Baaghi TV

Author: Khalid Mehmood Khalid

  • امیتابھ بچن 80 ویں سالگرہ آج منائیں گے

    امیتابھ بچن 80 ویں سالگرہ آج منائیں گے

    اسٹار آف دی میلینیئم کااعزاز حاصل کرنے والے بھارتی گلوکار، اداکار، پروڈیوسر، ٹی وی میزبان اور سابق سیاستدان امیتابھ بچن 80 برس کےہوگئے۔ ان کی سالگرہ کے حوالے سے خصوصی تقریب آج ان کےٹی وی شو ‘کون بنے گا کروڑ پتی’ میں منعقد کی جائے گی جس میں ان کی اہلیہ جیا بچن اور بیٹا ابھیشک بچن امیتابھ کی زندگی کے اہم پہلووں پر روشنی ڈالیں گے۔

    امیتابھ بچن 11 اکتوبر 1942 کو الہ آباد کے ایک شاعر ہری ونش رائے کے ہاں پیدا ہوئے۔ ان کی والدہ تیجی بچن لائل پور (فیصل آباد) کی ایک پنجابی سکھ کھتری خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ امیتابھ نے اپنی فلمی زندگی کا آغاز 1969 میں خواجہ احمد عباس کی ڈائریکشن میں بننے والی فل سات ہندوستانی سے کیا۔ دوسرے نئے اداکاروں کی طرح امیتابھ کی یہ پہلی فلم بھی بری طرح فلاپ ہوئی۔

    1971 میں راجیش کھنہ کے بالمقابل فلم آنند میں انہوں نے ڈاکٹر کا کردار ادا کیا۔ اس فلم کے پوسٹر میں امیتابھ بچن کی تصویر ایک کونے میں لگائی گئی کیونکہ انہیں ایک بی کلاس اداکار تصور کیا جاتا تھا۔ 1972 میں معروف کامیڈین محمود نے امیتابھ کو اپنی فلم بمبئے ٹو گوا میں اداکاری کا موقعہ دیا اس فلم نے باکس آفس پر ایک کروڑ سے زائد کا بزنس کیا۔ فلم کی کامیابی سے امیتابھ کو باقاعدہ طور پر مرکزی کردار کے لئے آفرز آنا شروع ہو گئیں اور یوں بھارتی فلم انڈسٹری کو نیا ہیرو مل گیا۔ امیتابھ کا یہ فلمی سفر آج تک جاری ہے۔

    کانگریس لیڈر راجیو گاندھی اور سنجے گاندھی امیتابھ کے سب سے قریبی دوست تھے۔ راجیو گاندھی سے شادی سے قبل 13 جنوری 1968 کو سونیا گاندھی جب اٹلی سے بھارت آئیں تو امیتابھ انہیں دہلی ہوائی اڈے سے لینے گئے سونیا 48 دن امیتابھ کے گھر پر مہمان بن کر رہیں جہاں اندرا گاندھی کی خواہش کے مطابق انہوں نے ہندو رسم و رواج اور بھارتی معاشرے کے بارے آگاہی حاصل کی۔ 1984 میں امیتابھ نے اترپردیش سے لوک سبھا کی سیٹ پر 68 فیصد سے بھی زائد ووٹ حاصل کئے جو بھارتی انتخابات کی تاریخ کا ایک منفرد ریکارڈ ہے اور اسے آج تک کوئی بھی نہیں توڑ سکا۔

    1987 میں ان کے بھائی اجیتابھ بچن کی سوئٹزرلینڈ میں اپارٹمنٹ کی خریداری کے حوالے سے بوفرز سکینڈل سامنے آیا۔ جس کے بعد امیتابھ نے لوک سبھا کی سیٹ سے استعفی دے دیا۔ 2000 میں امیتابھ نے ٹی وی پر کون بنے گا کروڑ پتی شروع کیا لیکن امیتابھ کی بیماری کے باعث یہ شو 2006 میں بند کردیا گیا تاہم 2009 میں اسے دوبارہ شروع کیا گیا جو اب تک جاری ہے۔ امیتابھ بچن فلمی صنعت کے بے تاج بادشاہ ہونے کے ساتھ ساتھ فلاحی کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ ان کی شادی 1973 میں اداکار جیا بہادری سے ہوئی۔ ان کا صاحبزادہ ابھیشک بچن ایک نامور فلم اسٹار ہے جب کہ بیٹی شویتا ایک مصنف اور صحافی ہے۔

