Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • فیفا ورلڈ کپ: اسٹیڈیم میں ایران کا صرف سرکاری پرچم لہرانے کی اجازت

    فیفا ورلڈ کپ: اسٹیڈیم میں ایران کا صرف سرکاری پرچم لہرانے کی اجازت

    فیفا نے ورلڈ کپ میچز کے دوران اسٹیڈیم کے اندر صرف ایران کا موجودہ اور سرکاری قومی پرچم لہرانے کی اجازت دی ہے –

    ورلڈ کپ ضوابط کے تحت فیفا نے یہ واضح کر دیا ہے کہ کھیل کے میدانوں میں صرف رکن ممالک کے تسلیم شدہ سرکاری جھنڈے ہی لائے جا سکتے ہیں اس فیصلے کے باعث لاس اینجلس کے سوفائی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ کے دوران ایران کے سابق شاہی دور کا پرچم لہرانے کی ممانعت تھی، کیونکہ سیکیورٹی انتظامیہ کی جانب سے ایسے بینرز اور لباس پر سختی برتنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

    عالمی میڈیا کے مطابق اسٹیڈیم میں سیکیورٹی عملے نے کچھ ایسے شائقین کو روکا جنہوں نے پرانے جھنڈے والی ٹی شرٹس پہن رکھی تھیں اور متبادل لباس نہ ہونے پر انہیں شرٹس الٹی کر کے پہننے کی ہدایت کی گئی تاہم، ایک بار جب شائقین اسٹیڈیم کے اندر داخل ہو گئے، تو انتظامیہ اس پابندی پر سختی سے عمل درآمد کروانے میں ناکام رہی اورمیچ کے دورا ن یہ جھنڈے بھی لہرائے گئے۔

    واضح رہے کہ ایران کے سابق دور سے منسلک علامتی پرچم موجودہ سرکاری پرچم سے مختلف ہے، اس میں ’شیر اور سورج‘ کا نشان شامل ہے جو 1979ء کے انقلاب سے قبل کے دور کی علامت سمجھا جاتا ہے فیفا کا مؤقف ہے کہ وہ کھیل کے میدانوں کو کسی بھی قسم کے سیاسی احتجاج یا تنازعات سے دور رکھنا چاہتی ہے، اسی لیے اسٹیڈیم کے اندر صرف موجودہ ایرانی حکومت کا سرکاری پرچم ہی جائز تصور ہوگا اور ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کو روکا جائے گا۔

  • حالیہ تنازع نے امریکا کو مکمل طور پر بدنام  اور  اسرائیل کا زوال تیز کردیا،کمانڈر قدس فورس

    حالیہ تنازع نے امریکا کو مکمل طور پر بدنام اور اسرائیل کا زوال تیز کردیا،کمانڈر قدس فورس

    ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے کمانڈر جنرل اسماعیل قانی نے کہا ہے کہ حالیہ تنازع نے امریکا کو مکمل طور پر بدنام کر دیا ہے جبکہ اسرائیلی حکومت کے زوال کے عمل کو مزید تیز کر دیا ہے-

    ایرانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسماعیل قانی کا کہنا تھا کہ شدید فوجی دباؤ اور بڑے پیمانے پر تباہی کے باوجود مزاحمتی محاذ کا ایک بھی گروہ میدان نہیں چھوڑا مزاحمتی گروہوں کی مسلسل موجودگی نے ایران کے مخالفین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے خطے میں موجود مزاحمتی گروہوں نے ایران کی حمایت میں امریکا کا مقابلہ کرنے کے لیے خود اقدام کیا اور اس حوالے سے تہران کی جانب سے انہیں براہِ راست کوئی ہدایات نہیں دی گئیں۔

    اسماعیل قانی نے لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کو ختم کیے جانے یا اس کی طاقت کمزور ہونے کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ لبنانی معاشرے میں گہری جڑیں رکھتی ہے اور اسے ختم کرنا ممکن نہیں، حزب اللہ کی صلاحیتیں عوامی سطح پر نظر آنے والی طاقت سے کہیں زیادہ ہیں اور ماضی میں اس تنظیم کی جانب سے دکھائی گئی قوت درا صل برفانی تودے کی صرف نوک تھی۔

