بھارت نے پاکستان میں تعینات اپنے ناظم الامور گورو آہلو والیہ کو تبدیل کر کے الجزائر میں نیا ہائی کمشنر مقرر کر دیا ہے۔ گورو آہلووالیہ جلد ہی اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھال لیں گے۔
Author: Khalid Mehmood Khalid

نامور اداکار دلیپ کمار98 برس کے ہو گئے
پاکستان کا سب سے بڑاسول ایوارڈ نشان امتیاز حاصل کرنے والے برصغیر کے نامور اداکاریوسف خان جنہیں دنیا دلیپ کمارکے نام سے جانتی ہے، آج اپنی 98 ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔بر صغیر کی فلمی صنعت کے پہلے خان اور ٹریجڈی کنگ دلیپ کمار11دسمبر 1922کو پشاور کے معروف قصہ خوانی بازار کے محلہ خدا داد میں پیدا ہوئے ان کے والد لالہ غلام سرور خان پھلوں کے آڑھتی تھے جب کہ والدہ

عائشہ خان ایک کٹر مذہبی خاتون تھیں۔1942میں یوسف خان بمبئی چلے گئے جہاں ان کی ملاقات معروف اداکارہ اور فلم کمپنی بمبئے ٹاکیز کی مالکن دیویکا رانی سے ہوئی جن کی خواہش پرانہوں نے بمبئے ٹاکیز میں ساڑھے بار ہ سو روپے ماہوار پر ملازمت کر لی۔دیویکا رانی نے یوسف خان کو اپنا نام تبدیل کر کے فلمی نام دلیپ کمار رکھنے کا مشورہ دیا اور یوں برصغیر کی فلمی دنیا کو نیا اسٹار مل گیا۔دلیپ کمار نے 1944میں فلم جوار بھاٹا سے اپنی اداکاری کا

آغاز کیا۔ اس فلم کا کسی نے کوئی نوٹس نہیں لیاجب کہ فلم ناکام ثابت ہوئی۔1945میں انہوں نے اداکارہ سورن لتا کے مدمقابل فلم پریتم میں کام کیا جس سے فلمی شایقین میں دلیپ کمار کی پہچان شروع ہوئی لیکن اگلے سال فلم ملن میں کام کرنے کے بعد دلیپ کمارنے ایک اداکار کی حیثیت سے اپنا نام بنا لیا تاہم انہیں سب سے زیادہ کامیابی 1947 کی فلم جگنو سے ملی جس میں انہوں نے ملکہ ترنم نور جہاں کے ساتھ بطور ہیرو کام کیا۔ اس فلم نے دنیا بھر

