Baaghi TV

Author: Khalid Mehmood Khalid

  • گیتاکے والدین کی تلاش میں بڑی حد تک کامیابی

    گیتاکے والدین کی تلاش میں بڑی حد تک کامیابی

    پاکستان سے ساڑھے پانچ سال قبل بھارت واپس جانے والی گونگی اور بہری لڑکی گیتاکے والدین کی تلاش میں بڑی حد تک کامیابی مل گئی ہے۔ بھارتی ریاست مہاراشٹر کے ضلع پربھانی کے علاقہ جنتور کی ایک خاتون مینا پندھارے نے دعوی کیا ہے کہ گیتا اس کی بیٹی ہے۔ اس نے گیتا کی جو جسمانی نشانیاں بتائی ہیں وہ بھی درست ثابت ہوگئی ہیں جب کہ گیتا اپنے رہائشی علاقہ کے بارے میں جو کچھ بتاتی رہی ہے وہ بھی مینا پندھارے کے گھر کے اردگرد درست ثابت ہورہی ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق مینا پندھاری نے بتایا کہ گیتا کے پیٹ پر جلنے کا نشان ہے جو جو گیتا کے پیٹ پر اسی جگہ موجود ہے جہاں مینا بتارہی ہے۔ اس کے گھر کے نزدیک گنے کے کھیت بھی ہیں جب کہ وہاں دریا بھی موجود ہے۔ یہ سب نشانیاں گیتا نے بتائی تھیں۔ بھارےی حکام اب جلد ہی دونوں کے ڈی این اے ٹیسٹ کروانے کی تیاریوں میں ہیں اور اگر یہ ٹیسٹ میچ کر گیا تو گیتا کو مینا کے حوالے کردیا جائے گا اور یوں گیتا کو والدین سے ملانے کا جو وعدہ آنجہانی سشماسوراج نے گیتا سے کیا تھا وہ پورا ہو جائے گا۔

    گیتا کی عمردس سال تھی جب 2000 میں وہ امرتسر میں غلطی سے سمجھوتا ایکسپریس میں سوار ہو کر لاہور پہنچ گئی تھی اور ریلوے اسٹیشن پر بے یارومددگار پھر رہی تھی کہ پاکستان رینجرز نے اسے تحویل میں لے لیا جہاں اس سے تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ وہ نہ تو سن سکتی ہے اور نہ ہی بول سکتی ہے۔ رینجرز حکام نےاسے ایدھی فاونڈیشن کے سپرد کردیا جہاں عبدالستار ایدھی نے اسے اپنی بیٹی بنا لیااوراسے ایک دردمند شخص کے پاس رہنے کے لئے بھیج دیا۔

    اسی دوران پاکستان نے بھارتی حکام سے رابطہ کیا تو بھارت میں کئی خاندانوں نے دعویٰ کیا کہ وہ ان کی بیٹی ہے۔ لیکن جب ان کی تصاویر پاکستان میں بھارتی ہائی کمیشن کی وساطت سے گیتا کو دکھائی جاتیں تو وہ انہیں پہچاننے سے انکار کر دیتی۔ بالآخر ایک فیملی کو گپتا نے شناخت کرلیا جس کی بنیاد پر بھارتی حکام نے گپتا کی سفری دستاویز تیار کیں اورآخرکار 26اکتوبر 2015کو اس وقت کی بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج گیتا کو بھارت لے جانے میں کامیاب ہوگئیں۔

    بھارت پہنچ کر گیتا نے اس فیملی کو بھی اپنا ماننے سے انکار کردیا جس کے بعد سشما سوراج نے گیتا کو بھارت کی بیٹی قرار دیااور اس سے وعدہ کیا کہ وہ بھارت بھر میں اس کے حقیقی والدین کو تلاش کریں گی۔ سشماسوراج نے گیتا کو سرکاری سرپرستی میں چلنے والی ایک این جی او کے سپرد کردیا جہاں اسے گونگے بہرے بچوں کے اسکول میں داخل کرادیاگیا۔ اسی دوران گیتا کے والدین کی تلاش جاری رہی تاہم سشماسوراج کی موت کے بعد یہ تلاش رک گئی۔

