Baaghi TV

Author: Khalid Mehmood Khalid

  • اجیت ڈوول نے بنگلادیش کے قومی سلامتی مشیر کو دہلی میں مدعو کرلیا

    اجیت ڈوول نے بنگلادیش کے قومی سلامتی مشیر کو دہلی میں مدعو کرلیا

    بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول کی خصوصی دعوت پر بنگلہ دیش کے ہم منصب میجر جنرل (ر) خلیلُ الرحمٰن 19 سے 20 نومبر کو دہلی میں منعقد ہونے والی کولمبو سیکیورٹی کونکلیو کے ساتویں این ایس اے سطح کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ یہ فورم بھارت، سری لنکا، مالدیپ، ماریشس اور بنگلہ دیش کے درمیان علاقائی سلامتی، دہشت گردی کے انسداد، سمندری تحفظ اور سائبر سیکیورٹی پر تعاون بڑھانے کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ اجیت ڈوول کی جانب سے خلیلُ الرحمٰن کو خصوصی طور پر دعوت نامہ بھیجنا محض رسمی کارروائی نہیں، بلکہ اس کے پیچھے بھارت کی اسٹریٹجک پالیسی کارفرما ہے۔ ذرائع کے مطابق بھارت بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کی چند حالیہ پالیسیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے جن میں ڈھاکہ میں پاکستانی فوجی افسران کے حالیہ دورے سب سے اہم ہے۔ اس کے علاوہ بنگلادیش کے چین کے ساتھ بڑھتے ہوئے دفاعی رابطے اور بعض انتہائی اہم اور بھارت مخالف افراد کی رہائی پر بھی بھارت گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ 

    واضح رہے کہ بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات حالیہ چند ماہ کے دوران مختلف سیاسی اور سیکیورٹی معاملات کے باعث کشیدگی کا شکار رہے ہیں۔ ایسے میں ڈوول کی دعوت کو خطے میں بدلتی صورتحال کے تناظر میں ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

  • بھارتی میڈیا نےدہلی دھماکوں کا الزام اب بنگلادیش پرلگادیا

    بھارتی میڈیا نےدہلی دھماکوں کا الزام اب بنگلادیش پرلگادیا

    بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں لال قلعہ کے قریب ہونے والے کار بم دھماکے کے حوالے سے بھارتی میڈیا نے مبینہ طور پر بنگلہ دیش کا ہاتھ ہونے کا دعویٰ کیا ہے تاہم بنگلہ دیشی حکومت نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے بے بنیاد، مضحکہ خیز اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق دھماکے کی منصوبہ بندی اس سال اکتوبر کے آخر میں ڈھاکہ میں ایک اہم میٹنگ میں کی گئی۔ اس میٹنگ میں مبینہ طور پر لشکرِ طیبہ کے کمانڈر سیف اللہ سیف، حزب التحریر کے مقامی رہنما، انصاراللہ بنگلہ ٹیم کے ارکان اور دو بنگلہ دیشی سرکاری اہلکار شریک تھے۔ اسی ملاقات میں دہلی حملے کے لیے ابتدائی خاکہ تیار ہوا۔ بھارتی میڈیا نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ دھماکے میں استعمال ہونے والا بارودی مواد بنگلہ دیش سے مغربی بنگال کے مرشدآباد کے راستے بھارت منتقل کیا گیا۔ اختیار نامی ایک شخص کو اس مبینہ نیٹ ورک کا اہم سہولت کار قرار دیا جا رہا ہے تاہم اس حوالے سے بھارتی تحقیقاتی ایجنسیوں نے باضابطہ طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا۔

    دریں اثنا بنگلہ دیش کی وزارتِ خارجہ نے بھارتی میڈیا رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈھاکہ پر دہلی دھماکے میں ملوث ہونے کا الزام بے بنیاد ہے۔ مشیر خارجہ توحید حسین نے کہا کہ بنگلہ دیش ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف ہے اور دہلی دھماکے پر بھارتی عوام سے ہمدردی رکھتا ہے، لیکن غیر مصدقہ دعووں کو حقیقت سمجھنے کا عمل تفتیش کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

