Baaghi TV

Author: Khalid Mehmood Khalid

  • ویزہ کے باوجود پانچ پاکستانیوں کو بھارت نے واپس بھیج دیا

    ویزہ کے باوجود پانچ پاکستانیوں کو بھارت نے واپس بھیج دیا

    پاکستان سے بھارت جانے والے پانچ سندھی ہندووں کو بھارتی حکام نے بھارت میں داخل ہونےکی اجازت نہیں دی اور انہیں واپس پاکستان بھیج دیا۔

    تفصیلات کے مطابق صوبہ سندھ سے تعلق رکھنے والے پانچ مقامی ہندووں کو اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کی جانب سے ویزے جاری کر دئے گئے۔

    پانچوں افراد گزشتہ روز واہگہ بارڈر کے راستے بھارت جانے کے لئے پہنچے۔ پاکستانی حکام نے ان کے پاسپورٹ چیک کئے اور ان کو بھارت جانے کی اجازت دے دی۔ ان افراد کو ویزے کے باوجود بھارتی امیگریشن حکام نے واپس بھیج دیا اور انہیں بتایا کہ بھارت نے کورونا کی وجہ سے گزشتہ سال مارچ میں بارڈر بند کر دئے تھے۔ ابھی تک بارڈر کو عام شہریوں کے لئےنہیں کھولا گیا۔ اس وجہ سے انہیں واپس پاکستان بھیج دیا گیا۔

    مذکورہ افرادکوجمعہ کے روز دوبارہ واہگہ بارڈر آنے کی ہدایت کی گئی ہے اور انہیں کہا گیا ہے کہ آج پاکستان میں کورونا وبا کی وجہ سے پھنسے ہوئے 203 بھارتی شہری واہگہ سرحد کے راستے واپس انڈیا جائیں گے۔ مذکورہ پاکستانی شہری بھی آج دیگر پاکستانی، نوری ویزا کے حامل پاکستانیوں اور بھارتی شہریوں کے ساتھ واپس جائیں گے۔

    آج 31 نوری ویزا کے حامل پاکستانیوں کے علاوہ 47 فریش ویزا کے حامل پاکستانی اپنے رشتہ داروں سے ملنے بھارت جائیں گے۔ پاکستانی اوربھارتی شہریوں کے لیے واہگہ سرحد خصوصی طور پر کھولی جائیگی۔

    واضح رہے کہ پاکستان نے اگست 2019 میں کشمیر پر بھارتی قبضے کے خلاف بطور احتجاج واہگہ سرحد بند کردی تھی جب کہ بھارتی نے مارچ 2020 میں کورونا کی وجہ سے بارڈر بند کر دیا تھا۔  تاہم پاکستان نے چند روز قبل اپنی طرف سے عائد پابند اٹھاتے ہوئے سرحد کھول دی ہے لیکن بھارت کی طرف سے ابھی تک سرحد کھولنے کے احکامات جاری نہیں کئے گئے۔ 

  • بھارتی وزیرخارجہ کی درخواست، پاکستان نے واہگہ بارڈر خصوصی طور پر کھول دیا، 41 پاکستانی بھارت روانہ

    بھارتی وزیرخارجہ کی درخواست، پاکستان نے واہگہ بارڈر خصوصی طور پر کھول دیا، 41 پاکستانی بھارت روانہ

    پاکستان اور بھارت کے درمیان سخت کشیدگی اور کورونا کے باعث بند واہگہ بارڈر لاہورگزشتہ رات کو بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کی درخواست پر پاکستان نے خصوصی طور پر کھول دیا۔ جہاں سے حیدرآباد سندھ سے تعلق رکھنے والے41 پاکستانی ہندو شہری خصوصی ویزے پر رات آٹھ بجے بھارت چلے گئے۔

    تفصیلات کے مطابق بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے ضلع اشوک نگر میں واقعہ ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والی روحانی پیشوا خاتون گورو اور شری آنند پور ٹرسٹ کی ٹرسٹی سنتوش بائی المعروف ماتا جی 10 اگست کو 90 سال کی عمر میں چل بسی۔اس کی آخری رسومات میں شرکت کے لئے پاکستان میں حیدرآباد سندھ میں اس ٹرسٹ کی خصوصی برانچ سے تعلق رکھنے والے 43 افراد کو بھارتی وزیر خارجہ کی ہدایت پر ایک ہی روز میں ویزے جاری کئے گئے۔

    یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اس حوالے سے پاکستان سے واہگہ بارڈر خصوصی طور پرکھولنے کے لئے درخواست کی تھی جس کو پورا کرتے ہوئے واہگہ بارڈر گزشتہ رات کو خصوصی طور پر کھولا گیا جہاں سے 41 پاکستانی شہری بھارت روانہ ہو گئے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ امرتسر سے ان پاکستانی شہریوں کو اشوک نگر لے جانے کے لئے بھارتی حکام نے خصوصی طیارے کا انتظام بھی کر رکھا تھا۔ بھارت نے ان پاکستانیوں کو 15 دن کا ویزہ جاری کیا ہے۔

  • بھارت نے پاکستان کے خلاف نیا پراپیگنڈہ شروع کردیا ہے

    بھارت نے پاکستان کے خلاف نیا پراپیگنڈہ شروع کردیا ہے

    بھارت نے پاکستان کے خلاف نیا پراپیگنڈہ شروع کردیا ہے۔ ایف اے ٹی ایف میں اپنا اثرورسوخ استعمال کرنے کے بعد اب بھارت یورپی پارلیمینٹ پر دباو ڈال رہا ہے اور پاکستان کو ملنے والے جی ایس پی پلس درجہ کو ختم کرنے کے لئے رکن ممالک کو اس درجہ کو ختم کرنے کے لئے کہہ رہا ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق یورپی پارلیمینٹ کی طرف سے پاکستان کا جی ایس پی پلس سٹیٹس ختم کرنے کی تیاری شروع کردی گئی ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان میں ناموس رسالت قوانین کو بنیاد بناکر یورپی پارلیمینٹ میں قرارداد پیش کی جارہی ہے جس میں پاکستان میں ٹیکسٹائل کے آرڈرز فوری طور پر کم کرنے کی تجویز پیش کی جارہی ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق قرارداد کی منظوری کے بعد پاکستان سے ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمد نہ ہونے کے برابر رہ جائے گی جب کہ اس صنعت کے حوالے سے پاکستان کو ملنے والی پرکشش مراعات کا جاتمہ ہوجائے گا۔

    دریں اثنا آل پاکستان ٹیکسٹائل مینو فیکچررز ایسوسی ایشن کے سابق صدر شہزاد احمد خان کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ملنے درجہ کو کم کرنا آسان نہیں اور نہ ہی یورپی پارلیمینٹ کی منظوری کے بغیر پاکستان کا سٹیٹس ختم کیا جا سکتا۔

    اپٹما کے سرپرست اعلی گوہر اعجاز کا کہنا ہے کہ بھارتی پراپیگنڈہ بے بنیاد ہے۔ پاکستان کو 10 سال کے لئے جی ایس پی پلس کا درجہ یورپی پارلیمینٹ نے دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2014 میں ملنے والے درجہ کی مدت 2024 میں ختم ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے بھارت کو ٹیکسٹائل کے آرڈرز نہیں مل رہے اس وجہ سے وہ بوکھلا گیا ہے اور پاکستان کو بدنام کرنے کے لئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کررہا ہے۔ 

  • بھارتی ہائی کمیشن کے اسٹاف آفیسر کی زائدالمیعاد پاسپورٹ پر بھارت جانے کی کوشش ناکام

    بھارتی ہائی کمیشن کے اسٹاف آفیسر کی زائدالمیعاد پاسپورٹ پر بھارت جانے کی کوشش ناکام

    پاکستان میں بھارتی ہائی کمیشن کے ایک اسٹاف آفیسر کو واہگہ بارڈر پر اس وقت روک لیا گیا جب وہ زائدالمیعاد پاسپورٹ پر اپنی اہلیہ کے ہمراہ بھارت جارہا تھا۔ تفصیلات کے مطابق بھارت کے گرے پاسپورٹ کا حامل 35 سالہ اسٹاف آفیسر سکھبیر آریا جو کہ ہریانہ کا رہائشی ہے اور پاکستان میں اپنی سروس کی میعاد مکمل کرنے کے بعد اپنی روانگی کے بارے میں پاکستانی دفتر خارجہ کے حکام کو بھی اطلاع کر چکا تھا۔