    گیتا اس وقت بھی ریاست مدھیہ پردیش کے شہر اندور میں اسی این جی او کے پاس رہ رہی ہے اور اس وقت اس کی عمر تیس برس ہے۔چند دن قبل گیتا کے والدین کی دوبارہ تلاش شروع کی گئی اور اسی سلسلے میں گیتا حیدرآباد کے شہر بسار ٹاؤن پہنچی جہاں پولیس کی مدد سے اسے ریلوے اسٹیشن، مندروں، دریا اور بس اڈوں پر لے جایا گیا لیکن اس کے والدین کا کوئی نشان نہ مل سکا۔ اتنا عرصہ اپنوں سے جدائی کا دکھ تو گیتا کو ضرور ہوگا لیکن اس کی سننے اور بولنے کی اہلیت نہ ہونے کے سبب اس کا دکھ گم ہو کر رہ گیا ہے۔

  • بھارت کی جانب سے سیزفائر پر آمادگی خوش آئند ہے،وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی

    بھارت کی جانب سے سیزفائر پر آمادگی خوش آئند ہے،وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی

    وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے پاک بھارت سیز فائر اتفاق کو اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے سیز فائر پر آمادگی خوش آئند اور مستقبل کیلئے ایک اچھا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔

    وزیر خارجہ کی جانب سے جاری اہم بیان میں بھارت کو خلوص نیت کیساتھ اس سیز فائر معاہدے کی پاسداری کرنا ہوگی۔ بھارت کے 5 اگست 2019ء کے یکطرفہ اقدام کے بعد ماحول میں جو بگاڑ پیدا ہوا، اس کی درستگی کیلئے اسے اہم موقع سمجھتا ہوں۔

    پاک بھارت سیز فائر معاہدے کے حوالے سے وزیر خارجہ نے اہم بیان میں کہا کہ پاکستان اور بھارت کے مابین جتنے سی بی ایم ہوئے، ان میں سب سے اہم سیز فائر معاہدہ تھا۔ بھارت کی جانب سے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیوں کے خلاف ہم مسلسل احتجاج کرتے رہے۔

    وزیر خارجہ نے کہا کہ میں نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کو کئی خطوط ارسال کیے اور عالمی برادری کی توجہ اس جانب مبذول کروائی،ہم نے واضح کیا کہ سیز فائر خلاف ورزیوں سے ہمارے معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی سے جہاں خطے میں تنائو بڑھ رہا ہے وہاں امن و امان کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں ۔وزیر خارجہ نے کہا کہ میں آج پاک بھارت سیز فائر اتفاق کو اہم پیش رفت سمجھتا ہوں ،یہ مستقبل کیلئے ایک اچھا آغاز ثابت ہو سکتا ہے بھارت کو خلوص نیت کیساتھ اس سیز فائر معاہدے کی پاسداری کرنا ہو گی۔

    شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جب تک ماحول سازگار نہیں ہو گا ہم مقبوضہ کشمیر کے مسئلے پر پیش رفت کیسے کر سکیں گے۔میرا عالمی برادری کیساتھ جب جب رابطہ ہوا میں نے انہیں خطے کے امن وامان کو درپیش خطرات سے آگاہ کیا۔

    انہوں نے کہا کہ بھارت سرکار کو اپنی کشمیر پالیسی پر نظر ثانی کرنا ہو گی۔کشمیری، دہلی سرکار کی غلط پالیسیوں کے باعث ان سے دور ہو چکے ہیں۔آج کسان بھارت سرکار کے رویے سے نالاں ہیں اور سراپا احتجاج ہیں ۔وزیر خارجہ نے کہا کہ اگر بھارت اس معاہدے کی پاسداری کرتا ہے تو یہ آئندہ کی طرف ایک مثبت قدم ہو گا۔بھارت کے 5 اگست 2019 کے یکطرفہ اقدام کے بعد ماحول میں جو بگاڑ پیدا ہوا اس کی درستگی کیلئے اسے اہم موقع سمجھتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان، ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن تعلقات کا خواہاں ہے ۔میں بھارت کی جانب سے سیز فائر پر آمادگی کو “دیر آید درست آید” سمجھتا ہوں۔

