Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • مری ایکسپریس وے پر  ٹیوٹا ہائی ایس میں آگ لگنے سے 10 افراد جاں بحق، 13 زخمی

    مری ایکسپریس وے پر ٹیوٹا ہائی ایس میں آگ لگنے سے 10 افراد جاں بحق، 13 زخمی

    مری ایکسپریس وے پر کھجٹ کے مقام کے قریب سیاحوں کی ٹیوٹا ہائی ایس میں اچانک آگ بھڑک اٹھی حادثے میں 10 افراد جاں بحق جبکہ 13 زخمی ہو گئے-

    ریسکیو حکام کے مطابق آگ لگنے کے بعد ہائی ایس میں شدید شعلے بلند ہوئے جس کے باعث نہ صرف گاڑی مکمل طور پر جل گئی بلکہ قریبی جنگل کے ایک حصے تک آگ پھیل گئی، جس پر قابو پانے کے لیے امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں مقامی افراد نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے گاڑی میں پھنسے 4 سیاحوں کو نکالا اور انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا۔

    ذرائع کے مطابق ریسکیو 1122 بروقت جائے وقوعہ پر نہ پہنچ سکی، تاہم مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا زخمیوں میں سے 5 افراد کو پمز اسپتال اسلام آباد جبکہ تین کو فاروق اسپتال منتقل کیا گیا ہے، جبکہ دیگر زخمیوں کو مری اور قریبی طبی مراکز میں طبی امداد دی جا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔

    ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی معلومات کے مطابق ہائی ایس میں سیاح سوار تھے جبکہ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں آگ لگنے کے بعد ہائی ایس بے قابو ہو کر سڑک سے پھسل کر نالے میں جا گری، جس کے باعث مری ایکسپریس وے پر ٹریفک عارضی طور پر معطل ہو گئی۔

    عینی شاہدین کے مطابق گاڑی میں سیاحوں کا ایک گروپ سوار تھا اور اچانک آگ لگنے کے بعد چند ہی لمحوں میں صورتحال انتہائی خطرناک ہو گئی حکام نے واقعے کی مکمل تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ آگ لگنے کی اصل وجہ معلوم کی جا سکے۔

    ڈپٹی کمشنر مری ظہیر شیرازی کے مطابق ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثہ تیز رفتاری کے باعث پیش آیا، گاڑی بے قابو ہو کر دیوار سے ٹکرائی، جس کے نتیجے میں وین میں آگ لگ گئی حادثے میں زخمی ہونے والے 13 افراد کو فوری طور پر قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ امدادی اور ریسکیو سرگر میاں جاری ہیں۔

    موٹر وے پولیس کا کہنا ہے کہ مری ایکسپریس وے پروین موڑ کاٹتے ہوئے نالے میں گری، جس کے باعث آگ بھڑک اٹھی،ترجمان موٹروے پولیس کا کہنا تھا کہ وین اس جانب گری جہاں سے دروازے کھولنا ممکن نہ تھا زخمی پمزاسلام آبادمنتقل کر دیے گئے، جاں بحق افراد کاتعلق ملتان سے تھا اورایک ہی خاندان کےتھے۔

    دریں اثنا، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے زخمیوں کو فوری اور بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے حادثے کی تفصیلی رپورٹ بھی طلب کر لی ہےوزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سوگوار خاندانوں سے اظہار ہمدردی و تعزیت کیا ہے۔

  • ڈور اسٹیپ پاسپورٹ ڈیلیوری سروس کے آغاز کا فیصلہ

    ڈور اسٹیپ پاسپورٹ ڈیلیوری سروس کے آغاز کا فیصلہ

    اسلام آباد:حکومتِ پاکستان نے عوام کی سہولت اور دیرینہ مطالبے پر پاسپورٹ کو ان کی دہلیز پر پہنچانے کی نئی ڈیجیٹل سروس شروع کرنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔

    ڈی جی امیگریشن اینڈ پاسپورٹ محمد علی رندھاوا کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس ہوا جس میں امیگریشن اینڈ پاسپورٹ ڈیپارٹمنٹ کی ڈیجیٹل ایپ کی پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، اجلاس میں شہریوں کے لیے ڈور اسٹیپ پاسپورٹ ڈیلیوری سروس کے آغاز کا فیصلہ کیا گیا۔

