Baaghi TV

Author: Khalid Mehmood Khalid

  • لوک سبھا میں تقریر کرتے ہوئے بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ مکمل طور پر کنفیوز

    لوک سبھا میں تقریر کرتے ہوئے بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ مکمل طور پر کنفیوز

    لاہور(خالدمحمودخالد) بھارتی لوک سبھا میں تقریر کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ مکمل طور پر کنفیوز دکھائی دئے۔ انہوں نے لکھی ہوئی تقریر کی جس میں وہ پہلگام میں 22 اپریل کو ہونے والے دہشت گردی کے واقعہ اور اس کی تحقیقات کی تاریخوں میں الجھے ہوئے نظر آئے۔ وہ بار بار یہ کہتے رہے کہ حملے کی تحقیقات 22 مئی کی رات کو شروع ہوئی۔ یہاں تک کہ ملحقہ بنچ کے ایک رکن وزیرداخلہ کو یہ بتاتے نظر آئے کہ حملہ 22 اپریل کو ہوا تھا۔ لیکن امیت شاہ بار بار 22 مئی 2025 ہی دہراتے رہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حملے کے بعد 22 مئی کی رات کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں ایک سیکیورٹی میٹنگ ہوئی تھی۔ امیت شاہ کی اس غلطی کے بعد اپوزیشن بنچوں سے ہنگامہ اور شور بلند ہوا جس کے بعد امیت شاہ نے خود کو درست کیا۔ تاہم تھوڑی دیر بعد انہوں نے پھر وہی غلطی دہرائی اور پھر کہا کہ انٹیلی جنس بیورو کو 22 مئی کو سری نگر کے دچیگام علاقے میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کے بارے میں انٹیلی جنس ان پٹ موصول ہوا اور 28 جولائی کی صبح انکاؤنٹر شروع ہوا۔

  • آپریشن سندور،راج ناتھ سنگھ لوک سبھا میں اپوزیشن کے سوالوں کو نظرانداز کر گئے

    آپریشن سندور،راج ناتھ سنگھ لوک سبھا میں اپوزیشن کے سوالوں کو نظرانداز کر گئے

    لاہور(خالدمحمودخالد) بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے گزشتہ روز لوک سبھا کے اجلاس میں حالیہ پاک بھارت جنگ کے حوالے سے اپوزیشن کے سوالات کو نظر انداز کرتے ہوئے نہ تو یہ بتایا کہ بھارت کے کتنے طیارے تباہ ہوئے اور نہ ہی وزیراعظم کی خاموشی اور صدر ٹرمپ کی طرف سے جنگ بندی کے دعوں کا ذکر کیا الٹا اپوزیشن کو سوالات ڈکٹیٹ کرانے کی کوشش کی جس سے اپوزیشن نے شدید ہنگامہ آرائی کی۔ وزیر دفاع نے کہا کہ اپوزیشن کو حکومت سے جو سوالات پوچھنے چاہیئں وہ آج تک نہیں پوچھے۔ اس نے کبھی بھی صحیح سوالات نہیں کئے۔ اپوزیشن ارکان ہم سے پوچھتے رہے کہ ہمارے کتنے طیارے مار گرائے گئے لیکن انہوں نے کبھی یہ نہیں پوچھا کہ ہماری افواج نے کتنے پاکستانی طیارے مار گرائے ہیں۔ انہوں نے اپوزیشن سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ اگر آپ سوال پوچھنا چاہتے ہیں تو یہ پوچھیں کہ کیا اس جنگ میں بھارت کے کسی فوجی کو نقصان پہنچا یا نہیں۔ ہم ان سوالات کا جواب دینے کیلئے تیار ہیں۔ بھارتی آپریشن کے مقصد کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ کسی دوسرے ملک کی سرحد پار کرنا یا اس کے کسی علاقے پر قبضہ کرنا نہیں تھا بلکہ آپریشن شروع کرنے کا مقصد ان خاندانوں کو انصاف فراہم کرنا تھا جنہوں نے پہلگام میں اپنے پیاروں کو کھو دیا تھا۔ آپریشن کا سیاسی عسکری مقصد پاکستان کو سزا دینا تھا۔ اس لیے مسلح افواج کو اپنے اہداف کا انتخاب کرنے اور منہ توڑ جواب دینے کی کھلی چھٹی دی گئی۔ اپنی تقریر کے دوران راج ناتھ سنگھ نے اپوزیشن کے کسی بھی رہنما کا نام لینے سے گریز کیا لیکن بظاہر ان کا اصل نشانہ کانگریس کے لیڈر قائد حزب اختلاف راہول گاندھی تھے جنہوں نے ایوان کی کارروائی میں بھی شرکت کی اور کانگریس کی جانب سے بھارتی ناکامیوں پر بحث شروع کی۔ اجلاس سے قبل راہول گاندھی نے سوشل میڈیا پر بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کا ایک ویڈیو شیئر کردیا جس میں انہوں نے دعوی کیا تھا کہ انہوں نے پاکستانی فوج کو بھارتی آپریشن سیندور کے بارے میں پیشگی اطلاع دی تھی اور یہ بھی استفسار کیا تھا کہ بھارتی فضائیہ کے کتنے طیارے تباہ کئے گئے۔ راہول گاندھی نے کہا کہ بھارتی حملے کے آغاز سے قبل پاکستان کو اطلاع دینا قومی جرم تھا۔ وزیرخارجہ نے عوامی طور پر اس کا اعتراف کیا ہے کہ بھارتی حکومت نے ایسا کیا ہے۔ راہول گاندھی نے کہا کہ وزیرخارجہ کو کس نے اس کااختیار دیا تھا کہ وہ پاکستان کو الرٹ کریں جب کہ یہ بھی بتایا جائے کہ پاکستان کو الرٹ کرنے کی کے نتیجے میں بھارتی فضائیہ نے کتنے طیارے کھوئے۔ 