  • لاپتہ بھارتی سکھ خاتون یاتری نے پاکستانی شہری سے نکاح کرلیا

    لاپتہ بھارتی سکھ خاتون یاتری نے پاکستانی شہری سے نکاح کرلیا

    لاہور(خالدمحمودخالد) پاکستان میں بابا گرو نانک کے جنم دن کی یاترا کے لئے بھارت سے آنے والے جتھے میں شامل سکھ خاتون سربجیت کور نے اسلام قبول کرکے ایک پاکستانی شہری سے شادی کرلی ہے۔ ان کا اسلامی نام نور رکھا گیا ہے۔ نکاح نامے کے مطابق 48 سالہ سربجیت کور نے 5 نومبر کو ضلع شیخوپورہ کے فاروق آباد کے رہائشی پاکستانی شہری مقامی حجام ناصر حسین سے نکاح کیا۔ نکاح میں دس ہزار روپے حق مہر درج ہے جو ادا کیا جا چکا ہے۔ سربجیت کور 4 نومبر کو  بھارتی یاتریوں کے ساتھ پاکستان آئی تھیں لیکن 13 نومبر کو بھارت واپس جانے والے یاتریوں میں شامل نہیں تھیں جب کہ اسی روز ان کا ویزہ بھی ختم ہوگیا تھا۔ اسی بنا پر انہیں لاپتہ قرار دے کر ان تلاش شروع کی گئی۔ گزشتہ روز ان کا نکاح نامہ منظرعام پر آگیا۔ یاترا کے دوران وہ ننکانہ صاحب، حسن ابدال، لاہور اور دیگر شہروں میں گروپ سے الگ ہوکر باہر بھی نکلتی رہیں اور بظاہر اسی دوران انہوں نے اپنی مرضی سے گروپ چھوڑ کر نکاح کرلیا۔ نکاح نامے میں انہوں نے بتایا ہے کہ وہ مطلقہ ہیں اور بھارت میں ان کے دو لڑکے بھی ہیں۔ ان کی اپنے سابقہ شوہر کلونت سنگھ سے علیحدگی ہو چکی ہے جب کہ وہ گزشتہ پندرہ سال سے برطانیہ میں مقیم ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق مذکورہ خاتون پر بھارت میں مختلف الزامات کے تحت تین مقدمات بھی درج ہیں جب کہ اس کے بیٹوں کے خلاف دس مقدمات درج ہیں۔

  • سکھ بھارتی خاتون پاکستان میں مبینہ طور پرلاپتہ

    سکھ بھارتی خاتون پاکستان میں مبینہ طور پرلاپتہ

    لاہور: باباگورونانک کا جنم دن منانے پاکستان آنیوالی ایک سکھ بھارتی خاتون پاکستان میں مبینہ طور پرلاپتہ ہوگئی ہے۔

    بھارتی پنجاب کی رہائشی 48 سالہ سربجیت کور 4 نومبر کو یاتریوں کے ساتھ پاکستان آئی تھی،بھارتی خاتون کے لاپتہ ہونے کاانکشاف جمعرات کے روز اس وقت ہوا جب بھارتی یاتری پاکستان میں دس روزہ قیام کے بعد واہگہ بارڈر کے راستے واپس جارہے تھے۔،سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بھارت سے 1923 یاتری پاکستان آئے تھے لیکن واپس جانیوالوں کی تعداد 1922 تھی ۔ ذرائع کے مطابق سربجیت کور بھارتی پنجاب کے ضلع مکتسر صاحب کی رہائشی ہیں۔ مبینہ طور پر لاپتہ ہونیوالی بھارتی خاتون کی تلاش شروع کردی گئی ہے۔ سیکیورٹی ادارے یہ معلوم کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ بھارتی خاتون کس شہر سے لاپتہ ہوئیں۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مذکورہ خاتون کے خلاف انڈیا میں منشیات کے مقدمات درج ہیں اور وہ نوجوانوں کو سوشل میڈیا پر دوستی کرکے ہنی ٹریپ کرتی ہیں۔

