Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • پاک افغان سرحد کے قریب سکیورٹی فورسز کا آپریشن،2 دہشتگرد ہلاک

    پاک افغان سرحد کے قریب سکیورٹی فورسز کا آپریشن،2 دہشتگرد ہلاک

    چترال: پاک افغان سرحد کے قریب چترال کے علاقے ارسون میں سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں 2 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔

    باغی ٹی وی: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر)کے مطابق آپریشن چترال کے علاقے ارسون میں7 اور 8 نومبر کی درمیانی رات کیا گیا، آپریشن میں شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں 2 دہشت گرد ہلاک جبکہ 4 دہشت گرد شدید زخمی ہوئے،علاقے میں کسی بھی ممکنہ دہشت گرد کے خاتمے کیلئے کلیئرنس آپریشن کیا گیا، علاقے کے لوگوں نے سکیورٹی فورسز کے آپریشن کو سراہا۔

  • اٹلی  اسپتال پر مبنی بحری جہاز غزہ  بھیجے گا،وزیر دفاع

    اٹلی اسپتال پر مبنی بحری جہاز غزہ بھیجے گا،وزیر دفاع

    روم: اٹلی کی جانب سے زخمی شہریوں کے علاج کے لیےغزہ کے قریب ایسا بحری جہاز بھیجا جائے گا جو اسپتال کے طور پر کام کرتا ہے۔

    باغی ٹی وی:”روئٹرز” کے مطابق اٹلی کے وزیر دفاع گیڈو کروسیٹو نے اعلان کیا ہے کہ 8 نومبر کو یہ خصوصی بحری جہاز غزہ کی جانب روانہ ہو جائے گا، اس بحری جہاز میں 170 افراد کا عملہ موجود ہوگا،جس میں 30 افراد طبی ہنگامی حالات کے لیے تربیت یافتہ ہیں،اٹلی کی جانب سے ایک فیلڈ اسپتال بھی غزہ بھیجنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

    خیال رہے کہ غزہ میں 33 روز سے جاری اسرائیل کی وحشیانہ کارروائیوں کے دوران شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد ساڑھے 10 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے،فلسطینی وزارت صحت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی جارحیت سے مزید 214 فلسطینی شہید ہوئے، جس کے بعد 7 اکتوبر سے اب تک شہید ہونے والے افراد کی تعداد 10 ہزار 569 ہوگئی ہے شہید افراد میں 4324 بچے، 2823 خواتین اور 649 معمر افراد بھی شامل ہیں 26 ہزار 475 فلسطینی زخمی ہوئے 193 طبی ورکرز شہید جبکہ 45 ایمبولینسوں کو نقصان پہنچا ہے۔

  • عمران خان کا ساتھ بہت امیدوں کے ساتھ دیا تھا مگر وہ وزیراعظم بنتے ہی بدل گئے،جہانگیر ترین

    عمران خان کا ساتھ بہت امیدوں کے ساتھ دیا تھا مگر وہ وزیراعظم بنتے ہی بدل گئے،جہانگیر ترین

    راولپنڈی: چئیرمین استحکام پاکستان پارٹی جہانگیر خان ترین کا کہنا ہے کہ عمران خان کا ساتھ بہت امیدوں کے ساتھ دیا تھا مگر وہ وزیراعظم بنتے ہی بدل گئے-

    باغی ٹی وی: راولپنڈی میں استحکام پاکستان پارٹی کے ڈویژنل سیکرٹریٹ آفس کے افتتاح کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جہانگیر خان ترین کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی دور حکومت میں اپنے اوپر ہونے والے مظالم پر بہت بات کرسکتا ہوں لیکن میں آگے دیکھنا چاہتا ہوں، میں وہ مقصد حاصل کرنا چاہتا ہوں جس کا خواب دیکھا تھا، اپنی ذات کے لیے بہت کچھ کرلیا ہے، اب ملک کی خاطر کچھ کرنا چاہتے تھے، بڑی امید کے ساتھ روایتی سیاسی پارٹیوں کو چھوڑ کر نیا پاکستان بنانے والے لیڈر کے ساتھ کھڑے ہوئے تھے لیکن وہ صاحب جب وزیراعظم بنے تو امیدیں پوری نہ ہونے پر بہت افسوس ہوا۔

    انہوں نے کہا کہ عمران خان کا ساتھ بہت امیدوں کے ساتھ دیا تھا مگر وہ وزیراعظم بنتے ہی بدل گئے، پہلے دن جو انسان وزیر اعظم کی کرسی پر بیٹھا تھا وہ کوئی اور ہی انسان تھا، علیم خان کو جیل میں بھیجنا بہت بڑا ظلم تھا، ہم پاکستان کو پہلے ایشا اور پھر دنیا بھر کا اچھا ملک بنائیں گے۔