    ایرانی جنرل نے باب المندب آبنائے کو ایران کے حامی گروہوں کے لیے ایک اہم اسٹریٹجک برتری قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حالیہ تنازع کے دوران امریکی جنگی جہازوں نے اس علاقے سے گزرنے سے گریز کیاانہوں نے حالیہ سفارتی کوششوں میں شریک ایرانی مذاکرات کاروں کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ لبنان میں ہونے والی پیشرفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ عسکری اور سفارتی محاذوں پر سرگرم عناصر ایک ہی مقصد کے حصول کے لیے کام کر رہے ہیں، حالیہ تنازع نے امریکا کو مکمل طور پر بدنام کر دیا ہے جبکہ اسرائیلی حکومت کے زوال کے عمل کو مزید تیز کر دیا ہے۔

  • معاہدے کے باوجود جہاز مالکان  آبنائے ہرمز پر جانےکو تیار نہیں، جاپان کی معروف شپنگ کمپنی کا انکشاف

    معاہدے کے باوجود جہاز مالکان آبنائے ہرمز پر جانےکو تیار نہیں، جاپان کی معروف شپنگ کمپنی کا انکشاف

    جاپان کی معروف شپنگ کمپنی مٹسوئی او ایس کے لائنز کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ معاہدے کے باوجود آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی مکمل بحالی میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں کیونکہ جہاز مالکان فوری طور پر اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز سے سفر دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

    برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے جاپان کی معروف شپنگ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو جوتارو تامورا نے کہا کہ صرف معاہدے کا اعلان کافی نہیں ہوگا بلکہ زمینی حقائق میں بھی واضح تبدیلی نظر آنا ضروری ہے،شپنگ کمپنیوں کو یقین دلانا ہوگا کہ آبنائے ہرمز میں سکیورٹی صورتحال واقعی بہتر ہو چکی ہے اور بحری جہازوں کو کسی قسم کے فوجی یا سلامتی خطرات کا سامنا نہیں رہے گا۔

    ان کے مطابق متعلقہ ممالک کے درمیان معاہدے کے عملی نتائج سامنے آنے کے بعد ہی شپنگ لائنز اعتماد کے ساتھ دوبارہ اس راستے کا استعمال شروع کریں گی معاہدے کو صرف کاغذی شکل میں نہیں بلکہ عملی طور پر نافذ ہوتے دیکھنا ضروری ہے تاکہ جہاز مالکان اور انشورنس کمپنیاں خود کو محفوظ محسوس کر سکیں۔

    یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط ہوگئے، آبنائے ہرمز بھی کھل گئی ہے اور جمعے تک مکمل طور پر کھول دی جائے گی، ایران میں اب سمجھدار قیادت ہے، تہران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔

    امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق پیر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جی 7 اجلاس میں شرکت کے لیے فرانس پہنچے، جہاں انہوں نے اپنے فرانسیسی ہم منصب ایمانوئیل میکرون کے ساتھ ملاقات کی جس میں صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ایران کے ساتھ معاہدے پر دستخط کردیے ہیں، جس میں ایران نے جوہری ہتھیار نہ بنانے پر اتفاق کیا ہے آبنا ئے ہرمز پہلے ہی جزوی طور پر کھل چکی ہے اور جمعہ تک مکمل طور پر کھل جائے گی معاہدے پر عمل درآمد کی سخت نگرانی کی جائے گی۔

    واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی اور جنگی حالات کے باعث کئی شپنگ کمپنیوں نے اپنے جہازوں کی نقل و حرکت محدود کر دی تھی ماہرین کے مطابق اگرچہ امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب اہم پیشرفت ہے، تاہم عالمی شپنگ انڈسٹر ی ابھی صورتحال کا محتاط انداز میں جائزہ لے رہی ہے۔

  • سری لنکا سے شکست ،بھارتی کھلاڑی ہاتھا پائی پر اتر آئے،ویڈیو

    سری لنکا سے شکست ،بھارتی کھلاڑی ہاتھا پائی پر اتر آئے،ویڈیو

    بھارتی کھلاڑیوں سری لنکا اے سے شکست کے بعد ہاتھا پائی پر اتر آئے،جس کا ویڈیوکلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا-

    دمبولا میں کھیلی گئی ون ڈے سہ فریقی سیریز کے سنسنی خیز مقابلے میں سری لنکا اے نے بھارت اے کو سپر اوور میں شکست دے دی میچ کے اختتام پر دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کے درمیان تلخ کلامی بھی دیکھنے میں آئی میچ مقررہ 50 اوورز کے بعد برابر رہا جس کے بعد فاتح کے تعین کے لیے سپر اوور کرایا گیا سری لنکا اے نے سپر اوور میں 16 رنز بنائے، جبکہ جواب میں بھارت اے صرف 9 رنز ہی بنا سکی۔