  • جنگ جیو نیوز کراچی آفس پر مظاہرین کا دھاوا، توڑ پھوڑ

    جنگ جیو نیوز کراچی آفس پر مظاہرین کا دھاوا، توڑ پھوڑ

    کراچی کے آئی آئی چندریگر روڈ پرجنگ اور جیو کے مرکزی دفتر پر حملے کے دوران مظاہرین  نے عملے پر تشدد کیا اور دھکے دیے۔
    مظاہرین نے واک تھرو گیٹ اورمرکزی دروازہ توڑدیا جبکہ مظاہرین نے دفتر کے شیشے بھی توڑ دیے ہیں۔

    جنگ جیو انتظامیہ کے مطابق مظاہرین نے جیو نیوز کے عملے کو حراساں کیا جبکہ عمارت کے اندر بھی خواتین سمیت ملازمین کی بڑی تعداد موجود ہے۔
    مظاہرین نے دفتر کے باہر  دھرنا دے دیا ہے اور جیو نیوز کے پروگرام  کے اینکر کی وضاحت کے باوجود معافی کا مطالبہ کیا ہے۔
    دوسری جانب سینیر تجزیہ کار اور جیو نیوز کے پروگرام ’خبرناک‘ کے میزبان ارشاد بھٹی نے وضاحت  دی ہے۔
    ان کا کہنا ہے کہ ان کا پروگرام طنز و مزاح کا پروگرام ہے، سندھ اور سندھی اسی طرح ان کے وجود کا حصہ ہیں، جس طرح ملک کا کوئی اور دوسرا صوبہ ہے۔

    ‏وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز کا کہنا ہے کہ جنگ، جیودفاترپرحملےکی مذمت کرتےہیں، انہوں نے کہا کہ ‏تشددکسی صورت بھی قابل قبول نہیں ہے،شبلی فراز نے کہا کہ سندھ حکومت نےبروقت پولیس فراہم کیوں نہیں کی۔
    ‏اس واقعےکی تحقیقات ہونی چاہیے، انہوں نے کہا کہ ‏احتجاج سب کاحق ہےمگرتشددکی کسی صورت اجازت نہیں دی جاسکتی،

  • پاکستان اور بھارت کے درمیان اتوار کو کرکٹ ڈپلومیسی کا آغاز

    پاکستان اور بھارت کے درمیان اتوار کو کرکٹ ڈپلومیسی کا آغاز

    پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات بہتری کی طرف بڑھنا شروع ہوگئے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان سخت کشیدگی کے باوجود اتوار کو بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ ڈپلومیسی کاآغازہورہا ہے۔

    نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن نے میں مختلف میڈیا ہاوسز سے تعلق رکھنے والےصحافیوں کے ساتھ کرکٹ میچ کا اہتمام کیا ہے جو اتوار کے روز پاکستانی ہائی کمیشن کی گراونڈ میں ہوگا۔ نئی دہلی میں تعینات پاکستانی ناظم الامور آفتاب حسن خان خود بھی میچ کھیلیں گے جب کہ پریس قونصلر خواجہ معاذ پاکستانی ٹیم کے کپتان ہوں گے۔ ٹیم کے دیگر کھلاڑیوں میں دفاعی اتاشی بریگیڈئر علی، ائر ایڈوائزر عبدل عادل، ٹریڈ قونصلر عادل جدون، ہارون مرتضی، منظر عباس، عمران، عامراور بلال شامل ہیں۔

    بھارتی صحافیوں کی ٹیم میں اے بی پی نیوز کے آشیش سنگھ کپتان ہوں گے جب کہ دیگر کھلاڑیوں میں فورس میگزین کے شبیر احمد، دی وائر کے شوم باسو، ٹائمز آف انڈیا کے سچن پراسار، وی اون نیوز کے سدھانت سبھل، سی این این 18 کے نیرج کمار، زی نیوز کے روی ترپاٹھی، اے بی پی نیوز کے ابھیناو پانڈے، سپوتنک کے دھاریہ، ٹی وی 18 کے عادل میر، این ڈی ٹی وی کے اوما شنکر سنگھ، اے این آئی کی نوین کپور اور اشوک سچن شامل ہیں۔

    پہلی اننگز کے اختتام کے بعد پاکستانی ہائی کمیشن کی طرف سے پرتکلف ظہرانہ دیا جائے گا جب کہ جیتنے والی ٹیم کو ٹرافی دی جائے گی.