    امیتابھ کی کارکردگی کے اعتراف کے طور پر انہیں پدما شری، پدما بھوشن، لیجنڈآف آنر، پدما وبوشن اور دادا صاحب پھالیکے ایوارڈز سے نوازہ گیا۔ 2002 میں انہوں نے اپنی آپ بیتی بھی لکھی۔ 

  • کیا ثمرقند میں مودی شہباز ملاقات طے پا گئی ہے؟

    کیا ثمرقند میں مودی شہباز ملاقات طے پا گئی ہے؟

    بھارت نے ازبکستان کے شہر ثمرقند میں آج سے شروع ہونے والی شنگھائی تعاون تنظیم کی سربراہ کانفرنس میں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور بھارتی وزیراعظم کے درمیان علیحدگی میں ملاقات کو خارج از امکان قرار نہیں دیا۔

    نئی دہلی میں بھارتی دفتر خارجہ کے ذرائع نے فون پر باغی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے اس بات کا اشارہ دیا کہ خطے کی دو ایٹمی طاقتوں کے سربراہان کی ثمرقند میں موجودگی سے دونوں کے درمیان  کانفرنس کے ایجنڈے سے ہٹ کر ملاقات ہوسکتی ہے جس سے دونوں ملکوں کے درمیان برف پگھل سکتی ہے۔

    ذرائع نے بتایا کہ ملاقات کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دوطرفہ مذاکرات کا فوری طور پر آغاز ہو جائے گا۔ تاہم بھارتی دفتر خارجہ مکمل تیاری کے ساتھ وزیراعظم مودی کے ساتھ ثمرقند میں موجود ہوگا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان میں شریف فیملی کی حکومت کے دوران بھارتی وزیراعظم ہمیشہ سرپرائز دیتے رہے ہیں۔ حال ہی میں پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں پر بھی مودی افسوس کا اظہار کرچکے ہیں جب کہ شہباز شریف اس سلسلے میں مودی کو شکریہ کا خط بھی لکھ چکے ہیں۔ ذرائع کے مطابق شہباز شریف مودی کا ان کے خیر سگالی کے جذبہ کے جواب میں بالمشافہ شکریہ بھی ادا کرسکتے ہیں۔

    اس سے قبل 2014 میں مودی نے اپنی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے لئے اس وقت پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کو جو کہ شہباز شریف کے بڑے بھائی ہیں، نئی دہلی آنے کی اچانک دعوت دی تھی جسے نواز شریف نے قبول کر لیا تھا۔ اس کے بعد جولائی 2015 میں مودی اور نواز شریف شنگھائی تعاون تنظیم کے روس میں ہونے والے اجلاس میں بھی علیحدگی میں ملاقات کرچکے ہیں۔ دسمبر 2015 میں دونوں لیڈروں کی پیرس میں ماحولیاتی تبدیلی کانفرنس میں ایک بار پھر ملاقات ہوئی تھی جس میں دونوں سر جوڑ کر گفتگو میں مصروف تھے جس کی تصاویر بھی منظرعام پرآگئی تھیں۔ اسی ماہ مودی نے لاہور کا دورہ کر کے پوری دنیا کو حیران کردیا تھا۔

    یہ بات قابل ذکر ہے کہ 2019 میں کرغستان میں ہونے والی شنگھائی تعاون تنظیم کی سربراہ کانفرنس میں مودی اور عمران خان موجود تھے لیکن دونوں کے درمیان سوائے ہاتھ ملانے کے کوئی بات چیت نہیں ہوئی تھی۔ دوسری طرف پاکستانی دفتر خارجہ نے مودی شہباز ملاقات نہ ہونے کا اشارہ دیا ہے۔  