    پاکستان سے واپس بھارت جانے کے لئے اپنی اہلیہ کے ہمراہ تقریبا 11 بجے صبح واہگہ بارڈر امیگریشن کاونٹر پر پہنچا جہاں پاکستانی مستعد عملے نے اس کے پاسپورٹ نمبر 01486579 کودیکھا تو اس کی میعاد 7 جولائی کو ختم ہو چکی تھی جس پر اسے واہگہ بارڈر پر روک لیا گیا۔ اس بارے میں فوری طور پراسلام آباد میں دفتر خارجہ کے اعلی حکام کو اطلاع کر دی گئی۔

    ذرائع کے مطابق دفترخارجہ کے حکام نے سکھبیر آریاکوواپس اسلام آبادبھیجنے کے احکامات جاری کردئے تاہم اس دوران بھارتی ہائی کمیشن کے حکام نے پاکستانی دفتر خارجہ کے حکام سے رابطہ کیا اور سکھبیرکو نیا پاسپورٹ جاری کرنے کے بارے میں آگاہ کیا جس کے بعد اسے واہگہ بارڈر پر رکنے کی اجازت دے دی گئی۔ اسلام آباد سے بھارتی ہائی کمیشن کی سپیشل گاڑی میں سکھبیر کا نیا پاسپورٹ اور دیگر سفری دستاویزات واہگہ بارڈر بھجوانے کے انتظامات کئے گئے جو شام کو ساڑھے چھ بجے واہگہ بارڈر پہنچے جہاں اس کی امیگریشن کی گئی اور تقریبا سات بجے اسے بھارت روانہ کردیا گیا۔

    سکھبیر8 گھنٹے سے زائد واہگہ امیگریشن ہال میں موجود رہا۔ اس دوران واہگہ بارڈر پر خصوصی انتظامات کئے گئے تھے جب کہ تمام عملہ مکمل طور پر چوکس رہا۔ اس حوالے سے سکھبیر سے جب باغی ٹی وی نے بات کی تو اس نے بتایا کہ وہ چھ ماہ قبل بھارت گیا تھا جب کہ اس کے بعد اس کویاد نہیں رہا کہ اس کے پاسپورٹ کی میعاد کب ختم ہو رہی ہے۔

    اس سلسلے میں نئی دہلی میں بھارتی دفتر خارجہ کے حکام سے رابطہ کیا گیا تو ایک سینئر آفیسر کا کہنا تھا کہ وہ مسلسل اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن سے رابطے میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر ہائی کمیشن کے متعلقہ حکام کی سخت سرزنش کی گئی ہے جب کہ کچھ لوگوں کو شوکاز نوٹس بھی جاری کئے جارہے ہیں اور واقعہ کی تحقیقات بھی کی جارہی ہیں۔ واضح رہے کہ زائدالمیعاد پاسپورٹ پر کسی بھارتی سفارتی عملے کا بھارت جانے کی کوشش کرنے کا یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے جو واہگہ پاک بھارت سرحد پر پیش آیا ہے۔

  • اولمپکس میں خود ہی گلے میں ڈالنا ہوگامیڈل، کورونا کی وجہ سے ہاتھ ملانے اور گلے ملنے پر بھی پابندی

    اولمپکس میں خود ہی گلے میں ڈالنا ہوگامیڈل، کورونا کی وجہ سے ہاتھ ملانے اور گلے ملنے پر بھی پابندی

    اولمپکس میں حصہ لینے والے ہر کھلاڑی کو خواب ہوتا ہے تمغہ جیت کر اپنا اور اپنے ملک کا نام روش کرنا۔جیت حاصل کرنے والے ایتھلیٹوں کو پوڈیم جب میڈل پہنایا جاتا ہے تو یہ اس کی زندگی کا سب سے یادگار لمحہ ہوتا ہے لیکن کورونا وبا کی وجہ سے ٹوکیو اولمپکس میں ایسا نہیں ہوگا۔ اس بار جیتنے والے ایتھلیٹوں کو اپنے میڈل خود ہی اپنے گلے میں ڈالنے ہوں گے۔ ساتھ میڈل سیریمنی کے دوران ایتھلیٹس کے ہاتھ ملانے اور گلے ملنے پر بھی پابندی عائد ہوگی۔

