وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان ميں پہلے بھی بہت سی شخصیات حکومتوں میں اہم ذمہ داریاں نبھاتی رہی ہیں لیکن اثاثوں کی تفصیلات کو عوام کے سامنے پیش کرنے کی روایت عمران خان کی ہدایت پر تحریک انصاف نے ڈالی۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ جہاں تک دوہری شہریت کا تعلق ہے تو ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ قانون اور آئین اس سلسلے میں کیا کہتا ہے؟ قانوناً کوئی بھی دوہری شہریت کا حامل شخص قومی اسمبلی اور سینیٹ کا ممبر نہیں بن سکتا لیکن کسی بھی دیگر عہدے کے حوالے سے ایسی کوئی قدغن قانوناً موجود نہیں۔ مفادات کے تصادم سے بچنے کیلئے جس قدر واضح پالیسی تحریک انصاف نے اپنائی ہے وہ آج تک کسی جماعت نے نہیں اپنائی تاکہ کوئی شخص اپنے منصب کو اپنی ذاتی یا معاشی بڑھوتری کیلئے بروئے کار نہ لا سکے۔ انہوں نے کہا کہ میری رائے میں جمہوری روایات میں عوام کے منتخب نمائندوں کی حثیت افضل ہوتی ہے کیونکہ انہیں عوام کا اعتماد حاصل ہوتا ہے دوسری طرف امور سلطنت چلانے کیلئے آپ کو مختلف شعبہ جات کے ماہرین کی بھی ضرورت ہوتی ہے جو حکومت کی معاونت کر سکیں اور ایسا پوری دنیا میں ہوتا ہے۔ آئین کی رو سے وزیراعظم پانچ ایسے مشیر تعینات کر سکتا ہے گذشتہ ادوار میں بھی مشیران رکھے گئے اور عمران خان نے بھی قانون کے مطابق مشیران /ٹیکنو کریٹس تعینات کیے۔ وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر تحریک انصاف نے حکومتی عہدیداروں کی دوہری شہریت اور اثاثوں کو ظاہر کرنے کی نئی روایت ڈالی ہے جو ماضی میں آپ کو نظر نہیں آئے گی۔
Author: Khalid Mehmood Khalid

سکھوں کی بین الاقوامی تنظیم سکھ فار جسٹس کی قائم کردہ روس میں رجسٹر ویب سائٹ کو بھارتی اثرورسوخ کے باعث بند کر دیا گیا
دنیا بھرمیں بسنے والے سکھوں کی طرف سے اپنے الگ ملک خالصتان کے قیام کے لئے کروائے جانے والے ریفرنڈم ٹوئنٹی 20 کی رجسٹریشن کے حوالے سے سکھوں کی بین الاقوامی تنظیم سکھ فار جسٹس کی قائم کردہ روس میں رجسٹر ویب سائٹ کو بھارتی اثرورسوخ کے باعث بند کر دیا گیا جس کے بعد سکھ فار جسٹس نے کینیڈا سے نئی ویب سائٹ www.delhibanaygakhalistan.ca کے نام سےرجسٹر کروالی ہے۔ اس ویب سائٹ سے بھارتی حکومت بوکھلاہٹ کا شکار نظرآرہی ہے۔ سکھ فار
جسٹس کے مرکزی راہنما گورپتونت سنگھ پنوں نے کہا کہ بھارتی حلومت سکھوں کی آواز دبا نہیں سکتی۔ سکھوں کے الگ ملک کے لئے کرائے جانے والے ریفرنڈم کی رجسٹریشن 19جولائی کو نئی دہلی سے شروع کر دی گئی ہے جس کے بعد سکھوں کی طرف سے ریفرنڈم کو کامیاب بنانے کے لئے جوش و خروش مزید بڑھ گیا ہے۔ سکھ فار جسٹس کے رہنما گورپتونت سنگھ پنوں نے کہا ہے سکھ قوم ریفرنڈم2020 کے ذریعے بھارتی دارالحکومت دہلی کو بھی اپنے وطن خالصتان میں ضم کر لے گی۔ سکھ فار جسٹس کے مذکورہ اعلان کے بعد بھارتی خفیہ ادارے متحرک ہو گئے ہیں اور سکھوں کی پکڑ دھکڑ شروع کر دی ہے۔
اقوام متحدہ ڈارفر ، مشرقی تیمور کی طرح کشمیریوں کو بھی استصواب رائے کا حق دے. شہریارآفریدی
پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی برائے کشمیر کے صدر شہریار خان آفریدی نے اتوار کے روز مقبوضہ جموں و کشمیر کے متنازعہ علاقے میں غیر قانونی فوجی چھاؤنیوں کے اہل بنانے کے لئے نئے قانون بنانے کے لئے بھارتی قابض حکومت کی شدید مذمت کی اور اقوام متحدہ سے اپیل کی کہ وہ اس غیر قانونی عمل کو روکنے کے لئے کارروائی کریں۔ یوم یکجہتی یوم منانے کے لئے نیشنل پریس کلب میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے شہریار آفریدی نے کہا کہ نئے قوانین مقبوضہ کشمیر میں آبادیاتی تبدیلیاں لانے کے ہندوستانی منصوبے کا ایک حصہ ہیں جس میں مسلم اکثریتی کشمیر کو مصنوعی طور پر ہندو اکثریتی علاقے میں تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
آفریدی نے کہا کہ یہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کے لئے تیار کیا گیا ایک مذموم منصوبہ ہے۔ دنیا کو اب اس ناپاک منصوبے کو روکنے کیلئے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ اس مذموم منصوبے کے تحت ہزاروں ہندوستانی مزدوروں کو فوجی چھاؤنیاں بنانے کے لئے مقبوضہ کشمیر لایا گیا ہے۔ کشمیرمیں بھارتی فوجی کیمپوں کے گرد وسیع پیمانے پر تعمیرات ہو رہی ہیں۔ ہندوستانی فوج کے دستوں کے لئے ہزاروں رہائشی فلیٹ تعمیر کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ تعمیراتی عمل اقوام متحدہ کی قرار دادوں اور اس کے کنونشنوں کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت متنازعہ قرار دئیے گئے علاقے میں ہندوستانیوں کو آباد کرکے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کررہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ دنیا کو بھارت کو خطے میں اس کے مضمرات کے بارے میں نوٹ کرنا چاہئے اور اسے متنبہ کرنا چاہئے۔ آفریدی نے کہا کہ اقوام متحدہ کو مقبوضہ علاقے میں رائے شماری کے انعقاد کے لئے کشمیر سے متعلق اپنی اپنی قراردادوں پر عمل کرنا چاہئے ، انہوں نے کہا کہ اگر اقوام متحدہ کشمیر پر اپنی ہی قراردادوں پر عملدرآمد میں ناکام رہا تو اقوام متحدہ کا حشر لیگ آف نیشن سے مختلف نہیں ہوگا۔آفریدی نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ہزاروں ہندوستانیوں کو شہریت کے حقوق دیئے گئے ہیں اور انہی مقبوضہ کشمیر میں منتقل کیا جارہا ہے۔آفریدی نے مزید کہا کہ پچھلے چند ہفتوں کے دوران سینکڑوں غیر مقامی شہریوں کو کشمیر لے جایا جارہا ہے اور وہ ہندوستانی قابض فوج کے کیمپوں کے قریب دور دراز علاقوں میں آباد کئے جارہےہیں۔ اس سے کشمیریوں میں بے چینی بڑھ گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی طرف سے جابرانہ قبضے کے باوجود ، کشمیری عوام نے پاکستان اور کشمیری عوام نے ساتھ الحاق کی خواہش ترک نہیں کی ، انہوں نے پاکستان سے محبت کا اظہار کیا اور اب بھی بھارت کے مقبوضہ کشمیر میں پاکستانی پرچم لہراتے ہوئے اور "پاکستان زندہ باد” کے نعرے بلند کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری پاکستان سے الحاق اور ہندوستان سے آزادی کے لئے اپنی جدوجہد جاری رکھنے کے لئے پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان اپنے اصولی موقف کو برقرار رکھتے ہوئے کشمیریوں کو سیاسی اور سفارتی مدد فراہم کرتی رہیگی۔انہوں نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیر سے متعلق اپنے نامکمل ایجنڈے پر عمل پیرا ہو اور کشمیریوں کے حق خودارادیت (آر ایس ڈی) کو یقینی بنائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کشمیریوں پر وحشیانہ مظالم ڈھا رہا ہے۔ بھارتی جارحیت کشمیریوں کے عزم کو مزید تقویت بخشے گی۔ مقبوضہ کشمیر میں آٹھ لاکھ ہندوستانی قابض فوجی کشمیریوں کی جدوجہد کو دبانے نہیں دے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پوری دنیا میں کشمیری آج یوم پاکستان الحاق کا دن منا رہے ہیں ، بھارتی قابض افواج مقبوضہ کشمیر میں لاتعداد مظالم ڈھائے ہوئے ہیں ، اور نہتے کشمیری عوام محض پتھروں سے ہندوستان والی فوج کا مقابلہ شہادتوں دیکر کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کے حصول کے لئے مرد ، خواتین اور بچے شہادت دے رہےہیں ، زخمی ہو رہے ہیں ، جیلوں میں ہیں ، تاکہ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی برادری ان کی آوازوں پر توجہ دے سکے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈارفور (جنوبی سوڈان) اور مشرقی تیمور کی طرح کشمیریوں کو اقوام متحدہ کے وعدے کے مطابق اپنے سیاسی مستقبل کے فیصلے کے لئے ووٹ ڈالنے کا حق دیا جانا چاہئے۔ لیکن اقوام متحدہ اور عالمی برادری مسئلہ کشمیر پر آنکھیں بند کر رہی ہے۔ آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان اور دیگر نے بھی فورم سے خطاب کیا۔
شہبازشریف کا یوم الحاق پاکستان پر کشمیریوں کو خراج تحسین
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے یوم الحاق پاکستان پر کشمیریوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر کی آزادی اور بھارت کی شکست نوشتہ دیوار ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ کشمیریوں اور پاکستان کی منزل ایک ہے، اسی لئے قائداعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہہ رگ قرار دیا۔ کشمیریوں نے قیام پاکستان سے پہلے الحاق پاکستان کا فیصلہ کیا۔ 19 جولائی 1947 کو سری نگر میں مسلم کانفرنس کے نمائندہ اجلاس میں الحاق قراردادپاکستان متفقہ منظور کی گئی ۔کشمیریوں کی اصولی، قانونی اور جمہوری جدوجہد میں ہر پاکستانی کشمیریوں کے ساتھ تھا، ہے اور رہے گا۔ انہوں نے کہاکہ کشمیر اسی طرح کشمیریوں کا ہے جس طرح فلسطین فلسطینیوں کا اور انگلستان انگریزوں کا ہے۔ بھارت کے جبرواستبداد اور ظلم کے ہتھکنڈے کشمیریوں کو ان کے بنیادی نصب العین سے دستبردار نہیں کرسکتے ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری شہداءکو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں، نسل در نسل کشمیریوں نے الحاق پاکستان کا پہرہ دیا ہے، کشمیری اپنے لہوکے نذرانے دے کر قرارداد الحاق پاکستان کی حفاظت کررہے ہیں۔ کشمیری قوم کے حوصلے، عزم واستقلال اور جرات وبہادری تاریخ کا بے مثل باب بن چکی ہے۔ پاکستان کشمیریوں کی آزادی تک ان کی جدوجہد میں ان کے شانہ بہ شانہ رہے گا۔

کشمیری یوم الحاق پاکستان کے موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری کے پیغام
مقبوضہ اور آزاد کشمیر سمیت دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج یوم الحاق پاکستان منا رہے ہیں،اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصرنے اس موقعہ پر اپنے پیغام میں کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل خطے کے امن اور استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی طرف سے ڈھائے جانے والے مظالم کا نوٹس لے، اسپیکر اسد قیصر نے کہا کہ آزادی کی خاطر کشمیریوں نے لازوال قربانیاں دی ہیں۔وہ دن دور نہیں جب کشمیری عوام آزادی کا سورج طلوع ہوتا ہوا دیکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیربرصغیر کی تقسیم کا نامکمل ایجنڈا ہے۔ عالمی برادری کو کشمیر میں بھارت کی طرف سے ڈھائے جانے والے مظالم کا سختی سے نوٹس لینے کی ضرورت ہے، اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ گزشتہ 11 ماہ سے کشمیر میں بھارت کی فاشسٹ حکومت کی جانب سے جبری لاک ڈاؤن جاری ہے۔72 سالوں سے کشمیری عوام اپنی جدو جہد آزادی کی جنگ لڑ رہیں ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کی جانب سے بھارتی شہریوں کو ڈومیسائل کا اجراء غیر قانونی عمل ہے،اسد قیصرنے اس حوالے سے کہا کہ عالمی برادری بھارتی حکومت کے اس غیر قانونی اقدام کو فوری طور پر رکوانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی نام نہاد جمہوری حکومت نے اپنے ہاتھ ہزاروں کشمیریوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ مسئلہ کشمیر حل نہ ہونے کی وجہ سے خطہ کو جنگ کی دلدل میں دھکیلا جا رہا ہے۔پاکستان کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کی حمایت اور اصولی موقف سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹے گا، اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ پاکستان کی پارلیمنٹ مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لیے پر عزم ہے۔کشمیر میں بھارت کی طرف سے طاقت کے بل بوتے پر قبضہ جدید معاشرے کی اخلاقی اقدار اور عوام کے بنیادی حقِ خودارادیت کے منافی ہے۔
ڈپٹی اسپیکر قاسم خان سوری نے کہا کہ کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کی تحریک کے لیے کی جانے والی کوششیں راہیگاں نہیں جائیں گی۔کشمیری عوام بہت جلد آزادی کا سورج طلوع ہوتا دیکھیں گے، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ وہ دن دور نہیں جب کشمیری عوام کو آزادی کی فضا میں سانس لینے کا موقع ملے گا۔ پاکستانی حکومت کشمیری کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کی تحریک کی مکمل حمایت جاری رکھے گی۔وزیر اعظم عمران خان نے عالمی دنیا کے سامنے کشمیری عوام کا مقدمہ بھرپور انداز میں پیش کیاہے۔عالمی برادری کوکشمیر میں بھارت کی طرف سے ڈھائے جانے والے مظالم اور مقبوضہ کشمیر کی جغرافیائی حیثیت کو ختم کرنے کے عمل کو رکوانا ہو گا۔

وزیر اعظم کےمعاونین اورمشیروں کی شہریت کی تفصیلات
[advanced_iframe src=”//www.tinywebgallery.com/blog/advanced-iframe” width=”100%” height=”600″]
کابینہ ڈویژن نے وزیر اعظم کےمعاونین اورمشیروں کی شہریت کی تفصیلات جاری کر دیں۔ وزیر اعظم کے15 معاونین خصوصی میں سے 5 دوہری ہریت کے حامل ہیں۔

معاون خصوصی سیاسی روابط شہباز گل امریکی گرین کارڈہولڈرنکلے۔معاون خصوصی اورسیز پاکستانی ذلفی بخاری

بھی دوہری شہریت کے حامل. ذلفی بخاری مستقل برطانوی شہریت رکھتے ہیں۔معاون خصوصی ڈیجیٹل پاکستان تانیہ آئدروس

کےپاس کینیڈا،سنگاپورکی شہریت۔ وزیر

اعظم کے معاون خصوصی پٹرولیم ندیم بابرامریکی شہریت کےحامل ہیں۔وزیراعظم کے معاون خصوصی معید یوسف کی امریکا کی رہائش ہے۔
جھوٹے بھارتی الزامات۔ نئی دہلی میں پاکستانی ناظم الامور کی دفتر خارجہ میں طلبی
پاکستانی علاقوں پر بار بار فائرنگ اور معصوم لوگوں کو سیدھی گولیوں کا نشانہ بنانے والے بھارتی حکمرانوں نے پاکستان پر الزام دیتے ہوئے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے ناظم الامور سید حیدر شاہ کو ہفتہ کے روز دفتر خارجہ میں طلب کیا اور پاکستان پر 17 جولائی کو مقبوضہ کشمیرمیں کنٹرول لائین پرواقعہ کرشنا گھاٹی سیکٹر میں فائرنگ کرکے ایک بچے سمیت تین عام شہریوں کو ہلاک کرنے کے مضحکہ خیز الزامات لگاتے ہوئے احتجاجی مراسلہ تھما دیا۔

