بھارتی میڈیا نے دعوی کیا ہے کہ فرانس کے صدرعمینوئل میکرون نے پاکستان کی حکومت کی طرف سے فرانس کے حوالے سے دئیے گئے بیانات کے جواب میں پاکستانی فضائیہ کے زیر استعمال فرانس کی فرم ڈسالٹ ایوی ایشن کے تیار کردہ 150 کے قریب میراج لڑاکا طیاروں اور پاک بحریہ کی اوگسٹا 90 بی کلاس آبدوزوں کو اپ گریڈ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق فرانس نے پاکستان کے اٹلی ساختہ ائر ڈیفنس سسٹم کو اپ گریڈ کرنے کی درخواست بھی مسترد کر دی ہے۔ اخبار کے مطابق پاکستان نے اپنی اوگسٹا کلاس آبدوزوں کو ایئر انڈیپنڈنٹ پروپلشن اے آئی پی سسٹمز کے ساتھ اپ گریڈ کرنے کی درخواست بھی کی تھی۔ اپ گریڈ ہونے کے بعد ان میں زیادہ دن پانی کے اندر رہنے کی صلاحیت بڑھ جائے گی۔ لیکن فرانس کے ایک سفارت کار کے مطابق فرانس نے اسے بھی مسترد کردیا ہے۔ پاک فضائیہ کے پاس فرانس کی فرم ڈسالٹ ایوی ایشن کے تیار کردہ 150 کے قریب میراج لڑاکا طیارے ہیں۔ جنہیں اب تک پاکستان ہی میں اوورہال اور اپ گریڈ کیا جاتا رہا ہے۔ جبکہ اب جدید ٹیکنالوجی کی اپ گریڈیشن کا اختیار انہیں تیار کرنے والی فرانسیسی فرم کے پاس ہے۔ پاکستان بحریہ میں تین اگوسٹا 90 بی کلاس کی آبدوزیں خالد ، سعد اور حمزہ ہیں۔ اخبار کے مطابق فرانس نے قطر سے بھی کہا ہے کہ وہ اپنے رافیل فائٹر طیاروں کے لئے پاکستانی ٹیکنیشنز کو ملازمت نہ دے کیونکہ اس طرح رافیل کی ٹیکنالوجی لیک ہونے کا اندیشہ ہے۔
Author: Khalid Mehmood Khalid

بھارتی احتجاج: سعودی عرب 20 ریال کا نیا کرنسی نوٹ واپس لے رہا ہے۔ بھارتی دفتر خارجہ
بھارتی دفتر خارجہ نے دعوی کیا ہے کہ سعودی عرب 20 ریال کے اس کرنسی نوٹ کو واپس لے رہا ہے جس کی پشت پر جموں کشمیر اور لداخ کو بھارتی حصہ نہ دکھانے پربھارت نے شدید احتجاج کیاتھا۔ سعودی عرب نے یہ کرنسی نوٹ 24 اکتوبر کو جی 20 ممالک کی کانفرنس کے حوالے سے جاری کیا تھا جس کی پشت پر دنیا کا نقشہ بنایا گیا تھا۔ نقشے میں کشمیر اور لداخ کو بھارتی یا پاکستان کا حصہ نہیں دکھایا گیا تھا۔پاکستان نے بھی اس کرنسی نوٹ پرشائع ہونے والے نقشہ پر اعتراض کیا تھا۔ واضح رہے کہ جی 20 ممالک کی پہلی ورچوئل کانفرنس آج سے شروع ہورہی ہے جس میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی بھارت کی نمائندگی کریں گے۔

"پاکستان کے اندر بھارتی کارروائی”۔ بھارتی فوج نے خود ہی تردید کر دی
