جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ یاسین ملک نے کہا ہے کہ بھارت کے سابق وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے ذاتی طور پر ان کا شکریہ ادا کیا تھا جب انہوں نے 2006 میں پاکستان میں لشکرِ طیبہ کے بانی حافظ سعید سے ملاقات کی تھی۔ یہ انکشاف یاسین ملک نے دہلی ہائی کورٹ میں جمع کرائے گئے اپنے حلف نامہ میں کیا۔ یاسین ملک نے کہا کہ یہ ملاقات ان کی ذاتی کوشش نہیں تھی بلکہ اُس وقت بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے سینئر حکام کی ہدایت پر ہوئی تھی۔ اس کا مقصد بھارت اور پاکستان کے درمیان بیک چینل امن مذاکرات کو آگے بڑھانا تھا۔ یاسین ملک نے اپنے بیان میں کہا کہ اس دور میں انٹیلی جنس بیورو کے اسپیشل ڈائریکٹر وی کے جوشی نے ان سے دہلی میں اس وقت ملاقات کی تھی جب وہ 2005 کے قیامت خیز زلزلے کے بعد پاکستان جانے والے تھے۔ جوشی نے انہیں کہا کہ وہ صرف پاکستانی سیاسی قیادت ہی نہیں بلکہ جہادی رہنماؤں جن میں حافظ سعید بھی شامل ہیں سے بھی بات کریں تاکہ اس وقت کے وزیراعظم منموہن سنگھ کے امن مشن کو کامیاب بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں صاف الفاظ میں کہا گیا کہ پاکستان کے ساتھ بات چیت اُس وقت تک مؤثر نہیں ہو سکتی جب تک جہادی تنظیموں کو بھی اس میں شامل نہ کیا جائے۔ یاسین ملک نے مزید کہا کہ پاکستان سے واپس بھارت پہنچنے کے بعد آئی بی حکام نے دہلی میں وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ سے ان کی ملاقات کروائی جہاں اس وقت کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر ایم کے نرائنن بھی موجود تھے۔ ملک نے دعویٰ کیا کہ منموہن سنگھ نے ذاتی طور پر ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ ان کو کشمیر میں عدم تشدد کی تحریک کا بانی سمجھتے ہیں۔ ملک نے اپنے بیان میں کہا کہ ان کی ملاقات کئی دیگر بڑے رہنماؤں سے بھی ہوئی تھی۔ ان میں اٹل بہاری واجپائی، سونیا گاندھی، پی چدمبرم، آئی کے گجرال اور راجیش پائلٹ شامل تھے۔
Author: Khalid Mehmood Khalid
-

بھارت اورامریکہ کے تجارتی مذاکرات ناکام ہوگئے
بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارت کے حوالے سے نئی دہلی میں آج ہونے والے اہم مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں۔ امریکی وفد کی قیادت برینڈن لنچ نے کی جبکہ بھارتی وفد کی قیادت راجیش اگروال کر رہے تھے۔ دونوں فریقین کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے تاہم انہوں نے مزید ملاقاتوں پر اتفاق کیا۔ مذاکرات کے بعد بھارتی وزیر تجارت سنیل برتھوال نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ امریکہ کے ساتھ کئی سطحوں پر بات چیت جاری ہے لیکن کچھ مسائل پر تاحال اتفاق نہیں ہو سکا۔ خاص طور پر روس سے تیل کی خریداری کے معاملے پر امریکہ کا دباؤ برقرار ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ چاہتا ہے بھارت زرعی مصنوعات، دودھ اور گندم پر عائد بلند ٹیکسز کم کرے۔ بھارت نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ٹیرِف گیپ دو تہائی تک کم کر سکتا ہے مگر کسانوں کے تحفظات برقرار رہیں گے۔ انہوں نے کہا امریکہ نے مطالبہ کیا کہ بھارت روسی تیل کی درآمدات کم کرے۔ بھارت نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ توانائی کی خریداری اس کی معاشی و سلامتی کی ضرورت ہے اور اس پر سمجھوتہ ممکن نہیں۔ بھارتی وزیرِ تجارت نے کہا ہے کہ تجارتی معاہدے کا پہلا حصہ نومبر 2025 تک طے پا سکتا ہے۔ دونوں فریقین نے چھٹے دور مذاکرات کی تیاری شروع کر دی ہے۔
