Baaghi TV

Author: Khalid Mehmood Khalid

  • دوشنبے کی سب سے خوش آئند بات: وزیرخارجہ نے بتادیا

    دوشنبے کی سب سے خوش آئند بات: وزیرخارجہ نے بتادیا

    پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نےکہا ہے کہ دوشنبے میں سب سے خوش آئند بات یہ تھی کہ بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے ہارٹ ایشیا کانفرنس میں پاکستان کے حوالے سے کوئی منفی بات نہیں کی۔

    دوشنبے میں ایک بھارتی ٹی وی رپورٹر انس ملک سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ انہوں نے بھارتی وزیر خارجہ کی تقریر کو انتہائی غور سے سنا، انہوں نے ماضی کے برعکس اپنے تقریر میں پاکستان کے بارے میں کوئی نامناسب اور منفی تذکرہ نہیں کیا۔ انہوں نے بھارتی وزیر خارجہ کی طرف سے پاکستان پر الزام تراشی اورطعنے بازی کا رویہ اختیار نہ کرنے کو انتہائی مثبت اقدام قرار دیا۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان آگے بڑھنے کا واحد راستہ صرف بات چیت ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ بھارت خطے میں امن کے لئے اگر ایک قدم آگے بڑھائے گا تو پاکستان دو قدم آگے بڑھے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ مذاکرات سے کبھی پیچھے نہیں ہٹا۔ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں۔ دونوں ملک جنگ کی حماقتوں میں ملوث نہیں ہو سکتے۔ دونوں ملکوں کے درمیان مسائل کے حل کا کوئی ملٹری آپشن نہیں ہے جنگ دونوں ملکوں کے لئے خودکشی کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے تو بات چیت سے گریز کیوں۔ 

    ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دوشنبے میں بھارتی وزیرخارجہ جے شنکر سے کوئی باضابطہ ملاقات نہیں ہوئی اور نہ ہی کوئی بات چیت ہوئی۔ میڈیابھی اس کا گواہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی طرف سے ملاقات کی کوئی درخواست نہیں ملی تھی اور نہ ہی ہماری کوئی ملاقات طے تھی۔ بھارتی وزہرخارجہ اپنے طے شدہ پروگرام میں مصروف تھے اور میری اپنی مصروفیات طے تھیں۔ 

    وزیر خارجہ نے لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کو خوش آئند قرار دیااور کہا کہ یہ خوشی کی بات ہے کہ دونوں ملکوں نے 2003 میں ہونے والے فائر بندی کے معاہدے کی اہمیت کو سمجھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری بھی اس کا خیرمقدم کررہے ہیں۔ 

    وزیر خارجہ نے پاکستان کے قومی دن کے موقعہ پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے مبارکبادی خط اور وزیر اعظم عمران خان کے جوابی خط کا خاص طور پر ذکر کیا اور کہا کہ عمران خان نے مودی کا شکریہ ادا کیا اور واضح کیا کہ پاکستان کی دیرینہ خواہش رہی ہے کہ وہ تمام ہمسایوں کے ساتھ بہتر تعلقات اور امن کے ساتھ زندگی گزارے۔

    وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کو تمام حل طلب معاملات کا مناسب حل نکالنا چاہئے۔  

  • پاک بھارت آبی تنازعات پر دو روزہ مذاکرات منگل سے نئی دہلی میں شروع ہوں گے

    پاک بھارت آبی تنازعات پر دو روزہ مذاکرات منگل سے نئی دہلی میں شروع ہوں گے

    پاکستان اور بھارت کے درمیان آبی تنازعات پر دو روزہ مذاکرات میں شرکت کے لئے انڈس واٹر کمیشن کے سربراہ مہر علی شاہ کی قیادت میں آٹھ رکنی وفد واہگہ کے راستے بھارت روانہ ہوگا۔ دونوں ملکوں کے درمیان یہ مذاکرات نئی دہلی میں منگل سے شروع ہوں گے۔ بھارتی وفد کی قیادت بھارتی انڈس واٹر کمیشن کے سربراہ پی کے سکسینا کریں گے۔

    دونوں ملکوں کے درمیان آخری مذاکرات اگست 2018 میں لاہور میں ہوئے تھے جس میں بھارت نے پاکستانی وفد کو بھارت آکر بھارت کی جانب سے ہائیڈروالیکٹرک منصوبوں کا معائنہ کرنےکی دعوت دی تھی تاہم کشمیر پر بھارتی غاصبانہ قبضہ کے باعث دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی اور کورونا کے باعث پاکستانی وفد بھارت نہ جاسکا۔ بھارت نے پاکستان کو ورچوئل مذاکرات کی دعوت بھی دی جسے پاکستان نے قبول نہیں کیا تھا۔