  • بھارتی بحریہ لاوارث کشتی سے خوفزدہ، سائرن بج گئے

    بھارتی بحریہ لاوارث کشتی سے خوفزدہ، سائرن بج گئے

    بھارتی ریاست مہاراشٹر میں ممبئی کے قریب رائے گڑھ کوسٹل ایریا کی حدود میں ایک لاوارث کشتی کی موجودگی سے بھارتی بحریہ میں خوف و ہراس پھیل گیا اورمتوقع دہشت گردی سے بچاو کے لئے ہنگامی سائرن بجنے شروع ہوگئے۔ کشتی میں تین اے کے 47 رائفلز اور گولیوں کی بڑی مقدار بھی موجود تھی جس کی وجہ سے ممبئی میں ریڈ الرٹ جاری کردیا گیا اور انسداد دہشت گردی سمیت تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ کر دیا گیا۔

    ابتدائی طور پر بھارتی میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی نے بوکھلاہٹ میں کشتی پاکستانی سمندری حدود کی طرف سے بھارتی سمندری حدود میں آنے کے امکانات ظاہر کئے تاہم بعد میں بھارتی حکام نے اس امکان پر زیادہ زور نہیں دیا۔

    ابتدائی تحقیقات کے بعد مہاراشٹر کے نائب وزیراعلی دیوندرا فرنانڈس نےبتایا کہ16 میٹر لمبی یہ لاوارث کشتی ایک آسٹریلین خاتون کی ملکیت ہے جس کا شوہر نیوی کپتان ہے۔ یہ کشتی دبئی کی ایک سیکیورٹی ایجنسی میں رجسٹرڈ ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ ابھی تک اس بات کا ثبوت نہیں ملا کہ کشتی دہشت گردی کرنے کے لئے استعمال کی جانی تھی تاہم ابھی تحقیقات جاری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کشتی میں سوار میاں بیوی اور دو دیگر مسافر جون میں مسقط سے یورپ جارہے تھے کہ راستے میں خراب موسم کے باعث انہوں نے کشتی کو وہیں بے یارومددگار چھوڑ دیاجب کہ چاروں افراد کو اومان کے بحری حکام نے محفوظ مقام پر منتقل کیا۔جس کے بعد یہ لاوارث کشتی سمندری لہروں میں بہتی ہوئی ممبئی سے دوسو کلومیٹر دور رائے گڑھ کے ساحل پر پہنچ گئی۔ انہوں نے بتایا کہ کہ کشتی میں جدید اسلحہ کہاں سے آیااس کی تحقیقات جاری ہیں۔ 

  • واہگہ اٹاری بارڈر پر بھارتی حکام کی دوڑیں لگ گئیں

    واہگہ اٹاری بارڈر پر بھارتی حکام کی دوڑیں لگ گئیں

    افغانستان سے براستہ پاکستان بھارت جانے والے ایک کارگو ٹرک میں مبینہ طور پر دھماکہ خیز مواد کی موجودگی کی اطلاع نے بھارتی سرحد پر تعینات سیکیورٹی حکام کی دوڑیں لگوادیں۔

    تفصیلات کے مطابق افغانستان سے ڈرائی فروٹ لے کر ٹرک واہگہ کے راستے بھارتی سرحد کے اندر اٹاری چیک پوسٹ پہنچا تو ٹرک کی چیکنگ کے دوران ڈیٹکٹر نے دھماکہ خیز مواد کی موجودگی کا الارم بجانا شروع کر دیا جس کے بعد اٹاری چیک پوسٹ پر ایمرجنسی نافذ کر کے وہاں کا کنٹرول انسداد دہشت گردی کے حکام نے سنبھال لیا اور ٹرک کی تلاشی شروع کردی۔

    اس دوران ٹرک کی باڈی کے اندر لوہے کا نو سو گرام وزنی ایک ڈبہ برآمد کیا گیا جسے کھولا گیا تو اس کے اندر تین سو گرام پاوڈر نما چیز نکلی جس کا تجزیہ کرنے کے بعد حکام نے بتایا کہ اس میں دھماکہ خیز مواد نہیں جس کے بعد انٹی نارکوٹکس حکام کو طلب کیا گیا جنہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ یہ مواد منشیات کی کوئی بھی قسم نہیں۔

