Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • ڈھاکا سے ریاض کی سعودی ائیر کی پرواز  کی کراچی میں ہنگامی لینڈنگ

    ڈھاکا سے ریاض کی سعودی ائیر کی پرواز کی کراچی میں ہنگامی لینڈنگ

    کراچی: بھارت نے مسلمانوں کے خلاف ایک بار پھر انتہا پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بنگلا دیشی مسلمان مسافر کی طبیعت خرابی کے باوجود پرواز کو ممبئی ائیرپورٹ پر اترنے نہ دیا،بعد ازاں ڈھاکا سے ریاض کی سعودی ائیر کی پرواز نے کراچی میں میڈیکل ایمرجنسی لینڈنگ کی-

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی ائیر کی پرواز ایس وی 805 رات 3:57 پر ڈھاکا سے ریاض کیلئے روانہ ہوئی، طیارہ بھارتی فضائی حدود میں تھا کہ طیارےمیں سوار 44 سالہ مسافر ابو طاہر کی طبیعت خراب ہوئی جس پر پائلٹ نے طیارےکا رخ ممبئی کی طرف موڑ دیا،اور پائلٹ نے اے ٹی سی ممبئی سے انسانی ہمدردی کی بنا پر لینڈنگ کی اجازت طلب کی۔

    ذرائع کے مطابق ائیر ٹریفک کنٹرولر ممبئی کا جواب ملنے تک طیارہ ممبئی کی لینڈنگ اپروچ لے چکا تھا تاہم اے ٹی سی ممبئی نے متاثرہ مسافر کی قومیت اور دیگر تفصیلات مانگیں جس پر ممبئی ائیرپورٹ حکام نے بنگلا دیشی مسلمان مسافر کو آف لوڈ کرنے سے انکار کردیا،ائیر ٹریفک کنٹرول ممبئی نے سعودی طیارے کو لینڈنگ دینے سے صاف منع کردی-

    ا جس پر پائلٹ نے لینڈنگ منسوخ کرکے اے ٹی سی کراچی سے لینڈنگ کی اجازت طلب کی اور اے ٹی سی کراچی نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر لینڈنگ کی اجازت دے دی ائیر ٹریفک کنٹرولر کی ہدایت پر طیارے کا رخ کراچی کی طرف کردیا گیا اور پرواز نے ہنگامی صورتحال ہونے کے باوجود دگنا سفر کرکے کراچی کے جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر صبح 7:28 پرلینڈ کیا۔

    بنگلا دیشی مسافر کو ہائی بلڈ پریشر سے مسلسل قے آرہی تھیں کراچی ائیرپورٹ پر سول ایوی ایشن کی میڈیکل ٹیم نے ہنگامی اقدامات کیے اور طیارے کے لینڈ کرتے ہی ڈاکٹرز فوری طور پر پہنچ گئے، ڈاکٹرز کی ٹیم نے طیارے میں سوار مسافر کا معائنہ کیا اور اسے طبی امداد فراہم کی، بعدازاں پرواز کراچی سے ریاض روانہ ہوگئی۔

    24گھنٹوں میں اسرائیلی حملوں میں 107فلسطینی شہید اور 145زخمی

    عالمی شہرت یافتہ گلوکارہ عابدہ پروین کا یوم پیدائش

    سیاست دانوں کی نااہلی کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

  • سیارچوں کی سطح پر پہلی بار پانی کے مالیکیولز کی موجودگی کا انکشاف

    سیارچوں کی سطح پر پہلی بار پانی کے مالیکیولز کی موجودگی کا انکشاف

    سان اینٹونیو: ماہرین نے سیارچوں کی سطح پر پہلی بار پانی کے مالیکیولز کی موجودگی کا انکشاف کیا ہے-

    باغی ٹی وی : پلینیٹری سائنس جرنل میں شائع تحقیق کے نتائج مطابق ماہرینِ فلکیات کا ماننا ہے کہ زمین کے ابتدائی دور میں اس سے ٹکرانے والے سیارچے اس سیارے پر پانی اور دیگر عناصر کی موجودگی کا سبب بنے، اس لیے سیارچوں پر پانی کی موجودگی کے شواہد کی تلاش اس نظریے کو تقویت دے سکتی ہے۔

    ماہرین کی جانب سے یہ ڈیٹا اسٹریٹو اسفیرک آبزرویٹری فار انفرا ریڈ آسٹرونومی (SOFIA) نامی آلے سے اکٹھا کیا گیا،اس ٹیلی اسکوپ کو جدید بوئنگ 747 ایس پی طیارے پر نصب کر کے استعمال کیا گیا جس نے زمین کے ایٹماسفیئر سے اوپر جا کر پرواز کی۔

    عالمی شہرت یافتہ گلوکارہ عابدہ پروین کا یوم پیدائش

    سوفیا ٹیلی اسکوپ میں نصب فینٹ آبجیکٹ انفرا ریڈ کیمرا (FORCAST) نے ماہرین کو مریخ اور مشتری کے درمیان موجود دو سیارچوں آئرس اور میسالیا میں پانی کے مالیکیولز کی نشان دہی کرنے میں مدد دی، دونوں سیارچے سورج سے 35 کروڑ 90 لاکھ کلو میٹر کے فاصلے پر موجود ہیں۔

    سیاست دانوں کی نااہلی کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    سان اینٹونیو میں قائم ساؤتھ ویسٹ ریسرچ انسٹیٹیوٹ سے تعلق رکھنے والی تحقیق کے سربراہ مصنفہ ڈاکٹر انیسیا ایریڈونڈو کا کہنا تھا کہ اس ٹیلی اسکوپ کی جانب سے چاند پر پانی کی نشان دہی کرنے کے بعد ماہرینِ فلکیات نے اس کو سیارچوں کا مطالعے کے لیے استعمال کا فیصلہ کیا۔

