Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • بین الاقوامی ٹیسٹ میچز:جنوبی کوریا کی قومی ہاکی ٹیم آج پاکستان پہنچے گی

    بین الاقوامی ٹیسٹ میچز:جنوبی کوریا کی قومی ہاکی ٹیم آج پاکستان پہنچے گی

    جنوبی کوریا کی قومی ہاکی ٹیم 27 جولائی سے 8 اگست تک پاکستان کا تاریخی دورہ کرے گی، جس کے دوران دونوں ممالک کے درمیان 4 بین الاقوامی ٹیسٹ میچز اسلام آباد کے نصیر بندہ ہاکی اسٹیڈیم میں کھیلے جائیں گے۔

    وزارت بین الصوبائی رابطہ کے مطابق جنوبی کوریا کی ٹیم کے دورے سے پاکستان میں بین الاقوامی ہاکی سرگرمیوں کی بحالی کو نئی تقویت ملے گی اور قومی کھیل کے فروغ میں اہم پیشرفت ہوگی-

    وزیراعظم کے مشیر برائے بین الصوبائی رابطہ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ جنوبی کوریا کی ٹیم کا دورہ پاکستان میں قومی کھیل کی بحالی کی جانب ایک تاریخی پیشرفت ہے اس دورے سے پاکستان کے پرامن اور محفوظ تشخص کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

    وفاقی سیکریٹری بین الصوبائی رابطہ محی الدین وانی کے مطابق جنوبی کوریا کی ٹیم کا دورہ پاکستان کی اسپورٹس سفارتکاری اور دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا، حکومت پاکستان کی جانب سے جنوبی کوریا کی قومی ہاکی ٹیم کو اعلیٰ سطح کی سیکیورٹی، پروٹوکول اور دیگر انتظامی سہولیات فراہم کی جائیں گی تاکہ دورہ کامیاب اور خوش اسلوبی سے مکمل ہو سکے۔

    واضح رہے کہ پاکستان ہاکی ٹیم 15 سے 30 اگست تک ہونے والے ہاکی ورلڈ کپ میں روانگی سے قبل کوریا کے ساتھ 4 ٹیسٹ میچز کی سیریز کھیلے گی،عالمی درجہ بندی میں پاکستان 12ویں اور کوریا 20ویں نمبر پر ہے،انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن نے ہاکی ورلڈکپ 2026 کے شیڈول کا باضابطہ اعلان کردیا ہے میگا ایونٹ میں پاکستان ٹیم 8 سال بعد شرکت کر رہی ہے۔

    شیڈول کے مطابق ہاکی کا عالمی کپ 15 سے 30 اگست تک نیدرلینڈز میں منعقد ہوگا۔ جس میں پاکستان اور بھارت سمیت ہاکی کی بہترین ٹیموں کے درمیان ایک ٹرافی کے لیے 15 روز تک میدانوں میں جنگ جاری رہے گی،گرین شرٹس ٹورنامنٹ میں اپنے سفر کا آغاز ہفتہ 15 اگست کو انگلینڈ کے خلاف میچ سے کریں گے یہ میچ پاکستانی وقت کے مطابق رات 10 بجے شروع ہوگا،قومی ٹیم اپنا دوسرا میچ پیر 17 اگست کو ویلز کے خلاف کھیلے گی یہ میچ پاکستانی وقت کے مطابق سہ پہر ساڑھے 3 بجے شروع ہوگا،روایتی حریفوں پاکستان اور بھارت کے درمیان ٹورنامنٹ کا سب سے بڑا میچ بدھ 19 اگست کو کھیلا جائے گا، جو پاکستانی وقت کے مطابق شام 6 بجے شروع ہوگا۔

