Baaghi TV

Author: Khalid Mehmood Khalid

  • گاؤں کی200 خواتین کے خلاف مقدمہ درج

    گاؤں کی200 خواتین کے خلاف مقدمہ درج

    بھارتی ریاست ہماچل کے خوبصورت سیاحتی مقام ضلع سپیتی کے کازہ گاؤں کی200 خواتین کے خلاف مقامی انتظامیہ  نے مقدمہ درج کر لیا ہے۔ گاوں کی مقامی کمیٹی نے یہاں آنے والوں کے لیےلازمی کورنٹائن کا ضابطہ بنایا ہے۔ ریاست کے وزیر زراعت رام لال مارکنڈہ وہاں پہنچے مگراس ضابطہ کو نہ ماننے پر مقامی خواتین  کے گروپ نے ان کے خلاف مظاہرہ کیا۔ جس کے بعد کازہ گاؤں کی200 خواتین کے خلاف مقامی انتظامیہ  نے مقدمہ درج کر لیا ہے۔ گزشتہ دنوں مذکورہ وزیر رام لال مارکنڈہ وہاں پہنچے تو انہیں گاوں کےکوارنٹین قانون کے بارے میں آگاہ کیا گیا لیکن انہوں نے مقآمی قانون ماننے سے انکار کیا اور اس کے بعد وہ وہاں سے واپس لوٹ گئے اور اپنا اسمبلی حلقہ چھوڑ دیا۔ اگلے دن پولیس نے مظاہرین  کے خلاف ایف آئی آر درج کیا۔ مظاہرین  کو معاملہ درج کیےجانے کی اطلاع تب ملی جب انہیں سمن آنے لگے۔کازہ گاؤں کی آبادی لگ بھگ1700ہے۔ 200 لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے سے گاؤں کی کل آبادی کے 10 فیصد لوگوں کے خلاف معاملہ درج ہو چکا ہے۔ ان خواتین پر آئی پی سی کی دفعہ341 (کسی شخص کو غلط طریقے سے روکنا)، دفعہ 143 (غیرقانونی اجلاس) اور دفعہ 188(پبلک آرڈر کی خلاف ورزی)کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔مظاہرہ میں شامل ہونے کے لیے ایف آئی آر کا سامنا کر رہی مہیلا منڈل کی صدرسونم ڈولما نے کہا، مظاہرین  کی پہچان کرنے کے لیے پولیس ہر گھر میں آ رہی تھی اس لیے ہم نے خود ایک فہرست پیش کی ہے۔ ناموں میں لگ بھگ گاؤں کی ہر گھر کی خواتین  شامل ہیں اور اب ان تمام  پر مقدمہ درج ہو چکا ہے۔تاہم ابھی تک اس معاملے میں کوئی گرفتاری نہیں ہوئی ہے۔
    دوسری طرف وزیرزراعت مارکنڈا کا کہنا کہ انہیں سرکاری  کام کاج کے لیے شملہ جانا تھا، جس کی وجہ سے وہ کورنٹائن کے لیے راضی  نہیں ہوئے اور واپس لوٹ گئے۔ انہوں نے الزام  لگایا کہ ان کے خلاف کیا گیا مظاہرہ  سیاسی  تھا اور کچھ مظاہرین نے کانگریس کے حق میں  نعرے بھی لگائے۔تاہم سونم ڈولمانے ان الزامات کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے بتایا، ہم کسی ایسے کام کے لیے معافی نہیں مانگیں گے جو ہم نے کیا ہی نہیں۔ یہ ایک غیر سیاسی اور کووڈ مخالف مظاہرہ تھا۔

  • بابا رام دیو کا نیا ڈرامہ۔ کبھی نہیں کہا کہ کورونل دوا سے کورونا وائرس کا علاج ہو سکتا ہے

    بابا رام دیو کا نیا ڈرامہ۔ کبھی نہیں کہا کہ کورونل دوا سے کورونا وائرس کا علاج ہو سکتا ہے