-

ٹرمپ کے ساتھ اختلافات: مودی کا دورہ امریکہ منسوخ
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اختلافات کے باعث بھارتی وزیراعظم نریندر مودی 80ویں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی (UNGA) کے جنرل ڈیبیٹ میں شرکت کے لیے ستمبر 2025 میں امریکہ کا دورہ نہیں کریں گے۔ ایک نظر ثانی شدہ عبوری مقررین کی فہرست کے مطابق، بھارت کی نمائندگی وزیر خارجہ امور ایس جے شنکر کریں گے، جو 27 ستمبر کو بھارتی وزیراعظم کا بیان پڑھ کر سنائیں گے۔ ابتدائی طور پر جولائی میں جاری کردہ فہرست میں مودی کا 26 ستمبر کو خطاب کے لیے ذکر تھا، لیکن تازہ ترین اپ ڈیٹس کے مطابق انہوں نے اس تقریب سے دستبرداری اختیار کر لی ہے۔ کہا جارہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ کشیدگی کے باعث مودی نے اپنا دورہ امریکہ منسوخ کیا ہے اور وہ کواڈ سمٹ میں بھی شرکت نہیں کریں گے۔ اس سے قبل مودی نے فروری 2025 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے لیے امریکہ کا دورہ کیا تھا، جہاں انہوں نے تجارت، دفاع، اور دیگر دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا ۔
-

بھارت پربدھ سے پچاس فیصد امریکی ٹیرف لاگو : نوٹیفکیشن جاری
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے بھارت سے درآمد کی جانے والی مصنوعات پر 25 فیصد اضافی ٹیرف لگانےکیلئے امریکی محکمۂ ہوم لینڈ سکیورٹی نے باضابطہ نوٹیفیکیشن جاری کردیا۔ نیا ٹیرف 27 اگست 2025 بروز بدھ 12:01 بجے سے نافذ ہو جائے گا۔ اس معاملے پر امریکہ نے کہا کہ یہ ٹیرف بھارت کی جانب سے روس سے تیل خریدنے کی وجہ سے لگایا جا رہا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے کہا کہ بھارت روس سے تیل خرید کر یوکرین اور روس کے درمیان جاری جنگ میں ماسکو کو مسلسل فنڈز فراہم کر رہا ہے۔ واضح رہے کہ 30 جولائی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت پر 25 فیصد اضافی ٹیرف لگانے کا اعلان کیا تھا جسے اب بڑھا کر 50 فیصد کر دیا گیا ہے۔
امریکہ نے سیمی کنڈکٹرز، دواسازی اور توانائی کے وسائل سمیت کچھ شعبوں کو نئے ٹیرف میں شامل نہیں کیا جب کہ اس نئے ٹیرف کے نفاذ سے خاص طور پر ٹیکسٹائل، جواہرات اور زیورات، چمڑے، کیمیکلز اور آٹو پارٹس جیسے شعبے متاثر ہوں گے۔
-

بھارت نے ٹرمپ کو قائل کرنے کیلئے لابنگ فرم سے معاہدہ کرلیا
امریکہ کی طرف سے بھارت پر دوہرا ٹیرف لگنے سے صرف دو روز قبل بھارت نے امریکی صدر کو قائل کرنے کی کوششیں مزید تیز کردی ہیں۔ امریکہ میں بھارتی سفارت خانے نے ایک اور لابنگ فرم کی خدمات حاصل کی ہیں جو امریکی صدر کے سامنے بھارت کا مؤقف نئے انداز میں پیش کرے گی۔ بھارت نے اسی مقصد کے لیے پہلے بھی ایک لابنگ کمپنی کے ساتھ معاہدہ کر رکھا ہے۔ نئی کمپنی کا نام مرکری پبلک افیئرز ہے۔
