ایران کے ساتھ جاری پانچ ماہ طویل جنگ کے دوران امریکی فوج نے اپنے انتہائی درست نشانہ لگانے اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے جدید میزائلوں کے عالمی ذخائر کا ایک بڑا حصہ استعمال کر لیا ہے-
’رائٹرز‘ کے مطابق، امریکی فوج نے اپنے زمین سے زمین پر مار کرنے والے اہم ہتھیاروں، بالخصوص اٹیکمس (ATACMS) اور پریسجن اسٹرائیک میزائلوں (PrSM) کا بڑا ذخیرہ تقریباً ختم کر دیا ہے،یہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیار، جن میں سے ایک کی قیمت 10 لاکھ ڈالر سے زیادہ ہے، امریکی فوج کو محفوظ فاصلے سے درست نشانہ بنانے کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق ان میں تیزی سے ہوتی کمی کا مطلب یہ ہے کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر دوبارہ بڑے پیمانے پر حملے شروع کرتے ہیں تو انہیں پائلٹ والے بمبار طیاروں پر زیادہ انحصار کرنا پڑ سکتا ہے، جنگ طویل ہونے کے باعث دفاعی امور کے ماہرین کا ماننا ہے کہ میزائلوں کے کم ہوتے ذخائر سے روس اور چین جیسے دیگر عالمی حریفوں کو روکنے کی امریکی صلاحیت محدود ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون نے ان خدشات کی تردید کرتے ہوئے امریکی فوجی صلاحیت کو مضبوط قرار دیا ہے،وائٹ ہاؤس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان جاری کیا ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ ”امریکا کے پاس دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ اور ہماری ضرورت سے کہیں زیادہ ہتھیار موجود ہیں، اور اس وقت ہماری دفاعی کمپنیاں کسی بھی دور سے زیادہ پیداوار کر رہی ہیں اور اپنے کارخانوں کو ریکارڈ سطح پر وسعت دے رہی ہیں۔
اسی طرح پینٹاگون کے چیف ترجمان شان پارنیل نے موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فوج دنیا کی سب سے طاقتور فوج ہے اور اس کے پاس صدر کے حکم پر ہر جگہ کارروائی کے لیے تمام ضروری وسائل موجود ہیں، ہم نے اپنے لوگوں اور مفادات کے تحفظ کے لیے مختلف محاذوں پر کامیاب آپریشنز کیے ہیں-
سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کی رپورٹ کے مطابق فروری سے جولائی کے دوران امریکا کے پاس موجود پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائلوں کا تقریباً 65 فیصد حصہ استعمال ہو چکا ہے، جبکہ دفاعی تھاڈ سسٹم کے میزائل بھی جنگ کے آغاز کے مقابلے میں کم از کم 38 فیصد کم ہو چکے ہیں اس کے علاوہ بحریہ کے بحری جہازوں اور آبدوزوں سے چلائے جانے والے مشہور ٹوما ہاک کروز میزائلوں کا بھی تقریباً آدھا عالمی ذخیرہ اس جنگ کی نذر ہو چکا ہے، جس کے بعد اب امریکی وزارتِ دفاع اور اس کی تیاری کرنے والی کمپنیوں کے درمیان پیداوار بڑھانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر معاہدے کیے جا رہے ہیں۔