     منگل کو ہونے والے مذاکرات میں پاکستان مقبوضہ کشمیر میں کشتواڑ کے مقام پر دریائے چناب پر1000 میگاواٹ کے پکل ڈل اور 48 میگاواٹ کے لوئر کلنائی ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹس کے مجوزہ ڈیزائنز اور دیگر معاملات پر اپنے تحفظات کا اظہار کرے گا۔ پاکستان کا دعوی ہے کہ بھارت یہ منصوبے غیرقانونی طور پر پاکستانی دریاوں پر تعمیر کرہا ہے۔

    مذاکرات میں پاکستانی وفد میں انڈس واٹر کمیشن کے علاوہ واپڈا، اٹارنی جنرل آفس،  موسمیات، اریگیشن اور دوسرے متعلقہ اداروں کے افسران بھی شامل ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کل ہونے والے مذاکرات کے دوران بھارت کے مجوزہ پراجیکٹس کی سائیٹس کا دورہ نہیں کرے گا۔ واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان 1960 میں ہونے والے انڈس واٹر ٹریٹی کے مطابق دونوں ملکوں کو سال میں کم از کم ایک میٹنگ کرنا ہوتی ہے۔ 

  • عمران خان نے چینی ساختہ کورونا ویکسین لگوا لی

    عمران خان نے چینی ساختہ کورونا ویکسین لگوا لی

    وزیراعظم عمران خان نے چینی ساختہ کورونا ویکسین کا پہلا شاٹ لگوا لیا ہے ، ان کا کہناتھا کہ کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا ، ملک بھر میں کورونا ویکسین لگانے کی مہم جاری ہے ۔

  • بھارت نے 212 کشمیریوں کوپاکستان آنے سے روک دیا

    بھارت نے 212 کشمیریوں کوپاکستان آنے سے روک دیا

    بھارتی حکام نے بدھ کے روز پاکستان آنے کے منتظر 212 کشمیری طلباوطالبات اور ان کے والدین کو عین اس وقت پاکستان میں داخلے سے روک دیا جب وہ اٹاری بارڈر پر امیگریشن کروانے کے کاونٹر پر موجود تھے جب کہ پاکستانی پاسپورٹ کے حامل137 افراد کو پاکستان بھیج دیا گیا۔

    تفصیلات کے مطابق گزشتہ سال مارچ میں کورونا کے باعث پاک بھارت بارڈربند ہوجانے کے باعث  بھارت میں رکے ہوئے 212 کشمیری افراد جن میں طلبا وطالبات کی بڑی تعداد جو کہ پاکستان کے مختلف تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہیں، سمیت 349 افراد کوبدھ کے روز پاکستان آنے کے لئے بھارتی حکومت نے اجازت دی تھی اور اس مقصد کیلئے واہگہ اٹاری بارڈر کو خصوصی طور پر کھولا گیا تھا۔

    کشمیری افراد ہوائی جہاز کے ٹکٹ خرید کراٹاری واہگہ بارڈر پہنچے تو بھارتی امیگریشن حکام نے ان کو پاکستان جانے سے روک دیا اور کہا کہ نئی دہلی سے ان کی امیگریشن نہ کرنے کے احکامات آئے ہیں جس کے باعث وہ پاکستان نہیں جا سکتے۔

    ان طلباوطالبات نے اٹاری بارڈر پر شدید احتجاج کیا اور انصاف کے نعرے لگائے تاہم بھارتی حکام ٹس سے مس نہ ہوئے اور انہیں پاکستان آنے کی اجازت نہیں دی۔ 

