Baaghi TV

Author: Khalid Mehmood Khalid

  • گورو ارجن دیو کی 416ویں برسی۔ 163بھارتی سکھ کل لاہور آئیں گے

    گورو ارجن دیو کی 416ویں برسی۔ 163بھارتی سکھ کل لاہور آئیں گے

    سکھ مذہب کے پانچویں گورو ارجن دیو جی کی 416 ویں برسی کی 7 روزہ تقریبات کا آغاز کل سے لاہور میں ہوگا۔ تقریبات میں شرکت کے لئے بھارتی سکھ یاتری کل لاہور پہنچیں گے۔ نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن نے 163 ویزے جاری کر دئے۔

    سکھ یاتری پنجہ صاحب، ننکانہ صاحب اور کرتار پور صاحب بھی جائیں گے۔گورو ارجن دیو جی نے گرنتھ صاحب کا پہلا باضابطہ ایڈیشن مرتب کیا۔امرتسر میں دربار صاحب کی تکمیل کا سہرا انہی کے سر جاتا ہے۔

    گورو ارجن دیو 1606میں اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ مغل بادشاہ جہانگیر پر ان کو قتل کرنے کا الزام لگایا گیا۔

    سکھ یاتری 17 جون کو بھارت واپس روانہ ہو جائیں گے۔

  • بھارت سے ٹرکوں میں افغانستان جانے والا بھارتی امدادی سامان مشکوک

    بھارت سے ٹرکوں میں افغانستان جانے والا بھارتی امدادی سامان مشکوک

    بھارتی پنجاب کے شہر پنجاب میں امرتسر کے قریب پاکستانی سرحد پر تجارت کے لئے آنے والے ٹرکوں میں منشیات، اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر ممنوعہ اشیاء کی نشاندہی کرنے والے 32 لاکھ ڈالرز مالیت کےاسکینرز گھٹیا اور غیر معیاری نکلے جب کہ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ان میں صلاحیت ہی نہیں کہ وہ ان ممنوعہ اشیاء کو ٹریس اور اسکین کر سکیں اور ان کی نشاندہی کرسکیں۔

    اس کے بعدپاکستان کے راستے افغانستان جانے والےٹرکوں میں لوڈ کیا جانے والا بھارتی امدادی سامان مشکوک ہوگیا ہے۔ امرتسر سے پاک بھارت تعلقات اور تجارت کے حوالے سے کام کرنے والے سینیئر صحافی رویندر سنگھ روبن کی ایک رپورٹ کے مطابق اٹاری بارڈر پر فل باڈی ٹرک اسکینرز ستمبر 2021 میں لگائے گئے تھے اور ان کامقصد بھارت کے مختلف شہروں نے پاکستان اور پاکستان کے راستے دوسرے ممالک میں بھیجے جانے والے تجارتی سامان والے ٹرکوں میں منشیات اور ممنوعہ اشیاء کی نشاندہی کرنا تھا۔

    اس وقت کے وزیرمملکت برائے داخلہ کی ہدایات کی روشنی میں لینڈ پورٹ اتھارٹی آف انڈیا اور سنٹرل بورڈ آف ڈائریکٹ ٹیکس اینڈ کسٹمزحکام نے اسکینرز انسٹال کرنے کے جو معاہدے کئے وہ جدید ترین تقاضوں اور معیار کے مطابق نہیں تھے گو کہ اس وقت پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارت بند ہے تاہم بھارت گندم اور ادویات کے نام پر امدادی سامان ٹرکوں کے ذریعےافغانستان بھیج رہا ہے لیکن غیر معیاری چیکنگ نظام کی نشاندہی کے بعد ان ٹرکوں کی چیکنگ کا نظام مشکوک ہو کر رہ گیا ہے۔