    جہانگیر ترین کا کہنا تھا کہ ایک نیا ملک بنائیں گے جہاں انصاف ہوگا، روزگار ملے گا، قیادت ایمان دار ہوگی، آج آپ لوگوں کا جذبہ دیکھ کر بہت خوش ہوا ہوں آپ سب کو مبارک ہو، یہ ایک ابتداہے، آپ سے وعدہ کرتا ہوں اپنی باتوں سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، پوری جستجو کے ساتھ ایمانداری اور پاک سوچ سے محنت کریں گے، جو امیدیں تھیں وہ نہیں ہوسکا، اب ہم خود پورا کریں گے، ابھی زندگی باقی ہے، پاکستان میں کوئی کمی نہیں ہے، ابھی بتدا ہے اب ہماری پارٹی سیاست شروع کرے گی۔

    دوسری جانب چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پارلیمنٹیرینز پرویز خٹک کا کہنا ہےکہ عمران خان نے تبدیلی کے نام پر عوام کو بے وقوف بنایا،اضاخیل میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ تبدیلی کے نام پر اقتدار میں آنے کے بعد عمران خان کسی اور راستے پر چل پڑے چیئرمین پی ٹی آئی کے غلط راستے پر چلنے سے ان کے ساتھیوں نے راہیں جدا کرلیں،مولانا فضل الرحمان ہماری فکر کرنا چھوڑ کر اپنی خیر منائیں، ایک بار پھر ڈی آئی خان میں مولانا فضل الرحمان کی سیٹ خطرے میں نظر آرہی ہے۔

  • پہلی بار ہوگا کہ وزیراعلیٰ، میئر کراچی اور وزیراعظم جیالا ہوگا، بلاول بھٹو زرداری

    پہلی بار ہوگا کہ وزیراعلیٰ، میئر کراچی اور وزیراعظم جیالا ہوگا، بلاول بھٹو زرداری

    کراچی: چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے 8 فروری کو صوبائی کے ساتھ وفاقی حکومت بنانے کا دعویٰ کردیا۔

    باغی ٹی وی : کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس بار جیالا وزیراعظم ہو گا، کراچی کے عوام پیپلز پارٹی کے ساتھ ہیں،8 فروری کوعوام تیر پر مہر لگا کر پیپلزپارٹی کو کامیاب بنائے گی، عوام کی حمایت سے وفاق اور سندھ میں حکومت بنائیں گے، یہ پہلی بار ہوگا کہ وزیراعلیٰ، میئر کراچی اور وزیراعظم جیالا ہوگا،مہنگائی، غربت اور بے روز گاری عروج پر ہے، ہم پاکستان کی قسمت بدل دیں گے، پاکستان کے عوام اس وقت مشکل میں ہیں، نوجوان ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

     

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج کاروبار کا مثبت رجحان ،پہلی باربلند ترین سطح پر

    https://x.com/PPP_Org/status/1722249756842287263?s=20
    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زردراری نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی کو کبھی لیول پلئینگ فیلڈ نہیں ملی، 2008 میں کارکنوں کی شہادتوں اور لیول پلئینگ فیلڈ نہ ہونے کے باوجود عوام کی طاقت سے الیکشن جیتا، لیول پلئینگ فیلڈ ہو یا نہ ہو، الیکشن میں جیت پیپلزپارٹی کی ہوگی،ن لیگ اور ایم کیوایم کے اتحاد پر ہمیں کوئی شکایت نہیں، امید ہے اب کوئی الیکشن سے نہیں بھاگ سکے گا اس اتحاد کا نقصان ایم کیو ایم اور ن لیگ کو ہوگا،لیول پلئینگ فیلڈ کی بات کرنا ہی بند کردیں 18 اکتوبر کو پیپلزپارٹی کے کارکنوں کو شہید کیا گیا، کارکنوں کی شہادتوں اور لیول پلئینگ فیلڈ نہ ہونے کے باوجود الیکشن جیتا۔

    اوگرا نے گیس کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دے دی

    انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا منشور ہی روٹی، کپڑا اور مکان ہے، لوگ دیکھیں گے ہم کس طرح پاکستان کی قسمت بدل دیں گے، پیپلز پارٹی کو کسی بھی الیکشن میں لیول پلیئنگ فیلڈ نہیں ملی، پیپلز پارٹی ہی الیکشن جیتے گی، پیپلز پارٹی کا منشور ہی روٹی، کپڑا اور مکان ہے، لوگ دیکھیں گے ہم کس طرح پاکستان کی قسمت بدل دیں گے-

