Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • یوسف رضا گیلانی کا سینیٹ الیکشن لڑنےکا فیصلہ

    یوسف رضا گیلانی کا سینیٹ الیکشن لڑنےکا فیصلہ

    ملتان: سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے سینیٹ الیکشن لڑنےکا فیصلہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی : گیلانی ہاؤس کے ترجمان کے مطابق یوسف رضا گیلانی نے سینیٹ الیکشن کےکاغذات نامزدگی جمع کرادئیے ہیں، کاغذات نامزدگی الیکشن کمیشن میں ان کے وکلا کی جانب سےجمع کرائےگئے ہیں تاہم یوسف رضا گیلانی کی خالی نشست پر الیکشن کون لڑےگا یہ فیصلہ قیادت کرے گی، اس سے قبل خبریں سامنے آئی تھیں کہ پیپلزپارٹی نے سینیٹر یوسف رضا گیلانی کو چیئرمین سینیٹ کا امیدوار بنانےکا فیصلہ کرلیا ہے، یوسف رضا گیلانی کے قریبی لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ قومی اسمبلی کا حصہ رہنا چاہتے ہیں۔

    واضح رہے کہ یوسف رضا گیلانی اسلام آباد سے سینیٹر منتخب ہوئے، ان کی ابھی 3سال مدت رہتی ہے، چیئرمین سینیٹ بننےکی صورت میں وہ قومی اسمبلی کی سیٹ چھوڑ دیں گے۔

  • نامورادیبہ،شاعرہ،عالمہ ،  ڈرامہ رائٹر، براڈ کاسٹر  اور ریڈیو کمپیئر   افروز رضوی

    نامورادیبہ،شاعرہ،عالمہ ، ڈرامہ رائٹر، براڈ کاسٹر اور ریڈیو کمپیئر افروز رضوی

    میں اپنے رگ و پے میں اسے ڈھونڈ رہی ہوں
    جو شخص ابھی میرے برابر سے اٹھا ہے

    افروز رضوی

    نامورادیبہ،شاعرہ،عالمہ ، ڈرامہ رائٹر، براڈ کاسٹر اور ریڈیو کمپیئر

    تحریر و تعارف . آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نامور پاکستانی ادیبہ، شاعرہ، عالمہ، کمپیئر ، انائونسر اور ڈرامہ نویس سیدہ افروز صاحبہ 3 مارچ 1969 کو ہندوستان کے شہر امروہہ کے ایک معروف علمی اور ادبی گھرانے میں پیدا ہوئیں ۔ ان کے والد صاحب کا نام سید انور حسن رضوی اور والدہ صاحبہ کا نام سیدہ ذکیہ رضوی ہیں ۔ افروز رضوی صاحبہ کے چار بہن بھائی ہیں جن میں 3 بہن اورایک بھائی شامل ہیں ۔ وہ بہت چھوٹی عمر کی تھیں کہ ان کے والدین ہندوستان سے ہجرت کر کے حیدر آباد پاکستان منتقل ہو گئےاس لیے ان کی تعلیمی اسناد میں ان کی جائے پیدائش حیدرآباد کندہ ہے۔ افروز صاحبہ کے والد سید انور حسن رضوی صاحب کی 1992 میں حیدر آباد میں وفات ہوئی ہے۔ ۔ افروز صاحبہ کو بچپن سے ہی لکھنے اور شاعری کا شوق تھا انہوں نے ساتویں جماعت میں "_جگنو” کے عنوان سے نظم لکھی تھی جس کو ان کی کلاس ٹیچر نے بہت سراہا تھا اور ریڈیو اسٹیشن لے جا کر ان کو بچوں کے ایک پروگرام میں شامل کروایا تھا۔ افروز صاحبہ نے کیمسٹری میں ڈگری حاصل کی جبکہ انہوں نے ادارہ ” قرآن انسٹیٹیوٹ” سے قرآن کریم کی تلاوت، تفسیر، ترجمہ اور تجوید کی تعلیم مکمل کر کے اسناد حاصل کیں ۔ تعلیم سے فراغت کے بعد ان کی شادی ایک معزز خاندان کے فرد عبدالباسط صاحب سے ہوئی جو کہ اس وقت بینک میں اعلی آفیسر ہیں اور وہ شعر و ادب کے حوالےسے اپنی اہلیہ محترمہ کی مکمل سپورٹ اور حوصلہ افزائی کرتے ہیں ۔ ماشاءاللہ یہ3 بچوں دو بیٹوں اور ایک بیٹی کے. خوش قسمت والدین ہیں ان کے تینوں بچے اعلی تعلیم یافتہ ماشاءاللہ کامیاب زندگی گزار رہے ہیں ۔ ان کی بیٹی کینیڈا میں مقیم ہیں ۔ افروز صاحبہ ریڈیو پاکستان سے باضابطہ طور پر وابستہ ہو گئیں ۔ وہ ریڈیو پاکستان کی ایک مستند آواز، کمپیئر، انائونسر اور ڈرامہ نویس ہیں جن کے اب تک بے شمار ڈرامے اور پروگرام نشر ہو چکے ہیں اوراب بھی نشر ہو رہے ہیں ۔ افروز رضوی صاحبہ کا مطالعہ بہت وسیع ہے انہوں نے تمام استاد شعراء کو پڑھ رکھا ہے جبکہ شاعری میں 6 کتابوں کے مصنف اور ریڈیو پاکستان حیدر آباد کے سابق سینیئر پروڈیوسر محمود صدیقی صاحب ان کے استاد رہے ہیں ۔ افروزصاحبہ کے اب تک 2 شعری مجموعے "سخن افروز ” اور ” زمن افروز ” شائع ہو چکے ہیں جبکہ ان کی حمدیہ اور نعتیہ شاعری پر مشتمل ایک کتاب” ایمان افروز” زیر طباعت ہے۔ افروزصاحبہ کئی ادبی ایوارڈز حاصل کر چکی ہیں جبکہ وہ متعدد علمی اور ادبی اداروں سے بھی وابستہ ہیں ۔ جن میں وہ ” شاعرات پاکستان ” کی بانی چیئر پرسن ، ڈائریکٹر پروگرام شریف اکیڈمی جرمنی اور سہ ماہی ادبی جریدہ لوح ادب کی مشیر کے عہدے پر فائز ہیں ۔ افروز صاحبہ آجکل کراچی میں مقیم ہیں مگر ان کا امریکہ کینیڈا اور دبئی وغیرہ آنا جانا رہتا ہے ۔