ذرائع کےمطابق بھارت نے آئندہ تین ماہ کے لیے اس کی خدمات حاصل کی ہیں۔ بھارت اس کمپنی کو 3 ماہ میں دو لاکھ پچیس ہزار ڈالرز معاوضہ ادا کرے گا۔ اس کمپنی کا ٹرمپ ٹیم کے ساتھ براہ راست تعلق بتایا جارہا ہے جس کے باعث بھارت امید کر رہا ہے کہ یہ کمپنی بھارتی موقف امریکہ میں مضبوط انداز میں پیش کرے گی۔ مرکری کی ٹیم میں بھارت کا موقف پیش کرنے کی ذمہ داری لوزیانا کے سابق ریپبلکن سینیٹر ڈیوڈ وِٹر اور برائن لانزا کو سونپی گئی ہے جو ٹرمپ کی عبوری ٹیم کے کمیونیکیشن ڈائریکٹر تھے۔ ان کے ساتھ ساتھ نیویارک اسٹیٹ سے پہلے بھارتی نژاد امریکی سینیٹر بننے والے کیون تھامس بھی اس ٹیم میں شامل ہیں۔
اس سے قبل اپریل میں بھارت نے ٹرمپ کے سابق مشیر جیسن ملر کی لابنگ کمپنی کی خدمات حاصل کی تھیں جس کا سالانہ معاہدہ 1.8 ملین ڈالرز کا ہے۔ اب مرکری کو شامل کرکے بھارت نے اپنے لابنگ نیٹ ورک کو مزید مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے۔
-

نئے امریکی سفیر کی تقرری سے بھارت کی بے چینی میں اضافہ
بھارت میں نئے امریکی سفیر کے طور پر سرجیو گور کی تقرری کے بعد بھارتی حکومت کی بے چینی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ان کے روایتی سفارتی تجربے یا جنوبی ایشیائی امور میں مخصوص مہارت کی کمی نے بھارت کے حکومتی حلقوں میں تشویش کو جنم دیا ہے۔ بھارتی حکام نے بھی گور کی نامزدگی پر محتاط ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے جب ان کی تقرری کے بارے میں صدر ٹرمپ کے اعلان کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے تفصیلی تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے صرف اتنا کہا کہ انہوں نے ان کی تقرری کے بارے میں پڑھا ہے۔ بھارت کے سیاسی اور سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ گور کا کیریئر ایک ڈپلومیٹ کی بجائے سیاسی شخصیت کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔ اس وجہ سے بھارت میں یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا بھارت گور کو بطور سفیر "قبول” کرے گا یا نہیں۔
عام تاثر تو یہی ہے کہ جب ان کی تقرری کی امریکی سینیٹ سے تصدیق ہو جاتی ہے اور وہ بھارتی صدر کو اپنی اسناد پیش کر دیتے ہیں تو بھارت دیگر ممالک کی طرح بین الاقوامی سفارتی اصولوں کی پیروی کرتے ہوئے انہیں باضابطہ طور پر امریکی سفیر کے طور پر قبول کر لے گا۔ سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملک کے سفیر کو قبول کرنے سے انکار آسان نہیں ہے۔ ایسا عام طور پر صرف شدید سفارتی تنازعات کی صورت میں ہوتا ہے یا پھر تعینات سفیر کو شخصی طور پر ناپسندیدہ سمجھا جاتا ہو۔ فی الحال امریکہ اور بھارت کے تعلقات اتنے کشیدہ نہیں ہوئے تاہم آنے والے دنوں میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی نوعیت کیا ہوگی اس کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ گ
ور دراصل ٹرمپ کے 38 سالہ قریبی ساتھی کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ صدر کے ساتھ ان کی وفاداری سے بھارت بھی آگاہ ہے۔ سابق سکریٹری خارجہ کنول سبل کا کہنا ہے کہ بھارت میں ان کی تقرری امریکی پالیسی میں تبدیلی کا اشارہ دیتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جنوبی اور وسطی ایشیائی امور کے لیے خصوصی ایلچی کے طور پر گور کے اضافی کردار نے نئی دہلی میں بے چینی پیدا کردی ہے۔ کنول سبل نے اس خدشہ کا اظہار کیا کہ ان کا دوہرا مینڈیٹ امریکہ اور بھارت کی دو طرفہ توجہ کو کمزور کر سکتا ہے اور ممکنہ طور پر بھارت کو پاکستان اور افغانستان سے متعلق علاقائی مسائل میں الجھا سکتا ہے اس کی وجہ سے سرد جنگ کے دور کی پالیسیوں کی واپسی کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے جنہوں نے بھارت اور پاکستان کو ایک دوسرے سے دور کر رکھا ہے۔