  • غزہ کے علاقے خان یونس کی سب سے بڑی مسجد میں بمباری

    غزہ کے علاقے خان یونس کی سب سے بڑی مسجد میں بمباری

    غزہ میں اسرائیل کے بلا اشتعال حملے جاری ہیں-

    باغی ٹی وی: غزہ کے علاقے خان یونس میں الناصر اسپتال سے صرف 100 میٹر کے فاصلے پر علاقے کی سب سے بڑی مسجد پر بنا کسی وارننگ کے اسرائیلی فضائیہ نے بمباری کردی، جس کے نتیجے میں مسجد مکمل طور پر تباہ ہو گئی اور سینکڑوں افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

    اس فضائی حملے میں پریشانی کی بات یہ ہے کہ مسجد ایک مصروف سڑک کے بیچ میں واقع ہے، یہ مرکزی سڑک اسپتال کے سائیڈ گیٹ کی طرف جاتی ہے اور ایک مصروف بازار بھی ہے جہاں بہت سے لوگ روزمرہ ضروریات کی خریداری کرتے ہیں مسجد کے ساتھ ہی ایک بیکری بھی ہے جہاں سینکڑوں لوگ روٹی کے لیے قطار میں کھڑے تھے بغیر وارننگ کے ہوئی اس فضائی حملے میں زخمی ہوئے اب تک درجنوں افراد کو اسپتالوں میں لایا جا چکا ہے، جبکہ شہادتیں بھی متوقع ہیں جن کی تعداد فی الحال نامعلوم ہے۔

    او آئی سی اجلاس میں حماس رہنماوں کو بھی بلایا جائے، مولانا فضل الرحمان

    واضح رہے کہ غزہ میں 33 روز سے جاری اسرائیل کی وحشیانہ کارروائیوں کے دوران شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد ساڑھے 10 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے،فلسطینی وزارت صحت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی جارحیت سے مزید 214 فلسطینی شہید ہوئے، جس کے بعد 7 اکتوبر سے اب تک شہید ہونے والے افراد کی تعداد 10 ہزار 569 ہوگئی ہےشہید افراد میں 4324 بچے، 2823 خواتین اور 649 معمر افراد بھی شامل ہیں،اس عرصے میں اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 26 ہزار 475 فلسطینی زخمی ہوئے۔

    خیال رہے کہ 33 روز سے جاری اس جنگ کے باعث غزہ کے 15 لاکھ سے زائد افراد بے گھر بھی ہوچکے ہیں وزارت صحت کے ترجمان نے بتایا کہ 7 اکتوبر سے اب تک اسرائیلی بمباری میں 193 طبی ورکرز شہید جبکہ 45 ایمبولینسوں کو نقصان پہنچا ہے۔

    فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی نہیں ہونی چاہیے،امریکی وزیر خارجہ

    دوسری جانب ڈیفنس فار چلڈرن انٹرنیشنل فلسطین نامی این جی او نے بتایا کہ 1967 سے 7 اکتوبر 2023 سے قبل مغربی کنارے اور غزہ میں اسرائیل کے ہاتھوں جتنے بچے شہید ہوئے، اس دوگنا زیادہ بچے ایک ماہ کے دوران شہید ہوچکے ہیں، 1350 بچے ابھی بھی عمارات کے ملبے تلے موجود ہیں اور ان میں بیشتر ممکنہ طور پر شہید ہو چکے ہیں،ایک تخمینے کے مطابق اسرائیلی جارحیت کے باعث روزانہ سو سے زائد فلسطینی بچے شہید ہو رہے ہیں۔

    اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ غزہ میں صحت، نکاسی آب، صاف پانی اور خوراک تک رسائی جیسی بنیادی سہولیات دستیاب نہیں اور مکمل نظام منہدم ہونے کے قریب ہے،9 اکتوبر کو اسرائیل نے غزہ کی سرحدوں کو مکمل بند کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد خوراک، پانی، ایندھن اور ادویات کی سپلائی مکمل طور پر رک گئی تھی-

    فلسطین کی حمایت میں ریلی،یہودی شخص کی جھگڑے میں موت

    انسانی حقوق کے گروپس برسوں سے غزہ میں پانی کی قلت کے حوالے سے خبردار کرتے آرہے ہیں2021 میں گلوبل انسٹیٹیوٹ فار واٹر، انوائرمنٹ اینڈ ہیلتھ نے کہا تھا کہ غزہ میں دستیاب 97 فیصد پانی پینے کے قابل نہیں مگر اب بجلی کی عدم دستیابی کے باعث پانی کو صاف کرنے والے پلانٹس بھی بند ہوچکے ہیں جس کے باعث صاف پانی تک رسائی لگ بھگ ناممکن ہوگئی ہے۔