    بین الاقوامی اولمپک کمیٹی (آئی او سی) کے صدر تھامس باک نے بدھ کے روزپریزنٹیشن کی تقریب کے لیے نئی ایس او پی کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا”جیتنے والے ایتھلیٹس کو میڈل ٹرے میں دیئے جائیں گے۔ یہاں سے انہیں تمغہ خود ہی پہننا پڑے گا۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ جو شخص تمغہ ٹرے میں رکھے گا،وہ ڈس انفیکشنڈ دستانے پہنے ہوئے ہوگا۔پریزنٹر اور ایتھلیٹ کا اس دوران ماسک پہننا لازمی ہوگا۔ اس دوران نہ توہینڈ شیک ہوگا اور نہ ہی گلے کی اجازت ہوگی“۔

    کورونا وبا کی وجہ سے، 8 اگست تک ٹوکیو میں ایمرجنسی نافذ ہے۔ اولمپک اسٹیڈیم میں شائقین کے داخلے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ پہلے کہا گیا تھا کہ 50فیصد شائقین (زیادہ سے زیادہ 10 ہزار) کو ہر اسٹیڈیم میں داخلہ دیا جاسکتا ہے لیکن، کورونا کے بڑھتے ہوئے معاملات کے پیش نظر، داخلے پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے۔ بدھ کے روز بھی ٹوکیو میں 1149 نئے کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ یہ گذشتہ 6 ماہ میں ایک دن میں کورونا سے متاثرہ افراد کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

  • چین مشرقی لداخ میں ایل اے سی کے قریب اپنے فوجیوں کی رہائش گاہ بنا رہا ہے

    چین مشرقی لداخ میں ایل اے سی کے قریب اپنے فوجیوں کی رہائش گاہ بنا رہا ہے

    چین اپنے سرحدی دیہات میں دفاعی بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں مصروف ہے۔ ایک بھارتی ٹی وی کے مطابق اس بار چین ایل اے سی کے قریبی دیہات میں بسنے والے لوگوں کو مارشل آرٹس کی تربیت اور دیگر غیر مسلح لڑائی کے چالوں کی تربیت بھی دے رہا ہے۔ چینی مستقل ڈھانچے کی تعمیر میں فوجیوں کے لیے رہائش بھی شامل ہے۔

    مشرقی لداخ میں چائنا لائن آف ایکچول کنٹرول (ایل اے سی)پر طویل عرصے تک تعیناتی کے ارادے سے زمین پر تیاری کررہاہے اس کیلئے چینی فوج ان علاقوں میں مستقل ڈھانچے بنا رہی ہے، جہاں پیپلز لبریشن نے آرمی (پی ایل اے) کو تعینات کیا ہے۔ ہندوستانی فضائیہ کے سربراہ نے بھی تصدیق کی ہے کہ چینی اپنے فضائی ڈھانچے کو بہتر بنا رہے ہیں۔

    چین ایل اے سی پر ہندوستانی سرحد کے قریب واقع 600 دیہاتوں کو آباد کرکے ان کو مضبوط بنانے میں مصروف ہے۔ ان دیہاتوں میں جدید سہولیات فراہم کی جارہی ہیں اور پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) اپنی دفاعی چوکی، دفاعی ٹاور کو بھی مستحکم کررہی ہے۔ چین 2021 کے آخر تک ان دیہاتوں کو تبت کے دیگر شہروں سے شاہراہ کے ذریعے جوڑنے کے منصوبے پر بھی کام کر رہا ہے۔