     نئی دہلی: بھارت میں کورونا کا سو فیصد کامیاب علاج کرنے کے دعوے دار بھارتی بابا رام دیو نے اپنی دوا کورونل کے حوالے سے جاری نوٹس کے جواب میں اپنی کمپنی پتنجلی آیورویدپر لگائے گئے تمام الزامات کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمپنی نے کسی قانون کی خلاف ورزی  نہیں کی۔کمپنی کے سی ای او آچاریہ بال کرشنن نے کہا ہے کہ پتنجلی نے کبھی نہیں کہا تھا کہ کمپنی کی کورونل دوا سے کورونا وائرس کا علاج ہو سکتا ہے۔ کمپنی نے ‘کورونا کٹ’ نامی کسی بھی دوا کاپروڈکشن کرنے اور اس کو مہلک وائرس کے خلاف علاج کے طور پرمشتہرکرنے سے بھی انکار کیا ہے۔کمپنی نے کہا کہ اس نےصرف دویہ شواسری وٹی، دویہ کورونل ٹبلیٹ اور دویہ انوتیل نام کی دوائیوں کو ایک پیکیجنگ کارٹن میں پیک کیا تھا تاکہ انہیں آسانی سے بیرون ملک بھیجا جا سکے۔ نوٹس کے جواب میں فرم نے یہ بھی کہا ہے کہ اس نے کورونا کٹ نامی کسی بھی کٹ کو کاروباری طور پر نہیں بیچا ہے اور نہ ہی اس کوکورونا کے خلاف علاج کےطور پرمشتہرکیا ہے۔ جواب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نوٹس میڈیا کے ذریعے حقائق  کو غلط طریقے سے پیش کرنے کانتیجہ تھا۔ جواب میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اس نے کسی ضابطہ یا قانون کی خلاف ورزی  نہیں کی اور اس لیے اس کے خلاف کارروائی کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔اتراکھنڈ آیورویدک  محکمہ نے کہا کہ وہ پتنجلی آیوروید کی ایک برانچ دویہ فارمیسی کی جانب سے بھیجے گئے اس جواب  کاتجزیہ کر رہا ہے۔ محکمہ کے لائسنسنگ افسر وائی ایس راوت نے بتایا کہ سوموار کو جواب ملنے کے بعد ایک ڈرگ انسپکٹر کو کمپنی میں تصدیق کے لیے بھیجا گیا جہاں اس کو کوئی کورونا کٹ نہیں ملی۔یہ پوچھے جانے پر کہ کیا وہ جواب سےمطمئن ہیں، راوت نے کہا، ‘ہر کسی نے بابا رام دیو کو اپنی دواکو کورونا کے لیے علاج کے طور پر دعویٰ کرتے دیکھا ہے اور جواب کی ابھی اور جانچ کرنے کی ضرورت ہے۔ منگل 23 جون کو بابا رام دیو نے کورونل نامی دوا لانچ کی تھی اور اس سے کورونا وائرس ک سوفیصد علاج کا دعویٰ کیا تھا۔ہری دوار واقع پتنجلی یوگ پیٹھ میں صحافیوں سے رام دیو نے کہا تھا، ‘یہ دوائی صدفیصد(کووڈ 19) مریضوں کو فائدہ پہنچا رہی ہے۔ 100 مریضوں پرکنٹرولڈ کلینیکل ٹرائل کیا گیا، جس میں تین دن کے اندر 69 فیصد اور چار دن کے اندرصد فیصد مریض ٹھیک ہو گئے اور ان کی جانچ رپورٹ نیگیٹو آئی۔رام دیو نے بتایا کہ اس پروجیکٹ میں جئے پور کی نمس یونیورسٹی ان کی شراکت دار ہے۔ انہوں نے بتایا تھا، ‘ٹرائل میں ہم نے 280 مریضوں کو شامل کیا اور 100 فیصد مریض ٹھیک ہو گئے۔ ہم کورونا اور اس کی پیچیدگیوں کو قابو کرنے میں کامیاب رہے۔ اس کے ساتھ سبھی ضروری کلینیکل کنٹرول ٹرائل کئے گئے۔ وزارت آیوش نے پتنجلی کو اس دوا میں موجود مختلف جڑی بوٹیوں کی مقدار اوردوسری تفصیلات جلد از جلدفراہم کرانے کو کہا تھا۔وزارت  نے معاملے کی جانچ پڑتال ہونے تک کمپنی کو اس کااشتہاربھی بند کرنے کا حکم دیا تھا۔اس معاملے کو لےکر اتراکھنڈ آیوش محکمہ نے بھی پتنجلی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے جواب مانگا تھا۔
    گزشتہ27 جون کو چنڈی گڑھ ضلع  عدالت میں رام دیو اور پتنجلی آیوروید کے خلاف ملاوٹی دوا اور دھوکہ دھڑی سے متعلق  آئی پی سی کی مختلف دفعات  کے تحت معاملہ درج کیا گیا تھا۔اس سے پہلے گزشتہ26 جون کو جئے پور کے جیوتی نگر تھانے میں آئی پی سی کی دفعہ 420 سمیت مختلف  دفعات کے تحت ایک ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔اس گمران کن اشتہارکے الزام  میں رام دیو اور بال کرشنن کے علاوہ سائنسداں انوراگ وارشنیہ، نمس کے صدر ڈاکٹر بلبیر سنگھ تومر اور ڈاکٹر انوراگ تومر کو ملزم  بنایا گیا ہے۔ دوسری طرف راجستھان کے میڈیکل ڈپارٹمنٹ نے پتنجلی آیورویدکے ذریعے بنائی گئی دوا کے ‘کلینیکل ٹرائل’ کرنے پر نمس اسپتال کو نوٹس جاری کر کے وضاحت طلب کی ہے۔

