پارلیمنٹری کمیٹی برائے کشمیر شہریار خان آفریدی نے بھارت کی جانب سے کشمیریوں کی سوشل میڈیا پر آواز دبانے کیلئے یواے پی اے جیسے ڈریکونین قوانین کے استعمال کی مذمت کرتے ہوئے اسے اقوام متحدہ کے آزادی اظہار کے کنونشن کی خلاف ورزی ہے۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کے زیراہتمام یہاں منعقدہ سیمینار کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کشمیریوں کی سائبر سپیس ختم کرنے کی بھارتی سازش اقوام متحدہ کے کنونشن کی صریح خلاف ورزی ہے جو آزادی اظہار اور اظہار رائے کی ضمانت اور حفاظت کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت سوشل میڈیا ایپلی کیشنز اور دیگر پلیٹ فارمز پر کشمیری عوام کی آواز کو خاموش کرنے کے لئے غیر قانونی یو اے پی اے جیسے کالے قوانین کا استعمال کررہا ہے جبکہ عالمی برادری خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ تاہم ، انہوں نے کہا ، ہندوستان اپنے شیطانی منصوبے میں کامیاب نہیں ہوسکتا کیونکہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان اب کشمیر کے سفیر بن کر عالمی سطح پر بھارتی پراپیگنڈے کو بے نقاب کررہے ہیں۔
آفریدی نے کہا کہ پاکستان اس معاملے کو اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی سفارتی فورموں پر اٹھائے گا۔
انہوں نے کہا ، "ہم ہندوستان کو کبھی بھی کشمیریوں کو ان کے اظہار رائے اور اظہار رائے کے بنیادی حق سے محروم رکھنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ دنیا کو کشمیریوں کے آزادی کے حق کی خلاف ورزی پر توجہ دینی ہوگی۔”
آفریدی نے یواے پی اے کے کالے قانون کے تحت کشمیری صحافیوں اور سینئر حریت رہنماؤں کی گرفتاری کی بھی مذمت کی جس میں مسرت عالم بھٹ ، آسیہ اندرابی ، ناہیدہ نسرین ، فہمیدہ صوفی ، یاسین ملک ، شبیر شاہ ، الطاف شاہ ، ایاز اکبر ، معراج الدین کلوال اور دیگر شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یواے پی اے کا قانون کشمیری آبادی کو خوفزدہ کرتا ہے کیونکہ اس سے ہندوستان کی قابض ریاست کو بے لگام طاقت ملتی ہے کہ وہ انسانی حقوق کے منافی اقدامات کرے۔
انہوں نے کہا ، "یہ نہ صرف ہندوستان کے اپنے آئین کو مجرم بناتا ہے بلکہ منصفانہ اور آزاد عدلیہ کے تصور کو بھی خطرے میں ڈالتا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ سخت قانون ہندوستانی حکومت کشمیری حق پرست اور آزادی پسند افراد کو انفرادی طور پر "دہشت گرد” قرار دینے اور انھیں سزا سنانے پر کم سے کم سات سال تک جیل بھیجنے کی طاقت دیتا ہے۔
آفریدی نے کہا کہ کشمیریوں کی آوازوں کو دبانے کے لئے بھارت کے ذریعہ استعمال کیے جانے والے سخت قوانین کو غیر ممالک میں مقیم کشمیریوں اور پاکستانی بزنس کمیونٹی کو اٹھانا ہوگا اور نریندر مودی کے ہندوستان کی فاشسٹ حکومت کے ذریعہ نسل پرست نسل کے ایجنڈے کے بارے میں دنیا کو آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہندوستانی اقلیتوں کو کشمیریوں کے لئے آواز اٹھانا ہوگی کیونکہ کشمیریوں اور ہندوستانی اقلیتوں کو اسی طرح سنگھی فاشسٹ اور نسل پرست قاتلوں نے نشانہ بنایا تھا۔
انہوں نے دنیا پر زور دیا کہ وہ ہندوستانی اقلیتوں کی بھارتی سڑکوں پر قتل عام کا بھی جائزہ لیں کیونکہ ہندوستان میں عدالتوں اور پولیس پر آر ایس ایس کے نظریاتی افراد نے قبضہ کرلیا ہے۔
سیمینار سے صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان ، پاکستان میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔
Author: Khalid Mehmood Khalid

بھارتی فوج ڈریکونین قوانین استعمال کرکے سوشل میڈیا پر کشمیریوں کی آواز دبارہی ہے۔ شہریارآفریدی