  • ترکی کا بھارت کو بڑا دھچکا۔ اپاچی ہیلی کاپٹروں پر مشتمل کارگو طیارے کو  فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہ دی

    ترکی کا بھارت کو بڑا دھچکا۔ اپاچی ہیلی کاپٹروں پر مشتمل کارگو طیارے کو فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہ دی

    ترکی نے بھارتی فوج کے لیے امریکا سے آنے والے اپاچی ہیلی کاپٹروں کی کارگو پرواز کو اپنی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے جس کے نتیجے میں جدید جنگی ہیلی کاپٹروں پر مشتمل کارگو طیارہ واپس امریکا لوٹ گیا۔تفصیلات کے مطابق تین عدد AH-64E اپاچی فائٹر ہیلی کاپٹر جو بھارتی فوج کے لیے تیار کیے گئے تھے، ایک Antonov An-124 کارگو طیارے کے ذریعے امریکا کے شہر میسا ایریزونا سے بھارت روانہ ہوئے۔ راستے میں طیارہ برطانیہ کے ایسٹ مڈلینڈ ائرپورٹ پر رکا تاہم ترکی کی جانب سے فضائی گزرگاہ نہ ملنے پر طیارے کو اپنی پرواز منسوخ کرنی پڑی اور بالآخر وہ امریکا واپس چلا گیا۔ بھارتی دفاعی ذرائع کے مطابق ترکی کی جانب سے یہ فیصلہ سیاسی بنیادوں پر کیا گیا ہے کیونکہ انقرہ پاکستان کا قریبی اتحادی تصور کیا جاتا ہے اور حالیہ مہینوں میں ترکی کی بھارت کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی بھی دیکھی گئی ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ اقدام بھارت کے لیے ایک سفارتی چیلنج بن گیا ہے، کیونکہ ترکی ایشیا اور یورپ کے درمیان اہم فضائی راہداری رکھتا ہے۔ بھارتی فوج نے 2020 میں چھ AH-64E اپاچی ہیلی کاپٹروں کی خریداری کا معاہدہ کیا تھا۔ پہلی کھیپ پہلے ہی بھارت پہنچ چکی ہے جبکہ یہ دوسری کھیپ تھی جس میں تین ہیلی کاپٹر شامل تھے۔ اب اس تاخیر کے باعث بھارتی فوج میں ان ہیلی کاپٹروں کی شمولیت مزید مؤخر ہو گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت اب متبادل فضائی راستے یا سمندری راستے سے ترسیل کے آپشنز پر غور کر رہا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے مسائل سے بچا جا سکے۔

  • بھارتی حکام نےدہلی دھماکے کے الزام میں کئی بے گناہ افراد کو گرفتار کرلیا

    بھارتی حکام نےدہلی دھماکے کے الزام میں کئی بے گناہ افراد کو گرفتار کرلیا

    دہلی کے لال قلعہ کے قریب ہونے والے کار دھماکے کے الزامل میں بھارتی ریاست ہریانہ کے فرید آباد سے گرفتار کیے گئے مشتبہ افراد میں سے ایک مولوی حافظ محمد اشتیاق کے اہل خانہ نے یہ دعویٰ کرتے ہوئے انصاف کی اپیل کی ہے کہ وہ ے قصور ہیں۔

    اشتیاق، نوح ضلع کے سنگار گاؤں کے رہنے والے ہیں، فرید آباد میں الفلاح یونیورسٹی کیمپس کی مسجد میں امام کے طور پر خدمات انجام دیتے ہیں۔ ان کے چار بھائی ہیں، جو مختلف مساجد میں امامت کرتے ہیں اور گھر میں کھیتی باڑی کا انتظام کرتے ہیں۔ اشتیاق کی گرفتاری کے بعد، ان کے بھائیوں، حافظ صدام اور حافظ مبین نے کہا کہ اشتیاق کبھی بھی ایسی کارروائیوں میں ملوث نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے مقامی حکام پر زور دیا کہ وہ منصفانہ اور شفاف تحقیقات کریں۔