    بھارت اب تک آٹھ ہزار ٹن گندم اور دوسرا امدادی سامان پاکستان کے راستے افغانستان بھجوا چکا ہے جب اسی ہفتے مزید دو ہزار ٹن سامان افغانستان بھجوایا جا رہا ہے۔ 2021 میں ان اسکینرز کو لگانے سے پہلے تمام ٹرکوں کی تلاشی کے لئے اسٹاف مقرر کیا گیا تھا جو اب کام نہیں کر رہا۔ واضح رہے کہ بھارت نے یہی اسکینرز اٹاری واھگہ کے علاوہ پیٹراپول، راکساول، پونچھ، چکن دا باغ اور اڑی اسلام آباد میں پاکستان سے ملحقہ بارڈرز پر بھی لگانے کی منظوری دی تھی۔

  • بھارتی پنجاب اب آپ کا۔ کانگریس، بی جے پی کو بدترین شکست

    بھارتی پنجاب اب آپ کا۔ کانگریس، بی جے پی کو بدترین شکست

    بھارتی پنجاب میں حکمران جماعت کانگریس کی عبرت ناک شکست کے بعد بھارتی تجزیہ کاروں نے اس کی ذمہ داری نوجوت سنگھ سدھو کی عمران خان سے دوستی پر ڈال دی ہےاور کہا کہ نوجوت سنگھ سدھو نے عمران خان کے اشاروں پر بھارتی پنجاب کی حکومت میں پھوٹ ڈالی جس سے کانگریس کی مقبولیت کا گراف نیچے آگیا۔

    ایک بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو جو کہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے انتہائی قریبی دوست ہیں، خودکیپٹن امریندر سنگھ کو ہٹا کر پنجاب کے وزیراعلی بننا چاہتے تھے اور عمران خان ان کو سپورٹ کررہے تھے۔

    اس وقت کے وزیراعلی کیپٹن امریندر سنگھ ان کو ایک آنکھ نہیں بھاتے تھے۔ کیپٹن امریندر سنگھ کا خیال تھا کہ کرتار پور راہداری بنانے کے حوالے سے سدھو نے ان کو اعتماد نہیں لیا جس سے بھارتی پنجاب کانگریس کی مقبولیت میں بے حد کمی آئی۔

    یہ بھی کہا گیا کہ بھارتی عوام نوجوت سنگھ سدھو کے اس اقدام سے خوش نہیں تھےجس سے کانگریس کے خلاف عوامی نفرت کا آغاز ہوا اور کانگریس کی مقبولیت کا گراف تیزی سے نیچے آگیا۔

    میڈیا رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ کانگریس کی مقبولیت میں کمی کے لئے جہاں کئی عوامل کارفرما تھے اس کے ساتھ ساتھ پنجاب کی سیاست میں عمل دخل کے لئے سدھو کی عمران خان سے مشاورت نے جلتی پر تیل کا کام کیا جس کے نتیجہ میں گزشتہ روز انتخابات میں کے نتائج میں کانگریس کو صرف 15سیٹوں پراور مودی کی بی جے پی کو صرف 5 سیٹون پر کامیابی ملی۔ جب کہ عام آدمی پارٹی نے 85 سے زائد سیٹوں پر کامیابی حاصل کر لی اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ 2024 کے انتخابات میں بھی عام آدمی پارٹی دہلی اور پنجاب کے بعد مرکز میں مودی سرکار کے لئے بھی سب سے بڑے خطرہ کا باعث بن سکتی ہے۔

  • مودی کو جان کے لالے پڑگئے، 20 منٹ بارش میں گزارنے پڑے

    مودی کو جان کے لالے پڑگئے، 20 منٹ بارش میں گزارنے پڑے

    بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو اس وقت جان کے لالے پڑگئے جب مبینہ طور پر ان کے دورہ پنجاب کے دوران خفیہ روٹ لیک ہوگیا اوران کی گاڑی بھٹنڈہ بائی پاس کے قریب ایک فلائی اوور پر20 منٹ تک سخت سیکیورٹی حصار میں شدید بارش میں روک لی گئی۔ بعد میں ان کا دورہ پنجاب منسوخ کردیا گیا اور وہ واپس نئی دہلی روانہ ہو گئے۔