    اجلاس میں بتایا گیا کہ پاسپورٹ ڈیلیوری کے نئے ایس او پیز کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، جس کے بعد اس سروس پر عملدرآمد شروع کیا جائے گا، حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد شہریوں کو طویل قطاروں اور دفاتر کے چکر سے نجات دلانا اور خدمات کو زیادہ تیز اور مؤثر بنانا ہے تاکہ پاسپورٹ کا حصول آسان ہو سکے حکام کا کہنا ہے کہ اس ڈیجیٹل نظام کے مکمل نفاذ کے بعد پاسپورٹ بنوانے کا عمل نہ صرف تیز ہوگا بلکہ شفافیت بھی یقینی بنے گی۔

  • عالمی منڈی میں سونے کی قیمت 11 ہفتوں کی کم ترین سطح پر

    عالمی منڈی میں سونے کی قیمت 11 ہفتوں کی کم ترین سطح پر

    عالمی منڈی میں سونے کی قیمت 11 ہفتوں کی کم ترین سطح پر آ گئی، جس کے بعد پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 12 ہزار 627 روپے کی بڑی کمی سامنے آئی ہے۔

    آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ سونا 12 ہزار 627 روپے سستا ہونے کے بعد 4 لاکھ 42 ہزار 436 روپے کا ہو گیا ہے اسی طر ح 10 گرام سونے کی قیمت میں 11 ہزار 364 روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 3 لاکھ 78 ہزار 170 روپے مقرر ہو گئی ہےجبکہ عالمی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی، جہاں سونا 4 ہزار 200 ڈالر فی اونس کی سطح پر آ گیا۔

    دوسری جانب دیگر قیمتی دھاتوں میں بھی کمی دیکھی گئی چاندی 1.5 فیصد گر کر 64.43 ڈالر فی اونس، پلاٹینم 2.8 فیصد کمی کے ساتھ 1,678.10 ڈالر اور پیلیڈیم 0.8 فیصد گر کر 1,212.31 ڈالر فی اونس پر آ گیا۔

    ماہرین کے مطابق عالمی منڈی میں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے اثرات مقامی مارکیٹ پر بھی مرتب ہوتے ہیں، جس کے باعث پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

  • 17 سال تک ایئر کینیڈا کی   900 سے زائد  پروازیں اڑانے والے پائلٹ کا لائسنس جعلی نکلا

    17 سال تک ایئر کینیڈا کی 900 سے زائد پروازیں اڑانے والے پائلٹ کا لائسنس جعلی نکلا

    ایئر کینیڈا کے ایک سابق کیپٹن پر الزام ہے کہ وہ تقریباً 17 سال تک بغیر درست لائسنس کے مسافروں کو لے کر سینکڑوں ملکی و بین الاقوامی پروازیں چلاتا رہا۔

    سی این این کے مطابق کینیڈا کی پولیس نے اعلان کیا کہ ایئر کینیڈا کے ایک سابق پائلٹ کو جعلی پائلٹ کے لائسنس کے ساتھ تقریباً 17 سال تک ہزاروں مسافروں کو اڑانے کے جرم میں مجرمانہ الزامات کا سامنا ہے،59 سالہ پائلٹ جیوفری وال کو پولیس نے فراڈ اور جعلی دستاویزات استعمال کرنے سمیت متعدد الزامات کے تحت گرفتار کیا ہے حکام کے مطابق ملزم نے 2009 سے 2025 کے دوران 900 سے زائد پروازیں مبینہ طور پر جعلی یا غیر مکمل اسناد کی بنیاد پر چلائیں-

    پیل ریجنل پولیس (اونٹاریو) کے مطابق تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزم کے پاس کمرشل پائلٹ لائسنس موجود تھا، تاہم وہ “ایئرلائن ٹرانسپورٹ پائلٹ لائسنس” حاصل نہیں کر سکا تھا، جو کسی بھی بڑے کمرشل طیارے کے کپتان کے لیے لازمی اعلیٰ ترین سرٹیفکیشن ہوتا ہے۔

    پولیس نے کہا ہے کہ ابتدائی شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ پائلٹ نے ایئر کینیڈا اور سول ایوی ایشن حکام کو اپنی اہلیت کے بارے میں گمراہ رکھا، جس کے ذریعے وہ برسوں تک پروازیں اڑاتا رہا ملزم پر ایک فردِ جرم فراڈ، دو جعلی دستاویزات استعمال کرنے، تین جعلی ٹریڈ مارک رکھنے اور ایک عوامی بدانتظامی (public mischief) کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