    سری لنکن نوجوان فاسٹ بولر کوگاتھاس ماتھولن نے عمدہ بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارتی بلے بازوں کو ہدف حاصل کرنے سے روک دیا میچ کے بعد سری لنکا کے وِشن ہالامباگے اور بھارت کے ویبھاؤ سوریا ونشی کے درمیان گرما گرم جملوں کا تبادلہ ہوا جو بعد ازاں دھکم پیل میں تبدیل ہوگیا، ہاتھ پائی ہوتے ہوتے رہ گئی، جب سری لنکا اے کے وکٹ کیپر نروشن ڈکویلا نے دونوں کھلاڑیوں کو الگ کیا، میچ میں بھارت اے کو 10 پینلٹی رنز کا نقصان بھی اٹھانا پڑا جب امپائرز نے وپراج نگم کو پچ کے خطرناک حصے پر دو مرتبہ دوڑ نے پر سزا دی، نتیجتاً سری لنکا اے نے اپنی اننگز کا آغاز 10 اضافی رنز کے ساتھ کیا اس کامیابی کے بعد سری لنکا اے سہ فریقی سیریز کے پوائنٹس ٹیبل پر 4 پوائنٹس کے ساتھ سرفہرست ہے، جبکہ بھارت اے اور افغانستان اے کے 2، 2 پوائنٹس ہیں۔

  • اٹک میں سی ٹی ڈی کی کارروائی، 5 خطرناک دہشت گرد ہلاک

    اٹک میں سی ٹی ڈی کی کارروائی، 5 خطرناک دہشت گرد ہلاک

    محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے اٹک کے سرحدی علاقے میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران بڑی کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف اہم آپریشن کیا،جس میں 5 خطرناک دہشت گرد ہو گئے۔

    ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق کارروائی کے دوران دہشت گردوں اور سی ٹی ڈی اہلکاروں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا دہشت گردوں نے سی ٹی ڈی ٹیم کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتے ہوئے فائرنگ کی، جس کے جواب میں فورسز نے مؤثر کارروائی کی، جوابی کارروائی کے نتیجے میں 5 دہشت گرد ہلاک ہوگئے، جبکہ ان کے قبضے سے اسلحہ، بارودی مواد اور دستی بم بھی برآمد کیے گئے ہیں، برآمد ہونے والا اسلحہ اور دھماکا خیز مواد تحویل میں لے کر مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔

    سی ٹی ڈی کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشت گرد پنجاب میں دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی کر چکے تھے اور ان کی سرگرمیوں کے حوالے سے حساس معلومات موصول ہوئی تھیں، جس کی بنیاد پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا گیا اٹک کے سرحدی علاقوں میں سرچ آپریشن تاحال جاری ہے تاکہ ممکنہ سہولت کاروں اور فرار ہونے والے عناصر کو گرفتار کیا جا سکے۔

    سی ٹی ڈی کے مطابق ہلاک دہشت گردوں کی شناخت کا عمل شروع کر دیا گیا ہے جبکہ مزید تحقیقات بھی جاری ہیں صوبے میں امن و امان کی صورت حال برقرار رکھنے اور دہشت گردی کے خطرات کو ناکام بنانے کے لیے کارروائیاں تسلسل کے ساتھ جاری رکھی جائیں گی۔

  • مالی سال 2026-27 کا بجٹ آج پنجاب اسمبلی میں پیش کیا جائے گا

    مالی سال 2026-27 کا بجٹ آج پنجاب اسمبلی میں پیش کیا جائے گا

    پنجاب حکومت مالی سال 2026-27 کا بجٹ آج 2 بجے پنجاب اسمبلی میں پیش کرے گی۔

    پنجاب اسمبلی کا 43 واں بجٹ اجلاس 16 جون بروز منگل دوپہر 2 بجے منعقد ہوگا جس کی صدارت اسپیکر ملک محمد احمد خان کریں گے ،اجلاس میں آئندہ مالی سال کا اہم بجٹ پیش کیا جائے گا جس میں ترقیاتی منصوبوں اور سرکاری اخراجات کے نئے اہداف مقرر کیے جائیں گے۔