  • بھارتی حکومت نےسکھوں کے لئے اٹاری بارڈر کھولنے سے انکار کردیا

    بھارتی حکومت نےسکھوں کے لئے اٹاری بارڈر کھولنے سے انکار کردیا

    بھارتی حکومت نے مذہبی رسومات ادا کرنے کے لئے پاکستان آنے والے سکھوں کے لئے اٹاری بارڈر کھولنے سے انکار کردیا ہے اور انہیں آخری لمحات میں پاکستان جانے سے روک دیا ہے۔ ساکہ ننکانہ صاحب کی 100 سالہ تقریبات میں شرکت کے لیے بھارت کے مختلف شہروں سے 600 سکھوں کا جتھہ آج واہگہ کے راستے پاکستان آرہا تھا۔ 17 فروری کی شام کو نئی دہلی میں وزارت داخلہ کی طرف سے امرتسر شرومنی گوردوارہ پربندھک کمیٹی کی صدر بی بی جاگیر کور بھیگووال کے نام لکھے گئے متضاد دعووں سے بھر پور خط میں دعوی کیا گیا ہے کہ پاکستان جانے والے بھارتی شہریوں کی جان کو خطرہ ہے اور اس بارے میں بھارتی حکومت کے پاس مصدقہ اطلاعات موجود ہیں جس کے پیش نظر حکومت 600 بھارتی شہریوں کی جان داو پر نہیں لگا سکتی۔ خط میں مزید لکھا گیا ہے کہ کورونا کی وجہ سے پاک بھارت سرحد بند ہے جو اس وقت کھولنا مناسب نہیں اس لئے بھارتی حکومت سکھوں کے جتھے کو پاکستان جانے کی اجازت نہیں دے سکتی۔

    دریں اثنا پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی اور شرومنی گوردوارہ پربندھک کمیٹی امرتسر نے بھارتی حکومت کے اقدام پر احتجاج کیا ہے۔ شرومنی گوردوارہ پربندھک کمیٹی کی صدر بی بی جاگیر کورکا کہنا ہے کہ ان کی اپنی حکومت نے سکھوں کے ساتھ دھوکا کیا یے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ بھارت کی مرکزی حکومت کی اس حرکت سےسکھوں کے دل ٹوٹ گئے ہیں۔ حکومت کا سکھوں کے ساتھ امتیازی سلوک کا ایک اور ہتکھنڈا سامنے آگیا۔ انہوں نے کہا کہ جتھے کوپاکستان آنے سے روکنا انتہائی ماہوس کن ہے۔ مختلف ریاستوں سے یاتری شری دربارصاحب امرتسرپہنچ چکے ہیں اور آج انہوں نے بارڈرکراس کرنا تھا لیکن بدھ کی شام کو بھارت کی ہوم منسٹری کی طرف سے پیٍغام آگیا کہ یاتری پاکستان نہیں جاسکتے.

    انہوں نے کہا کہ نومبر میں یاتری پاکستان گئے تھے اس وقت سیکیورٹی کا کوئی مسلہ نہیں تھا جب کہ کورونا کے باوجود اٹاری بارڈر بھی کھولا گیا لیکن اس وقت جب کہ ساکہ ننکانہ صاحب کی تقریبات میں شرکت کے لیے آنیوالے 730 بھارتی سکھ یاتریوں کو پاکستانی ہائی کمیشن نئی دہلی کی طرف سے ویزے جاری کیے گئے انہیں روکنا مناسب نہیں۔ بی بی جاگیرکور کے مطابق پاکستان جانے والے یاتریوں نے مکمل تیاری کرلی تھی لیکن اب ہماری ہی حکومت نے ہمیں دھوکہ دیا ہے۔

    دوسری طرف پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی کی طرف سے 27 لاکھ روپے سے 20 بسوں کی بکنگ کروائی گئی تھی جب کہ آج واہگہ بارڈر پر بھرپور استقبال کیا جانا تھا لیکن بھارتی حکومت نے آخری وقت پر سکھ یاتریوں کوپاکستان آنے سے روکنے سے تمام انتظامات دھرے رہ گئے۔ پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے سیکرٹری سردار امیر سنگھ نے بھارت کے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی سرکار کی مسلمانوں کے ساتھ ساتھ سکھوں کے ساتھ دشمنی کھل کرسامنے آرہی ہے۔ شری اکال تخت صاحب کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔ ساکہ ننکانہ صاحب پوری دنیا میں بسنے والے سکھوں کے لیے انتہائی اہم ہے۔

