Baaghi TV

Author: Khalid Mehmood Khalid

  • بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں وکشمیر میں فوجی محاصرے کو 18 ماہ مکمل

    بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں وکشمیر میں فوجی محاصرے کو 18 ماہ مکمل

    بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں وکشمیر میں نریندر مودی کی فسطائی بھارتی حکومت کی طرف سے 05 اگست 2019 کو نافذ کئے گئے مسلسل فوجی محاصرے کی وجہ سے مقبوضہ علاقے میں کشمیریوں کی معمولات زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے ۔

    فوجی محاصرے کو 18 ماہ مکمل ہونے کے موقع پرکشمیر میڈیا سروس کے ریسرچ سیکشن کی طرف سے جاری ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارتی فوجیوں نے اس عرصے کے دوران 7 خواتین سمیت 308 کشمیریوں کو شہید کیا۔

    ان میں سے بیشتر کشمیریوں کو فوجیوں نے جعلی مقابلوں یاحراست کے دوران شہید کیا ۔نوجوانوں کو تلاشی اور محاصرے کی نام نہاد کارروائیوں کے دوران گھروں سے اغوا کر کے انہیں مجاہدیا مجاہد تنظیموں کا کارکن قراردیکر جعلی مقابلوں میں شہید کردیاجاتا ہے۔ گزشتہ 18 ماہ کے دوران فوجیوں کے ہاتھوں کشمیریوںکی شہادتوں کے نتیجے میں 16خواتین بیوہ اور 38بچے یتیم ہوئے ۔
    رپورٹ میں مزید کہاگیا ہے کہ بھارتی فوجیوں کی طرف سے مقبوضہ علاقے میں پر امن مظاہرین پر آنسو گیس ، گولیوں اور پیلٹ گن سمیت طاقت کے وحشیانہ استعمال سے کم سے کم ایک ہزار701کشمیری شدیدزخمی ہو گئے ۔ اس دوران فوجیوں نے 993سے زائد گھروں اور عمارتوں کو تباہ، 103خواتین کی بے حرمتی کی اور 14ہزار489افراد کو گرفتار کیا۔

    گزشتہ ماہ جنوری کے دوران فوجیوں نے بی ٹیک گریجویٹ سمیت تین کشمیری نوجوانوں کو جعلی مقابلوں میں شہید کیا۔ کشمیرمیڈیاسروس کے ریسرچ سیکشن کے مطابق بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی طرف سے گولیوں اور آنسو گیس کے بے دریغ استعمال کی وجہ سے کم سے کم 16کشمیری زخمی ہو گئے ۔ گزشتہ ماہ جموں وکشمیر کے مختلف علاقوں میں تلاشی اور محاصرے کی 289کارروائیوں کے دوران 46افراد کو گرفتار کیاگیا جبکہ دو مکانوں کو تباہ کیاگیا

  • بھارتی پنجاب کی فضاوں میں پاکستانی جھنڈے والی پتنگیں

    بھارتی پنجاب کی فضاوں میں پاکستانی جھنڈے والی پتنگیں

    بھارتی پنجاب کے مختلف شہروں میں اتوار کے روز منی بسنت منائی گئی جب کہ کئی مقامات پر پاکستانی جھنڈے والی پتنگیں اڑای گئیں اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگ گئے۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ اکبر کی صدائیں بھی بلند ہوتی رہیں۔

    بھارتی پنجاب سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق پاکستانی جھنڈے والی پتنگیں فرید کوٹ، کپور تھلہ اور ترن تارن کے مختلف علاقوں میں اڑائی گئیں۔ ان علاقوں میں مسلمانوں کی بڑی تعداد رہائش پذیر ہے لیکن یہ پہلا موقعہ ہے کہ پاکستان کے جھنڈے والی پتنگوں نے بھارتی پنجاب میں بھی پاکستان کے رنگ بکھیر دئے اور فضا پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونجتی رہی۔ بھارتی پنجاب میں کسانوں کے احتجاج کے بعد سےمقامی افراد کی طرف بھارت مخالف سرگرمیوں میں تیزی آگئی ہے۔ بھارتی پنجاب کے مختلف شہروں میں پاکستانی جھنڈے والی پتنگوں کی دستیابی بھارتی حکومت کے لئے مشکلات میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔ پولیس نے پتنگوں کی دکانوں پر چھاپے مارنے شروع کر دئے ہیں لیکن کسی بھی دکان سے پاکستانی جھنڈے والی پتنگیں پولیس کے ہاتھ نہیں لگ سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پولیس لاوڈ اسپیکر پر اعلانات کرتی رہی لیکن بھارتی پنجاب کے شہریوں نے ان اعلانات کی کوئی پروا نہیں کی۔  