  • مودی کی ناکام خارجہ پالیسی،اپوزیشن کی تنقید،امریکہ بھارت دوستی کھوکھلی قرار

    مودی کی ناکام خارجہ پالیسی،اپوزیشن کی تنقید،امریکہ بھارت دوستی کھوکھلی قرار

    لاہور(خالدمحمودخالد) بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی ناکام خارجہ پالیسی پر اپوزیشن کی طرف سے نکتہ چینی بڑھتی جارہی ہے۔ خصوصا امریکہ کے ساتھ کے ساتھ بھارت کی دوستی کو کھوکھلا قرار دیا جارہا ہے۔ کانگریس کے سینئر رہنما اور جنرل سیکریٹری جے رام رمیش نے وزیراعظم نریندر مودی کی خارجہ پالیسی پر شدید تنقید کی ہے۔ خصوصا جمعہ کے روز جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پاکستان کے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے ملاقات کی اور دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے کردار کو سراہا تو جے رام رامیش نے اسے مودی کی ناکام پالیسی قراردیا اور کہا کہ گذشتہ دو مہینوں میں پیش آنے والے کئی اہم عالمی واقعات نے ہندوستان کی کمزور خارجہ پالیسی اور نام نہاد مودی ٹرمپ دوستی کی حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے۔اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جے رام رمیش نے لکھا کہ ان ٹھوس واقعات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مودی اور ان کے حامی جس دوستی اور سفارتی کامیابی کا ڈھول پیٹتے ہیں وہ صرف ایک دکھاوا ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے سب سے پہلے پاک بھارت جنگ کے حوالے سے بھارتی نام نہاد آپریشن کا ذکر کیا جس کے بارے میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ہی اس آپریشن کو رکوانے کے لیے مداخلت کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر کے بیانات سے بھارت کی خودمختاری اور فیصلہ سازی پر براہِ راست سوال اٹھاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 10 جون 2025 کو امریکہ کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل مائیکل کُریلا نے پاکستان کو ’شاندار شراکت دار‘ قرار دیا۔ یہ تبصرہ بھارت کی دہشت گردی کے خلاف مستقل کوششوں کے بالکل برعکس تھا اور دہلی کے سفارتی بیانیے کو کمزور کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ18 جون 2025 کو ٹرمپ نے بغیر پیشگی اطلاع کے پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل آصف منیر کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں ظہرانے پر ملاقات کی جس سے بھارتی خارجہ پالیسی کی دھجیاں اڑ گئیں۔

