاتے

    تم آ سکو تو شب کو بڑھا دو کچھ اور بھی
    اپنے کہے میں صبح کا تارا ہے ان دنوں

    داد سفر ملی ہے کسے راہ شوق میں
    ہم نے مٹا دئے ہیں نشاں اپنے پاؤں کے

    میں گھر سے تیری تمنا پہن کے جب نکلوں
    برہنہ شہر میں کوئی نظر نہ آئے مجھے

    یارو یہ دور ضعف بصارت کا دور ہے
    آندھی اٹھے تو اس کو گھٹا کہہ لیا کرو

    بہ پاس دل جسے اپنے لبوں سے بھی چھپایا تھا
    مرا وہ راز تیرے ہجر نے پہنچا دیا سب تک

    رقص کرنے کا ملا حکم جو دریاؤں میں
    ہم نے خوش ہو کے بھنور باندھ لیا پاؤں میں

    میں جب قتیلؔ اپنا سب کچھ لٹا چکا ہوں
    اب میرا پیار مجھ سے دانائی چاہتا ہے

    سوچ کو جرأت پرواز تو مل لینے دو
    یہ زمیں اور ہمیں تنگ دکھائی دے گی

    زندگی میں بھی چلوں گا ترے پیچھے پیچھے
    تو مرے دوست کا نقش کف پا ہو جانا

    قتیل اپنا مقدر غم سے بیگانہ اگر ہوتا
    تو پھر اپنے پرائے ہم سے پہچانے کہاں جاتے

    سوکھ گئی جب آنکھوں میں پیار کی نیلی جھیل قتیلؔ
    تیرے درد کا زرد سمندر کاہے شور مچائے گا

    نہ چھاؤں کرنے کو ہے وہ آنچل نہ چین لینے کو ہیں وہ بانہیں
    مسافروں کے قریب آ کر ہر اک بسیرا پلٹ گیا ہے

    تیز دھوپ میں آئی ایسی لہر سردی کی
    موم کا ہر اک پتلا بچ گیا پگھلنے سے
    Cp

  • امریکا کا 2030 تک چاند پر ایک اور انسانی مشن بھیجنے کے منصوبے کا اعلان

    امریکا کا 2030 تک چاند پر ایک اور انسانی مشن بھیجنے کے منصوبے کا اعلان

    واشنگٹن: امریکا نے 2030 تک چاند پر ایک اور انسانی مشن بھیجنے کے منصوبے کا اعلان کردیا ہے،امریکہ نے حال ہی میں اگلے دہائی کے اندر، خاص طور پر سال 2030 تک چاند پر ایک اضافی انسان بردار مشن بھیجنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ امریکا 2030 تک ایک بین الا قو امی خلاباز کو چاند کی سطح پر دوبارہ بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے امریکی نائب صدر کمالا ہیرس اسپیس کونسل کے اجلاس میں مذکورہ بالا مشن کا باضابطہ اعلان کریں گی جو کہ ریاستہائے متحدہ کی خلائی تحقیق کی کوششوں کا ایک اہم لمحہ ہےاعلان کے مطابق، وائٹ ہاؤس نے اجلاس کے وسیع مقصد پر زور دیا تاکہ مضبوط بین الاقوامی شراکت داری کی اہمیت کو اجاگر کیا جائے اور خلا میں مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے ان کی توسیع کو فروغ دیا جائے۔

    وائٹ ہاؤس کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ اجلاس میں بین الاقوامی سطح پر شراکت داری کی وسعت اور اسے مزید مضبوط کرنے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا جائے گا صدر جو بائیڈن نے اس منصوبے سے متعلق خلائی آپریشنز میں اتحادیوں کے ساتھ انضمام کی منظوری دے دی ہے جس کا مقصد باہمی مفاد کے لیے معلومات کے تبادلے، انسدادِ خلائی خطرات اور خلا کے مخالفانہ استعمال کو روکنا ہے اتحادیوں میں اٹلی، جاپان اور ناروے کے ساتھ ساتھ آسٹریلیا، کینیڈا، فرانس، جرمنی، نیوزی لینڈ اور برطانیہ شامل ہیں۔

  • بلاول بھٹو  کا این اے 128  کی بجائے کسی اور حلقے سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ

    بلاول بھٹو کا این اے 128 کی بجائے کسی اور حلقے سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ

    لاہور: چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو این اے 128 کی بجائے کسی اور حلقے سے الیکشن لڑیں گے-

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے "جیو”نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کو این اے 128سے الیکشن لڑنے کی تجویز پر متضاد آرا آنے کے بعد فیصلہ تبدیل کیے جانے کا امکان ہے کیونکہ بلاول بھٹو کو اب این اے 127 لاہور سے قومی اسمبلی کا الیکشن لڑنے کا مشورہ دیا جارہا ہے جس کیلئے یہ جواز پیش کیا جا رہا ہے کہ این اے 128پارٹی کیلئے کبھی سودمند نہیں رہا۔

    بلاول بھٹوکا این اے 127 لاہور سے قومی اسمبلی کا الیکشن لڑنے کا امکان ہے، کاغذات نامزدگی آج ریٹرننگ افسر کو جمع کرائے جا سکتے ہیں۔

    اسرائیل پورے مشرق وسطیٰ کے امن کے لیے خطرہ ہے،ایران

    دوسری جانب خیال رہے کہ مسلم لیگ ن کی سینئر نائب صدر مریم نواز نے لاہور کے حلقہ این اے 119 اور این اے 120 کے ساتھ ساتھ لاہور سے پنجاب اسمبلی کے تین حلقوں پر بھی کاغذات جمع کرا دئیے ہیں،جبکہ سابق چئیرمین پی ٹی آئی لاہور کے حلقہ این اے 122 سے الیکشن لڑیں گے –

    پی ٹی آئی رہنما شعیب شاہین نے اسلام آباد کے تینوں حلقوں سے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرا دیئے ہیں، شعیب شاہین نے اسلام آباد سے قومی اسمبلی کے تینوں حلقوں این اے 46، این اے 47 اور این اے 48 سے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرائے۔

    پی ٹی آئی کے سید مصطفین کاظمی نے بھی قومی اسمبلی کی نشست این اے 46 اور این اے 47 کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرائے جبکہ پی ٹی آئی کے رہنما عامر شیخ نے این اے 47 سے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں-

    کراچی میں ٹارگٹ کلنگ،2 نوجوان جاں بحق

    مسلم لیگ ن کے رفعت چودھری نے این اے 48 اور سابق ڈپٹی میئر ذیشان نقوی نے این اے 47 کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرا دیئے-

    استحکام پاکستان پارٹی کے صدر علیم خان نے خانیوال کے 2 حلقوں سے کاغذات نامزدگی جمع کرا دیئے۔

    استحکام پاکستان پارٹی کے صدر علیم خان نے ضلع خانیوال کی تحصیل جہانیاں کے قومی اسمبلی کی نشست این اے 147 اور خانیوال ہی کی صوبائی اسمبلی کی نشست پی پی 209 سے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرا دیئے،علیم خان کے کاغذات نامزدگی لیگل ٹیم میں شامل ڈاکٹر خالد نعیم نے جمع کروائے۔

    علاوہ ازیں استحکام پاکستان پارٹی سینٹرل ایگزیکٹیو کونسل کے رکن اور سابق مشیر وزیر اعلیٰ پنجاب نوابزادہ ایاز خان نیازی نے بھی قومی اسمبلی کی نشست این اے 147 اور صوبائی اسمبلی کی نشست پی پی 209 سے کاغذات نامزدگی جمع کروائے۔

    یونان نے بحیرہ روم میں 81 تارکین وطن کو بچالیا

  • 2023 میں  زیادہ منافع دینے والے اثاثوں کی فہرست جاری

    2023 میں زیادہ منافع دینے والے اثاثوں کی فہرست جاری

    اسلام آباد: ٹاپ لائن سکیورٹیز نے 2023 میں سے زیادہ منافع دینے والے اثاثوں کی فہرست جاری کردی،جس کے مطابق حکومت کے 3 ماہ کے ٹی بلز میں سال بھر سرمایہ کاری کرنے والوں نے 23 فیصد کمائی کی۔

    باغی ٹی وی : ٹاپ لائن سکیورٹیز کے مطابق پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے سرمایہ کاروں نے رواں سال میں 53 فیصد کمائی کی جبکہ روشن ڈیجیٹل ڈالرسرٹیفکیٹ میں سرمایہ کاری نے 33 فیصد منافع کمایا ڈالر میں سرمایہ کاری نے سال 23 میں 21 فیصد اور سونے میں سرمایہ کاری کرنے والوں نے سال 23 میں 18 فیصد نفع کمایا جبکہ حکومت کے 3 ماہ کے ٹی بلز میں سال بھر سرمایہ کاری کرنے والوں نے 23 فیصد کمائی کی۔