    سیدہ افروز رضوی صاحبہ کی خوب صورت شاعری سے 2 منتخب کلام
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ساحل سے اٹھا ہے نہ سمندر سے اٹھا ہے
    جو شور مری ذات کے اندر سے اٹھا ہے

    دریائے محبت کے کنارے کبھی کوئی
    ڈوبا ہے جو اک بار مقدر سے اٹھا ہے

    وہ آئے تو اس خواب کو تعبیر ملے گی
    جو خواب جزیرہ مرے ساگر سے اٹھا ہے

    میں اپنے رگ و پے میں اسے ڈھونڈ رہی ہوں
    جو شخص ابھی میرے برابر سے اٹھا ہے

    رقصاں ہے مری آنکھ میں احساس کی مانند
    منظر جو تری آنکھ کے منظر سے اٹھا ہے

    پھولوں کو ترے رنگ نے بخشی ہے کہانی
    خوشبو کا فسانہ ترے پیکر سے اٹھا ہے

    اس شہر محبت میں وہ رکتا ہی نہیں ہے
    جو شور ترے پیار کے محور سے اٹھا ہے

    یہ اس کا رویہ یہ انا یہ لب و لہجہ
    ان سب کے سبب امن و سکوں گھر سے اٹھا ہے

    مہر و مہ و انجم میں اسے ڈھونڈنے والو
    یہ سارا جہاں خاک کے پیکر سے اٹھا ہے

    رہتا ہے مری آنکھ میں کاجل کی طرح سے
    جو دور تمناؤں کے تیور سے اٹھا ہے

    میں در سے ترے اٹھ کے اسی سوچ میں گم ہوں
    کیا کوئی خوشی سے بھی ترے در سے اٹھا ہے

    جو اس کی نظر سے کبھی افروزؔ اٹھا تھا
    اس بار وہ محشر مرے اندر سے اٹھا ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ مہکتا ہے جو خوشبو کے حوالوں کی طرح
    اس کو رکھا ہے کتابوں میں گلابوں کی طرح

    وہ جو خوابوں کے جزیرے میں نظر آتا ہے
    میرے ادراک میں رہتا ہے کناروں کی طرح

    بن کے احساس جو دھڑکن سے لپٹ جاتا ہے
    ساتھ رہتا ہے محبت میں خیالوں کی طرح

    دیکھنا خواب کی صورت میں نظر آئے گا
    وہ جو پلکوں پہ چمکتا ہے ستاروں کی طرح

    میں نے خوشبو کے لبادے میں جسے چوما تھا
    میری ہر سانس میں شامل ہے وہ پھولوں کی طرح

    وہ مرے شعر کا اک مصرعۂ تر ہو جیسے
    گنگناتی ہوں اسے آج میں گیتوں کی طرح

    اتنی اچھی تھی ملاقات کہ پہلے دن ہی
    دل میں افروزؔ بسایا اسے سوچوں کی طرح

  • تعلیمی ترقی ضامن معاشی ترقی

    تعلیمی ترقی ضامن معاشی ترقی

    تعلیمی ترقی ضامن معاشی ترقی

    ازقلم غنی محمود قصوری

    ایک بہترین معاشرے کی تکمیل بغیر بہترین تعلیمی نظام کے بغیر ناممکن ہے ہم الحمدللہ مسلمان ہیں اور جتنا زور اسلام میں تعلیم حاصل کرنے اور تحقیق کرنے پہ دیا گیا ہے اتنا کسی اور مذہب میں نہیں

    نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پہ جب پہلی وحی نازل ہوئی تو وہ بھی ان الفاظ سے تھی

    اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ1 خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ2 اِقْرَاْ وَرَبُّكَ الْاَكْرَمُ3 الَّذِيْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ4 عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ5 (العلق)

    (اے پیغمبر) پڑھ اپنے رب کے نام سے ( آغاز کرتے ہوئے) پڑھ جس نے (ہر چیز کو) پیدا فرمایا جمے ہوئے خون کے ایک لوتھڑے سے انسان کی تخلیق کی ،پڑھ اور تمہارا رب بڑا کریم ہے جس نے قلم کے ذریعہ سے علم سکھایا،انسان کو وہ علم دیا جسے وہ نہ جانتا تھا

