Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • گمراہ کن بھارتی بیانات  زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کی متنازعہ حیثیت تبدیل نہیں  کر سکتے ، خواجہ آصف

    گمراہ کن بھارتی بیانات زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کی متنازعہ حیثیت تبدیل نہیں کر سکتے ، خواجہ آصف

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے جموں و کشمیر سے متعلق گمراہ کن اور جھوٹے بھارتی بیانیہ پر شدید ردعمل دیاہے-

    ایکس پر اپنے بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان بھارتی وزیر دفاع کے حالیہ غیر ذمہ دارانہ ریمارکس کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتا ہےایسے بیانات قانونی حقائق کو سیاسی پروپیگنڈے اور دھونس کے ذریعے مسخ کرنے کی ایک اور ناکام بھارتی کوشش ہے، گمراہ کن بھارتی بیانات نہ تو زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کی متنازعہ حیثیت تبدیل کر سکتے ہیں اور نہ خطہ کے امن میں کوئی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے، جموں و کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہونا ہےبھارت کے پاکستان پر بے بنیاد الزامات اس کے ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کے ریکارڈ کے باعث ناقابلِ اعتبار ہیں، حقیقت یہ ہے کہ بھارت جنوبی ایشیا میں دہشتگردی کی سب سے بڑی سرپرست ریاست اور عدم استحکام کا بنیادی محرک ہے۔

    انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیرِ دفاع کے حالیہ بیانات ملک میں بڑھتے ہوئے سیاسی بحران اور مودی حکومت کیخلاف عوامی بے چینی سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے،بھارت اپنے جارحانہ توسیع پسندانہ عزائم کے ذریعے پورے خطے کو یرغمال بنائے ہوئے ہے، بھارت کی غیر ذمہ دارانہ بیان بازی خطے میں بین الریاستی تصادم کی شدت اور خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے،پاکستان امن اور مذاکرات کی اپنی پالیسی پر قائم ہے، پاکستان کا اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کے تحفظ کیلئے عزم غیر متزلزل ہے۔

  • عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ

    عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ

    عالمی منڈی میں پیر کو سونے کی قیمت میں ایک فیصد سے زیادہ اضافہ ہو گیا۔

    اسپاٹ گولڈ کی قیمت 1.4 فیصد اضافے کے ساتھ 4,110.56 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی گولڈ فیوچر ایک فیصد کے اضافے کے بعد 4,112.10 ڈالر فی اونس پر پہنچ گیا،دیگر قیمتی دھاتوں میں چاندی کی قیمت 2.8 فیصد بڑھ کر 59.81 ڈالر، پلاٹینم 2.6 فیصد اضافے سے 1,629.15 ڈالر جبکہ پیلیڈیم 2.1 فیصد بڑھ کر 1,269.43 ڈالر فی اونس پر پہنچ گیا۔

    دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی ہو گئی ہے امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت میں 4 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی جس کے بعد قیمت 84 ڈالر فی بیرل کے قریب آ گئی، جو حالیہ دنوں کی بڑی یومیہ کمی میں شمار کی جا رہی ہے برطانوی خام تیل برینٹ کی قیمت بھی 4.86 فیصد کمی کے بعد 92 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آ گئی۔

    دوسری جانب متحدہ عرب امارات کے مربان خام تیل کی قیمت میں سب سے زیادہ گراوٹ دیکھی گئی۔مربان آئل 9.44 فیصد سستا ہو کر 97 ڈالر فی بیرل پر آ گیا، جسے خلیجی منڈی میں نمایاں تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔

    توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی مزید کم ہوتی ہے اور خطے میں امن برقرار رہتا ہے تو آئندہ دنوں میں خام تیل کی قیمتوں پر مزید دباؤ آ سکتا ہے تاہم مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے اور کسی بھی نئی پیش رفت کی صورت میں قیمتوں کا رخ دوبارہ تبدیل ہو سکتا ہے۔