    4 نومبر کو اسرائیل نے شمالی غزہ میں پانی کے ایک ذخیرے اور پبلک واٹر ٹینک کو تباہ کر دیا تھا جس کے باعث پانی کی قلت بحران کی شکل اختیار کر گئی اس وقت زیادہ تر افراد آلودہ اور کھارا پانی پینے پر مجبور ہیں اور اس کے حصول کے لیے بھی گھنٹوں تک قطاروں میں لگنا پڑتا ہے۔

    اسرائیلی حملوں میں 2 لاکھ سے زائد عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا

    عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے 7 نومبر کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ہر فرد کو روزانہ 50 سے 100 لیٹر پانی کی ضرورت ہوتی ہے، مگر غزہ میں ہر فرد کو اوسطاً محض 3 لیٹر پانی دستیاب ہے، جو پینے سمیت ہر مقصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے،جب کسی فرد کو پانی کی کمی کا سامنا ہوتا ہے تو سب سے پہلے گردوں پر اثرات مرتب ہوتے ہیں اور پھر دل متاثر ہوتا ہےبچوں کے لیے ڈی ہائیڈریشن جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے جبکہ بالغ فرد کو سر چکرانے، دل کی دھڑکن کی رفتار بڑھنے اور دیگر مسائل کا سامنا ہوتا ہے اگر پانی بالکل دستیاب نہ ہو تو صحت مند فرد کے لیے بھی ایک ہفتے سے زیادہ زندہ رہنا ممکن نہیں ہوتا۔

    اقوام متحدہ کے ادارے فوڈ اینڈ ایگریکلچرل آرگنائزیشن (ایف اے او) کے مطابق 7 اکتوبر سے پہلے بھی غزہ کی 80 فیصد آبادی کو مناسب مقدار میں خوراک دستیاب نہیں تھی، اس وقت لگ بھگ 50 فیصد آبادی کو خوراک کے حصول کے لیے اقوام متحدہ کے فلسطین میں کام کرنے والے ادارے کی امداد پر انحصار کرنا پڑتا تھا۔

    فلسطینی صدر محمود عباس کے قافلے پر حملہ،ویڈیو

    7 اکتوبر سے قبل روزانہ اوسطاً 500 امدادی ٹرک غزہ میں داخل ہوتے تھےمگر اب صورتحال بدل چکی ہے اور اقوام متحدہ کے مطابق 21 اکتوبر سے اب تک محض 451 ٹرک غزہ میں داخل ہوئے ہیں، جن میں سے صرف 158 میں خوراک موجود تھی، 102 میں طبی سامان، 44 میں پانی یا صفائی سے متعلق مصنوعات، 32 میں عام اشیا اور 8 میں نیوٹریشن سپلائیز موجود تھیں کسی بھی ٹرک میں ایندھن موجود نہیں تھا کیونکہ اسرائیل اس کی اجازت دینے کے لیے تیار نہیں۔

    ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق غزہ میں خوراک کے ذخائر بمشکل 5 دن کے لیے کافی ہوں گے جبکہ زیادہ تر افراد کو خوراک دستیاب نہیں غزہ میں متعدد بیکریاں بند ہوچکی ہیں اور جو ابھی بھی فعال ہیں، وہ عام حالات کے مقابلے میں 6 گنا زیادہ سامان تیار کر رہی ہیں مگر وہاں سے روٹی یا دیگر سامان کے حصول کے لیے رہائشیوں کو گھنٹوں تک قطار میں انتظار کرنا پڑتا ہےایندھن اور گندم کی قلت کے باعث یہ بیکریاں بھی بند ہونے کے قریب ہیں۔

    حماس اور اسرائیل جنگ:یورپ میں اسلامو فوبیا کے واقعات میں اضافہ

    ڈبلیو ایچ او کے مطابق کھانے کی کمی سے بچوں کی نشوونما تھم جاتی ہے اور جسمانی وزن میں کمی آتی ہے جس سے متعدد جسمانی اور ذہنی مسائل کا خطرہ بڑھتا ہےحاملہ خواتین کو مناسب غذا تک رسائی حاصل نہ ہو تو اسقاط حمل، قبل از وقت پیدائش یا بچوں میں پیدائشی نقص جیسے خطرات بڑھتے ہیں۔

