کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان کے بہادرآباد مرکز پر دو گروپوں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں رہنماؤں سمیت درجن بھر سے زائد کارکنوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
ذرائع کے مطابق ، بہادرآباد مرکز پر ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین خالد مقبول صدیقی گروپ کا اجلاس جاری تھا کہ اسی دوران انیس قائم خانی اپنے کارکنوں کے ہمراہ مرکز پہنچ گئے، دونوں رہنماؤں کے حامیوں کے درمیان پہلے تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، تاہم خالد مقبول صدیقی کی روانگی کے بعد دونوں گروپوں کے کارکن آمنے سامنے آگئے اور صورتحال تصادم کی شکل اختیار کر گئی،جھڑپ کے نتیجے میں رہنماؤں سمیت درجن بھر سے زائد کارکن زخمی ہوئے.
ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ تصادم کے دوران مرکزی کمیٹی کے ایک رکن کے کپڑے پھاڑ دیے گئے، جبکہ سندھ اسمبلی کے رکن حافظ اعجاز الحق اور قومی اسمبلی کی رکن سبین غوری کے ساتھ بھی بدتمیزی کی گئی،واقعے کے دوران فائرنگ بھی کی گئی، جس سے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیاواقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری بہادرآباد مرکز پہنچ گئی اور صورتحال کو قابو میں لینے کے لیے اقدامات شروع کر دیے۔