  • 50 سال میں چار کروڑ 58 لاکھ بھارتی خواتین لاپتہ

    50 سال میں چار کروڑ 58 لاکھ بھارتی خواتین لاپتہ

    اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں پچھلے 50 سال میں لاپتہ ہونے والی 14 کروڑ 26 لاکھ خواتین میں سے چار کروڑ 58 لاکھ خواتین بھارتی ہیں۔اقوام متحدہ  نے منگل کو ایک رپورٹ میں کہا کہ لاپتہ خواتین کی تعداد چین اور بھارت میں سب سے زیادہ ہے۔اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایف پی اےکی جانب سے جاری‘عالمی آبادی کی صورتحال2020’ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پچھلے 50سالوں میں لاپتہ ہوئیں خواتین کی تعداد دوگنی ہو گئی ہے۔یہ تعداد1970 میں چھ کروڑ 10 لاکھ تھی اور 2020 میں بڑھ کر 14 کروڑ 26 لاکھ ہو گئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارت  میں سال 2020 تک چار کروڑ 58 لاکھ اور چین میں سات کروڑ 23 لاکھ خواتین  لاپتہ ہوئی ہیں۔رپورٹ میں زچگی سے پہلےیازچگی کے بعدجنسی تعین  کے اثرات  کی وجہ سے لاپتہ لڑکیوں کو بھی اس میں شامل کیا گیا ہے۔اس میں کہا گیا ہے، ‘سال 2013 سے 2017 تک ہندوستان میں تقریباً چار لاکھ 60 ہزار بچیاں ہر سال پیدائش کے وقت ہی لاپتہ ہو گئیں۔ ایک تجزیہ کے مطابق کل لاپتہ لڑکیوں میں سے تقریباً دو تہائی معاملے اورپیدائش کے وقت ہونے والی موت کے ایک تہائی معاملےجنسی ترجیحات کی وجہ سے جنسی تعین  سے جڑے ہیں ۔رپورٹ میں ماہرین  کی جانب سے دستیاب کرائے گئے اعدادشمار کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ جنسی ترجیحات  کے مدنظر(پیدائش سے قبل)جنس کے انتخاب کی وجہ سے دنیا بھر میں ہر سال لاپتہ ہونے والی تقریباً12 لاکھ سے 15 لاکھ بچیوں میں سے 90 سے 95 فیصد چین اورہندوستان  کی ہوتی ہیں۔
    اس میں کہا گیا ہے کہ سالانہ پیدائش کی تعدادکے معاملے میں بھی یہ دونوں ملک سب سے آگے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سرکاروں نے جنس کے انتخاب کی بنیادی وجہ  سے نپٹنے کے لیے قدم اٹھائے ہیں۔ہندوستان  اور ویت نام نے لوگوں کی سوچ کو بدلنے کے لیے مہم شروع کی ہیں۔
    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لڑکیوں کے بجائے لڑکوں کوترجیح  دینے کی وجہ سے کچھ ملکوں  میں خواتین اور مردوں کےتناسب میں بڑی تبدیلی آئی  ہے اور اس کا اثرشادیوں کے نظام  پریقینی  طورپرہھی پڑےگا۔ کچھ مطالعات  میں یہ مشورہ  دیا گیا ہے کہ ہندوستان میں ممکنہ دلہنوں کے مقابلےممکنہ  دولہوں کی تعدادبڑھنے سے متعلق حالات 2055 میں سب سے خراب ہوں گے۔

