Baaghi TV

Author: Khalid Mehmood Khalid

  • بھارت کی اپنی آبی سلامتی کو چین کی طرف سے خطرات لاحق

    بھارت کی اپنی آبی سلامتی کو چین کی طرف سے خطرات لاحق

    لاہور(خالدمحمودخالد)پاکستان کا پانی بند کرنے کی دھمکیاں دینے والے بھارت کی اپنی آبی سلامتی کو چین کی طرف سے خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔ بھارتی ریاست اروناچل پردیش کے وزیراعلی پیما کھنڈو نے کہا ہے کہ ریاستی بارڈر کے قریب چین کا جو میگا ڈیم بنایا جا رہا ہے وہ بھارت کے لئے ایک "واٹر بم” ہو گا اور یہ بھارت کو چین کی طرف سے درپیش فوجی خطرے سے بڑا خطرہ ثابت ہو گا۔

    ایک ٹی وی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ دریائے برہم پترا کو جسے تبتی زبان میں یارلنگ سانگپو کہا جاتا ہے، پر دنیا کا سب سے بڑا ڈیم پروجیکٹ بھارت کے لئے ایک سنگین تشویش کا باعث ہے کیونکہ چین نے بین الاقوامی آبی معاہدے پر دستخط نہیں کئے جس کی وجہ سے وہ کسی بین الاقوامی اصولوں کی پابندی کرنے کا پابند نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ چین پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ کوئی نہیں جانتا کہ وہ کیا کر سکتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ڈیم بننے کی صورت میں اگر چین اچانک پانی چھوڑ دے تو ہماری پوری سیانگ بیلٹ تباہ ہو جائے گی۔ تمام املاک،  زمین اور اس کے ساتھ ساتھ انسانی زندگی کو تباہ کن اثرات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ چین بھارت کے ساتھ کوئی معلومات شیئر نہیں کرتا اور نہ ہی ڈیم کی تعمیر کی تازہ صورتحال کے بارے میں اس نے بھارت کو کوئی اطلاع دی ہے۔ اگر چین ڈیم کی تعمیر مکمل کر لیتا ہے تو اروناچل پردیش کے دو دریا سیانگ اور برہم پترا مکمل طور پر خشک ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں صورتوں میں بھارت کو سنگین خطرات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

  • مودی حکومت کے خلاف مزدور،کسان سڑکوں پر،بھارت بند،تاریخی ہڑتال

    مودی حکومت کے خلاف مزدور،کسان سڑکوں پر،بھارت بند،تاریخی ہڑتال

    لاہور(خالدمحمودخالد)بدھ کے روز بھارت کی مودی حکومت کی مزدور مخالف، کسان مخالف اور کارپوریٹ نواز پالیسیوں کے خلاف بھارتی تاریخ کی سب سے بڑی ہڑتال ہوئی۔ بینکنگ، انشورنس، ڈاک خدمات، کوئلے کی کان کنی اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے 25 کروڑ سے زیادہ کارکن آج ‘بھارت بند’ کے نام سے ملک گیر ہڑتال میں شامل ہوئے۔ اس ہڑتال کا اہتمام بھارت کی 10 مرکزی ٹریڈ یونینوں کے ایک مشترکہ فورم نے کیاتھا۔

    یونین رہنماؤں کی اپیل پر ہڑتال سے بینکنگ، ڈاک خدمات، کوئلے کی کان کنی، کارخانے اور سرکاری ٹرانسپورٹ مکمل طور پر بند رہے۔ اس کے علاوہ پورے بھارت میں حکومت کی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے گئے جس میں کسان اور دیہی کارکنوں کی بھی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ آل انڈیا ٹریڈ یونین کانگریس (AITUC) کی امرجیت کور نے ایک بھارتی ٹی وی کو بتایا کہ مودی حکومت نے ان کی 17 نکاتی ڈیمانڈ لسٹ کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ گزشتہ 10 سالوں میں سالانہ لیبر کانفرنس بھی نہیں بلائی گئی۔ مختلف ٹریڈ یونینوں کا کہنا ہے کہ بھارتی پارلیمنٹ کی طرف سے منظور کیے گئے چار نئے لیبر کوڈز مزدوروں کے حقوق کے خلاف ہیں۔

