بھارتی طیارے میں موجود مسافر کو دل کا دورہ پڑنے پر طیارے کوشام ساڑھے سات بجے کراچی ائرپورٹ اتار لیا گیا جہاں مسافر کی جہاز کے اندر ہی موت واقع ہو گئی۔ تفصیلات کے مطابق سعودی عرب کے شہر ریاض سے
بھارتی دارالحکومت نئی دہلی جانے والی بھارتی نجی ائیرلائن کمپنی گو ائیر کی پرواز Gow6658 میں موجودپاسپورٹ نمبر 2528950 کے حامل بھارتی شہر بریلی سے تعلق رکھنے والے نوشاد کو اس وقت دل کا دورہ پڑا جب جہاز کراچی کی فضائی حدود میں موجود تھا۔پائلٹ نے فوری طور پر کراچی ائرپورٹ سے رابطہ کیا اور میڈیکل ایمرجنسی کی وجہ سے جہاز کو اتارنے کی اجازت طلب کی۔ سول ایوی ایشن کے حکام نےجہاز کو کراچی ائرپورٹ پر اترنے کی اجازت دے دی اور فوری طور پر ڈاکٹر کو جہاز کے اندر بھیج دیا گیاجہاں ڈاکٹر نے مسافر کا معائنہ کرنے کے بعد اس کی موت کی تصدیق کردی۔ سول ایوی ایشن کے حکام نے فوری طور پر دفتر خارجہ کے حکام سے رابطہ کیا اور انہیں تمام تفصیلات سے آگاہ کیا۔ بین الاقوامی ایوی ایشن قوانین کے تحت جہاز کے اندر وفات پا جانے والے مسافر کو متعلقہ ملک کے سفارتخانے کی طرف سے موت کا سرٹیفکیٹ جاری کئے جانے کے بعد اس کی لاش کو جہاز سے اتار لیا جاتا ہے جب کہ پاکستان میں بھارتی یا اسرائیلی جہاز اترنے کے بعد مرنے والے کی لاش اتارنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ بعد ازاں بھارتی طیارہ رات 9 بجے دہلی کے لئے روانہ ہو گیا اور مقامی وقت کے مطابق گیارہ بجے دہلی ہوائی اڈے پر اتر گیا۔

Author: Khalid Mehmood Khalid
-

بھارتی جہاز میں مسافر دل کا دورہ پڑنے سے ہلاک۔ جہاز کو کراچی اتار لیا گیا
-

پاکستان اور بھارت کے درمیان ڈاک رابطے بھی منقطع ہیں
پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث دونوں ملکوں کے درمیان ڈاک رابطے بھی منقطع ہیں جب کہ یونیورسل پوسٹل یونین کے قواعد کے مطابق ڈاک کی ترسیل کسی بھی دو ملکوں کے درمیان جنگ کی صورت میں بھی منقطع نہیں کی جا سکتی۔ پاکستان پوسٹ لاہور کے ایک سینئر افسر سے جب اس حوالے سے بات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ڈاک رابطے اکتوبر 2019 سے بند ہیں۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ اس قبل کئی بار دونوں ملکوں میں سخت کشیدگی کے باوجود ڈاک کا سلسلہ دیگر ذرائع سے جاری رہا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اکتوبر 2019 سے قبل بھارت سے واہگہ بارڈر کے راستے ڈاک کے تھیلے پاکستان آئے تھے جن میں سے 26 خطوط اس وقت بھی ڈاک خانے میں موجود ہیں جن کو تقسیم نہیں کیا جاسکا۔ ان خطوط پر یا تو موصول کرنے والوں کے ایڈریس غلط ہیں یا پھر وہ خطوط وصول کرنے سے انکاری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ قانون کے مطابق پاکستان ان26 خطوط کو بھارت واپس بھجوانے کا پابند ہے لیکن دونوں ملکوں کی سرحدیں اور فضائی رابطے بند ہونے کی وجہ سے وہ خطوط بھارت واپس نہیں بھیجے جا سکے تاہم اس حوالے سے محکمہ ڈاک نے وزارت خارجہ سے رابطہ کیا ہے۔
-