    عالمی ادارہ صحت کے مطابق طبی مراکز پر اسرائیلی بمباری سے سب سے زیادہ خواتین اور بچے متاثر ہو رہے ہیں ادویات اور دیگر طبی سامان کی قلت کے باعث حاملہ خواتین کو مشکلات کا سامنا ہے اور اکثر مقامات پر بچوں کی پیدائش کے لیے آپریشن anesthesia کے بغیر کیے جا رہے ہیں اوسطاً روزانہ 180 بچوں کی پیدائش ہو رہی ہے اور طبی سہولیات دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے ماؤں اور نومولود بچوں کی ہلاکتیں بڑھ رہی ہیں۔

    روس کا غزہ پر ایٹمی حملے سےمتعلق اسرائیلی وزیر کے بیان پرتحقیقات کا مطالبہ

    اقوام متحدہ کے پناہ گزین مراکز میں نظام تنفس کے امراض، ہیضہ اور چکن پاکس کے کیسز تیزی سے بڑھ رہے ہیں ڈبلیو ایچ او نے اب تک اسرائیلی بمباری کے باعث بے گھر ہونے والے افراد میں 22 ہزار 500 نظام تنفس کے انفیکشن جبکہ 12 ہزار ہیضہ کے کیسز رپورٹ کیے ہیں سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث ڈاکٹر سرکے کو طبی آلات کی صفائی کے لیے استعمال کر رہے ہیں جبکہ سرجری کے لیے سوئی دھاگے کو استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔

    غزہ کے سب سے بڑے شفا اسپتال کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ طبی نظام منہدم ہونے کے قریب ہے اور جراثیموں سے پاک ماحول میں علاج کرنا ممکن نہیں رہا غزہ کا واحد کینسر اسپتال ایندھن دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے بند ہو چکا ہے، شفا اور دیگر بڑے اسپتال بھی بند ہونے کے قریب ہیں مجموعی طور پر 7 اکتوبر سے اب تک غزہ کے 50 فیصد اسپتال جبکہ 62 فیصد طبی مراکز بمباری یا ایندھن ختم ہونے کی وجہ سے بند ہوچکے ہیں۔

    بابا وانگا کی سال 2024 کے حوالے سے 7 پیشگوئیاں

  • نیپرا نے بجلی کی قیمت میں اضافہ کر دیا

    نیپرا نے بجلی کی قیمت میں اضافہ کر دیا

    اسلام آباد: بجلی صارفین کے لیے بری خبر ہے کہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے ایک ماہ کے لیے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافہ کر دیا۔

    باغی ٹی وی : نیپرا کی جانب سے ماہ ستمبر کے فیول پرائیس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں قیمت میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا، بجلی صارفین کے لیے ماہ ستمبر کے فیول پرائیس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 40 پیسے فی یونٹ اضافہ کیا گیا ہے۔

    نیپرا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا اطلاق ماہ نومبر کے بلز میں وصول کیا جائے گا،سینٹرل پرچیزنگ پاور ایجنسی کی جانب سے ماہ ستمبر کے لیے ایف سی اے کی مد میں 55 پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست کی گئی جس پر اتھارٹی نے یکم نومبر کو سماعت اور اس کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا، بجلی کی قیمت میں اضافے کا اطلاق لائف لائن اور کے الیکٹرک صارفین پر نہیں ہوگا۔

    اوگرا نے گیس کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دے دی

    دوسری جانب اوگرا نےوفاقی حکومت کی منظوری کے بعد گیس کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دے دی، اوگرا نے گیس کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے ،نوٹیفکیشن کے مطابق گیس کی نئی قیمتوں کا اطلاق یکم نومبر سے ہوگا،نان پروٹیکٹڈ گھریلو صارفین کیلئے گیس کی قیمت میں 172 فیصد سے زائد اضافہ کیا گیا ہے۔

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج کاروبار کا مثبت رجحان ،پہلی باربلند ترین سطح پر

  • پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج  کاروبار کا مثبت رجحان ،پہلی باربلند ترین سطح پر

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج کاروبار کا مثبت رجحان ،پہلی باربلند ترین سطح پر

    کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج کاروبار کا مثبت رجحان رہا کاروبار کے دوران 100 انڈیکس میں 525 پوائنٹس اضافہ ہوا اور کاروبار کے اختتام پر 100 انڈیکس 54 ہزار261 پر بند ہوا جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔

    باغی ٹی وی : پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج کاروبار کا مثبت آغاز ہوا، کاروبار کے آغاز پر 100 انڈیکس 130 پوائنٹس اضافے سے 53 ہزار 866 کی سطح پر پہنچ گیا، کاروبار کے اختتام پر 100 انڈیکس 525 پوائنٹس اضافے سے 54 ہزار 261 پر بند ہوا، 100 انڈیکس پہلی بار 54 ہزار سے اوپر بند ہوا ہے،آج 100 انڈیکس نےتاریخ کی بلند ترین سطح 54 ہزار 419 بھی رقم کی۔