  • گیتاکے والدین کی تلاش میں بڑی حد تک کامیابی

    گیتاکے والدین کی تلاش میں بڑی حد تک کامیابی

    پاکستان سے ساڑھے پانچ سال قبل بھارت واپس جانے والی گونگی اور بہری لڑکی گیتاکے والدین کی تلاش میں بڑی حد تک کامیابی مل گئی ہے۔ بھارتی ریاست مہاراشٹر کے ضلع پربھانی کے علاقہ جنتور کی ایک خاتون مینا پندھارے نے دعوی کیا ہے کہ گیتا اس کی بیٹی ہے۔ اس نے گیتا کی جو جسمانی نشانیاں بتائی ہیں وہ بھی درست ثابت ہوگئی ہیں جب کہ گیتا اپنے رہائشی علاقہ کے بارے میں جو کچھ بتاتی رہی ہے وہ بھی مینا پندھارے کے گھر کے اردگرد درست ثابت ہورہی ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق مینا پندھاری نے بتایا کہ گیتا کے پیٹ پر جلنے کا نشان ہے جو جو گیتا کے پیٹ پر اسی جگہ موجود ہے جہاں مینا بتارہی ہے۔ اس کے گھر کے نزدیک گنے کے کھیت بھی ہیں جب کہ وہاں دریا بھی موجود ہے۔ یہ سب نشانیاں گیتا نے بتائی تھیں۔ بھارےی حکام اب جلد ہی دونوں کے ڈی این اے ٹیسٹ کروانے کی تیاریوں میں ہیں اور اگر یہ ٹیسٹ میچ کر گیا تو گیتا کو مینا کے حوالے کردیا جائے گا اور یوں گیتا کو والدین سے ملانے کا جو وعدہ آنجہانی سشماسوراج نے گیتا سے کیا تھا وہ پورا ہو جائے گا۔

    گیتا کی عمردس سال تھی جب 2000 میں وہ امرتسر میں غلطی سے سمجھوتا ایکسپریس میں سوار ہو کر لاہور پہنچ گئی تھی اور ریلوے اسٹیشن پر بے یارومددگار پھر رہی تھی کہ پاکستان رینجرز نے اسے تحویل میں لے لیا جہاں اس سے تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ وہ نہ تو سن سکتی ہے اور نہ ہی بول سکتی ہے۔ رینجرز حکام نےاسے ایدھی فاونڈیشن کے سپرد کردیا جہاں عبدالستار ایدھی نے اسے اپنی بیٹی بنا لیااوراسے ایک دردمند شخص کے پاس رہنے کے لئے بھیج دیا۔

    اسی دوران پاکستان نے بھارتی حکام سے رابطہ کیا تو بھارت میں کئی خاندانوں نے دعویٰ کیا کہ وہ ان کی بیٹی ہے۔ لیکن جب ان کی تصاویر پاکستان میں بھارتی ہائی کمیشن کی وساطت سے گیتا کو دکھائی جاتیں تو وہ انہیں پہچاننے سے انکار کر دیتی۔ بالآخر ایک فیملی کو گپتا نے شناخت کرلیا جس کی بنیاد پر بھارتی حکام نے گپتا کی سفری دستاویز تیار کیں اورآخرکار 26اکتوبر 2015کو اس وقت کی بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج گیتا کو بھارت لے جانے میں کامیاب ہوگئیں۔

    بھارت پہنچ کر گیتا نے اس فیملی کو بھی اپنا ماننے سے انکار کردیا جس کے بعد سشما سوراج نے گیتا کو بھارت کی بیٹی قرار دیااور اس سے وعدہ کیا کہ وہ بھارت بھر میں اس کے حقیقی والدین کو تلاش کریں گی۔ سشماسوراج نے گیتا کو سرکاری سرپرستی میں چلنے والی ایک این جی او کے سپرد کردیا جہاں اسے گونگے بہرے بچوں کے اسکول میں داخل کرادیاگیا۔ اسی دوران گیتا کے والدین کی تلاش جاری رہی تاہم سشماسوراج کی موت کے بعد یہ تلاش رک گئی۔

    گیتا اس وقت بھی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر اندور میں اسی این جی او کے پاس رہ رہی ہے اور اس وقت اس کی عمر تیس برس ہے۔چند دن قبل گیتا کے والدین کی دوبارہ تلاش شروع کی گئی اور اسی سلسلے میں گیتا حیدرآباد کے شہر بسار ٹاؤن پہنچی جہاں پولیس کی مدد سے اسے ریلوے اسٹیشن، مندروں، دریا اور بس اڈوں پر لے جایا گیا لیکن اس کے والدین کا کوئی نشان نہ مل سکا۔ اتنا عرصہ اپنوں سے جدائی کا دکھ تو گیتا کو ضرور ہوگا لیکن اس کی سننے اور بولنے کی اہلیت نہ ہونے کے سبب اس کا دکھ گم ہو کر رہ گیا ہے۔

  • بھارت کی جانب سے سیزفائر پر آمادگی خوش آئند ہے،وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی

    بھارت کی جانب سے سیزفائر پر آمادگی خوش آئند ہے،وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی

    وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے پاک بھارت سیز فائر اتفاق کو اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے سیز فائر پر آمادگی خوش آئند اور مستقبل کیلئے ایک اچھا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔

    وزیر خارجہ کی جانب سے جاری اہم بیان میں بھارت کو خلوص نیت کیساتھ اس سیز فائر معاہدے کی پاسداری کرنا ہوگی۔ بھارت کے 5 اگست 2019ء کے یکطرفہ اقدام کے بعد ماحول میں جو بگاڑ پیدا ہوا، اس کی درستگی کیلئے اسے اہم موقع سمجھتا ہوں۔

    پاک بھارت سیز فائر معاہدے کے حوالے سے وزیر خارجہ نے اہم بیان میں کہا کہ پاکستان اور بھارت کے مابین جتنے سی بی ایم ہوئے، ان میں سب سے اہم سیز فائر معاہدہ تھا۔ بھارت کی جانب سے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیوں کے خلاف ہم مسلسل احتجاج کرتے رہے۔

    وزیر خارجہ نے کہا کہ میں نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کو کئی خطوط ارسال کیے اور عالمی برادری کی توجہ اس جانب مبذول کروائی،ہم نے واضح کیا کہ سیز فائر خلاف ورزیوں سے ہمارے معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی سے جہاں خطے میں تنائو بڑھ رہا ہے وہاں امن و امان کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں ۔وزیر خارجہ نے کہا کہ میں آج پاک بھارت سیز فائر اتفاق کو اہم پیش رفت سمجھتا ہوں ،یہ مستقبل کیلئے ایک اچھا آغاز ثابت ہو سکتا ہے بھارت کو خلوص نیت کیساتھ اس سیز فائر معاہدے کی پاسداری کرنا ہو گی۔

    شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جب تک ماحول سازگار نہیں ہو گا ہم مقبوضہ کشمیر کے مسئلے پر پیش رفت کیسے کر سکیں گے۔میرا عالمی برادری کیساتھ جب جب رابطہ ہوا میں نے انہیں خطے کے امن وامان کو درپیش خطرات سے آگاہ کیا۔

    انہوں نے کہا کہ بھارت سرکار کو اپنی کشمیر پالیسی پر نظر ثانی کرنا ہو گی۔کشمیری، دہلی سرکار کی غلط پالیسیوں کے باعث ان سے دور ہو چکے ہیں۔آج کسان بھارت سرکار کے رویے سے نالاں ہیں اور سراپا احتجاج ہیں ۔وزیر خارجہ نے کہا کہ اگر بھارت اس معاہدے کی پاسداری کرتا ہے تو یہ آئندہ کی طرف ایک مثبت قدم ہو گا۔بھارت کے 5 اگست 2019 کے یکطرفہ اقدام کے بعد ماحول میں جو بگاڑ پیدا ہوا اس کی درستگی کیلئے اسے اہم موقع سمجھتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان، ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن تعلقات کا خواہاں ہے ۔میں بھارت کی جانب سے سیز فائر پر آمادگی کو “دیر آید درست آید” سمجھتا ہوں۔

  • جنگ جیو نیوز کراچی آفس پر مظاہرین کا دھاوا، توڑ پھوڑ

    جنگ جیو نیوز کراچی آفس پر مظاہرین کا دھاوا، توڑ پھوڑ

    کراچی کے آئی آئی چندریگر روڈ پرجنگ اور جیو کے مرکزی دفتر پر حملے کے دوران مظاہرین  نے عملے پر تشدد کیا اور دھکے دیے۔
    مظاہرین نے واک تھرو گیٹ اورمرکزی دروازہ توڑدیا جبکہ مظاہرین نے دفتر کے شیشے بھی توڑ دیے ہیں۔

    جنگ جیو انتظامیہ کے مطابق مظاہرین نے جیو نیوز کے عملے کو حراساں کیا جبکہ عمارت کے اندر بھی خواتین سمیت ملازمین کی بڑی تعداد موجود ہے۔
    مظاہرین نے دفتر کے باہر  دھرنا دے دیا ہے اور جیو نیوز کے پروگرام  کے اینکر کی وضاحت کے باوجود معافی کا مطالبہ کیا ہے۔
    دوسری جانب سینیر تجزیہ کار اور جیو نیوز کے پروگرام ’خبرناک‘ کے میزبان ارشاد بھٹی نے وضاحت  دی ہے۔
    ان کا کہنا ہے کہ ان کا پروگرام طنز و مزاح کا پروگرام ہے، سندھ اور سندھی اسی طرح ان کے وجود کا حصہ ہیں، جس طرح ملک کا کوئی اور دوسرا صوبہ ہے۔