    اس طریقے سے، چین سرحد کے قریب واقع دیہات میں اپنی اسٹریٹجک پوزیشن کو مستحکم کرنے کے لیے دفاعی انفراسٹرکچر تیار کررہا ہے۔ 2017 میں، ڈوکلام کے بعد، چین نے تبت سے منسلک سرحدی علاقے میں ‘ بارڈر ڈیفنس ولیج ‘ تعمیر کرنا شروع کیا۔ چین کا مقصد بین الاقوامی سرحد کے قریب دیہاتوں کو آباد کرنے کے پیچھے تبت اور باقی دنیا کے مابین ایسی ‘ سیکیورٹی رکاوٹ ‘ پیدا کرنا ہے۔ وہ اسے ناقابل تصور قلعے کی شکل دینا چاہتا ہے۔

    چین نے سطحی آپریشنل صلاحیتوں کے ساتھ بغیر پائلٹ کی ایک فضائی وہیکل (یو اے وی) تیار کی ہے، جسے وہ ہندوستان کے ساتھ لائن آف ایکچوئل کنٹرول کے ساتھ کیلاش پہاڑی سلسلے میں تعینات کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ چین نے ایل اے سی کے تین علاقوں مغربی (لداخ)، وسطی (اتراکھنڈ، ہماچل) اور مشرقی (سکم، اروناچل) میں بھی فوج، توپ خانہ اور دیگر اسلحے میں اضافہ کیا ہے۔

    پی ایل اے نے اونچائی پر واقع اپنے فوجیوں کی تعیناتی کے بعد نئے انفراسٹرکچر اور اسپتال بھی بنائے ہیں۔ وادی گالان میں ہندوستانی اور چینی فوج کے مابین پرتشدد مقابلہ کے ایک سال بعد، چینی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) نے لائن آف ایکچول کنٹرول (ایل اے سی) کے ساتھ ساتھ گہرے علاقوں میں مزید رہائش گاہیں تعمیر کیں، جن کے بارے میں ایسا لگتا ہے کہ وہ ایک طویل سفر کی تیاری کر رہا ہے۔

  • بھارتی حکومت کے منفی عزائم علاقائی سلامتی کے لئے خطرہ: شاہ محمود قریشی

    بھارتی حکومت کے منفی عزائم علاقائی سلامتی کے لئے خطرہ: شاہ محمود قریشی

    وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت کے منفی عزائم سے علاقائی سلامتی کو بے شمار خطرات لاحق ہیں۔

    ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت کی ٹیرر فنانسنگ کا معاملہ عالمی سطح پر اٹھاے گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی مقبوضہ کشمیر پالیسی بری طرح ناکام ہوئی ہے جب کہ کشمیری قیادت، بھارت سرکار سے نالاں دکھائی دے رہی ہے۔

    مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کشمیری رہنماؤں نے وزیر اعظم مودی کے ساتھ ہونیوالی حالیہ ملاقات میں 5 اگست 2019 کے یک-طرفہ اور غیر آئینی اقدامات پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔ بی جے پی سرکار نے کرونا وبا کو جس طرح مس ہنڈل کیا اس کے باعث ہزاروں لوگ موت کے منہ میں چلے گئے جب کہ بھارت اپنے اندرونی معاملات سے توجہ ہٹانے کیلئے اس قسم کے ناٹک رچاتا ہے۔

    وزیرخارجہ نے کہا کہ ہمارا فرض ہے کہ ہم سامنے آنیوالے حقائق سے پاکستانی قوم اور عالمی برادری کو آگاہ کریں۔ہم قبل ازیں بھی بھارت کی دہشتگردی کے واضح ثبوت ڈوزیر کی صورت میں اقوام متحدہ اور عالمی برادری کے سامنے پیش کر چکے ہیں۔

    دنیا آج دہشت گردی کے خلاف صف آراء ہے اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی بیخ کنی چاہتی ہے۔ یہ فیٹف کے مقاصد میں بھی شامل ہے اور دنیا کا مسمم ارادہ بھی یہی ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہ جوہر ٹاؤن لاہور میں ہونیوالے دہشتگردی کے واقعہ کی تحقیقات میں سامنے آنے والے ٹھوس شواہد کی بنیاد پر اب پاکستان یہ توقع کر رہا ہے کہ دنیا، بھارت کی اس ٹیرر فنانسنگ کا نوٹس لے گی۔