    انٹربینک میں ڈالر مزید مہنگا،سونے کی قیمت میں بھی اضافہ

    کاروباری دن میں 100 انڈیکس 699 پوائنٹس کے بینڈ میں رہا، بازار میں آج 48 کروڑ 27 لاکھ شیئرز کا کاروبار ہوا، شیئرز بازار کےکاروبار کی مالیت 20 ارب 12کروڑ روپے سے زائد رہی، مارکیٹ کیپٹلائزیشن 72 ارب روپے بڑھ کر 7820 ارب روپے رہی، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جاری ریکارڈ سازی پر سرمایہ کاروں کا کہنا ہے مثبت اقتصادی خبروں کے پیش نظر اعتماد بحال ہو ررہا ہے، توقع ہے مسقتبل میں تیزی کا یہ سلسلہ جاری رہے گا،مارکیٹ میں ریکارڈز تو بن رہے ہیں لیکن حجم بھی بڑھنا چاہیئے-

    سعودی ریال اور اماراتی درہم سمیت دیگر کرنسیوں کی قدر میں اضافہ

    واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے لیے ایک شاندار اور تاریخی دن رہا تھا جب کاروبار کے دوران 100 انڈیکس تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ کر پہلی بار 54 ہزار کی حد عبور کرگیا تھا100 انڈیکس نے اپنی بلندی کی نئی تاریخ 54 ہزار 312 ریکارڈ کی تھی لیکن کاروباری دن کا اختتام 124 پوائنٹس کمی سے 53 ہزار 735 پر ہوا تھا۔

    سعودی ریال سمیت دیگر کرنسیوں کی قیمت میں اضافہ

  • او آئی سی اجلاس میں حماس رہنماوں کو بھی بلایا جائے، مولانا فضل الرحمان

    او آئی سی اجلاس میں حماس رہنماوں کو بھی بلایا جائے، مولانا فضل الرحمان

    ‏اسلام آباد: سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے قائد اعظم کا جو موقف قیام پاکستان سے پہلے تھا وہی موقف اب بھی ہے ۔

    باغی ٹی وی: جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے غیر ملکی میڈیا کے نمائندہ گان سے ملاقات کے دوران کہا کہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے قائد اعظم کا جو موقف قیام پاکستان سے پہلے تھا وہی موقف اب بھی ہے ،قائد اعظم نے اقوام متحدہ کی تجویز کو مسترد کیا اور امریکی صدر کو خط لکھا کہ فلسطین کو دو ریاستی تصور کے ساتھ قبول نہیں کرسکتے ،فلسطین کی سرزمین کو تقسیم نہیں کیا جا سکتا ۔

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اسرائیل اور فلسطینی حالت جنگ میں ہیں جنگ میں کوئی بھی اقدام کیا جاسکتا ہے ،امریکہ برطانیہ براہ راست فلسطین میں اپنی فوجیں لے آیا ہے ،حماس کے مجاہدین کے ساتھ جنگ نہیں بلکہ براہ راست غزہ شہر پر حملے کیے جا رہے ہیں ،ہسپتالوں سکولوں پر حملے ہو رہے ہیں ،اسرائیلی کو جنگی مجرم قرار دے جنگی جرائم کا مرتکب قرار دے ۔

    فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی نہیں ہونی چاہیے،امریکی وزیر خارجہ

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ قضیہ فلسطین کے براہ راست فریق فلسطینی ہیں ان کے بغیر کوئی حل ممکن نہیں ، مسلم اُمّہ اپنے بھائیوں کے ساتھ اس طرح نہیں کھڑے جس طرح مغربی دنیا اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہیں ، آج انسانیت کا قتل ہورہا ہے بچوں بوڑھوں اور خواتین کو قتل کیا جا رہا ہے کیا اس کے بعد بھی انسانی حقوق کا علمبردار کہا جائے گا ، کیا ان کو یاد نہیں کہ نازیوں نے ان کا کیسے قتل عام کیا کیا اس کا بدلہ فلسطینیوں سے لیا جائے گا ۔

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کا خواب بکھر گیا اب دنیا کو سوچنا ہوگا ایک اور زاویہ سے ،اسرائیل اس خطے میں فرعون کے جانشین ہیں ،موسی کے جانشین فلسطینی ہیں ،ہم نے مطالبہ کیا کہ او اوئی سی کا سربراہی اجلاس بلایا جائے ،سعودی عرب نے اجلاس طلب کیا ان کا شکر گذار ہوں ، فلسطینی قیادت کا بھی مطالبہ تھا کہ او آئی سی کا اجلاس بلایا جائے ۔