دیوالی کے موقعہ پر بھارتی فوج کا بے بنیاد پروپیگنڈا
بھارتی فوج نے بھارت میں دیوالی کے موقعہ پر اپنے عوام کو بے وقوف بنانے کے لئے یہ شوشہ چھوڑا ہے کہ پاکستان نے فائربندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارتی علاقے میں فائرنگ کی جس کے بعد بھارتی فوجوں نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے پاکستان کے گیارہ فوجی شہید کر دئیے۔ بھارتی فوج نے صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ یہ مضحکہ خیزخبر بھی دی کہ شہید ہونے والوں میں پاکستان آرمی سپیشل سروسز گروپ کے دو سے تین کمانڈوز بھی شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پندرہ سے سولہ پاکستانی فوجی جوان زخمی بھی ہوئے۔ بھارتی فوج نے دعوی کیا کہ پاکستان نے 13 نومبر کو بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر اڑی سے گوریز کے علاقے کے درمیان فائرنگ کی جس کا جواب بھارتی فوج نے دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس مصنوعی اور فرضی واقعہ کی ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی جس میں بھارتی فوج نی ایک ویران علاقے میں موجود ایک مکان کو نشانہ بنایا گیا لیکن اس ویڈیو میں جو غلطی کی گئی وہ فوری طور پر ہر خاص و عام نے پکڑ لی۔ مکان تباہ ہونے کی صرف مٹی اور دھول اڑی لیکن وہاں کوئی بھی لاش نظر نہیں آئی۔ اس بھارتی "معرکے” میں بھارتی فوج نے اسرائیل سے حال ہی میں خریدے گئے جدید ترین سپائیک انٹی ٹینک گائیڈڈ میزائل استعمال کئے جانے کا دعوی کیا۔ بھارتی عوام کو یہ خوشخبری بھی سنائی گئی کہ اس واقعے میں 4 بھارتی فوجی اور 5 بھارتی شہری ہلاک اور 3 فوج زخمی بھی ہو گئے۔ بھارتی فوج نے یہ بے بنیاد واقعہ کی تشہیر پورے بھارتی میڈیا پر کی لیکن بھارت کے کئی دفاعی ماہرین نے اس پر دھیان نہیں دیا اور اسے بھی ماضی میں بھارتی سرجیکل اسٹرائیک کا ری میک قرار دیا۔
-