    انہوں نے کہا، اشتیاق تقریباً دو ماہ قبل اپنی بوڑھی والدہ سے ملنے اپنے آبائی گاؤں آیا تھا۔ وہ گزشتہ 20 سالوں سے الفلاح کمپلیکس کے قریب رہ رہا ہے۔ الفلاح یونیورسٹی نے اشتیاق کو کیمپس کے قریب رہائش فراہم کی تھی۔ ہمیں میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا کہ ڈاکٹر مزمل، ایک اسسٹنٹ پروفیسر جو اس کے گھر میں کرایہ دار کے طور پر رہ رہے تھے ان کو گرفتار کر لیا گیا جب کہ جلد ہی ہمارے بھائی کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔ ہمارے پاس اس کے ٹھکانے کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں جب کہ گاؤں میں اس کی فیملی سےبھی کسی قسم کا رابطہ نہیں ہورہا۔

    دریں اثنا مہاراشٹر کے ضلع تھانے کے ممبرا علاقے میں ریٹائرڈ پروفیسر ابراہیم عابدی، جن کا نام دھماکے کی تحقیقات سے متعلق کچھ رپورٹس میں سامنے آیا ہے، ان کی اہلیہ نے ان دعوؤں کی سختی سے تردید کی ہے کہ ان کے شوہر اس کیس میں ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے شوہر ایک ریٹائرڈ ماہر تعلیم ہیں جن کا کسی دہشت گردانہ سرگرمی یا کسی بھی ملزم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔منگل (11 نومبر) کو ریاستی انسداد دہشت گردی اسکواڈ (اے ٹی ایس) نے ممبرا میں ابراہیم عابدی کے گھر پر چھاپہ مارا اور موبائل فون، ہارڈ ڈسک اور لیپ ٹاپ ضبط کر لیے۔ کیرالہ میں ان کی پہلی بیوی کے گھر پر بھی چھاپہ مارا گیا۔ ابراہیم عابدی کی دوسری بیوی مہ جبین عابدی نے بیان دیا کہ ان کے شوہر کا کسی دہشت گردانہ سرگرمیوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقاتی ٹیم کے پاس وارنٹ تھا۔ افسران نے تقریباً تین گھنٹے تک تلاشی لی، لیکن انہیں کچھ بھی نہیں ملا۔ ہم نے پولیس میں شکایت درج کرائی ہے اور ہائی کورٹ میں اپیل کریں گے۔

    مہ جبین خود ایک معلمہ اور ایک تبلیغی استاد ہیں اور قرآن کی تلاوت سکھاتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے شوہر نے ریٹائر ہونے سے قبل بائیکلہ کے ایک کالج میں 35 سال تک بطور پروفیسر کام کیا۔

    مہ جبین نے کہا ابراہیم کا نام دہلی بم دھماکوں سے جوڑنے کے بعد ہمارا پورا خاندان بہت پریشان ہے۔ ہم قانونی ذرائع سے انصاف کی تلاش جاری رکھیں گے۔

  • انڈس واٹر ٹریٹی کے تحت نیوٹرل ایکسپرٹ کا اجلاس،بھارت کا شرکت سے انکار

    انڈس واٹر ٹریٹی کے تحت نیوٹرل ایکسپرٹ کا اجلاس،بھارت کا شرکت سے انکار

    انڈس واٹر ٹریٹی کے تحت نیوٹرل ایکسپرٹ کا اجلاس 17 سے 21 نومبر 2025 تک آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں منعقد ہو گا۔ یہ اجلاس دریائے سندھ کے پانی کے معاہدے کے تحت بھارت کے آبی منصوبوں، بالخصوص کشن گنگا اور رتلے ہائیڈرو الیکٹرک پراجیکٹس سے متعلق تنازعات کے جائزے کے لیے بلایا گیا ہے۔

    پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق، پاکستان اجلاس میں خلوصِ نیت کے ساتھ مکمل طور پر شریک ہوگا تاکہ معاہدے کے تحت اپنا مؤقف اور خدشات پیش کر سکے۔دوسری جانب، بھارت نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ ویانا میں ہونے والی نیوٹرل ایکسپرٹ کے اجلاس میں شریک نہیں ہوگا۔ نئی دہلی کا مؤقف ہے کہ چونکہ پاکستان نے اسی معاملے پر کورٹ آف آربیٹریشن سے بھی رجوع کیا ہے، اس لیے بیک وقت دو فورمز پر کارروائی معاہدے کی روح کے منافی ہے۔

    تاہم، نیوٹرل ایکسپرٹ نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ بھارت کی عدم شرکت کے باوجود کارروائی جاری رہے گی اور مقررہ تاریخوں پر اجلاس منعقد ہوں گے۔ذرائع کے مطابق، اجلاس کے دوران پاکستان کی ٹیم بھارت کے ہائیڈرو پاور منصوبوں کے ڈیزائن اور پانی کے بہاؤ پر ان کے ممکنہ اثرات پر اپنے دلائل پیش کرے گی۔

  • 66 ویں سارک لٹریچر فیسٹیول کا 9 نومبر سے دہلی میں آغاز،پاکستان کو دعوت نہ ملی

    66 ویں سارک لٹریچر فیسٹیول کا 9 نومبر سے دہلی میں آغاز،پاکستان کو دعوت نہ ملی

    لاہور(خالدمحمودخالد) سارک کے رکن ممالک کے ادیبوں، شعرا اور مفکرین کی تنظیم فاؤنڈیشن آف سارک رائٹرز اینڈ لٹریچر کے زیرِ اہتمام 66 واں سارک لٹریچر فیسٹیول 9 نومبر سے بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں شروع ہو رہا ہے۔ اس سال فیسٹیول کا مرکزی موضوع “Culture Heals Where Politics Divides” رکھا گیا ہے، یعنی “ثقافت وہ زخم بھرتی ہے جنہیں سیاست گہرا کرتی ہے۔”۔ تاہم اپنے موضوع کے برعکس اس سال کے فیسٹیول میں پاکستان کو شرکت کی دعوت نہیں دی گئی جبکہ باقی تمام سارک ممالک بھارت، نیپال، بنگلہ دیش، سری لنکا، بھوٹان، مالدیپ اور افغانستان سے ادبی نمائندے اس فیسٹیول میں شریک ہوں گے۔ یہ پہلا موقع ہے جب فیسٹیول میں پاکستانی شعرا اور ادیبوں کی غیر حاضری واضح طور پر محسوس کی جائے گی۔ ادبی حلقوں نے اسے افسوسناک اور خطے میں ثقافتی مکالمے کے لیے نقصان دہ فیصلہ قرار دیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی غیر موجودگی سے فیسٹیول کی ادبی روح متاثر ہوگی کیونکہ ماضی میں پاکستانی شعرا، افسانہ نگاروں اور نقادوں نے اس پلیٹ فارم کو ادبی سفارتکاری کا ذریعہ بنادیا تھا۔ اس فیسٹیول کے افتتاحی اجلاس میں صدر ساہتیہ اکادمی مدھو کاؤشک مہمانِ خصوصی ہوں گے جبکہ ممتاز مفکر پروفیسر آشیِش نندی خطاب کریں گے۔ پہلے روز سارک لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ اور سارک لٹریچر ایوارڈ بھی تقسیم کیے جائیں گے۔ چار روزہ فیسٹیول کے دوران شعری نشستیں، افسانہ خوانی، کتابوں کی رونمائیاں، تحقیقی مقالات اور علاقائی ادب پر مکالمے شامل ہوں گے۔ آخری روز صرف ہندی شاعری کے خصوصی سیشنز رکھے گئے ہیں۔ فاؤنڈیشن کی صدر آشرہ محمود نے نئی دہلی سے فون پر باغی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی ایشیائی ممالک کے درمیان سیاسی اختلافات اپنی جگہ مگر ادب اور ثقافت ہی وہ قوتیں ہیں جو دلوں کو قریب لاتی ہیں۔ تاہم انہوں نے پاکستان کی عدم شرکت پر کئے گئے سوال کا کوئی جواب نہیں دیا۔