بھارتی فوج کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری اوپریشن لیفٹیننٹ جنرل پرم جیت سنگھ نے بھارتی میڈیا کو زبردست جھاڑ پلادی اور بھارتی سرکاری نیوز ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا کی جاری کردہ خبر کا سختی سے نوٹس لے لیا جس میں دعوی کیا گیا تھا کہ بھارتی فوج نے جمعرات کی صبح پاکستان کے اندر آزاد کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے نزدیک مبینہ طور پر دہشت گردی کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جس سے بھارت میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے دراندازوں کا کافی نقصان ہوا اور وہ یا تو مارے گئے یا انہیں پیچھے دھکیل دیا گیا۔ نیوز ایجنسی سے خبرجاری ہونے کے چند لمحے بعد ہی بھارت کے تمام بڑے نیوز چینلز نے اپنی معمول کی نشریات کو روک دیا اور بھارتی "کارروائی” کی بریکنگ نیوز نشر کردی۔ بھارتی فوج نے فوری طور پر یہ خبریں رکوائیں اور اپنی پریس ریلیز جاری کی جس میں بھارتی کارروائی کی خبر کو جعلی قرار دیا گیا جس کے بعد بھارتی میڈیا بھی دو گروپوں میں تقسیم ہوگیا۔ ذرائع کے مطابق بھارتی وزارت اطلاعات نے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے سربراہ کو جھوٹی خبر جاری کرنے پر نوٹس جاری کردیا ہے۔

عمران خان کا دورہ افغانستان سبوتاژ کرنے کی بھارتی سازش ناکام
کابل سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے دورہ افغانستان کو سبوتاژ کرنے کی بھارتی کوشش بری طرح ناکام ہوگئی۔ کابل میں بھارتی سفارتخانے کے ایک سینئر افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر باغی ٹی وی کو جو حقائق بتائے اس سے بھارت کا چہرہ بے نقاب ہو گیا ہے۔ اس افسے کے مطابق بھارت نے افغانستان میں کابل سمیت مختلف شہروں میں عمران خان کے خلاف مظاہرے کرنے کے لئے کروڑوں روپے خرچ کئے اور اس بات کو یقینی بنایا کہ وہ لوگ جن کو پیسے دئیے گئے وہ کم از کم پانچ پانچ سو لوگ تمام بڑے شہروں میں مظاہرے میں اکٹھا کریں گے لیکن خوست اور پکتیا کے سوا کسی جگہ پر بھی بھارت کو اپنے مقاصد میں کامیابی نہیں ہو سکی اور کہیں پر بھی لوگوں کو عمران خان کے خلاف مظاہروں میں شرکت کے لئے باہر نہ نکالا جا سکا۔ خوست میں کئے جانے والے مظاہرے میں صرف 11 لوگ شامل ہوئے جب کہ پکتیا میں 50 کے قرہب لوگ باہر نکالے جاسکے۔ کابل میں بھارتی سفارتخانے نے خوست اور پکتیا کے "مظاہروں” کی تصاویر سوشل میڈیا پر پھیلانے کی بھی کوشش کی لیکن ان کی یہ کوشش بھی زیادہ کارگر ثابت نہیں ہوئی۔

پاکستان میں پھنسے161 شہریوں کی 23 نومبر کوبھارت واپسی
لاہور: کورونا لاک ڈاؤن کے وجہ سے پاکستان میں مقیم بھارت سے آئے ہوئے 161 شہریوں کو 23 نومبر کو واہگہ بارڈر کے راستے واپس بھیجا جائیگا، ان میں 135 شہری نوری ویزا کے حامل ہیں 15 ان کے بھارتی رشتہ دار اور 11 بچے شامل ہیں
نوری ویزا کے حامل یہ وہ پاکستانی شہری ہیں جن کی شادی انڈیا میں ہوئی ہے یا وہ کسی وجہ سے پاکستان چھوڑ کر بھارت میں جابسے ہیں لیکن ابھی تک انہیں بھارتی شہریت نہیں ملی ہے۔ ان میں زیادہ تعداد خواتین کی ہے۔ بھارتی حکومت ایسے پاکستانی اور بنگلہ دیشی شہریوں کو ان کے آبائی ملک واپس جانے کے لیے نواوبلیگیشن ریٹرن ٹو انڈیا کا ویزا جاری کرتا ہے۔
