Baaghi TV

Author: Khalid Mehmood Khalid

  • بھارتی جنگی جنون میں اضافہ: دفاعی بجٹ میں مسلسل دوسرے سال اضافہ کی تجاویز

    بھارتی جنگی جنون میں اضافہ: دفاعی بجٹ میں مسلسل دوسرے سال اضافہ کی تجاویز

    وبائی مرض کورونا میں مسلسل اضافے کے باوجود بھارت کے جنگی جنون میں کمی نہیں آئی۔ وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کی طرف سے یکم فروری کو پیش کئے جانے والے 2021 کے بھارتی بجٹ میں دفاع کے حوالے سے مختص رقم میں غیرمعمولی اضافہ کا اعلان متوقع ہے۔ نئی دہلی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق اس سال بھی دفاعی بجٹ میں کم از کم چھ فی صد اضافہ کئے جانے کی تجاویز ہیں۔ بھارتی وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق عام طور پر دفاع کے لئے تین لاکھ سنتیس ہزار پانچ سو ترپن ہزار کروڑ روپے مخصوص کئے جاتے ہیں تاہم گزشتہ سال اس میں سات فی صد اضافہ کرکے اس رقم کو چار لاکھ ستر ہزار کروڑ روپے کردیا گیا۔ اس رقم میں محکمہ دفاع کے ریٹائر ہونے والے ملازمین کی پنشن کی رقم شامل نہیں۔ گزشتہ سال دفاعی بجٹ کے لئے مخصوص رقم میں سے دو لاکھ اٹھارہ ہزار نو سو اٹھانوے کروڑ روپے ملک کی دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے استعمال کئے گئے جب کہ ایک لاکھ اٹھارہ ہزار پانچ سو پچپن کروڑ روپے محکمہ دفاع کی ضروری سروسز کے لئے استعمال کئے گئے۔ بقایا رقم ضروری دفاعی سازوسامان کی خریداری میں صرف کی گئی۔ ذرائع کے مطابق لائن آف کنٹرول پر پاکستان اور لائن آف ایکچوئل کنٹرول پرچین کے ساتھ مبینہ کشیدگی میں اضافہ کے پیش نظر دفاعی نظام کو جدید ترین اور ماڈرن بنانے کے لئے اس سال بھی کم از کم چھ فی صد اضافہ کی تجویز ہے اس وقت دفاعی سازو سامان کی خریداری کے لئے جو منصوبے پائپ لائن میں ہیں ان میں بھارتی ائرفورس کے لئے 114 فائٹرز طیارے، بھارتی بحریہ کے لئے پی 75 آئی کلاس آبدوزیں اور فائٹرز اور دیگر اسلحہ شامل ہیں۔ بھارتی دفاعی ماہرین دفاعی بجٹ میں مسلسل دوسرے سال اضافے کے امکانات پر حیرت اور تشویش کا اظہار کر رہے ہیں اور اسے خطے میں امن کے خلاف بڑا اقدام تصور کر رہے ہیں۔  

  • بھارت میں ریپبلک ڈے کی پریڈ میں ٹینک نہیں ٹریکٹر نظر آرہے ہیں، وزیرخارجہ

    بھارت میں ریپبلک ڈے کی پریڈ میں ٹینک نہیں ٹریکٹر نظر آرہے ہیں، وزیرخارجہ

    وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ آج بھارت کا یوم جمہوریہ یومِ سیاہ کے طور پر منایا جا رہا ہے. آج دنیا بھر میں کشمیری سراپا احتجاج ہیں. انہوں نے کہا کہ بھارت نے آئین کےتحت کشمیریوں کو دیا گیا تشخص چھین لیا ہے. شاہ محمودقریشی نے کہا کہ کشمیری سراپا احتجاج ہیں کہ ان کے بنیادی آئینی حقوق سلب کر لیے گئے ہیں.آج بین الاقوامی میڈیااور انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے کام کرنے والی عالمی تنظیمیں، مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور بھارتی مظالم کا پردہ چاک کر رہی ہیں.