    مذکورہ پراسرار مواد کو تجزیہ کے لئے لیبارٹری میں بھجوادیا گیا ہے۔ پولیس اور کسٹم حکام نے چیک پوسٹ پر موجود تمام ٹرکوں اور سامان کی دوبارہ تلاشی لینے کے احکامات دئے۔ یہ تلاشی رات گئے تک جاری تھی۔ اٹاری حکام نے افغان ٹرک ڈرائیور کو حراست میں لے کر اس سے تفتیش شروع کردی ہے۔ 

  • گورو ارجن دیو کی 416ویں برسی۔ 163بھارتی سکھ کل لاہور آئیں گے

    گورو ارجن دیو کی 416ویں برسی۔ 163بھارتی سکھ کل لاہور آئیں گے

    سکھ مذہب کے پانچویں گورو ارجن دیو جی کی 416 ویں برسی کی 7 روزہ تقریبات کا آغاز کل سے لاہور میں ہوگا۔ تقریبات میں شرکت کے لئے بھارتی سکھ یاتری کل لاہور پہنچیں گے۔ نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن نے 163 ویزے جاری کر دئے۔

    سکھ یاتری پنجہ صاحب، ننکانہ صاحب اور کرتار پور صاحب بھی جائیں گے۔گورو ارجن دیو جی نے گرنتھ صاحب کا پہلا باضابطہ ایڈیشن مرتب کیا۔امرتسر میں دربار صاحب کی تکمیل کا سہرا انہی کے سر جاتا ہے۔

    گورو ارجن دیو 1606میں اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ مغل بادشاہ جہانگیر پر ان کو قتل کرنے کا الزام لگایا گیا۔

    سکھ یاتری 17 جون کو بھارت واپس روانہ ہو جائیں گے۔

  • بھارت سے ٹرکوں میں افغانستان جانے والا بھارتی امدادی سامان مشکوک

    بھارت سے ٹرکوں میں افغانستان جانے والا بھارتی امدادی سامان مشکوک

    بھارتی پنجاب کے شہر پنجاب میں امرتسر کے قریب پاکستانی سرحد پر تجارت کے لئے آنے والے ٹرکوں میں منشیات، اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر ممنوعہ اشیاء کی نشاندہی کرنے والے 32 لاکھ ڈالرز مالیت کےاسکینرز گھٹیا اور غیر معیاری نکلے جب کہ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ان میں صلاحیت ہی نہیں کہ وہ ان ممنوعہ اشیاء کو ٹریس اور اسکین کر سکیں اور ان کی نشاندہی کرسکیں۔

    اس کے بعدپاکستان کے راستے افغانستان جانے والےٹرکوں میں لوڈ کیا جانے والا بھارتی امدادی سامان مشکوک ہوگیا ہے۔ امرتسر سے پاک بھارت تعلقات اور تجارت کے حوالے سے کام کرنے والے سینیئر صحافی رویندر سنگھ روبن کی ایک رپورٹ کے مطابق اٹاری بارڈر پر فل باڈی ٹرک اسکینرز ستمبر 2021 میں لگائے گئے تھے اور ان کامقصد بھارت کے مختلف شہروں نے پاکستان اور پاکستان کے راستے دوسرے ممالک میں بھیجے جانے والے تجارتی سامان والے ٹرکوں میں منشیات اور ممنوعہ اشیاء کی نشاندہی کرنا تھا۔

    اس وقت کے وزیرمملکت برائے داخلہ کی ہدایات کی روشنی میں لینڈ پورٹ اتھارٹی آف انڈیا اور سنٹرل بورڈ آف ڈائریکٹ ٹیکس اینڈ کسٹمزحکام نے اسکینرز انسٹال کرنے کے جو معاہدے کئے وہ جدید ترین تقاضوں اور معیار کے مطابق نہیں تھے گو کہ اس وقت پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارت بند ہے تاہم بھارت گندم اور ادویات کے نام پر امدادی سامان ٹرکوں کے ذریعےافغانستان بھیج رہا ہے لیکن غیر معیاری چیکنگ نظام کی نشاندہی کے بعد ان ٹرکوں کی چیکنگ کا نظام مشکوک ہو کر رہ گیا ہے۔

