Baaghi TV

Author: Khalid Mehmood Khalid

  • ٹرمپ بھارتی شہری بن گئے

    ٹرمپ بھارتی شہری بن گئے

    لاہور(خالدمحمودخالد) بھارتی ریاست بہار میں الیکشن کمیشن کی ہدایت پرشروع کی گئی ووٹر لسٹ کی جامع نظر ثانی مہم کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیا ہے تاہم جعلی رہائشی سرٹیفکیٹس کا بڑھتا ہوا رجحان بھی دیکھنے میں آرہاہے۔ اسی دوران ایک حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے۔ سمستی پور ضلع کے محی الدین نگر زون میں ایک شخص نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام پر رہائشی سرٹیفکیٹ کے لیے آن لائن درخواست جمع کرائی جس پر ان کا رہائشی سرٹیفکیٹ جاری کر دیا گیا۔ یہ درخواست 29 جولائی 2025 کو جمع ہوئی اور اسے درخواست نمبر BRCCO/2025/17989735 کے تحت ریکارڈ کیا گیا۔ ٹرمپ کی تصویر کے ساتھ جمع کرائی گئی درخواست میں ان کے والد کا نام فریڈرک کرائسٹ ٹرمپ اور والدہ کا نام مریم این میکلیوڈ لکھا گیا۔ ان کی تاریخ پیدائش 10 جون 1946 بتائی گئی اور ان کے بھارتی آدھار کارڈ کے مطابق ان کی جنس مرد لکھی گئی ہے۔ ٹرمپ کا جو ایڈریس بتایا گیا اس کے مطابق وہ گاؤں حسن پور، وارڈ نمبر 13، پوسٹ بکر پور، تھانہ محی الدین نگر، ضلع سمستِی پور کے رہائشی ہیں۔ جب حکام نے جانچ کی تو انکشاف ہوا کہ فارم کی تصویر، آدھار نمبر، بارکوڈ اور پتہ کی تفصیلات سب کچھ جعلی تھا۔ محی الدین نگر کے سرکل آفیسر (CO) نے فوری طور پر سرٹیفیکیٹ مسترد کر دیا اور اسے سنگین سائبر جرم قرار دیا۔

  • بھارت کا نیا خفیہ منصوبہ، ملک بھر میں ہوائی اڈے بند

    بھارت کا نیا خفیہ منصوبہ، ملک بھر میں ہوائی اڈے بند

    لاہور(خالدمحمودخالد) بھارت میں شہری ہوا بازی کی وزارت کے سیکورٹی ونگ نے آئندہ ماہ 22 ستمبر سے 2 اکتوبر 2025 کے لئے دہشت گردوں یا سماج دشمن عناصر کی طرف سے ممکنہ خطرات کے بارے میں انٹیلی جنس ان پٹ کے انتباہ کے بعد تمام بھارتی ہوائی اڈوں کے لئے ریڈ الرٹ ایڈوائزری جاری کردی ہے۔ سیکورٹی ونگ نے 4 اگست کو ایڈوائزری جاری کی اس میں ہوائی اڈوں، ہوائی پٹیوں، ہیلی پیڈز، فلائنگ سکولوں اور تربیتی اداروں سمیت تمام ہوا بازی کی تنصیبات پر فوری نگرانی کے اقدامات کو بڑھانے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے اقدامات کرنے کی ہدایت کی گئی۔ اس کے علاوہ سیکورٹی اہلکاروں کو ٹرمینلز، پارکنگ ایریاز، پیری میٹر زونز اور دیگر حساس مقامات پر گشت میں اضافہ کرتے ہوئے چوبیس گھنٹے زیادہ سے زیادہ الرٹ رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ دریں اثنا اہم تجزیہ کاروں نے بھارت کے ان اقدامات کو حیران کن قرار دیا ہے۔ دفاعی تجزیہ کار ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل غلام مصطفے نے کہا ہے کہ ہوائی اڈوں کی سیکیورٹی کو ہائی الرٹ کرنا معمول کی بات ہے تاہم تقریبا دو ماہ قبل اس طرح سیکیورٹی الرٹ جاری کرنا کسی طور پر بھی ممکن نہیں ہوتا۔ باغی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فوج اور دیگر متعلقہ اداروں کو انتہائی خفیہ طریقوں سے ہائی الرٹ کا پیغام دیا جاتا ہے اس طرح میڈیا میں پبلک کرنا بھارت کے خطرناک عزائم کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ سینیئر تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارت یقینا کوئی فالس فلیگ منصوبہ تیار کر سکتا ہے اور پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے دنیا کو باور کراسکتا ہے کہ بھارت نے پہلے ہی سب کچھ بتادیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہائی الرٹ کی ایڈوائزری تقریبا دو ماہ پہلے جاری کرنا بھارت کی خراب نیت کی نشاندہی کرتا ہے۔