    بھارت بھر کے مزدور اور ورکرز پبلک سیکٹر یونٹس کی نجکاری، نوکریوں کی آؤٹ سورسنگ، اور کنٹریکٹ قوانین کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ اس سے قبل2020، 2022 اور 2024 میں ملک گیر ہڑتالیں ہوئیں جن میں بھارت بھر سے لاکھوں کارکنوں نے شرکت کی۔ آج ہونے والی ہڑتال کی وجہ سے بدھ کو ہندوستان بھر میں عوامی خدمات، خاص طور پر بینکوں اور ٹرانسپورٹیشن بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

  • فرانسیسی رافیل  سمیت تین بھارتی طیاروں کے نقصان کے شواہد موجود ہیں،سربراہ فرانسیسی فضائیہ

    فرانسیسی رافیل سمیت تین بھارتی طیاروں کے نقصان کے شواہد موجود ہیں،سربراہ فرانسیسی فضائیہ

    لاہور(خالدمحمودخالد) فرانسیسی فضائیہ کے سربراہ جنرل جیروم بیلینگر نے کہا کہ ان کے پاس حالیہ پاک بھارت جنگ کے بعد ایک فرانسیسی رافیل کے سمیت تین بھارتی طیاروں کے نقصان کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ دی ایسوسی ایٹڈ پریس کی ایک رپورٹ کے مطابق فرانس کی طرف سے یہ پہلی انتہائی اعلیٰ سطحی تصدیق کی گئی ہے جس کے مطابق فرانس کو بھارت کا ایک میراج 2000، ایک روسی ساختہ سخوئی اور ایک فرانسیسی ساختہ رافیل تباہ ہونے کی مصدقہ اطلاعات ملی ہیں۔ 

    جنرل جیروم بیلینگر نے مزید کہا کہ فرانس نے رافیل فائٹر طیارے آٹھ ممالک کو فروخت کئے ہیں جب کہ بھارت کا رافیل طیارہ جنگ میں تباہ ہونے کا اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس سے قبل ایک اعلیٰ سطحی فرانسیسی انٹیلی جنس اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر سی این این کو بتایا تھاکہ پاکستان نے بھارتی ائیر فورس کا کم از کم ایک رافیل طیارہ مار گرایا ہے۔

  • ورلڈ چیمپیئن شپ آف لیجنڈز، T20 لیگ کا دوسرا ایڈیشن 18جولائی سے برطانیہ میں آغاز

    ورلڈ چیمپیئن شپ آف لیجنڈز، T20 لیگ کا دوسرا ایڈیشن 18جولائی سے برطانیہ میں آغاز

    لاہور(خالدمحمودخالد) ورلڈ چیمپیئن شپ آف لیجنڈز (WCL) T20 لیگ کا دوسرا ایڈیشن 18جولائی سے برطانیہ میں شروع ہورہا ہے جس میں مجموعی طور پر 18 میچ کھیلے جائیں گے۔ پاکستان، بھارت، آسٹریلیا، انگلینڈ، جنوبی افریقہ اور ویسٹ انڈیز کے لیجنڈ کرکٹرز اس ٹورنامنٹ میں حصہ لے رہے ہیں۔ افتتاحی میچ میں انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان سنسنی خیز مقابلہ ہوگا۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان مقابلہ 20 جولائی کوایجبسٹن میں ہوگا۔ دونوں ملکوں کے لیجنڈ کرکٹرز کھلاڑی حالیہ پاک بھارت جنگ کے بعد پہلی بار ایک دوسرے کے خلاف کرکٹ میچ میں آمنے سامنے آرہے ہیں۔ اس میں دونوں ممالک کے کئی تجربہ کار کھلاڑی شامل ہیں جس میں بھارتی ٹیم کی طرف سے یوراج سنگھ کپتان ہوں گے میچ میں بھارت کی طرف سے ونے کمار، ہربھجن سنگھ، پارتھیو پٹیل، یوسف پٹھان، سریش رائنا، نمن اوجھا، مناف پٹیل، ریتیندر سوڈھی، آر پی سنگھ، اشوک ڈنڈا، عرفان پٹھان، محمد کیف، رابن اتھپا اور پرگیان اوجھا حصہ لیں گے۔

