Baaghi TV

Author: Ayesha Rehmani

  • جارجیا میں اپوزیشن اہلکار نے  الیکشن کمیشن کے سربراہ پر  سیاہی پھینک دی

    جارجیا میں اپوزیشن اہلکار نے الیکشن کمیشن کے سربراہ پر سیاہی پھینک دی

    جارجیا میں اپوزیشن جماعت کے اہلکار نے الیکشن کمیشن کے سربراہ پر دھاندلی کا الزام لگا کر سیاہی پھینک دی،واقعے کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق الیکشن کمیشن کے سربراہ گیورگی کالادرویش پارلیمانی انتخابات کے بعد نتائج کی توثیق کے لیے موجود تھے اپوزیشن جماعت کے اہلکار نے غصے میں الیکشن کمیشن کے سربراہ گیورگی کالادرویش پر دھاندلی کے الزامات عائد کرتے ہوئے ان کے چہرے پر سیاہی پھینک دی۔
    polictics
    وائرل ویڈیو میں اپوزیشن اہلکار کو الیکشن کمیشن کے سربراہ پر سیاہی پھینکتے دیکھا جاسکتا ہے، جبکہ سیاہی پھینکنے کے بعد سکیورٹی اہلکاروں کو اپوزیشن جماعت کے اہلکار کے پیچھے بھاگتے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
    politics
    واقعے سے پہلے، اپوزیشن پارٹی لے رکن نے کمیشن ممبر کو بتایا کہ ووٹ کے سرکاری نتائج ووٹروں کے "حقیقی انتخاب” کی عکاسی نہیں کرتے،جس پر الیکشن کمیشن ممبر نے کہا کہ دباؤ، دھونس اور ذاتی توہین” کے استعمال سے ثابت ہوتا ہے کہ ووٹ میں دھاندلی کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔

    جب میٹنگ دوبارہ شروع ہوئی تو الیکشن کمیشن ممبر نے کہا کہ یہ ایک بار پھر واضح ہو گیا ہے کہ اس بات کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے کہ انتخابات میں ہیرا پھیری کی گئی ہو۔

  • پاکستان میں گرین ہاؤس گیس اخراج کوکم کرنے کیلئے اقدامات شروع

    پاکستان میں گرین ہاؤس گیس اخراج کوکم کرنے کیلئے اقدامات شروع

    اسلام آباد: ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان میں گرین ہاؤس گیس اخراج کوکم کرنے کے لیے اقدامات شروع کر دیئے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق پانی کی پیداواری صلاحیت بہتر کرنے کے لیے شیخوپورہ اور اوکاڑہ میں پائلٹ اسٹڈی شروع کردی گئی ہے جس میں زمین کو گیلا اورخشک کرنےکے لیے متبادل طریقہ کار کے ٹرائلزکا آغاز کردیا گیا ہے۔

    ایشیائی ترقیاتی بینک کے مطابق شیخوپورہ اور اوکاڑہ میں چاول کی فصل پر متبادل طریقہ کار کے ٹرائلزکا نفاذکیاگیا، متبادل طریقہ کار سے چاول کی پیداوار پر اثرات کا تجزیہ کیا جا رہا ہے ٹرائلز سےچاول کی فصل سےگرین ہاؤس گیس کے اخراج کا اندازہ لگایا جاسکےگا، ٹرائلز ملک کی گرین ہاؤس گیس انوینٹری کی درستگی کوبڑھائیں گے اور پاکستان میں کاربن مارکیٹ کے اقدامات کے لیے ضروری ڈیٹا فراہم کریں گے۔

    نیوزی لینڈ، خالصتان کی آزادی کیلیے ریفرنڈم،ووٹنگ جاری

    ایشیائی ترقیاتی بینک کے مطابق ان ٹرائلز سےکسانوں میں متبادل طریقہ کار اپنانےکی حوصلہ افزائی بڑھےگی مشترکہ مطالعے میں یونیورسٹی آف فلپائن کا انٹرنیشنل رائس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اور جرمنی کا کارلسروہ انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی بھی اسٹڈی میں شریک ہے۔