میں اردو بولنے والوں میں دھوم مچا دی۔ ان پر فلمایا گیا گانا، یہاں بدلہ وفا کا بے وفائی کے سوا کیا ہے۔ ہر ایک کی زبان پر تھا۔ اسی فلم میں گلوکار محمد رفیع نے بھی ایک گانے میں دلیپ کمار کے ساتھ اداکاری کی۔ جگنو کی بھرپور کامیابی کے بعد دلیپ کمار نے 1948میں 5 فلموں میں کام کیا۔گھر کی عزت، شہید، میلہ، انوکھا پیار اور ندیا کے پار اس سال کی کامیاب فلمیں تھیں۔دلیپ کمار نے 65فلموں میں اداکاری کی جن میں انداز، بابل، ترانہ، دیدار، داغ، آن، اڑن کھٹولہ، دیوداس ا ن کی شہرہ آفاق فلمیں ہیں۔ 1948میں دلیپ کمار فلم شہید میں کام کرنے کے دوران اداکارہ کامنی کوشل کی اداؤں کا شکار ہو گئے اور بمبئی میں ان کے افیئر کا چرچا ہونے لگا لیکن ان کا یہ عشق جلد ہی ختم ہو گیا جب دلیپ کمارفلم ترانہ کی شوٹنگ کے دوران اداکارہ مدھوبالاکی زلفوں کے اسیر ہو گئے۔یہ سلسلہ تقریباً سات سال تک چلا لیکن ان کی شادی نہ ہو سکی۔1960میں انہوں نے شہرہ آفاق فلم مغل اعظم میں شہزادہ سلیم کاکردار ادا کیا۔یہ فلم مدھوبالا اور دلیپ کمار کی آخری فلم ثابت ہوئی۔اس فلم نے برصغیر کے تمام فلمی ریکارڈ توڑ دئیے۔ 1961میں فلم گنگا جمنا کی ہیروئین وجنتی مالا دلیپ کمار کا تیسرا عشق بنیں۔ بالآخر 1966میں دلیپ کمار کی شادی ماضی کی مقبول ترین اداکارہ پری چہرہ نسیم کی اداکارہ بیٹی سائرہ بانو سے طے پائی۔دونوں کے کوئی اولاد نہیں ہوئی جس کا دلیپ کمار کو بڑی شدت سے احساس تھا۔اولاد کی خواہش کو پورا کرنے کے لئے دلیپ کمار نے 1981میں ایک وکیل عاصمہ سے دوسری شادی کر لی لیکن یہ شادی 1983میں اپنے انجام کو پہنچ گئی اور انہوں نے عاصمہ کو طلاق دے دی۔ دلیپ کمار آج کل صاحب فراش ہیں جب کہ ان کی وفا شعار اہلیہ اداکارہ سائرہ بانو ان کی بھرپور دیکھ بھال میں مصروف ہیں۔ دلیپ کمار کو 1997میں پاکستان کے سب سے بڑے سول ایوارڈ نشان امتیاز سے نوازہ گیا۔ پشاور میں ان کا آبائی گھر آج بھی موجود ہے جسے 13 جولائی2014کو اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے قومی ورثہ قرار دے دیا جب کہ حال ہی میں خیبر پختونخواہ حکومت نے اس گھر کو خرید کر اسے میوزیم بنانے کا اعلان کر دیا۔دلیپ کماراپنی جائے پیدائش ہونے کے ناطے پاکستان سے بے حدپیار کرتے ہیں۔وہ آج بھی پشاور میں اپنے دوستوں سے اپنے گھر کی تصاویر منگواتے رہتے ہیں۔
بھارت میں ہندوتوا پالیسی کے تحت اقلیتوں کو امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جا رہا ہے
بھارت سرکار کی ہندوتوا سوچ کے باعث اقلیتوں کے ساتھ کیے جانے ناروا سلوک کے حوالے سے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بھارت میں ہندوتوا پالیسی کے تحت اقلیتوں کو امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ
مسلمان ہوں ، دلت ہوں ، سکھ ہوں یا کرسچین ہوں کوئی بھی اقلیت بھارت میں محفوظ نہیں۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان نے اس حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے، بارہا اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ دنیا نے دیکھا کہ فروری میں دہلی کے اندر چن چن کر لوگوں کو نشانہ بنایا گیا 50 کے قریب ہلاکتیں ہوئیں، وسیع پیمانے پر املاک جلائی گیئں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ اقلیتوں کو کچلنے کے لیے شہریت ترمیمی ایکٹ اور این آر سی جیسے امتیازی قوانین لائے گئے۔ بابری مسجد کو شہید کر کے اس کی جگہ مندر کی تعمیر اسی ہندوتوا سوچ کا شاخسانہ ہے۔ بھارتی قابض افواج کی جانب سے کشمیر میں جو مظالم ڈھائے جا رہے ہیں وہ سب کے سامنے ہیں۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت سرکار کی ہندوتوا سوچ نے سیکولر ہندوستان کے امیج کو ملیا میٹ کر دیا ہے۔
دیو آنند کی 9 ویں برسی آج منائی جارہی ہے
گورنمنٹ کالج لاہور نے برصغیر کی فلمی صنعت کو کئی مقبول اسٹارز دئیے جن میں سے ایک نام دیو آنند کا ہے۔آج ان کی9ویں برسی منائی جا رہی ہے۔ راوین دیو آنند26ستمبر 1923 کو نارووال کے قریب شکر گڑھ میں ایک وکیل پشوری لال آنند کے ہاں پیدا ہوئے ان کا اصل نام دھرم دیو آنند تھا۔انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے انگلش لٹریچر میں بی اے کا امتحان پاس کیا۔ دیوآننداداکار اشوک کمار سے بے حد متاثر تھے۔ ان کی فلموں اچھوت کنیا اور قسمت دیکھنے کے بعد انہیں بھی فلموں میں کام کرنے کا شوق ہوا۔ان کے بڑے بھائی چیتن آنند انڈین پیپلز تھیٹر ایسوسی ایشن کے رکن تھے۔اسی حوالے سے ان کی ملاقات پربھات فلمز سٹوڈیو کے بابو راؤ پائی سے ہوئی جنہوں نے دیوآنند کو اپنی فلم میں کام کرنے کی پیشکش کی اور یوں 1946میں بننے والی فلم ہم ایک ہیں دیوآنند کی پہلی فلم ثابت ہوئی اور بھارتی فلم انڈسٹری کو ایک نیا اسٹار مل گیا۔1947میں دیوآنند نے دو فلموں موہن اور آگے بڑھو میں کامیاب اداکاری کی۔ دیو آنند کی پہلی سپر ہٹ فلم 1948میں بننے والی فلم ضدی تھی جس میں ان کے مد مقابل اس وقت کی معروف اداکارہ کامنی کوشل تھیں۔ 1948میں ہی دیوآنند کو خوبرو اداکارہ اور گلوکارہ ثریا جمال شیخ کے ساتھ فلم ودیا میں کام کرنے کا موقعہ ملا۔ فلم کے ایک گانے کی شوٹنگ کے دوران دیوآنند کا ثریا کے ساتھ معاشقہ شروع ہو گیا جس کے بعد دونوں نے سات فلموں میں مل کر کام کیا۔ ان کی فلمی جوڑی نے مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کئے۔ دیوآنند نے ثریا کے گھر آنا جانا شروع کر دیا جسے ثریا کے گھر والوں نے پسند نہیں کیا۔ 1950میں فلم افسر کی شوٹنگ کے دوران دیوآنند نے ثریا کے گھر والوں کو شادی کا پیغام بھیجا لیکن ثریا کے گھر والوں نے یہ کہہ کر شادی سے انکار کر دیا کہ ان کاخاندان مسلمان ہے اس لئے ایک ہندو کے ساتھ اپنی بیٹی کی شادی نہیں کر سکتے۔1951میں بننے والی فلم دو ستارے دونوں کی اکٹھی آخری فلم ثابت ہوئی جب کہ ثریا نے مرتے دم تک شادی نہیں کی۔ دیوآنند نے 1954میں فلمی اداکارہ کلپنا کارتک سے شادی کر لی۔1949میں دیوآنند نے اپنی فلم کمپنی نوکیتن قائم کی جس کے تحت انہوں نے 35کامیاب فلموں کی تخلیق کی۔ 65سالہ طویل فلمی سفر میں دیو آنند نے 114 فلموں میں کام کیا۔ ان کی مقبول فلموں میں شاعر، نرالا، کھیل، اسٹیج، بازی، سزا، صنم، نادان، آرام، راہی، تماشہ، پتیتہ، ٹیکسی ڈرائیور وغیرہ شامل ہیں۔ان کی آخری فلم چارج شیٹ 2011میں ریلیز ہوئی۔ دیوآنند 3دسمبر 2011 کو لندن میں چل بسے۔