    ‏وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز کا کہنا ہے کہ جنگ، جیودفاترپرحملےکی مذمت کرتےہیں، انہوں نے کہا کہ ‏تشددکسی صورت بھی قابل قبول نہیں ہے،شبلی فراز نے کہا کہ سندھ حکومت نےبروقت پولیس فراہم کیوں نہیں کی۔
    ‏اس واقعےکی تحقیقات ہونی چاہیے، انہوں نے کہا کہ ‏احتجاج سب کاحق ہےمگرتشددکی کسی صورت اجازت نہیں دی جاسکتی،

  • پاکستان اور بھارت کے درمیان اتوار کو کرکٹ ڈپلومیسی کا آغاز

    پاکستان اور بھارت کے درمیان اتوار کو کرکٹ ڈپلومیسی کا آغاز

    پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات بہتری کی طرف بڑھنا شروع ہوگئے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان سخت کشیدگی کے باوجود اتوار کو بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ ڈپلومیسی کاآغازہورہا ہے۔

    نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن نے میں مختلف میڈیا ہاوسز سے تعلق رکھنے والےصحافیوں کے ساتھ کرکٹ میچ کا اہتمام کیا ہے جو اتوار کے روز پاکستانی ہائی کمیشن کی گراونڈ میں ہوگا۔ نئی دہلی میں تعینات پاکستانی ناظم الامور آفتاب حسن خان خود بھی میچ کھیلیں گے جب کہ پریس قونصلر خواجہ معاذ پاکستانی ٹیم کے کپتان ہوں گے۔ ٹیم کے دیگر کھلاڑیوں میں دفاعی اتاشی بریگیڈئر علی، ائر ایڈوائزر عبدل عادل، ٹریڈ قونصلر عادل جدون، ہارون مرتضی، منظر عباس، عمران، عامراور بلال شامل ہیں۔

    بھارتی صحافیوں کی ٹیم میں اے بی پی نیوز کے آشیش سنگھ کپتان ہوں گے جب کہ دیگر کھلاڑیوں میں فورس میگزین کے شبیر احمد، دی وائر کے شوم باسو، ٹائمز آف انڈیا کے سچن پراسار، وی اون نیوز کے سدھانت سبھل، سی این این 18 کے نیرج کمار، زی نیوز کے روی ترپاٹھی، اے بی پی نیوز کے ابھیناو پانڈے، سپوتنک کے دھاریہ، ٹی وی 18 کے عادل میر، این ڈی ٹی وی کے اوما شنکر سنگھ، اے این آئی کی نوین کپور اور اشوک سچن شامل ہیں۔

    پہلی اننگز کے اختتام کے بعد پاکستانی ہائی کمیشن کی طرف سے پرتکلف ظہرانہ دیا جائے گا جب کہ جیتنے والی ٹیم کو ٹرافی دی جائے گی.

  • بھارتی حکومت نےسکھوں کے لئے اٹاری بارڈر کھولنے سے انکار کردیا

    بھارتی حکومت نےسکھوں کے لئے اٹاری بارڈر کھولنے سے انکار کردیا

    بھارتی حکومت نے مذہبی رسومات ادا کرنے کے لئے پاکستان آنے والے سکھوں کے لئے اٹاری بارڈر کھولنے سے انکار کردیا ہے اور انہیں آخری لمحات میں پاکستان جانے سے روک دیا ہے۔ ساکہ ننکانہ صاحب کی 100 سالہ تقریبات میں شرکت کے لیے بھارت کے مختلف شہروں سے 600 سکھوں کا جتھہ آج واہگہ کے راستے پاکستان آرہا تھا۔ 17 فروری کی شام کو نئی دہلی میں وزارت داخلہ کی طرف سے امرتسر شرومنی گوردوارہ پربندھک کمیٹی کی صدر بی بی جاگیر کور بھیگووال کے نام لکھے گئے متضاد دعووں سے بھر پور خط میں دعوی کیا گیا ہے کہ پاکستان جانے والے بھارتی شہریوں کی جان کو خطرہ ہے اور اس بارے میں بھارتی حکومت کے پاس مصدقہ اطلاعات موجود ہیں جس کے پیش نظر حکومت 600 بھارتی شہریوں کی جان داو پر نہیں لگا سکتی۔ خط میں مزید لکھا گیا ہے کہ کورونا کی وجہ سے پاک بھارت سرحد بند ہے جو اس وقت کھولنا مناسب نہیں اس لئے بھارتی حکومت سکھوں کے جتھے کو پاکستان جانے کی اجازت نہیں دے سکتی۔