قائداعظم بزنس پارک 1536 ایکڑ اراضی پر مشتمل ہوگا۔ عثمان بزدار
وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثما ن بزدار نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت جب اقتدار میں آئی تو اس وقت صرف 3 سپیشل اکنامک زون تھے۔ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں قلیل مدت میں 13 سپیشل اکنامک زونز پر کام شروع کیا ہے۔ وفاقی حکومت نے 7 سپیشل اکنامک زونز کے نوٹیفکیشن جاری کر دیئے ہیں۔ پنجاب میں آج دوسرے سپیشل اکنامک زون ”قائداعظم بزنس پارک“ کے منصوبے پر آغاز کر دیا گیا ہے جبکہ اس سے قبل فیصل آباد میں سپیشل اکنامک زون شروع کیا گیا۔ انشاء اللہ ہم بہت جلد بہاولپور میں بھی سپیشل اکنامک زون بنائیں گے جو جنوبی پنجاب کا پہلا سپیشل اکنامک زون ہوگا۔ وہ آج وزیراعلیٰ آفس میں قائداعظم بزنس پارک کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ قائداعظم بزنس پارک 1536 ایکڑ اراضی پر مشتمل ہوگا اور 5 لاکھ سے زائد افراد کیلئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ 200 ایکڑ اراضی پر صنعتی کارکنوں کیلئے رہائش کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ نیشنل ہائی وے اور موٹر وے کے قریب ہونے کی وجہ سے قائداعظم بزنس پارک کا منصوبہ خصوصی اہمیت اختیار کر گیا ہے اور اس سے سامان کی نقل و حمل میں آسانی ہوگی۔ قائداعظم بزنس پارک میں 653 صنعتی یونٹس قائم ہوں گے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ کورونا کے باعث دنیا بھر کو معاشی مشکلات کا سامنا ہے لیکن وزیراعظم عمران خان ملک کو معاشی ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے پرعزم ہیں۔ پنجاب میں کورونا کی وجہ سے متاثرہ کاروباری طبقے کو ریلیف دینے کیلئے 56 ارب روپے کا ٹیکس ریلیف دیا گیا جو کہ ایک تاریخ ہے۔ کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنے کے تحت متعدد چھوٹے ٹیکس ختم کئے۔ پنجاب سمال انڈسٹریز کارپویشن نے نوجوانوں کو قرضوں کی فراہمی کیلئے 12 ارب روپے مختص کئے ہیں۔ اس سکیم کے تحت نوجوانوں کو 25 ہزار سے 50 لاکھ روپے تک آسان شرائط پر قرضہ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 121سال کے بعد پنجاب کے دوسرے بڑے آبپاشی منصوبے جلالپور کینال پراجیکٹ کاآغاز کیاگیا۔ پنجاب میں گریٹر تھل کینال کے منصوبے پر کام بھی شروع ہوچکا ہے۔ کس عمر خان کینال کا منصوبہ بھی جلد شروع کردیا جائے گا۔ خانکی بیراج کا بھی افتتاح ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے ویژن اوررہنمائی میں پنجاب ترقی کے سفر پر گامزن ہے۔ اپوزیشن سر توڑ کوشش کے باوجود موجودہ حکومت کا ایک بھی سکینڈل سامنے نہیں لاسکی۔ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں ہر سطح پر شفافیت کو یقینی بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت جلد پنجاب میں مزید میگا پراجیکس بھی آئیں گے۔ وزیراعظم عمران خان کے ویژن،رہنمائی اور پالیسیوں کے مطابق معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا اور عوام میں بھی خوشحالی آئے گی۔

وزیراعظم عمران خان کی لاہور میں راوی ریور فرنٹ اربن ڈویلپمنٹ منصوبہ کی سٹیرنگ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت
وزیراعظم عمران خان نے لاہور میں راوی ریور فرنٹ اربن ڈویلپمنٹ منصوبہ کی سٹیرنگ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی۔ اس موقعہ پر چیف سیکرٹری پنجاب جواد رفیق ملک نے وزیراعظم کو منصوبہ پربریفنگ دی۔بریفنگ کے دوران وزیراعظم عمران خان نے منصوبے پر عملدرآمد کے دوران ماحولیاتی تحفظ اور واٹر کنزرویشن کے لئے سختی سے عملدرآمد کی خصوصی تاکید کی اور کہا کہ یہ منصوبہ پنجاب کی معیشت اور لاہور شہر کی رہائشی ضروریات پورا کرنے کے لیے نہایت اہم ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ کرونا سے پیدا ہونے والی مشکل معاشی صورتحال میں اس منصوبے سے لوگوں کو نوکریاں دینے میں مدد ملے گی۔ خصوصااس پراجیکٹ سے لاہور کے رہائشیوں کے لیے پانی کی کمی سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ حکومت ترقیاتی منصوبوں کےحوالے سے ہر رکاوٹ ترجیحی بنیادوں پر دور کرنے کے لئے پر عزم ہے۔ انپوں نے ہدایت کی کہ پراجیکٹ کی تکمیل کے دوران ماحولیاتی نظام پر منفی اثرات مرتب نہ ہوں اور واٹر کنزرویشن کا خاص خیال رکھا جائے۔
وزیر اعظم کی چیف سیکرٹری کو ہدایت کی کہ منصوبے میں زیادہ سے زیادہ مقامی طور پر تیار کیا جانے والے مٹیرئیل استعمال کیا جائے تاکہ مقامی صنعتوں کو ترقی ملے۔ انپوں نے کہا کہ اس منصوبے سے اسلام آباد کی طرز پر جدید اور ماڈرن سٹی کا قیام عمل میں آئے گا ۔ ٹائم لائنز کے تحت منصوبے کا جلد از جلد آغاز کیا جائے۔
اجلاس میں وزیر ہاؤسنگ پنجاب میاں محمود الرشید، وزیر خزانہ ہاشم جواں بخت، وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان، وائس چیئرمین لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی شیخ محمد عمران، مشیر وزیر اعلیٰ برائےخزانہ ڈاکٹر سلمان شاہ، چیف سیکرٹری پنجاب جواد رفیق ملک اور چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ حامد یعقوب شیخ نے شرکت کی۔
کلبھوشن معاملے کو پارلیمنٹ سے پوشیدہ رکھ کر آرڈیننس جاری کروانا ایک سوالیہ نشان ہے۔ نفیسہ شاہ
پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرنز کی سیکریٹری اطلاعات ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم نے کلبھوشن معاملے کو پارلیمنٹ سے پوشیدہ رکھ کر خاموشی سے خفیہ انداز سے آرڈیننس جاری کروایا جو سوالیہ نشان ہے۔ عمران خان بادشاہ سلامت نہیں کہ پارلیمنٹ سے بالا بالا فیصلے کرکے پارلیمنٹ پر مسلط کریں۔ انہوںنے کہا کہ جس انداز سے کلبھوشن کے لئے صدارتی آرڈیننس جاری ہوا ایسا فیصلہ پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے صدر یا وزیراعظم کرتے تو انہیں ملک دشمن قرار دے کر سزا بھی دے دی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان جس انداز سے من مانی کر رہے ہیں اس عمل سے ان کے لاڈلے ہونے کا تاثر مضبوط ہورہا ہے۔ ڈاکٹر نفیسہ شاہ اس خدشے کا اظہار کیا کہ ایک دن احسان اللہ احسان کی طرح کلبھوشن کو بھی فرار کرایا جائے گا۔ پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کی سیکریٹری اطلاعات نے ادویات کی قیمتوں کے اضافے کو مسترد کرتے ہوئے عوام پر ادویات کی قیمتوں کا بم گرانے کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں کورونا وباءکے دوران صحت کی سہولیات مہیا کی جا رہی ہیں مگر پاکستان میں وباءکے دوران ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کرکے عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جا رہا ہے۔