بھارت نے اپنے ناپاک اور مکروہ عزائم کی تکمیل کیلئے پاکستان پر ہائبرڈ وار مسلط کر دی ہے۔ سردار مسعود خان
آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ بھارت نے اپنے ناپاک اور مکروہ عزائم کی تکمیل کے لئے پاکستان پر ہائبرڈ وار مسلط کر دی ہے جس کا جواب اسی ہتھیار سے دینے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد اور قومی یکجہتی پیدا کریں اور اپنی اندرونی کمزوریوں کو دور کر کے دشمن کو جارحانہ انداز میں جواب دیں۔ بھارت امن پسندی کو ہماری کمزوری سمجھ رہا ہے لہذا اب وقت آگیا ہے کہ دشمن کو اسی زبان میں جواب دیا جائے جو وہ سمجھتا ہے۔ اسلام آباد میں وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات کے زیر اہتمام ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ ہمارے پاس دس ملین سمندر پار پاکستانیوں کی صورت میں ایک ایسی طاقت ہے جس کو استعمال کر کے ہم بھارت کی بی جے پی، آر ایس ایس فسطائی حکومت کو دنیا کے سامنے ننگا کر سکتے ہیں۔ کانفرنس سے وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات شبلی فراز، پارلیمان کی خصوصی کشمیر کمیٹی کے سابق چیئرمین اور وفاقی وزیر برائے فوڈز سکیورٹی سید فخر امام، وزیر اعظم پاکستان کے قومی سلامتی کے امور کے معاون خصوصی معید یوسف، سینیٹر ولید اقبال اور آزادکشمیر کی سابق وزیرفرزانہ یعقوب نے بھی خطاب کیا۔ صدر سردار مسعود خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارت اکھنڈ بھارت کے دیرینہ خواب کی تکمیل کے لئے پاکستان کی سلامتی پر کاری ضرب لگانا چاہتا ہے اور یہ محض ہمارا خدشہ نہیں بلکہ یہ دھمکی آر ایس ایس کا سربراہ موہن بھگت، نریندر مودی اور بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ دے رہا ہے۔ بھارت کی حکومت نے ذمہ دار عہدوں پر فائز لوگ پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی باتیں کر رہے ہیں اور ملک پر روایتی جنگ مسلط کرنا چاہتے ہیں جسے ہم محض دھمکی قرار دے کر نظر انداز نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ جموں وکشمیر پر دوبارہ قبضہ کر کے اسے اپنی کالونی میں تبدیل کیا، وہاں نئے ڈومیسائل قوانین نافذ کر کے بھارتی شہریوں کو بسانے کی راہ ہموار کی اور اب جموں وکشمیر ڈویلپمنٹ ایکٹ میں ترمیم کر کے قابض فوج کو یہ اختیار دے دیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے کسی بھی علاقہ کو اسٹرٹیجک ایریا قرار دے کر وہاں نئی آبادیاں تعمیر کرے۔ اس قانون میں ترمیم کے بعد مقبوضہ جموں وکشمیر میں سول حکومت کی رٹ ختم ہو جائے گی اور ریاست عملاً فوجی گریژن میں تبدیل ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان کو عد م استحکام کا شکار کر کے تباہ کرنے کے منصوبے پر کاربند ہے اور وہ جوہری جنگ سے بچ کر روایتی جنگ کی صورت میں کوئی بھی شر انگیزی کر سکتا ہے۔ بھارت نے جو جارحانہ پالیسی اختیار کر رکھی ہے اس کا جواب جارحانہ انداز میں دینے کی ضرورت ہے۔ ہم نے دشمن کے خونی جبر میں پھنسے اپنی بہنوں اور بھائیوں کو آزاد کرانے کے لئے کوئی نہ کوئی تدبیر سوچنی ہے کیونکہ وہ ہمارے جسم کا حصہ ہیں جنہیں بے یار ومددگار نہیں چھوڑا جا سکتا۔ مقبوضہ جموں وکشمیر کی جنگ ہماری بقا، پہچان اور دین و تہذیب کی جنگ ہے جسے بہر صورت منطقی انجام تک پہنچانا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر کشمیریوں کی جدوجہد کی حمایت کا تذکرہ کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ دنیا کی اہم پارلیمان کشمیریوں کے حق میں اور بھارتی اقدامات کے خلاف آواز بلند کر رہی ہیں، ذرائع ابلاغ کشمیریوں کی حمایت میں لکھ رہے ہیں اور ریاست پاکستان اور کچھ دوست ممالک کے شکر گزار ہیں کہ جنہوں نے گزشتہ ایک سال کے عرصے میں تین بار اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غیر رسمی طور پر مسئلہ کشمیر کو زیر بحث لا کر اسے عالمی سطح پر اجاگر کیا۔ صدر سردار مسعود خان نے وفاقی وزیر سید فخر امام کا خاص طور پر تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے رائے عامہ اور پارلیمانی قوتوں کو متحرک کر کے بین الاقوامی سطح پر تنازعہ کشمیر کو اجاگر کرنے میں اہم کردارا دا کیا جس کے لئے ہم اُن کے خاص طور پر شکر گزار ہیں۔

کرونا مریضوں میں اینٹی بائیوٹکس کے زیادہ استعمال سے اموات بھی زیادہ ہو رہی ہیں
بھارتی ریاست مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بینر جی کی ہدایت پر تشکیل کردہ ماہرین کی 2 ٹیموں کے کرونا کے علاج کے لیے قائم اسپتالوں کے دوروں اور علاج کا جائزہ لینے کے بعد ایک ایڈوائزری جاری کی گئی ہےکہ ہسپتالوں میں کرونا مریضوں کو اینٹی بائیوٹک دوائیں اس وقت تک نہ دی جائیں جب تک وہ کسی دوسری بیماری سے متاثر نہ ہوں۔ٹیم کا کہنا تھا کہ ہسپتالوں میں کرونا وائرس کے بیش تر مریضوں کو ڈیکسو سائیکلین اور اریتھرومائسین دی جا رہی تھیں۔ایڈوائزری میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بیکٹریا کو مارنے والی دواؤں کے استعمال سے بھی گریز کیا جائے، اس کے علاوہ اینٹی بائیوٹک دوائیں ان مریضوں کو دی جائیں جو آکسیجن پر ہیں یا ان کی صحت یابی کی رفتار سست ہے۔ واضح رہے کہ اس سال جون میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے بھی وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ کرونا مریضوں میں اینٹی بائیوٹکس کے زیادہ استعمال سے اموات بھی زیادہ ہو رہی ہیں۔

سینیٹ کے مونوگرام کے ساتھ چھپے سگریٹ کے پیکٹس سامنے آگئے
سینیٹ کے مونوگرام کے ساتھ چھپے سگریٹ کے پیکٹس سامنے آگئے جن کا برانڈ سینیٹ ہاوس رکھا گیا ہے۔ حالانکہ پارلیمنٹ ہاؤس میں سگریٹ نوشی ممنوع ہے لیکن اس کے باوجود سینیٹ آف پاکستان کے احاطے میں سینیٹ آف پاکستان کے مونو گرام کے ساتھ سگریٹ کے پیکٹس سینیٹرز میں تقسیم کیے گیے۔
سینیٹر دلاور خان نے سگریٹ سینیٹ آف پاکستان کے تمام ارکان کو تحفے کے طور پر دیئے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ چئیرمین سینیٹ اور ڈپٹی چئیرمین سینیٹ تمباکو نوشی نہیں کرتے تاہم سینیٹر دلاور خان نے چئیرمین اور ڈپٹی چئیرمین سینیٹ کو بھی سگریٹ کے تحفے دئیے۔ سینٹ کے مونوگرام کے ساتھ سگریٹ کے پیکٹس تقسیم ہونے پر اکثر سینٹرز نے اظہار برہمی بھی کیا۔ کئی ممبران نے استفسار کیا کہ کیا سینیٹ کے نام کے ساتھ سگریٹ کا برینڈ متعارف کرانا قانونی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سینیٹ آف پاکستان کے مونوگرام کو سگریٹ کے ڈبے پر چھاپنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ واضح رہے کہ سینٹیر دلاور خان کی مردان میں سگریٹ کی فیکٹری ہے۔ لیکن انہوں نے
اس حوالے سے اپنا موقف دینے سے اجتناب کیا۔
نیب سیاسی انجینئرنگ کیلئے استعمال ہو رہا ہے۔ ترجمان چودھری صاحبان