    24گھنٹوں میں اسرائیلی حملوں میں 107فلسطینی شہید اور 145زخمی

  • سپریم کورٹ میں ذوالفقار بھٹو کی پھانسی پر صدارتی ریفرنس کی سماعت  جاری

    سپریم کورٹ میں ذوالفقار بھٹو کی پھانسی پر صدارتی ریفرنس کی سماعت جاری

    اسلام آباد: سابق وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹو کوعدالتی فیصلے کے تحت پھانسی دینے کے خلاف صدارتی ریفرنس پرسماعت آج سپریم کورٹ میں ہورہی ہے-

    باغی ٹی وی : چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 9 رکنی لارجر بینچ ریفرنس کی سماعت کر رہا ہے بینچ کے دیگر ارکان میں جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین،جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر،جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس مسرت ہلالی شامل ہیں، عدالت نے ریفرنس میں مقررکیے گئے عدالتی معاونین سے تحریری دلائل طلب کر رکھے ہیں۔

    سماعت کے دوران چیئرمین پی پی بلاول بھٹو زرداری، شیری رحمان، فیصل کریم کنڈی اور دیگر پارٹی رہنما بھی موجود ہیں، سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیاعدالتی معاونین نےجواب جمع کرائے ہیں؟ کیا ریما عمر آئی ہیں؟

    اس دوران مخدوم علی خان روسٹرم پرآئے جن سے چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا آپ نےکچھ فائل کیاہے؟ آپ نے2 والیم پرمشتمل جواب جمع کرایاہے،سابق جج اسد اللہ چمکنی اور صلاح الدین بھی بطور عدالتی معاونین پیش ہوئے، چیف جسٹس نےاُن سےکہا کہ صلا ح الدین صاحب آپ ناراض نہ ہوں توط مخدوم صاحب کو پہلے سن لیں۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے مخدوم علی خان سے سوال کیا کہ اس معاملے میں آپ کاقانونی نکتہ کیا ہے؟ ، اس پر انہوں نے جواب دیا کہ بھٹو کیس میں جو فیصلہ دیا گیا کیا اس کے آرٹیکل 4 کو پورا کیا؟

    مخدوم علی خان نے اپنے دلائل کے آغاز پر عدالت کو بتایا کہ عدالتی معاون خالد جاوید بیمارہیں، وہ آئندہ سماعت پرآئیں گے، چیف جسٹس نے ان سے مکالمہ کیا کہ مخدوم صاحب آپکاجواب 2 والیم پر مشتمل ہے، ہمارا اصل فوکس آئینی پہلو کی طرف ہے۔

    جسٹس منصورعلی شاہ نے ریمارکس دیے کہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا عدالتی کاروائی میں طریقہ کاردرست اپنایا گیا یا نہیں، مخدوم علی خان نے کہا کہ ذوالفقاربھٹوکیس فیصلے میں بدنیتی پر بات کروں گا، سابق چیف جسٹس نے انٹرویو میں کہا تھا کہ ان پر فیصلے کیلئے دباؤتھا۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیےکہ سابق چیف جسٹس نے اپنی غلطی کااعتراف کیا،اسے بدنیتی نہیں اعتراف جرم کہیں گے، ذوالفقارعلی بھٹو قتل کے فیصلے میں غلطی کا اعتراف کیا گیا ہے، جان بوجھ کر غلط کام کیا جائے تو اسے بدنیتی نہیں کہیں گے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارااختیار سماعت بالکل واضح ہے یہ واضح ہے کہ دومرتبہ نظرثانی نہیں ہوسکتی، ہم اس کیس میں لکیرکیسے کھینچ سکتے ہیں،کیااس کیس میں تعصب کاسوال ہےیاغلط فیصلہ کرنے کوتسلیم کرنا ہے؟

    عدالتی معاون کی جانب سے یہ کہنے پر کہ ایک جج نے انٹرویو میں کہا ان پر دباؤ تھا، چیف جسٹس نے کہا کہ یہ تو نہیں کہا میں تعصب کا شکار تھا، اگرمیں دباؤ برداشت نہیں کرسکتا تومجھے عدالتی بنچ سے الگ ہوجانا چاہیے۔

    مخدوم علی خان نے جسٹس نسیم حسن شاہ کے انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انٹرویو کا ایک حصہ تعصب کے اعتراف کا ہے، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کل کوئی جج کہے مجھ پر بیوی کا دباؤتھا تویہ کس کیٹیگری میں آئے گا؟-

    جسٹس منصور شاہ نے کہا کہ اصل سوال ہےکہ اب ہم کیسے دروازہ کھول سکتےہیں، کیاہم آرٹیکل186کے تحت اب یہ فیصلہ کرسکتےہیں کہ پروسس غلط تھا،اب ہم اس معاملے میں شواہد کیسے ریکارڈ کرسکتے ہیں؟ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کیا ہم اب انکوائری کر سکتے ہیں؟ ،اب ہم اس معاملے میں شواہد کیسے ریکارڈ کرسکتے ہیں؟

    چیف جسٹس نے کہاکہ کیا ہم اس پہلوکو نظراندازکرسکتے ہیں کہ کیس کے وقت ملک میں مارشل لا تھا، مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کا اپنا مفاد تھا، جسٹس منصورعلی شاہ کے سوال پر مخدوم علی خان نے بتایا کہ اس وقت ججزنے پی سی اوکے تحت حلف اٹھایا تھا، جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا کہ اختلاف کرنے والوں کوبعد میں ملک نہیں چھوڑنا پڑا؟ جسٹس صفدرشاہ نے ملک چھوڑا کیا اختلاف کرنے والوں کا کوئی انٹرویویا کتاب ہے؟

    مخدوم علی خان نے جسٹس دراب پٹیل کے انٹرویو کا حوالہ دیا جس پرجسٹس منصور علی شاہ نے 3 بنیادی سوالات کے جواب دینے کا کہا، ذوالفقار بھٹو کیس کے فیصلے میں کیا ناانصافی ہوئی؟، اگر ناانصافی ہوئی توثبوت کیسے ملیں گے؟ ثبوت مل جائیں توکیا یہ عدالت آرٹیکل 186 کے تحت انکوائری کرا سکتی ہے؟