  • مودی 31 اگست سے چین کا دورہ کریں گے

    مودی 31 اگست سے چین کا دورہ کریں گے

    لاہور(خالدمحمودخالد) بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی 31 اگست سے چین کا دورہ کریں گے جہاں وہ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ مودی چین کے صدر شی جن پنگ کے ساتھ بھی بات چیت کریں گے۔

    2020 میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول کے ساتھ مشرقی لداخ کے گالوان میں دونوں ملکوں کے درمیان فوجی جھڑپوں کے بعد مودی کا یہ پہلا دورہ ہوگا ان جھڑپوں میں 20 بھارتی فوجیوں کی جانیں گئیں۔ مودی کا یہ دورہ روس سے تیل کی خریداری اور ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے نئی دہلی پر محصولات کے نفاذ کے بعد مغربی اتحادیوں کے شدید بڑھتے ہوئے دباؤ کے درمیان ہو رہا ہے۔ جب کہ پاکستان کے ساتھ امریکہ کے بڑھتے تعلقات سے بھی بھارت کافی تحفظات رکھتا ہے۔ اس تناظر میں چین کے ساتھ تعلقات میں ایک عارضی بحالی بھی بھارت اور امریکہ کے درمیاں خلیج مزید بڑھا سکتی ہے۔ بھارت اس وقت برکس کے سربراہی اجلاس میں بھی اپنے کردار کو فروغ دینے کا خواہاں ہے کیونکہ وہ 2026 میں برکس کی صدارت سنبھالنے کی تیاری کر رہا ہے۔ برکس ایک ایسی تنظیم ہے جس میں روس اور چین شامل بھی ہیں اور اگلے سال ہونے والی سربراہ کانفرنس میں چینی صدر ژی اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کی شرکت بھی بھارت کیلئے اہم ہے۔ لیکن اس کے باوجود مودی کی ایس سی او اجلاس میں شرکت شدید اختلافات کے پس منظر میں ہوگی۔ اپریل میں پہلگام دہشت گردانہ حملے اور اس کے نتیجے میں بھارت اور پاکستان کے درمیان جھڑپوں کے بعد ایک سینئر بھارتی فوجی جنرل نے چین پر الزام لگایا کہ وہ بھارت کے خلاف پاکستان کی مدد کرتا رہا ہے۔ جون میں بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے چین کے شہر چنگ ڈاؤ میں ایس سی او کے وزرائے دفاع کی میٹنگ میں شرکت کی جہاں انہوں نے مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا کیونکہ اعلامیہ میں ذرائع کے مطابق دہشت گردی اور پہلگام دہشت گردانہ حملے پر بھارت کے موقف کو اہمیت نہیں دی گئی تھی۔ تاہم دستاویز میں بلوچستان کا ذکر کیا گیا تھا جس کے مطابق بھارت پر پاکستانی صوبے میں بدامنی پھیلانے کا الزام لگایا گیا۔ ایس سی او سربراہ اجلاس میں مودی بھی ممکنہ طور پر دہشت گردی سے نمٹنے کے بارے میں بھارت کا موقف سامنے رکھیں گے اور مبینہ سرحد پار دہشت گردی پر سخت موقف اختیار کریں گے۔ ان کا خطاب پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی متوقع موجودگی میں مئی کے تنازع کے فوراً بعد ہوگا۔ چین اور پاکستان کی دوستی کے پس منظر میں اس بات کا قوی امکان ہے کہ بھارتی وزیر دفاع کے مشترکہ اعلامیہ پر دستخط نہ کرنے کی تاریخ دہرائی جاسکتی ہے۔ اس بات کا قوی امکان ہے مبینہ طور پر سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی پر اتفاق رائے حاصل کرنے کی بھارت کی ترجیح کو آئندہ سربراہی اجلاس میں مناسب حمایت نہیں مل سکتی ہے۔ اس معاملے پر چین کی پالیسی بھی واضح ہے۔ ایران کا موقف بھی ابہام کا شکار ہے کیونکہ بھارت نے جون میں شنگھائی تعاون تنظیم کے بیان سے لاتعلقی اختیار کر لی تھی جس میں تہران پر اسرائیل کے حملے کی مذمت کی گئی تھی۔ ان تمام خدشات کے باوجود نئی دہلی شنگھائی تعاون تنظیم میں ایک فعال رکن کے طور پر شرکت کر رہا ہے جب کہ بھارت کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات کے وسیع ترازسر نو تجدید کی عکاس ہے۔ یہ کواڈ، ایس سی او، برکس، جی7 کے ساتھ کثیر الائنمنٹ کی مودی حکومت کی حکمت عملی کو ظاہر کرتا ہے۔ مزید برآں یہ بھارت کو چین، روس، ایران اور کچھ وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ اعلیٰ ترین سیاسی سطح پر بات چیت جاری رکھنے کا موقعہ بھی مل سکتا ہے۔