  • ارشدیپ سنگھ نے سمرین کور کے ساتھ تعلقات کی تصدیق کر دی

    ارشدیپ سنگھ نے سمرین کور کے ساتھ تعلقات کی تصدیق کر دی

    بھارتی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر ارشدیپ سنگھ نے اداکارہ اور ماڈل سمرین کور کے ساتھ اپنے تعلقات کی باضابطہ تصدیق کر دی۔

    ارشدیپ سنگھ نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر سمرین کور کے ہمراہ دو تصاویر شیئر کرتے ہوئے مختصر کیپشن ’My Person‘ لکھ کر اپنے تعلقات کا باضابطہ اعلان کیا۔ جس پر مداح اور شوبز و کرکٹ شخصیات انہیں مبارک باد دے رہی ہیں۔

    دونوں کے درمیان تعلقات کی خبریں رواں سال اس وقت سامنے آئیں جب ارشدیپ سنگھ نے اسنیپ چیٹ پر ایک ایسی تصویر شیئر کی جس میں خاتون کا چہرہ واضح نہیں تھا،سوشل میڈیا صارفین نے تصویر میں موجود خاتون کے ٹیٹو اور نیل آرٹ کو سمرین کور سے جوڑتے ہوئے دونوں کے درمیان تعلق کا اندازہ لگایا، جس کے بعد یہ قیاس آرائیاں تیزی سے پھیلنے لگیں۔

    ارشدیپ سنگھ اور سمرین کور کے درمیان تعلقات کی افواہیں آئی پی ایل 2026 کے دوران اس وقت زور پکڑ گئیں جب ایک وائرل تصویر میں دونوں کو مبینہ طور پر ایک ساتھ دیکھا گیا بعد ازاں سمرین کو پنجاب کنگز کے متعدد میچز میں بھی اسٹیڈیم میں موجود دیکھا گیا جس سے ان افواہوں کو مزید تقویت ملی۔

    اس سے قبل سمرین کور کا نام یوٹیوبر آشیش چنچلانی کے ساتھ بھی جوڑا جاتا رہا، تاہم دونوں نے ہمیشہ ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے ایک دوسرے کو صرف قریبی دوست قرار دیا تھا۔

  • کئی افراد بے روزگاری اور مالی مشکلات کے باعث فتنہ الہندوستان گروہ کا حصہ بنتے ہیں،گرفتار دہشتگرد کے انکشافات

    کئی افراد بے روزگاری اور مالی مشکلات کے باعث فتنہ الہندوستان گروہ کا حصہ بنتے ہیں،گرفتار دہشتگرد کے انکشافات

    بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں گرفتار فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد حبیب اللہ نے دورانِ تفتیش اہم انکشافات کیے ہیں۔

    حبیب اللہ کا تعلق بلوچستان کے ضلع خضدار کی تحصیل اورناچ سے بتایا گیا ہے،گرفتار دہشت گرد کے مطابق تنظیم نے اسے جھوٹے وعدوں اور مالی لالچ کے ذریعے اپنے ساتھ شامل کیا، بعد ازاں ذہن سازی کرکے دہشت گرد کارروائیوں کے لیے تیار کیا گیا، اسے پہلے چنل دشت منتقل کیا گیا جہاں اس کی ذہن سازی کی گئی،جس کے بعد سرگڑھ کیمپ میں اسلحہ چلانے بارودی مواد استعمال کرنے، گھات لگا کر حملے کرنے، شناخت چھپانے اور فرار کے طریقے سکھائے گئے۔

    حبیب اللہ کے مطابق دہشت گرد تنظیم نے اسے صرف 25 ہزار روپے کے عوض اپنے ہی بلوچ بھائیوں کے خلاف استعمال کیادہشت گرد کارروائیوں سے قبل تنظیم کی جانب سے اسلحہ، ہدایات اور رابطے فراہم کیے جاتے تھے جبکہ ہر کارروائی میں حصہ لینے کے بدلے رقم دی جاتی تھی۔