    پاکستانی ٹیم کے کپتان یونس خان ہوں گے جب باقی کھلاڑیوں میں کامران اکمل، سلمان بٹ، شعیب ملک، وہاب ریاض، محمد عامر، عبدالرزاق، یاسر عرفات، مصباح الحق، سہیل تنویر، سعید اجمل، عمران نذیر، عمر گل، محمد حفیظ اور شاہد آفریدی شامل ہیں۔ اس سیزن کا پلیئر پول ماضی کی نسبت کافی بڑا ہے دیگر کھلاڑیوں میں آسٹریلیا کی طرف سے ڈیوڈ ہسی، کالم فرگوسن، بریٹ لی، بریڈ ہیڈن، جارج بیلی، ناتھن کولٹر نائل، ڈرک نینس، زیویئر ڈوہرٹی، کیمرون وائٹ، ڈین کرسچن، ٹریوس برٹ، بین ہلفن ہاس، بین ڈنک، جیمز فالکنر، شان ٹیٹ۔ برطانیہ کی طرف سے اسٹیو ہارمیسن، کریگ کیسویٹر، مائیکل کاربیری، کیون پیٹرسن، لیوک رائٹ، روی بوپارا، سمیت پٹیل، مونٹی پنیسر، ٹم بریسنن، ڈیرن میڈی، گریم سوان، ایان بیل، جوناتھن ٹراٹ، جیڈ ڈرنباچ، اویس شاہ۔جنوبی افریقہ کی طرف سے ایشویل پرنس، عمران طاہر، جیک روڈولف، اے بی ڈی ویلیئرز، جسٹن اونٹونگ، ورنن فلینڈر، مورنے وین وِک، روئیلوف وین ڈیر مروے، ریان میک لارن، ڈیل اسٹین، الویرو پیٹرسن، وین پارنیل، جوہان بوتھا، ہرشل گبز، مارچنٹ ڈی لینج۔ ویسٹ انڈیز کی طرف سے کرس گیل، ڈوین اسمتھ، مارلن سیموئلز، سلیمان بین، جیروم ٹیلر، ڈیون اسمتھ، دنیش رامدین، روی رامپال، ڈیرن سیمی، سیموئل بدری، آندرے فلیچر، فیڈل ایڈورڈز، لینڈل سمنز، ٹینو بیسٹ، ڈوین براوو جیسے نامور کھلاڑی ٹورنامنٹ میں حصہ لے رہے ہیں

    بھارت بمقابلہ پاکستان میچ میں پاکستان کی جانب سے شاہد آفریدی بھی موجود ہوں گے جنہوں نے ماضی قریب میں بھارت کے بارے میں کئی متنازعہ بیانات دیے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران ان کھلاڑیوں کا اکٹھا ہونا ایک نیا تنازعہ بھی جنم لے سکتا ہے تاہم ٹورنامنٹ انتظامیہ اس بات کی کوشش کررہی ہے کہ ٹورنامنٹ کے دوران کسی قسم کی بدمزگی نہ ہو۔ 

  • بھارت کا پاکستانی پانی ہڑپنے کے منصوبے پر عمل کا آغاز

    بھارت کا پاکستانی پانی ہڑپنے کے منصوبے پر عمل کا آغاز

    لاہور(خالدمحمودخالد) بھارت نے پاکستان کے حصے کا پانی ہڑپ کرنے کے ناپاک عزائم کی تکمیل کیلئے کئی منصوبوں پر عملدرآمد شروع کردیا ہے۔