    نوجوانوں سے بڑی توقعات ہیں، بشریٰ بی بی پارٹی میں متحرک

  • قلات میں سکیورٹی فورسزکی پوسٹ پر حملہ، 7 جوان شہید،جوابی فائرنگ میں6 دہشتگردہلاک  4 زخمی

    قلات میں سکیورٹی فورسزکی پوسٹ پر حملہ، 7 جوان شہید،جوابی فائرنگ میں6 دہشتگردہلاک 4 زخمی

    راولپنڈی: بلوچستان کے ضلع قلات میں سکیورٹی فورسزکی پوسٹ پر حملے میں دہشت گردوں سے بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے 7 جوان شہید ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق قلات کے علاقے شاہ مردان میں دہشتگردوں نے سکیورٹی فورسزکی پوسٹ پر 15 اور 16 نومبر کی درمیانی رات حملے کی کوشش کی سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں سے بہادری سے مقابلہ کیا اور شدید فائرنگ کے تبادلے میں 6 دہشتگردہلاک ہوگئے جبکہ 4 دہشت گرد زخمی ہوئے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق دہشتگردوں سے شدید فائرنگ کے تبادلے میں 7 بہادر جوان شہید ہوگئے،علاقے میں موجود دیگر ممکنہ دہشت گردوں کے خاتمے کیلئے کلیئرنس آپریشن جاری ہے،سکیورٹی فورسز بلوچستان کے امن و ترقی کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں ناکام بنانے کیلئے پرعزم ہیں اور بہادر جوانوں کی قربانیاں ہماراعزم مزید مضبوط کرتی ہیں۔

  • چین:ووکیشنل اسکول میں چاقو  حملے میں8 افراد ہلاک اور 17 زخمی

    چین:ووکیشنل اسکول میں چاقو حملے میں8 افراد ہلاک اور 17 زخمی

    بیجنگ: چین کے ایک ووکیشنل اسکول میں چاقو حملے میں8 افراد ہلاک اور 17 زخمی ہوگئے۔

    باغی ٹی وی: چینی میڈیا کے مطابق چاقو حملے میں ہلاکتوں کا واقعہ مشرقی جیانگسو صوبے کے ووکیشنل اسکول میں پیش آیا پولیس کے مطابق حملے میں 8 افراد ہلاک اور 17 زخمی ہوگئے پولیس نے 21 سالہ حملہ آور کو گرفتار کرلیا ہے۔

    ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملہ آور نوجوان ووکیشنل اسکول کا طالب علم تھا جو کہ امتحان میں ناکامی اور ڈپلومہ مکمل نہ ہونےکی وجہ سے مایوسی کا شکار تھا اس کے علاوہ مبینہ طور پر وہ اپنے انٹرن شپ معاوضے سے بھی مطمئن نہیں تھاحکام کی جانب سے مقتولین اور زخمیوں کے حوالے سےکوئی معلومات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔

    واضح رہے کہ 3 روز قبل ہی چین کے جنوبی صوبے گوانگڈونگ میں تیز رفتارگاڑی نے درجنوں لوگوں کو کچل دیا تھا جس سےکم ازکم 35 افرادہلاک اور 43 زخمی ہوگئے تھے چینی پولیس نے گاڑی کے 62 سالہ ڈرائیور کو گرفتار کرلیا تھا جس نے حادثے کے بعد چھریوں کے وار کرکے خود کو زخمی کرلیا ، 62 سالہ ڈرائیور اپنی طلاق کے بعد ناخوش تھا۔

  • 24 نومبر  کو احتجاج: بشریٰ بی بی نےعہدیداران کو ہدایات جاری کرنا شروع کردیں

    24 نومبر کو احتجاج: بشریٰ بی بی نےعہدیداران کو ہدایات جاری کرنا شروع کردیں

    پشاور:بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے 24 نومبر کے حوالے سے تحریک انصاف کے عہدیداران کو ہدایات جاری کرنا شروع کردیں۔

    باغی ٹی وی: بشریٰ بی بی کی زیر صدارت وزیراعلٰی ہاؤس میں تحریک انصاف کے ہزارہ اور مالاکنڈ ارکان اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں 24 نومبر کے احتجاج کے حوالے سے حکمت عملی پر غور کیا گیا۔