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کیا عدالت کمرے میں ہاتھی یعنی مارشل لا کونظراندازکردے؟ کیا پراسیکیوشن کو اس وقت ایک شخص کو مارشل لا کے نفاذ کیلئے سزا دینا مقصود نہیں تھا؟جسٹس منصور علی شاہ کے سوال پر مخدوم علی خان نے بتایاکہ فیصلہ چارتین سے آیا تھا ، اقلیتی ججزمیں جسٹس محمد حلیم ، جسٹس غلام صفدر شاہ اور جسٹس دراب پٹیل تھے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ کیا بھٹو کیس افواج پاکستان اور سپریم کورٹ کیلئے اپنی غلطی درست کرنے اور ساکھ بحالی کا ایک موقع نہیں؟ کیا یہ موقع نہیں دونوں ادارے خود پر لگے الزامات سے دامن چھڑائیں، کیا بھٹو کیس کے فیصلے سے عدلیہ اور فوج کے لیے ایک لکیر نہیں کھینچ جائے گی؟ مارشل لا فوج بطور ادارہ نہیں لگاتی ایک شخص کا انفرادی فعل ہوتا ہے، کیا غلط کاموں کا مدعا انہی انفرادی شخصیات پر ڈال کر اداروں کا ان سے لاتعلق ہونے کا موقع نہیں؟ کیا ایسا کرنا قوم کے زخم نہیں بھرے گا؟ ہم ماضی میں رہ رہے ہیں اور ہماری تاریخ بوسیدہ ہے یہ ایک مخصوص کیس تھا ،اگرہم اس کیس کوایک خاص پیرائے میں دیکھیں تو مارشل لاء کے دوران باقی کیسزکودیکھنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

    سپریم کورٹ میں وقفہ کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو عدالتی معاون مخدوم علی خان نے اپنے دلائل مکمل کیے۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ کیس کی آئندہ سماعت 26فروری کو ہوگی۔

    چیف جسٹس نے آج کی سماعت کا حکمنامہ لکھوایا جس میں کہا گیا کہ آج عدالتی معاون مخدوم علی خان نے معاونت کی، عدالتی معاون خالدجاویدنےتحریری بریف عدالت کو فراہم کیا، عدالتی معاون صلاح الدین کو معاونت کیلئے ایک گھنٹہ چاہیے، عدالتی معاونین کے عدالت دیگرفریقین کو عدالت سنے گی، صدارتی ریفرنس پرآئندہ سماعت 26فروری دن ساڑھے گیارہ بجے ہوگی۔

    واضح رہے کہ بھٹو کی بھانسی کے خلاف یہ ریفرنس ان کے داماد اور سابق صدر صف علی زرداری کی جانب سے 2011 میں آئین کے آرٹیکل 86 کے دائر کیا گیا تھا سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے دور میںیفرنس پر چند سماعتیں ہوئیں لیکن اُن کے بعد آنے والے چیف جسٹس صاحبان نے صدارتی ریفرنس پر سماعت نہیں کی،موجودہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اکتوبر 2023 میں صحافیوں سے ملاقات میں ذوالفقارعلی بھٹو کی سزائے موت کے خلاف صدارتی ریفرنس کی جلد سماعت کا عندیہ دیا تھا-

    سیاست دانوں کی نااہلی کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    ریفرنس کی پیروی سابق وفاقی وزیر بابر اعوان نے کی تھی جو اُس وقت پی پی کاحصہ تھے تاہم اب پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کرچکے ہیں، پیپلز پارٹی کی قیادت نے وکیل رہنما اور سینئر پارٹی رُکن عتزاز احسن سے ریفرنس کی پیروی کرنے کی درخواست کی تھی تاہم انہوں نے معذرت کرلی۔

    کیس کی پہلی سماعت 2 جنوری 2012 اورآخری 12 نومبر 2012 کو ہوئی تھی جو 9 رکنی لارجربینچ نے کی تھی تاہم اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی کے وکیل بابر اعوان کا وکالت لائسنس منسوخ ہونے کی وجہ سے سپریم کورٹ نے وکیل کی تبدیلی کا حکم دیا تھا، بعد ازاں اسی بنیاد پر یہ ریفرنس ملتوی کردیا گیا تھا۔

    24گھنٹوں میں اسرائیلی حملوں میں 107فلسطینی شہید اور 145زخمی

    پی پی کے شریک چئیرمین اور سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری نے صدارتی ریفرنس میں پانچ سوالات اٹھاتے ہوئے سپریم کورٹ سے رائے طلب کی تھی۔

    کیا سابق وزیراعظم ذوالفقاربھٹو کے قتل کا ٹرائل آئین میں شامل بنیادی انسانی حقوق کے مطابق تھا؟، کیاپھانسی کی سزا کا فیصلہ عدالتی نظیر کے طور پرآرٹیکل 189 کے تحت سپریم کورٹ اورتمام ہائیکورٹس پر لاگو ہو گا؟اگر نہیں تو فیصلے کے نتائج کیا ہو ں گے؟، کیا سپریم کورٹ کا فیصلہ منصفانہ تھا؟ کیا ذاولفقارعلی بھٹو کو سزائے موت سنانے کا یہ فیصلہ جانبدار نہیں تھا؟، کیا یہ سزائے موت قرآنی احکامات کی روشنی میں درست ہے؟، کیا سابق وزیراعظم کیخلاف ثبوت اور گواہان کے بیانات انہیں سزا سنانے کیلئے کافی تھے؟-

    عالمی شہرت یافتہ گلوکارہ عابدہ پروین کا یوم پیدائش

  • سیاست دانوں کی نااہلی  کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    سیاست دانوں کی نااہلی کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت سیاست دانوں کی نااہلی کے کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔

    باغی ٹی وی :53 صفحات پر مشتمل فیصلہ چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے تحریر کیا، فیصلے میں جسٹس منصور علی شاہ کا اضافی نوٹ شامل ہے جبکہ جسٹس یحییٰ آفریدی کا اختلافی نوٹ بھی تفصیلی فیصلے کا حصہ ہے۔ آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت سیاست دانوں کی نااہلی کیس میں جسٹس منصور علی شاہ نے لکھا، جس میں کہا گیا ہے کہ عدلیہ کو عوامی رائے اور عوام کی شاباشی حاصل کرنے کے بجائے آئین و قانون کے تحت فیصلے کرنے چاہیں۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پاناما کیس فیصلے میں یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ آرٹیکل 184 کی شق تین کے تحت سپریم کورٹ براہ راست کورٹ آف لاء کے تحت کسی امیدوار کی اہلیت کا تعین کیسے کر سکتی ہے؟ کسی امیدوار کو نااہل کرنے میں عدلیہ کو انتہائی احتیاط کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

    تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی امیدوار کے کردار کا تعین کرنا عدالتوں کا کام نہیں بلکہ جمہوری معاشروں میں یہ کام ووٹر کا ہے، نہ آئین میں اور نہ ہی کسی قانون میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ کورٹ آف لاء کون سا عدالتی فورم ہوگا جو ڈیکلریشن دینے کا مجاز ہوگا۔

    24گھنٹوں میں اسرائیلی حملوں میں 107فلسطینی شہید اور 145زخمی

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سیاست دانوں کی تاحیات نا اہلی کا سپریم کورٹ کا فیصلہ ختم کیا جاتا ہے، سمیع اللہ بلوچ کیس میں تاحیات نا اہلی کا فیصلہ ختم کیا جاتا ہے۔

    فیصلے کے مطابق سپریم کورٹ نے سمیع اللہ بلوچ کیس میں تاحیات نا اہلی کا ڈکلیئریشن دے کر آئین بدلنے کی کوشش کی الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے بعد نا اہلی کی مدت پانچ سال سے زیادہ نہیں ہوسکتی، آرٹیکل 62 ون ایف میں تاحیات نا اہلی کا کہیں ذکر نہیں، آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت تاحیات نااہلی کا تصور بنیادی حقوق کی شقوں سے ہم آہنگ نہیں، ضیا الحق نے مارشل لا لگا کر آرٹیکل 62 میں تاحیات نااہلی کی شق شامل کرائی،تاحیات نا اہلی انتخابات لڑنے اور عوام کے ووٹ کے حق سے متصادم ہے۔

    عالمی شہرت یافتہ گلوکارہ عابدہ پروین کا یوم پیدائش

    سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق عدالت الیکشن ایکٹ کے اسکوپ کو موجودہ کیس میں نہیں دیکھ رہی،آرٹیکل 62 ون ایف کو تنہا پڑھا جائے تو اس کے تحت سزا نہیں ہوسکتی، آرٹیکل 62 ون ایف میں درج نہیں کہ کورٹ آف لا کیا ہے، آرٹیکل 62 ون ایف واضح نہیں کرتا کہ ڈکلیئریشن کس نے دینی ہے، ایسا کوئی قانون نہیں جو واضح کرے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نااہلی کا طریقہ کار کیا ہوگا،سابق جج عمر عطا بندیال نے سمیع اللہ بلوچ کیس کا فیصلہ لکھا اور خود فیصلے کی نفی بھی کی، سابق جج عمر عطا بندیال نے فیصل واوڈا اور اللہ ڈینو بھائیو کیس میں اپنے ہی فیصلے کی نفی کی۔

    سپریم کورٹ کے فیصلے میں جسٹس یحییٰ آفریدی نے اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ تاحیات نا اہلی ختم کرنے کے فیصلے سے اختلاف کرتا ہوں، آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نا اہلی مستقل یا تاحیات نہیں، آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت نا اہلی کورٹ آف لا کی ڈکلیئریشن تک محدود ہے، نا اہلی تب تک بر قرار رہتی ہے جب تک کورٹ آف لا کی ڈکلیئریشن موجود ہو، سپریم کورٹ کا سمیع اللہ بلوچ کیس کا فیصلہ درست تھا۔

    ہر بچہ آنکھیں کھولتے ہی کرتا ہے سوال محبت کا

  • 24گھنٹوں میں اسرائیلی حملوں میں 107فلسطینی شہید اور 145زخمی

    24گھنٹوں میں اسرائیلی حملوں میں 107فلسطینی شہید اور 145زخمی

    غزہ: اسرائیلی فوج کے غزہ میں رہائشی علاقوں، اسپتالوں پر حملے جاری ہیں، 24گھنٹوں میں اسرائیلی حملوں میں 107فلسطینی شہید اور 145زخمی ہوگئے ہیں جبکہ الناصر اسپتال غیر فعال ہونے سے 8 مریض انتقال کر گئے۔

    باغی ٹی وی : غزہ وزارت صحت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 24گھنٹوں میں اسرائیلی حملوں میں 107فلسطینی شہید اور 145زخمی ہوگئے،فلسطینی شہدا کی مجموعی تعداد 29 ہزار سے بڑھ گئی،اسرائیل نے رمضان تک اسرائیلی یرغمالی رہا نہ ہونے پر رفح میں زمینی آپریشن کا اعلان کیا ہے دوسری جانب حماس نے بھی اعلان کر رکھا ہے کہ غزہ سے اسرائیلی فوجی انخلاء کے بغیر یرغمالی رہا نہیں کیے جائیں گےتاہم یورپی یونین نے اسرائیل کو رفح پر چڑھائی کرنے سے خبردار کر دیا ہے-

    یورپی یونین کے خارجہ امور کے سربراہ جوزپ بوریل نے کہا ہے کہ ہنگری کے علاوہ یورپی یونین کے تمام ارکان نے غزہ میں فوری جنگی وقفے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے اس امر کا مطالبہ یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد کیا ہے، یورپی یونین کے 26 ارکان نے اتفاق کیا ہے کہ غزہ میں انسانی بنیادوں پر فوری جنگی وقفہ کیا جائے اور یہ جنگی وقفہ بعد ازاں پائیدار ‘ سیز فائر ‘ میں تبدیل ہو جائے۔