  • بھارت نے دریائے ستلج میں زہریلا پانی چھوڑ دیا، ہزاروں مچھلیاں ہلاک

    بھارت نے دریائے ستلج میں زہریلا پانی چھوڑ دیا، ہزاروں مچھلیاں ہلاک

    بوکھلاہٹ کا شکار بھارت آبی دہشت گردی پر اتر آیا. ذرائع کے مطابق پاکپتن کے قریب بھارت کی طرف سے دریائے ستلج میں زہریلا پانی چھوڑ دیا گیا. زہریلے پانی کے باعث دریائے ستلج میں بڑی تعداد میں مچھلیاں اور آبی حیات ہلاک ہو گئی ہیں. بھارتی پنجاب میں اریگیشن ڈیپارٹمنٹ سے جب رابطہ کیا گیا تو سینئر افسران نے اس حوالے سے کوئی جواب نہیں دیا تاہم کہا کہ دریائے ستلج ایسا دریا ہے جو کئی مقامات سے پاکستان جاتا ہے اور واپس بھارت آجاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت علاقے میں بھی آبی حیاتات کے بارے میں تحقیق کی جارہی ہے۔ دوسری طرف پاکپتن میں مقامی افراد کی طرف سے مارکیٹ میں زہر سے ہلاک ہونے والی مچھلیوں کی سپلائی کا سلسلہ شروع کر دیاگیا ہے جس سے موزی امراض کے پھیلنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے.

    ترجمان فوڈ اتھارٹی حافظ قیصر عباس کے مطابق پاکپتن میں مردہ مچھلیوں کی سپلائی سے متعلق ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی نے فوری طور پرنوٹس لے لیا ہے اورفوڈ سیفٹی ٹیموں کو شہر کی تمام مچھلی مارکیٹوں کو چیک کرنے کی ہدایات جاری کردی ہیں. ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی نےشہر میں مردہ مچھلیوں کی ترسیل پر سخت ایکشن لینے کا حکم جاری کردیا گیا اور کہا ہے کہ زہریلی مچھلیوں کو سستے داموں بیچ کر عوام کو گمراہ کرنے والوں کو آڑے ہاتھوں لیا جائے گا۔ ترجمان کے مطابق ڈی جی نے کہا ہے کہ پنجاب کے عوام کو زہریلی خوراک فراہم کرنے والوں سے کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی. انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ زہریلی خوراک کے استعمال سے گریز کریں۔

  • کورونا کے باعث بھارت میں پھنسے 152پاکستانی اور 101 کشمیری واہگہ کے راستے پاکستان پہنچ گئے

    کورونا کے باعث بھارت میں پھنسے 152پاکستانی اور 101 کشمیری واہگہ کے راستے پاکستان پہنچ گئے

    پاکستان کو خیرباد کہہ کر بھارت جاکر بھارتی شہریت حاصل کرنے کے خواہش مند پاکستانی ہندو شہریوں کی بڑی تعداد بھارتی حکومت کے رویہ سے دل برداشتہ ہو کر واپس پاکستان کا رخ کر رہی ہے۔

    گزشتہ روز 152پاکستانی ہندو واہگہ بارڈر کے راستے واپس پاکستان پہنچ گئے۔ اس کے ساتھ ساتھ 101 کشمیری طلبا و طلبات بھی گزشتہ روز واہگہ بارڈر کے راستے پاکستان پہنچے ہیں۔ اس سلسلے میں واہگہ بارڈر خصوصی طور کھولا گیاجو کہ کورونا کے باعث گزشتہ سال مارچ میں بند کر دیا گیا تھا۔