    گرفتار دہشت گرد نے دعویٰ کیا کہ خضدار، بیلہ، نال اور سنارو کیمپ سے متعلق مختلف دہشت گرد کارروائیوں میں وہ شریک رہا،خضدار پولیس چیک پوسٹ پر حملے کے دوران دہشت گردوں کی فائرنگ سے 2 شہری جاں بحق ہوئے تھے،بی وائی سی کے دھرنوں کے دوران اس کی نشاندہی ہوئی، جس کے بعد سیکیورٹی اداروں نے کارروائی کرتے ہوئے اسے گرفتار کیا۔

    گرفتار دہشت گرد کے مطابق تنظیم میں شامل ہونے والے کئی افراد بے روزگاری اور مالی مشکلات کے باعث اس گروہ کا حصہ بنتے ہیں،تنظیم ابتدا میں خواب دکھا کر لوگوں کو اپنے ساتھ ملاتی ہے، لیکن بعد میں انہیں بلیک میل کیا جاتا ہے تاکہ وہ واپس نہ جا سکیں جو شخص دہشت گرد تنظیم چھوڑنے کی کوشش کرتا ہے اسے قتل کر دیا جاتا ہے دہشت گرد کیمپوں میں کھانے پینے کا مناسب انتظام بھی نہیں ہوتا اور دہشت گرد قریبی دیہات سے لوٹ مار کے ذریعے اپنی ضروریات پوری کرتے ہیں۔

    سیکیورٹی حکام کے مطابق گرفتار دہشت گرد کے انکشافات سے تنظیموں کے طریقہ کار، بھرتی کے ذرائع اور کارروائیوں کے حوالے سے اہم معلومات سامنے آئی ہیں، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

  • روس ایران کو  امریکی فوجی اڈوں کی سیٹلائٹ معلومات فراہم کر رہا ہے، یوکرینی  صدر

    روس ایران کو امریکی فوجی اڈوں کی سیٹلائٹ معلومات فراہم کر رہا ہے، یوکرینی صدر

    یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے دعویٰ کیا ہے کہ روس ایران کو خلیجی خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کی سیٹلائٹ معلومات فراہم کر رہا ہے-

    صدر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ جولائی کے آغاز سے یوکرینی حکام نے خلیجی ممالک اور وہاں موجود امریکی فوجی تنصیبات پر روسی سیٹلائٹس کی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا ہے،روس کی جانب سے حاصل کی جانے والی یہ سیٹلائٹ تصاویر بعد ازاں ایران تک پہنچتی ہیں، اور ان تصاویر اور ایرانی حملوں کے درمیان واضح تعلق دیکھا گیا ہے یہ معلومات حملوں سے پہلے اہداف کی تیاری، حملوں کے دوران رہنمائی اور بعد میں ہونے والے نقصانات کا جائزہ لینے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں-

    زیلنسکی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یوکرین نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحیرۂ کیسپین میں ایران اور روس کے درمیان عسکری سامان لے جانے والے بحری جہازوں کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے حملوں میں نشانہ بنایا ہے،ان حملوں میں فوجی سامان لے جانے والے بحری جہازوں کے علاوہ ایک جنگی جہاز کو بھی نشانہ بنایا گیا، جبکہ یوکرین کی انٹیلی جنس سروس نے بھی دعویٰ کیا کہ اس نے ایسے بحری جہازوں پر ڈرون حملے کیے جو ایران اور روس کے درمیان فوجی سامان منتقل کر رہے تھے۔

    دوسری جانب ایران نے یوکرین کے اس مبینہ حملے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے تہران میں تعینات یوکرینی ناظم الامور کو طلب کیا اور واقعے کو "جارحانہ اور مجرمانہ اقدام” قرار دیا،ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی یوکرین کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی تجارتی جہاز پر حملہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے اور اس کا جواب ضرور دیا جائے گا۔

    ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق اس حملے میں ایک ایرانی ملاح جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔ وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ ایران نے روس اور یوکرین کے درمیان جنگ میں کبھی فریق بننے کی کوشش نہیں کی۔