    جے رام رامیش نے مودی پر الزام عائد کیا کہ مودی اور ان کے حامی جس ٹرمپ دوستی کو جیت کا مظہر بتاتے رہے وہ اب بھات کیلئے کھوکھلی اور صرف دکھاوے کی رہ گئی ہے۔ کانگریس رہنما نے مزید کہا کہ عالمی سطح پر بھارت کی ساکھ اور اثر و رسوخ کو بری طرح نقصان پہنچا ہے اور ان سب کے پیچھے وہ غلط سفارتی فیصلے ہیں جن کی بنیاد مودی حکومت نے رکھی۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آ چکا ہے کہ حکومت اپنی پالیسیوں کا سنجیدگی سے جائزہ لے کیونکہ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور دکھاوے کی دوستی سے قومی مفادات کا تحفظ ممکن نہیں۔

  • جنگ میں ناکامی کے بعد بھارتی فوج میں نئی بریگیڈ کی تشکیل

    جنگ میں ناکامی کے بعد بھارتی فوج میں نئی بریگیڈ کی تشکیل

    لاہور(خالدمحمودخالد) حالیہ پاک بھارت جنگ میں ناکامی کے بعد بھارتی فوج کے سربراہ جنرل اوپیندر دویدی نے گزشتہ روز ایک نئی فوجی بریگیڈ کی تشکیل کا اعلان کیا جسے رودرا کا نام دیا گیا ہے۔ کارگل وار میموریل کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جنرل دویدی نے کہا کہ رودرا کے تحت انفنٹری، میکانائزڈ انفنٹری، آرمرڈ یونٹس، آرٹلری، اسپیشل فورسز اور بغیر پائلٹ کے فضائی یونٹس ایک جگہ پر ہوں گے تاکہ سب کو مناسب لاجسٹک اور جنگی مدد فراہم کی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ فوج نے ایک اسپیشل اسٹرائیک فورس ‘بھیرو لائٹ کمانڈو یونٹ’ تشکیل دی ہے جو سرحد پر حملہ آور کو حیران کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہے گی۔ جنرل دویدی نے کہا کہ ہر انفنٹری بٹالین میں اب ایک ڈرون پلاٹون ہے۔ توپ خانے میں شکتیبن رجمنٹ قائم کی گئی ہے، جو ڈرون، کاؤنٹر ڈرون اور دیگر جنگی سازوسامان سے لیس ہوگی۔ ہر رجمنٹ میں ان چیزوں سے لیس ایک کمپوزٹ بیٹری ہوگی۔ اپنے چھ جدید طیارے گرائے جانے کا ذکر کئے بغیر بھارتی آرمی چیف نے کہا کہ آنے والے دنوں میں ہماری ائر فورس صلاحیت میں کئی گنا اضافہ ہو جائے گا کیونکہ فورس کو فضائی دفاعی نظام سے لیس کیا جا رہا ہے۔

  • دنیا بھر میں بھارتی شہریوں کی جیلوں میں قید ہونے کی تعداد میں اضافہ

    دنیا بھر میں بھارتی شہریوں کی جیلوں میں قید ہونے کی تعداد میں اضافہ

    لاہور(خالدمحمودخالد) دنیا بھر میں بھارتی شہریوں کی جیلوں میں قید ہونے کی تعداد میں گزشتہ سالوں کی نسبت اضافہ ہوا ہے۔

    بھارتی وزیر مملکت برائے امور خارجہ کیرتی وردھن سنگھ نے لوک سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں کہا کہ اس وقت 10,574 بھارتی شہری پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک کی جیلوں میں قید ہیں جب کہ 43 موت کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ وزیر مملکت نے کہا کہ متحدہ عرب امارات میں بھارتی قیدیوں کی سب سے زیادہ تعداد ریکارڈ کی گئی ہے جہاں اس وقت 2,773 شہری سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ سعودی عرب میں بھارتی قیدیوں کی تعداد 2,379 جب کہ نیپال میں1,357 بھارتی قیدی جیلوں میں ہیں۔ پاکستانی جیلوں میں 246 بھارتی شہری قید ہیں۔ دیگر ممالک میں قطر میں 795، ملائیشیا میں 380، کویت میں 342، برطانیہ میں 323، بحرین میں261 جبکہ چین میں 183بھارتی شہری قید ہیں۔ وزیرمملکت نے بتایا کہ 43 بھارتی شہری اس وقت مختلف ممالک میں سزائے موت کا سامنا کر رہے ہیں۔ان میں سب سے زیادہ تعداد21 متحدہ عرب امارات میں ہیں۔ سعودی عرب 7، چین 4، انڈونیشیا 3 اور کویت 2 ہیں۔ ایک ایک بھارتی امریکہ، ملائیشیا، عمان، پاکستان، قطر اور یمن میں سزائے موت کے منتظر ہیں۔ 