    تفصیلات کے مطابق بھارتی وزیر اعظم مودی پنجاب میں انتخابات کے سلسلے میں تین روزہ دورہ پر بھٹنڈہ پہنچے۔ ہوائی اڈے سے وزیراعظم ہیلی کاپٹر کے ذریعے فیروز پورجانے والے تھے لیکن موسم خراب ہونے کی وجہ سے انہوں بذریعہ کار فیروزپور جانے کا فیصلہ کیا۔ ان کا قافلہ جب بھٹنڈہ بائی پاس کے قریب فلائی اوور پر پہنچا تواسی روٹ پر سامنے سے کسانوں کاایک جلوس آنے کی اطلاعات پر مودی کے قافلہ کو فوری طور پر روک لیا گیا۔

    مودی کے قافلے کے لئے تین روٹ بنائے گئے تھے۔ وزارت داخلہ کے مطابق مودی جس روٹ سے فیروزپور جارہے تھے اس کی اطلاع پنجاب کے وزیراعلی چرن جیت سنگھ چنی اور کانگریس کے مقامی رکن پنجاب اسمبلی کو تھی۔ بی جے پی نے الزام لگایا کہ روٹ کی اطلاع وزیراعلی کے ایما پررکن اسمبلی کوملی جس نے کسانوں کواسی روٹ پرجلوس نکالنے کےلئے اکسایا۔ م

    مظاہرین نے وزیراعظم کے قافلے میں شامل بی جے پی کے ورکرزکی ایک بس کا گھیراو بھی کرلیا جو وزیراعظم کی گاڑی سے چند میٹر کے فاصلے پرتھی۔بھارتی وزارت داخلہ نے پنجاب حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے وزیراعظم کے روٹ کو لیک ہونے کے واقعہ کو بھارتی تاریخ کا منفرد واقعہ قرار دیااور کہا کہ ایسے واقعہ کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ دریں اثنا وزیراعلی پنجاب چرن جیت سنگھ چنی نے کہا کہ وزیراعظم نے اصل روٹ سے ہٹ کر حسینی والا سے جانے کا فیصلہ کیا جو کہ پاکستان کے شہر قصور سے متصل ہے۔

    انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو اس بات کا اندازہ ہو گیا تھا کہ ان کا پنجاب کادورہ ایک فلاپ شو ہوگا۔ اس لئے انہوں نے سیکیورٹی کا بہانہ بنا کر واپس جانے میں عافیت سمجھی۔  

  • بھارتی گونگی بہری شادی شدہ سکھ خاتون کوگونگے بہرے پاکستانی کے ساتھ شادی مہنگی پڑگئی

    بھارتی گونگی بہری شادی شدہ سکھ خاتون کوگونگے بہرے پاکستانی کے ساتھ شادی مہنگی پڑگئی

    سکھوں کے مذہبی راہنما بابا گورونانک دیو جی کی 552 ویں سالانہ تقریبات میں شرکت کے لئے پاکستان آنے والی بھارتی گونگی اور بہری شادی شدہ سکھ خاتون پرمجیت کور کو پاکستان آکر اسلام قبول کرکے ایک گونگے اور بہرے نوجوان محمد عمران کے ساتھ شادی مہنگی پڑگئی۔

    سردارنی پرمجیت کور جس کا اسلامی نام پروین سلطانہ رکھا گیا تھا بھارت واپسی پر اس کے خلاف تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔ بھارتی شرومنی اکالی دل دہلی کے صدر پرمجیت سنگھ سرنا نے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے ناظم الامورکو خط لکھا یے اور پاکستانی ہائی کمیشن سے بھارتی خاتون پرمجیت کور کو پاکستان جانے کے لیے آئندہ ویزہ جاری نہ کرنےاور اسے مستقل طور پر بلیک لسٹ کرنے کی درخواست کی ہے۔