    بھارت اب تک آٹھ ہزار ٹن گندم اور دوسرا امدادی سامان پاکستان کے راستے افغانستان بھجوا چکا ہے جب اسی ہفتے مزید دو ہزار ٹن سامان افغانستان بھجوایا جا رہا ہے۔ 2021 میں ان اسکینرز کو لگانے سے پہلے تمام ٹرکوں کی تلاشی کے لئے اسٹاف مقرر کیا گیا تھا جو اب کام نہیں کر رہا۔ واضح رہے کہ بھارت نے یہی اسکینرز اٹاری واھگہ کے علاوہ پیٹراپول، راکساول، پونچھ، چکن دا باغ اور اڑی اسلام آباد میں پاکستان سے ملحقہ بارڈرز پر بھی لگانے کی منظوری دی تھی۔

  • بھارتی پنجاب اب آپ کا۔ کانگریس، بی جے پی کو بدترین شکست

    بھارتی پنجاب اب آپ کا۔ کانگریس، بی جے پی کو بدترین شکست

    بھارتی پنجاب میں حکمران جماعت کانگریس کی عبرت ناک شکست کے بعد بھارتی تجزیہ کاروں نے اس کی ذمہ داری نوجوت سنگھ سدھو کی عمران خان سے دوستی پر ڈال دی ہےاور کہا کہ نوجوت سنگھ سدھو نے عمران خان کے اشاروں پر بھارتی پنجاب کی حکومت میں پھوٹ ڈالی جس سے کانگریس کی مقبولیت کا گراف نیچے آگیا۔

    ایک بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو جو کہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے انتہائی قریبی دوست ہیں، خودکیپٹن امریندر سنگھ کو ہٹا کر پنجاب کے وزیراعلی بننا چاہتے تھے اور عمران خان ان کو سپورٹ کررہے تھے۔

    اس وقت کے وزیراعلی کیپٹن امریندر سنگھ ان کو ایک آنکھ نہیں بھاتے تھے۔ کیپٹن امریندر سنگھ کا خیال تھا کہ کرتار پور راہداری بنانے کے حوالے سے سدھو نے ان کو اعتماد نہیں لیا جس سے بھارتی پنجاب کانگریس کی مقبولیت میں بے حد کمی آئی۔

    یہ بھی کہا گیا کہ بھارتی عوام نوجوت سنگھ سدھو کے اس اقدام سے خوش نہیں تھےجس سے کانگریس کے خلاف عوامی نفرت کا آغاز ہوا اور کانگریس کی مقبولیت کا گراف تیزی سے نیچے آگیا۔

    میڈیا رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ کانگریس کی مقبولیت میں کمی کے لئے جہاں کئی عوامل کارفرما تھے اس کے ساتھ ساتھ پنجاب کی سیاست میں عمل دخل کے لئے سدھو کی عمران خان سے مشاورت نے جلتی پر تیل کا کام کیا جس کے نتیجہ میں گزشتہ روز انتخابات میں کے نتائج میں کانگریس کو صرف 15سیٹوں پراور مودی کی بی جے پی کو صرف 5 سیٹون پر کامیابی ملی۔ جب کہ عام آدمی پارٹی نے 85 سے زائد سیٹوں پر کامیابی حاصل کر لی اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ 2024 کے انتخابات میں بھی عام آدمی پارٹی دہلی اور پنجاب کے بعد مرکز میں مودی سرکار کے لئے بھی سب سے بڑے خطرہ کا باعث بن سکتی ہے۔