    بشریٰ بی بی نے ارکان اسمبلی اور پارٹی عہدیداروں کو عمران خان کی ہدایات سے آگاہ کیا اور کہا کہ عمران خان کا پیغام ہے پارلیمنٹ، قانون اور آئین کی بالادستی کے لیے نکلنا ہے لیڈر عمران خان ہیں،مجھے صرف خان کا پیغام پہنچانے کے لیے آ گے آنا پڑا ہے، اجلا س میں وزیراعلٰی خیبر پختونخوا بھی موجود تھے جنہوں نے ارکان کو 24 نومبر احتجاج کے حوالے سے ہدایات جاری کیں۔

    دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نےنجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 24 نومبر سے شروع ہونے والی ہماری تحریک ایک دن کی نہیں ہوگی،احتجاجی تحریک میں تحریک انصاف کی قیادت موجود ہوگی، اس بات میں کوئی حقیقت نہیں کہ بشریٰ بی بی احتجاجی تحریک کو لیڈ کریں گی، ان کا تنظیمی معاملات سے کوئی تعلق نہیں۔

    سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ تحریک انصاف کی سینیئر قیادت کو عمران خان سے ملنے نہیں دیا جارہا، اس لیے انہوں نے بشریٰ بی بی کے ذریعے پیغام بھیجا جو ہم تک پہنچ گیا ہے،شاہ محمود قریشی کا مشورہ ہمیشہ شامل رہتا ہے، میں جیل میں جاکر ان سے اور یاسمین راشد سے ملاقات کروں گا۔

  • مطالبات پورے ہونے تک اسلام آباد میں بیٹھیں گے،  شیخ وقاص اکرم

    مطالبات پورے ہونے تک اسلام آباد میں بیٹھیں گے، شیخ وقاص اکرم

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات نے کہا ہے کہ مطالبات پورے ہونے تک اسلام آباد میں بیٹھیں گے-

    باغی ٹی وی : پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایسی باتیں سراسر بے بنیاد ہیں کہ بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ بشریٰ بی بی پارٹی میں کوئی کردار لینے جا رہی ہےبانی پی ٹی آئی سے آخری بار جیل میں ملاقات ان کی اہلیہ بشری بی بی کی ہوئی تھی انہوں نے بانی پی ٹی آئی کا پیغام دیا جبکہ گزشتہ روز کا اجلاس بیرسٹر گوہر کی صدارت میں ہوا تھا۔

    انہوں نے واضح کیا کہ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور کے پی سے قافلوں کو لیڈ کریں گےمرکزی سیکریٹری اطلاعات پی ٹی آئی نے کہا کہ ہر ضلع سے لوگ احتجاج کے لیے نکلیں گےجب تک مطالبات پورے نہیں ہوں گے اسلام آباد میں بیٹھے رہیں گےپہلے مطالبات مانیں گے پھر حکومت سے کوئی دوسری بات کریں گے، ہم تو اب مذاکرات کرنا بھی نہیں چاہتے، ہم بھر پور احتجاج کریں گے-

    شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ ڈو اور ڈائی کا مطلب یہ نہیں کہ ہم کسی کی جان لینے جا رہے ہیں بلکہ ہمارا احتجاج پُرامن ہوگا، ہمارے لوگ کوئی مسلح تو نہیں ہوں گے ، کفن باندھنے کا مطلب سفید رنگ کا کپڑا ہے جو کہ امن کی علامت ہے،پوری تیاری کر کے آ ئیں، میرے پاس ہمارے ہر احتجاج کا ڈیٹا موجود ہے، جو زیادہ بندے نکالے گا وہی زیادہ محبت کا حق دار ہو گا اور اسی حساب سے کل کو اسے ذمہ داری دی جائے گی،احتجاج کی دعوت عوام کو ہے پی ٹی آئی کے کروڑوں ووٹرز کو احتجاج کی دعوت دے رہے ہیں، یہ سب ووٹرز 24 نومبر کو سرپرائز دیں گے۔

  • کرکٹ کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے،راشد لطیف

    کرکٹ کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے،راشد لطیف

    لاہور: قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان راشد لطیف نے کہا ہے کہ اگر بھارت اپنی ٹیم نہیں بھیجتا تو پاکستان کرکٹ بورڈ کو اپنے موقف پر ڈٹے رہنا چاہیے-