    نئی دہلی گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے سابق سربراہ پرم جیت سنگھ سرنا نے پاکستانی ناظم الامور آفتاب حسن خان کولکھے گئے خط میں کہا ہے کہ وہ بھارت کی سکھ برادری کی جانب سے مغربی بنگال میں مقیم سکھ یاتری کو پاکستان سے بھارت واپس بھیجنے پر حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کرنا چاہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پرمجیت کور نے پاکستان جا کراپنے یاتری ویزا کا غلط استعمال کیا، مذہب تبدیل کیا اور دوبارہ شادی کی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سکھ خاتون پرمجیت کور کے عمل نے سرحد پار سکھ یاتریوں پر گہرا اثرمنفی اثرڈالا ہے تاہم وہ پاکستانی حکومت کے فوری ردعمل کو سراہتے ہیں جس سے صورتحال پر قابو پانے میں کافی حد تک مدد ملی۔ سرنا نے کہا کہ وہ گزارش کرتے ہیں کہ پرمجیت کور کوآئندہ کسی بھی صورت میں دوبارہ پاکستان کا سفر کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔ واضح رہے کہ18 ستمبر 1982 کو لکھنؤ میں پیدا ہونے والی گونگی بہری سکھ خاتون پرمجیت کور کے پاس کولکتہ میں جاری کردہ ہندوستانی پاسپورٹ نمبر P7867386 ہے۔ اس کا پاسپورٹ 26 فروری 2027 تک کارآمد ہے۔

  • کرتار پور راہداری 17 نومبر سے کھولنے کا اعلان

    کرتار پور راہداری 17 نومبر سے کھولنے کا اعلان

    بھارتی حکومت نے سکھوں کے سامنے گھٹنے ٹیک دئے اور بالآخر کرتار پور راہدراری17 نومبر سے کھولنے کا اعلان کر دیا ہے۔ بھارت نے کوروناوائرس کے پیش نظر 16 مارچ 2020 کو راہداری کو بند کر دیا تھا۔ جب کہ 2 اکتوبر 2020 کو پاکستان کی طرف سے راہداری دوبارہ کھولنے کا اعلان کر دیا گیا تھا۔

    پاکستان کی طرف سے متعدد بار بھارت کو خطوط لکھے گئے اور راہداری کھولنے کے حوالے سے فیصلہ لینے کی اپیل کی گئی۔ بھارت میں سکھوں کی تمام تنظیموں نے بھی راہداری کھولنے کے لئے بھارتی حکومت پر دباو ڈالا لیکن بھارتی حکومت ٹس سے مس نہ ہوئی۔

    گزشتہ ہفتے بھارتیہ جنتا پارٹی سے تعلق رکھنے والے سکھ ارکان پارلیمینٹ کے ایک وفد نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کی اور انہیں کرتارپور راہداری کھولنے کی درخواست کی جسے قبول کرتے ہوئے مودی نے گورونانک دیو کی 552 ویں سالگرہ کے موقعہ پر راپداری کھولنے کا اعلان کر دیا۔ اس حوالے سے بھارتی دفتر خارجہ تمام انتظامات کو حتمی شکل دے رہا ہے اور اس سلسلے میں پاکستان کو سرکاری طور پر مطلع کیا جارہا ہے۔

    پاکستان متروکہ وقف املاک بورڈ کے سربراہ ڈاکٹر عامر نے باغی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں غیر سرکاری طور پر اس بات کا علم ہے کہ بھارت کرتارپور راہداری17 نومبر کو کھولنے کے انتظامات کررہاہے تاہم بھارت کی طرف سے ابھی تک سرکاری طور پر مطلع نہیں کیا گیا انہوں نےکہا کہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ راہداری کو فوری طور پر کھولا جائے۔ 