    بجٹ کا مجوزہ حجم 5 ہزار 131 ارب روپے ہو گا، بجٹ میں تنخواہوں کیلئے 650 ارب، پنشن کیلئے 505 ارب 80 کروڑ مختص ہوں گے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں اضافہ وفاقی حکومت کے فیصلے کے مطابق ہوگا، مزدور کی ماہانہ اُجرت میں بھی اضافہ متوقع ہےبجٹ میں تعلیم کیلئے 900 ارب سے زائد، صحت کیلئے 680 ارب کے حجم کا تخمینہ لگایا گیا ہے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے شروع کردہ تمام منصوبوں کی فنڈنگ میں اضافہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافے کی تجویز ہے-

  • انسدادِ دہشتگردی، انسانی حقوق اور بہتر حکمرانی افغانستان کے اہم چیلنجز اور ترجیحات ہیں،عاصم افتخار

    انسدادِ دہشتگردی، انسانی حقوق اور بہتر حکمرانی افغانستان کے اہم چیلنجز اور ترجیحات ہیں،عاصم افتخار

    پاکستان کے مستقل مندوب برائے اقوام متحدہ عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ افغانستان میں موجود دہشتگرد گروہ پاکستان کے خلاف سرحد پار حملوں میں ملوث ہیں اور افغانستان سے جنم لینے والی دہشتگردی نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کیلئے خطرہ بن چکی ہے۔

    سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عاصم افتخار نے کہا کہ امن کو نقصان پہنچانے والے عناصر سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے انسدادِ دہشتگردی، انسانی حقوق اور بہتر حکمرانی افغانستان کے اہم چیلنجز اور ترجیحات ہیں سلامتی کونسل نے افغانستان میں دہشتگرد گروہوں کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے جبکہ بعض طالبان عناصر کے دہشتگرد تنظیموں کے ساتھ تعاون کی اطلاعات بھی موجود ہیں ٹی ٹی پی، بی ایل اے، مجید بریگیڈ، داعش خراسان اور القاعدہ افغانستان میں سرگرم ہیں۔

    عاصم افتخار نے کہا کہ چین نے قرارداد پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے میں مؤثر کردار ادا کیا، انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان افغانستان میں امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کیلئے یوناما کی حمایت جاری رکھے گا اور ایک ایسے پُرامن افغانستان کا خواہاں ہے جو اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ امن اور تعاون کے ساتھ رہ سکےیوناما مہاجرین اور بے گھر افراد کی باعزت واپسی کیلئے سازگار ماحول پیدا کرنے میں کردار ادا کرے، جبکہ غیر قانونی اسلحہ کی تجارت اور اس کے پھیلاؤ کی روک تھام میں بھی معاونت فراہم کرے یوناما کو افغانستان کے ہمسایہ ممالک کے جائز سلامتی خدشات کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے، عاصم افتخار نے یوناما کے سربراہ کی تقرری میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے خالی اسامی جلد پُر کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

  • خانہ کعبہ کے نئے غلاف میں کیا خاص ہے؟

    خانہ کعبہ کے نئے غلاف میں کیا خاص ہے؟

    نئے اسلامی سال کے آغاز پر خانہ کعبہ کا غلاف تبدیل کر دیا گیا ،نئے غلاف کی تیاری میں سعودی عرب کے 150 ماہر کاریگروں نے قریباً 11 ماہ تک کام کیا۔

    نیا غلاف کعبہ انتہائی باریک بینی اور مہارت سے 11 ماہ کے عرصے میں تیار کیا گیا، نیا غلاف 47 ریشمی پینلز پر مشتمل ہے جن پر سونے اور چاندی کے دھاگوں سے قرآن مجید کی 68 آیات مبارکہ کی خوبصورت کڑھائی کی گئی ہے،نئے غلاف کا مجموعی وزن 1,415 کلوگرام ہے، غلافِ کعبہ کی تیاری 7 مراحل پر مشتمل ہوتی ہے جن میں ریشم کی دھلائی، بُنائی، طباعت، کشیدہ کاری، جوڑائی اور معائنہ شامل ہیں۔ تیار ہونے کے بعد اسے خصوصی ٹریلر کے ذریعے مسجد الحرام منتقل کیا جاتا ہے غلاف کی تیاری کے تمام مراحل مکہ مکرمہ میں قائم شاہ عبدالعزیز کمپلیکس کسوہ کعبہ میں مکمل کئے گئےجہاں ہر مرحلے پر معیار اور نفاست کو یقینی بنانے کیلئےسخت جانچ پڑتال کی جاتی ہے غلاف کعبہ کی تیاری اسلامی فنون، دستکاری اور جدید معیار کی نگرانی کا ایک منفرد شاہکار تصور کی جاتی ہے، جسے ہر سال خصوصی اہتمام کے ساتھ تبدیل کیا جاتا ہے،غلاف کعبہ کی تبدیلی کے دوران زائرین معمول کے مطابق طواف و عبادت میں مصروف رہے۔