    باغی ٹی وی : روزنامہ انڈین ایکسپریس کی ویب سائٹ کے لیے لکھے گئے ایک مضمون میں راشد لطیف نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سیاسی کشیدگی اور کھنچاؤ ہمیشہ رہا ہے مگر اِس کے باوجود کرکٹ بھی ہوتی رہی ہے دونوں ٹیمیں ایک دوسرے کے ہاں جاتی رہی ہیں، دو طرفہ کرکٹ بھی ہوئی ہے اور انٹرنیشنل ایونٹس بھی، سیاسی کشیدگی بھی رہے گی اور دونوں ملکوں کو چاہیے کہ کرکٹ کو فاصلے مٹانے کی چیز بنائیں، ملانے والا پُل بنائیں، اسے سیاست میں نہ گھسیٹا جائے۔

    راشد لطیف نے لکھا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ آئی سی سی کے قوانین اور قواعد کا احترام کیا ہےآئی سی سی کے کسی بھی ٹورنا منٹ کے لیے رکن ممالک میں سے جو بھی کوالیفائی کرے اُسے جانا ہی پڑتا ہےپاکستانی کرکٹ ٹیم 2016 میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کے لیے اور 2023 میں ورلڈ کپ ٹورنامنٹ کے لیے بھارت گئی تھی۔

    راشد لطیف نے لکھا کہ اہمیت اس بات کی نہیں ہے کہ بھارت کی ٹیم پاکستان نہیں آرہی بلکہ یہ ہے کہ ٹیم نہ بھیجنے کی وجوہ کیا ہیں، پاکستانی کرکٹ بورڈ کا اس حوالے بھارتی کرکٹ بورڈ سے جواب طلب کرنا بالکل فطری اور درست ہےیہ کوئی دو طرفہ سیریز جنگ نہیں بلکہ بین الاقوامی ٹورنامنٹ کا معاملہ ہے اگر بھارت کرکٹ ٹیم کو پاکستان نہیں آنا تو پھر پاکستان کو میزبانی کے حقوق دینے کی بھی کچھ خاص ضرورت نہیں۔

    انہوں نے لکھا کہ اگر بھارت اپنی ٹیم نہیں بھیجتا تو پاکستان کرکٹ بورڈ کو اپنے موقف پر ڈٹے رہنا چاہیے اگر بھارت سمجھتا ہے کہ معاملہ سیکیورٹی کا ہے تو آئی سی سی کو اس حوالے سے آگے بڑھ کر راستہ صاف کرنا چاہیے،پاکستان نے بھارت جانے سے کبھی انکار نہیں کیا جبکہ بھارت انکاری ہے، اس اعتبار سے بھارت پر دباؤ زیادہ ہے۔

  • جو لوگ ملکی وسائل پر قابض ہیں ہمیں انہیں معزول کر دینا چاہئے،حافظ نعیم

    جو لوگ ملکی وسائل پر قابض ہیں ہمیں انہیں معزول کر دینا چاہئے،حافظ نعیم

    لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ تعلیمی اداروں کی نجکاری ملک کیلئے خطرناک ہے۔

    باغی ٹی وی: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے الخدمت فاؤنڈیشن کی جانب سے یوتھ گیدرنگ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنے ملک کے نوجوانوں کو مایوس نہیں ہونے دینا۔

    حافظ نعیم نے کہا کہ جو لوگ ملکی وسائل پر قابض ہیں ہمیں انہیں معزول کر دینا چاہئے، جہاں تعلیم کاروبار بن جائے اس ملک کی تضحیک اس سے زیادہ ہو نہیں سکتی، ملکی وسائل ہمارے بچوں پر لگنے چاہئیں، اور سب کو ایک جیسی تعلیم فراہم کی جائے، ملک میں ایک نظام، ایک نصاب اور ایک زبان ہونی چاہیئے جبکہ تعلیمی اداروں کی نجکاری پاکستان کے لیے خطرناک ہے۔

    انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو اس کے خلاف مزاحمت کرنا ہو گی، دنیا آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) میں آگے بڑھ رہی ہے حکمران ہوش کے ناخن لیں اگر سرکاری پالیسیاں درست کر لی جائیں تو بہت سے مسائل حل ہو جائیں گے تنقید کر کے مسئلہ حل نہیں ہوتا اس لیے ہم نے “بنو قابل پروگرام” شروع کیا، ہم دو سال میں 10 لاکھ بچوں کو تربیت دیں گے۔