  • بھارتی فوج نے پوری انسانیت کے سینے میں گولی ماری ہے۔ وزیراعلی عثمان بزدار

    بھارتی فوج نے پوری انسانیت کے سینے میں گولی ماری ہے۔ وزیراعلی عثمان بزدار

    وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے معصوم نواسے کے سامنے نانا کو گولی مارنے کے واقعہ کی شدید مذمت. ایک بیان میں وزیراعلی پنجاب نے کہا کہ بھارتی فوج نے پوری انسانیت کے سینے میں گولی ماری ہے۔ ایسی درندگی اور بربریت کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ دلخراش واقعہ عالمی برادری کی آنکھیں کھول دینے کیلئے کافی ہے۔اقوام عالم کو اس بربریت کا نوٹس لینا چاہیئے کیونکہ انتہائی سفاکانہ اقدامات سے مودی سرکار کی درندگی آشکار ہو گئی۔ بھارت ایک عرصے سے ماورائے عدالت کشمیریوں کا قتل عام کر رہا ہےاور بھارت کے کشمیریوں کی نسل کشی کے ذریعے اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے ناپاک عزائم ناکام ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں ظالم بھارتی فوج کے ہاتھوں بچے اور خواتین بھی محفوظ نہیں اس لئے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے بڑھتے ہوئے ظلم کو روکنے کیلئے اقوام متحدہ کو کردار ادا کرنا ہوگا۔

  • شہباز شریف کی مقبوضہ کشمیر میں ساٹھ برس کے بشیر احمد کو کم سن نواسے کے سامنے گولیاں مار کر شہید کرنے کی شدید مذمت

    شہباز شریف کی مقبوضہ کشمیر میں ساٹھ برس کے بشیر احمد کو کم سن نواسے کے سامنے گولیاں مار کر شہید کرنے کی شدید مذمت

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی مظالم پر سخت احتجاج کیا ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے بھارتی مقبوضہ کشمیر کے علاقہ سوپور میں ساٹھ برس کے بشیر احمد کو کم سن نواسے کے سامنے گولیاں مار کر شہید کرنے کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قابض بھارتی افواج کی ظلم وبربریت انسانیت کا ضمیر جھنجھوڑ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا کے مہذب، انصاف، قانون اور انسانیت پر یقین رکھنے والے انسانوں کو بھارتی بربریت کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا۔ شہباز شریف نے کہا کہ انہوں نے یورپی یونین، امریکہ اور او۔آئی۔سی اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل سے بھارت کے خلاف جنگی جرائم کی کارروائی شروع کرائیں ۔ انہوں نے مقبوضہ جموں وکشمیر کے شہداءکے درجات بلندی کی دعا کرتےہوئے کہا، اللہ تعالی شہداءکے اہلخانہ کو صبر جمیل دے۔ آمین