    نئے غلاف کی ایک اور انفرادیت اس میں استعمال ہونے والے 7 مختلف اقسام کے کپڑے ہیں بیرونی حصہ سیاہ ریشم سے تیار کیا جاتا ہے جبکہ اندرونی استحکام کے لیے سفید اور آف وائٹ کپاس استعمال ہوتی ہے اسی طرح سرخ اور سبز ریشم مخصوص حصوں اور دروازۂ کعبہ کے پردے میں استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ ابھرا ہوا سبز ریشم اندرونی غلاف کی زینت بنتا ہے۔

    واضح رہے کہ مسجد الحرام میں غلاف کعبہ کی تبدیلی کی روح پرور تقریب منعقد ہوئی کسوہ فیکٹری سے غلاف کعبہ کو مسجد الحرام منتقل کیا گیا کسوہ فیکٹری کے 250 ماہرین اور حرمین انتظامیہ کے کارکنان تبدیلی کے عمل میں شریک ہوئے، تبدیلی کا کام تقریباً 4گھنٹوں میں مکمل کیا گیا اس سے قبل غلاف کعبہ ہر سال حج کے دوران 9 ذی الحجہ کی صبح کو حجاج کے میدان عرفات روانہ ہونے کے بعد تبدیل کیا جاتا رہا تھا جب مسجد الحرام میں زائرین کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔

    آل سعود خاندان کے شاہ عبدالعزیز پہلے حکمراں تھے جنہوں نے سنہ 1346ھ میں غلاف کعبہ تبدیل کیا انہی کے دور میں 1403 کو غلاف کعبہ کا اندرونی کپڑا تبدیل کیا گیا اور سنہ 1417ھ کو دوبارہ مکمل غلاف تبدیل کیا گیا غلاف کعبہ کی تیاری میں 670 کلو گرام خالص ریشم استعمال کیا جاتا ہے غلاف کعبہ کی موٹائی 98 سینٹی میٹر ہوتی ہے غلاف کعبہ کی اونچائی 14 میٹر ہے رکنین کی جانب سے غلاف کی چوڑائی 10 اعشاریہ 78 میٹر ہوتی ہے ملتزم کی جانب سے غلاف کی چوڑائی 12 اعشاریہ 25 میٹر، حجر اسود کی سمت سے 10 اعشاریہ 29 میٹر جبکہ باب ابراہیم کی جانب سے 12 اعشاریہ 74 میٹر ہوتی ہے باب کعبہ کی جانب سے غلاف کے نیچے 6 اعشاریہ 32 میٹر اونچا اور تین اعشاریہ تیس میٹر چوڑا اضافہ کپڑا جوڑا جاتا ہے تاکہ غلاف کو چھونے سے بچایا جا سکے۔

  • کمرشل اور یورو بانڈ مارکیٹوں سے قریباً 2.82 ارب ڈالر حاصل کرنے کا منصوبہ ہے،وزیر خزانہ

    کمرشل اور یورو بانڈ مارکیٹوں سے قریباً 2.82 ارب ڈالر حاصل کرنے کا منصوبہ ہے،وزیر خزانہ

    وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ خطے میں استحکام، تیل کی قیمتوں میں ممکنہ کمی اور تجارتی سرگرمیوں کی بحالی سے پاکستان کی معاشی کارکردگی پر مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، تاہم حکومت صورتحال کا مسلسل جائزہ لے رہی ہے۔