    پاکستان سے بھارت جانے والے ان پاکستانی ہندو شہریوں کو بھارتی حکومت نے سبز باغ دکھائے تھے اورانہیں اکسایاتھا کہ پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ مبینہ طور پر ناروا سلوک کیا جاتا ہے اس لئے وہ نقل مکانی کر کے بھارت پہنچ جائیں جہاں ان کونہ صرف بھارتی شہریت دی جائے گی بلکہ ان کے لئے رہائش، روزگار اورنوکریوں کا انتظام بھی کیا جائے گا۔ تاہم کئی سال بھارت رہنے کے باوجودان پاکستانی ہندو شہریوں کے ساتھ انتہائی نامناسب سلوک کیا گیا۔

    انہیں بھارتی شہریت بھی نہیں دی گئی اور نہ ہی ان کی رہائش کا کوئی مناسب انتظام کیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ چند ماہ قبل 11 پاکستانی ہندو شہریوں کو بہیمانہ طریقے سے قتل کیا گیااس سے بھی یہ پاکستانی دلبرداشتہ ہو گئے۔ جس کے بعد پاکستان سےنقل مکانی کرنے والے ہندووں کی اکثریت نے پاکستان واپسی کا فیصلہ کیا۔ پاکستان واپسی پر ان ہندو خاندانوں کا شاندار استقبال کیا گیا۔ انہیں واہگہ پہنچنے پر مشروبات بھی پیش کئے گئے۔

    اطلاعات کے مطابق حکومت پاکستان نے انہیں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ پاکستان پہنچنے والے ہندوگیسو مل ولد رادھو کچی اوررانو ولد رام جی کا کہنا تھا کہ بھارت ہجرت کرنے والے ہندو وہاں بہتر مستقبل کے لئے گئے تھے مگر انہیں وہاں قتل کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت صرف برہمن ہندوؤں کا ملک ہے۔ انہوں نے حکومت پاکستان سے اپیل کی کہ وہ بھارت میں 11 ہندو شہریوں کے قتل کے بارے میں بھارت سے نہ صرف احتجاج کرے بلکہ اس حوالے سے انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں سے مداخلت کرنے کی بھی اپیل کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بھارت میں مقیم دیگر پاکستانی ہندوؤں سے بھی التجا کرتے ہیں کہ وہ بھی پاکستان واپس آکرعزت کی زندگی بسر کریں۔

    دریں اثنا پاکستان میں زیر تعلیم مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے طلبا وطالبات جوبھارت میں کورونا کی وبا پھیلنے کے بعد پاک بھارت سرحدیں بند ہونے کے باعث بھارت میں پھنس گئے تھے اب پاکستان میں تعلیمی ادارے دوبارہ کھلنے کے بعد ان میں سے 101 گزشتہ روز واہگہ بارڈر کے راستے پاکستان پہنچے۔ بھارتی مقبوضہ کشمیر کی شہریت رکھنے والے یہ طلبا وطالبات پاکستان کے مختلف تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہیں۔ 