  • ویزہ کے باوجود پانچ پاکستانیوں کو بھارت نے واپس بھیج دیا

    ویزہ کے باوجود پانچ پاکستانیوں کو بھارت نے واپس بھیج دیا

    پاکستان سے بھارت جانے والے پانچ سندھی ہندووں کو بھارتی حکام نے بھارت میں داخل ہونےکی اجازت نہیں دی اور انہیں واپس پاکستان بھیج دیا۔

    تفصیلات کے مطابق صوبہ سندھ سے تعلق رکھنے والے پانچ مقامی ہندووں کو اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کی جانب سے ویزے جاری کر دئے گئے۔

    پانچوں افراد گزشتہ روز واہگہ بارڈر کے راستے بھارت جانے کے لئے پہنچے۔ پاکستانی حکام نے ان کے پاسپورٹ چیک کئے اور ان کو بھارت جانے کی اجازت دے دی۔ ان افراد کو ویزے کے باوجود بھارتی امیگریشن حکام نے واپس بھیج دیا اور انہیں بتایا کہ بھارت نے کورونا کی وجہ سے گزشتہ سال مارچ میں بارڈر بند کر دئے تھے۔ ابھی تک بارڈر کو عام شہریوں کے لئےنہیں کھولا گیا۔ اس وجہ سے انہیں واپس پاکستان بھیج دیا گیا۔

    مذکورہ افرادکوجمعہ کے روز دوبارہ واہگہ بارڈر آنے کی ہدایت کی گئی ہے اور انہیں کہا گیا ہے کہ آج پاکستان میں کورونا وبا کی وجہ سے پھنسے ہوئے 203 بھارتی شہری واہگہ سرحد کے راستے واپس انڈیا جائیں گے۔ مذکورہ پاکستانی شہری بھی آج دیگر پاکستانی، نوری ویزا کے حامل پاکستانیوں اور بھارتی شہریوں کے ساتھ واپس جائیں گے۔

    آج 31 نوری ویزا کے حامل پاکستانیوں کے علاوہ 47 فریش ویزا کے حامل پاکستانی اپنے رشتہ داروں سے ملنے بھارت جائیں گے۔ پاکستانی اوربھارتی شہریوں کے لیے واہگہ سرحد خصوصی طور پر کھولی جائیگی۔

    واضح رہے کہ پاکستان نے اگست 2019 میں کشمیر پر بھارتی قبضے کے خلاف بطور احتجاج واہگہ سرحد بند کردی تھی جب کہ بھارتی نے مارچ 2020 میں کورونا کی وجہ سے بارڈر بند کر دیا تھا۔  تاہم پاکستان نے چند روز قبل اپنی طرف سے عائد پابند اٹھاتے ہوئے سرحد کھول دی ہے لیکن بھارت کی طرف سے ابھی تک سرحد کھولنے کے احکامات جاری نہیں کئے گئے۔ 

  • بھارتی وزیرخارجہ کی درخواست، پاکستان نے واہگہ بارڈر خصوصی طور پر کھول دیا، 41 پاکستانی بھارت روانہ

    بھارتی وزیرخارجہ کی درخواست، پاکستان نے واہگہ بارڈر خصوصی طور پر کھول دیا، 41 پاکستانی بھارت روانہ

    پاکستان اور بھارت کے درمیان سخت کشیدگی اور کورونا کے باعث بند واہگہ بارڈر لاہورگزشتہ رات کو بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کی درخواست پر پاکستان نے خصوصی طور پر کھول دیا۔ جہاں سے حیدرآباد سندھ سے تعلق رکھنے والے41 پاکستانی ہندو شہری خصوصی ویزے پر رات آٹھ بجے بھارت چلے گئے۔