    ایئر کینیڈا نے اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے، تاہم ان کے مطابق مسافروں کی حفاظت متاثر نہیں ہوئی کیونکہ تمام پائلٹس ہر چھ ماہ بعد لازمی ٹریننگ اور سالانہ فلائٹ چیک سے گزرتے ہیں، داخلی آڈٹ کے بعد کسی اور پائلٹ میں ایسی خلاف ورزی سامنے نہیں آئی، جبکہ معاملہ سامنے آنے کے فوری بعد متعلقہ شخص کو ڈیوٹی سے ہٹا کر ٹرانسپورٹ کینیڈا کو رپورٹ کر دیا گیا تھا۔

  • ‏پاکستان کا سرحد پار دہشتگردوں کیخلاف مؤثر وار، فتنہ الخوارج کے 26 دہشتگرد ہلاک، 4 اہم مراکز تباہ

    ‏پاکستان کا سرحد پار دہشتگردوں کیخلاف مؤثر وار، فتنہ الخوارج کے 26 دہشتگرد ہلاک، 4 اہم مراکز تباہ

    ‏وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے سرحد پار دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائی کی جس میں فتنہ الخوارج کے 26 دہشت گرد ہلاک، 4 اہم مراکز تباہ ہو گئے-

    عطا اللہ تارڑ کے مطابق حالیہ دہشت گرد حملوں کے بعد پاکستان نے سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، موسیٰ درہ میں فیڈرل کانسٹیبلری پوسٹ، شمالی وزیرستان میں فوجی چوکی اور بنوں پولیس اسٹیشن پر حملوں کے بعد کارروائی عمل میں لائی گئی مصدقہ انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر فتنہ الخوارج کے محفوظ ٹھکانوں اور منصوبہ سازوں کو نشانہ بنایا گیا۔

    وزیراطلاعات نے بتایا کہ پاک افغان سرحدی علاقوں میں کیے گئے درست اور محدود نوعیت کے حملوں میں 26 بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے خوارج مارے گئے،کارروائی کے دوران فتنہ الخوارج کے چار اہم مراکز مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے تباہ کیے گئے اہداف میں تربیتی مرکز، اسلحہ ڈپو، محفوظ پناہ گاہیں اور دہشت گردوں کے مراکز شامل ہیں کارروائی میں کمانڈر علیم خان خوشالی اور کمانڈر اختر محمد جانی خیل سے منسلک مراکز کو نشانہ بنایا گیا تمام اہداف کو انتہائی درستگی اور احتیاط کے ساتھ نشانہ بنایا گیا۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے ہمیشہ کوشاں رہا ہے پاکستانی شہریوں کا تحفظ اور قومی سلامتی حکومت کی اولین ترجیح ہے“عزمِ استحکام” کے تحت دہشت گردی کے خلاف آپریشن پوری قوت اور تسلسل کے ساتھ جاری رہے گا سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے وا لے ادارے غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں پاکستان سے دہشت گردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا-

  • صحافی اغوا کیس: امریکی عدالت نے سابق طالبان کمانڈر کو 42 سال قید کی سزا سنادی

    صحافی اغوا کیس: امریکی عدالت نے سابق طالبان کمانڈر کو 42 سال قید کی سزا سنادی

    واشنگٹن، سابق افغان طالبان کمانڈر حاجی نجیب اللہ کو 42 سال قید کی سزا سنا دی گئی-

    امریکی وفاقی پروسیکیوٹرز نے منگل 9 جون کو اعلان کیا کہ نجیب اللہ نے 2008 میں امریکی صحافی ڈیوڈ روہڈ، ان کے افغان مترجم اور ڈرائیور کے اغوا میں براہِ راست کردار ادا کیا تھا طالبان کمانڈر حاجی نجیب اللہ کو امریکی صحافی اور شہریوں کو یرغمال بنانے پر سزا ہوئی، نجیب اللہ پر افغانستان اور پاکستان میں امریکی فوجیوں اور شہریوں پر حملوں کا جرم ثابت ہونے پر سزا سنائی گئی، حاجی نجیب اللہ 2008 اور 2009 میں امریکی صحافی اور 2 افغان شہریوں کے اغوا میں ملوث تھا مجرم نجیب اللہ نے گذشتہ سال عدالت کے سامنے اپنے جرائم کا اعتراف کیا تھا-