  • بھارتی جنگی جنون میں اضافہ: دفاعی بجٹ میں مسلسل دوسرے سال اضافہ کی تجاویز

    بھارتی جنگی جنون میں اضافہ: دفاعی بجٹ میں مسلسل دوسرے سال اضافہ کی تجاویز

    وبائی مرض کورونا میں مسلسل اضافے کے باوجود بھارت کے جنگی جنون میں کمی نہیں آئی۔ وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کی طرف سے یکم فروری کو پیش کئے جانے والے 2021 کے بھارتی بجٹ میں دفاع کے حوالے سے مختص رقم میں غیرمعمولی اضافہ کا اعلان متوقع ہے۔ نئی دہلی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق اس سال بھی دفاعی بجٹ میں کم از کم چھ فی صد اضافہ کئے جانے کی تجاویز ہیں۔ بھارتی وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق عام طور پر دفاع کے لئے تین لاکھ سنتیس ہزار پانچ سو ترپن ہزار کروڑ روپے مخصوص کئے جاتے ہیں تاہم گزشتہ سال اس میں سات فی صد اضافہ کرکے اس رقم کو چار لاکھ ستر ہزار کروڑ روپے کردیا گیا۔ اس رقم میں محکمہ دفاع کے ریٹائر ہونے والے ملازمین کی پنشن کی رقم شامل نہیں۔ گزشتہ سال دفاعی بجٹ کے لئے مخصوص رقم میں سے دو لاکھ اٹھارہ ہزار نو سو اٹھانوے کروڑ روپے ملک کی دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے استعمال کئے گئے جب کہ ایک لاکھ اٹھارہ ہزار پانچ سو پچپن کروڑ روپے محکمہ دفاع کی ضروری سروسز کے لئے استعمال کئے گئے۔ بقایا رقم ضروری دفاعی سازوسامان کی خریداری میں صرف کی گئی۔ ذرائع کے مطابق لائن آف کنٹرول پر پاکستان اور لائن آف ایکچوئل کنٹرول پرچین کے ساتھ مبینہ کشیدگی میں اضافہ کے پیش نظر دفاعی نظام کو جدید ترین اور ماڈرن بنانے کے لئے اس سال بھی کم از کم چھ فی صد اضافہ کی تجویز ہے اس وقت دفاعی سازو سامان کی خریداری کے لئے جو منصوبے پائپ لائن میں ہیں ان میں بھارتی ائرفورس کے لئے 114 فائٹرز طیارے، بھارتی بحریہ کے لئے پی 75 آئی کلاس آبدوزیں اور فائٹرز اور دیگر اسلحہ شامل ہیں۔ بھارتی دفاعی ماہرین دفاعی بجٹ میں مسلسل دوسرے سال اضافے کے امکانات پر حیرت اور تشویش کا اظہار کر رہے ہیں اور اسے خطے میں امن کے خلاف بڑا اقدام تصور کر رہے ہیں۔  

  • بھارت میں ریپبلک ڈے کی پریڈ میں ٹینک نہیں ٹریکٹر نظر آرہے ہیں، وزیرخارجہ

    بھارت میں ریپبلک ڈے کی پریڈ میں ٹینک نہیں ٹریکٹر نظر آرہے ہیں، وزیرخارجہ

    وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ آج بھارت کا یوم جمہوریہ یومِ سیاہ کے طور پر منایا جا رہا ہے. آج دنیا بھر میں کشمیری سراپا احتجاج ہیں. انہوں نے کہا کہ بھارت نے آئین کےتحت کشمیریوں کو دیا گیا تشخص چھین لیا ہے. شاہ محمودقریشی نے کہا کہ کشمیری سراپا احتجاج ہیں کہ ان کے بنیادی آئینی حقوق سلب کر لیے گئے ہیں.آج بین الاقوامی میڈیااور انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے کام کرنے والی عالمی تنظیمیں، مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور بھارتی مظالم کا پردہ چاک کر رہی ہیں.

    وزیر خارجہ نے کہا کہ آج بھارت میں ریپبلک ڈے کی پریڈ میں ٹینک نہیں ٹریکٹر نظر آرہے ہیں. آج دلی کی طرف ہندوستان کے کسان مارچ کررہےہیں. بھارت سرکار کی منفی پالیسیوں کے باعث بھارت کی معیشت کی صورتحال بگڑ چکی ہے. بھارت میں آج اقلیتیں خود کو غیر محفوظ محسوس کررہی ہیں. آج بھارت میں مسلمان،بنگالی، دلت کوئی محفوظ نہیں. شاہ محمودقریشی نے کہا کہ بھارت میں جمہوریت کی بجائے کالےقوانین کا نفاذ ہو رہا ہے. آج کےبھارت میں سیکولرازم دبتا ہوا اور ہندوتوا سوچ ابھرتی ہوئ دکھائی دے رہی ہے.

    انہوں نے کہا کہ بھارت کے رویے سے، اس کےسارے پڑوسی نالاں ہیں
    نیپال،چین،بنگلہ دیش سب کےساتھ بھارت کارویہ بدلاہواہے. بھارت اسی رویے کے باعث تیزی سے اپنے پڑوسی ممالک سے دور ہو رہا ہے.