-

پاکستان سے کشیدگی کو کم کرنے کیلئے بھارت کا چین سے رابطہ: بھارتی ذرائع
بھارتی دفتر خارجہ کے ذرائع کے مطابق چین کے ساتھ شدید کشیدگی میں کمی کے بعد بھارت اب اس بات کی کوشش کر رہا ہے کہ پاک بھارت کشیدگی کو کم کرنے کے لئے چین اپنا کردار ادا کرے۔
نئی دہلی سے باغی ٹی وی کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق چین میں بھارتی سفیر پردیپ کمار راوت نے ہفتہ کے روز بیجنگ میں چینی دفتر خارجہ کے حکام سے رابطہ کر کے بھارتی حکومت کا اہم پیغام پہنچایا ہے۔ اس سے قبل بھارتی وزیرخارجہ ایس جے شنکر نئی دہلی میں چینی وزیرخارجہ سے اہم ملاقات کرچکے ہیں جب کہ پاکستان کے ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار اس بات کا عندیہ دے چکے ہیں کہ پاکستان بھارت کے ساتھ کشمیر سمیت تمام معاملات پر بات چیت کیلئے تیار ہے۔
ایک باخبر سینیئر بھارتی صحافی نے نئی دہلی سے فون پر باغی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کے چین کے ساتھ گہرے تعلقات کے بارے میں بھارت بخوبی آگاہ ہے اسی لئے بھارت چین کے شہر تیانجن میں ہونے والی شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے موقعہ پر بھارتی وزیراعظم مودی کی پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ ملاقات کروانے کیلئے چین کی مدد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ تاہم بھارتی صحافی کے مطابق پاکستان بھارتی وزیراعظم سے ملاقات کیلئے فوری طور راضی نہیں۔
چینی صدر شی جن پنگ جو کہ سربراہی اجلاس کی صدارت کریں گے، وزیراعظم شہباز شریف کو مودی کے ساتھ ملاقات کیلئے راضی کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ بھارتی صحافی کے مطابق پاک چین دوستی کی نوعیت کو سامنے رکھتے ہوئے اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ چین کے کہنے پر پاکستان کچھ لچک دکھا سکتا ہے اور sco اجلاس کے موقعہ پر پاکستان اور بھارت کے درمیان برف پگھل سکتی ہے۔
بھارتی ذرائع کے مطابق ابتدائی طور پر پاکستان بھارت کیلئے فضائی روٹ کھولنے پر آمادہ ہوسکتا ہے۔ تاہم بھارت کا خیال ہے کہ چین اور پاکستان کے ساتھ مل کر خطے میں تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ کیاجاسکتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اس سربراہی اجلاس میں روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن، ترکی کے صدر رجب طیب اردگان اور ایران کے صدر مسعود پیزشکیان کی شرکت بھی متوقع ہے۔
-

ہردس میں سے چار وزرائے اعلیٰ کے خلاف فوجداری مقدمات
بھارت میں تمام ریاستوں میں ہر دس میں سے چار وزرائے اعلیٰ کے خلاف فوجداری مقدمات قائم ہیں۔ ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز اور نیشنل الیکشن واچ کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق ریاستی اسمبلیوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے تمام 30 موجودہ وزرائے اعلیٰ کے حلف نامہ کا تجزیہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ اس وقت 12 وزرائے اعلیٰ پر مجرمانہ مقدمات درج ہیں جب کہ 10 وزرائے اعلی کے خلاف سنگین جرائم جن میں اقدام قتل، اغوا، رشوت ستانی اور مجرمانہ دھمکیوں کے الزام میں مقدمات قائم ہیں۔ ان میں ریاست تلنگانہ کے وزیراعلی ریونتھ ریڈی 89 ڈکلیئر کیسز کے ساتھ سرفہرست ہیں۔ ان کے بعد تامل ناڈو کے وزیراعلی ایم کے اسٹالن 47 کیسز کا سامنا کررہے ہیں۔ آندھرا پردیش کے وزیراعلیٰ چندرابابو نائیڈو پر 19، کرناٹک کے وزیراعلیٰ سدارامیا پر 13، اور جھارکھنڈ کے وزیراعلیٰ ہیمنت سورین پر 5 مقدمات درج ہیں۔ مہاراشٹر کے وزیر اعلی دیویندر فڈنویس اور ہماچل پردیش کے وزیر اعلی سکھویندر سنگھ سکھو چار چار کیسوں میں ملوث ہیں جبکہ کیرالہ کے وزیراعلی پنارائی وجین دو اور پنجاب کے بھگونت مان کے خلاف ایک مقدمہ درج ہے۔
-

چینی وزیرخارجہ کے دورہ بھارت پر پاکستان کی گہری نظر
چین کے وزیرخارجہ وانگ یی آج بھارت کے دورے پر نئی دہلی پہنچ رہے ہیں جہاں ان کی وزیراعظم مودی، وزیر خارجہ ایس جے شنکر، وزیردفاع راج ناتھ سنگھ اور دیگر اہم فوجی اور سیاسی شخصیات سے اہم ملاقاتیں ہوں گی۔اس ماہ وزیراعظم مودی کے دورہ چین سے پہلے چینی وزیر خارجہ کا دورہ بھارت بے حد اہم قرار دیا جارہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے 50% ٹیرف لگانے کے بعد بھارت سمندری غذا کی برآمدات کے لیے جاپان، چین، برطانیہ اور یورپی یونین پر نظریں جمائے ہوئے ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت گھریلو صنعنتوں کو فروغ دینے اور امریکہ کے ساتھ تجارتی غیر یقینی صورتحال کو دور کرنے کے لیے مینوفیکچرنگ، کنزیومر گڈز، اور قابل تجدید توانائی جیسے غیر حساس شعبوں میں چینی سرمایہ کاری پر پابندیوں کو کم کرنے پر غور کر رہا ہے۔چین اور بھارت کے درمیان 2020میں ہونے والی سرحدی جھڑپوں کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان پہلے باضابطہ رابطے ہیں جس میں بھارت چین کے ساتھ تجارتی نرمیوں کے حوالے سے سنجیدہ دکھائی دے رہا ہے اور مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے لیے تیز تر منظوری کے لئے چین کے ساتھ اعلی سطحی بات چیت کررہا ہے۔تاہم حساس شعبے جیسے دفاع، ٹیلی کام، اور اہم ڈیجیٹل انفراسٹرکچرکے حوالے سے بھارت کے چین کے ساتھ مذاکرات محدود رہنے کی توقع ہے اس کے باوجود بھارتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کے ساتھ شدید کشیدگی کے بعد چین کی بھارت کے ساتھ بڑھتی دوستی اور تجارتی تعلقات کی بحالی پر پاکستان گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور کچھ تحفظات رکھتا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ چینی وزیرخارجہ کابھارت کے دورے کے بعد پاکستان آنے کا مقصد پاکستان کے تحفظات کو دور کرنا ہے تاہم اگست 2025 میں اعلیٰ سطحی دوروں کے ذریعہ بھارت اور چین کے تعلقات میں بہتری خطے میں اہم معاشی تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے۔
-

یومِ آزادی کی تقریر: مودی کو شدید تنقید کا سامنا