  • سکھ یاتریوں کے ساتھ آنے والے12 ہندوؤں کو پاکستان داخلے کی اجازت نہ ملی

    سکھ یاتریوں کے ساتھ آنے والے12 ہندوؤں کو پاکستان داخلے کی اجازت نہ ملی

    ہر سال بھارت سمیت دنیا بھر سے سکھ یاتری بڑی تعداد میں بابا گرونانک کے یوم پیدائش کی تقریبا کے موقع پر پاکستان کا رخ کرتے ہیں

    حکومت پاکستان کی جانب سے بھارت کے سکھ یاتریوں کو بابا گرونانک کے جنم دن کی تقریبات میں شرکت کے لیے خصوصی طور پر اجازت دی جاتی ہے تاکہ سکھ اپنے روحانی پیشوا کے مزار پر پیش ہوکر انہیں خراج عقیدت پیش کر سکیں،سکھ یاتریوں کو سکیورٹی کلیئرنس کے بعد ننکانہ صاحب جانے کی اجازت دی جاتی ہے، پاکستانی امیگریشن حکام نے سکھ یاتریوں کے ساتھ آنے والے 12 ہندؤں کو واپس بھارت بھیج دیا،امیگریشن حکام کے مطابق ان 12 ہندؤں کی جائے پیدائش سندھ تھی، اب وہ بھارتی شہریت لے چکے ہیں،حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان میں داخلے کی اجازت صرف سکھ یاتریوں کو دی گئی ہے۔

  • بہار انتخابات :عوام پاکستان کی بجائے پٹرول کی قیمت اور نوکری کی تلاش پر بات کر رہے ہیں۔ راہل گاندھی

    بہار انتخابات :عوام پاکستان کی بجائے پٹرول کی قیمت اور نوکری کی تلاش پر بات کر رہے ہیں۔ راہل گاندھی