پاکستان مسلم لیگ کے چودھری صاحبان کے ترجمان نے نیب کے بیان پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیب کا ادارہ سیاسی انجینئرنگ کیلئے استعمال ہو رہا ہے، ہمارے خلاف پرانے کیسز بار بار کھولے اور بند کیے جاتے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ بیس سال پرانے کیس کی دوبارہ سماعت سیاسی انجینئرنگ نہیں تو اور کیا ہے جبکہ خلاف درخواست دینے والا نامعلوم ہے اور دوبارہ اس معاملے کو کھولنے کی وجوہات بھی نامعلوم ہیں جبکہ اب معاملہ عدالت میں ہونے کے باوجود میڈیا ٹرائل کی وجہ کیا ہے اس کا بھی کچھ پتہ نہیں۔ ترجمان نے مزید کہا کہ نیب اپنے جواب میں چودھری صاحبان کا کوئی ایسا اثاثہ نہیں بتا سکا جو ان کی آمدن سے زیادہ ہو، نیب 20 سال میں چودھری صاحبان کی طرف سے کسی کرپشن کا کوئی ثبوت بھی پیش نہیں کر سکا، نیب کے جواب میں بھی چودھری صاحبان کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال یا کسی کرپشن میں کک بیکس یا بدعنوانی کا کوئی ذکر نہیں ہے، نیب نے قرضے لینے اور معاوف کروانے والا کیس بھی خود ہی بند کر دیا ہے اور نیب نے تسلیم کیا کہ چودھری صاحبان نے کوئی غلط قرضہ نہیں لیا نہ ہی کوئی قرضہ معاف کروایا لیکن یہی کیسز سیاسی انجینئرنگ کیلئے بار بار کبھی بند کیے جاتے ہیں کبھی کھول دئیے جاتے ہیں۔

شہریار آفریدی کا آسیہ انداربی کی حمایت میں سینیٹ کی قرارداد کا خیرمقدم
چئیرمین پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر شہریار خان آفریدی نے کشمیری مزاحمتی رہنما اور دختران ملت ملت کی چیئرپرسن آسیہ اندرابی

سے اظہار یکجہتی کے لئے سینیٹ کی منظور کردہ قرارداد کا خیرمقدم کیا ہے۔
سینیٹر مشاہد حسین سید کی پیش کردہ قرارداد کی تعریف کرتے ہوئے شہریار آفریدی نے کہا کہ پوری پاکستانی قوم اور دنیا بھر کے باشعور لوگ آج منظور کی جانے والی قرار داد کی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فاشسٹ بھارتی حکومت کی طرف سے جھوٹے مقدمات درج کرنے کے بعد محترمہ آسیہ انداربی، ان کی معاون ناہیدہ نسرین اور میڈیا سکریٹری فہمیدہ صوفی پچھلے تین سالوں سے ہندوستان کی بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں بند ہیں. انہوں نے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل ، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق ، اقوام متحدہ کے خواتین کے حقوق اور دیگر انسانی حقوق کے فورموں پر زور دیا کہ وہ بھارت کی نئی دہلی کے شہر تہاڑ جیل میں سزا کے سیل میں منتقل ہونے والے تینوں افراد کو اس معاملے میں توجہ دلائیں جہاں بدنام زمانہ قاتلوں، عادی مجرموں اور عصمت دری کرنے والوں کو رکھا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے آزادی پسند کارکن جو دراصل ”ضمیر کے قیدی” ہیں لیکن ان کے ساتھ بدنام زمانہ مجرموں اور ٹھگوں کی طرح برتاؤ کیا جارہا ہے۔ آفریدی نے کہا کہ ہندوستانی فاشسٹ حکومت کے ذریعہ اس طرح کے انتہائی سخت اقدامات سے بہادر کشمیری آزادی سے محبت کرنے والے لوگوں کی حوصلہ شکنی نہیں ہوگی بلکہ آزادی کے شعلے کشمیری عوام کے دلوں میں مضبوط تر ہوجائیں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کشمیری عوام کے لئے اپنی حمایت جاری رکھے گا۔
بلاول بھٹو زرداری صحافی مطیع اللہ جان کے گھر پہنچ گئے
پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بارہ کہو کے علاقے میں صحافی مطیع اللہ جان کی رہائش گاہ پہنچ گئے۔ انہوں نے صحافی مطیع اللہ جان سے ملاقات کرکے ان کے اغواء اور تشدد پر مذمت کی اور ان سے یکجہتی کا بھی اظہارکیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے مطیع اللہ جان کے