9 نومبر یوم سقوط جوناگڑھ، چند حقائق
ریاست جونا گڑھ برصغیر کی 562 شاہی ریاستوں میں سے ایک تھی۔ مغل دور میں نواب بہادر خان بابی ایک بااثر عہدے پہ فائز ہوئے۔ 1748ء میں نواب بہادر خان بابی نے بطور آزاد حکمران جوناگڑھ پہ حکومت شروع کی۔ اس کے بعد سے جوناگڑھ پہ انہی کے خاندان کی
حکومت رہی۔ تقسیمِ ہند سے قبل جوناگڑھ ایک فلاحی ریاست تھی جس میں ریاست کے باشندگان کی تعلیم، صحت اور خوراک ریاست مفت فراہم کرتی تھی۔ جونا گڑھ برٹش انڈیا کی دوسری امیر ترین ریاست تھی جبکہ مالی اعتبار سے یہ پانچویں بڑی ریاست تھی۔ یہاں کے لوگ معاشی طورپرخودکفیل تھے اوریہ ایک مضبوط ریاست تھی جس کا اپنا ریلوے کا نظام تھا۔ تقسیمِ ہند کے وقت انڈین ایکٹ 1947 کے تحت شاہی ریاستوں کو آزادی دی گئی تھی کہ وہ چاہیں توبھارت یاپاکستان کے ساتھ الحاق کریں اورچاہیں توآزاد رہیں۔ ریاست جوناگڑھ کا پاکستان سے الحاق بانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح کا خواب تھا۔ چنانچہ اُس وقت ریاست کے نواب مہابت خانجی نے جوناگڑھ کی ریاستی کونسل سے مشاورت کے بعد پاکستان سے الحاق کا فیصلہ کیا اور 15ستمبر 1947 کو پاکستان کے ساتھ الحاق کی دستاویز پر قائداعظم محمد علی جناح کے ساتھ دستخط کئے ۔ لہذاعالمی قوانین کے مطابق 15ستمبر 1947سے جونا گڑھ پاکستان کاحصہ بن گیا۔ 9 نومبر 1947 تک جوناگڑھ پاکستان کا باقاعدہ حصہ رہا۔ اس دوران جوناگڑھ کی سرکاری عمارت پر پاکستان کا پرچم لہراتا تھا۔ 9 نومبر 1947ء کو بھارتی فوج نے ریاست میں پیش قدمی کرتے ہوئے غیر قانونی قبضہ جما لیا- جوناگڑھ وہ پہلا پاکستانی علاقہ تھا جس پر بھارت نے پاکستانی حدود کراس کرتے ہوئے قبضہ کیا۔جوناگڑھ قانونی طور پر پاکستان کا حصہ ہے جو بھارتی قبضہ میں ہے۔ قائداعظم اور نواب آف جوناگڑھ کے مابین طے پانے والی الحاقی دستاویزایک انتہائی اہم قانونی دستاویز ہے۔مسئلہ جوناگڑھ تب تک اپنی قانونی حیثیت رکھتا ہے جب تک الحاقی دستاویز کی قانونی حیثیت برقرار ہے۔ پاکستان بننے کے بعد جونا گڑھ کے لوگوں نے پاکستان کی ترقی میں بہت نمایاں کردار اداکیا،ریاست کے عوام کیونکہ تجارت پیشہ تھے اور معاشی طور پر مضبوط تھے انہوں نے بھارت کی دراندازی کو قبول نہیں کیا اور قیام پاکستان کے وقت بہت سے افراد ہجرت کر کے پاکستان چلے آئے۔ ان میں سے بہت سے افراد اپنے تجربات اور سرمایہ سے پاکستان کی تعمیر و ترقی میں مصروف عمل ہو گئے آج بھی جونا گڑھ سے تعلق رکھنے والے 2.5 ملین سے زائد افراد پاکستان میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں ۔ آج بھی پاکستان کے بڑے تجارتی گروپ دادا بھائی،آدم جی گروپ،پردیسی گروپ، داؤد گروپ یہ سب جونا گڑھ سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں، ایسے ہی پاکستان بننے کے ساتھ ہی بینکنگ اور صنعت کے شعبے میں بھی ریاست جوناگڑھ کے افراد نے اپنا حصہ ڈالا اور پاکستان کو ایک مضبوط بنیاد فراہم کی۔ یوں تو ایک طویل فہرست ہے لیکن ہم اسی پر اکتفا کرتے ہیں ۔ پاکستان میں مسئلہ جوناگڑھ کے حل کیلئے ابتدائی چند سال سیاسی و سفارتی کوششیں ہوئیں لیکن بدقسمتی سے بعد میں اسے بھلا دیا گیا۔ حتیٰ کہ کتابوں اور میڈیا سے بھی اس مسئلہ کا ذکر ناپید ہو گیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ جوناگڑھ کے متعلق نوجوان نسل کو شاید ہی کچھ معلوم ہے۔ ہم موجودہ حکومت کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے ہماری خواہش کے مطابق ریاست جوناگڑھ کو پاکستان کے نقشے میں شامل کیا، ہم علاقائی اور عالمی قوتوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ عالمی قوانین کے مطابق ہمارا جائز حق یعنی ہماری ریاست پر بھارت کا قبضہ ختم کروایاجائےکیونکہ دستاویزی طور پر تو ریاست اب پاکستان کا حصہ ہے۔ ہر سال 9 نومبر کو ہم یوم سقوط جونا گڑھ کی یاد مناتے ہیں ہم پاکستان کے ساتھ ساتھ عالمی برادری سے اپیل کرتے ہیں کہ ریاست جونا گڑھ کو اس کا حق دلوانے میں اپنا بھرپور عملی کردارادا کریں۔ وزیراعظم پاکستان سے ہمارا مطالبہ ہے کہ وہ جوناگڑھ کے سفیر بن کر عالمی سطح پر اس کا کیس لڑیں تاکہ قائداعظم کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔ وزیراعظم پاکستان اور وزیر خارجہ سے درخواست ہے کہ مسئلہ جوناگڑھ پر اقوام متحدہ اور دیگر عالمی فورمز پر بات کرتے ہوئے اس مسئلہ پر بھی بات کریں۔حکومت پاکستان کو قائد اعظم کے وژن کے مطابق اس مسئلہ کو بین الاقوامی سطح پر ضرور اٹھانا چاہیے، پاکستان کا کیس مضبوط ہے اور عالمی قوانین کے مطابق ہے۔ ہم ریاست پاکستان سے یہ مطالبہ بھی کرتے ہیں کہ اسلام آباد میں جونا گڑھ ہاؤس قائم کیا جائے۔ اس کے علاوہ پاکستان میں آباد جوناگڑھ کمیونٹی کے مسائل کو حل کیا جائے۔ نیز یہ امر واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ مسئلہ جوناگڑھ اور مسئلہ کشمیر کی اپنی اپنی نوعیت ہے اور دونوں کو بیک وقت عالمی سطح پر اٹھایا جانا چاہئے کیونکہ قانونی اور اخلاقی طور پہ پاکستان کا موقف عالمی قوانین کےعین مطابق ہے۔ -