    وزیر خارجہ نے کہا کہ آج بھارت میں ریپبلک ڈے کی پریڈ میں ٹینک نہیں ٹریکٹر نظر آرہے ہیں. آج دلی کی طرف ہندوستان کے کسان مارچ کررہےہیں. بھارت سرکار کی منفی پالیسیوں کے باعث بھارت کی معیشت کی صورتحال بگڑ چکی ہے. بھارت میں آج اقلیتیں خود کو غیر محفوظ محسوس کررہی ہیں. آج بھارت میں مسلمان،بنگالی، دلت کوئی محفوظ نہیں. شاہ محمودقریشی نے کہا کہ بھارت میں جمہوریت کی بجائے کالےقوانین کا نفاذ ہو رہا ہے. آج کےبھارت میں سیکولرازم دبتا ہوا اور ہندوتوا سوچ ابھرتی ہوئ دکھائی دے رہی ہے.

    انہوں نے کہا کہ بھارت کے رویے سے، اس کےسارے پڑوسی نالاں ہیں
    نیپال،چین،بنگلہ دیش سب کےساتھ بھارت کارویہ بدلاہواہے. بھارت اسی رویے کے باعث تیزی سے اپنے پڑوسی ممالک سے دور ہو رہا ہے.

  • اٹاری بارڈر پر خصوصی پریڈ: ڈی جی بی ایس ایف خاص طور پر شرکت کریں گے

    اٹاری بارڈر پر خصوصی پریڈ: ڈی جی بی ایس ایف خاص طور پر شرکت کریں گے

    بھارت کے یوم جمہوریہ کےموقعہ پر بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورسز نے آج اٹاری بارڈر پر خصوصی طور پر پریڈ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ بی ایس ایف کے ذرائع نے امرتسر سے فون پربات کرتے ہوئے بتایا کہ ڈائریکٹر جنرل بی ایس ایف راکیش استھانہ خاص طور پر پریڈ دیکھنے کے لئے اٹاری بارڈر پہنچیں گے۔ بھارت نے کورونا کی وجہ سے اٹاری بارڈر پرجھنڈا اتارنے کی تقریب کے موقعہ پر پریڈ کا سلسلہ گزشتہ سال مارچ میں معطل کردیا تھا جب کہ پاکستان کی طرف سے واہگہ بارڈر پر پریڈ کا سلسلہ اب بھی جاری ہے جس کو دیکھنے کے لئے ہر روز پچاس افراد واہگہ بارڈر جاتے ہیں۔ بھارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یوم جمہوریہ پر بھارتی پریڈ میں عام طور پر ڈی جی بی ایس ایف خود شرکت نہیں کرتے جب کہ اس سال ڈی جی بی ایس ایف کی شرکت کا اصل مقصد پاکستان پر دباو بڑھانا ہے۔  

  • انٹرنیشنل کالج برائے ٹورازم اینڈ ہوٹل مینجمنٹ  کے وفد کی صدر علوی سے ملاقات

    انٹرنیشنل کالج برائے ٹورازم اینڈ ہوٹل مینجمنٹ کے وفد کی صدر علوی سے ملاقات

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے انٹرنیشنل کالج برائے ٹورازم اینڈ ہوٹل مینجمنٹ کے وفد نے کالج کے سربراہ احمد شفیق کی قیادت میں ملاقات کی۔ ایوان صدار میں ہونے والی اس ملاقات میں صدر ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ سیاحت کا شعبہ پاکستان کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سیاحتی شعبے میں ترقی کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ سیاحت اور مہمان نوازی کے شعبے میں نوجوانوں کی تعلیم و تربیت سے ملازمت کے مواقع پیدا ہوں گے۔ صدر نے کہا کہ انہیں فخر ہے کہ انٹرنیشنل کالج برائے ٹورازم اینڈ ہوٹل مینجمنٹ نے پاکستان میں مہمان نوازی کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ انہوں نے سیاحت اور مہمان نوازی کے شعبے کی ترقی اور ترویج کیلئے نجی شعبے کو اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