    ایک بھارتی ٹی وی کے مطابق بھارت سندھ طاس معاہدہ کے تحت پاکستان کو جانے والے انڈس ریور سسٹم کے تین مغربی دریاؤں سے پانی کے فاضل بہاؤ کو پنجاب، ہریانہ اور راجستھان کی طرف ری ڈائریکٹ کرنے کے لیے 113 کلومیٹر طویل نہر کی تعمیر کے لیے فزیبلٹی تیار کر رہا ہے۔ بھارتی ٹی وی کے مطابق بھارت کا منصوبہ ہے کہ انڈس ریور سسٹم سے جو پانی تین مغربی دریاؤں جہلم، چناب اور سندھ کے ذریعےپاکستان کی طرف جاتا ہے ان کو بھارت کے زیراستعمال لانے کیلئے نئی نہریں تعمیر کی جائیں۔ یہ کام ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور فزیبلٹی رپورٹس تیار کی جا رہی ہیں۔ مجوزہ منصوبے کے مطابق چناب کو راوی بیاس ستلج سسٹم سے جوڑنے کیلئے نہر کی تعمیر کا کام اگلے تین سالوں میں مکمل ہو جائے گا۔ جس کے بعد پاکستان کو جانے والا انڈس ریور سسٹم غیر فعال ہوجائے گا اور اس کے تحت تینوں دریاوں کا پانی بھارت کے زیراستعمال آجائے گا۔

    بھارتی ٹی وی کے مطابق اس مجوزہ منصوبے کے مکمل ہونے کے بعد دریائے سندھ کے پانی کو تین سال کے اندر نہروں کے ذریعے راجستھان کے گنگا نگر تک لے جایا جائے گا جس سے دہلی، ہریانہ، پنجاب اور راجستھان جیسی ریاستوں کو اس اسکیم سے کافی فائدہ ہونے کی توقع ہے۔

      واضح رہے کہ بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے ہفتہ کے روز ریاست مدھیہ پردیش میں بی جے پی کے تربیتی اجلاس کے دوران دھمکی دی تھی کہ پاکستان کو پانی کے ہر قطرے کے لیے ترسایا جائے گا۔

  • مقبوضہ کشمیر بھارت نہیں پاکستان کا  ،کشمیری بچے کے سامنے بھارتی خاتون صحافی کو شرمندگی

    مقبوضہ کشمیر بھارت نہیں پاکستان کا ،کشمیری بچے کے سامنے بھارتی خاتون صحافی کو شرمندگی

    لاہور(خالدمحمودخالد) بھارتی مقبوضہ کشمیر میں رہنے والے بچوں کے دلوں میں یہ بات گھر کر چکی ہے کہ مقبوضہ کشمیر بھارت کا نہیں بلکہ پاکستان کا حصہ ہے۔ بھارت کی معروف خاتون صحافی ادیتی تیاگی کو اس وقت سخت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا جب ان کے بھارتی مقبوضہ کشمیر کے دورہ کے موقعہ پر ایک چھوٹے سے بچے نے انہیں صاف الفاظ میں بتا دیا کہ مقبوضہ کشمیر دراصل پاکستان ہے۔

    ادیتی تیاگی نے مقبوضہ کشمیر کے علاقے لولاب ویلی میں ایک بچے برہان سے پوچھا کہ کیا اس کی پسندیدہ کرکٹ ٹیم آرسی بی ہے۔ جواب میں برہان کا کہنا تھا نہیں اس کی پسندیدہ ٹیم پاکستان کی ہے۔ بھارتی صحافی نے کہا کہ پاکستانی ٹیم تو ہارتی رہتی ہے تمہیں کیوں پسند ہے۔ برہان نے جواب دیا کہ ہارجیت تو ہوتی رہتی ہے پاکستان تو ہمارا ملک ہے اس لیے مجھے پسند ہے۔ ادیتی نے کہا کہ تم تو بھارت میں رہتے ہو تمہیں کس نے پڑھایا ہے کس نے سکھایا ہے کہ تم پاکستان میں رہتے ہو۔ جب  برہان نے جواب دیا کہ اس نے خود سے سیکھا ہے وہ پاکستان میں رہتا ہے بھارت میں نہیں تو اس پر ادیتی اپنا سا منہ لے کر وہاں سے چلی گئی۔