  • غلطی سے سرحد پار کرنے والا پاکستانی بھارتی گولی سے شہید

    غلطی سے سرحد پار کرنے والا پاکستانی بھارتی گولی سے شہید

    بھارتی حکومت کی سرحدی دہشت گردی میں کمی نہ آسکی۔ گزشتہ روز بھی غلطی سے بھارتی علاقے میں جانے والے پاکستانی کو گولی مار کر شہید کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق آزاد کشمیر کا رہائشی نوجوان راستہ بھٹک کر بھارتی مقبوضہ کشمیر بارڈر پوسٹ نمبر 64 سے بھارتی علاقے چک فقیرہ میں جا پہنچا جہاں بغیر وارننگ کے اسے گولی مار دی گئی اور وہ موقعہ پر ہی شہید ہو گیا۔ دریں اثنا بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورسز کے انسپکٹر جنرل این ایس جسوال کا کہنا ہے کہ شہید ہونے والا پاکستانی بھارت میں دراندازی کی کوشش کر رہا تھا جسے روکنے کی کوشش کی گئی لیکن وہ بھارتی علاقے میں کافی اندر تک آگیا جسے کے بعد بی ایس ایف نے کارروائی کر کے اسے گولی مار دی تاہم اس کے قبضہ سے کوئی بھی چیز برآمد نہیں ہو سکی اور نہ ہی اس کی شناخت ظاہر کی گئی ہے۔ اس سے قبل 23 نومر کو بھی اسی علاقے میں ایک پاکستانی شخص کو گولی مار دی گئی تھی۔ 

  • بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں وکشمیر میں فوجی محاصرے کو 18 ماہ مکمل

    بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں وکشمیر میں فوجی محاصرے کو 18 ماہ مکمل

    بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں وکشمیر میں نریندر مودی کی فسطائی بھارتی حکومت کی طرف سے 05 اگست 2019 کو نافذ کئے گئے مسلسل فوجی محاصرے کی وجہ سے مقبوضہ علاقے میں کشمیریوں کی معمولات زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے ۔

    فوجی محاصرے کو 18 ماہ مکمل ہونے کے موقع پرکشمیر میڈیا سروس کے ریسرچ سیکشن کی طرف سے جاری ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارتی فوجیوں نے اس عرصے کے دوران 7 خواتین سمیت 308 کشمیریوں کو شہید کیا۔

    ان میں سے بیشتر کشمیریوں کو فوجیوں نے جعلی مقابلوں یاحراست کے دوران شہید کیا ۔نوجوانوں کو تلاشی اور محاصرے کی نام نہاد کارروائیوں کے دوران گھروں سے اغوا کر کے انہیں مجاہدیا مجاہد تنظیموں کا کارکن قراردیکر جعلی مقابلوں میں شہید کردیاجاتا ہے۔ گزشتہ 18 ماہ کے دوران فوجیوں کے ہاتھوں کشمیریوںکی شہادتوں کے نتیجے میں 16خواتین بیوہ اور 38بچے یتیم ہوئے ۔
    رپورٹ میں مزید کہاگیا ہے کہ بھارتی فوجیوں کی طرف سے مقبوضہ علاقے میں پر امن مظاہرین پر آنسو گیس ، گولیوں اور پیلٹ گن سمیت طاقت کے وحشیانہ استعمال سے کم سے کم ایک ہزار701کشمیری شدیدزخمی ہو گئے ۔ اس دوران فوجیوں نے 993سے زائد گھروں اور عمارتوں کو تباہ، 103خواتین کی بے حرمتی کی اور 14ہزار489افراد کو گرفتار کیا۔

    گزشتہ ماہ جنوری کے دوران فوجیوں نے بی ٹیک گریجویٹ سمیت تین کشمیری نوجوانوں کو جعلی مقابلوں میں شہید کیا۔ کشمیرمیڈیاسروس کے ریسرچ سیکشن کے مطابق بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی طرف سے گولیوں اور آنسو گیس کے بے دریغ استعمال کی وجہ سے کم سے کم 16کشمیری زخمی ہو گئے ۔ گزشتہ ماہ جموں وکشمیر کے مختلف علاقوں میں تلاشی اور محاصرے کی 289کارروائیوں کے دوران 46افراد کو گرفتار کیاگیا جبکہ دو مکانوں کو تباہ کیاگیا