کرتارپور راہداری کی تعمیر کو ایک سال مکمل
کرتار پوررا ہداری کے قیام کو ایک سال مکمل ہونے پر پاکستان سکھ گورو دوارہ پر بندھک کمیٹی متروکہ وقف املاک بورڈ کے زیرانتظام گوردوارہ دربار صاحب میں9 نومبر کو ایک تقریب منعقد کرے گی جس میں پاکستان بھر سے سکھ رہنماء اور متروکہ وقف املاک بورڈ حکام شرکت کریں گے۔ ترجمان متروکہ وقف املاک بورڈ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیزکے مطابق پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی اور دنیا بھر کے سکھوں نے بھارت کی جانب سے کرتار پور راہداری کے بارے پراپیگنڈا مسترد کر دیا ہے اور کرتار پور راہداری کو ایک سال مکمل ہونے پرایک بڑی تقریب منعقد ہونے جار ی ہے۔ تقریب میں ملک بھر سے سکھ رہنماؤں کی بڑی تعداد شرکت کرے گی۔پردھان سردار ستونت سنگھ کا کہنا ہے کہ دنیا بھر کی سکھ قوم کو پاکستان پر اعتماد ہے۔پاکستان بھرمیں موجود سکھ مذہب کی عبادت گاہیں متروکہ وقف املاک کے زیرانتظام محفوظ ہیں۔ جنرل سیکرٹری سردار امیر سنگھ، سابق پردھان سردار امیرسنگھ اور سردارمن میت سنگھ کاکہنا ہے کہ کرتار پور راہدری دنیا بھر کے سکھوں کے لیے حکومت پاکستان کی جانب سے محبت اورامن کا پیغام ہے۔ ایڈیشنل سیکرٹری شرائنزطارق وزیراوران کی ٹیم کرتار پورراہداری کی سیکورٹی اورانتظام کے لیے اہم کردار ادا کر رہی ہے جس پر ہم ان کے بے حد شکرگزارہیں۔پاکستان بھرمیں سکھوں کے مذہبی مقامات کی دیکھ بھال اورمذہبی تقاریب کے انعقادکےلئے متروکہ وقف املاک کواپنی خدمات کی انجام دہی کے لیے پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی کی مکمل مشاورت حاصل ہوتی ہے۔
-

مودی، عمران اور چینی صدر کا ورچوئل سامنا
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور پاکستان کے وزیراعظم عمران خان 10 نومبر کو شنگھائی تعاون تنظیم کے ورٹوئل اجلاس میں ایک دوسرے کے ساتھ سکرین ٹائم شئیر کریں گے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق چین کے ساتھ لداخ کے حوالے سے سخت کشیدگی کے باوجود زی جن پنگ بھی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اجلاس کی صدارت روس کے صدر ولادی میر پوٹن کریں گے جب کہ تنظیم کے دیگرارکان میں ترکمانستان، ازبکستان، قازقستان، تاجکستان اور کرغستان شامل ہیں جواجلاس میں شرکت کریں گے۔
-