  • شکست کھانے کے باوجود بھارتی حکومت کی طرف سے فوجی افسران کو نوازنےکاسلسلہ

    شکست کھانے کے باوجود بھارتی حکومت کی طرف سے فوجی افسران کو نوازنےکاسلسلہ

    لاہور(خالدمحمودخالد) مئی میں پاک بھارت جنگ میں شکست کھانے کے باوجود بھارتی حکومت کی طرف سے فوجی افسران کو نوازنے اور انہیں ترقیاں دینے کا سلسلہ جاری ہے۔

    بھارت کےڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم او) لیفٹیننٹ جنرل راجیو گھئی کو گزشتہ روز بھارت کے ڈپٹی چیف آف آرمی سٹاف کے نئے عمدے پر تعینات کردیا گیا ہے۔ وہ ڈی جی ایم او کے عہدے پربھی برقرار رہیں گے۔

    ڈپٹی چیف آف آرمی اسٹاف کا عہدہ بھارتی فوج کے آپریشنز اور انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹس کی نگرانی کے لیے بنایا گیا ہے۔

    بھارتی وزارت دفاع کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل راجیو گھئی کی نئے عہدے پر تقرری کو بھارتی فوج میں سب سے اہم تقرریوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔

    اس سے قبل جنرل گھئی کو 4 جون کو، بھارتی فوج کے اہم اتم یودھ سیوا میڈل (UYSM) سے بھی نوازا گیا۔

  • مودی کے تیسری بار اقتدار کا ایک سال،تقریبات کا منصوبہ ٹھپ

    مودی کے تیسری بار اقتدار کا ایک سال،تقریبات کا منصوبہ ٹھپ

    لاہور(خالدمحمودخالد) بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے تیسری مرتبہ اقتدار میں آنے کے ایک سال مکمل ہونے پر بھارت بھر میں منفرد انداز میں تقریبات منانے کا منصوبہ ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔ ایک بھارتی اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ مودی نے آپریشن سیندور کو اپنے اقتدار کی پہلی سالگرہ پر سیاسی مقاصد حاصل کرنے کا منصوبہ تیار کیا تھا اور بی جے پی سے تعلق رکھنے والے افراد کو گھر گھر جا کر خواتین کو سیندور کی ڈبیہ دینے کی ہدایات جاری کی تھیں لیکن یہ منصوبہ اس وقت بری طرح ناکام ہوگیا جب بھارتی خواتین نے سخت احتجاج کیا اور مودی کو سیندور تقسیم کرنے سے باز رہنے کو کہا۔ بھارتی خواتین کا کہنا تھا کہ ان کو سیندور دینے کا حق صرف ان کے شوہروں کا ہے۔ بی جے پی کی طرف سے ان کو سیندور کس حق کے تحت دینے کی باتیں کی جارہی ہیں۔ اخبار کے مطابق پہلے تو بی جے پی کی طرف سے اس احتجاج پر پہلے تو خاموشی اختیار کی گئی لیکن جب حالات سنگین ہو گئے تو مودی سرکار کو اپنے اس منصوبے کوختم کرنا پڑا جب کہ شرمندگی سے بچنے کیلئے کہا گیا کہ گھر گھر سیندور بانٹنے کا کوئی منصوبہ نہیں بنایا گیا۔