اغواء کاروں کو کیفرکردار تک پہنچانے کا بھی مطالبہ کیا۔ مطیع اللہ جان نے ان کے اغواء پر فوری آواز بلند کرنے کے حوالے سے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے بلاول بھٹو زرداری کو سنسرشپ اور صحافیوں کی بیروزگاری کے حوالے سے بھی آگاہ کیا۔ بلاول بھٹو زرداری سے صحافی مطیع اللہ جان کے علاوہ صحافی عمرچیمہ اور صحافی اعزاز سید نے بھی ملاقات کی جبکہ بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ فرحت اللہ بابر اور سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے بھی صحافی مطیع اللہ جان سے ملاقات کی۔ اس موقعہ پر بلاول بھٹو نے کہا کہجو صحافی حکومت پر تنقید کرے، اسے نوکری سے نکلوادینا افسوس ناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب تو یہ فاشسٹ حکومت ویب چینلز پر حکومتی نااہلیوں کو بے نقاب کرنے والے صحافیوں کو بھی برداشت نہیں کررہی بلکہ پی ٹی آئی حکومت اتنی کمزور ہے کہ کسی بھی صحافی کے ایک تنقیدی ٹویٹ سے بوکھلا جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اندازہ ہے کہ اس وقت کورٹ بیٹ رپورٹرز زیادہ حکومتی دباؤ کا شکار ہیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی ہر دور میں میڈیا کی آزادی کے لئے لڑی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کے میڈیا ورکرز کو ہم کسی حالت میں تنہا نہیں چھوڑیں گے۔
بھارتی جاسوس کلبھوشن سے متعلق آرڈیننس۔فروغ نسیم کا قومی اسمبلی میں اظہارخیال
حلف اٹھانے کے بعد وفاقی وزیرقانون فروغ نسیم کا قومی اسمبلی میں اظہارخیال۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن سے متعلق آرڈیننس سے متعلق کچھ حقائق ایوان میں پیش کرنا چاہتا ہوں، بتانا چاہتا ہوں کہ کلبھوشن سےمتعلق آرڈیننس لانا کیوں ضروری تھا، کہا جارہا ہے کہ آرڈیننس سے متعلق بتایا کیوں نہیں گیا؟حساس سیکیورٹی معاملات میں سیاست نہیں کرنی چاہیے،آرڈیننس لانے کے لیے اپوزیشن سے پوچھنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔



پیپلزپارٹی اور ن لیگ بھی اپنے ادوارمیں آرڈیننس لاتی رہی ہیں۔آرڈیننس کے ذریعے نہ سزا ختم کی گئی ہے اورنہ سہولت دی گئی ہے،آرڈیننس میں کہاں لکھا ہے کہ سزا ختم کی گئی ہے؟اگرکلبھوشن کی سزا ختم کی گئی ہوتی توآپ کے ساتھ مل کراحتجاج کرتا۔ آرڈیننس کے حوالے سے سازشی تھیوری نہ بنائی جائے۔ عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کی روشنی میں آرڈیننس لایا گیا،عالمی عدالت انصاف کے فیصلوں کااحترام کرنا ہے،
سی پیک کے تحت 19 منصوبے مکمل ہو چکے ہیں، 28 زیر تکمیل ہیں۔ صدر علوی
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی رارہداری منصوبہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے میں ترقی و خوشحالی کی راہ ہموار کرے گا، افغانستان میں امن اور تعمیر نو کے پیش نظر سی پیک کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے، پاکستان اور چین کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون دونوں ممالک کے مضبوط تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔ وہ جمعرات کو کراچی کونسل برائے خارجہ تعلقات کے زیر اہتمام سی پیک پر ویبنار سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی اور سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم باجوہ، پاکستان میں چین کے سفیر یاﺅ جنگ اور کراچی کونسل آن فار ریلیشنز اکرام سہگل نے بھی خطاب کیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ سی پیک منصوبے کی پاکستان اور پورے خطے کی معیشتوں کے لئے اہمیت کے پیش نظر ویبنار کے انعقاد کو سراہا اور کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری چین کی قیادت کے ون بیلٹ ون روڈ پروگرام کا حصہ ہے جو مختلف خطوں کو باہمی طور پر منسلک کرکے ترقی و خوشحالی کے مواقع کو فروغ دینے کا اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 62 ارب ڈالر کا یہ منصوبہ نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے میں ترقی کی راہ ہموار کرے گا۔ صدر مملکت نے کہا کہ افغانستان میں قیام امن اور تعمیر نو کے آغاز کے پیش نظر اس منصوبے کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے، افغانستان میں امن کے نتیجہ میں گوادر بندرگاہ سے تجارت بڑھے گی۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے تحت 19 منصوبے مکمل ہو چکے ہیں، 28 زیر تکمیل ہیں جبکہ 41 دیگر منصوبے پائپ لائن میں ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ مستقبل کی ڑضوریات کے پیش نظر ان منصوبوں میں بھی اضافہ ہو گا۔ اس موقع پر صدر مملکت نے سی پیک کے تحت توانائی، روڈ، ریل انفراسٹرکچر، صنعتی زونز، ٹیکنالوجی و سیاحت کے شعبوں کی ترقی کا خصوصی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان منصوبوں کی تکمیل سے ملک میں کاروباری سرگرمیاں تیز ہوں گی، معیشت مستحکم ہو گی، روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور غربت میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت کے مختلف شعبوں میں ترقی کے لئے چین کے تجربات سے استفادہ کیا جائے گا۔ صدر مملکت نے کہا کہ کورونا کی وباءسے نمٹنے کے لئے حکومتی حکمت عملی کو سراہا اور کہا کہ ان اقدامات اور ضروری احتیاطی تدابیر کی بدولت صورتحال میں بہتری آئے گی۔ اس حوالے سے چین کے تجربات سے بھی رہنمائی حاصل کی گئی ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان تعاون دونوں ممالک نے بہترین تعلقات کی عکاسی کرتا ہے، ہماری دوستی سمندر سے گہری اور ہمالیہ سے بلند ہے، دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور تعاون کا سفر جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم بھارت کے عزائم سے آگاہ ہیں، سی پیک کے خلاف سازشیں کامیاب نہیں ہوں گی، ہم اس حوالے سے چینی قیادت کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔

پاکستان میں سیاسی اور سماجی سطح پرکوروناکےحوالےسےکوئی ہم آہنگی نہیں پائی جاتی۔ چوہدری شجاعت حسین
پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین کی پارٹی رہنماؤں سینیٹر کامل علی آغا اور میاں عمران مسعود سے گفتگو. چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ کورونا بیماری کا تدارک صرف احتیاط، اللہ تعالیٰ سے دعا اور معافی سے ہی ممکن ہے۔ پوری دنیا میں پہلی مرتبہ ایسا دیکھنے میں آ رہا ہے کہ باپ بیٹے سے، ماں بیٹی سے، بہن بھائی سے نہیں مل پا رہے۔ ایک عجیب سی فضا پیدا ہوگئی ہے اس میں ہر انسان کا فرض بنتا ہے کہ وہ احتیاط سے خود کو اور اپنے پیاروں کو بھی محفوظ رکھے۔ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ یہ بات افسوسناک ہے کہ ہمارے ملک میں سیاسی اور سماجی سطح پر اس بیماری کے حوالے سے کوئی ہم آہنگی نہیں پائی جاتی۔اللہ تعالیٰ نے اس بیماری کے ذریعے یہ ثابت کر دیا ہے کہ کوئی ایٹم بم یا میزائل ہمیں کورونا سے نہیں بچا سکتا۔ چودھری شجاعت نے کہا کہ اگرآپ کا لوہے کا کاروبار ہےتو آپ انتظار کریں چار ارب روپے کا میزائل اب لوہے کے بھاؤ بکے گا۔ چودھری شجاعت نے کامل علی آغا سے مخاطب پوکرکہا کہ آپ بھی اس کی بولی میں حصہ لیں ہو سکتا ہے کہ یہی میزائل چار سو روپے میں مل جائے۔ انہوں نے کہا کہ نجات صرف اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس سے معافی طلب کرنے میں ہے۔ اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کا یہی واحد راستہ ہے جس کو اپنا کر ہم اپنی دنیا اور آخرت بہتر بنا سکتے ہیں۔