    حافظ نعیم نے کہا کہ اہل غزہ امت مسلمہ کی جانب سے فرض کفایہ ادا کر رہے ہیں۔ جس کرب اور مصائب سے فلسطینی گزر رہے ہیں ہم اس کا احساس بھی نہیں کرسکتے، ان مظلوم مسلمانوں کی مدد کرنا اور ان کے لیے آواز اٹھانا ہمارا فرض ہے۔

  • تحر یک انصاف کی امریکا میں  پاکستان کیخلاف لابنگ کی کوششیں قابل مذمت ہیں،شیری رحمان

    تحر یک انصاف کی امریکا میں پاکستان کیخلاف لابنگ کی کوششیں قابل مذمت ہیں،شیری رحمان

    اسلام آباد: رہنما پیپلزپارٹی سینیٹر شیری رحمان نے امریکی کانگریس ارکان کے صدر جوبائیڈن کو لکھے گئےخط پر ردعمل دیا ہے-

    باغی ٹی وی : ایک بیان میں شیری رحمان نے کہا کہ امریکی ارکان کانگریس کا صدربائیڈن کو خط "حقیقی آزادی” بیانیےکے تابوت میں ایک اورکیل ہے، امریکی ارکان کانگریس کا خط پاکستان کے داخلی معاملات میں واضح مداخلت ہے، عمران خان کی رہائی کے لیے پی ٹی آئی مسلسل غیر ملکی مداخلت کو دعوت دے رہی ہے۔

    شیری رحمان نے کہا کہ دوسرے ملک کے سیاسی وقانونی معاملات میں مداخلت بین الاقوامی اصولوں کے خلاف ہے، خط پاکستان کے سیاسی نظام اور عدلیہ کی خود مختاری کو چیلنج کرتا ہے، خط خطرناک مثال بھی قائم کرتا ہےکہ کوئی ملک مداخلت کو جائز سمجھنےلگے تحر یک انصاف کی امریکا میں پاکستان کے خلاف لابنگ کی کوششیں بھی قابل مذمت ہیں، یہ وہی سیاسی جماعت ہے جو ماضی میں "امر یکی مداخلت” پر بیانیہ بنا کر سیاست کرتی رہی، تحریک انصاف کا اب خود ایسی مداخلت کا سہارا لینا دہرا معیار ہے۔

  • حرف اول سے حرف آخر تک، کون سمجھے یہ زندگی کیا ہے

    حرف اول سے حرف آخر تک، کون سمجھے یہ زندگی کیا ہے

    آدمی کو بے سر و ساماں نہ لکھ
    کچھ بھی لکھ لیکن تہی داماں نہ لکھ

    ڈاکٹر جی آر کنول

    16؍نومبر 1935 : یوم پیدائش

    اردو کے ممتاز شاعر گلشن رائے المعروف ڈاکٹر جی آر کنول 16؍نومبر 1935ء کو لاہور، غیر منقسم ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ پاکستان کی تشکیل زیر غور ہی تھی کہ لاہور کے متعدد ہندو سکھ گھرانوں نے سلسلۂ ہجرت (قسطوں میں) شروع کر دیا تھا۔ کنول آخری قسط میں اپنے والد محترم کے ہمراہ لاہور سے سیالکوٹ جمیون، پٹھان کوٹ، امرتسر اور دیگر شہروں کی ٹھوکریں کھاتے ہوئے ایک سال میں دلی پہنچے۔ سفر کا بیشتر حصہ، پا پیادہ تھا اس لیے مسلسل آبلہ پائی کا سبب بنا ہر طرف ایک کربناک منظر در پیش تھا۔ آتش زنی، افراتفری اور قتل و غارت گری کے ماحول میں باحفاظت سفر کرنا آسان نہیں تھا۔ دلی پہنچ کر بھی سکون میسر نہ ہوا۔ کئی سال تک خانہ بدوشی اور بے سرو سامانی کا سایہ نصیب رہا۔ ان کے والد محترم کاروباری مشاغل کے علاوہ ”پیسہ اخبار لاہور“ سے وابستہ تھے۔ انھوں نے کنولؔ صاحب کے ادبی ذوق کو بچپن ہی میں پہچان لیا تھا۔ وہ انہیں شورشؔ کاشمیری، عطاء ﷲ خاں بخاری اور استاد ہمدمؔ کی محلفوں میں دیکھ کر بہت خوش ہوتے تھے۔