  • بھارتی اخبارات نے مودی کی انتخابی چالوں کا بھانڈا پھوڑ دیا

    بھارتی اخبارات نے مودی کی انتخابی چالوں کا بھانڈا پھوڑ دیا

    لاہور(خالد محمودخالد) بھارتی اخبارات نے مودی سرکار کی بی جے پی کی انتخابی چالوں کے بھانڈے پھوڑنے شروع کردئے ہیں۔ ایک اخبار کے مطابق بی جے پی ہمیشہ انتخابات کو جیتنے کے mode میں رہتی ہے اور وہ آپریشن سیندور کو بھی آنے والے ریاستی انتخابات میں کیش کرانے کا سوچ رہی ہے۔ اخبار کے مطابق اس سال اکتوبر نومبر میں ریاست بہار اور اگلے سال مارچ اپریل میں مغربی بنگال، آسام، کیرالہ، تامل ٹاڈو اور پوڈوچری میں ریاستی انتخابات ہونے جا رہے ہیں اور اس موقعہ پر آپریشن سیندور کو کیش کروانا بی جے پی کا اہم منصوبہ ہے۔

    اخبار کے مطابق ماضی میں بھی مودی کی بی جے پی ایسے ہی منصوبوں پر کام کرتی رہی ہے۔ 26 فروری 2019 کو بالاکوٹ کا ڈرامہ رچایا گیا اور اس کے 45 دن کے اندر لوک سبھا کے انتخابات کا پہلا فیز شروع ہونا تھا۔ کارگل کا واقعہ بھی 1999 کے لوک سبھا انتخابات سے دو ماہ قبل رچایا گیا۔ اخبار کے مطابق حالیہ پاک بھارت چار روزہ جنگ کےعوامی جذبات کا فائدہ اٹھانے کے لئے مودی نے 29 مئی کو بنگال کے علی پور دوار کا دورہ کیا جہاں اب سے چند ماہ بعد انتخابات ہونے والے ہیں۔ یکم جون کو یہی مقاصد حاصل کرنے کے لئے امیت شاہ بھی بنگال پہنچ گئے۔

    اخبار کے مطابق جو بات بی جے پی کے اعلیٰ لیڈران کو سمجھ نہیں آرہی ہے وہ یہ ہے کہ سیاست کرنے کی کچھ حد ہوتی ہے۔ جس طرح سے مودی اور ان کے ساتھی انتخابی فائدے کے لیے آپریشن سیندور کا استعمال کرنے کے لیے مختلف ریاستوں، خاص طور پر انتخابات سے منسلک ریاستوں کا دورہ کر رہے ہیں، اس سے ایسا لگتا ہے کہ کچھ اچھا نہیں۔ 29 مئی کو ریاست بہارکے ضلع پٹنہ کے مرکز میں وزیر اعظم کے روڈ شو پر ناقص عوامی ردعمل اس کی واضح مثال ہے۔ جب وہ ریاست کے دو دن کے دورے کے لیے پٹنہ ہوائی اڈے پر اترے، سوشل میڈیا پہلے ہی پارٹی کے آپریشن سیندور کی مذمت سے گونج رہا تھا۔

    اخبار کے مطابق اس وقت حالت ماضی سے مختلف ہیں عوام آنے وال ریاستی انتخابات میں آپریشن سیندور کے جذبات بھول چکے ہوں گے کیونکہ اس وقت عوام کے مسائل کچھ اور ہیں۔ 

  • پاکستان کیلئے جاسوسی کا الزام، حقیقت میں بھارتی یوٹیوبر را کی ایجنٹ نکلی

    پاکستان کیلئے جاسوسی کا الزام، حقیقت میں بھارتی یوٹیوبر را کی ایجنٹ نکلی

    لاہور(خالدمحمودخالد) بھارتی یوٹیوبر جیوتی ملہوترہ دراصل بھارتی خفیہ ایجنسی را کی ایجنٹ نکلی جب کہ بھارت کا کہنا ہے کہ اسے پاکستان کیلئے جاسوسی کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ نئی دہلی میں جیوتی ملہوترہ کے قریبی ذرائع نے باغی ٹی وی کو بتایا کہ را کے اہلکار جیوتی کو نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے حکام سے رابطے بڑھانے کیلئے کہتے تھے۔