  •  بھارت میں صدر، وزیراعظم، فوجی سربراہان، چیف جسٹس اور ارکان اسمبلی کی تنخواہیں منظر عام

     بھارت میں صدر، وزیراعظم، فوجی سربراہان، چیف جسٹس اور ارکان اسمبلی کی تنخواہیں منظر عام

    لاہور(خالدمحمودخالد) بھارت میں صدر، وزیراعظم، فوجی سربراہان، چیف جسٹس صاحبان اور ارکان اسمبلی کی تنخواہیں منظر عام پر آگئیں۔

    تفصیلات کے مطابق بھارت میں صدرمملکت سب سے زیادہ معاوضہ لینے والا سرکاری عہدہ ہے جس کی تنخواہ پانچ لاکھ روپے ماہانہ ہے۔ یہ تنخواہ کسی بھی قسم کے ٹیکسوں سے مستثنیٰ ہے۔ صدر مختلف مراعات بھی حاصل کرتے ہیں جس میں ٹرین کا سفر اور ہوائی جہاز میں دنیا بھر میں مفت سفر، مفت رہائش، طبی سہولیات شامل ہیں۔ دفتری اخراجات کے لیے سالانہ ایک لاکھ روپے ان کی تنخواہ کے علاوہ ہیں۔ وہ راشٹرپتی بھون میں رہتے ہیں جو دنیا بھر میں کسی بھی صدر کی سب سے بڑی رہائش گاہ ہے۔ بھارت میں نائب صدر ملک کا دوسرا سب سے بڑا آئینی عہدہ ہے۔ بھارت کے نائب صدر کی تنخواہ چار لاکھ روپے ماہانہ ہے جب کہ دیگر مراعات اور الاؤنسز میں مفت رہائش، طبی سہولیات، ٹرین اور ہوائی سفر، ایک لینڈ لائن کنکشن، موبائل فون سروس، ذاتی تحفظ، اور عملہ شامل ہیں۔ بھارت میں وزیر اعظم کی تنخواہ ایک لاکھ چھیاسٹھ ہزار روپے ماہانہ ہے۔ان کی دیگر مراعات میں پینتالیس ہزار روپے کا پارلیمانی الاؤنس، اور دو ہزار روپے کا یومیہ الاؤنس۔ سرکاری رہائش، اسپیشل پروٹیکشن گروپ کی سیکیورٹی، سرکاری گاڑیوں اور ہوائی جہاز کا سفر، اور بین الاقوامی دوروں کے لیے سرکاری ادا شدہ سفر کے علاوہ قیام اور کھانے کے اخراجات شامل ہیں۔ بھارتی ممبر پارلیمنٹ کی تنخواہ ایک لاکھ روپے ماہانہ اور پارلیمنٹ کے اجلاسوں میں شرکت کے لیے دو ہزار روپے یومیہ الاؤنس، کمیٹی کے اجلاسوں اور سڑک کے سفر کے لیے سولہ روپے فی کلومیٹر سفری الاؤنس شامل ہیں۔ ممبران پارلیمنٹ کو پنتالیس ہزار روپے روپے ماہانہ حلقہ الاؤنس اور پینتالیس روپے ماہانہ دفتری اخراجات کا الاؤنس بھی ملتا ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا دو لاکھ اسی ہزار روپے ماہانہ تنخواہ لیتے ہیں جبکہ فوج، ائر فورس اور بحریہ کے سربراہان کی ماہانہ تنخواہیں ماہانہ ڈھائی ڈھائی لاکھ روپے فکس ہے۔ 