    دریں اثنا پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی اور شرومنی گوردوارہ پربندھک کمیٹی امرتسر نے بھارتی حکومت کے اقدام پر احتجاج کیا ہے۔ شرومنی گوردوارہ پربندھک کمیٹی کی صدر بی بی جاگیر کورکا کہنا ہے کہ ان کی اپنی حکومت نے سکھوں کے ساتھ دھوکا کیا یے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ بھارت کی مرکزی حکومت کی اس حرکت سےسکھوں کے دل ٹوٹ گئے ہیں۔ حکومت کا سکھوں کے ساتھ امتیازی سلوک کا ایک اور ہتکھنڈا سامنے آگیا۔ انہوں نے کہا کہ جتھے کوپاکستان آنے سے روکنا انتہائی ماہوس کن ہے۔ مختلف ریاستوں سے یاتری شری دربارصاحب امرتسرپہنچ چکے ہیں اور آج انہوں نے بارڈرکراس کرنا تھا لیکن بدھ کی شام کو بھارت کی ہوم منسٹری کی طرف سے پیٍغام آگیا کہ یاتری پاکستان نہیں جاسکتے.

    انہوں نے کہا کہ نومبر میں یاتری پاکستان گئے تھے اس وقت سیکیورٹی کا کوئی مسلہ نہیں تھا جب کہ کورونا کے باوجود اٹاری بارڈر بھی کھولا گیا لیکن اس وقت جب کہ ساکہ ننکانہ صاحب کی تقریبات میں شرکت کے لیے آنیوالے 730 بھارتی سکھ یاتریوں کو پاکستانی ہائی کمیشن نئی دہلی کی طرف سے ویزے جاری کیے گئے انہیں روکنا مناسب نہیں۔ بی بی جاگیرکور کے مطابق پاکستان جانے والے یاتریوں نے مکمل تیاری کرلی تھی لیکن اب ہماری ہی حکومت نے ہمیں دھوکہ دیا ہے۔

    دوسری طرف پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی کی طرف سے 27 لاکھ روپے سے 20 بسوں کی بکنگ کروائی گئی تھی جب کہ آج واہگہ بارڈر پر بھرپور استقبال کیا جانا تھا لیکن بھارتی حکومت نے آخری وقت پر سکھ یاتریوں کوپاکستان آنے سے روکنے سے تمام انتظامات دھرے رہ گئے۔ پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے سیکرٹری سردار امیر سنگھ نے بھارت کے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی سرکار کی مسلمانوں کے ساتھ ساتھ سکھوں کے ساتھ دشمنی کھل کرسامنے آرہی ہے۔ شری اکال تخت صاحب کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔ ساکہ ننکانہ صاحب پوری دنیا میں بسنے والے سکھوں کے لیے انتہائی اہم ہے۔

  • غلطی سے سرحد پار کرنے والا پاکستانی بھارتی گولی سے شہید

    غلطی سے سرحد پار کرنے والا پاکستانی بھارتی گولی سے شہید

    بھارتی حکومت کی سرحدی دہشت گردی میں کمی نہ آسکی۔ گزشتہ روز بھی غلطی سے بھارتی علاقے میں جانے والے پاکستانی کو گولی مار کر شہید کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق آزاد کشمیر کا رہائشی نوجوان راستہ بھٹک کر بھارتی مقبوضہ کشمیر بارڈر پوسٹ نمبر 64 سے بھارتی علاقے چک فقیرہ میں جا پہنچا جہاں بغیر وارننگ کے اسے گولی مار دی گئی اور وہ موقعہ پر ہی شہید ہو گیا۔ دریں اثنا بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورسز کے انسپکٹر جنرل این ایس جسوال کا کہنا ہے کہ شہید ہونے والا پاکستانی بھارت میں دراندازی کی کوشش کر رہا تھا جسے روکنے کی کوشش کی گئی لیکن وہ بھارتی علاقے میں کافی اندر تک آگیا جسے کے بعد بی ایس ایف نے کارروائی کر کے اسے گولی مار دی تاہم اس کے قبضہ سے کوئی بھی چیز برآمد نہیں ہو سکی اور نہ ہی اس کی شناخت ظاہر کی گئی ہے۔ اس سے قبل 23 نومر کو بھی اسی علاقے میں ایک پاکستانی شخص کو گولی مار دی گئی تھی۔