    عدالتی دستاویزات کے مطابق، تینوں افراد کو افغانستان اور پاکستان میں واقع مختلف ٹھکانوں میں 7 ماہ سے زائد عرصے تک قید رکھا گیا،اغوا کاروں نے رہائی کے بدلے تاوان اور متعدد طالبان قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا،پروسیکیوٹرز کے مطابق دورانِ قید مغویوں کو ’زندہ ہونے کے ثبوت‘ کے طور پر ویڈیوز ریکارڈ کرنے پر مجبور کیا گیا، جن میں طالبان جنگجو انہیں ہتھیاروں کے ساتھ دھمکاتے رہے۔

    امریکی قائم مقام اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ امریکیوں کو نقصان پہنچانے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گاامریکی محکمہ انصاف کے مطابق نجیب اللہ افغانستان کے صوبہ وردک میں طالبان کا کمانڈر تھا اور خودکش حملوں کا ماسٹر مائنڈ تھا،ق وہ امریکی افواج پر حملوں میں بھی ملوث تھا-

  • کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا عوام دشمن ایجنڈا بے نقاب،ویڈیو وائرل

    کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا عوام دشمن ایجنڈا بے نقاب،ویڈیو وائرل

    کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی نئی ویڈیوز سامنے آئیں جو نوجوانوں کو تعلیم سے دُوررکھنے کی مذموم سازش افغان طالبان اورفتنہ الہندوستان جیسی انتہاپسندانہ ذہنیت کی عکاس ہے۔

    سوشل میڈیا پروائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کالعدم تنظیم کا سرغنہ امان آزادکشمیرکے لوگوں کواپنے بچے اسکول بھیجنے سے منع کررہا ہے ویڈیومیں شر پسند تنظیم کے سرغنہ امان کویہ کہتے دیکھا جاسکتا ہے کہ اپنے بچوں کوسکول بھیج کرکیا کروگے؟سردار امان کہتا ہے کہ میں کے کرساں بچیاں کی سکول بھیجی تے پڑھائی لکھائی کے؟”بچے اسکول جا کر کیا سیکھیں گے؟ اسکول بند کرو اور سڑکوں پر نکلو-

    ماہرین کے مطابق کالعدم کمیٹی کی طرف سے آزادکشمیرکےلوگوں کو ان کے بچے اسکول بھیجنے سے منع کرنا شرپسند ٹولے کی عوام دشمنی کا سب سے بڑا ثبوت ہے، آزاد کشمیر میں اسکولوں کا بائیکاٹ نوجوانوں کو ریاست مخالف ایجنڈے کا ایندھن بنانے کی مذموم سازش ہے،فتنہ الہندوستان بھی اسی مکروہ پالیسی پر عمل پیرا رہا ہے شرپسند کمیٹی عوامی حقوق کی جدوجہد کے دعووں کے برعکس اپنے بھارتی سرپرستوں کی ایماء پرآزادکشمیرکے نوجوانوں کا مستقبل تباہ کرناچاہتی ہے۔

  • وفاقی حکومت کے مجموعی قرضوں کا حجم تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

    وفاقی حکومت کے مجموعی قرضوں کا حجم تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

    ایک سال میں قومی خزانے پر 7 ہزار ارب روپے قرض کا اضافہ ہوگیا ہے، وفاقی حکومت کے مجموعی قرضوں کا حجم تاریخ کی بلند ترین سطح 81 ہزار 930 ارب روپے تک جا پہنچا ہے۔

    ملکی معاشی اعداد و شمار کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ایک برس کے دوران وفاقی حکومت کے قرضوں میں 6 ہزار 994 ارب روپے کا ہو شر با اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، مالیاتی ماہرین اس صورتحال کو ملکی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دے رہے ہیں کیونکہ قرضوں کا حجم مسلسل بڑھتا جا رہا ہے،علاوہ ازیں صرف اپریل 2026 کے ایک ماہ کے دوران ہی مرکزی حکومت کے قرضوں میں 1406 ارب روپے کا مزید اضافہ ہوا ہے۔

    اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے بیرونی اور ملکی قرضوں کی ادائیگی اور بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لیے لیا جانے والا یہ بھاری قرض ملکی معیشت پر شدید دباؤ ڈال رہا ہے۔

  • وزیر اعظم کی صدارت میں  قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس جاری

    وزیر اعظم کی صدارت میں قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس جاری

    وزیر اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کا ایک اہم اجلاس وزیراعظم ہاؤس میں جاری ہے،اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، وزیراعظم آزاد کشمیر سمیت اہم حکومتی شخصیات شریک ہیں۔

    اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا، وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اور پنجاب کی نمائندگی کے لیے سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب شریک ہیں،اس کے علاوہ وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ اور وفاقی سیکریٹری خزانہ امداد اللہ بوسال بھی شریک ہیں۔