نوری ویزا کے حامل یہ پاکستانی شہری رواں سال مارچ میں اپنے خاندانوں سے ملنے انڈیا کی مختلف ریاستوں سے یہاں پاکستان پہنچے تھے تاہم اس دوران کورونالاک ڈاؤن کی وجہ سے سرحد بند ہونے کی وجہ سے ان کی واپسی نہیں ہوسکی تھی
نوری ویزا کے حامل ان پاکستانیوں کے ساتھ ان کے 15 بھارتی رشتہ دار اور 11 بچے بھی شامل ہیں
ان پاکستانی اور بھارتی شہریوں کو 23 نومبر کو واہگہ بارڈر کے راستے واپس بھیجا جائیگا۔ بھارتی سفارتخانے کی درخواست پر پاکستانی حکام نے واہگہ بارڈر پر ان شہریوں کی واپسی کے لیے خصوصی طور پر بارڈر کھولنے کی ہدایات جاری کردی ہیں
ان شہریوں کے لیے واپسی سے قبل اپنا کورونا ٹیسٹ کروانا بھی لازمی ہے
بھارتی ہندووں کی بربریت۔ مذہب تبدیل نہ کرنے اور شادی سے انکار پر مسلمان لڑکی کو زندہ جلادیا
بھارتی ریاست بہار کے شہر وشالی میں رسالپور گاوں کی 20 سالہ مسلمان لڑکی گلناز خاتون کومذہب تبدیل کر کے ہندو لڑکے سے شادی کرنے سے انکار کرنے پر زندہ جلائے جانے کے خلاف مظاہروں میں شدت آگئی جس کے بعد پولیس نےبالآخر ایک ملزم کو گرفتار کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق گلناز خاتون جس کی آئندہ ماہ شادی ہونے والی تھی، علاقے کا ایک نوجوان ستیش کماراس سے شادی کرنا چاہتا تھا لیکن وہ چونکہ ہندو مذہب سے تعلق رکھتا تھا اس لئے گلناز نے اس سے شادی سے انکار کردیا جس کا ستیش کمار کو بے حد رنج تھا۔ گلناز کے گھر والوں نے اس کی شادی طے کر دی۔ 30 اکتوبر کو گلناز اپنی بہن گلشن پروین کے ہمراہ گھر کا کوڑا کرکٹ پھینکنے باہر نکلی تو ستیش کمار نے اپنے کزن چندن اور اس کے باپ وجے رائے کی مدد سے گلناز کو پکڑ لیااور اسے ایک بار پھر شادی کے لئے مجبور کیا۔ گلناز نے بتایا کہ وہ مسلمان ہے اور ہندو سے شادی نہیں کر سکتی تو ستیش نے اسے مڈہب تبدیل کرنے کو کہا۔ گلناز کے انکار پر چندن نے اسے پکڑاجب کہ اس کے باپ وجے رائے نے اس پر مٹی کا تیل چھڑکا اور ستیش نے اسے آگ لگا دی جس سے گلناز کا 75 فی صد جسم جل گیا۔ تینوں ملزمان وہاں سے فرار ہوگئے۔ گلناز کی بہن گلشن کی گواہی اور ملزمان کے بارے میں بتانے کے باوجود پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا۔ گلناز خاتون نے ایک ویڈیو میں تمام حقائق ریکارڈ کر کے ویڈیو سوشل میڈیا پر پھیلا دی۔ گلناز 15 نومبر کو انتقال کر گئی۔ جس کے بعد وشالی اور پٹنہ بھر میں کئی این جی اوز اور سیاسی جماعتوں نے ملزمان کو گرفتار کرنے کے لئے پولیس پر دباو ڈالا۔ گزشتہ روز پولیس نے ستیش کمار کو گرفتار کرلیا جب کہ دیگر دو ملزموں کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے جارہے ہیں۔