    آپ دنیا میں نظر دوڑائیں تو آپکو وہی قوم ترقی یافتہ ملے گی جس کا تعلیمی نظام اچھا ہے وگرنہ بغیر تعلیمی ترقی کے قومیں ترقی پذیر ہی رہی ہیں جب تعلیمی نظام اچھا ہو گا تو صحت مند معاشرہ تکمیل پائے گا اوردیگر شعبہ زندگی میں خدمات سرانجام دینے والے لوگ باعمل اور محنتی ہونگے

    اس وقت دنیا بھر کے تمام ممالک میں سے خواندگی کے لحاظ سے برطانیہ پہلے امریکہ دوسرے نمبر پر ہے جبکہ پاکستان اس وقت 79 ویں نمبر پہ ہے

    پاکستان میں شرع خواندگی 62 فیصد ہے جو کہ انتہائی کم درجہ پہ ہے مذید ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اپنے جی ڈی پی کا محض 1.7 فیصد تعلیم پہ خرچ کرتے ہیں جو کہ بہت ہی کم تر ہے

    پاکستان میں اس وقت خواندگی کی شرح 62.8 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے جس میں مردوں کی شرح 73.4 فیصد جبکہ خواتین کی 51.9 فیصد ہے
    ہمارے ہاں سکول نہ جانے والے بچے 32 فیصد ہیں جن میں لڑکوں کے مقابلے لڑکیاں زیادہ تعداد میں تعلیم سے محروم ہیں جو کہ سب سے بڑا المیہ ہے
    جبکہ سکول نا جانے والے بچوں کی شرح بلوچستان میں 47 فیصد ،سندھ میں 44 فیصد، خیبرپختونخوا میں 32 فیصد اور پنجاب میں 24 فیصد ہے
    ہمارے ہاں جہاں غربت و مہنگائی،بیروزگاری تعلیم کی راہ میں رکاوٹ ہیں وہیں ہمارا پرانا فرسودہ نظام تعلیم بھی ہے
    ہمارے ہاں کلاس اول کا بچہ صبح اٹھتے ہی سپارہ پڑھنے پھر 8 بجے سکول اور سکول سے واپس آتے ہی ٹیوشن میں مگن رہتا ہے جسے کھیلنے کودنے کا موقع بلکل نہیں ملتا اور اسے اپنی جسمانی و دماغی صحت کو اچھا کرنے کا موقع نہیں ملتا جس کے باعث بیشتر بچے بیمار رہتے ہیں اور تعلیم سے بھاگتے ہیں
    ہونا تو یہ چائیے کہ بطور مسلمان ملک جسطرح سکول و کالجز میں بچوں کی پڑھائی لازم ہے ایسے ہی صبح فجر کے بعد بچے کو مسجد میں ایک مستند قاری قرآن سے سپارہ پڑھنے کیساتھ نماز پڑھنے کا بھی پابند کیا جائے اور پھر سکول وقت میں اسی بچے کو لازمی طور پہ کم سے کم 30 سے 45 منٹ تک جسمانی کھیل کود کا موقع دیا جائے تاکہ اس کی جسمانی و دماغی صحت اچھی رہے اور وہ تعلیم کو تفریح سمجھ کر حاصل کرے
    مگر افسوس کہ ہمارے ہاں سب الٹ سسٹم چل رہا ہے بچوں کو رٹا لگوا لگوا کر پڑھایا جاتا ہے اور اسے کہا جاتا ہے کہ اتنے نمبر لازمی لینے ہیں چاہے جو مرضی کرو

    ہم ساری زندگی میٹرک تک بچوں کو وہ مضامین پڑھاتے ہیں کہ میٹرک کرنے کے بعد جن سے ہمارا پوری زندگی واسطہ ہی نہیں پڑتا
    جیسے کہ ریاضی کی جمع تفریق نفی کے علاوہ جو کچھ سکھلایا جاتا ہے میرا نہیں خیال کے زیادہ تر وہ ہماری زندگی کا حصہ بنا ہو
    مطلب بےمقصد پڑھائی پہ ہم اپنا سارا ٹائم لگا دیتے ہیں