نئی دہلی میں پاکستانی ناظم الامور کی وزارت خارجہ میں طلبی
بھارتی وزارت خارجہ نے پاکستان میں نارووال کے قریب گوردوارہ کرتار پور صاحب کی دیکھ بھال کے لئے حکومت پاکستان کی طرف سے گوردوارے کو خود مختار قرار دئیے جانے اور گوردوارہ پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ میں سکھوں کو نمائندگی نہ دینے پر نئی دہلی میں پاکستان کے ناظم الامور آفتاب حسن کو طلب کیا ہے اور انہیں بھارتی حکومت کی طرف سے احتجاجی مراسلہ دیا۔ مراسلے میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان سکھوں کے مذہبی مقام کے حوالے سے کوئی بھی کمیٹی بنانے کے حوالے سے سکھوں کی نہ صرف رائے لے بلکہ انہیں بھی کمیٹی میں شامل کرے۔
-

ایس پی ایس ایس یوراجہ محمد ارشد کرونا سے انتقال کر گئے
کراچی میں ایس پی ایس ایس یوراجہ محمد ارشد نجی ہسپتال میں رضائےالہی سےانتقال کر گئے۔ راجہ ارشد گزشتہ ایک ہفتےسے کرونا کے باعث گھرمیں قرنطینہ تھے۔ آج طبیعت ناساز ہونے پرانہیں نجی ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ انتقال کر گئے۔ واضح رہے کہ اب تک ڈیوٹی دینے والے 14 افسران و اہلکارکورونا کے باعث جاں بحق ہوچکے ہیں۔
-

گوردوارہ کرتار پور کی دیکھ بھال کے لئے بنائے گئےپراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ پر بھارتی سکھوں کے تحفظات
بھارتی پنجاب میں سکھوں کی مختلف تنظیموں نے پاکستان میں نارووال کے قریب گوردوارہ کرتار پور صاحب کی دیکھ بھال کے لئے حکومت پاکستان کی وزارت مذہبی امور کی طرف سے منظوری کے بعد گوردوارے کو خود مختار قرار دئیے جانے اور پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ کے قیام پر اپنے تحفظات کا اظہار کردیا ہے۔ پنجاب میں سکھوں کی سب سے بڑی تنظیم شرومنی اکالی دل کے سرکردہ لیڈر ڈاکٹر دلجیت سنگھ چیمہ کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے جاری کردہ سرکاری نوٹیفکیشن میں گوردوارہ کی دیکھ بھال کےلئے کئے جانے والے انتظامات کو بزنس پلان کا نام دیا گیا ہے جب کہ سکھ قوم مذہب کے نام پر کسی قسم کا بزنس نہیں کرتی۔ انہوں نے کہا کہ گوردوارہ کرتار پور کی دیکھ بھال کے لئے جتنے فنڈز درکار ہیں وہ دینے کے لئے تیار ہیں۔ سکھوں کی ایک دوسری سرکردہ تنظیم نے اس بات پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے کہ نئے بنائے گئے پراجیکٹ کے ارکان میں ایک بھی سکھ رکن شامل نہیں ہے۔ تنظیم کے عہدیداران کا کہنا تھا کہ کسی بھی مذہبی منصوبے کی خوش اسلوبی سے تکمیل کے لئے اسی مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کاکم از کم ایک رکن ہونا ضروری ہوتا ہے۔ انہوں نے حکومت پاکستان سے اپیل کی کہ کرتارپور گوردوارہ پراجیکٹ مینجمنٹ یونٹ میں سکھوں کو بھی نمائندگی دی جائے۔

-

شہباز شریف اور حمزہ شہباز کا برا وقت شروع
وزیراعظم عمران خان کی طرف سے ملنے والے خصوصی ٹاسک کے بعد وزیر کالونیز پنجاب فیاض الحسن چوہان نے محکمہ جیل خانہ جات کا چارج سنبھالتے ہی شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو کوٹ لکھپت جیل میں دی جانے والی سہولیات کی تفصیلات طلب کر لیں۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پنجاب کی جیلوں سے وی آئی پی کلچر کا خاتمہ ان کی اولین ترجیح ہے۔ فیاض الحسن چوہان نے کہا کہ تمام قیدیوں کو یکساں اور بہترین سہولیات فراہم کرناان کا مشن ہے۔ جیلوں میں کسی بھی قیدی سے امتیازی سلوک کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان اور وزیر اعلٰی پنجاب سردار عثمان بزدار کی قیادت میں پنجاب کی جیلوں کو بحالی کے مراکز بنائیں گے۔