بھارتی جہاز میں مسافر دل کا دورہ پڑنے سے ہلاک۔ جہاز کو کراچی اتار لیا گیا
بھارتی طیارے میں موجود مسافر کو دل کا دورہ پڑنے پر طیارے کوشام ساڑھے سات بجے کراچی ائرپورٹ اتار لیا گیا جہاں مسافر کی جہاز کے اندر ہی موت واقع ہو گئی۔ تفصیلات کے مطابق سعودی عرب کے شہر ریاض سے
بھارتی دارالحکومت نئی دہلی جانے والی بھارتی نجی ائیرلائن کمپنی گو ائیر کی پرواز Gow6658 میں موجودپاسپورٹ نمبر 2528950 کے حامل بھارتی شہر بریلی سے تعلق رکھنے والے نوشاد کو اس وقت دل کا دورہ پڑا جب جہاز کراچی کی فضائی حدود میں موجود تھا۔پائلٹ نے فوری طور پر کراچی ائرپورٹ سے رابطہ کیا اور میڈیکل ایمرجنسی کی وجہ سے جہاز کو اتارنے کی اجازت طلب کی۔ سول ایوی ایشن کے حکام نےجہاز کو کراچی ائرپورٹ پر اترنے کی اجازت دے دی اور فوری طور پر ڈاکٹر کو جہاز کے اندر بھیج دیا گیاجہاں ڈاکٹر نے مسافر کا معائنہ کرنے کے بعد اس کی موت کی تصدیق کردی۔ سول ایوی ایشن کے حکام نے فوری طور پر دفتر خارجہ کے حکام سے رابطہ کیا اور انہیں تمام تفصیلات سے آگاہ کیا۔ بین الاقوامی ایوی ایشن قوانین کے تحت جہاز کے اندر وفات پا جانے والے مسافر کو متعلقہ ملک کے سفارتخانے کی طرف سے موت کا سرٹیفکیٹ جاری کئے جانے کے بعد اس کی لاش کو جہاز سے اتار لیا جاتا ہے جب کہ پاکستان میں بھارتی یا اسرائیلی جہاز اترنے کے بعد مرنے والے کی لاش اتارنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ بعد ازاں بھارتی طیارہ رات 9 بجے دہلی کے لئے روانہ ہو گیا اور مقامی وقت کے مطابق گیارہ بجے دہلی ہوائی اڈے پر اتر گیا۔


پاکستان اور بھارت کے درمیان ڈاک رابطے بھی منقطع ہیں
پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث دونوں ملکوں کے درمیان ڈاک رابطے بھی منقطع ہیں جب کہ یونیورسل پوسٹل یونین کے قواعد کے مطابق ڈاک کی ترسیل کسی بھی دو ملکوں کے درمیان جنگ کی صورت میں بھی منقطع نہیں کی جا سکتی۔ پاکستان پوسٹ لاہور کے ایک سینئر افسر سے جب اس حوالے سے بات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ڈاک رابطے اکتوبر 2019 سے بند ہیں۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ اس قبل کئی بار دونوں ملکوں میں سخت کشیدگی کے باوجود ڈاک کا سلسلہ دیگر ذرائع سے جاری رہا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اکتوبر 2019 سے قبل بھارت سے واہگہ بارڈر کے راستے ڈاک کے تھیلے پاکستان آئے تھے جن میں سے 26 خطوط اس وقت بھی ڈاک خانے میں موجود ہیں جن کو تقسیم نہیں کیا جاسکا۔ ان خطوط پر یا تو موصول کرنے والوں کے ایڈریس غلط ہیں یا پھر وہ خطوط وصول کرنے سے انکاری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ قانون کے مطابق پاکستان ان26 خطوط کو بھارت واپس بھجوانے کا پابند ہے لیکن دونوں ملکوں کی سرحدیں اور فضائی رابطے بند ہونے کی وجہ سے وہ خطوط بھارت واپس نہیں بھیجے جا سکے تاہم اس حوالے سے محکمہ ڈاک نے وزارت خارجہ سے رابطہ کیا ہے۔