    لاہور(خالدمحمودخالد) بھارتی ریاست بہار میں ہونے والے انتخابات کے پہلے مرحلے میں ووٹنگ 6 نومبر کو ہوگی۔جمعرات کو شروع ہونے والے انتخابات میں دو بڑے پولیٹیکل بلاکس بھرپور طریقے سے حصہ لے رہے ہیں جن میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی سربراہی میں نیشنل ڈیموکریٹک الائنس اور راشٹریہ جنتا دل اور انڈین نیشنل کانگریس کی قیادت میں گرینڈ الائنس شامل ہیں۔ انتخابی مقابلہ 243 نشستوں پر ہوگا۔ بہار کے انتخابی میدان میں اس بار بھی وہی پرانی کہانی دہرائی جا رہی ہے۔ اپوزیش کی طرف سے عوامی مسائل، مہنگائی، روزگار اور تعلیم کے سوالات اٹھائے جارہے ہیں جب کہ حکومت کی طرف سے ماضی کی طرح قوم خطرے میں ہے، پاکستان سازش کر رہا ہے اور مودی ہی ملک کو بچا سکتے ہیں، کے نعرے لگائے جارہے ہیں۔ بھارتی اپوزیشن جماعت نیشنل کانگریس کے اہم لیڈر راہول گاندھی نے گزشتہ روز ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ وزیرِاعظم نریندر مودی کی سیاسی حکمتِ عملی ہمیشہ سے ایک ہی نکتے کے گرد گھومتی آئی ہے۔ جب عوامی غصہ بڑھے، اقتصادی دباؤ محسوس ہو، یا پارٹی کے اندر اختلافات ابھرنے لگیں تو پاکستان کارڈ سامنے لے آؤ،  یہی کارڈ آج بہار میں دوبارہ کھیلا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی نے 2014 میں ملک کو ترقی، روزگار اور شفاف حکومت کا خواب دکھایا تھا لیکن آج گیارہ سال بعد وہی وزیرِاعظم اپنی تقریروں میں زیادہ تر پاکستان، دہشت گردی اور قومی سلامتی پر بات کرتا نظر آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی اس حکمت عملی کا مقصد عوامی گفتگو کو مسائل سے ہٹا کر خطرے کی طرف موڑ دینا ہے۔ مودی حکومت کے خلاف سب سے بڑا غصہ روزمرہ زندگی کے دباؤ سے جنم لے رہا ہے۔ مہنگائی نے عام شہری کی کمر توڑ دی ہے، اور نوجوانوں کے پاس روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں۔ یہ وہ حقیقت ہے جس پر مودی حکومت کھل کر بات نہیں کرنا چاہتی کیونکہ اس کے پاس عملی نتائج دکھانے کیلئے کچھ زیادہ نہیں۔ اسی لیے انتخابی جلسوں میں معیشت کی بات کم، پاکستان کی بات زیادہ کی جا رہی ہے۔ مودی کے بہار میں حالیہ بیانات جن میں اپوزیشن پر پاکستان کے ایٹمی خوف سے ڈرنے کا الزام لگایا گیا دراصل اسی پرانی سیاسی تکنیک کی تازہ قسط ہیں۔ یہ ایک جذباتی نکتہ ہے جو ووٹروں کے قومی احساس کو جگاتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا عوام اب بھی ان نعروں سے متاثر ہوتے ہیں، یا ان کی ترجیحات بدل چکی ہیں۔ راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ اس بار زمینی فضا الگ ہے۔ اب عوام پاکستان کی بجائے پٹرول کی قیمت اور نوکری کی تلاش پر بات کر رہے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو کا کہنا ہے کہ مودی جب سوالوں میں گھرتے ہیں، تو دشمن ملک کی بات کرنے لگتے ہیں۔ مودی اب ایک ایسے مقام پر ہیں جہاں ان کی کامیابی کا بوجھ خود ان کے کندھوں پر ہے۔ اگر وہ ترقی کے وعدوں کی طرف واپس نہ لوٹے تو ان کی سیاست ہمیشہ کے لیے خطرے کے بیانیے پر منحصر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کارڈ نے ماضی میں بی جے پی کو انتخابی فائدہ ضرور دیا۔ مگر موجودہ بھارت میں ووٹر اب کہیں زیادہ باشعور ہے۔ وہ جانتا ہے کہ قوم پرستی کے نعروں سے پیٹ نہیں بھرتا اور دشمن کے نام پر روزگار نہیں ملتا۔ مودی کے پاس اب دو راستے ہیں۔ یا تو وہ ترقی کے اپنے وعدے دوبارہ زندہ کریں یا پھر یہ تسلیم کر لیں کہ ان کی سیاست اب دشمن کے خوف پر چلتی ہے عوامی امیدوں پر نہیں۔ واضح رہے کہ بہار سمیت پورے ملک میں مودی حکومت کو جن چیلنجز کا سامنا ہے ان میں سب سے نمایاں مہنگائی، بے روزگاری اور کسانوں کی ناراضی سرفہرست ہیں۔ روزمرہ اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں اضافے نے عام شہری کو متاثر کیا ہے جبکہ نوجوان طبقہ روزگار کے مواقع نہ ملنے سے مایوس ہے۔ کاروباری طبقے میں جی ایس ٹی اور ٹیکس اصلاحات پر ناراضی برقرار ہے۔ جس کی وجہ سے انتخابی نتائج کے بارے میں فوری طور پر کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