    تفصیلات کے مطابق بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے ضلع اشوک نگر میں واقعہ ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والی روحانی پیشوا خاتون گورو اور شری آنند پور ٹرسٹ کی ٹرسٹی سنتوش بائی المعروف ماتا جی 10 اگست کو 90 سال کی عمر میں چل بسی۔اس کی آخری رسومات میں شرکت کے لئے پاکستان میں حیدرآباد سندھ میں اس ٹرسٹ کی خصوصی برانچ سے تعلق رکھنے والے 43 افراد کو بھارتی وزیر خارجہ کی ہدایت پر ایک ہی روز میں ویزے جاری کئے گئے۔

    یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اس حوالے سے پاکستان سے واہگہ بارڈر خصوصی طور پرکھولنے کے لئے درخواست کی تھی جس کو پورا کرتے ہوئے واہگہ بارڈر گزشتہ رات کو خصوصی طور پر کھولا گیا جہاں سے 41 پاکستانی شہری بھارت روانہ ہو گئے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ امرتسر سے ان پاکستانی شہریوں کو اشوک نگر لے جانے کے لئے بھارتی حکام نے خصوصی طیارے کا انتظام بھی کر رکھا تھا۔ بھارت نے ان پاکستانیوں کو 15 دن کا ویزہ جاری کیا ہے۔

  • بھارت نے پاکستان کے خلاف نیا پراپیگنڈہ شروع کردیا ہے

    بھارت نے پاکستان کے خلاف نیا پراپیگنڈہ شروع کردیا ہے

    بھارت نے پاکستان کے خلاف نیا پراپیگنڈہ شروع کردیا ہے۔ ایف اے ٹی ایف میں اپنا اثرورسوخ استعمال کرنے کے بعد اب بھارت یورپی پارلیمینٹ پر دباو ڈال رہا ہے اور پاکستان کو ملنے والے جی ایس پی پلس درجہ کو ختم کرنے کے لئے رکن ممالک کو اس درجہ کو ختم کرنے کے لئے کہہ رہا ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق یورپی پارلیمینٹ کی طرف سے پاکستان کا جی ایس پی پلس سٹیٹس ختم کرنے کی تیاری شروع کردی گئی ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان میں ناموس رسالت قوانین کو بنیاد بناکر یورپی پارلیمینٹ میں قرارداد پیش کی جارہی ہے جس میں پاکستان میں ٹیکسٹائل کے آرڈرز فوری طور پر کم کرنے کی تجویز پیش کی جارہی ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق قرارداد کی منظوری کے بعد پاکستان سے ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمد نہ ہونے کے برابر رہ جائے گی جب کہ اس صنعت کے حوالے سے پاکستان کو ملنے والی پرکشش مراعات کا جاتمہ ہوجائے گا۔

    دریں اثنا آل پاکستان ٹیکسٹائل مینو فیکچررز ایسوسی ایشن کے سابق صدر شہزاد احمد خان کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ملنے درجہ کو کم کرنا آسان نہیں اور نہ ہی یورپی پارلیمینٹ کی منظوری کے بغیر پاکستان کا سٹیٹس ختم کیا جا سکتا۔

    اپٹما کے سرپرست اعلی گوہر اعجاز کا کہنا ہے کہ بھارتی پراپیگنڈہ بے بنیاد ہے۔ پاکستان کو 10 سال کے لئے جی ایس پی پلس کا درجہ یورپی پارلیمینٹ نے دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2014 میں ملنے والے درجہ کی مدت 2024 میں ختم ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے بھارت کو ٹیکسٹائل کے آرڈرز نہیں مل رہے اس وجہ سے وہ بوکھلا گیا ہے اور پاکستان کو بدنام کرنے کے لئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کررہا ہے۔ 

  • بھارتی ہائی کمیشن کے اسٹاف آفیسر کی زائدالمیعاد پاسپورٹ پر بھارت جانے کی کوشش ناکام