دیوالی کے موقعہ پر بھارتی فوج کا بے بنیاد پروپیگنڈا
بھارتی فوج نے بھارت میں دیوالی کے موقعہ پر اپنے عوام کو بے وقوف بنانے کے لئے یہ شوشہ چھوڑا ہے کہ پاکستان نے فائربندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارتی علاقے میں فائرنگ کی جس کے بعد بھارتی فوجوں نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے پاکستان کے گیارہ فوجی شہید کر دئیے۔ بھارتی فوج نے صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ یہ مضحکہ خیزخبر بھی دی کہ شہید ہونے والوں میں پاکستان آرمی سپیشل سروسز گروپ کے دو سے تین کمانڈوز بھی شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پندرہ سے سولہ پاکستانی فوجی جوان زخمی بھی ہوئے۔ بھارتی فوج نے دعوی کیا کہ پاکستان نے 13 نومبر کو بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر اڑی سے گوریز کے علاقے کے درمیان فائرنگ کی جس کا جواب بھارتی فوج نے دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس مصنوعی اور فرضی واقعہ کی ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی جس میں بھارتی فوج نی ایک ویران علاقے میں موجود ایک مکان کو نشانہ بنایا گیا لیکن اس ویڈیو میں جو غلطی کی گئی وہ فوری طور پر ہر خاص و عام نے پکڑ لی۔ مکان تباہ ہونے کی صرف مٹی اور دھول اڑی لیکن وہاں کوئی بھی لاش نظر نہیں آئی۔ اس بھارتی "معرکے” میں بھارتی فوج نے اسرائیل سے حال ہی میں خریدے گئے جدید ترین سپائیک انٹی ٹینک گائیڈڈ میزائل استعمال کئے جانے کا دعوی کیا۔ بھارتی عوام کو یہ خوشخبری بھی سنائی گئی کہ اس واقعے میں 4 بھارتی فوجی اور 5 بھارتی شہری ہلاک اور 3 فوج زخمی بھی ہو گئے۔ بھارتی فوج نے یہ بے بنیاد واقعہ کی تشہیر پورے بھارتی میڈیا پر کی لیکن بھارت کے کئی دفاعی ماہرین نے اس پر دھیان نہیں دیا اور اسے بھی ماضی میں بھارتی سرجیکل اسٹرائیک کا ری میک قرار دیا۔

9 نومبر یوم سقوط جوناگڑھ، چند حقائق
ریاست جونا گڑھ برصغیر کی 562 شاہی ریاستوں میں سے ایک تھی۔ مغل دور میں نواب بہادر خان بابی ایک بااثر عہدے پہ فائز ہوئے۔ 1748ء میں نواب بہادر خان بابی نے بطور آزاد حکمران جوناگڑھ پہ حکومت شروع کی۔ اس کے بعد سے جوناگڑھ پہ انہی کے خاندان کی