  • گولڈن ٹمپل کا سنگ بنیاد رکھے 433 سال ہو گئے

    گولڈن ٹمپل کا سنگ بنیاد رکھے 433 سال ہو گئے

    بھارتی پنجاب کے شہر امرتسر میں سکھوں کے مقدس مقام سری ہرمندر صاحب جسے گولڈن ٹمپل بھی کہا جاتا ہے، کا سنگ بنیاد 433 سال قبل 13 جنوری کو حضرت میاں میر صاحب کے ہاتھوں رکھا گیا تھا۔ بھارتی اور پاکستانی پنجاب میں اس حوالے سے کئی تقاریب کا اہتمام کیا جارہا ہے۔

    انسانی فطرت صدیوں سےہی قومیت کا شکار رہی ہے تاہم اگر سکھ مسلم تاریخ کی بات کی جائے تو جہاں بے شمار کڑوی یادیں سامنے آتی ہیں وہاں ایک الگ پہچان رکھنے والی اور سکھ مسلم محبت کا پیغام دینے والی ایک ایسی روحانی اور صوفیانہ اقدار کی حامل شخصیت کا نام آتا ہے جنہیں حضرت میاں میر کے نام سے جانا اور پہچانا جاتا ہے۔ حضرت میاں میر جن کا اصلی نام سائیں میر محمد خان صاحب قادری تھا، اپنے نرم لہجے اور ملنساری کے باعث ہر مذہب کے لوگوں میں بے حد مقبول تھے۔ وہ لاہور کے محلہ دھرم پورہ میں رہائش پذیر تھے۔ سکھ مذہب کے چوتھے گورو رام داس جی کی جائے پیدائش بھی لاہور ہی تھی۔ جب کہ ان کے صاحبزادے اور بعد میں سکھ مذہب کے پانچویں گورو بننے کا اعزاز حاصل کرنے والے ارجن دیو اکثر اپنے آباو اجداد اور عزیزو اقارب سے ملنے لاہور آیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ ان کی ملاقات حضرت میاں میر سے ہوئی اور دونوں کی دوستی ہو گئی، حالانکہ میاں میر ان سے 13 برس بڑے تھے۔ گورو ارجن دیو جانتے تھے کہ میاں میر روحانی روشنی سے منور صوفیانہ اقدار کے مالک ہیں۔ اس لئے دونوں کی دوستی تاحیات قائم رہی۔
    پنجاب میں اہم بلڈنگز اور تالابوں کی تعمیر کے حوالے سے گوروارجن دیو اپنی پہچان رکھتے تھے۔ امرتسر میں ان کی کئی خاندانی جاگیریں موجود تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ مغل شہنشاہ اکبر کی طرف سے گورو رام داس کو یہ جاگیریں اور زمین تحفہ میں عنایت کی گئیں جو اب گورو ارجن دیو کی ملکیت تھیں۔ انہوں نے ان زمینوں پر موجود تالاب کے وسط میں ایک گوردوارہ تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا اور ایک روایت کے مطابق وہ خاص طور پرمیاں میر سے ملنے کے لئے لاہور آئے۔ انہوں نے میاں میر کو بتایا کہ وہ امرتسر میں گوردوارہ بنانا چاہتے ہیں جہاں ہر مذہب، مسلک اور ذات کے لوگوں کو بلاخوف داخلے کی اجازت ہو گی۔ انہوں نے حضرت میاں میر سے انتہائی عاجزی سے درخواست کی کہ وہ اس گوردوارے کا سنگ بنیاد رکھیں جسے حضرت میاں میر نے قبول کر لیا۔ 13 جنوری 1588 کو میاں میر مذہبی لباس زیب تن کر کے اور مخروطی ٹوپی جس پر گلاب کا پھول تھا، پہن کر امرتسر پہنچے جہاں ان کا انتہائی پرتپاک استقبال کیا گیااور یوں انہوں نے گوردوارہ کا سنگ بنیاد رکھ کر سکھ مسلم دوستی کو مزید گہرہ کر دیا۔ سنگ بنیاد رکھنے کے موقعہ پر خدا کی تعریف اور بھجن بھی گائے گئےاور وہاں موجود تمام لوگوں میں مٹھائیاں بھی تقسیم کی گئیں۔ اس گوردوارے کو شری ہرمندر صاحب کا نام دیا گیا جس کا مطلب ہے رب کا گھر۔ اسے آج گولڈن ٹمپل کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔
    میاں میر کی وفات کو صدیاں بیت گئی ہیں لیکن جب تاریخ کے اوراق پلٹے جاتے ہیں تو میاں میر کی وہ سنہری یادیں آج بھی اخلاقی اور مذہبی محبت اور روادری کا پیغام دیتی ہیں۔