  • بھارت کا مگ 21 لڑاکا طیاروں کو 19 ستمبر سے باضابطہ طور پر ریٹائر کرنے کا اعلان

    بھارت کا مگ 21 لڑاکا طیاروں کو 19 ستمبر سے باضابطہ طور پر ریٹائر کرنے کا اعلان

    لاہور(خالدمحمودخالد) بھارت نے 60 سال سے زائد عرصے تک بھارتی فضائی کیلئے خدمات سر انجام دینے والے مگ 21 لڑاکا طیاروں کو 19 ستمبر سے باضابطہ طور پر ریٹائر کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ دی اکنامک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق 23 اسکواڈرن کے طیاروں کی آخری کھیپ کو 19 ستمبر کو چندی گڑھ ایئربیس پر ایک تقریب میں ختم کر دیا جائے گا۔ مگ 21 بھارت کا پہلا سپرسونک جیٹ تھا جس نے 1960 اور 1970 کی دہائیوں میں تکنیکی برتری حاصل کی لیکن بعد میں اکثر حادثات کی وجہ سے بدنام ہو گیا۔ مگ 21 کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھارتی فضائیہ کی جنگی صلاحیت کم ہو کر 29 اسکواڈرن رہ جائے گی جو 1960 کی دہائی کے بعد سب سے کم ہے۔ 1965 کی پاک بھارت جنگ کے دوران بھارتی فضائیہ کے پاس لڑاکا طیاروں کے 32 اسکواڈرن تھے۔ مگ 21 طیارہ سوویت یونین کے Mikoyan-Gurevich ڈیزائن بیورو نے تیار کیا تھا اور اس نے اپنی پہلی پرواز 1955 میں کی تھی۔ اس سپرسونک طیارے کو دنیا کے تقریباً 60 ممالک استعمال کر چکے ہیں۔ بھارت اس کا سب سے بڑا آپریٹر ہے۔ مگ 21 طیاروں کے حادثات کی ایک پریشان کن تاریخ ہے۔ اب تک اس طیارے کے حادثات میں 200 سے زیادہ پائلٹ اور 50 شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ اس طرح کا پہلا واقعہ 1963 میں ریکارڈ کیا گیا تھا۔ 1966 سے 1984 کے درمیان تیار کیے گئے 840 طیاروں میں سے نصف سے زیادہ حادثات کی وجہ سے تباہ ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے مگ 21 کو ‘دی فلائنگ کفن’ اور ‘دی ویڈو میکر’ جیسے القابات دئے گئے۔

  • راجیہ سبھا اجلاس،کانگریس کے جنگ بندی پرسوالات،مودی سامنا نہ کر سکے

    راجیہ سبھا اجلاس،کانگریس کے جنگ بندی پرسوالات،مودی سامنا نہ کر سکے

    لاہور(خالدمحمودخالد) بھارتی راجیہ سبھا کا ہنگامہ خیز مون سون اجلاس گزشتہ روز شروع ہوگیا جس میں اپوزیشن کو بولنے نہیں دیا گیا جب کہ وزیراعظم مودی پارلیمینٹ سے باہر چلے گئے۔

    راجیہ سبھا میں بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں قائد حزب اختلاف ملک ارجن کھڑگے نے وزیر اعظم نریندر مودی سے جواب بھی طلب کیا کہ پہلگام حملہ، پاک بھارت جنگ اور امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے جنگ بندی سے متعلق بیانات پر آخر وہ خاموش کیوں ہیں۔ انہوں نے رول 267 کے تحت مطالبہ کیا ایوان میں ان تمام معاملات پر تفصیلی بحث کی اجازت دی جائے۔ کھڑگے نے ایوان میں زور دے کر کہا کہ 22 اپریل کو ہوئے پہلگام دہشت گردانہ حملے سر انجام دینے والے دہشت گرد آج تک نہ تو پکڑے گئے ہیں اور نہ ہی مارے گئے ہیں۔ انھوں نے بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے اس بیان کا بھی حوالہ دیا جس میں انھوں نے خود پہلگام میں سیکورٹی نہ ہونے کی بات قبول کی تھی۔ ملک ارجن کھڑگے نے راجیہ سبھا میں یاد دلایا کہ ملک میں یکجہتی بنائے رکھنے اور فوج کو مضبوطی دینے کے لیے بھارتی اپوزیشن نے غیر مشروط طور پر مودی حکومت کو حمایت دی تھی۔ ایسے میں حکومت کو پورے حالات کے بارے میں تفصیلات دینی چاہیے۔

    کانگریس صدر نے پاک بھارت جنگ کے معاملے میں چیف آف ڈیفنس اسٹاف، ڈپٹی لیڈر چیف اور ایک سینئر فوجی افسر کے انکشافات پر مبنی بیانات پر بھی مودی حکومت سے وضاحت طلب کی۔ اس کے علاوہ انھوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 24 بار دیے گئے ان بیانات پر بھی حکومت کو اپنا موقف واضح کرنے کو کہا جس میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے تجارت نہ کرنے کی دھمکی دے کر بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کروائی۔ اسپیکر نے کھرگے کا مائیک بند کردیا اور اجلاس ملتوی کردیا۔