  • آخر بھارتی حکومت جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ کب واپس دے گی،فاروق عبداللہ

    آخر بھارتی حکومت جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ کب واپس دے گی،فاروق عبداللہ

    لاہور(خالدمحمودخالد) بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر کے سابق وزیراعلی اور نیشنل کانفرنس کے سربراہ فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ آخر بھارتی حکومت جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ کب واپس دے گی۔ سری نگر میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی کا جشن منانے کے لیے مودی سرکار کے پاس کچھ نہیں ہے۔ بی جے پی نے 6 سال میں مقبوضہ کشمیر کی بہتری کے لیے کچھ نہیں کیا۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور بڑھتی ہوئی قیمتوں پر حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ ہمارے اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکے اور لڑکیاں بے روزگار ہیں، قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ غریب غریب تر ہوتا جا رہا ہے جب کہ امیر امیر تر ہوتا جا رہا ہے۔ کیا بی جے پی کا یہی کارنامہ ہے۔ فاروق عبداللہ نے مزید کہا کہ انہیں کشمیر میں امن آتا نظر نہیں آرہا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ ہم ایک بے وقوف دنیا میں یہ سوچ کر رہ رہے ہیں کہ امن راتوں رات آ جائے گا۔ ہمارا ایک مضبوط پڑوسی ہے، چاہے وہ چین ہو یا پاکستان۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کوئی راستہ نہیں ہے۔ بالآخر دونوں ملکوں کے ساتھ مذاکرات کرنا ہوں گے۔ سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مودی حکومت نے کہا تھا کہ جیسے ہی انتخابات ہوں گے اور حکومت بنے گی مقبوضہ کشمیر کا درجہ بحال ہو جائے گا لیکن ابھی تک ایسا نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اب مرکز والے کہہ رہے ہیں کہ وہ دو خالی اسمبلی سیٹوں پر الیکشن کرائیں گے لیکن راجیہ سبھا کی چار سیٹوں کا کیا ہوگا، وہ عوام کو ایوانوں میں جانے اور اپنے مسائل بتانے کے حق سے کیوں محروم کر رہے ہیں۔ 

  • بھارتی محکمہ ڈاک کا یکم ستمبر سے رجسٹرڈ پوسٹ سروس بند کر نے کا اعلان

    بھارتی محکمہ ڈاک کا یکم ستمبر سے رجسٹرڈ پوسٹ سروس بند کر نے کا اعلان

    لاہور(خالدمحمودخالد) بھارتی محکمہ ڈاک نے یکم ستمبر سے رجسٹرڈ پوسٹ سروس بند کر نے کا اعلان کردیا ہے۔ رجسٹرڈ پوسٹ سروس کا آغاز 1854 میں ہوا تھا۔ یہ اہم دستاویزات، قانونی نوٹس اور قیمتی سامان کی محفوظ ترسیل کی علامت تھی۔ یہ سروس محکمہ ڈاک کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی تھی جس پر ڈاکیا دستخط شدہ رسید حاصل کرکے ترسیل کی تصدیق کرتا تھا۔ دعوت نامہ ہو یا تقرری نامہ، رجسٹرڈ پوسٹ ہر گھر کی کہانی کا حصہ تھی۔ اس سے قبل بھارتی محمکہ ڈاک پوسٹ کارڈ، ان لینڈ لیٹر اور بیرنگ پوسٹس کی سروسز بھی بند کرچکا ہے۔ کسی زمانے میں خطوط دوستوں اور رشتہ داروں کی خیریت جاننے کا ذریعہ ہوا کرتے تھے۔ موجودہ دور میں موبائل فون کی آمد کے بعد پیغام رسانی کے لیے بھیجے جانے والے خطوط اب قصہ پارینہ بن چکے ہیں۔ پوسٹل سروسز اس دور کی یاد دلاتی ہے جب خط کا انتظار اور ڈاکیے کی سائیکل کی گھنٹی دلوں کو جوڑتی تھی۔