    امریکا کی غزہ میں جنگ بندی کیلئے اقوام متحدہ میں ووٹنگ کو …

    یورپی یونین نے سات اکتوبر سے مسلسل اسرائیل کی حمایت میں ایک متحدہ موقف اختیار کر رکھا ہے اور ہر اہم موقع یا مرحلے پر انہوں نے اسرائیل کی ہی مدد کی ہے، تاہم اب جبکہ غزہ میں فلسطینی بچوں اور عورتوں کی اکثریتی تعداد کے ساتھ 29 ہزار ہلاکتیں ہو چکی ہیں ، پورا غزہ تباہ ہو چکا اور غزہ کی تقریباً پوری آبادی بے گھر ہو چکی ہے ان ملکوں نے سوائے ہنگری کے سب جنگ میں وقفہ چاہنے لگے ہیں۔

    یورپی یونین کے رکن ممالک نے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں اپنے اس موقف کا بھی اعادہ کیا ہے کہ ‘اسرائیل رفح میں جنگی یلغار نہ کرے ، جو اس وقت غزہ کی نصف سے زیادہ بے گھر ہو چکی آبادی کی پناہ گاہ بنا ہوا ہے،ای یو وزرائے خارجہ کا کہنا ہے رفح پر حملہ 15 لاکھ بے گھر فلسطینیوں کے لیے تباہ کُن ہوگا۔

    اقوام متحدہ کی عالمی عدالتِ انصاف میں فلسطین پر اسرائیلی قبضے سے متعلق سماعت

    تاہم یورپی یونین کے ایک رکن ہنگری نے دیگر تمام ارکان کے ساتھ ہم آواز ہونے سے انکار کیا ہے اور غزہ میں ساڑھے چار ماہ کے دوران جو کچھ ہوا ہے اس سب کچھ کے باوجود وہ اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں۔ جبکہ یورپی یونین کے دیگر تمام ارکان میں سے جرمنی ایک ایسا ملک ہے جو کسی بھی صورت میں اسرائیل کے حق دفاع کو کمزور نہیں دیکھنا چاہتا ہے-

    دوسری جانب خان یونس میں اسرائیلی فوج پر حماس کی جانب سے حملے کیے گئے جس میں کئی اسرائیلی فوج ہلاک اور متعدد کو زخمی کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔

    حزب اللہ کی سرنگیں حماس سے زیادہ جدید اور اسرائیل تک پھیلی ہوئی ہیں،فرانسیسی اخبار

  • عالمی شہرت یافتہ گلوکارہ عابدہ پروین کا یوم پیدائش

    عالمی شہرت یافتہ گلوکارہ عابدہ پروین کا یوم پیدائش

    عابدہ پروین ، صوفی موسیقی کی ملکہ

    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سندھی، اردو اور سرائیکی زبان کی عالمی شہرت یافتہ گلوکارہ عابدہ پروین 20 فروری 1954 میں لاڑکانہ سندھ (پاکستان) میں پیدا ہوئیں ۔ ان کے والد غلام حیدر شیخ اور والدہ ممتاز بیگم دونوں گلوکار اور موسیقار تھے چنانچہ اپنے گھر میں موجود موسیقی کے ماحول سے متاثر ہو کر انہوں نے بچپن میں ہی سے موسیقی میں دلچسپی لی اور موسیقی اور گائیکی کی ابتدائی تربیت انہوں نے اپنے والد استاد غلام حیدر سے حاصل کی جس کے بعد انہوں نے استاد سلامت علی خان اور استاد منظور علی خان کی شاگردی اختیار کی ۔

    عابدہ پروین نے 1975 میں ریڈیو پاکستان حیدر آباد کے سینیئر پروڈیوسر غلام حسین شیخ سے شادی کی جس سے انہیں 3 بچے پرہ، مریم حسین اور سارنگ لطیف پیدا ہوئے۔ عابدہ پروین نے گائیکی کی شروعات سندھ کے اولیائے کرام و صوفیائے کرام کی درگاہوں سے کی جس کے بعد وہ ریڈیو اور ٹیلیوژن کی اسکرین تک پہنچیں اپنی صوفیانہ اور وجد طاری کرنے والی گائیکی کے باعث وہ صوفی موسیقی کی ملکہ کے خطاب سے نوازی گئیں وہ عالمی شہرت حاصل کرنے والی پاکستان کی صوفی گلوکارہ بن گئیں وہ امریکہ ، برطانیہ ، دبئی، بھارت اور یورپ سمیت دنیا کے کئی ممالک میں اپنے فن کا مظاہرہ کر چکی ہیں ۔

    عابدہ پروین اس وقت پاکستان میں سب سے زیادہ معاوضہ لینے والی اور مصروف ترین گلوکارہ ہیں عابدہ پروین درگاہ حضرت سلطان باہو کے صاحبزاہ نجیب سلطان کی بیعت کر چکی ہیں اور ان کی معتقد اور مریدنی ہیں 2010 میں ان پر دل کا دورہ پڑا جس کے بعد انہوں نے انجیو گرافی کرا رکھی ہے عابدہ پروین کو راگ کی رانی کے خطاب سے بھی نوازا گیا ہے، حکومت پاکستان کی جانب سے انہیں پاکستان کے سب سے بڑے شہری اعزاز ہلال امتیاز اور ملک کے دوسرے بڑے سویلین اعزاز نشان امتیاز سے نوازا گیا ہے عابدہ پروین 1990 میں لاڑکانہ سے کراچی منتقل ہو چکی ہیں ۔

  • ہر بچہ آنکھیں کھولتے ہی کرتا ہے سوال محبت کا

    ہر بچہ آنکھیں کھولتے ہی کرتا ہے سوال محبت کا

    کروں گا کیا جو محبت میں ہو گیا ناکام
    مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا

    آج اس شعر کے خالق غلام محمد قاصر کی پچیسویں برسی ہےغلام محمد قاصر 1944 میں ڈیرہ اسماعیل خان سے 40 کلومیٹر شمال میں واقع ایک چھوٹے سے قصبے پہاڑ پور میں پیدا ہوئے۔ ان کے تین شعری مجموعے تسلسل ، آٹھواں آسماں بھی نیلا ہے اور دریائے گماں شائع ہوئے. کلیاتِ قاصر ’’ اک شعر ابھی تک رہتا ہے ‘‘ کے عنوان سے 2009ء میں شائع ہو چکا ہے۔ انہوں نے پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان کے لیے متعدد ڈرامے بھی لکھے ڈراما سیریل تلاش اور بچوں کے لیے کھیل بھوت بنگلہ نے بہت مقبولیت حاصل کی۔

    غلام محمد قاصر نےگورنمنٹ ہائی اسکول پہاڑپور سے میٹرک کیا ۔ بعد میں اسی اسکول میں بطور ٹیچر تقرری ہوئی ۔ ملازمت کے دوران اردو میں ایم اے کیا۔ 1975ء میں بطور لیکچرار پہلا تقرر گورنمنٹ کالج مردان میں ہوا۔ اس کے بعد پشاور ، درہ آدم خیل، طورو اور پبی کے کالجوں میں رہے۔

    ساٹھ کی دہائی کے اواخر میں ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک بڑا مشاعرہ ہوا جس میں اس دور کے اکثر نامی گرامی شعرا نے حصہ لیا، جن میں ناصر کاظمی، منیر نیازی، احمد ندیم قاسمی، قتیل شفائی، محبوب خزاں وغیرہ شامل تھے۔ مشاعرے کے آغاز ہی میں ایک نوجوان شاعر کو کلام سنانے کی دعوت دی گئی چوبیس پچیس سالہ دبلے پتلے اسکول ٹیچر نے ہاتھوں میں لرزتے ہوئے کاغذ کو بڑی مشکل سے سنبھال کر غزل سنانا شروع کی، اس شعر پر آئے تو گاؤ تکیوں سے ٹیک لگائے شعرا بھی یک لخت اُٹھ بیٹھے اور تمام سامعین کی آواز میں آواز ملا کر داد دی ۔

    تم یوں ہی ناراض ہوئے ہو ورنہ میخانے کا پتہ
    ہم نے ہر اس شخص سے پوچھا جس کے نین نشیلے تھے

    سب ایک دوسرے سے پوچھنے لگے کہ یہ کون ہے.

    1977ء میں جب ان کا پہلا شعری مجموعہ ’ تسلسل‘ شائع ہوا تو ظفر اقبال جیسے لگی لپٹی نہ رکھنے والے شاعر نے لکھا کہ میری شاعری جہاں سے ختم ہوتی ہے قاصر کی شاعری وہاں سے شروع ہوتی ہے۔آج ہی محمودالحسن نے بتایا کہ ظفر اقبال نے ان سے گفتگو کرتے ہوئے مصحفی کو شاعر ماننے سے انکار کیا.

    غلام محمد قاصر کا 20 فروری 1999 کو انتقال ہوا 2006 میں صدر پاکستان نے ان کیلئے پرائڈ آف پرفارمنس کا اعزاز دیا.

    غلام محمد قاصر کے کچھ شعر…

    بارود کے بدلے ہاتھوں میں آ جائے کتاب تو اچھا ہو
    اے کاش ہماری آنکھوں کا اکیسواں خواب تو اچھا ہو

    بغیر اس کے اب آرام بھی نہیں آتا
    وہ شخص جس کا مجھے نام بھی نہیں آتا

    بیاباں دور تک میں نے سجایا تھا
    مگر وہ شہر کے رستے سے آیا تھا

    گلابوں کے نشیمن سے مرے محبوب کے سر تک
    سفر لمبا تھا خوشبو کا مگر آ ہی گئی گھر تک

    ہم نے تمہارے غم کو حقیقت بنا دیا
    تم نے ہمارے غم کے فسانے بنائے ہیں

    ہم تو وہاں پہنچ نہیں سکتے تمام عمر
    آنکھوں نے اتنی دور ٹھکانے بنائے ہیں

    ہر بچہ آنکھیں کھولتے ہی کرتا ہے سوال محبت کا
    دنیا کے کسی گوشے سے اسے مل جائے جواب تو اچھا ہو

    ہر سال بہار سے پہلے میں پانی پر پھول بناتا ہوں
    پھر چاروں موسم لکھ جاتے ہیں نام تمہارا آنکھوں میں

    ہر سال کی آخری شاموں میں دو چار ورق اڑ جاتے ہیں
    اب اور نہ بکھرے رشتوں کی بوسیدہ کتاب تو اچھا ہو

    ہزاروں اس میں رہنے کے لیے آئے
    مکاں میں نے تصور میں بنایا تھا

    جن کی درد بھری باتوں سے ایک زمانہ رام ہوا
    قاصرؔ ایسے فن کاروں کی قسمت میں بن باس رہا

    کہتے ہیں ان شاخوں پر پھل پھول بھی آتے تھے
    اب تو پتے جھڑتے ہیں یا پتھر گرتے ہیں

    کروں گا کیا جو محبت میں ہو گیا ناکام
    مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا

    کشتی بھی نہیں بدلی دریا بھی نہیں بدلا
    اور ڈوبنے والوں کا جذبہ بھی نہیں بدلا

    کتاب آرزو کے گم شدہ کچھ باب رکھے ہیں
    ترے تکیے کے نیچے بھی ہمارے خواب رکھے ہیں

    کوئی منہ پھیر لیتا ہے تو قاصرؔ اب شکایت کیا
    تجھے کس نے کہا تھا آئنے کو توڑ کر لے جا

    محبت کی گواہی اپنے ہونے کی خبر لے جا
    جدھر وہ شخص رہتا ہے مجھے اے دل! ادھر لے جا