    بھارتی وزارت داخلہ کےحکام کی طرف سے جیوتی کو پاکستان جانے والے سکھوں اور ہندووں کے جتھوں میں شامل کیا جاتا اور جلد ویزہ کے حصول کے لئے پاکستانی ویزہ حکام کو جیوتی سے فون کروائے جاتے۔ سوشل میڈیا انفلوئنسر ہونے کی وجہ سے ہائی کمیشن کے حکام اسے ترجیحی بنیادوں پر ویزہ جاری کر دیتے۔ معروف یوٹیوبر ہونے کی وجہ سے جیوتی نے پاکستانی حکام سے رابطے اس قدر بڑھا لیے کہ اس کا نام پاکستانی ہائی کمیشن کی تیار کردہ مہمانوں کی لسٹ میں بھی شامل کر لیا گیا اور اسے اہم تقاریب کیلئے دعوت نامہ بھی جاری کیا جاتا۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ جیوتی تمام تقاریب میں شامل ہونے سے قبل را کے حکام سے ہدایات لیتی اور تقریبات میں شامل بھارتی مہمانوں کی ویڈیو بناکر را کے اہلکاروں کو فراہم کرتی۔ اس کے علاوہ اہم افراد کی گفتگو بھی ریکارڈ کرکے را کو فراہم کرتی۔ را پاکستانی سفارتخانے کی تقریبات میں شامل ہونے والے مہمانوں کی انکوائری کرنا شروع کردیتی اور ان کو پاکستانی حکام سے رابطوں کی پاداش میں تنگ کیا جاتا۔

    یہ بھی معلوم ہوا کہ جیوتی پاکستان کے دورے کے دوران بھارتی ہائی کمیشن کے حکام سے بھی رابطے میں رہتی تھی۔ جیوتی کو فنڈز بھی فراہم کئے جاتے جب کہ جیوتی پاکستان کے مختلف مقامات کی ویڈیو بنا کر را کو فراہم کرتی۔ پاکستان میں قیام کے دوران وہ بڑے ٹی وی چینلز اور اہم اخبارات کے صحافیوں سے روابط بڑھانے کی ماہر تھی۔ وزیراعلی پنجاب مریم نواز سے بھی اس نے ملاقات کی۔ بھارتی حکام نے جیوتی کو چین کو دورہ کرانے میں بھی مدد فراہم کی اور جلد ہی اسے بنگلادیش بھیجے جانے کا بھی پلان تھا۔

    بھارتی را کے حکام نے پاکستان کے ساتھ کشیدگی بڑھانے کے لئے پہلگام کا ڈرامہ تیار کیا تو پہلگام حملہ سے قبل را کے اہلکاروں نے منصوبہ بندی کے تحت جیوتی ملہوترہ کو پہلگام کا دورہ کروایا اور اس سے پورے علاقے کی ویڈیو بنوائی جسے سوشل میڈیا پر صرف اس لئے وائرل کیا گیا کہ را کے ساتھ جیوتی کے روابط کا شک نہ کیا جا سکے۔ پہلگام ڈرامے کے بعد را نے جیوتی سے جان چھڑانے کا فیصلہ کیا اور اس پر پاکستانی ہائی کمیشن کے حکام سے رابطے رکھنے اور انہیں اہم راز فراہم کرنے کا الزام لگادیا گیا۔

    اس پر یہ الزام بھی لگایا گیا کہ پہلگام میں اس نے جو ویڈیو بنائی وہ پاکستان کے کہنے پر بنائی اور پاکستانی ہائی کمیشن کے حکام کو دی۔ بھارتی حکام نے جیوتی سے رابطے رکھنے کا الزام لگا کر ایک پاکستانی سفارتکار کو ناپسندیدہ قرار دے کر بھارت چھوڑنے کا حکم دے دیا۔ جیوتی کو اسی سفارتکار سے رابطے رکھنے کا بہانہ بنا کر گرفتار کرلیا گیا تاکہ وہ را کے منصوبوں کو منظرعام پر نہ لا سکے۔