  • مودی کو جان کے لالے پڑگئے، 20 منٹ بارش میں گزارنے پڑے

    مودی کو جان کے لالے پڑگئے، 20 منٹ بارش میں گزارنے پڑے

    بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو اس وقت جان کے لالے پڑگئے جب مبینہ طور پر ان کے دورہ پنجاب کے دوران خفیہ روٹ لیک ہوگیا اوران کی گاڑی بھٹنڈہ بائی پاس کے قریب ایک فلائی اوور پر20 منٹ تک سخت سیکیورٹی حصار میں شدید بارش میں روک لی گئی۔ بعد میں ان کا دورہ پنجاب منسوخ کردیا گیا اور وہ واپس نئی دہلی روانہ ہو گئے۔

    تفصیلات کے مطابق بھارتی وزیر اعظم مودی پنجاب میں انتخابات کے سلسلے میں تین روزہ دورہ پر بھٹنڈہ پہنچے۔ ہوائی اڈے سے وزیراعظم ہیلی کاپٹر کے ذریعے فیروز پورجانے والے تھے لیکن موسم خراب ہونے کی وجہ سے انہوں بذریعہ کار فیروزپور جانے کا فیصلہ کیا۔ ان کا قافلہ جب بھٹنڈہ بائی پاس کے قریب فلائی اوور پر پہنچا تواسی روٹ پر سامنے سے کسانوں کاایک جلوس آنے کی اطلاعات پر مودی کے قافلہ کو فوری طور پر روک لیا گیا۔

    مودی کے قافلے کے لئے تین روٹ بنائے گئے تھے۔ وزارت داخلہ کے مطابق مودی جس روٹ سے فیروزپور جارہے تھے اس کی اطلاع پنجاب کے وزیراعلی چرن جیت سنگھ چنی اور کانگریس کے مقامی رکن پنجاب اسمبلی کو تھی۔ بی جے پی نے الزام لگایا کہ روٹ کی اطلاع وزیراعلی کے ایما پررکن اسمبلی کوملی جس نے کسانوں کواسی روٹ پرجلوس نکالنے کےلئے اکسایا۔ م

    مظاہرین نے وزیراعظم کے قافلے میں شامل بی جے پی کے ورکرزکی ایک بس کا گھیراو بھی کرلیا جو وزیراعظم کی گاڑی سے چند میٹر کے فاصلے پرتھی۔بھارتی وزارت داخلہ نے پنجاب حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے وزیراعظم کے روٹ کو لیک ہونے کے واقعہ کو بھارتی تاریخ کا منفرد واقعہ قرار دیااور کہا کہ ایسے واقعہ کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ دریں اثنا وزیراعلی پنجاب چرن جیت سنگھ چنی نے کہا کہ وزیراعظم نے اصل روٹ سے ہٹ کر حسینی والا سے جانے کا فیصلہ کیا جو کہ پاکستان کے شہر قصور سے متصل ہے۔

    انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو اس بات کا اندازہ ہو گیا تھا کہ ان کا پنجاب کادورہ ایک فلاپ شو ہوگا۔ اس لئے انہوں نے سیکیورٹی کا بہانہ بنا کر واپس جانے میں عافیت سمجھی۔  

  • بھارتی گونگی بہری شادی شدہ سکھ خاتون کوگونگے بہرے پاکستانی کے ساتھ شادی مہنگی پڑگئی

    بھارتی گونگی بہری شادی شدہ سکھ خاتون کوگونگے بہرے پاکستانی کے ساتھ شادی مہنگی پڑگئی

    سکھوں کے مذہبی راہنما بابا گورونانک دیو جی کی 552 ویں سالانہ تقریبات میں شرکت کے لئے پاکستان آنے والی بھارتی گونگی اور بہری شادی شدہ سکھ خاتون پرمجیت کور کو پاکستان آکر اسلام قبول کرکے ایک گونگے اور بہرے نوجوان محمد عمران کے ساتھ شادی مہنگی پڑگئی۔