    پاکستان میں تعلیمی نظام کو بہتر کرنے کی خاطر میٹرک تک یکساں تعلیمی نظام ہونا چائیے جس میں میٹرک تک تعلیم کا سارا خرچ گورنمنٹ برداشت کرے
    جنرل سائنس ( آرٹسٹ) گروپ ختم کرکے میٹرک تک سائنس لازمی قرار دی جائے جس میں بچے کو اول کلاس سے میٹرک تک دین اسلام کیساتھ اپنی صحت بارے زیادہ سے زیادہ تعلیم دی جائے
    کلاس اول سے میٹرک تک کے نصاب میں فرسٹ ایڈ،تیراکی،نشانہ بازی،سیلف ڈیفنس،زراعت،الیکٹرک و آٹو مکینک جیسے مضامین شامل کئے جائیں تاکہ ایک بچہ اپنے بچپن سے نوجوانی تک میٹرک کا طالب علم پہنچتے ہوئے اپنی روزمرہ زندگی میں اپنے استعمال کی ہر چیز کی ابتدائی مہارت رکھتا ہو
    اس کے بعد اگر اس بچے کا دل آگے پڑھنے کو کرے تو اس کو اپنی مرضی کا شعبہ چننے کا مکمل اختیار دیا جائے بلکہ ماہر نفیسات سے اس کا سیشن کروا کر اس کا ذہن پڑھ کر اسے اس کے پسندیدہ شعبے میں تعلیم کا پورا موقع دیا جائے کیونکہ ہمارے ہاں بچہ ڈاکٹر بننا چاہتا ہے تو باپ اسے وکیل بنانا چاہتا ہے مگر ماں اسے پائلٹ بننے کا عندیہ دیتی ہے تو اس ساری صورتحال اور ماں باپ کی خواہشات میں وہ بچہ ذہنی کشیدگی کا شکار ہو کر تعلیم سے دور ہو جاتا ہے بجائے کچھ بننے کے وہ اس معاشرے پہ بوجھ بن جاتا ہے
    ہمارے ہاں سب سے بڑی خرابی بچوں کو سکولوں میں سہولیات نا دینا ہے جیسے کہ گرمی میں بچے بغیر پنکھے کے پڑھتی ہیں اور سردی میں سرد ہوا کا مقابلہ کرتے ان کا ذہن پڑھائی کی بجائے موسم سے زور آزمائی میں ہوتا ہے اگر سکولوں میں زیادہ چھٹیوں کی بجائے موسم کے مطابق سہولیات جیسے اے سی و پنکھے وغیرہ دی جائیں تو بچے پڑھائی میں زیادہ توجہ دیں گے
    ہمارے ہاں اشرافیہ کیلئے آئے روز نئی سے نئی ٹیکنالوجی بیرون ممالک سے لا کر دی جاتی ہے حتی کہ ایک آفیسر کیلئے اس کی چھتری پکڑنے والا الگ ملازم دیا جاتا ہے مگر سکولوں میں سہولیات نہیں جس کے باعث اس پرانے فرسودہ نظام تعلیم سے کافی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکل رہا
    اگر ملک کو شاہراہِ ترقی پہ ڈالنا ہے تو ہمیں اپنے تعلیمی نظام کو اپ گریڈ کرنا ہو گا

  • اسرائیل  تیار،اگر حماس راضی ہو جائے تو غزہ میں جنگ بندی جلد ممکن،امریکا

    اسرائیل تیار،اگر حماس راضی ہو جائے تو غزہ میں جنگ بندی جلد ممکن،امریکا

    واشنگٹن: امریکا نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کے لیے تیار ہوگیا تاہم اب گیند حماس کے کورٹ میں ہے، اگر حماس راضی ہو جائے تو غزہ میں 6 ہفتے کی جنگ بندی جلد ممکن ہے-

    باغی ٹی وی :اے ایف پی کے مطابق ایک سینیئر امریکی اہلکار نے بتایا کہ قطر میں ہونے والے غزہ جنگ بندی مذاکرات میں مثبت پیشرفت ہوئی ہے اور اسرائیل جنگ بندی کے لیے تیار ہوگیا، اسرائیل نے جنگ بندی کے معاہدے کے اکثر نکات پر اتفاق کرلیا ہے، اگر حماس راضی ہو جائے تو غزہ میں 6 ہفتے کی جنگ بندی جلد ممکن ہے، سینیئر امریکی اہلکار کے بقول ایسا تب ہی ممکن ہو سکے گا جب حماس معاہدے کی اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی سے متعلق شق پر عمل درآمد کی یقین دہانی کرا دے، امریکا جنگ سے تباہ حال غزہ میں انسانی امداد کی تقسیم ہیلی کاپٹرز کےذریعے کرنا چاہتا ہےدوسری جانب تاحال اسرائیل اور حماس کیجانب سے غزہ جنگ بندی مذاکرات سے متعلق کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

    دوسری جانب غزہ میں حماس کے ساتھ جھڑپ میں 3 اسرائیلی فوجی ہلاک اور 14 زخمی ہوگئے جن میں سے 6 کی حالت تشویش ناک ہونے کے سبب ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے اسرائیلی فوجی حماس کے ساتھ جھڑپ کے دوران ایک عمارت کو حماس کا ٹھکانہ سمجھ کر اندر داخل ہوئے اور ٹریپ ہوگئےعینی شاہدین کے بقول جیسے ہی اسرائیلی فوجی عمارت میں داخل ہوئے ایک زور دار دھماکا ہوا اور عمارت گر گئی، جس کے ملبے میں درجن سے زائد اسرائیلی فوجی دب گئے۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق ملبے سے 3 فوجیوں کی لاشیں نکالی گئیں جب کہ 14 کو زخمی حالت میں اسپتال منتقل کا گیا جہاں 6 زخمیوں کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے اسرائیلی فوجیوں کی تازہ ہلاکتوں کے بعد غزہ میں 27 اکتوبر سے جاری دوبدو جنگ کے دوران اسرائیلی فوج کی ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 245 ہوگئی جب کہ 1500 فوجی 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے میں مارے گئے تھے، اس طرح مجموعی طور پر اب تک 1745 اسرائیلی فوجی مارے جا چکے ہیں اور یہ تعداد وہ ہے جو اسرائیل نے خود تسلیم کی ہے جب کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔

    واضح رہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے اسرائیل کے غزہ پر حملوں میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 30 ہزار سے تجاوز کرگئی جب کہ 30 ہزار سے زائد زخمی ہیں، شہید اور زخمی ہونے والوں میں نصف تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔

  • چینی صدر ،وزیراعظم ،ایران کی شہباز شریف کو پاکستان کا وزیر اعظم منتخب ہونے پر مبارکباد

    چینی صدر ،وزیراعظم ،ایران کی شہباز شریف کو پاکستان کا وزیر اعظم منتخب ہونے پر مبارکباد

    بیجنگ: چین کے صدر شی جن پنگ اور چینی وزیراعظم لی چھیانگ نے شہباز شریف کو پاکستان کا وزیر اعظم منتخب ہونے پر مبارکباد کا پیغام بھیجا ہے۔

    باغی ٹی وی :چینی خبررساں ادارے ژنہوا کے مطابق چینی صدر نے اپنے پیغام میں کہا کہ انہیں یقین ہے وزیر اعظم شہباز شریف اور پاکستان کی نئی حکومت کی قیادت میں اور پاکستان کے تمام حلقوں کی مشترکہ کوششوں سے پاکستان یقیناً ملک کی ترقی کے نصب العین میں نئی اور مزید زیادہ کامیابیاں حاصل کرنے میں کامیاب ہوگا۔

    شی جن پنگ نے اس بات پر زور دیا کہ چین اور پاکستان کو روایتی دوستی کو جاری رکھتے ہوئے تمام شعبوں میں تبادلوں اور تعاون کو مضبوط بنانا ہوگا اور مشترکہ طور پر چین پاکستان اقتصادی راہداری کا اپ گریڈڈ ورژن تعمیر کرنا ہوگا، چین اور پاکستان کو چین پاک چار موسموں کےاسٹریٹجک تعاون کی شراکت داری کو مزید گہرا کرتے ہوئے نئے عہد میں ایک قریب تر چین پاک ہم نصیب معاشرہ تشکیل دینا ہوگا تاکہ دونوں ممالک کے عوام کے لیے مزید فوائد پہنچائے جا سکیں۔

    وزیر اعظم کے تقریر کے دوران پی ٹی آئی کے رہنما سوتے رہے

    ایران کے وزیرِ خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے شہباز شریف کو پاکستان کا وزیراعظم منتخب ہونے پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے باہمی تعلقات میں اضافے کے عزم کا اظہار کیا۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق وزیرِ خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے اپنے بیان میں کہا کہ شہباز شریف کو 24 واں وزیرِاعظم منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں اور پاکستان میں امن و سلامتی کے لیے دعا گو ہوں،اسلامی جمہوری ایران پاکستان کی نئی حکومت کے ساتھ تمام سطح پر باہمی تعلقات اور تعاون بڑھانے کا عزم کرتا ہے۔

    واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے صدر اور اتحادی جماعتوں کے نامزد کردہ امیدوار شہباز شریف دوسری بار اسلامی جمہوریہ پاکستان کے 24 ویں وزیراعظم منتخب ہوگئے جبکہ انہوں نے قائد ایوان کی نشست بھی سنبھال لی، شہباز شریف نے 201 ووٹ لیے جبکہ سنی اتحاد کونسل کے حمایت یافتہ امیدوار عمر ایوب کو 92 ووٹ ملے جبکہ کارروائی کے دوران ایوان گھڑی چور اور ووٹ چور کے نعروں سے گونجتا رہا، جبکہ کل 293 ووٹ کاسٹ ہوئے۔

    انٹرا پارٹی انتخابات : بیرسٹر گوہر علی خان پی ٹی آئی کے بلامقابلہ …

  • پاکستان کے24ویں وزیراعظم کا انتخاب آج

    پاکستان کے24ویں وزیراعظم کا انتخاب آج

    اسلام آباد: پاکستان کے24ویں وزیراعظم کا انتخاب آج ہوگا،شہباز شریف اور عمر ایوب میں مقابلہ ہوگا۔

    باغی ٹی وی: قومی اسمبلی میں قائد ایوان کے لیے شہباز شریف اور عمر ایوب کے کاغذات نامزدگی منظور کرلیے گئے،وزارت عظمیٰ کے لیے اتحادی جماعتوں کے امیدوار شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی سیکرٹری قومی اسمبلی کے پاس جمع کرائے گئے جو سیکرٹری جنرل قومی اسمبلی طاہر حسین نے وصول کیے۔شہباز شریف کے مقابلے میں سنی اتحاد کونسل کے امیدوار عمر ایوب کے بھی کاغذات جمع کرائے گئے۔

    قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابق شہباز شریف کے لیے 8 اور عمر ایوب کے لیے 4 کاغذات نامزدگی جمع کرائےگئے جنہیں جانچ پڑتال کے بعد منظور کرلیا گیا۔

    واضح رہے کہ 336 رکنی ایوان میں وزارت عظمیٰ کے لیے 169 ووٹ درکار ہیں اور اتحادی جماعتوں کو 209 ارکان کی حمایت حاصل ہے،مسلم لیگ (ن) کو پیپلز پارٹی، بلوچستان عوامی پارٹی، ایم کیو ایم پاکستان، استحکام پاکستان پارٹی کی حمایت حاصل ہے جب کہ سنی اتحاد کونسل کی جانب سے عمر ایوب وزارت عظمیٰ کے امیدوار ہیں اور ایوان میں ان کے اراکین کی تعداد 91 ہے۔