  • 15 ماہ کی تاخیر سے بھارتی فوج کو تین اپاچی ہیلی کاپٹر کل مل جائیں گے

    15 ماہ کی تاخیر سے بھارتی فوج کو تین اپاچی ہیلی کاپٹر کل مل جائیں گے

    لاہور(خالدمحمودخالد) 15 ماہ سے زیادہ کی تاخیر کے بعد، ہندوستانی فوج کو بالآخر تین اپاچی AH-64E حملہ آور ہیلی کاپٹروں کی پہلی کھیپ 22 جولائی کو بھارتی فوج کی ایوی ایشن کور کے حوالے کردی جائے گی جس کے بعد بھارت کی مغربی سرحد کے ساتھ جنگی صلاحیتوں میں اضافہ ہوجائے گا۔ بھارتی فوج نے 2020 میں امریکہ کے ساتھ چھ اپاچی اٹیک ہیلی کاپٹروں کے لیے 600 ملین امریکی ڈالر کے معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کی ابتدائی ترسیل مئی اور جون 2024 کے درمیان متوقع تھی تاہم سپلائی چین میں رکاوٹوں اور امریکہ کو درپیش تکنیکی مسائل کی وجہ سے بار بار کی تاخیر کے باعث ڈلیوری ٹائم لائن کو دسمبر 2024 تک بڑھا دیا۔ معاہدے کے مطابق چھ ہیلی کاپٹر تین تین کی دو ڈلیوری میں پہنچنا تھے۔ تاہم پہلی کھیپ ابھی تک بھارت نہیں پہنچی۔ اپاچی ہیلی کاپٹر اپنی چستی، فائر پاور، اور جدید ہدف سازی کے نظام کے لیے جانے جاتے ہیں اور انہیں فوج کے ہتھیاروں میں ایک اہم اضافے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ جبکہ بھارتی فضائیہ نے پہلے ہی 2015 کے ایک علیحدہ معاہدے کے تحت 22 اپاچی ہیلی کاپٹر شامل کیے ہیں۔

  • بھارت،ایک ہی دن 100 کے قریب اسکولوں کو بم کی دھمکی موصول

    بھارت،ایک ہی دن 100 کے قریب اسکولوں کو بم کی دھمکی موصول

    لاہور(خالدمحمودخالد) بھارت میں اسکولوں کو بم کی دھمکیوں کی کالیں اور ای میلز بھیجنا معمول بن گیا ہے۔دارالحکومت نئی دہلی میں جمعہ کے روز 45 اور بنگلورو کے 40 سے زائد اسکولوں کو بم کی دھمکیاں موصول ہوئیں جس سے طلباء اور ان کے والدین میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ حکام نے فوری طور پر تمام اسکولوں کو خالی کرالیا اور والدین کو اپنے بچوں کو گھروں میں لے جانے کے احکامات دئے۔

    پولیس، بم ڈسپوزل اور ڈاگ اسکواڈز اور فائر ڈپارٹمنٹ کا عملہ فوری طور پر مختلف اسکولوں میں پہنچ گیا اور تلاشی اور انخلاء کی کارروائیاں شروع کر دیں تاہم کسی اسکول سے کسی قسم کا دھماکہ خیز مواد برآمد نہیں ہوا۔ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران یہ مسلسل چوتھا روز ہے جب دارالحکومت کے اسکولوں کو بم کی دھمکیاں موصول ہوئی ہیں جب کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران نئی دہلی کے تقریباً 200 سے 250 اسکولوں کو جھوٹی بم دھمکی کالیں یا ای میل موصول ہوئی ہیں۔ یکم مئی کو ایک ہی دن تقریباً 100 اسکولوں کو دھمکی آمیز ای میلز موصول ہوئیں۔ دریں اثنا بنگلورو کے 40 اسکولوں کو بھی جمعہ کے روز ایسی ای میلز موصول ہوئیں تاہم کسی قسم کا دھماکہ خیز مواد برآمد نہیں ہوا۔

    دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ آتشی نے اس معاملے پر بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ بی جے پی دہلی میں گورننس کو کنٹرول کرتی ہے تاہم وہ ابھی تک بچوں کو کوئی حفاظت یا تحفظ فراہم کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ انہوں نے کہا کہ والدین اپنے بچوں کو اسکولوں میں بھیجنے سے گھبرارہے ہیں۔