  • اجیت ڈوول اور  ایس جے شنکر رواں ماہ ماسکو کا دورہ کریں گے

    اجیت ڈوول اور ایس جے شنکر رواں ماہ ماسکو کا دورہ کریں گے

    لاہور(خالدمحمودخالد) بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول اور وزیر خارجہ ایس جے شنکر اس ماہ ماسکو کا دورہ کریں گے۔ اکنامک ٹائمز کے مطابق یہ دورے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ان سخت ریمارکس کے بعد طے پائے ہیں جس میں انہوں نے بھارت اور روس کو مردہ معیشت قرار دیا تھا اور جرمانے کے ساتھ بھارتی اشیاء پر 25 فیصد ٹیرف کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے روس کے ساتھ اسٹریٹجک تجارتی تعلقات برقرار رکھنے والے ممالک کے لیے سزاؤں سے بھی خبردار کیا۔ بھارت نے مغربی پابندیوں کے باوجود روس سے جدید فوجی سازوسامان حاصل کرنا بھی جاری رکھا ہوا ہے۔ اجیت ڈوول اور ایس جے شنکر کا دورہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

  • عدالتی حکم پر 62 سالہ پاکستانی خاتون رخشندہ راشد کو بھارت کا وزیٹر ویزا دینے کا فیصلہ

    عدالتی حکم پر 62 سالہ پاکستانی خاتون رخشندہ راشد کو بھارت کا وزیٹر ویزا دینے کا فیصلہ

    لاہور(خالدمحمودخالد) بھارتی وزارت داخلہ نے جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے حکم پر 62 سالہ پاکستانی خاتون رخشندہ راشد کو بھارت کا وزیٹر ویزا دینے کا فیصلہ کیا ہے جسے اس سال 22 اپریل کو پہلگام میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کے بعد ملک بدر کردیا گیا تھا اور اسے پاکستان بھیج دیا گیا تھا۔ بھارتی حکومت نے تمام پاکستانی شہریوں کے ویزے منسوخ کر دیے تھے اور انہیں 29 اپریل تک بھارت چھوڑنے کو کہا تھا حالانکہ بھارتی وزارت داخلہ نے یہ ہدایت جاری کی تھی کہ وہ پاکستانی مسلمان خواتین جنہوں نے بھارتی شہریوں سے شادی کی ہے اور جنہوں نے طویل مدتی ویزہ کی تجدید کے لیے درخواست دی ہے انہیں ملک چھوڑنے کی ضرورت نہیں ہے اس کے باوجود راشدہ کو ملک بدر کر دیا گیا تھا۔ بھارتی مقبوضہ کشمیر کے شہر جموں کی رہنے والی رخشندہ کے چار بچے ہیں جو اب بھی مقبوضہ جموں و کشمیر میں مقیم ہیں۔ اسلام آباد کے رہائشی محمد راشد کی بیٹی رخشندہ 10 فروری 1990 کو 14 روزہ وزیٹر ویزے پر جموں گئی تھی بعد میں اسے ایک طویل مدتی ویزا پر بھارت میں رہنے کی اجازت دی گئی جس کی سالانہ تجدید کی جاتی تھی۔ عدالت نے وزارت داخلہ کو حکم دیا تھا کہ راشدہ کو دس روز کے اندر بھارت واپس بلانے کے انتظامات کئے جائیں تاہم عدالت نے یہ بھی کہا کہ اس مخصوص کیس کو کسی بھی طرح سے مثال نہیں سمجھا جائے گا۔ درخواست گزار رخشندہ راشد جو کہ ایک پاکستانی شہری ہے اس نے 35 سال قبل جموں میں بھارتی شہری شیخ ظہور احمد سے شادی کی تھی اس نے 1996 میں بھارتی شہریت کے لیے درخواست دی تھی لیکن اس درخواست پر ابھی تک فیصلہ ہونا باقی ہے۔ رخشندہ کی بیٹی فاطمہ شیخ نے بتایا کہ ان کی والدہ کا پاکستان میں کوئی رشتہ دار نہیں ہے اور بھارت بدر ہونے کے بعد وہ پاکستان میں گزشتہ تین ماہ سے ایک چھوٹے سے ہوٹل میں اکیلی رہ رہی ہیں اور ان کے پاس پیسے بھی ختم ہو گئے ہیں۔