بھارت میں پاکستائی ہائی کمیشن کے افسران کی گاڑی کو حادثہ۔ دو افراد زخمی
نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے ایک سینئر آفیشل کی گاڑی بھارتی پنجاب کے شہر امبالہ کے قریب حادثہ کا شکار ہوگئی۔ سینئر

آفیشل عبدالواحد اپنی اہلیہ، تین بچوں اور ہائی کمیشن کے ایک اہلکار منظور کے ہمراہ پرایویٹ گاڑی میں نئی دہلی سے براستہ واہگہ پاکستان آرہے تھے کہ امبالہ کے قریب سنگرور کے مقام پر ان کی گاڑی کے آگے جانے والے ٹرک نے اچانک بریک لگا دی جس کی وجہ سے ان کی گاڑی پیچھے سے ٹرک کو ٹکرا گئی۔ حادثہ میں منظور کی ٹانگ ٹوٹ گئی جب کہ عبدالواحد اور ان کی فیملی کو بھی چوٹیں آئیں۔ انہیں سنگرور ہسپتال میں ابتدائی طبی امداددی گئی اوردہلی منتقل کرنے کے لئے ایمبولنس منگوائی گئی تاہم عبدالمجید اپنی فیملی کے ہمراہ لاہور کی طرف روانہ ہو گئے۔ وہ پاکستان میں اپنا علاج کروائیں گے۔ پولیس نے مقدمہ درج کر کے ٹرک ڈرائیور کو گرفتار کر لیا تاہم عبدالواحد نے اسے اتفاقیہ حادثہ قرار دیتے ہوئے ڈرائیور کو معاف کردیا جس پر اسے رہا کر دیا گیا۔
وزیر خارجہ کی مکہ مکرمہ آمد۔ عمرہ کی سعادت حاصل کی
وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے سنتالیسویں اجلاس میں شرکت کے بعد وطن واپس آتے ہوئے مکہ مکرمہ میں مختصر قیام. وزیر خارجہ نے عمرہ ادا کرنے کی سعادت حاصل کی اور وطن عزیز پاکستان کی تعمیر و ترقی کیلئے خصوصی دعائیں مانگیں. سیکرٹری خارجہ سہیل محمود اور وفد کے دیگر اراکین بھی وزیر خارجہ کے ہمراہ تھے۔ وزیر خارجہ عمرہ ادائیگی کے فوری بعد واپس وطن روانہ ہو گئے

بابا گورو نانک دیو جی کے551واں جنم دن پر بھارتی سکھ یاتری آج پاکستان آئیں گے
سکھوں کے مذہبی راہنما با با گورو نانک دیو جی کے551ویں جنم دن کی تقریبات کے لیے بھارت سے سینکڑوں سکھ یاتری آج پاکستان آئیں گے،ترجمان متروکہ وقف املاک بورڈ کے مطابق تقریبا 800 بھارتی سکھ یاتری آج واہگہ

بارڈ کے راستے پیدل پاکستان داخل ہوں گے، جہاں پرایڈیشنل سیکرٹری شرانئز طارق وزیر، پاکستان سکھ گورو دوارہ پر بندھک کمیٹی کے ممبران اور دیگر بورڈ حکام سکھ یاتریوں کا استقبال کریں گے یاتریوں کی آمد پر حکومت SOPپر مکمل عملدآمد کروایا جائے گا۔ چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ ڈاکٹر عامر احمد کے احکامات کے مطابق انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔یاتریوں کی سفری سہولیات کے لیے ٹرانسپورٹ کو خصوصی طور پر ڈس انفیکٹ کیا جائے گا۔کھانے پینے رہائش کے لیے بہترین انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ ایڈیشنل سیکرٹری شرائنز طارق وزیر کا کہنا ہے کہ چیئرمین بورڈ کے احکامات کے مطابق گورو دواروں کو دلہن کی طرح سجا دیا گیا ہے۔گورو نانک کے جنم دن کی مرکزی تقریب 30نومبر کو جنم استھا ن ننکانہ صاحب میں ہو گی جس میں مختلف سیاسی و مذہبی اور اقلیتی رہنماء شریک ہوں گے۔ سکھ یاتری دورہ مکمل کرنے کے بعد یکم دسمبر واپس بھارت چلے جائیں گے۔