    ان کی ابتدائی تعلیم تو لاہور ہی میں مکمل ہو چکی تھی۔ مڈل سے لے کر انگریزی میں پی۔ ایچ۔ ڈی تک کے مراحل بڑی سخت جانی سے دلی میں طے کرنے پڑے۔ وہ دلی میں تنہا ہی تھے کیوں کہ ان کے والدین انبالہ شہر میں آباد ہوگئے تھے۔ ایک لمبے عرصے تک دلی کے گلی کوچوں، خصوصا اردو بازار کے اطراف کی خاک چھانی جہاں اُس وقت کی بلند قامت شخصیتوں مثلاً جوشؔ ملیح آبادی، مجازؔ لکھنوی، علامہ انورؔ صابری، شعریؔ بھوپالی اور مخمورؔ دہلوی کے دیدار ہو جاتے تھے۔ اُردو بازار ہی میں ان کا رابطہ استاد رساؔ دہلوی سے ہوا جو کئی سال تک قائم رہا لیکن کبھی تلمذ میں تبدیل نہ ہوا۔ اس بازار سے تھوڑی دور کنولؔ صاحب نے کچھ عرصہ تک ادارۂ شرقیہ میں مولوی عبدالسمیع صاحب کے سامنے زانوئے ادب تہ کرکے فارسی نظم ونثر کا مطالعہ کیا جو ان کی ذہنی اور اخلاقی نشو و نما میں بہت کار گر ثابت ہوا۔

    کنولؔ کی معاشی زندگی کی ابتداء ایک اردو ہفت روزہ اخبار ”ساتھی دیکلی“ کی اشاعت اور ادارت سے ہوئی۔ چند سال بعد یہ سلسلہ ختم ہو گیا کیوں کہ اردو زبان کے قارئین کی تعداد بڑی تیزی سے رو بہ زوال ہو رہی تھی۔ مصلحتاً انہوں نے انگریزی صحافت اور انگریزی زبان و ادب کی درس و تدریس کی طرف رجوع کیا۔ کنول نے دلی یونیورسٹی کے آر ایل اے کالج کی لیچررشپ کی۔ دلی سینئر سیکنڈری اسکول اے ایس وی جے کی تقریباً 20 سال تک پرنسپل رہے۔ سمیر مل جنین پبلک اسکول جنگ پوری، نئی دہلی کی ڈائرکٹر اور ڈاون پبلک اسکول پچھم وبار نئی دہلی اور ڈون پبلک اسکول پنچکولہ (ہریانہ) کی چیئر مین کے منصبی فرائض انجام دیے۔ علاوہ ازیں کئی تعلیمی، ادبی اور سماجی تنظیموں کی عہدے داری اور اہم رکنیت حاصل رہی۔ کئی باوقار اعزازات سے بھی نوازے گئے۔ ان کا پی۔ ایچ۔ ڈی کا مقالہ اٹھارہویں صدی کے عظیم طنز نگار شاعر نثار جوناتھن سوفٹ کے ”نظریۂ انسان“ پر ہے اور بیشتر تصانیف انگریزی ادب کے اُن شہ پاروں پر ہیں جو بی۔ اے آنرز یا ایم۔ اے کے نصاب میں شامل ہوتے ہیں۔
    ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں:👇
    ”شیشہ ٹوٹ جائے گا“ 1991ء، ”قلم آشنا“ 2003ء، ”درد آشنا“ 2006ء، ”غزل آشنا“ 2008، ”نیند کیوں نہیں آتی“ 2009ء، ”ریزہ ریزہ زندگی“ 2011ء وغیرہ۔
    #بحوالہ_مجموعۂ_کلام_قلم_آشنا