    پہلے اک شخص میری ذات بنا
    اور پھر پوری کائنات بنا

    سایوں کی زد میں آ گئیں ساری غلام گردشیں
    اب تو کنیز کے لیے راہ فرار بھی نہیں

    سب سے اچھا کہہ کے اس نے مجھ کو رخصت کر دیا
    جب یہاں آیا تو پھر سب سے برا بھی میں ہی تھا

    سوچا ہے تمہاری آنکھوں سے اب میں ان کو ملوا ہی دوں
    کچھہ خواب جو ڈھونڈتے پھرتے ہیں جینے کا سہارا آنکھوں میں

    امید کی سوکھتی شاخوں سے سارے پتے جھڑ جائیں گے
    اس خوف سے اپنی تصویریں ہم سال بہ سال بناتے ہیں

    وہ لوگ مطمئن ہیں کہ پتھر ہیں ان کے پاس
    ہم خوش کہ ہم نے آئینہ خانے بنائے ہیں

    زمانوں کو اڑانیں برق کو رفتار دیتا تھا
    مگر مجھ سے کہا ٹھہرے ہوئے شام و سحر لے جا

    میں بدن کو درد کے ملبوس پہناتا رہا
    روح تک پھیلی ہوئی ملتی ہے عریانی مجھے

    گلیوں کی اداسی پوچھتی ہے، گھر کا سناٹا کہتا ہے
    اس شہر کا ہر رہنے والا کیوں دوسرے شہر میں رہتا ہے

    نظر نظر میں ادائے جمال رکھتے تھے
    ہم ایک شخص کا کتنا خیال رکھتے تھے
    جبیں پہ آنے نہ دیتے تھے اک شکن بھی کبھی
    اگرچہ دل میں ہزاروں ملال رکھتے تھے

    کشتی بھی نہیں بدلی، دریا بھی نہیں بدلا
    ہم ڈوبنے والوں کا جذبہ بھی نہیں بدلا

    پہلے اِک شخص میری ذات بنا
    اور پھر پوری کائنات بنا

    کیا کروں میں یقیں نہیں آتا
    تم تو سچے ہو بات جھوٹی ہے

    بیکار گیا بن میں سونا میرا صدیوں کا
    اس شہر میں تو اب تک سِکہ بھی نہیں بدلا

    آگ درکار تھی اور نور اٹھا لائے ہیں
    ہم عبث طور اٹھا لائے ہیں

    پیاس کی سلطنت نہیں مٹتی
    لاکھہ دجلے بنا فرات بنا

    نظر نظر میں اداۓ جمال رکھتے ہیں
    ہم ایک شخص کا کتنا خیال رکھتے ہیں

    تری پسند کی چیزیں خریدنے والے
    تری پسند کے چیزوں کے نام بھول گئے

    یزید نقشہ جورو جفا بناتا ہے
    حسین اس میں خط کربلا بناتا ہے

    یزید لکھتا ہے تاریکیوں کو خط دن بھر
    حسین شام سے پہلے دیا بناتا ہے

    یزید تیز ہواؤں سے جوڑ توڑ میں گم
    حسین سر پہ بہن کے ردا بناتا ہے

    خوشبو گرفت عکس میں لایا اور اس کے بعد
    میں دیکھتا رہا تیری تصویر تھک گئی

    میں نے پڑھا تھا چاند کو انجیل کی طرح
    اور روشنی صلیب پہ آکر لٹک گئی

    روتی رہی لپٹ کے ہر اک سنگ میل سے
    مجبور ہو کے شہر کے اندر سڑک گئی

  • حزب اللہ کی سرنگیں حماس سے زیادہ جدید اور اسرائیل تک پھیلی ہوئی ہیں،فرانسیسی اخبار

    حزب اللہ کی سرنگیں حماس سے زیادہ جدید اور اسرائیل تک پھیلی ہوئی ہیں،فرانسیسی اخبار

    لبنان: لبنانی حزب اللہ ملیشیا کے پاس خفیہ سرنگوں کا نیٹ ورک موجود ہے جو غزہ میں حماس کے مقابلے میں زیادہ جدید ہیں۔

    باغی ٹی وی : یہ انکشاف فرانسیسی اخبار "لبریشن” نے اپنی ایک رپورٹ میں کیا ہے،اخبار کے مطابق لبنانی ملیشیا کے پاس ایسی سرنگیں ہیں جو سینکڑوں کلومیٹر لمبی ہیں اور ان کی شاخیں ہیں جو اسرائیل اور شاید اس سے آگے شام تک پہنچتی ہیں۔

    اخبار نے اسرائیلی محققین اور ویب سائٹس کے حوالے سے کہا ہے کہ تحریک نے بیروت، بقاع اور جنوبی لبنان کو جوڑنے والے مقامی زیر زمین نیٹ ورکس سے منسلک درجنوں آپریشن سینٹرز کے ساتھ ایک دفاعی منصوبہ بنایا ہے حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان مسلسل کشیدگی اور خطرات کے تحت، تل ابیب میں شمالی سرحد پر حزب اللہ کی سرنگوں کی موجودگی کے بارے میں خوف پیدا ہو گیا ہے جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ شمالی اسرائیل کے ساحل پر واقع شہر نہاریا کے ایک ہسپتال تک پہنچتی ہیں۔

    نوٹ کیا کہ پاکستان میں انتخابات عام طور پر مستحکم اور ہموار طریقے سے ہوئے،چین

    رپورٹ کے مطابق مہینوں پہلے، نہاریا میں میڈیکل سنٹر کی انتظامیہ کی طرف سے ڈرلنگ کے شور کے بارے میں موصول ہونے والی شکایات کے بعد، اسرائیلی فوج نے لبنان سے مذکورہ ہسپتال کی طرف جانے والی سرنگ کے وجود کے خدشے کو مسترد کرنے کے لیے زمینی ٹیسٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔

    اسرائیلی اخبار اسرائیلی ہیوم نے انکشاف کیا کہ اسرائیل نے جانچ کے لیے 40 سے زائد مقامات پر کھدائی کی لیکن سرنگ کی موجودگی کا پتہ لگانے میں ناکام رہے جس کے باعث ان کا یہ خدشہ ختم ہوگیا،،اخبار کے مطابق ہسپتال کے علاقے میں کام شروع ہونے کے بعد حفاظت کی خاطر کھدائی کا کام ترک کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔جغرافیائی طور پر نہاریہ میں موجود گیلیلی اسپتال اسرائیل کی شمالی سرحد پر ہے جو کہ لبنان کے ساتھ لگتی ہے، مشتبہ سرنگوں کے معاملے کی ابتدائی اطلاعات گذشتہ سال دسمبر میں سامنے آئی تھیں۔

    اقوام متحدہ کی عالمی عدالتِ انصاف میں فلسطین پر اسرائیلی قبضے سے متعلق سماعت

    یروشلم پوسٹ نے بھی حزب اللہ کی سرنگ کے خطرے کا خدشہ ظاہر کیا ہے اور بتایا ہے کہ حزب اللہ کو سرنگیں کھودنےکا وسیع تجربہ ہے اور اب جب یہ پتہ چلا ہے کہ حماس کی سرنگیں اس سے کہیں زیادہ بڑی اور وسیع ہیں جو پہلے سوچا گیا تھا تو کیا یہ ممکن نہیں کہ حزب اللہ کی سرنگوں کا خطرہ اس سے کہیں زیادہ ہو جو پہلے سوچا گیا تھا-

    قابل ذکر بات یہ ہےکہ جنوبی لبنان کا خطہ غزہ جیسا نہیں ہے،کیونکہ یہ پتھریلی پہاڑیوں اور وادیوں پر مشتمل ہے اور اسی لیے اسرائیلی اندازے اس خیال کو قبول نہیں کرتے کہ حزب اللہ اسرائیل میں 10 کلومیٹر گہرائی تک سرنگیں کھودنے میں کامیاب ہوچکی ہے۔

    روس کو بڑی کامیابی،یوکرین کے اہم قصبےپر قبضہ کر لیا

  • جسٹس شاہد  چوہدری کینیڈا میں جج تعینات ہو نیوالے پہلے پاکستانی

    جسٹس شاہد چوہدری کینیڈا میں جج تعینات ہو نیوالے پہلے پاکستانی

    ٹورنٹو: جسٹس شاہد چوہدری کینیڈا کی اونٹاریو کورٹ آف جسٹس میں جج تعینات ہوگئے ہیں-

    جسٹس شاہد چوہدری کینیڈا میں اس قانونی عہدے پر فائز ہونے والے پہلے پاکستانی ہیں، اونٹاریو کورٹ آف جسٹس میں بطور جج میری تعیناتی ہو چکی ہے اور آج کل ٹریننگ ہو رہی ہے،جسٹس آف پیس کا عہدہ سنبھالنے والے شاہد چوہدری 25 سال پہلےکینیڈا منتقل ہوئے تھے جب کہ ان کا تعلق پنجاب کے شہر بورےوالا سے ہے، جسٹس شاہد نے یونیورسٹی آف انجینیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور سے الیکٹریکل انجینیئرنگ کی ڈگری جب کہ کینیڈا کے اوسگوڈ ہال لاء اسکول سے پوسٹ گریجویٹ سرٹیفکیٹ مکمل کیا۔

    جسٹس شاہد اونٹاریو کی کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز کےکونسل اور مختلف کمیٹیوں کے رکن رہے ہیں، اس کے علاوہ 2011 میں کینیڈین امیگریشن اور سٹیزن شپ کنسلٹنٹ بھی رہے ہیں-

    حکومت سازی کیلئے پی پی اور ن لیگ کا پانچواں اجلاس بھی بے نتیجہ …

    اردو اور پنجابی کی معروف شاعرہ سیدہ گلفام پروین

    جمعیت علمائے اسلام حکومت سازی میں شامل نہیں ہو گی، مولانا عبدالغفور حیدری

  • جے یو آئی نظریاتی  کا انتخابی اتحاد میں تحریک انصاف کیساتھ چلنے کااعلان

    جے یو آئی نظریاتی کا انتخابی اتحاد میں تحریک انصاف کیساتھ چلنے کااعلان

    اسلام آباد: جمعیت علما اسلام نظریاتی نے انتخابی اتحاد میں تحریک انصاف کے ساتھ چلنے کااعلان کردیا –

    باغی ٹی وی : جے یو آئی نظریاتی کے رہنما مولانا گل نصیب نےپی ٹی آئی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہم پاکستان کو مستحکم دیکھنا چاہتے ہیں،ہم چاہتے ہیں اس نظام پراعتماد پیدا کیا جائے، جس کیلئے ہم تحریک انصاف کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔

    پی ٹی آئی رہنمابیرسٹرگوہرنے کہا کہ ملکی معیشت اورحالات کو بہتر کرنےکیلئےمل کرآگے بڑھیں گے،ہم رابطے جاری رکھیں گے، اور مشترکہ کوششیں کریں گے-

    پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کو 2 نئے لائسنس جاری

    پی ٹی آئی رہنما اسدقیصر نے کہا کہ پوراالیکشن متنازعہ ہوگیا ہے،کمشنر راولپنڈی کے بیان سےواضح ہوگیا کہ کتنی بڑی دھاندلی ہوئی ہے،ان انکشافات کی انکوائری ہونی چاہیے،کراچی اورکوئٹہ جائیں گے،بندکمروں کےفیصلوں کااختیارکسی کونہیں دیں گے منصوبہ بندی سے ہمارا مینڈیٹ چھینا گیا،ہم تمام سیاسی جماعتوں کو اکٹھا کررہے ہیں،جو بھی وزیراعظم ہمارےعلاوہ وزیراعظم بنا وہ جعلی ہوگا۔

    حکومت سازی کیلئے پی پی اور ن لیگ کا پانچواں اجلاس بھی بے نتیجہ …