    سردارنی پرمجیت کور جس کا اسلامی نام پروین سلطانہ رکھا گیا تھا بھارت واپسی پر اس کے خلاف تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔ بھارتی شرومنی اکالی دل دہلی کے صدر پرمجیت سنگھ سرنا نے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے ناظم الامورکو خط لکھا یے اور پاکستانی ہائی کمیشن سے بھارتی خاتون پرمجیت کور کو پاکستان جانے کے لیے آئندہ ویزہ جاری نہ کرنےاور اسے مستقل طور پر بلیک لسٹ کرنے کی درخواست کی ہے۔

    نئی دہلی گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے سابق سربراہ پرم جیت سنگھ سرنا نے پاکستانی ناظم الامور آفتاب حسن خان کولکھے گئے خط میں کہا ہے کہ وہ بھارت کی سکھ برادری کی جانب سے مغربی بنگال میں مقیم سکھ یاتری کو پاکستان سے بھارت واپس بھیجنے پر حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کرنا چاہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پرمجیت کور نے پاکستان جا کراپنے یاتری ویزا کا غلط استعمال کیا، مذہب تبدیل کیا اور دوبارہ شادی کی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سکھ خاتون پرمجیت کور کے عمل نے سرحد پار سکھ یاتریوں پر گہرا اثرمنفی اثرڈالا ہے تاہم وہ پاکستانی حکومت کے فوری ردعمل کو سراہتے ہیں جس سے صورتحال پر قابو پانے میں کافی حد تک مدد ملی۔ سرنا نے کہا کہ وہ گزارش کرتے ہیں کہ پرمجیت کور کوآئندہ کسی بھی صورت میں دوبارہ پاکستان کا سفر کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔ واضح رہے کہ18 ستمبر 1982 کو لکھنؤ میں پیدا ہونے والی گونگی بہری سکھ خاتون پرمجیت کور کے پاس کولکتہ میں جاری کردہ ہندوستانی پاسپورٹ نمبر P7867386 ہے۔ اس کا پاسپورٹ 26 فروری 2027 تک کارآمد ہے۔

  • کرتار پور راہداری 17 نومبر سے کھولنے کا اعلان

    کرتار پور راہداری 17 نومبر سے کھولنے کا اعلان

    بھارتی حکومت نے سکھوں کے سامنے گھٹنے ٹیک دئے اور بالآخر کرتار پور راہدراری17 نومبر سے کھولنے کا اعلان کر دیا ہے۔ بھارت نے کوروناوائرس کے پیش نظر 16 مارچ 2020 کو راہداری کو بند کر دیا تھا۔ جب کہ 2 اکتوبر 2020 کو پاکستان کی طرف سے راہداری دوبارہ کھولنے کا اعلان کر دیا گیا تھا۔

    پاکستان کی طرف سے متعدد بار بھارت کو خطوط لکھے گئے اور راہداری کھولنے کے حوالے سے فیصلہ لینے کی اپیل کی گئی۔ بھارت میں سکھوں کی تمام تنظیموں نے بھی راہداری کھولنے کے لئے بھارتی حکومت پر دباو ڈالا لیکن بھارتی حکومت ٹس سے مس نہ ہوئی۔

    گزشتہ ہفتے بھارتیہ جنتا پارٹی سے تعلق رکھنے والے سکھ ارکان پارلیمینٹ کے ایک وفد نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کی اور انہیں کرتارپور راہداری کھولنے کی درخواست کی جسے قبول کرتے ہوئے مودی نے گورونانک دیو کی 552 ویں سالگرہ کے موقعہ پر راپداری کھولنے کا اعلان کر دیا۔ اس حوالے سے بھارتی دفتر خارجہ تمام انتظامات کو حتمی شکل دے رہا ہے اور اس سلسلے میں پاکستان کو سرکاری طور پر مطلع کیا جارہا ہے۔

    پاکستان متروکہ وقف املاک بورڈ کے سربراہ ڈاکٹر عامر نے باغی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں غیر سرکاری طور پر اس بات کا علم ہے کہ بھارت کرتارپور راہداری17 نومبر کو کھولنے کے انتظامات کررہاہے تاہم بھارت کی طرف سے ابھی تک سرکاری طور پر مطلع نہیں کیا گیا انہوں نےکہا کہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ راہداری کو فوری طور پر کھولا جائے۔