  • کالعدم بی ایل ایف نے آوران میں خاتون کو اغوا کے بعد قتل کردیا

    کالعدم بی ایل ایف نے آوران میں خاتون کو اغوا کے بعد قتل کردیا

    کالعدم بی ایل ایف نے آوران میں خاتون کو اغوا کے بعد قتل کردیا-

    روبینہ نامی خاتون کو 20 اور 21 جولائی کی درمیانی شب ضلع آوران سے طور پر اغوا کیا گیا، جبکہ ان کی مسخ شدہ لاش 25 جولائی کو علاقے کبری کور نالہ سے برآمد ہوئی،خاتون،کے مبینہ اغوا، تشدد اور قتل کے واقعے پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے مختلف بیانات میں اس واقعے کی ذمہ داری کالعدم بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) پر عائد کی گئی ہے۔

    مقتولہ کے والد نے کہا کہ ان کی بیٹی کو اکبر ولد غنی نے کالعدم بی ایل ایف کے ارکان کے ساتھ مل کر اغوا کیا، مسلح افراد نے ان کی بیٹی کو کئی روز تک یرغمال رکھا، اس دوران اس پر تشدد کیا اور بعد ازاں اسے قتل کرکے لاش پھینک دی،اس واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں بلکہ بلوچستان کے عوام میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش بھی ہیں خواتین کو نشانہ بنانا بلوچ معاشرتی روایات اور انسانی اقدار کے منافی ہے۔

  • پینٹاگون نےایران جنگ میں   ہلاک اور زخمی امریکی فوجیوں کی تفصیلات جاری کردیں

    پینٹاگون نےایران جنگ میں ہلاک اور زخمی امریکی فوجیوں کی تفصیلات جاری کردیں

    امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ میں جانی نقصان کے شفاف اعداد و شمار پر اعتراضات کے بعد پینٹاگون نے اپنے مرکزی ڈیٹا بیس کو اپ ڈیٹ کر دیا ہے،گزشتہ ہفتے ڈیٹا میں غیر متوقع کمی اور شفافیت کی کمی پر پیدا ہونے والے سوالات کے بعد ہفتے کے روز ڈسکاس (ڈی سی اے ایس) کے نظام میں 140 سے زائد مزید زخمی امریکی اہلکاروں کا اندراج کیا گیا ہے اور پچھلے ہفتے ایرانی حملوں میں ہلاک ہونے والے 4 فوجیوں کے نام بھی شامل کر دیے گئے ہیں۔

    پینٹاگون کے ان نئے اعداد و شمار کے مطابق، 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد 18 ہو گئی ہے جبکہ زخمیوں کی مجموعی تعداد 624 تک پہنچ گئی ہے، جو کہ پچھلے ہفتے سامنے آنے والے 482 زخمیوں کے ہندسے میں نمایاں اضافہ ہے۔

    پینٹاگون کے نظام میں کی جانے والی ان تبدیلیوں اور ایرانی حملوں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد کم دکھائے جانے پر امریکی قانون سازوں اور میڈیا نے شدید تشویش کا اظہار کیا تھااس معاملے پر سینیٹ کی مسلح خدمات کی کمیٹی کے بارہ ڈیموکریٹک ارکان نے وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کو خط لکھ کر اس گڑبڑ کی وجوہات طلب کی تھیں۔

    تنازع بڑھنے پر دفاعی شعبے کے قائم مقام پریس سیکرٹری جوئیل والڈیز نے وضاحت پیش کرتے ہوئے لکھا کہ ”ویب سائٹ پر اعداد و شمار میں یہ کمی صرف عارضی فنی خرابیوں کا نتیجہ تھی“۔

    تاہم، ڈیٹا میں جانی نقصان کی ایک نئی کیٹیگری کا اضافہ بھی کیا گیا ہے جس میں7 جولائی سے شروع ہونے والے غیر ملکی آپریشنز کی تفصیلات شامل کی گئی ہیں، لیکن پینٹاگون کی جانب سے اس نئی کیٹیگری کی مکمل وضاحت تاحال فراہم نہیں کی گئی،7 جولائی کی یہ تاریخ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کانگریس کو بھیجے گئے اس نوٹس سے ملتی ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے ساتھ ایک نیا تنازع شروع ہوا ہے۔