    💫� ڈاکٹر جی۔ آر۔ کنولؔ کی شاعری سے منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آدمی کو بے سروساماں نہ لکھ
    کچھ بھی لکھ لیکن تہی داماں نہ لکھ
    ——
    بے مزہ کردے جو تیری زندگی
    اُس دوا کو درد کا درماں نہ لکھ
    ——
    ندی جیسے کوئی بے آب سی ہے
    ہماری زندگی بے خواب سی ہے
    ——
    لمحہ لمحہ بے انتشار مرا
    لمحہ لمحہ بکھر رہا ہوں میں
    ——
    کبھی زینہ، کبھی در بولتا ہے
    مرے اندر مرا گھر بولتا ہے
    ——
    کیسے کہہ دوں بچھڑ گیا ہے وہ
    اُس نے مقطع ابھی نہیں لکھا
    ——
    لوگ کہتے ہیں مشت خاک مگر
    اپنے اندر تو کائنات ہوں میں
    ——
    حرف اول سے حرف آخر تک
    کون سمجھے یہ زندگی کیا ہے
    ——
    قلندر ہوں مری خواہش نہ پوچھو
    میں دُنیا میں فقیری چاہتا ہوں
    ——
    دیار زندگی سینے میں تیرے
    مرے دل کا دیا بھی جل رہا ہے
    ——
    ذوق آوارگی سے بہتر تھا
    ہم کسی در پہ مر گئے ہوتے
    ——
    آه! قسمت کہ ہاتھ خالی ہیں
    اف یہ خواہش کہ سب ہمارا ہو
    ——
    ابھی ہے نا مکمل ہر فسانہ
    ابھی دنیا ادھوری داستاں ہے
    ——
    اوس اب اُنگلیاں جلاتی ہے
    جیسے شبنم نہ ہو شرارا ہو
    ——
    روح بھی چاہیے کنولؔ اُس میں
    صرف پیکر سے کچھ نہیں ہوتا
    ——
    ناز ہے جس پر مجھے اے ہم نفس
    وہ ترا چہرہ نہیں کردار ہے
    ——
    بہت میلی ہے میرے دل کی چادر
    نہیں آنسو کوئی اب دھونے والا
    ——
    دھوپ یہ کہہ کے ہوگئی غائب
    میرے سائے کی اب پرستش کر
    ——
    موج در موج ہو تو بات بھی ہے
    قطره قطره شراب بے معنی
    ——
    جس پہ چہکا تھا اک پرندہ آج
    مدتوں سے تھا وہ شجر خاموش
    ——
    کبھی تو بے ٹھکانہ پنچھیوں کا
    بنانے گی ہوا خود آشیانہ
    ——
    تو ہے خاموش اور برسوں سے
    میرے دل میں سوال کتنے ہیں
    ——
    زندگی بھر یہاں وہاں ٹھہرے
    پھر بھی دنیا میں بے نشاں ٹھہرے
    ——
    آپ آئیں تو ختم ہو قصہ
    آپ جائیں تو داستاں ٹھہرے
    ——
    حقیقت خواب سے ہوتی ہے بہتر
    ترے آگے تری تصویر کیا ہے
    ——
    قلم بے روح کر دیتا ہے نسلیں
    قلم کے سامنے شمشیر کیا ہے
    ——
    میری دستک تو تھی مکمل ہی
    اُس نے کھولا تھا اپنا در آدھا
    ——
    میرا آغاز ہے جب اک معمہ
    کسے معلوم ہے انجام میرا
    ——
    کہاں تک ٹھوکریں کھاؤں جہاں میں
    کوئی پتھر نہیں انسان ہوں میں
    ——
    نام ہر آدمی کا فانی لکھ
    صرف اعمال جاودانی لکھ
    ——
    زباں خاموش ہو جاتی ہے میری
    مگر چہرہ برابر بولتا ہے
    ——
    رند وہ ہو گیا خراب بہت
    جس کو ساقی نے دی شراب بہت
    ——
    کیسے بچتا چبھن سے کانٹوں کی
    جس کے دامن میں تھے گلاب بہت
    ——
    مکمل ہو تو سننے کا مزہ ہے
    ادھوری داستاں کچھ بھی نہیں ہے
    ——
    سلگتی آگ بے سرمایہ دل کا
    کنولؔ اُس میں دھواں کچھ بھی نہیں ہے

    👈 #بحوالہ_مجموعۂ_کلام_ریزہ_ریزہ_زندگی