  • ن لیگ کا  نو منتخب رکن قومی اسمبلی کو  شوکاز نوٹس

    ن لیگ کا نو منتخب رکن قومی اسمبلی کو شوکاز نوٹس

    اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) نے نو منتخب رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نیلسن عظیم کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا۔

    باغی ٹی وی: لیگی ذرائع کے مطابق نیلسن عظیم کو شوکاز نوٹس اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب میں ووٹ نہ ڈالنے پر جاری کیا گیا, ڈاکٹر نیلسن عظیم کو 7 دن کے اندر شوکاز نوٹس کا جواب دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) شہبازشریف نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنوں اور اراکین اسمبلی کی جانب سے لیگی رکن اسمںبلی ثوبیہ شاہد کو ہراساں کرنے کا نوٹس لے لیا اور انہیں اسلام آباد بلا کر ان سے ملاقات کی۔

    خیبرپختونخوا اسمبلی کی رکن ثوبیہ شاہد کی شہباز شریف سے ملاقات کے موقع پر مسلم لیگ (ن) کے دیگر قائدین بھی موجود اور نامزد وزیراعظم نے ان کے سر پر دست شفقت رکھتے ہوئے انھیں ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی، کہا کہ آپ قوم کی بہادر بیٹی ہیں، ہمیں آپ کی بہادری پر فخر ہے، پوری قوم اور مسلم لیگ (ن) آپ کے ساتھ کھڑی ہے۔

    شہباز شریف نے اس موقع پر مسلم لیگ (ن) خیبرپختونخوا کے صوبائی صدر امیرمقام اور دیگر رہنماؤں کو ثوبیہ شاہد پر حملے کے کیس میں قانونی کارروائی کا ٹاسک دیا اور پارٹی کے سنئیر رہنما خواجہ سعد رفیق اور عطااللہ تارڑ کو ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کی تاکید کی۔

  • شاہد خاقان عباسی کی  نئی سیاسی جماعت بنانے کی تردید

    شاہد خاقان عباسی کی نئی سیاسی جماعت بنانے کی تردید

    اسلام آباد: سابق وزیراعظم شاہدخاقان عباسی نے کہا ہے کہ میں سیاسی جماعت نہیں بنارہالیکن نئی جماعت کی ضرورت ہے۔

    باغئ ٹی وی : نجی خبررساں ے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان نے کہا کہ پچھلے 5سال گالم گلوچ میں گزرے،کوئی کام نہیں ہوا،اس دفعہ الیکشن کےبارےمیں جوابہام پیداہوگیاہے اس پرعدالت کوازخودنوٹس لیناچاہیے۔

    نئی سیاسی جماعت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ میں کوئی پارٹی نہیں بنارہالیکن ملک میں ایک نئی جماعت کی ضرورت ہے، میرے جو دوست سیاسی جماعت بنائیں گےمیں اس کاحصہ ہوں ، پاکستان تحریک انصاف نے آئی ایم ایف کوخط لکھ کرزیادتی کی ہے، مولانافضل الرحمان کےپاس دلیل کی طاقت ہےآپ ان سےبحث نہیں کرسکتے،جب تک ہم مل کرنہیں بیٹھیں گےتوبات نہیں بنےگی،سب کو اپنے دل میں وسعت پیدا کرنا پڑے گی۔

  • 02 مارچ کو وفات پانے والی چند مشہور شخصیات

    02 مارچ کو وفات پانے والی چند مشہور شخصیات

    02 مارچ کو وفات پانے والی چند مشہور شخصیات

    274ء مانی ، پارتھیا ساسانی سلظنت فارس سے تعلق رکھنے والا ایرانی جس نے مانویت کی بنیاد رکھی۔ آج یہ مذہب باقی نہیں لیکن ایک زمانے میں اس کے پیروکاروں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ یہ مذہب قدیم مذاہب کا دلچسپ امتزاج تھا۔ مانی کے مطابق زرتشت، گوتم بدھ اور یسوع مسیح (عیسیٰ ؑ ) پیغمبر تھے لیکن اس کی صورت میں یہ ایک ہی مذہب میں اب مکمل ہو گیا ہے۔ یہ مذہب قریب ایک ہزار سال تک قائم رہا۔ (پیدائش: 216ء)

    1845ء رام چندر ودیاباگیش ، ہندوستانی مصنف، سنسکرت کے اسکالر و پروفیسر ، وہ 1817ء میں شائع شدہ پہلی یک لسان بنگالی لغت ”بنگ بھاشابھیدان“ لکھنے کے لیے مشہور ہیں۔ (پیدائش: 1786ء)

    1992ء سینڈی ڈینس ، امریکی فلمی اداکارہ (پیدائش: 27 اپریل 1937ء)

    2007ء بدر میانداد ، پاکپتن سے تعلق رکھنے والے پاکستانی قوال، بدر میاں داد معروف قوال نصرت علی خان کے ماموں زاد بھائی (پیدائش: 17 فروری 1962ء)

    274ء مانی، جندیشا پور میں 216ء میں پیدا ہونے والا ایک ایرانی جس نے مانویت مذہب کا بانی۔