بھارت میں اپوزیشن نے وزیر اعظم نریندر مودی کی دہلی کے لال قلعہ میں کی گئی یومِ آزادی کی تقریر کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے اوراسے پرانے نعروں پر مبنی قرار دیا۔ بھارتی کانگریس کے سینئر راہنما جے رام رمیش نے سوشل میڈیا ایکس پر ایک بیان میں کہا ہے کہ مودی کی تقریر پرانے، دوغلے اور بے جان نکات کا مجموعہ تھی جس میں نہ کوئی نئی سوچ نظر آئی اور نہ ہی عوامی مسائل کا کوئی سنجیدہ حل پیش کیا گیا۔ مودی نے پھر سے وہی پرانے اور کھوکھلے نعرے دہرائے جیسے ’وکسِت بھارت‘، ’آتم نربھر بھارت‘ اور ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘، جو برسوں سے سننے کو مل رہے ہیں مگر ان کے نتائج آج تک سامنے نہیں آسکے۔ جے رام رمیش نے طنزیہ کہا، ’’آج وزیر اعظم تھکے ہوئے لگ رہے تھے۔ جلد ہی وہ ریٹائر بھی ہو جائیں گے۔‘‘ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یومِ آزادی کو امید، سچائی اور وژن کا دن ہونا چاہیے مگر مودی کی تقریر خود ستائشی اور چُنی ہوئی کہانیوں کا مجموعہ تھی جس میں ملک میں بڑھتے ہوئے معاشی بحران، بے روزگاری اور عدم استحکام جیسے سنگین مسائل کا کوئی اعتراف نہیں کیا گیا۔ جے رام رمیش نے کہا کہ تقریر کا سب سے تشویش ناک پہلو لال قلعہ کی فصیل سے آر ایس ایس کا نام لینا تھا جو آئینی اور سیکولر جمہوریہ کی روح کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ قدم صرف آر ایس ایس کو خوش کرنے کی ایک بے صبرانہ کوشش ہے، خاص طور پر اس لیے کہ وزیر اعظم اگلے ماہ اپنی 75ویں سالگرہ سے قبل اس تنظیم کی حمایت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 4 جون 2024 کے انتخابات کے بعد مودی کی پوزیشن کمزور ہوئی ہے اور اب وہ اپنی مدت پور کرنے کے لیے مکمل طور پر آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کی مرضی کے مرہون منت ہیں۔ جے رام رمیش نے کہا کہ یومِ آزادی جیسے قومی موقع کو ذاتی اور تنظیمی فائدے کے لیے استعمال کرنا جمہوری اقدار کو نقصان پہنچاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’میڈ اِن انڈیا‘ سیمی کنڈکٹر چِپ بنانے کا وعدہ بھی کئی بار کیا گیا مگر عمل درآمد صفر رہا جب کہ حقیقت یہ ہے کہ بھارت کا پہلا سیمی کنڈکٹر کمپلیکس 1980 کی دہائی کے اوائل میں چنڈی گڑھ میں قائم کیا گیا تھا۔ کسانوں کے تحفظ سے متعلق مودی کے بیانات کو بھی انہوں نے بے معنی قرار دیا۔ جے رام رمیش نے کہا کہ تین سیاہ زرعی قوانین نافذ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جن میں کم از کم امدادی قیمت کی قانونی ضمانت نہ دینا، ایم ایس پی کو لاگتِ کاشت سے 50 فیصد زائد مقرر نہ کرنا اور کسانوں کے قرض معاف نہ کرنا، سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ مودی کے وعدے کھوکھلے ہیں۔ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے وعدوں کو بھی کانگریس لیڈر نے ’رسمی بیان‘ قرار دیا جو کسی عملی روڈ میپ کے بغیر دہرائے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مودی کی تقریر میں اتحاد اور جمہوریت کی باتیں محض زبانی جمع خرچ ہیں کیونکہ انہی کے دور میں انتخابی کمیشن سمیت اہم آئینی ادارے زوال کا شکار ہوئے۔ جے رام رمیش نے کہا کہ وزیر اعظم اب تک اپوزیشن لیڈر کی جانب سے اٹھائے گئے انتخابی نظام کی شفافیت سے متعلق بنیادی سوالات کا جواب نہیں دے سکے۔ بہار میں اسپیشل انٹینسیو ریویژن کے ذریعے لاکھوں ووٹروں کو فہرست سے نکالنے کا عمل اب بھی جاری ہے۔ وفاقی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کے دعووں پر انہوں نے کہا کہ مرکز مختلف ریاستوں میں اپوزیشن کی حکومتوں کو مسلسل کمزور، نظرانداز اور بعض ریاستوں میں ختم کر رہا ہے جس سے بھارت کی جڑیں مزید کھوکھلی ہورہی ہیں۔ اگر بھارت کو کوئی نقصان پہنچا تو اس کے ذمہ دار مودی ہوں گے۔