  • نکیال سیکٹر میں بھارت فوج کی اشتعال انگیزی۔ پاک فوج کا بھرپورطریقے سے جواب

    نکیال سیکٹر میں بھارت فوج کی اشتعال انگیزی۔ پاک فوج کا بھرپورطریقے سے جواب

    آزاد کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریبی علاقوں میں بھارت فوج کی طرف سے بلا اشتعال فائرنگ کا سلسلہ تھم نہیں رہا۔ رات بھرنکیال سیکٹر کے سرحدی دیہاتوں پر بھارتی فائرنگ و گولہ باری کا سلسلہ جاری رہا جس سے علاقے میں خوف و ہراس میں اضافہ ہورہا ہے۔ مقامی افراد کی نقل مکانی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ دریں اثنا بھارتی فائرنگ کے جواب میں پاکستانی حکام کی طرف سے بھر پور کارروائی کی گئی جس کے بعد بھارتی اشتعال انگیزی کا سلسلہ وقتی طور پر رک گیا۔

  • برساتی نالہ ڈیک سے بھارتی ساختہ اینٹی ٹینک مائن برآمد

    برساتی نالہ ڈیک سے بھارتی ساختہ اینٹی ٹینک مائن برآمد

    نارووال کے قریب نالہ ڈیک سے بھارتی ساختہ 18 پونڈ وزنی اینٹی ٹینک مائن برآمد ہوا ہے۔ علاقے کے رہائشی افراد کا کہنا ہے کہ اینٹی ٹینک مائن نالے میں بہتا ہوابھارت کی طرف سے پاکستان آیا جو گاوں پنڈی دیونی کے قریب برساتی نالہ سے ملا۔ ڈسٹرکٹ سول ڈیفنس بم ڈسپوزل سکواڈ نارووال نے اینٹی ٹینک مائن کو ناکارہ بنا دیا۔

  • پاکستان میں پھنسے ہوئے114 بھارتی شہری کل بھارت روانہ ہوں گے

    پاکستان میں پھنسے ہوئے114 بھارتی شہری کل بھارت روانہ ہوں گے

    گزشتہ سال کورونا وائرس کی وجہ سے پاک بھارت سرحدیں بند ہونے اورفضائی و ریل سروس بند ہونے کے باعث پاکستان میں پھنسے ہوئے مزید114 بھارتی شہری پیرکے روز واپس اپنے ملک لوٹ جائیں گے۔ بھارتی شہری گزشتہ سال مارچ میں اپنے رشتہ داروں سے ملنے پاکستان آئے تھے اور اب تک واپسی کے منتظر تھے۔ پاکستان میں بھارتی ہائی کمیشن کی طرف سے 114 شہریوں کی فہرست جاری کی گئی ہے جو پیر11جنوری کو واہگہ بارڈر کے راستے واپس اپنے ملک انڈیا جائیں گے۔ اس سلسلے میں واہگہ بارڈر خصوصی طور پر کھولا جائے گا۔ فہرست کے مطابق واپس جانے والے تمام بھارتی شہری مسلمان ہیں اوران میں کئی ایسے ہیں جن کی شادی انڈیا میں ہوئی ہے۔ بھارتی شہریوں کی واپسی کے حوالے سے واہگہ بارڈرپر حکام کو آگاہ کردیا گیا ہے۔2021 میں یہ پہلا گروپ ہوگا جو واہگہ بارڈرکراس کرےگا۔