    2007ء بدر میانداد، پاکستانی قوال، پاکپتن میں پیدا ہوئے (پیدائش : 1962ء)

    2011ء۔۔۔شہباز بھٹی/مسیحی رہنما پاکستان کے وفاقی وزیر برائے اقلیتی امور اور مسیحی رہنما شہباز بھٹی 9 ستمبر 1968ءکو خوش پور (سمندری) میں پیدا ہوئے تھے۔ 1985ءمیں انہوں نے آل پاکستان مینارٹیزالائنز کے قیام میں فعال حصہ لیا اور اس کے چیئرمین منتخب ہوئے۔ وہ کرسچین لبریشن فرنٹ کے بھی سربراہ تھے۔ 2002 ءمیں وہ پاکستان پیپلزپارٹی میں شامل ہوئے۔ 2008ءمیں پاکستان پیپلزپارٹی کی نامزدگی پر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور 2 نومبر 2008ءکو وہ وفاقی وزیر کے منصب پر فائز ہوئے۔ شہباز بھٹی کو 2 مارچ 2011ءکو مسلح افراد نے اسلام آباد میں فائرنگ کرکے قتل کردیا۔ بعدازاں اس قتل کی ذمہ داری طالبان نے قبول کرلی اور اس کا سبب یہ بتایا کہ شہباز بھٹی مبینہ طور پر گستاخ رسول تھے۔ 4مارچ 2011ءکو فیصل آباد کے قریب ان کے آبائی گاؤں خوش پور (سمندری) میں سپرد خاک کردیا گیا۔

    2 مارچ 1974ء کو برصغیر کے نامور موسیقار‘ گلوکار اور اداکار جناب رفیق غزنوی کراچی میں وفات پاگئے۔ رفیق غزنوی 1907ء میں راولپنڈی میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے گورڈن کالج راولپنڈی سے گریجویشن کیا۔ انہوں نے استاد عبدالعزیز خان صاحب سے موسیقی کے اسرار سیکھے، موسیقی سے ان کا شغف اتنا بڑھا کہ موسیقی کے کسی گھرانے سے تعلق نہ ہونے کے باوجود ان کا شمار برصغیر کے صف اول کے موسیقاروں میں ہوا۔ رفیق غزنوی نے اپنے فلمی کیریر کا آغاز اداکاری سے کیا۔ انہوں نے لاہور میں بننے والی پہلی ناطق فلم ہیر رانجھا میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ انہوں نے اس فلم کی موسیقی بھی ترتیب دی تھی اور اپنے اوپر فلم بند ہونے والے تمام نغمات بھی خود گائے تھے۔ بعد ازاں رفیق غزنوی دہلی چلے گئے جہاں وہ آل انڈیا ریڈیو سے وابستہ ہوگئے۔ بعد ازاں وہ بمبئی منتقل ہوئے جہاں انہوں نے فلم پونرملن‘ لیلیٰ مجنوں اور سکندر سمیت کئی فلموں کی موسیقی ترتیب دی۔ ہالی وڈ کی ایک مشہور فلم تھیف آف بغداد میں بھی ان کی موسیقی استعمال کی گئی۔ قیام پاکستان کے بعد وہ کراچی میں منتقل ہوگئے اور ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہوئے۔ وہ اس کمیٹی کے رکن تھے جس نے پاکستان کے قومی ترانے کی دھن منظور کی تھی مگر بعد ازاں ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل زیڈ اے بخاری سے اختلافات کے باعث انہوں نے ریڈیو پاکستان سے علیحدگی اختیار کرلی۔ رفیق غزنوی نے برصغیر کی تقسیم سے قبل بڑا عروج دیکھا۔ مگر قیام پاکستان کے بعد اپنی زندگی کا بڑا حصہ ایک غیر تخلیقی فنکار کی حیثیت سے بسر کیے۔ 2 مارچ 1974ء کو انہوں نے کراچی میں وفات پائی اور وہیں آسودۂ خاک ہوئے۔ پاکستان اور بھارت کی معروف اداکارہ سلمیٰ آغا‘ رفیق غزنوی کی نواسی ہیں‘ جب کہ معروف فلمی ہدایت کار ضیا سرحدی ان کے داماد تھے اور یوں خیام سرحدی بھی ان کے نواسے ہوتے ہیں۔

    1972ء۔۔ناصر کاظمی ٭ اردو کے نامور شاعر ناصر کاظمی 8 دسمبر 1925ء کو انبالہ میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ اوراق نو‘ ہمایوں اور خیال کی مجلس ادارت میں شامل رہے اور پھر اپنی وفات تک ریڈیو پاکستان سے وابستہ رہے۔ 1954ء میں ان کا پہلا شعری مجموعہ برگ نے شائع ہوا جس نے شائع ہوتے ہی انہیں اردو غزل کے صف اول کے شعرامیں لاکھڑاکیا۔ ان کے دیگر شعری مجموعے دیوان‘ پہلی بارش‘ نشاط خواب اور سُر کی چھایا اور مضامین کا مجموعہ خشک چشمے کے کنارے ان کی وفات کے بعد شائع ہوئے۔اس کے علاوہ انہوں نے اردو کے چند بڑے شاعروں کے الگ الگ منتخبات بھی مرتب کئے جن میں میر، نظیر، ولی اور انشا سرفہرست ہیں۔ ناصر کاظمی کا شمار اردو کے صاحب اسلوب شعرا میں ہوتا ہے۔ انہوں نے میر تقی میر کے دبستان شاعری کو انتہائے کمال تک پہنچادیا۔ 2 مارچ 1972ء کو ناصر کاظمی لاہور میں وفات پاگئے۔ لاہور میں مومن پورہ کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔

    2013ء۔۔شبنم شکیل نامور شاعر اور نقاد سید عابد علی عابد کی صاحب زادی تھیں ۔ وہ 12 مارچ 1942 کو لاہور میں پیدا ہوئیں ۔ ان کے شعری مجموعے شب زاد، اضطراب اور مسافت رائیگاں تھی اور نثری مجموعے تقریب کچھ تو ہو، نہ قفس نہ آشیانہ، اور آواز تو دیکھو کے نام سے اشاعت پزیر ہوئے تھے ۔۔۔ حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا ۔۔ شبنم شکیل 2 مارچ 2013 کو مختصر علالت کے بعد کراچی کے ضیاالدین ہسپتال میں وفات پاگئیں ۔ وہ اسلام آباد میں آسودہ خاک ہیں ۔۔

    1996ء۔۔نسیم حجازی ٭ اردو زبان کے مشہور ناول نگار نسیم حجازی 19 مئی 1914ء کو سوجان پور ضلع گورداسپور میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام محمد شریف تھا۔ نسیم حجازی نے اپنی عملی زندگی کا آغاز صحافت کے شعبے سے کیا اور ہفت روزہ تنظیم کوئٹہ،روزنامہ حیات کراچی، روزنامہ زمانہ کراچی، روزنامہ تعمیر راولپنڈی اور روزنامہ کوہستان راولپنڈی سے وابستہ رہے۔ انہوں نے بلوچستان اور شمالی سندھ میں تحریک پاکستان کو مقبول عام بنانے میں تحریری جہاد کیا اور بلوچستان کو پاکستان کا حصہ بنانے میں فعال کردار ادا کیا۔ نسیم حجازی کی اصل وجہ شہرت ان کی تاریخی ناول نگاری ہے جن میں داستان مجاہد،انسان اور دیوتا، محمد بن قاسم، آخری چٹان، شاہین، خاک اور خون، یوسف بن تاشقین، آخری معرکہ،معظم علی، اور تلوار ٹوٹ گئی، قیصر و کسریٰ،قافلہ حجاز اور اندھیری رات کے مسافر کے نام شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے طنز و مزاح کے موضوع پر پورس کے ہاتھی، ثقافت کی تلاش، سفید جزیدہ اور سوسال بعد نامی کتابیں بھی تحریر کیں۔ ان کا ایک سفر نامہ پاکستان سے دیار حرم تک بھی اشاعت پذیر ہوچکا ہے۔ نسیم حجازی کی تصانیف کا کئی زبانوں میں ترجمہ ہوا اور ان پر آخری چٹان اور شاہین نامی دو ڈرامہ سیریل بھی نشر ہوئے جبکہ ان کے ایک اور ناول خاک اور خون پر فلم بھی بنائی گئی۔ 2 مارچ 1996ء کو نسیم حجازی راولپنڈی میں وفات پاگئے۔ وہ اسلام آباد کے مرکزی قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

  • شہباز شریف منتخب ہونے کے بعد اپنے لئے بہترین ٹیم کا انتخاب کریں گے،احسن اقبال

    شہباز شریف منتخب ہونے کے بعد اپنے لئے بہترین ٹیم کا انتخاب کریں گے،احسن اقبال

    اسلام آباد: مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر احسن اقبال کا کہنا ہے پی ٹی آئی والے بانی پی ٹی آئی کو این آر او دلوانا چاہتے ہیں-

    باغی ٹی وی: لیگی رہنما احسن اقبال نے کہا کہ پی ٹی آئی نے آئی ایم ایف کو خط لکھا یہ اچھا عمل نہیں تھا، پی ٹی آئی والے بانی پی ٹی آئی کو این آر او دلوانا چاہتے ہیں، بانی پی ٹی آئی کو تمام مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا، بانی پی ٹی آئی کو مقدمات کا سامنا کئے بغیر این آر او نہیں ملے گا پی ٹی آئی والوں نے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کیلئے ووٹ کاسٹ کیا اور وزیراعظم کیلئے بھی ووٹ کاسٹ کریں گے، ایوان میں آنا اور ووٹنگ کے عمل میں برابر حصہ لینے کا مطلب 8 فروری کے انتخابات کو تسلیم کرنا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ دو تہائی ووٹ پی ٹی آئی کے خلاف کاسٹ ہوا جبکہ ایک تہائی ووٹ انہیں ملا، پی ٹی آئی نے لاہور اور اٹک میں احتجاج نہیں بلکہ تمام منتخب مقام پر احتجاج کیا ہے، شہبازشریف وزیراعظم بننے کے بعد اپنی کابینہ کا انتخاب کریں گے، شہباز شریف منتخب ہونے کے بعد اپنے لئے بہترین ٹیم کا انتخاب کریں گے۔

    کرک میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک اور 4 زخمی

    بھارت میں غیرملکی خاتون سیاح کے ساتھ اجتماعی زیادتی

    صدارتی انتخاب: اے این پی کا آصف علی زرداری کی حمایت کا اعلان