    تائیوان میں 6.3 شدت زلزلے کے شدید جھٹکے

    ٹاپ لائن سکیورٹیز کے مطابق بینکوں میں جمع کرائے ڈیپازٹس نے سال 23 میں اوسطاً 17 فیصد نفع کمایا جب کہ قومی بچت کی اسپیشل سیونگ اسکیمز نے 13 فیصد اور میوچل فنڈ انڈسٹری میں سرمایہ کاری سے 20 فیصد نفع کمایا گیا دوسری جانب رئیل اسٹیٹ میں سال 2023 میں سرمایہ کاری کم ہوئی،کم ازکم منافع 6 فیصدرہا۔

    اسرائیل پورے مشرق وسطیٰ کے امن کے لیے خطرہ ہے،ایران

  • کراچی میں ٹارگٹ کلنگ،2 نوجوان جاں بحق

    کراچی میں ٹارگٹ کلنگ،2 نوجوان جاں بحق

    کراچی کے علاقے گرومندر کے قریب ٹارگٹ کلنگ کے واقعے میں اورنگی ٹاؤن کا رہائشی محمد اعجاز جاں بحق ہوگیا۔

    باغی ٹی وی : پولیس کے مطابق 25 سالہ محمد اعجاز فٹ پاتھ پر بھاگ رہا تھا جبکہ ملزمان گاڑی میں اس کا پیچھا کر رہے تھے، ملزمان نے مقتول پر 26 سے زائد گولیاں برسائیں جن میں سے 5 گولیاں مقتول کو لگیں واقعہ ذاتی دشمنی کا شاخسانہ لگتا ہے، کرائم سین یونٹ کی ٹیم کو موقع سے نائن ایم ایم کے 26 خول ملے ہیں، دوسر ی جانب عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور ایک گاڑی اور ایک موٹر سائیکل پر سوار تھے جو مقتول کا پیچھا کر رہے تھے فائرنگ کے واقعہ میں ایک راہ گیر نوجوان 18 سالہ عدیل محمد شاہ بھی ٹانگ پر گولی لگنے سے زخمی ہوا ہے جب کہ اطلاعات کے مطابق ملزمان آئسکریم کی دکان پر آئے تھے جنھیں دیکھ کر دکاندار اعجاز بھاگا لیکن وہ کچھ قدم کے بعد ہی فائرنگ کا نشانہ بنا دیا گیا ۔

    اسرائیل پورے مشرق وسطیٰ کے امن کے لیے خطرہ ہے،ایران

    علاوہ ازیں نیوکراچی صنعتی ایریا میں مسلح افراد نے دھاگے کی فیکٹری کے مالک کی گاڑی پر فائرنگ کی جس میں 28 سالہ اسامہ مامون موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا پولیس نے بتایا کہ واقعے کے وقت کار میں مقتول کے والد اور دو بھائی بھی موجود تھے جو معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔

    تائیوان میں 6.3 شدت زلزلے کے شدید جھٹکے

    صنعت کار سلیم مامون اپنے تین جوان بیٹوں کے ہمراہ رہائش گاہ ڈیفنس سے نیوکراچی صنعتی ایریا سیکٹر 12 ڈی پہنچے تو موٹر سائیکل پر سوار افراد نے گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کی فائرنگ کے نتیجے میں گاڑی میں ڈرائیونگ سیٹ کے ساتھ آگے بیٹھے 28 سالہ اسامہ مامون کو ایک گولی لگی جو الٹے ہاتھ کو چھو کر پسلیوں میں پیوست ہوئی اور نوجوان موقع پر ہی دم توڑ دیاجائے وقوعہ سے نائن ایم ایم کے چار خول برآمد ہوئے، عینی شاہدین نے بتایا کہ گلی میں دو موٹرسائیکلوں پر چار لڑکے تھے جبکہ اُن کے بیک اپ پر بھی مزید لوگ موجود تھے۔