  • عقیل کریم ڈھیڈھی کا سیٹھ عابد کی وفات پر دلی رنج و غم کا اظہار

    عقیل کریم ڈھیڈھی کا سیٹھ عابد کی وفات پر دلی رنج و غم کا اظہار

    پاکستان کے معروف تاجر اورسماجی رہنما عقیل کریم ڈھیڈھی نے معروف صنعت کار سیٹھ عابد کی وفات پر دلی رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کی کامل مغفرت اور پسماندگان و لواحقین کے لئے صبر جمیل کی دعا کی ہے –
    عقیل کریم ڈھیڈھی نے سیٹھ عابد مرحوم کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا
    عقیل کریم ڈھیڈھی نے دعا کی کہ اللہ سبحانہ وتعالی مرحوم سیٹھ عابد کی بے حساب مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے

  • چھ پاکستانی نوجوان غلطی سے سرحد پار کر کے بھارتی علاقے میں چلے گئے

    چھ پاکستانی نوجوان غلطی سے سرحد پار کر کے بھارتی علاقے میں چلے گئے

    بھارت کی بارڈرسیکیورٹی فورس (بی ایس ایف)نے جمعہ کی شام کو غلطی سے سرحدعبور کرنے والے جن 6 پاکستانی نوجوانوں کو گرفتارکیا تھا ہفتہ کو رات دیر گئےانہیں واہگہ بارڈر کے راستے پاکستان رینجرز کے حکام کے حوالے کردیا۔ ان تمام پاکستانی شہریوں کا تعلق صوبہ خیبر پختون خواہ کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان سے ہےاور یہ لاہورکے قریب بارڈرایریا میں محنت مزدوری کرتے ہیں۔ بی ایس ایف نے جمعہ کے روز لاہوراورامرتسرسے تقریبا ڈھائی کلومیٹر دور بھارتی بارڈر کے بالکل ساتھ واقع گاوں پلموراں سے جن 6 پاکستانی نوجوانوں کو گرفتارکیاتھا ان کی عمریں 20 سے 25 سال کے درمیان ہیں۔ ان کے نام محمدآصف ولد عاشق حسین، عمرفاروق ولد حاجی محمد ایوب، محمدعارف ولد ساجد خان، محمد ارسلان ولد محمد بلال، راجہ عباس ولد غلام شبیر اورشوکت ولدیاسین بتائے گئے ہیں۔بھارتی حکام نے ان نوجوانوں کے قبضے سے دو اسمارٹ فونز، تین فیچر فونز، 9 فون سمیں، تین میموری کارڈ، ایک ہیڈ فون، تین بٹوے اور چھ بجلی کے بل برآمد کرنے کا دعوی کیا تھا۔ تاہم ان کے قبضہ سے کوئی مشکوک چیزبرآمد نہیں ہوئی۔ ہفتہ کے روز ان نوجوان کی واپسی کے حوالے سے پاکستان اورانڈیا کی سرحدی فورسز کے مابین فلیگ میٹنگ بھی ہوئی۔ بی ایس ایف نے جمعہ کے روزان نوجوانوں کی گرفتاری سے متعلق پاکستانی حکام کو آگاہ کیا تھا، جس کے بعد ان کی شناخت کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ ان دنوں سردی اوردھندکی وجہ سے پاکستان اورانڈیاکوتقسیم کرنیوالے زیرولائن کو دیکھنا مشکل ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے اس علاقے سے متعلق معلومات نہ رکھنے والے دونوں طرف کے افراد غلطی سے ایک دوسرے ملک کے علاقے میں داخل ہوجاتے ہیں۔ بعض شہریوں کو بھارت کی طرف سے لگائے گئے لوہے کے جنگلے کی وجہ سے بھی زیرولائن کا دھوکا ہوجاتا ہے۔ عام شہری اس جنگلے کو سرحد سمجھتے ہیں جبکہ جنگلا انڈیا نے کئی میٹراندراپنی حدود میں لگایا ہے۔