  • بھارتی پنجاب کی فضاوں میں پاکستانی جھنڈے والی پتنگیں

    بھارتی پنجاب کی فضاوں میں پاکستانی جھنڈے والی پتنگیں

    بھارتی پنجاب کے مختلف شہروں میں اتوار کے روز منی بسنت منائی گئی جب کہ کئی مقامات پر پاکستانی جھنڈے والی پتنگیں اڑای گئیں اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگ گئے۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ اکبر کی صدائیں بھی بلند ہوتی رہیں۔

    بھارتی پنجاب سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق پاکستانی جھنڈے والی پتنگیں فرید کوٹ، کپور تھلہ اور ترن تارن کے مختلف علاقوں میں اڑائی گئیں۔ ان علاقوں میں مسلمانوں کی بڑی تعداد رہائش پذیر ہے لیکن یہ پہلا موقعہ ہے کہ پاکستان کے جھنڈے والی پتنگوں نے بھارتی پنجاب میں بھی پاکستان کے رنگ بکھیر دئے اور فضا پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونجتی رہی۔ بھارتی پنجاب میں کسانوں کے احتجاج کے بعد سےمقامی افراد کی طرف بھارت مخالف سرگرمیوں میں تیزی آگئی ہے۔ بھارتی پنجاب کے مختلف شہروں میں پاکستانی جھنڈے والی پتنگوں کی دستیابی بھارتی حکومت کے لئے مشکلات میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔ پولیس نے پتنگوں کی دکانوں پر چھاپے مارنے شروع کر دئے ہیں لیکن کسی بھی دکان سے پاکستانی جھنڈے والی پتنگیں پولیس کے ہاتھ نہیں لگ سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پولیس لاوڈ اسپیکر پر اعلانات کرتی رہی لیکن بھارتی پنجاب کے شہریوں نے ان اعلانات کی کوئی پروا نہیں کی۔  

  • بھارت نے دریائے ستلج میں زہریلا پانی چھوڑ دیا، ہزاروں مچھلیاں ہلاک

    بھارت نے دریائے ستلج میں زہریلا پانی چھوڑ دیا، ہزاروں مچھلیاں ہلاک

    بوکھلاہٹ کا شکار بھارت آبی دہشت گردی پر اتر آیا. ذرائع کے مطابق پاکپتن کے قریب بھارت کی طرف سے دریائے ستلج میں زہریلا پانی چھوڑ دیا گیا. زہریلے پانی کے باعث دریائے ستلج میں بڑی تعداد میں مچھلیاں اور آبی حیات ہلاک ہو گئی ہیں. بھارتی پنجاب میں اریگیشن ڈیپارٹمنٹ سے جب رابطہ کیا گیا تو سینئر افسران نے اس حوالے سے کوئی جواب نہیں دیا تاہم کہا کہ دریائے ستلج ایسا دریا ہے جو کئی مقامات سے پاکستان جاتا ہے اور واپس بھارت آجاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت علاقے میں بھی آبی حیاتات کے بارے میں تحقیق کی جارہی ہے۔ دوسری طرف پاکپتن میں مقامی افراد کی طرف سے مارکیٹ میں زہر سے ہلاک ہونے والی مچھلیوں کی سپلائی کا سلسلہ شروع کر دیاگیا ہے جس سے موزی امراض کے پھیلنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے.

    ترجمان فوڈ اتھارٹی حافظ قیصر عباس کے مطابق پاکپتن میں مردہ مچھلیوں کی سپلائی سے متعلق ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی نے فوری طور پرنوٹس لے لیا ہے اورفوڈ سیفٹی ٹیموں کو شہر کی تمام مچھلی مارکیٹوں کو چیک کرنے کی ہدایات جاری کردی ہیں. ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی نےشہر میں مردہ مچھلیوں کی ترسیل پر سخت ایکشن لینے کا حکم جاری کردیا گیا اور کہا ہے کہ زہریلی مچھلیوں کو سستے داموں بیچ کر عوام کو گمراہ کرنے والوں کو آڑے ہاتھوں لیا جائے گا۔ ترجمان کے مطابق ڈی جی نے کہا ہے کہ پنجاب کے عوام کو زہریلی خوراک فراہم کرنے والوں سے کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی. انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ زہریلی خوراک کے استعمال سے گریز کریں۔