    انہوں نے کہا کہ ہم دہشت گردی کی روک تھام اور اپنی سرحدوں کی حفاظت کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہے ہیں۔ ہم نے بارڈر فنسنگ کی ہے۔ ہم نے اپنے قبائلی علاقوں کو دہشت گردوں سے صاف کیا ہے اورہم نے وہاں ترقیاتی کاموں کا آغاز کیا ہے۔ ہم نے ٹیرر فنانسنگ کی روک تھام کیلئے قانون سازی کی ہے، ہم نے اینٹی منی لانڈرنگ اقدامات اٹھائے ہیں۔

    شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم ایک عرصہ سے افغان مہاجرین کی میزبانی کرتے آ رہے ہیں۔ ہم افغان مہاجرین کی باعزت وطن واپسی کے خواہشمند ہیں، اس مقصد کیلئے ہمیں عالمی برادری کی مدد درکار ہو گی۔ انہوں نے تجویز دی کہ افغان مہاجرین کی وطن واپسی کیلئے، ایک مقررہ مدت اور جامعیت کا حامل، ویل ریسورسڈ (Well Resourced ) منصوبہ تشکیل دیا جانا چاہیئے اور اسے افغان امن عمل کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔

  • مودی کی کشمیر کانفرنس ناکام

    مودی کی کشمیر کانفرنس ناکام

    بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی کشمیر کانفرنس مکمل طور پر ناکام ہو گئی. تمام شرکا تقریبا تین گھنٹے کانفرنس میں موجود رہنے کے بعد واپس روانہ ہو گئے ہیں.

    مودی نے کانفرنس کے شرکا کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ کشمیر میں انتخابات کروانے کی ضرورت ہے.کانفرنس میں موجود شرکا نے کشمیر کی اگست 2019 کی پوزیشن بحال کرنے کا مطالبہ کر دیا. محبوبہ مفتی نے مودی پر واضح کر دیا ہے کہ جب تک کشمیر کی اصل پوزیشن بحال نہیں کی جائے گی کشمیر میں انتخابات کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا

  • پاک بھارت سرحد 28 جون کو ایک روز کے لئے کھولنے کا اعلان

    پاک بھارت سرحد 28 جون کو ایک روز کے لئے کھولنے کا اعلان

    کورونا کے باعث پاک بھارت سرحد بند ہونے کے باعث ایک سال سے پاکستان میں پھنسے ہوئے بھارتی شہریوں کے لئے خوشخبری۔ کورونا کی شدت میں کمی آتے ہی 28 جون کو ایک روز کے لئے پاک بھارت سرحد کھولی جارہی ہے۔

    پاکستان سے 461 افراد بھارت جائیں گے۔ بھارت جانے والوں میں 405 بھارتی شہری شامل ہیں جب کہ نوری ویزہ کے حامل 56 افراد بھی اسی روز بھارت روانہ ہوں گے۔

    وزارت خارجہ پاکستان نے اس حوالے سے واہگہ بارڈر پر ضروری اقدامات کے لئے ہدایات جاری کر دی ہیں۔

    بھارت واپس جانے والے تمام افراد کو روانگی سے 72 گھنٹے قبل کورونا کا ٹیسٹ کروانا ہوگا تاہم حکومت کی طرف سے ویکسین لگوانے کی کوئی شرط نہیں رکھی گئی۔

    واضح رہے کہ پاکستان نے کورونا کی شدت میں اضافے کے باعث گزشتہ سال پاک بھارت سرحد کو بند کر دیا تھا جس کے باعث سینکڑوں افراد پاکستان اور بھارت میں پھنس گئے تھے۔

  • بھارتی ملٹری انٹیلی جنس ایجنسی کی گرفتارچینی شہری سے پوچھ گچھ

    بھارتی ملٹری انٹیلی جنس ایجنسی کی گرفتارچینی شہری سے پوچھ گچھ

    بھارت: جمعرات کے روز بی ایس ایف کے ذریعہ ایک چینی شہری کو بھارت – بنگلہ دیش سرحد کے قریب غیر قانونی طور پر بھارت میں داخل ہونے پر گرفتار کیا گیا تھا۔ ہان جنوی نامی یہ چینی شہری بنگلہ دیش سے ویزا لے کر ہندوستان آیا تھا۔ ریاستی اور مرکزی تفتیشی ایجنسیوں نے اس سے پوچھ گچھ کی ہے۔