    امریکی میڈیا میں بھی گزشتہ چند ہفتوں سے یہ دعوے سامنے آتے رہے ہیں کہ روس ایران کو امریکی فوجی تنصیبات سے متعلق انٹیلی جنس معلومات فراہم کر رہا ہے۔ بعض رپورٹس میں چین کا نام بھی اس حوالے سے لیا گیا، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

  • ایئر انڈس کا 1دہائی بعد  اندرون ملک پروازوں سے آپریشن دوبارہ شروع کرنے کا اعلان

    ایئر انڈس کا 1دہائی بعد اندرون ملک پروازوں سے آپریشن دوبارہ شروع کرنے کا اعلان

    نجی فضائی کمپنی ایئر انڈس نے 11 سال سے زائد عرصے بعد اپنی پروازوں کا آپریشن دوبارہ شروع کرنے کے منصوبے کا اعلان کر دیا ہے۔

    ایئر انڈس کی سرکاری ویب سائٹ پر جاری معلومات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں اندرون ملک پروازیں بحال کی جائیں گی، جبکہ بعد ازاں خلیجی ممالک کے لیے بین الاقوامی فضائی آپریشن کا آغاز کیا جائے گا،کمپنی تنگ باڈی جیٹ طیاروں اور اے ٹی آر 72-600 ٹربو پروپ طیاروں پر مشتمل بیڑے کے ساتھ آپریشن بحال کرنے کی تیاریاں مکمل کر رہی ہے۔

    کمپنی کے مطابق آپریشن کا آغاز کراچی کو مرکزی مرکز بنا کر کیا جائے گا، ابتدائی مرحلے میں کراچی اور اسلام آباد کے درمیان روزانہ 3 جبکہ کراچی اور لاہور کے درمیان روزانہ 2 پروازیں چلانے کا منصوبہ ہے،اس کے علاوہ کراچی سے پشاور، سیالکوٹ، کوئٹہ، گوادر، فیصل آباد، ملتان اور اسکردو کے لیے بھی پروازیں شروع کی جائیں گی، جبکہ کوئٹہ اور اسلام آباد کے درمیان بھی فضائی سروس فراہم کی جائے گی۔

    ایئر انڈس کا کہنا ہے کہ آپریشن کی بحالی کے دوران وقت کی پابندی، مسافروں کی حفاظت اور معیاری کسٹمر سروس کو اولین ترجیح دی جائے گی، ملکی آپریشن بحال ہونے کے بعد دوسرے مرحلے میں کراچی، لاہور، اسلام آباد اور پشاور سے دبئی، ابوظہبی، ریاض، جدہ، دمام، دوحہ، کویت سٹی اور مسقط کے لیے بین الاقوامی پروازیں شروع کرنے کا منصوبہ ہے،تمام بین الاقوامی روٹس کا آغاز متعلقہ سول ایوی ایشن حکام کی منظوری سے مشروط ہوگا۔

    ایئر انڈس کے مطابق اس کے نیٹ ورک کی بنیاد جدید تنگ باڈی جیٹ طیاروں پر ہوگی، جو ابتدائی طور پر ملکی روٹس پر استعمال کیے جائیں گے اور بعد ازاں مشرق وسطیٰ کے لیے آپریشن میں بھی شامل ہوں گے،ان طیاروں کا انتخاب ایندھن کی بچت، قابلِ اعتماد کارکردگی، مسافروں کے آرام اور بہتر آپریشنل صلاحیت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے، بعد کے مرحلے میں اے ٹی آر 72-600 طیارے بھی بیڑے میں شامل کیے جائیں گے، جن کے ذریعے چھوٹے شہروں اور شمالی پاکستان کے دور دراز علاقوں کے درمیان فضائی رابطوں کو بہتر بنایا جائے گا۔

    ایئر انڈس نے کہا ہے کہ آپریشن کی بحالی طویل منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے اور کمپنی کا مقصد پاکستان بھر کے مسافروں کو عالمی معیار کی فضائی سفری سہولیات فراہم کرنا ہے۔