    کراچی ٹرین میں بم پشاور اسٹیشن سے ٹرین میں رکھا گیا تھا،تحقیقات

  • یونان نے بحیرہ روم میں 81  تارکین وطن کو بچالیا

    یونان نے بحیرہ روم میں 81 تارکین وطن کو بچالیا

    یونان نے بحیرہ روم میں بین الاقوامی پانیوں سے 81 تارکین وطن کو بچالیا ہے،کسی لاپتہ یا جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبررساں ادارے کے مطابق فرانسیسی پرچم والے ایک مال بردار جہاز کو یونان کے ساحلوں سے تقریباً 120 سمندری میل کے فاصلے پر پھنس گیا تھا جس میں موجود 81افراد کو بچا کر جنوبی یونان میں جزیرہ نما پیلوپونیس کے کالاماتا بندرگاہی شہر منتقل کر دیا گیا ہے۔

    اٹلی جانے والا ایک اوور لوڈڈ بحری جہاز گزشتہ موسم گرما میں جزیرہ نما پیلوپونیس کے بین الاقوامی پانیوں میں اسی طرح کے معاملے میں ڈوب گیا تھا یونان کے کوسٹ گارڈ نے 104 افراد کو بچا لیا اور 82 لاشیں نکال لیں۔

    غزہ پر اسرائیلی بمباری، ایک ہی خاندان کے 76 افراد شہید

    2015 میں مہاجرین کی نقل مکانی کے بحران کے آغاز کے بعد سے اب تک ایک ملین سے زائد افراد یونان پہنچ چکے ہیں، جن میں سے بیشتر نے دوسرے یورپی ممالک کا سفر جاری رکھا۔

    واضح رہے کہ یورپی یونین کی کونسل اور یورپی پارلیمنٹ نے بدھ کے روز ایک عارضی معاہدہ طے کیا ہے جس سے توقع ہے کہ بلاک کی سیاسی پناہ اور ہجرت کی پالیسی میں مکمل اصلاحات کی جائیں گی، جس سے اس مسئلے پر برسوں کے تعطل کو توڑ دیا جائے گا۔

    بھارت کے مشہور موٹیویشنل اسپیکر کا نئی نویلی بیوی پر تشدد،مقدمہ درج

  • تمام جائز مطالبات پورے کئے جائیں گے،حکومتی نمائندوں کےبلوچ یکجہتی کونسل کے مظاہرین سے مذاکرات

    تمام جائز مطالبات پورے کئے جائیں گے،حکومتی نمائندوں کےبلوچ یکجہتی کونسل کے مظاہرین سے مذاکرات

    اسلام آباد میں نیشنل پریس کلب کے سامنے بلوچ یکجہتی کونسل کے مظاہرین سے نگران وزیراعظم کی قائم کردہ کمیٹی کے اراکین نے مذاکرات کیے۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کےمطابق وفاقی وزرا فواد حسن فواد اور مرتضیٰ سولنگی نےمظاہرین سے بات چیت کی اس موقع پر گورنر بلوچستان ملک ولی کاکڑ بھی نگران وفاقی وزرا کے ہمراہ موجود تھے، بلوچ یکجہتی کمیٹی کے نمائندوں سے گفتگو میں فواد حسن فواد کا کہنا تھا کہ وہ یہاں وزیراعظم کی جانب سے مذاکرات کرنے آئے ہیں، مظاہرین کے تمام جائز مطالبات پورے کئے جائیں گے، سابق رکنِ قومی اسمبلی علی وزیر، فرحت اللہ بابر اور سینیٹر مشتاق احمد، بھی بلوچ یکجہتی کونسل کے مظاہرے میں شریک تھے-

    کمیٹی کی ملاقات کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ طرفین میں گفتگو اچھے ماحول میں ہوئی، فریقین کی جانب سے آج دوبارہ مذاکرات پر آمادگی کا اظہار کیا گیا ہے جبکہ اس سے پہلے دن میں بھی گورنر بلوچستان ملک ولی کاکڑ نے مظاہرین سے مذاکرات کئے۔

    بھارت کے مشہور موٹیویشنل اسپیکر کا نئی نویلی بیوی پر تشدد،مقدمہ درج

    دوسری جانب بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے خضدار، حب، قلات، گوادر سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع میں احتجاجی مظاہرے اورشٹربند ہڑتالیں کی گئیں اور بھوانی کےمقام پر کراچی، کوئٹہ قومی شاہراہ پر دھرنےکےباعث ٹریفک دوسرے روز بھی معطل رہی۔