  • کورونا کے باعث بھارت میں پھنسے 152پاکستانی اور 101 کشمیری واہگہ کے راستے پاکستان پہنچ گئے

    کورونا کے باعث بھارت میں پھنسے 152پاکستانی اور 101 کشمیری واہگہ کے راستے پاکستان پہنچ گئے

    پاکستان کو خیرباد کہہ کر بھارت جاکر بھارتی شہریت حاصل کرنے کے خواہش مند پاکستانی ہندو شہریوں کی بڑی تعداد بھارتی حکومت کے رویہ سے دل برداشتہ ہو کر واپس پاکستان کا رخ کر رہی ہے۔

    گزشتہ روز 152پاکستانی ہندو واہگہ بارڈر کے راستے واپس پاکستان پہنچ گئے۔ اس کے ساتھ ساتھ 101 کشمیری طلبا و طلبات بھی گزشتہ روز واہگہ بارڈر کے راستے پاکستان پہنچے ہیں۔ اس سلسلے میں واہگہ بارڈر خصوصی طور کھولا گیاجو کہ کورونا کے باعث گزشتہ سال مارچ میں بند کر دیا گیا تھا۔

    پاکستان سے بھارت جانے والے ان پاکستانی ہندو شہریوں کو بھارتی حکومت نے سبز باغ دکھائے تھے اورانہیں اکسایاتھا کہ پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ مبینہ طور پر ناروا سلوک کیا جاتا ہے اس لئے وہ نقل مکانی کر کے بھارت پہنچ جائیں جہاں ان کونہ صرف بھارتی شہریت دی جائے گی بلکہ ان کے لئے رہائش، روزگار اورنوکریوں کا انتظام بھی کیا جائے گا۔ تاہم کئی سال بھارت رہنے کے باوجودان پاکستانی ہندو شہریوں کے ساتھ انتہائی نامناسب سلوک کیا گیا۔

    انہیں بھارتی شہریت بھی نہیں دی گئی اور نہ ہی ان کی رہائش کا کوئی مناسب انتظام کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ چند ماہ قبل 11 پاکستانی ہندو شہریوں کو بہیمانہ طریقے سے قتل کیا گیااس سے بھی یہ پاکستانی دلبرداشتہ ہو گئے۔ جس کے بعد پاکستان سےنقل مکانی کرنے والے ہندووں کی اکثریت نے پاکستان واپسی کا فیصلہ کیا۔ پاکستان واپسی پر ان ہندو خاندانوں کا شاندار استقبال کیا گیا۔ انہیں واہگہ پہنچنے پر مشروبات بھی پیش کئے گئے۔

    اطلاعات کے مطابق حکومت پاکستان نے انہیں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ پاکستان پہنچنے والے ہندوگیسو مل ولد رادھو کچی اوررانو ولد رام جی کا کہنا تھا کہ بھارت ہجرت کرنے والے ہندو وہاں بہتر مستقبل کے لئے گئے تھے مگر انہیں وہاں قتل کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت صرف برہمن ہندوؤں کا ملک ہے۔ انہوں نے حکومت پاکستان سے اپیل کی کہ وہ بھارت میں 11 ہندو شہریوں کے قتل کے بارے میں بھارت سے نہ صرف احتجاج کرے بلکہ اس حوالے سے انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں سے مداخلت کرنے کی بھی اپیل کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بھارت میں مقیم دیگر پاکستانی ہندوؤں سے بھی التجا کرتے ہیں کہ وہ بھی پاکستان واپس آکرعزت کی زندگی بسر کریں۔

    دریں اثنا پاکستان میں زیر تعلیم مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے طلبا وطالبات جوبھارت میں کورونا کی وبا پھیلنے کے بعد پاک بھارت سرحدیں بند ہونے کے باعث بھارت میں پھنس گئے تھے اب پاکستان میں تعلیمی ادارے دوبارہ کھلنے کے بعد ان میں سے 101 گزشتہ روز واہگہ بارڈر کے راستے پاکستان پہنچے۔ بھارتی مقبوضہ کشمیر کی شہریت رکھنے والے یہ طلبا وطالبات پاکستان کے مختلف تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہیں۔