    امریکی آئین کے تحت وار پاورز ایکٹ کے مطابق صدر کو 60دنوں کے اندر ملٹری آپریشنز کے لیے کانگریس سے اجازت لینا ہوتی ہے، تاہم موجودہ انتظامیہ نے اپریل میں ہونے والی جنگ بندی کو بنیاد بنا کر اس وقت کی گنتی دوبارہ شروع کی ہے۔

    انتظامیہ کی اس منطق پر اپوزیشن اور بعض حکومتی ارکان کی جانب سے سخت تنقید کی جا رہی ہےاس حوالے سے ہاؤس کی سماعت کے دوران ریپبلکن سینیٹر لیزا مرکووسکی نے وزیر دفاع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”مجھے شدید تشویش ہے کہ انتظامیہ اس وقفے کے بہانے کانگریس کی آئینی منظوری کو نظر انداز کر رہی ہے اور قانونی ضرورت سے بچنے کی کوشش کی جا رہی ہے-

  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں گرگئیں

    عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں گرگئیں

    امریکا اور ایران کی جانب سے ایک دوسرے پر حملے روکنے کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں تیزی سے نیچے آگئیں۔

    امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت میں 4 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی قیمت تقریباً ساڑھے 4 ڈالر فی بیرل کم ہونے کے بعد 84 ڈالر فی بیرل کے قریب آ گئی، جو حالیہ دنوں کی بڑی یومیہ کمیوں میں شمار کی جا رہی ہےاسی طرح برطانوی خام تیل برینٹ کی قیمت بھی 4.86 فیصد کمی کے بعد 92 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گئی۔

    دوسری جانب متحدہ عرب امارات کے مربان خام تیل کی قیمت میں سب سے زیادہ گراوٹ دیکھی گئی مربان آئل 9.44 فیصد سستا ہو کر 97 ڈالر فی بیرل پر آ گیا، جسے خلیجی منڈی میں ایک نمایاں تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔

    توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی مزید کم ہوتی ہے اور خطے میں امن برقرار رہتا ہے تو آئندہ دنوں میں خام تیل کی قیمتوں پر مزید دباؤ آ سکتا ہے۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے اور کسی بھی نئی پیش رفت کی صورت میں قیمتوں کا رخ دوبارہ تبدیل ہو سکتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق عالمی معیشت، ایندھن کی طلب، اوپیک پلس کی پیداوار اور جغرافیائی سیاسی حالات آئندہ ہفتوں میں تیل کی قیمتوں کا تعین کرنے والے اہم عوامل رہیں گے، جبکہ سرمایہ کار خطے کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

  • ملک کے مختلف حصوں میں مزید بارشوں کی پیش گوئی

    ملک کے مختلف حصوں میں مزید بارشوں کی پیش گوئی

    محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف حصوں میں آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید بارشوں کی پیش گوئی کی ہے، بعض مقامات پر پہاڑی ندی نالوں میں طغیانی اور شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سورج اور بادلوں کی آنکھ مچولی جاری ہے، جبکہ راولپنڈی میں ممکنہ بارشوں کے پیش نظر رین ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے،ضلعی انتظامیہ نے شہریوں کی حفاظت کے لیے ندی نالوں میں نہانے پر پابندی بھی عائد کر دی ہے لاہور سمیت پنجاب بھر میں مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری ہے لاہور میں بارش کے باوجود موسم میں حبس برقرار ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق 28 جولائی تک ایسی بارشوں کا امکان نہیں جو بڑے پیمانے پر سیلاب کا سبب بنیں، تاہم 29 جولائی سے مون سون کا ایک نیا اور زیادہ وسیع سلسلہ بالائی دریائی کیچمنٹ ایریاز، اسلام آباد، بالائی پنجاب، خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو اپنی لپیٹ میں لے گا، جس سے بارشوں کی شدت میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔

    ادھر پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے ڈائریکٹر جنرل عمر عباس میلہ نے تمام ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ، نشیبی ندی نالوں میں اچانک سیلاب اور مری کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ موجود ہے۔

    انہوں نے ڈپٹی کمشنرز کو دریاؤں اور ندی نالوں کے اطراف دفعہ 144 کے سخت نفاذ کی ہدایت بھی کی ہے تاکہ عوام کو خطرناک مقامات پر جانے سے روکا جا سکے۔ صوبائی پالیسی کے تحت بارشوں یا سیلاب سے جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کو 10 لاکھ سے 50 لاکھ روپے تک مالی امداد فراہم کی جائے گی۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق خیبر پختونخوا میں آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران موسم جزوی طور پر ابر آلود اور مرطوب رہنے کا امکان ہےپشاور، نوشہرہ، مردان، چارسدہ، صوابی، چترال، دیر، سوات، شانگلہ، مالاکنڈ، بونیر، باجوڑ، کوہستان، تورغر، بٹگرام، مانسہرہ، ایبٹ آباد، مہمند، خیبر، کرم، کوہاٹ، اورکزئی، ہنگو، کرک، لکی مروت، بنوں اور شمالی وزیرستان میں بارش کی توقع ہے۔

    محکمہ موسمیات نے بتایا کہ گزشتہ روز پشاور، چراٹ، کالام، مالم جبہ، دیر اور پٹن میں بارش ریکارڈ کی گئی۔ پٹن میں 14 ملی میٹر، چراٹ میں 7 ملی میٹر، کالام، دیر اور مالم جبہ میں 5،5 ملی میٹر جبکہ پشاور میں 3 ملی میٹر بارش ہوئی، پشاور میں کم سے کم درجہ حرارت 25 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جبکہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 35 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔ صوبے میں سب سے کم درجہ حرارت مالم جبہ میں 13 اور کالام میں 15 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔

    بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں موسم گرم رہنے کا امکان ہے، تاہم ژوب، موسیٰ خیل، شیرانی، بارکھان، خضدار اور گرد و نواح میں تیز ہواؤں اور بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے کوئٹہ میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 37 اور قلات میں 33 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ زیارت میں 27، ژوب میں 35، سبی میں 39، تربت میں 42، نوکنڈی میں 45، چمن میں 38، جبکہ ساحلی علاقوں گوادر میں 31 اور جیوانی میں 33 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا۔

    اُدھر کراچی میں آج کم سے کم درجہ حرارت 28.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ موجودہ درجہ حرارت 30 ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق ہوا میں نمی کا تناسب 78 فیصد ہے اور جنوب مغرب سے 12 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں،شہر میں آج زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 35 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے، جبکہ مطلع جزوی ابر آلود، گرم اور مرطوب رہنے کے ساتھ بوندا باندی بھی متوقع ہے۔

    فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق مجموعی طور پر دریاؤں کی صورتحال قابو میں ہے، اگرچہ دریائے چناب اور راوی کے بعض مقامات پر پانی کا بہاؤ معمول سے زیادہ ہے۔ دریائے چناب میں مرالہ اور دریائے راوی میں بلوکی کے مقام پر پانی کی سطح بلند ہے، جبکہ دریائے سندھ میں تربیلا، دریائے کابل میں نوشہرہ اور دریائے جہلم میں منگلا کے مقام پر نچلے درجے کے سیلاب کی صورتحال برقرار ہے۔

    ڈویژن نے بتایا کہ آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران مرالہ کے مقام پر دریائے چناب اور بلوکی کے مقام پر دریائے راوی میں پانی کی سطح نچلے سے درمیانے درجے کے سیلاب تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ دریائے راوی پر سدھنائی کا مقام بلند وارننگ کی حد کے سب سے قریب ہے اسی طرح آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران دریائے سندھ میں کالا باغ، چشمہ، تونسہ اور گڈو کے مقامات پر نچلے درجے کے سیلاب کی صورتحال برقرار رہنے کا امکان ہے۔