  • اٹاری بارڈر پر خصوصی پریڈ: ڈی جی بی ایس ایف خاص طور پر شرکت کریں گے

    اٹاری بارڈر پر خصوصی پریڈ: ڈی جی بی ایس ایف خاص طور پر شرکت کریں گے

    بھارت کے یوم جمہوریہ کےموقعہ پر بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورسز نے آج اٹاری بارڈر پر خصوصی طور پر پریڈ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ بی ایس ایف کے ذرائع نے امرتسر سے فون پربات کرتے ہوئے بتایا کہ ڈائریکٹر جنرل بی ایس ایف راکیش استھانہ خاص طور پر پریڈ دیکھنے کے لئے اٹاری بارڈر پہنچیں گے۔ بھارت نے کورونا کی وجہ سے اٹاری بارڈر پرجھنڈا اتارنے کی تقریب کے موقعہ پر پریڈ کا سلسلہ گزشتہ سال مارچ میں معطل کردیا تھا جب کہ پاکستان کی طرف سے واہگہ بارڈر پر پریڈ کا سلسلہ اب بھی جاری ہے جس کو دیکھنے کے لئے ہر روز پچاس افراد واہگہ بارڈر جاتے ہیں۔ بھارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یوم جمہوریہ پر بھارتی پریڈ میں عام طور پر ڈی جی بی ایس ایف خود شرکت نہیں کرتے جب کہ اس سال ڈی جی بی ایس ایف کی شرکت کا اصل مقصد پاکستان پر دباو بڑھانا ہے۔  

  • انٹرنیشنل کالج برائے ٹورازم اینڈ ہوٹل مینجمنٹ  کے وفد کی صدر علوی سے ملاقات

    انٹرنیشنل کالج برائے ٹورازم اینڈ ہوٹل مینجمنٹ کے وفد کی صدر علوی سے ملاقات

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے انٹرنیشنل کالج برائے ٹورازم اینڈ ہوٹل مینجمنٹ کے وفد نے کالج کے سربراہ احمد شفیق کی قیادت میں ملاقات کی۔ ایوان صدار میں ہونے والی اس ملاقات میں صدر ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ سیاحت کا شعبہ پاکستان کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سیاحتی شعبے میں ترقی کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ سیاحت اور مہمان نوازی کے شعبے میں نوجوانوں کی تعلیم و تربیت سے ملازمت کے مواقع پیدا ہوں گے۔ صدر نے کہا کہ انہیں فخر ہے کہ انٹرنیشنل کالج برائے ٹورازم اینڈ ہوٹل مینجمنٹ نے پاکستان میں مہمان نوازی کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ انہوں نے سیاحت اور مہمان نوازی کے شعبے کی ترقی اور ترویج کیلئے نجی شعبے کو اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

  • گولڈن ٹمپل کا سنگ بنیاد رکھے 433 سال ہو گئے

    گولڈن ٹمپل کا سنگ بنیاد رکھے 433 سال ہو گئے

    بھارتی پنجاب کے شہر امرتسر میں سکھوں کے مقدس مقام سری ہرمندر صاحب جسے گولڈن ٹمپل بھی کہا جاتا ہے، کا سنگ بنیاد 433 سال قبل 13 جنوری کو حضرت میاں میر صاحب کے ہاتھوں رکھا گیا تھا۔ بھارتی اور پاکستانی پنجاب میں اس حوالے سے کئی تقاریب کا اہتمام کیا جارہا ہے۔