  • بھارت پاکستان کےصوبے بلوچستان میں مسلسل مداخلت کررہاہے۔  شاہ محمودقریشی

    بھارت پاکستان کےصوبے بلوچستان میں مسلسل مداخلت کررہاہے۔ شاہ محمودقریشی

    وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ بھارت مسلسل کوشش کرتاچلاآرہاہےکہ پاکستان میں عدم استحکام ہو ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان کےصوبےبلوچستان میں مسلسل مداخلت کررہاہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت افغانستان میں امن کی کوششوں کوبھی متاثر کررہاہے جس کے بارے میں وہ امریکی نمائندہ خصوصی کوبھی آگاہ کرچکےہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی اسٹاک ایکسچینج پرحملےمیں دہشت گرد لوگوں کویرغمال بناناچاہتےتھے جب کہ پاکستانی جوانوں نےدہشت گردوں کےحملےکوناکام بنایا۔ وزیرخارجہ نے کہا کہ بھارت اندرونی انتشار سےتوجہ ہٹانےکیلئےدہشت گردی کرارہاہے وہ دنیا کی توجہ ہٹانےکیلئےدہشت گردی کےواقعا ت چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیرپرعالمی توجہ بڑھنےپربھارت نےپلوامہ کاڈرامہ رچایا-

  • امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان امن عمل زلمے خلیل زاد کی وزارت خارجہ میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی سے ملاقات ۔

    امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان امن عمل زلمے خلیل زاد کی وزارت خارجہ میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی سے ملاقات ۔

    امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان امن عمل زلمے خلیل زاد کی وزارت خارجہ میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی سے ملاقات ۔خطے کی صورتحال، افغان امن عمل کے حوالے سے خصوصی تبادلہ ء خیال. امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل ایمبیسڈر زلمے خلیل زاد نے کراچی اسٹاک ایکسچینج پر ہونیوالے دہشتگردی کے حملے پر، وزیر خارجہ سے اظہار افسوس کرتے ہوئے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے بروقت کارروائی اور جوانوں کی مثالی جرات اور جرات کو سراہا.مخدوم شاہ محمود قریشی نےافغان امن عمل میں اب تک ہونیوالی پیش رفت کوانتہائی حوصلہ افزا قرار دیااور کہا کہ فریقین کی طرف سے بین الافغان مذاکرات پر آمادگی اور مذاکراتی ٹیموں کا اعلان خوش آئند ہے ان مذاکرات سے افغانستان میں مستقل اور دیرپا امن کی راہ ہموار ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ افغان امن عمل، اہم مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اس موقع پر ہمیں ان عناصر سے خبردار رہنا ہو گا جو افغانستان میں قیام امن کی کاوشوں کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان، گذشتہ چالیس برسوں سے افغان مہاجرین کی میزبانی کرتا آ رہا ہے جب کہ افغان مہاجرین کی باعزت وطن واپسی کو یقینی بنانے کیلئے، عالمی برادری کو ہاتھ بڑھانا ہو گا – انہوں نے کہا کہ پاکستان افغان قضیے کے مستقل اور پرامن سیاسی حل کیلئے، علاقائی و عالمی فریقین کے ساتھ تعاون کیلئے تیار ہے جب کہ
    پاکستان مشترکہ ذمہ داری نبھاتے ہوئے، افغانستان میں قیام امن کیلئے اپنا مصالحانہ کردار، خلوص نیت سے ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ پورے خطے کی تعمیر و ترقی کا انحصار افغانستان میں قیام امن سے مشروط ہے۔ سیکرٹری خارجہ سہیل محمود اور پاکستان کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان ایمبیسڈر محمد صادق بھی اس موقع پر موجود تھے