  • فتنہ الہندوستان کے دہشتگرد عثمان سے والدہ کا اعلانِ لاتعلقی

    فتنہ الہندوستان کے دہشتگرد عثمان سے والدہ کا اعلانِ لاتعلقی

    فتنہ الہندوستان کے دہشتگرد عثمان کی والدہ نے اپنے بیٹے سے لاتعلقی کا اعلان کیاہے-

    تربت میں ایک پریس کانفرنس کے دوران فتنہ الہندوستان کے دہشتگرد عثمان کی والدہ نے اپنے بیٹے سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے خاندان کا عثمان کی سرگرمیوں یا فیصلوں سے کوئی تعلق نہیں،کچھ عرصہ قبل عثمان اپنی مرضی سے گھر اور خاندان سے الگ ہو گیا تھابعد میں اس نے ان سے رابطہ کرنے کی کوشش بھی کی، تاہم انہوں نے اس سے کوئی بات نہیں کی۔

    عثمان کی والدہ نے کہا کہ ان کا، ان کے شوہر اور دیگر اہلِخانہ کا عثمان کے ساتھ کسی بھی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہے، عثمان اپنے تمام ذاتی فیصلوں اور سرگرمیوں کا خود ذمہ دار ہے اور خاندان اس کے کسی بھی عمل کی ذمہ داری قبول نہیں کرتا،انہوں نے واضح کیا کہ ان کے خاندان کا عثمان کی مبینہ سرگرمیوں سے کوئی تعلق نہیں اور وہ اپنے مؤقف کا اظہار عوام کے سامنے کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔

    مبصرین کا کہنا ہے کہ فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں سے اہلخانہ کا اظہار لاتعلقی ظاہر کرتا ہے کہ عوام دہشتگردی کے ناسور کا خاتمہ چاہتے ہیں۔

  • امریکا ایرانی یورینیم پر قبضہ کرنے کے لیے بڑے آپریشن پر غور کر رہا ہے، نیویارک پوسٹ

    امریکا ایرانی یورینیم پر قبضہ کرنے کے لیے بڑے آپریشن پر غور کر رہا ہے، نیویارک پوسٹ

    امریکی اخبار کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اگر ایران کے جوہری پروگرام سےمتعلق سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو امریکا ایران کی محفوظ جوہری تنصیبات میں موجود یورینیم کے ذخیرے پر قبضہ کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر خصوصی فوجی آپریشن کا آپشن زیر غور لا سکتا ہے۔

    امریکی اخبار نیویارک پوسٹ کی رپورٹ میں ماہرین کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی اسپیشل آپریشنز فورسز ایسے ممکنہ آپریشن کی تیاری کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہیں، جس کے تحت ایران کی محفوظ جوہری تنصیبات میں موجود یورینیم کو قبضے میں لے کر ملک سے باہر منتقل کیا جا سکے،بعض ماہرین نے اس مشن کو عسکری تاریخ کے سب سے پیچیدہ فوجی آپریشنز میں سے ایک قرار دیا ہے، کیوں کہ اس کے لیے ایرانی سرزمین کے اندر وسیع لاجسٹک انتظامات اور سخت سکیورٹی اقدامات درکار ہوں گے۔

    رپورٹ میں ملٹری پلاننگ سے واقف ایک باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس منصوبے کے تحت جوہری تنصیبات کے گرد سکیورٹی فراہم کرنے، رکاوٹیں اور دھماکہ خیز مواد ہٹانے اور محفوظ راہداریاں قائم کرنے کے لیے ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی کی ضرورت پڑ سکتی ہے اس کے بعد اسپیشل فورسز کی چھوٹی ٹیمیں غنی شدہ یورینیم تک رسائی حاصل کرکے اسے ایران سے باہر منتقل کرنے کی ذمہ داری سنبھالیں گی۔