  • بھارتی وزیر دفاع کے اشتعال انگیز بیانات، پاکستان کا اقوام متحدہ سے نوٹس لینے کا مطالبہ

    بھارتی وزیر دفاع کے اشتعال انگیز بیانات، پاکستان کا اقوام متحدہ سے نوٹس لینے کا مطالبہ

    دفتر خارجہ نے بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے مسئلہ کشمیر سے متعلق حالیہ بیانات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں انتہائی اشتعال انگیز اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے۔

    دفتر خارجہ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ بھارتی وزیر دفاع کے ریمارکس نہ صرف اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ جموں و کشمیر تنازع سے متعلق حقائق کو مسخ کرتے ہیں بلکہ یہ بھارتی حکومت کی جانب سے علاقائی اور عالمی امن کو خطرے میں ڈالنے کی دانستہ پالیسی کی بھی عکاسی کرتے ہیں، بھارت ایسے بیانات کے ذریعے غیر قانونی طور پر زیر قبضہ جموں و کشمیر پر اپنے قبضے، خطے میں دہشتگردی کی سرپرستی اور اپنے اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔

    دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ جارحانہ بیانات کے باوجود بھارت کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ پاکستان کی حکومت اور عوام کسی بھی بھارتی مہم جوئی کا بھرپور مقابلہ کرنے کے لیے پُرعزم ہیں، جس کا مظاہرہ گزشتہ برس آپریشن بنیان المرصوص کے دوران پوری قوم اور مسلح افواج نے کیا۔

    پاکستان نے بین الاقوامی برادری، بالخصوص اقوام متحدہ، پر زور دیا کہ وہ بھارت کے طرزِ عمل کا نوٹس لے اور سلامتی کونسل کی ان قراردادوں پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے کردار ادا کرے جن میں کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت دینے کی ضمانت دی گئی ہے۔

  • عمران خان رہائی فورس کیس، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے آئینی عدالت میں جواب جمع کرا دیا

    عمران خان رہائی فورس کیس، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے آئینی عدالت میں جواب جمع کرا دیا

    وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے مبینہ فورس کے قیام سے متعلق دائر آئینی درخواست پر وفاقی آئینی عدالت میں اپنا تفصیلی جواب جمع کرا دیا ہے۔

    ایڈوکیٹ جنرل کے توسط سے جمع کرائے گئے 8 صفحات پر مشتمل جواب میں وزیراعلیٰ کے پی نے موقف اختیار کیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی رہائی فورس‘ کےنام سےکوئی بھی تنظیم کبھی قائم ہی نہیں ہوئی، اصل اقدام ’بانی پی ٹی آئی رہائی امن تحریک‘ کے نام سے شروع کیا گیا ہے، جو مکمل طور پر پرامن، غیر مسلح اور رضاکارانہ ہے، تحریک میں کسی بھی قسم کا مسلح ڈھانچہ یا نجی ملیشیا شامل نہیں ہے۔

    جواب میں کہا گیا ہے کہ یہ آئینی درخواست غلط بیانی، فرضی مفروضوں اور سیاسی مقاصد پر مبنی ہے، جبکہ درخواست گزار آئین کے تحت اپنے کسی بنیادی حق کی خلاف ورزی ثابت کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے،بانی پی ٹی آئی رہائی امن تحریک کو آئین پاکستان کے آرٹیکل 16 (پُرامن اجتماع کا حق)، آرٹیکل 17 (تنظیم سازی کی آزادی) اور آرٹیکل 19 (اظہارِ رائے کی آزادی) کے تحت مکمل تحفظ حاصل ہے۔

    جواب میں کہا گیا ہے کہ اس معاملے پر آئین کے آرٹیکل 256 (نجی ملیشیا کی ممانعت) کا کوئی اطلاق نہیں ہوتا، اور نہ ہی پرائیویٹ ملٹری آرگنائزیشنز ایکٹ 1973ء کے تحت اس پر کوئی پابندی لگتی ہےاس پرامن تحریک کا ماضی کی مسلح تنظیموں سے موازنہ کرنا انتہائی گمراہ کن اور بے بنیاد ہے، جبکہ امن عامہ کو خطرات سے متعلق تمام الزامات بلا جواز ہیں۔

    وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ اس قبل از وقت اور ناقابلِ سماعت درخواست کو ابتدائی مرحلے پر ہی خارج کیا جائے اور ’بانی پی ٹی آئی رہائی امن تحریک‘ کو مکمل طور پر آئینی و قانونی قرار دیا جائے۔

    واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے اس معاملے پر وزیراعلیٰ سے جواب طلب کر رکھا تھا اور بانی پی ٹی آئی رہائی فورس کے خلاف دائر آئینی درخواست کو 29 جولائی کو سماعت کے لیے مقرر کر رکھا ہے۔

  • نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان آج ہوگا

    نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان آج ہوگا

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان آج اگلے 50 دنوں کے لیے نئِی مانیٹری پالیسی کا اعلان کرے گا۔

    معاشی ماہرین اور مارکیٹ کے نمائندوں کی اکثریت کو توقع ہے کہ مرکزی بینک شرح سود کو بلا تغیر 11.5 فیصد پر ہی برقرار رکھے گا،رواں سال اپریل میں مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور معاشی خدشات کے پیشِ نظر شرح سود میں 120 پوائنٹس کا اضافہ کیا گیا تھا، جس کے بعد جون کے اجلاس میں بھی اسے اسی سطح پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

    ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے ایک حالیہ سروے کے مطابق 97 فیصد معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ پالیسی ریٹ میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی، جبکہ صرف 3 فیصد افراد 120 پوائنٹس کی کمی کی توقع رکھتے ہیں۔

    اس وقت ملک کے زیادہ تر معاشی اشاریے بہتری کی سمت اشارہ کر رہے ہیں مالی سال 2026 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 136 ملین ڈالر تک محدود رہا ہے جو کہ ہدف کے مطابق ہے اس خسارے کی بڑی وجہ ملک میں تجارتی سرگرمیوں کی بحالی کے باعث اشیاء کی واردات میں اضافہ ہے۔

    اس کے علاوہ بھاری غیر ملکی قرضوں کی ادائیگیوں کے باوجود جون 2026 کے اختتام تک اسٹیٹ بینک اپنے زرِ مبادلہ کے ذخائر کو 18 ارب ڈالر کے ہدف تک برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہےبیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی خطیر رقم بھی 41.6 ارب ڈالر کی تاریخی سطح پر پہنچ گئی ہے جس سے معیشت کو بڑا سہارا ملا ہے۔

    ملک کی معاشی سمت پر بات کرتے ہوئے اسٹیٹ بینک کے گورنر جمیل احمد نے اپنے بیان میں امید ظاہر کی ہے کہ انڈیکیٹرز مثبت سمت میں جا رہے ہیں اور آنے والے مہینوں میں مہنگائی کی شرح میں مزید کمی دیکھنے کو ملے گی۔

  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان

    اسلام آباد: عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں آج بڑی کمی کا امکان ہے۔

    عالمی مارکیٹ میں آج خام تیل کی قیمتوں میں پانچ فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی، اوگرا عالمی مارکیٹ کے تناسب سے نئی قیمتوں کا تعین آج کرے گاعالمی مارکیٹ کے تناسب سے پاکستان میں آج قیمتوں میں بڑی کمی متوقع ہے-

    واضح رہے کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریکارڈ 60 روپے تک اضافہ ہوا، جس میں پیٹرول 24 اور ڈیزل 60 روپے سے زائد مہنگا کیا گیا،حکومت کی جانب سے قیمتوں میں اضافے کی وجہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور درآمدی لاگت میں اضافے کو قرار دیا گیا تھا۔

    آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر ردوبدل کے مجوزہ نظام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس سے کاروباری منصوبہ بندی، اسٹاک مینجمنٹ اور سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے، اس لیے قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار پر تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی ضرورت ہے۔