    بھارتی ہائی کمیشن کے اسٹاف آفیسر کی زائدالمیعاد پاسپورٹ پر بھارت جانے کی کوشش ناکام

    پاکستان میں بھارتی ہائی کمیشن کے ایک اسٹاف آفیسر کو واہگہ بارڈر پر اس وقت روک لیا گیا جب وہ زائدالمیعاد پاسپورٹ پر اپنی اہلیہ کے ہمراہ بھارت جارہا تھا۔ تفصیلات کے مطابق بھارت کے گرے پاسپورٹ کا حامل 35 سالہ اسٹاف آفیسر سکھبیر آریا جو کہ ہریانہ کا رہائشی ہے اور پاکستان میں اپنی سروس کی میعاد مکمل کرنے کے بعد اپنی روانگی کے بارے میں پاکستانی دفتر خارجہ کے حکام کو بھی اطلاع کر چکا تھا۔

    پاکستان سے واپس بھارت جانے کے لئے اپنی اہلیہ کے ہمراہ تقریبا 11 بجے صبح واہگہ بارڈر امیگریشن کاونٹر پر پہنچا جہاں پاکستانی مستعد عملے نے اس کے پاسپورٹ نمبر 01486579 کودیکھا تو اس کی میعاد 7 جولائی کو ختم ہو چکی تھی جس پر اسے واہگہ بارڈر پر روک لیا گیا۔ اس بارے میں فوری طور پراسلام آباد میں دفتر خارجہ کے اعلی حکام کو اطلاع کر دی گئی۔

    ذرائع کے مطابق دفترخارجہ کے حکام نے سکھبیر آریاکوواپس اسلام آبادبھیجنے کے احکامات جاری کردئے تاہم اس دوران بھارتی ہائی کمیشن کے حکام نے پاکستانی دفتر خارجہ کے حکام سے رابطہ کیا اور سکھبیرکو نیا پاسپورٹ جاری کرنے کے بارے میں آگاہ کیا جس کے بعد اسے واہگہ بارڈر پر رکنے کی اجازت دے دی گئی۔ اسلام آباد سے بھارتی ہائی کمیشن کی سپیشل گاڑی میں سکھبیر کا نیا پاسپورٹ اور دیگر سفری دستاویزات واہگہ بارڈر بھجوانے کے انتظامات کئے گئے جو شام کو ساڑھے چھ بجے واہگہ بارڈر پہنچے جہاں اس کی امیگریشن کی گئی اور تقریبا سات بجے اسے بھارت روانہ کردیا گیا۔

    سکھبیر8 گھنٹے سے زائد واہگہ امیگریشن ہال میں موجود رہا۔ اس دوران واہگہ بارڈر پر خصوصی انتظامات کئے گئے تھے جب کہ تمام عملہ مکمل طور پر چوکس رہا۔ اس حوالے سے سکھبیر سے جب باغی ٹی وی نے بات کی تو اس نے بتایا کہ وہ چھ ماہ قبل بھارت گیا تھا جب کہ اس کے بعد اس کویاد نہیں رہا کہ اس کے پاسپورٹ کی میعاد کب ختم ہو رہی ہے۔

    اس سلسلے میں نئی دہلی میں بھارتی دفتر خارجہ کے حکام سے رابطہ کیا گیا تو ایک سینئر آفیسر کا کہنا تھا کہ وہ مسلسل اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن سے رابطے میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر ہائی کمیشن کے متعلقہ حکام کی سخت سرزنش کی گئی ہے جب کہ کچھ لوگوں کو شوکاز نوٹس بھی جاری کئے جارہے ہیں اور واقعہ کی تحقیقات بھی کی جارہی ہیں۔ واضح رہے کہ زائدالمیعاد پاسپورٹ پر کسی بھارتی سفارتی عملے کا بھارت جانے کی کوشش کرنے کا یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے جو واہگہ پاک بھارت سرحد پر پیش آیا ہے۔