بھارت سے 24 پاکستانی قیدی کل واہگہ کے راستے پاکستان پہنچیں گے
بھارتی وزارت داخلہ نے ملک کی مختلف جیلوں میں قید 24 پاکستانیوں کو رہا کرنے کے احکامات جاری کر دئیے ہیں۔ نئی دہلی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ان تمام پاکستانی شہریوں کوآج رات کو ہی امرتسر پہنچا دیا گیا۔ ان تمام پاکستانیوں کو کل واہگہ بارڈر کے راستے پاکستان رینجرز کے حکام کے حوالے کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں واہگہ اٹاری بارڈر خاص طور پر کھولا جائے گا۔ رہا کئے جانے والے پاکستانیوں میں 20 ماہی گیر اور 4 عام شہری شامل ہیں۔ اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن نے پاکستانی حکام کو تحریری طور پر مذکورہ قیدیوں کی پاکستان حوالگی کی اطلاع دے دی ہے۔ پاکستان پہنچنے کے بعد ان تمام پاکستانی شہریوں کا کورونا ٹیسٹ بھی کیا جائے گا۔

پی این ایس ذوالفقار کا اردن کی بندرگاہ عقبہ کا دورہ
پاک بحریہ کے جہاز پی این ایس ذوالفقار کا اردن کی بندرگاہ عقبہ کا دورہ۔ ترجمان پاک بحریہ کے مطابق عقبہ آمد پر میزبان بحریہ کے حکام نے پاکستانی جہاز کا استقبال کیا۔اس موقعہ پر پی این ایس ذوالفقار کے کمانڈنگ آفیسر نے میزبان حکام سے ملاقات کی اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔کمانڈنگ آفیسر نے پاکستان کے بحریہ چیف کی جانب سے اردن کے عوام اور بحریہ کیلٸے خیر سگالی کا پیغام بھی پہنچایا۔ اس موقع پر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور کشمیریوں کی حالت زار کے بارے میں بھی اردن کے حکام کو آگاہ کیا گیا۔

ہمارا اور خطے کا مستقبل سی پیک سے جڑا ہوا ہے۔ وزیرخارجہ
وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پچھلے دنوں انہوں نے ڈی جی آئی ایس پی آر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں ایک ڈوزئیر پیش کیا تھا جس میں انہوں نے شواہد کے ساتھ واضح کیا تھا کہ کس طرح ہندوستان پاکستان کے اندر دہشت گردانہ کارروائیوں کی پشت پناہی کر رہا ہے اور سی پیک کے تحت منصوبوں کو نشانہ بنانے کے درپے ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے واضح کیا تھا کہ ہندوستان نے اس مقصد کیلئے ایک سیل بنایا ہے جس کے لیے 80 ارب کے لگ بھگ رقم مختص کی گئی ہے۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہمارا اور اس خطے کا مستقبل سی پیک سے جڑا ہوا ہے اس کی ہر ممکن حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے ہم پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین بھی اس اقتصادی راہداری کی اہمیت کو سمجھتا ہے اس لیے انہوں نے سی پیک کی سیکورٹی کے حوالے سے واضح پیغام دیا ہے۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم چین کے ساتھ ملکر سی پیک کی حفاظت کریں گے اور ان منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔ وزیرخارجہ نے کہا کہ ڈوزئیر میں ظاہر کیے گئے خدشات کو ہم اقوام متحدہ، او آئی سی سمیت تمام اہم عالمی فورمز پر اٹھائیں گے جب کہ سی پیک کےخلاف سازش کرنےپر بھارت کوناکامی ہوگی۔ شاہ محمودقریشی نے واضح کیا کہ بھارتی ہتھکنڈوں پرپاکستان خاموش نہیں رہےگا۔ بھارت کا رویہ غیر ذمہ دارانہ ہے اس کو ہر محاٖذ پر ناکامی ہوگی۔