    ذرائع کے مطابق اجلاس کے ایجنڈے میں مالی سال 27-2026 کے لیے قومی سرمایہ کاری کا فریم ورک، مالی سال 26-2025 کے لیے جی ڈی پی (جی ڈی پی) کی شرحِ نمو کے عارضی تخمینے اور مالی سال 25-2024 کے معاشی ڈیٹا کو حتمی شکل دینا شامل ہے کونسل انفراسٹرکچر، توانائی، آبی وسائل اور سما جی ترقی کے شعبوں پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے پبلک سیکٹر کے جاری منصوبوں اور ترقیاتی منصوبہ بندی کی تجاویز کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔

    اجلاس میں ملک بھر کے لیے مجموعی طور پر 4,194 ارب روپے کا خطیر ترقیاتی بجٹ پیش کیے جانے کا امکان ہےاس ترقیاتی آؤٹ لے میں وفاق کا حصہ 1,050 ارب روپے جبکہ صوبوں کے لیے مجموعی طور پر 3,138 ارب روپے مختص کیے جا سکتے ہیں۔

    صوبائی ترقیاتی پروگراموں میں پنجاب کے لیے سب سے زیادہ 1,450 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ تجویز کیا گیا ہے، جبکہ سندھ کے لیے 816 ارب روپے، خیبرپختونخوا کے لیے 564 ارب روپے اور بلوچستان کے لیے 308 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہونے کا امکان ہے تاکہ تمام خطوں میں متوازن ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔

  • قومی بچت اسکیموں کی شرح منافع میں اضافہ

    قومی بچت اسکیموں کی شرح منافع میں اضافہ

    حکومت نے قومی بچت اسکیموں (نیشنل سیونگز) کی شرح منافع میں اضافہ کر دیا ہے۔

    وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ باقاعدہ نوٹیفکیشن کے مطابق، منافع کی ان نئی اور بڑھی ہوئی شرحوں کا اطلاق فوری طور پر آج سے ہی کر دیا گیا ہے اس فیصلے سے ان لاکھوں عام شہریوں، پنشنرز اور بیواؤں کو فائدہ پہنچے گا جنہوں نے اپنی جمع پونجی سرکاری بچت اسکیموں میں رکھوائی ہوئی ہے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق، اسپیشل سیونگ سرٹیفکیٹ اکاؤنٹ کی شرح منافع بڑھا دی گئی ہے جس کے تحت اب سالانہ شرح منافع کو 12.4 فیصد سے بڑھا کر 13.6 فیصد مقرر کیا گیا ہےاس اسکیم کے تحت سرمایہ کاری کرنے والوں کو منافع کی ادائیگی ہر چھ ماہ بعد یعنی ششماہی بنیادوں پر کی جائے گی۔

    حکام نے وضاحت کی ہے کہ اب ایک لاکھ روپے کے سرٹیفکیٹ پر پہلی ششماہی میں 6200 روپے منافع ملے گا، جبکہ اسی ایک لاکھ روپے کے سر ٹیفکیٹ پر دوسری ششماہی میں منافع بڑھ کر 6800 روپے ہو جائے گا اس منافع پر ٹیکس کی کٹوتی کے حوالے سے حکومت نے واضح کیا ہے کہ فائلرز سے 15 فیصد جبکہ نان فائلرز سے 30 فیصد ٹیکس وصول کیا جائے گا اسی طرح دیگر اہم اسکیموں کے منافع میں بھی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق، ڈیفنس سیونگ سرٹیفکیٹ پر سالانہ منافع کی شرح 10 فیصد مقرر کی گئی ہے، اور اگر کوئی سرمایہ کار اسے طویل مدت کے لیے رکھتا ہے تو ڈیفنس سیونگ سرٹیفکیٹ پر پانچویں سال تک یہ شرح بڑھ کر 67 فیصد تک پہنچ جائے گی اس کے علاوہ، ریگولر انکم سرٹیفکیٹ پر سالانہ منافع 12.24 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔

    نوٹیفکیشن میں معاشرے کےمعذور، بزرگ اور شہدا کے خاندانوں کا بھی خاص خیال رکھا گیا ہےجس کے تحت بہبود سیونگ، پنشنرز اور شہدا فیملی سرٹیفکیٹ پر منافع کی شرح 13.20 فیصد مقرر کر دی گئی ہے تاکہ ان طبقات کو بہتر مالی سہارا مل سکے۔