    نیویارک پوسٹ کے مطابق یہ آپریشن انتہائی خطرناک ہوگاسینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے نائب ڈائریکٹر جوزف راجرز نے کہا کہ اگرچہ ایرانی فوجی صلاحیتوں میں کچھ کمی آئی ہے، تاہم جنگی ماحول اور محفوظ جوہری تنصیبات کی وجہ سے یہ لاجسٹک اعتبار سے دنیا کے پیچیدہ ترین فوجی آپریشنز میں شمار ہو سکتا ہے،اس ممکنہ کارروائی میں سیل ٹیم 6، رینجرز کی دوسری بٹالین اور خطرناک مواد اور بارودی مواد سے نمٹنے والی 21 ویں کمپنی کے اہلکار شامل ہو سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ کمپنی غنی شدہ یورینیم کو محفوظ طریقے سے سنبھالنے اور منتقل کرنے کی ذمہ دار ہوگی۔

    نیویارک پوسٹ کے مطابق بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی نے 2025 میں اندازہ لگایا تھا کہ ایران کے پاس 20 ہزار پاؤنڈ سے زائد غنی شدہ یورینیم موجود ہےماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے کسی بھی آپریشن کی کامیابی کے لیے جوہری تنصیبات کے گرد مضبوط سکیورٹی حصار قائم کرنا اور زمینی و فضائی انخلا کی راہداریاں محفوظ بنانا ضروری ہوگا، جبکہ امریکی فورسز کو ممکنہ ایرانی حملوں کا بھی مقابلہ کرنا پڑے گا۔

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ میں امریکی قومی سلامتی کونسل کے سابق عہدیدار اور ایران کے مہلک ہتھیاروں سے متعلق امور کے سابق ڈائریکٹر رچرڈ گولڈ برگ کا کہنا ہے کہ سب سے بڑا چیلنج محفوظ انخلا مکمل ہونے تک امریکی فورسز کی اپنی پوزیشن برقرار رکھنے کی صلاحیت ہوگی، انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق ایران نے اصفہان کی جوہری تنصیب کے گرد اپنی دفاعی تیاریوں کو مزید مضبوط کیا ہے، اضافی فورسز تعینات کی گئی ہیں اور دھماکہ خیز مواد بھی نصب کیا گیا ہے اب اچانک کارروائی کا عنصر بھی پہلے جیسا نہیں رہا، کیوں کہ جوہری تنصیبات کے مقامات دونوں فریقوں کے علم میں ہیں۔

    رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ایران نے کسی بھی ممکنہ دراندازی کے پیش نظر اصفہان کی تنصیب کی سرنگوں میں بارودی سرنگیں اور دھماکہ خیز مواد نصب کر رکھا ہے اسی طرح نطنز کے قریب واقع جبل بیکیکس گزشتہ ماہ سینکڑوں سینٹری فیوجز وہاں منتقل کیے جانے کی اطلاعات کے بعد ایک نئے ممکنہ ہدف کے طور پر سامنے آیا ہے۔

    رچرڈ گولڈ برگ کا کہنا تھا کہ جبل بیکیکس کو نشانہ بنانے والے کسی بھی آپریشن میں یا تو اس تنصیب کو مکمل طور پر تباہ کرنے یا فضائی حملے مؤثر نہ ہونے کی صورت میں خصوصی فوجی کارروائی کے ذریعے اسے ناکارہ بنانے پر توجہ دی جا سکتی ہے ان کے مطابق اس منصوبے کی کامیابی کا انحصار تنصیب کے ڈیزائن اور اس کی کمزوریوں سے متعلق درست انٹیلی جنس معلومات پر ہوگا،امریکی محکمہ دفاع یا وائٹ ہاؤس کی جانب سے اب تک کسی ایسے عملی منصوبے کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔

  • کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا بھارت سے مبینہ گٹھ جوڑ  سامنے آ چکا ہے،عطا اللہ تارڑ

    کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا بھارت سے مبینہ گٹھ جوڑ سامنے آ چکا ہے،عطا اللہ تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ سے منسلک پاکستان مخالف سوشل میڈیا پروپیگنڈا بے نقاب ہوگیا ہے، جبکہ کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا بھارت سے مبینہ گٹھ جوڑ بھی سامنے آ چکا ہے۔

    اپنے ایک ویڈیو بیان میں عطا اللہ تارڑ نے کہاکہ سوشل میڈیا پر منظم انداز میں ایسی پوسٹس شیئر کی جاتی رہیں جن کا مقصد عوام کو ریاستی اداروں کے خلاف اکسانا تھا کالعدم ایکشن کمیٹی سے وابستہ شرپسند عناصر کو اپنے طرزِ عمل پر پوری قوم کو جواب دینا ہوگا،پاکستان کے خلاف غلط معلومات اور گمراہ کن مہم چلانے والے نیٹ ورک کی کڑیاں بھارت سے ملتی ہیں اور اس پروپیگنڈا کا مقصد ریاستی اداروں اور عوام کے درمیان بداعتمادی پیدا کرنا تھا۔

    عطااللہ تارڑ نے کہاکہ اگر کالعدم ایکشن کمیٹی کے رہنما واقعی کشمیر کے مفادات سے مخلص ہیں تو انہیں جمہوری عمل میں حصہ لیتے ہوئے انتخابات لڑنے چاہییں، اسلحے اور ڈنڈوں کے زور پر چلائی جانے والی کسی بھی تحریک کا کشمیر کاز سے کوئی تعلق نہیں ہو سکتا،سیکیورٹی فورسز نے ایک ایسے شخص کو گرفتار کیا ہے جو ڈیجیٹل مارکیٹنگ کی آڑ میں پاکستان مخالف پروپیگنڈا مہم کا حصہ تھا۔

    انہوں نے کہاکہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق مذکورہ شخص کو بھارت سے مواد فراہم کیا جا رہا تھا، جس کا زیادہ تر تعلق ایکشن کمیٹی سے متعلق مہم اور سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے بیانیے سے تھا،مس انفارمیشن پھیلانے والے پورے نیٹ ورک کی کڑیاں بھارت سے ملتی ہیں، جبکہ ایکشن کمیٹی کے تانے بانے بھی بھارت سے جا ملتے ہیں، قانون نافذ کرنے والے ادارے اس معاملے کی مزید تحقیقات کر رہے ہیں اور حقائق سامنے آنے کے بعد ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

  • آزاد کشمیر انتخابات : میرپور ڈویژن کے 13 حلقوں میں کل ووٹنگ ہوگی

    آزاد کشمیر انتخابات : میرپور ڈویژن کے 13 حلقوں میں کل ووٹنگ ہوگی

    آزاد کشمیر کے میرپور ڈویژن میں عام انتخابات 2026 کے لیے پولنگ کل (27 جولائی) کو ہوگی، پولنگ کا عمل صبح آٹھ بجے سے شام پانچ بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہے گا۔

    آزاد کشمیر کے میرپور ڈویژن کے تین اضلاع میرپور، بھمبر اور کوٹلی کے 13 انتخابی حلقوں میں عام انتخابات کے لیے تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں، جہاں کل ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابات کے پُرامن انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں، جبکہ پولنگ کے لیے انتخابی سامان، بیلٹ پیپرز اور دیگر ضروری دستاویزات متعلقہ پولنگ اسٹیشنوں تک پہنچا دی گئی ہیں انتخابی سامان کی ترسیل کے دوران پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار سیکیورٹی کے فرائض انجام دیتے رہے، جبکہ تمام پولنگ اسٹیشنز تک سامان کی بروقت فراہمی یقینی بنانے کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔

    میرپور ڈویژن کے انتخابی حلقوں میں سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کے درمیان سخت مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔ میرپور ضلع کی چار، بھمبر ضلع کی تین اور کوٹلی ضلع کی چھ نشستوں پر امیدوار میدان میں ہیں،ان حلقوں میں رجسٹرڈ ووٹرز کی مجموعی تعداد 14،01،439 ہے جن میں 7،25،118 مرد اور 6،75،628 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔

    میرپور ڈویژن میں مجموعی طور پر 2454 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں جن میں ضلع میرپور کے 4 حلقوں میں 597، ضلع کوٹلی کے 6 حلقوں میں 1107 اور ضلع بھمبر کے 3 حلقوں میں 608 پولنگ اسٹیشن شامل ہیں،میرپور ڈویژن کے 13 حلقوں میں مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، استحکام پاکستان پارٹی سمیت مختلف جماعتوں اور آزاد حیثیت سے مجموعی طور پر 296 امیدوار میدان میں ہیں، ایل اے3 میرپور، ایل اے 6 بھمبھر اور ایل اے 10 کوٹلی میں پیپلز پارٹی، ن لیگ اور استحکام پاکستان پارٹی میں سخت مقابلے کی توقع ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ پولنگ کے روز امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں، جبکہ ووٹرز کو پرامن ماحول میں اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کی سہولت فراہم کی جائے گی،الیکشن کمیشن نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے انتخابی عمل میں بھرپور شرکت کریں اور پرامن ماحول برقرار رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

  • مستونگ میں آپریشن العزم جاری ، ہلاک دہشتگردوں کی تعداد 16ہو گئی

    مستونگ میں آپریشن العزم جاری ، ہلاک دہشتگردوں کی تعداد 16ہو گئی

    بلوچستان میں آپریشن العزم کے تحت سکیورٹی فورسز کی دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں ، ہلاک دہشتگردوں کی تعداد 16 ہو گئی۔

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق مستونگ میں فتنہ الہندوستان کو بھاری نقصانات کا سامنا ہے ، مستونگ کے علاقے کھڈ کوچہ میں سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کارروائی کی، جس کے نتیجے میں دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانوں اور کمین گاہوں کو تباہ کر دیا گیا، سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے ٹھکانوں سے اسلحہ و دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کر لیا۔

    ذرائع نے بتایا کہ آپریشن العزم میں اب تک فتنہ الہندوستان کے 16 دہشتگرد ہلاک ہو چکے ہیں ، بلوچستان سے دہشتگردی کے خاتمے اور امن وامان کے قیام تک سکیورٹی فورسزکی کارروائیاں جاری رہیں گی،گزشتہ روز بھی مستونگ میں سکیورٹی فورسز نے موثر کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الہندوستان کے تین دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا تھا ، آپریشن کے دوران کئی دہشتگرد زخمی بھی ہوئے تھے۔

    علاوہ ازین گزشتہ روز جنوبی وزیرستان میں بھی سکیورٹی فورسز نے چیک پوسٹ پر حملے کی کوشش ناکام بنا کر 4 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا تھا،آئی ایس پی آر کے مطابق 25 جولائی کو بھارتی سرپرستی میں سرگرم فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں نے چیک پوسٹ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تاہم سکیورٹی فورسز نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے حملہ ناکام بنا دیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق جوابی کارروائی میں دھماکا خیز مواد سے بھری گاڑی سمیت خودکش حملہ آور کو چیک پوسٹ کی حدود سے باہر ہی تباہ کر دیا گیا، جبکہ مجموعی طور پر چار دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ دہشتگرد چیک پوسٹ کی سیکیورٹی توڑنے میں ناکام رہے ، حملے سے چیک پوسٹ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