    برطانوی خبررساں ادرے رائٹرز کو دیے گئے انٹرویو میں وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت بیرونی قرضوں کے ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے پانڈا بانڈز، یورو بانڈز اور دیگر تجارتی مالیاتی ذرائع سے استفادہ کرنا چاہتی ہے، تاہم مجموعی بیرونی قرضوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا،ا گرچہ ایران سے متعلق کشیدگی میں کمی اور ممکنہ معاہدے کے بعد معاشی صورتحال بہتر ہونے کے امکانات موجود ہیں، تاہم اس وقت حال ہی میں پیش کیے گئے بجٹ کے اہداف میں کوئی تبدیلی نہیں کی جا رہی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے 4 فیصد معاشی شرح نمو اور 8.2 فیصد مہنگائی کا ہدف مقرر کیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ایک ارب ڈالر کے پانڈا بانڈز کے اجرا کی منظوری مل چکی ہے، جبکہ آئندہ مالی سال کے دوران کمرشل اور یورو بانڈ مارکیٹوں سے قریباً 2.82 ارب ڈالر حاصل کرنے کا منصوبہ ہے،خطے میں استحکام، تیل کی قیمتوں میں ممکنہ کمی اور تجارتی سرگرمیوں کی بحالی سے پاکستان کی معاشی کارکردگی پر مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، تاہم حکومت صورتحال کا مسلسل جائزہ لے رہی ہے۔

  • ایران امریکا معاہدے کے باوجود عالمی معیشت کو منفی اثرات کا سامنا رہے گا،آئی ایم ایف کا انتباہ

    ایران امریکا معاہدے کے باوجود عالمی معیشت کو منفی اثرات کا سامنا رہے گا،آئی ایم ایف کا انتباہ

    بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والے عبوری امن معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے تاہم ادارے نے خبردار کیا ہے کہ صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے اور تنازع دوبارہ ابھرنے کا امکان موجود ہے۔

    آئی ایم ایف کی مینجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جورجیوا نے پیر کو ادارے کےاپنے بلاگ میں لکھا کہ بہت کچھ توانائی بحران کی مدت اور شدت پر منحصر ہے، جتنا جلد یہ بحران ختم ہوگا اتنا ہی بہتر ہوگا، خصوصاً اس لیے کہ بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے بڑے نقصانات کے باعث توانائی کی فراہمی کی مکمل بحالی میں وقت لگے گا،’اتوار کو جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم کیا جانا چاہیے، تاہم اگر تنازع یا رسد میں رکاوٹیں دوبارہ بڑھتی ہیں تو یہ عالمی اقتصادی ترقی کے لیے واضح خطرہ ہوگا۔‘

    انہوں نے موجودہ ’مسلسل غیر یقینی صورتحال‘ کے پیش نظر مالیاتی اور مانیٹری حکام پر زور دیا کہ وہ افراطِ زر کو قابو میں رکھنے اور مالیاتی توازن برقرار رکھنے کے لیے نظم و ضبط اور لچک کا مظاہرہ کریں ان کے مطابق ایسے مخصوص اور عارضی اقدامات کیے جانے چاہییں جو سرکاری مالیات کو نقصان نہ پہنچائیں آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ ایران امریکا معاہدے کے باوجود آنے والے مہینوں میں عالمی معیشت کو منفی اثرات کا سامنا رہے گا۔

    کرسٹالینا نے کہا کہ یہ بحران مختلف ممالک پر یکساں اثرات مرتب نہیں کرے گا، اگرچہ بیشتر ممالک اب تک اس کے شدید ترین اثرات کو محدود رکھنے میں کامیاب رہے ہیں تیل کی قیمتیں اب بھی تنازع سے پہلے کی سطح سے بلند ہیں، اگرچہ دنیا کی 2 بڑی معیشتیں، امریکا اور چین ذخائر کے استعمال اور امریکا میں پیداوار بڑھانے جیسے اقدامات کے باعث اپنی معاشی مضبوطی برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ہیں توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے متعدد معیشتوں میں افراطِ زر کو بڑھا دیا ہے، جیسا کہ امریکا اور یورپی یونین کے رکن ممالک میں دیکھا گیا،حکومتیں گھریلو صارفین اور کاروباری اداروں کی قوتِ خرید میں کمی کے خطرات پر گہری نظر رکھیں۔

    کرسٹالینا جورجیوا کے مطابق یہ اطمینان بخش ہے کہ عالمی معیشت اب تک اس بحران کا مقابلہ کرنے میں کامیاب رہی ہے، لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ خطرات ٹل گئے ہیں، آئی ایم ایف مسلسل ہائی الرٹ پر ہے ہم اس معاشی نقصان سے بھی بخوبی آگاہ ہیں جس کا سامنا ہمارے بعض رکن ممالک پہلے ہی کر رہے ہیں، ہم ان کے ساتھ مل کر بحران کے انتظام اور اس کے منفی اثرات، خصوصاً کمزور طبقات پر پڑنے والے اثرات، کو محدود کرنے کے لیے کام جاری رکھیں گے۔‘