    غزہ پر اسرائیلی بمباری، ایک ہی خاندان کے 76 افراد شہید

  • تائیوان میں 6.3 شدت زلزلے کے شدید جھٹکے

    تائیوان میں 6.3 شدت زلزلے کے شدید جھٹکے

    تائپے: تائیوان کے کم آبادی والے مشرقی ساحل پر 6.3 شدت زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کئے گئے۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی خبر رساں ایجنسی "روئٹرز” کے مطابق تائیوان میں زلزلے کے شدید جھٹکے کے باعث عمارتیں لرز گئیں اور لوگ خوفزدہ ہو کر گھروں سے باہر نکل آئے، زلزلہ پیما مرکز کے مطابق تائیوان میں آنیوالے زلزلے کی ریکٹر اسکیل پر شدت 6.3 ریکارڈ کی گئی زلز لے کی گہرائی 10 کلومیٹر تھی،زلزلے کا مرکز ٹائیٹنگ کاؤنٹی کے قریب سمندر میں تھا تاہم اس سےسونامی کا خطرہ پیدا نہیں ہوا۔دارالحکومت تائپے میں زلزلے کے جھٹکے محسوس نہیں کیے گئے۔

    واضح رہے کہ تائیوان 2 ٹیکٹونک پلیٹوں کے سنگم کے قریب واقع ہے جہاں زیادہ تعداد میں زلزلے آتے رہتے ہیں۔

  • کراچی ٹرین میں  بم پشاور اسٹیشن سے ٹرین میں رکھا گیا تھا،تحقیقات

    کراچی ٹرین میں بم پشاور اسٹیشن سے ٹرین میں رکھا گیا تھا،تحقیقات

    کراچی کے کینٹ اسٹیشن میں ٹرین میں بم کے حوالے سے پولیس کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق بم پشاور اسٹیشن سے ٹرین میں رکھا گیا۔

    باغی ٹی وی: پولیس کی ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ پشاور سے کراچی آنے والی عوامی ایکسپریس سے ملنے والے بم کے ٹائمر کے حساب سےبم پھٹنے کا ٹائم دوپہر 12 بجےکا تھا اور اسوقت ٹرین سکھر روہڑی جنکشن پرتھی تاہم ٹائم ڈیوائس ناکارہ ہونے کی وجہ سےبم نہیں پھٹ سکا تھا رات کے وقت ٹرین کے کراچی میں کینٹ اسٹیشن پر آکر رکنے کے بھی ایک گھنٹے بعد پولیس کو بم کی اطلاع ملی۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ پشاور سے کراچی تک مختلف اسٹیشنوں کی سی سی ٹی وی ویڈیو حاصل کی جا رہی ہیں، حکام کے مطابق پانچ کلو وزنی بم سیاہ اور لال رنگ کے اسکول بیگ میں رکھا گیا تھا جو عوامی ایکسپریس کی بوگی نمبر 5 میں سیٹ نمبر 71 کے قریب سے ملا۔

    غزہ میں اسرائیلی جارحیت نےماضی کی جنگوں کی اموات کے تمام ریکارڈ توڑ دئیے

    دوسری جانب ٹرین سے بم ملنے کے واقعے کا مقدمہ سرکار کی مدعیت میں ایکسپلوزو ایکٹ اور انسداد دہشتگردی کی دفعات کے تحت درج کرلیا گیا مقدمے کے مطابق بوگی نمبر پانچ کی سیٹ نمبر 71 کے نیچے مشکوک بیگ دیکھا گیا، بوگی میں موجود مسافروں نے بیگ سے لاعلمی کا اظہار کیا بیگ کو کینٹ اسٹیشن پر ہیلپ سینٹر پر کھولا گیا تو اس میں مشکوک ڈیوائس، بیٹری اور تاریں نکلیں جس کے بعد بم ڈسپوزل یونٹ کو طلب کر کے بارودی مواد کو ناکارہ بنایا گیا۔

    تحقیقاتی ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں نے چلتی ٹرین کو خوفناک آگ کی نظر کرنے کا منصوبہ بنایا تھا بم میں ہائی اور لو ایکسپلوزیو استعمال کیا گیا تھا جس کے ملاپ سے خوفناک آگ لگتی ہےیہ بارود پیٹرول سے زیادہ خوفناک آگ لگانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    اسرائیل سے تعلق رکھنے والے ایک تجارتی بحری جہاز پر ڈرون حملہ