حکومت رہی۔ تقسیمِ ہند سے قبل جوناگڑھ ایک فلاحی ریاست تھی جس میں ریاست کے باشندگان کی تعلیم، صحت اور خوراک ریاست مفت فراہم کرتی تھی۔ جونا گڑھ برٹش انڈیا کی دوسری امیر ترین ریاست تھی جبکہ مالی اعتبار سے یہ پانچویں بڑی ریاست تھی۔ یہاں کے لوگ معاشی طورپرخودکفیل تھے اوریہ ایک مضبوط ریاست تھی جس کا اپنا ریلوے کا نظام تھا۔ تقسیمِ ہند کے وقت انڈین ایکٹ 1947 کے تحت شاہی ریاستوں کو آزادی دی گئی تھی کہ وہ چاہیں توبھارت یاپاکستان کے ساتھ الحاق کریں اورچاہیں توآزاد رہیں۔ ریاست جوناگڑھ کا پاکستان سے الحاق بانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح کا خواب تھا۔ چنانچہ اُس وقت ریاست کے نواب مہابت خانجی نے جوناگڑھ کی ریاستی کونسل سے مشاورت کے بعد پاکستان سے الحاق کا فیصلہ کیا اور 15ستمبر 1947 کو پاکستان کے ساتھ الحاق کی دستاویز پر قائداعظم محمد علی جناح کے ساتھ دستخط کئے ۔ لہذاعالمی قوانین کے مطابق 15ستمبر 1947سے جونا گڑھ پاکستان کاحصہ بن گیا۔ 9 نومبر 1947 تک جوناگڑھ پاکستان کا باقاعدہ حصہ رہا۔ اس دوران جوناگڑھ کی سرکاری عمارت پر پاکستان کا پرچم لہراتا تھا۔ 9 نومبر 1947ء کو بھارتی فوج نے ریاست میں پیش قدمی کرتے ہوئے غیر قانونی قبضہ جما لیا- جوناگڑھ وہ پہلا پاکستانی علاقہ تھا جس پر بھارت نے پاکستانی حدود کراس کرتے ہوئے قبضہ کیا۔جوناگڑھ قانونی طور پر پاکستان کا حصہ ہے جو بھارتی قبضہ میں ہے۔ قائداعظم اور نواب آف جوناگڑھ کے مابین طے پانے والی الحاقی دستاویزایک انتہائی اہم قانونی دستاویز ہے۔مسئلہ جوناگڑھ تب تک اپنی قانونی حیثیت رکھتا ہے جب تک الحاقی دستاویز کی قانونی حیثیت برقرار ہے۔ پاکستان بننے کے بعد جونا گڑھ کے لوگوں نے پاکستان کی ترقی میں بہت نمایاں کردار اداکیا،ریاست کے عوام کیونکہ تجارت پیشہ تھے اور معاشی طور پر مضبوط تھے انہوں نے بھارت کی دراندازی کو قبول نہیں کیا اور قیام پاکستان کے وقت بہت سے افراد ہجرت کر کے پاکستان چلے آئے۔ ان میں سے بہت سے افراد اپنے تجربات اور سرمایہ سے پاکستان کی تعمیر و ترقی میں مصروف عمل ہو گئے آج بھی جونا گڑھ سے تعلق رکھنے والے 2.5 ملین سے زائد افراد پاکستان میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں ۔ آج بھی پاکستان کے بڑے تجارتی گروپ دادا بھائی،آدم جی گروپ،پردیسی گروپ، داؤد گروپ یہ سب جونا گڑھ سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں، ایسے ہی پاکستان بننے کے ساتھ ہی بینکنگ اور صنعت کے شعبے میں بھی ریاست جوناگڑھ کے افراد نے اپنا حصہ ڈالا اور پاکستان کو ایک مضبوط بنیاد فراہم کی۔ یوں تو ایک طویل فہرست ہے لیکن ہم اسی پر اکتفا کرتے ہیں ۔ پاکستان میں مسئلہ جوناگڑھ کے حل کیلئے ابتدائی چند سال سیاسی و سفارتی کوششیں ہوئیں لیکن بدقسمتی سے بعد میں اسے بھلا دیا گیا۔ حتیٰ کہ کتابوں اور میڈیا سے بھی اس مسئلہ کا ذکر ناپید ہو گیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ جوناگڑھ کے متعلق نوجوان نسل کو شاید ہی کچھ معلوم ہے۔ ہم موجودہ حکومت کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے ہماری خواہش کے مطابق ریاست جوناگڑھ کو پاکستان کے نقشے میں شامل کیا، ہم علاقائی اور عالمی قوتوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ عالمی قوانین کے مطابق ہمارا جائز حق یعنی ہماری ریاست پر بھارت کا قبضہ ختم کروایاجائےکیونکہ دستاویزی طور پر تو ریاست اب پاکستان کا حصہ ہے۔ ہر سال 9 نومبر کو ہم یوم سقوط جونا گڑھ کی یاد مناتے ہیں ہم پاکستان کے ساتھ ساتھ عالمی برادری سے اپیل کرتے ہیں کہ ریاست جونا گڑھ کو اس کا حق دلوانے میں اپنا بھرپور عملی کردارادا کریں۔ وزیراعظم پاکستان سے ہمارا مطالبہ ہے کہ وہ جوناگڑھ کے سفیر بن کر عالمی سطح پر اس کا کیس لڑیں تاکہ قائداعظم کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔ وزیراعظم پاکستان اور وزیر خارجہ سے درخواست ہے کہ مسئلہ جوناگڑھ پر اقوام متحدہ اور دیگر عالمی فورمز پر بات کرتے ہوئے اس مسئلہ پر بھی بات کریں۔حکومت پاکستان کو قائد اعظم کے وژن کے مطابق اس مسئلہ کو بین الاقوامی سطح پر ضرور اٹھانا چاہیے، پاکستان کا کیس مضبوط ہے اور عالمی قوانین کے مطابق ہے۔ ہم ریاست پاکستان سے یہ مطالبہ بھی کرتے ہیں کہ اسلام آباد میں جونا گڑھ ہاؤس قائم کیا جائے۔ اس کے علاوہ پاکستان میں آباد جوناگڑھ کمیونٹی کے مسائل کو حل کیا جائے۔ نیز یہ امر واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ مسئلہ جوناگڑھ اور مسئلہ کشمیر کی اپنی اپنی نوعیت ہے اور دونوں کو بیک وقت عالمی سطح پر اٹھایا جانا چاہئے کیونکہ قانونی اور اخلاقی طور پہ پاکستان کا موقف عالمی قوانین کےعین مطابق ہے۔







بھارتی دارالحکومت نئی دہلی جانے والی بھارتی نجی ائیرلائن کمپنی گو ائیر کی پرواز Gow6658 میں موجودپاسپورٹ نمبر 2528950 کے حامل بھارتی شہر بریلی سے تعلق رکھنے والے نوشاد کو اس وقت دل کا دورہ پڑا جب جہاز کراچی کی فضائی حدود میں موجود تھا۔پائلٹ نے فوری طور پر کراچی ائرپورٹ سے رابطہ کیا اور میڈیکل ایمرجنسی کی وجہ سے جہاز کو اتارنے کی اجازت طلب کی۔ سول ایوی ایشن کے حکام نےجہاز کو کراچی ائرپورٹ پر اترنے کی اجازت دے دی اور فوری طور پر ڈاکٹر کو جہاز کے اندر بھیج دیا گیاجہاں ڈاکٹر نے مسافر کا معائنہ کرنے کے بعد اس کی موت کی تصدیق کردی۔ سول ایوی ایشن کے حکام نے فوری طور پر دفتر خارجہ کے حکام سے رابطہ کیا اور انہیں تمام تفصیلات سے آگاہ کیا۔ بین الاقوامی ایوی ایشن قوانین کے تحت جہاز کے اندر وفات پا جانے والے مسافر کو متعلقہ ملک کے سفارتخانے کی طرف سے موت کا سرٹیفکیٹ جاری کئے جانے کے بعد اس کی لاش کو جہاز سے اتار لیا جاتا ہے جب کہ پاکستان میں بھارتی یا اسرائیلی جہاز اترنے کے بعد مرنے والے کی لاش اتارنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ بعد ازاں بھارتی طیارہ رات 9 بجے دہلی کے لئے روانہ ہو گیا اور مقامی وقت کے مطابق گیارہ بجے دہلی ہوائی اڈے پر اتر گیا۔