    فلسطین کی حمایت میں ریلی،یہودی شخص کی جھگڑے میں موت

    سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ اس میں حماس کے نمائندوں کو دعوت دی جائے ان کے بغیر یہ اجلاس نامکمل ہے ،جے یو آئی کا اوّل روز سےموقف فلسطینیوں کی حمایت کا رہا ہے ،پشاور کوئٹہ اور کراچی میں بڑے جلسے کئے ،امریکہ میں برطانیہ فرانس یورپ میں مظاہر ے ہوئے ہیں ،ان کو بھی عوام کا احترام کرنا ہوگا ورنہ جمہوریت کی بات چھوڑ دیں ۔

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اگر بند کمروں میں فیصلے کرنے ہیں تو پھر عوام کی کوئی حیثیت نہیں ،انڈیا کی میڈیا پر تعجب ہے کہ ان کو اتنی تکلیف کیوں ہے ایسا لگتا ہے کہ ہم نے اب پر حملہ کیا ہے ،اگر اپنی سرزمین کو حاصل کرنے کی جدوجہد دہشت گردی ہے تو پھ گاندھی جی کی جدوجہد کو کیا نام دیں گے ،کیا یہ حق فلسطین کو نہیں دیں گے جن کے زمین پر قبضہ ہے ؟ فلسطین فلسطینیوں کا ہے اور رہے گا ۔

    فلسطینی صدر محمود عباس کے قافلے پر حملہ،ویڈیو

    سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ تحریکوں میں اتار چڑھاؤ آتا رہے گا ،ہم جو حق اپنے لئے جائز سمجھتے ہیں وہ فلسطینیوں اور افغانوں کے لئے بھی جائز سمجھتے ہیں ،جو آزادی کی جنگ لڑتا ہے کاج اس کو دہشت گرد کہا جاتا ہے ؟ پاکستان نے اقوام متحدہ میں جو موقف اختیار کیا ہے اس کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ،ہم سیاسی لوگ ہیں جو موقف فلسطین کے حوالے سے الیکشن سے پہلے ہے وہی الیکشن کے بعد بھی ہوگا ،نگران وزیر اعظم نے جو دو ریاستی تصور پیش کیا وہ قائد اعظم کے تصور کی نفی ہے ۔

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ فلسطین نے پاکستان کے موقف کو جراتمندانہ کہا اور کہا کہ وہ قیادت کرے،برطانیہ سپر طاقت تھا امریکہ نے اس کی جگہ لینی تھی ۔اقوام متحدہ کا دفتر امریکہ میں تھا ،پاکستان نے اس وقت بھی فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھائی اور قیام پاکستان کے بعد ،حماس کے حوالے سے کمزور پہلو کو تلاش کیا جارہا ہے کیا اس کا سیاسی پہلو نہیں-

    اسرائیلی حملوں میں 2 لاکھ سے زائد عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا

    انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی دنیا کے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی صورت میں مزاحمتی تحریک کے ختم ہونے کا تصور ختم ہوگیا اگر امریکہ وزیر خارجہ ان کی حمایت کو کھلم کھلا آتا ئے تو کیا ہمارا حق نہیں کہ ہم ان کی حمایت کریں ،کارگل پر حملہ کیا تو کیا دنیا سے پوچھا تھا یہ سیکرٹ ہوتا ہے ،دنیا کو یہ میسج چلا گیا کہ فیصلہ فلسطینی کریں گے کسی اور کو یہ حق نہیں۔

  • اوگرا نے گیس کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دے دی

    اوگرا نے گیس کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دے دی

    اسلام آباد: اوگرا نےوفاقی حکومت کی منظوری کے بعد گیس کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دے دی۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق اوگرا نے گیس کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے ،نوٹیفکیشن کے مطابق گیس کی نئی قیمتوں کا اطلاق یکم نومبر سے ہوگا،نان پروٹیکٹڈ گھریلو صارفین کیلئے گیس کی قیمت میں 172 فیصد سے زائد اضافہ کیا گیا ہے۔

    نوٹیفیکیشن کے مطابق 100مکعب میٹر استعمال کرنے والے صارفین کیلئے قیمت 400 سے بڑھا کر 1000روپے مقرر کردی گئی ہے ماہانہ 150 مکعب میٹر استعمال پر گیس کی قیمت 600 سے بڑھا کر 1200 روپے کر دی گئی ہے،200مکعب میٹر گیس صارفین کیلئے نرخوں میں800روپے فی ایم ایم بی ٹی یو اضافہ کیا گیا ہے۔

    فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی نہیں ہونی چاہیے،امریکی وزیر خارجہ

    نوٹیفیکیشن کے مطابق ماہانہ 200 مکعب میٹر گیس صارفین کیلئے قیمت 800 سے بڑھا کر 1600 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کی گئی ہے 300 مکعب میٹر استعمال کرنے والوں کیلئے نرخوں میں 1900 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو اضافہ کیا گیا ہے 400 مکعب میٹر گیس صارفین کیلئے نرخوں میں1500روپے فی ایم ایم بی ٹی یو اضافہ کیا گیاہے 400 مکعب میٹر استعمال پر گیس کی قیمت 2000 سے بڑھا کر 3500 روپے فی ایم ایم بی ٹی یومقررکردی گئی ہےماہانہ 400 مکعب میٹر سے زائد استعمال پر قیمت 3100 سے بڑھا کر 4000 روپے فی ایم ایم بی ٹی یومقررکردی گئی ہے۔

    پی ٹی آئی کے خدشات پر صدر مملکت نے نگراں وزیر اعظم …

    نوٹیفیکیشن کے مطابق ماہانہ 25 مکعب میٹر گیس استعمال کرنے والے صارفین کےلیے نرخوں میں سو روپے فی ایم ایم بی ٹی یو اضافہ کیا گیا ہے،ماہانہ 25 مکعب میٹر کے صارفین کیلیے قیمت 200 سے بڑھا کر 300 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مقررکی گئی ہے، ماہا نہ 60 مکعب میٹر گیس صارفین کیلیےنرخوں میں 300 روپےفی ایم ایم بی ٹی یو اضافہ کیاگیا ہے، ماہانہ 60 مکعب میٹر گیس صارفین کیلئے قیمت 300 سے بڑھ کر 600 روپے فی ایم ایم بی ٹی یومقررکی گئی ہے، 100 مکعب میٹر صارفین کیلئے گیس کی نرخوں میں 600 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو اضافہ کر دیا گیا ہے۔

    واٹس ایپ میں اشتہارات کے اضافے کا عندیہ

    نوٹیفیکیشن کے مطابق بلک کنزیومرز کے لیے گیس کی قیمت 2000 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کی گئی ہے،کمرشل صارفین کے لیے گیس کی قیمت 3900 روپے فی ایم ایم ایم بی ٹی یو مقرر کی گئی ہےسیمنٹ انڈسٹری کے لیے گیس کی قیمت 4400 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو ،سی این جی صارفین کے لیے گیس کی قیمت 3600 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مقررکی گئی ہے۔

  • سعودی ریال اور اماراتی درہم سمیت دیگر کرنسیوں کی قدر میں اضافہ

    سعودی ریال اور اماراتی درہم سمیت دیگر کرنسیوں کی قدر میں اضافہ

    کاروباری ہفتے کے تیسرے روزسعودی ریال سمیت دیگر کرنسیوں کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے-

    باغی ٹی وی: میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی ریال 76.47 روپے، اماراتی درہم 78.11 روپے، قطری ریال 78.67 روپے، کویتی دینار 928.59 روپے اور بحرینی دینار 760.58 روپے کا رہا، انٹربینک میں آسٹریلین ڈالر 184 روپے 38 پیسے، کینیڈین ڈالر 208 روپے 17 پیسے اور برطانوی پاؤنڈ کی قدر 351 روپے 47 پیسے ریکارڈ کی گئی۔

    دوسری جانب تیسرے کاروباری روز کے دوران پاکستانی روپے کی قدر میں مزید کمی جبکہ انٹربینک میں امریکی ڈالر مزید مہنگاہوگیا اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری اعدادو شمار کے مطابق آج بدھ کے روز کاروبار کے اختتام پر ڈالر کی قیمت میں 51 پیسے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا،امریکی کرنسی ڈالر کی قیمت 286 روپے 39 پیسے سے بڑھ 286 روپے 90 پیسے کی سطح پر بند ہوئی۔

    انٹربینک میں ڈالر مزید مہنگا،سونے کی قیمت میں بھی اضافہ

    گزشتہ روزسعودی ریال کی قیمت 76.34 روپے، اماراتی درہم 77.97 روپے، قطری ریال 78.65 روپے، کویتی دینار 927.43 روپے اور بحرینی دینار 759.48 روپے ریکارڈ کی گئی تھی ۔

    سعودی ریال سمیت دیگر کرنسیوں کی قیمت میں اضافہ