    ذرائع کے مطابق بم دھماکے کی صورت میں یہی بات سامنے آتی کہ چلتی ٹرین میں آگ لگ گئی کسی بھی چھیڑ چھاڑ سے بم پھٹ سکتا تھا جس کے باعث ڈسٹرکٹر کی مدد سے بم کو ڈی فیوز کیا گیا اور ٹرین کے مسافروں کو ذندہ جلانے کا منصوبہ ناکام ہوگیا۔

    ذرائع کے مطابق بم میں بارہ وولٹ کی ڈرائی بیٹری لگائی گئی تھی،اور اسے اسٹیل کی بالٹی نما برتن میں تیار کیا گیا تھا، لیکن وہ تکینیکی خرابی کی وجہ سے بم پھٹ نہ سکا مجموعی طور پر ڈھائی کلو مواد برآمد ہوا ہے، اور اسے مکینیکل آئی ای ڈی کے ذریعے بنایا گیا تھا شبہ ہے کہ ٹرین میں آگ لگنے کے پچھلے واقعات میں بھی اسی نوعیت کے بم استعمال ہوئے ہوں گے۔

    بھارت کے مشہور موٹیویشنل اسپیکر کا نئی نویلی بیوی پر تشدد،مقدمہ درج

  • اسرائیل پورے مشرق وسطیٰ کے امن کے لیے خطرہ ہے،ایران

    اسرائیل پورے مشرق وسطیٰ کے امن کے لیے خطرہ ہے،ایران

    تہران: ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے کہا ہے کہ فلسطینی علاقوں پر مستقل قبضہ قابض کوقانونی جوازفراہم نہیں کرتا-

    باغی ٹی وی: ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق صدر رئیسی نے السیسی کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو کے دوران کہا کہ غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ اور جبر کی تازہ واردات کے بعد ایران اس امر کا یقین رکھتا ہے کہ اسرائیل پورے مشرق وسطیٰ کے امن کے لیے خطرہ ہے،یران کا یہ نظریہ کہ اسرائیل سرطان کا ایک پھوڑا ہے اور خطے کی سلامتی اور امن کے لیے بدترین خطرے کے طور پر سامنے آچکا ہے،مصری صدر سے فون پر بات کرتے ہوئے صدر ابراہیم رئیسی نے السیسی کو ایک بار پھر صدر منتخب ہونے پر مبارکباد بھی دی۔

    غزہ پر اسرائیلی بمباری، ایک ہی خاندان کے 76 افراد شہید

    دوسری جانب ایرانی دارلحکومت تہران میں تقریب سے خطاب میں ابراہیم رئیسی کا کہنا تھاکہ مقبوضہ فلسطین کی مزاحمتی تنظم حماس کا 7 اکتوبر کو حملہ فلسطینیوں کے ساتھ جاری ناانصافیوں کا ردعمل ہےمسلم دنیا اور تمام آزاد لوگوں کےلیے مسئلہ فلسطین کی مرکزی حیثیت ہے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی جنگی جرائم پربین الاقوامی ادارے خاموش ہیں، فلسطینیوں پراسرائیلی جنگی جرائم بین الاقوامی اداروں کی ناکامی ہیں۔

    غزہ میں اسرائیلی جارحیت نےماضی کی جنگوں کی اموات کے تمام ریکارڈ توڑ دئیے

    ایرانی صدر نے کہا کہ فلسطینی علاقوں پر مستقل قبضہ قابض کوقانونی جوازفراہم نہیں کرتا، فلسطینیوں کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے اور 7 اکتوبرکو حماس کا حملہ فلسطینیوں کے ساتھ جاری ناانصافیوں کا ردعمل ہے، منصفانہ حل یہی ہےکہ فلسطینیوں کو ان کی قسمت کا فیصلہ خود کرنے دیا جائے-

    اسرائیل سے تعلق رکھنے والے ایک تجارتی بحری جہاز پر ڈرون حملہ

    واضح رہے کہ غزہ پر اسرائیلی حملے جاری ہیں اور جبالیہ میں گھروں پربمباری کے نے نتیجے میں درجنوں فلسطینی شہید ہوگئے جبکہ جبالیہ کیمپ میں پینے کے پانی کا آخری پلانٹ بھی اسرائیلی فوج نے تباہ کر دیا اسرائیلی حملوں میں شہدا کی تعداد 20 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے اور ان شہدا میں 70فیصد خواتین اور بچے شامل ہیں۔