  • اسلام آباد میں مندرکی تعمیرپرسی ڈی اے کو نوٹس جاری

    اسلام آباد میں مندرکی تعمیرپرسی ڈی اے کو نوٹس جاری

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت میں مندرکی تعمیرکےخلاف درخواست پرسی ڈی اے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامرفاروق نے مقامی وکیل چوہدری تنویراخترکی مندر تعمیر کے خلاف دائردرخواست پرسماعت کی۔درخواست گزار نے موقف اختیارکیا کہ اسلام آباد کے سیکٹر ایچ 9 میں مندر کی تعمیرکے لئے دی گئی زمین واپس لی جائے۔ہندو مندرکی تعمیرکے لئے تعمیراتی فنڈزبھی واپس لیے جائیں۔سید پورویلج میں پہلے سے مندرموجود ہے۔حکومت اس کی تزئین و آرائش کرسکتی تھی۔ایچ نائن میں مندرکو دی گئی زمین اسلام آباد کے ماسٹرپلان کی خلاف ورزی ہے۔درخواست گزارنے کہا کہ اسلام آباد کے ماسٹرپلان پرعمل درآمد کرایا جائے اور مندرمیں تعمیرپرحکم امتناع جاری کیا جائے۔ایچ نائن سیکٹرمیں حکومت نے مسجد کے لیے تو فنڈزکا اعلان نہیں کیا مندرکی تعمیر کے لیے فنڈز جاری کر دیےہیں۔جسٹس عامرفاروق نے ریمارکس دیے کہ سی ڈی اے بتائے کہ کیا ایچ نائن میں مندراسلام آباد کے ماسٹر پلان کا حصہ ہے یا نہیں؟اقلیتوں کے مکمل حقوق ہیں ان کا بھی خیال رکھنا ہے۔

  • اسلام آباد میں بھارتی ناظم الامور کی دفترخارجہ طلبی

    اسلام آباد میں بھارتی ناظم الامور کی دفترخارجہ طلبی

    بھارتی ناظم الامور کی دفترخارجہ طلبی،
    لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کی خلاف ورزی پر شدید احتجاج، بھارتی ناظم الامور گورو اہلووالیا کو وزارت خارجہ طلب کرکے احتجاجی مراسلہ ان کے حوالے کیا گیا، بھارت کی طرف سے 29 اور 30جون کو ایل او سی پر جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کی گئیں، بھارتی بلااشتعال فائرنگ سے ایک شہری شہید اور پانچ زخمی ہوگئے.

  • بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر میں ننھے پوتے کے سامنے گولیاں مار کر دادا کو شہید کر دیا

    یہ‏آج صبح بھارتی مقبوضہ کشمیرکے علاقے سوپور میں سنٹرل ریزرو پولیس فورس کے درندوں نے کیسے ایک عام شہری کو مار دیا.تین سالہ بچہ اسکی لاش پر بیٹھا ہے. صبح صبح جب وہ گھرسے اپنی فیملی کے ہمراہ نکلا تو اس وقت پولیس فورس کی گاڑی مجاہدین کے نرغے میں آگئی جس میں موجود ایک بھارتی تو مارا گیا لیکن فورس نے ایک نہتے شہری کے ساتھ جو کیا اس کی مثال صرف مقبوضہ کشمیر میں ہی بھارتی فوج کے ہاتھوں مل سکتی ہے۔‏وادی میں عام شہری کو شہید کرنے کے بعد دیکھئے کیسے بھارتی فوج اس شخص کی لاش پر پاؤں رکھ کرکس طرح بے حرمتی کر رہے.