    انسانی فطرت صدیوں سےہی قومیت کا شکار رہی ہے تاہم اگر سکھ مسلم تاریخ کی بات کی جائے تو جہاں بے شمار کڑوی یادیں سامنے آتی ہیں وہاں ایک الگ پہچان رکھنے والی اور سکھ مسلم محبت کا پیغام دینے والی ایک ایسی روحانی اور صوفیانہ اقدار کی حامل شخصیت کا نام آتا ہے جنہیں حضرت میاں میر کے نام سے جانا اور پہچانا جاتا ہے۔ حضرت میاں میر جن کا اصلی نام سائیں میر محمد خان صاحب قادری تھا، اپنے نرم لہجے اور ملنساری کے باعث ہر مذہب کے لوگوں میں بے حد مقبول تھے۔ وہ لاہور کے محلہ دھرم پورہ میں رہائش پذیر تھے۔ سکھ مذہب کے چوتھے گورو رام داس جی کی جائے پیدائش بھی لاہور ہی تھی۔ جب کہ ان کے صاحبزادے اور بعد میں سکھ مذہب کے پانچویں گورو بننے کا اعزاز حاصل کرنے والے ارجن دیو اکثر اپنے آباو اجداد اور عزیزو اقارب سے ملنے لاہور آیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ ان کی ملاقات حضرت میاں میر سے ہوئی اور دونوں کی دوستی ہو گئی، حالانکہ میاں میر ان سے 13 برس بڑے تھے۔ گورو ارجن دیو جانتے تھے کہ میاں میر روحانی روشنی سے منور صوفیانہ اقدار کے مالک ہیں۔ اس لئے دونوں کی دوستی تاحیات قائم رہی۔
    پنجاب میں اہم بلڈنگز اور تالابوں کی تعمیر کے حوالے سے گوروارجن دیو اپنی پہچان رکھتے تھے۔ امرتسر میں ان کی کئی خاندانی جاگیریں موجود تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ مغل شہنشاہ اکبر کی طرف سے گورو رام داس کو یہ جاگیریں اور زمین تحفہ میں عنایت کی گئیں جو اب گورو ارجن دیو کی ملکیت تھیں۔ انہوں نے ان زمینوں پر موجود تالاب کے وسط میں ایک گوردوارہ تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا اور ایک روایت کے مطابق وہ خاص طور پرمیاں میر سے ملنے کے لئے لاہور آئے۔ انہوں نے میاں میر کو بتایا کہ وہ امرتسر میں گوردوارہ بنانا چاہتے ہیں جہاں ہر مذہب، مسلک اور ذات کے لوگوں کو بلاخوف داخلے کی اجازت ہو گی۔ انہوں نے حضرت میاں میر سے انتہائی عاجزی سے درخواست کی کہ وہ اس گوردوارے کا سنگ بنیاد رکھیں جسے حضرت میاں میر نے قبول کر لیا۔ 13 جنوری 1588 کو میاں میر مذہبی لباس زیب تن کر کے اور مخروطی ٹوپی جس پر گلاب کا پھول تھا، پہن کر امرتسر پہنچے جہاں ان کا انتہائی پرتپاک استقبال کیا گیااور یوں انہوں نے گوردوارہ کا سنگ بنیاد رکھ کر سکھ مسلم دوستی کو مزید گہرہ کر دیا۔ سنگ بنیاد رکھنے کے موقعہ پر خدا کی تعریف اور بھجن بھی گائے گئےاور وہاں موجود تمام لوگوں میں مٹھائیاں بھی تقسیم کی گئیں۔ اس گوردوارے کو شری ہرمندر صاحب کا نام دیا گیا جس کا مطلب ہے رب کا گھر۔ اسے آج گولڈن ٹمپل کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔
    میاں میر کی وفات کو صدیاں بیت گئی ہیں لیکن جب تاریخ کے اوراق پلٹے جاتے ہیں تو میاں میر کی وہ سنہری یادیں آج بھی اخلاقی اور مذہبی محبت اور روادری کا پیغام دیتی ہیں۔

  • نکیال سیکٹر میں بھارت فوج کی اشتعال انگیزی۔ پاک فوج کا بھرپورطریقے سے جواب

    نکیال سیکٹر میں بھارت فوج کی اشتعال انگیزی۔ پاک فوج کا بھرپورطریقے سے جواب

    آزاد کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریبی علاقوں میں بھارت فوج کی طرف سے بلا اشتعال فائرنگ کا سلسلہ تھم نہیں رہا۔ رات بھرنکیال سیکٹر کے سرحدی دیہاتوں پر بھارتی فائرنگ و گولہ باری کا سلسلہ جاری رہا جس سے علاقے میں خوف و ہراس میں اضافہ ہورہا ہے۔ مقامی افراد کی نقل مکانی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ دریں اثنا بھارتی فائرنگ کے جواب میں پاکستانی حکام کی طرف سے بھر پور کارروائی کی گئی جس کے بعد بھارتی اشتعال انگیزی کا سلسلہ وقتی طور پر رک گیا۔