    اس کے علاوہ ملٹری انٹیلی جنس ایجنسی بھی چینی شہری سے پوچھ گچھ کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ فوجی انٹلی جنس نے گزشتہ روز بنگلور سے ایک بین الاقوامی کال ایکسچینج پکڑا ہے۔ اس کی تار سلی گوڑی (مغربی بنگال) سے منسلک ہیں۔ اس کی تفتیش سے انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان کی جاسوس ایجنسی آئی ایس آئی اب ہندوستان کی شمال مشرقی ریاستوں سے معلومات حاصل کرنے میں چینی ایجنسیوں کی مدد کر رہی ہے۔

    بنگال کے مالدہ ضلع کے ملک سلطان پور سے پکڑے گئے ایک چینی شہری ہان جنوی سے ایک لیپ ٹاپ ، 3 موبائل ، ہندوستانی ، بنگلہ دیشی ، امریکی کرنسی ، ایک چینی پاسپورٹ ، بنگلہ دیشی ویزا والا کچھ چینی الیکٹرک گیجٹ برآمد ہوا ہے۔ ملٹری انٹیلی جنس ایجنسی ایک مختلف زاویے سے تفتیش کرنا چاہتی ہے کیونکہ کل بنگلورو میں انکشاف ہوئے بین الاقوامی کال ایکسچینج کے بارے میں اطلاع سلی گوڑی (مغربی بنگال) میں ایک ہیلپ لائن نمبر پر ایک مشکوک کال سے ملی تھی۔

    اس کے بعد ، ایک کاروائی میں ، ملٹری انٹلی جنس اور بنگلورو پولیس (اے ٹی سی) نے کل رات ایک نیٹ ورک کو کریش کیا جو بین الاقوامی کالوں کو مقامی کالوں میں تبدیل کرنے کا ایکسچینج چلا رہے تھے۔ ملٹری انٹلی جنس نے بنگلورو سے تملناڈو کے تیرو پور ضلع کے باشندے گوتم بن وشوناتھن (27) اور کیر ل کے ملا پورم ضلع کے بنیادی طور پر رہنے والے ابراہیم ملاٹی بن محمد کٹی (36) کو گرفتار کیا ہے۔

    در حقیقت ، سلی گوڑی میں ایک ہیلپ لائن نمبر پر کال پر ، دوسری طرف کے شخص نے اپنا تعارف ایک ریٹائرڈ آرمی آفیسر کے طور پر کیا اور کچھ معلومات طلب کی۔ اس کال کو فوجی انٹیلیجنس نے پکڑا تھا ، جس پر فون کرنے والے کا نام ٹریک کیا گیا تھا۔ کالر آئی ڈی پر دکھائے گئے نمبر کی مدد سے ، فوجی خفیہ ایجنسی نے اس کی تفصیلات اور اس جگہ کا سراغ لگایا جہاں سے کال کی گئی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس نمبر کا مقام مستقل تھا لیکن کال ڈیٹا ریکارڈ (سی ڈی آر) نے دکھایا کہ کال سم ایرگو کے ذریعہ کئے گئے تھے ۔اس سے آوٹ گوئنگ کالوں کی تعداد زیادہ تھی لیکن اس نمبر پر آنے والی کال چھت پٹ تھیں اس سے ثابت ہوا کہ کال مشین کا استعمال کر کے کی جا رہی تھی ۔ پکڑے گئے دونوں نوجواوں نے بی ٹی ایم لی آوٹ علاقوں میں جگہوں پر غیر قانونی طور سے ٹیلی ون ایکسچینج بنا رکھے تھے۔

    فوجی انٹیلی جنس نے 30 الیکٹرانک آلات بھی برآمد کیے جن میں 32 موبائل سم کارڈ موجود تھے اور غیر ملکی کالوں کو مقامی کالوں میں تبدیل کرنے میں مدد کی تھی۔ دونوں نوجوانوں سے 900 سے زائد سم کارڈز برآمد ہوئے ہیں۔ یہ لوگ بنگلور کے علاقے بی ٹی ایم لے آؤٹ میں رہتے تھے۔