  • لائن آف کنٹرول پر تعینات  بھارتی فوجی اہلکار اپنی ڈیوٹی سے تنگ

    لائن آف کنٹرول پر تعینات بھارتی فوجی اہلکار اپنی ڈیوٹی سے تنگ

    لاہور(خالدمحمودخالد) بھارتی مقبوضہ کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر تعینات بارڈر سیکیورٹی فورس کے اہلکار اپنی ڈیوٹی سے تنگ آگئے ہیں اور اپنے بٹالین انچارج کو بتائے بغیر گھروں کو روانہ ہورہے ہیں۔

    سرینگر کے علاقہ پانتھہ چوک میں ایل او سی پر تعینات بارڈر سیکیورٹی فورس کے ایک اہلکار کے لاپتہ ہونے کے بعد فورسز نے متعلقہ پولیس اسٹیشن میں گمشدگی کی ایک شکایت درج کرائی ہے۔ لاپتہ ہوئے اہلکار کی شناخت سوگم چودھری کے طور پر کی گئی ہے جو 60 بٹالین سے وابستہ ہے۔ بی ایس ایف کے ایک سینئر آفیسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایک ہفتے کے دوران اہلکاروں کی گمشدگی کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ سوگم چودھری جمعرات کی شام یونٹ سے بغیر اجازت نکلا لیکن واپس نہیں آیا جس کے بعد اس کی غیر موجودگی کی اطلاع سینیئر افسران کو کر دی گئی جنہوں نے فوری طور پر پولیس کو مطلع کیا۔ انہوں نے کہا ابتدائی جانچ میں ایسا لگتا ہے کہ اہلکار ذاتی وجوہات کی بنا پر اپنے آبائی علاقے روانہ ہوا ہے۔ افسر کے مطابق یونٹ نے اہلکار سے فون پر رابطہ قائم کیا تو لاپتہ اہلکار نے بتایا کہ وہ واپس نہیں آئے گاجب کہ وہ جلد اپنے گھر پہنچنے والا ہے۔ آفیسر نے بتایا کہ فوجی پروٹوکول کے مطابق انہوں نے پولیس کو اطلاع کر دی ہے اور اہلکار کے اہلِ خانہ کو بھی واقعے سے باخبر کردیا ہے۔ 

  • امریکہ سے  ففتھ جنریشن ایف 35 اسٹیلتھ لڑاکا جیٹ خریدنے میں دلچسپی نہیں، بھارت

    امریکہ سے ففتھ جنریشن ایف 35 اسٹیلتھ لڑاکا جیٹ خریدنے میں دلچسپی نہیں، بھارت

    اہور(خالدمحمودخالد) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے بھارتی درآمدات پر 25 فیصد ٹیرف کے اعلان کے بعد بھارتی حکومت نے امریکہ کو مطلع کیا ہے کہ وہ امریکہ سے ففتھ جنریشن ایف 35 اسٹیلتھ لڑاکا جیٹ خریدنے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ بلومبرگ کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارتی حکومت امریکی صدر کی آشیرباد حاصل کرنے کیلئے امریکا سے بعض اشیاء کی خریداری بڑھانے پر غور کر رہی ہے۔ تاہم اس میں ایف 35 لڑاکا طیاروں سمیت دفاعی ساز و سامان کی خریداری شامل نہیں ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ اس سال کے شروع میں مودی کے وائٹ ہاؤس کے دورے کے دوران صدر ٹرمپ نے پانچویں جنریشن کے لڑاکا طیارے فروخت کرنے کی پیشکش کی تھی جس پر مودی نے غور کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق بھارت ٹرمپ کے ٹیرف کے خلاف کوئی فوری جوابی اقدام کرنے کی پوزیشن میں نہیں اور نہ ہی وہ امریکہ کو ناراض کرنا چاہتا ہے جب کہ اس کے ساتھ ساتھ دو طرفہ تجارتی بات چیت جاری رکھنے کا خواہش مند ہے۔ رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ بھارت امریکہ سے قدرتی گیس، مواصلاتی آلات اور سونے کی خریداری میں اضافہ کر سکتا ہے۔ تاہم مودی حکومت کی طرف سے امریکا سے اضافی دفاعی سازوسامان خریدنے کرنے کا امکان نہیں ہے جو صدر ٹرمپ کا ایک اہم مطالبہ ہے لیکن بھارتی حکومتی عہدیداروں نے امریکہ کو بتایا کہ بھارت صرف مشترکہ طور پر دفاعی آلات تیار کرنے اور بھارت میں ان کی تیاری میں زیادہ دلچسپی رکھتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ سے ایف 35 جیٹ طیارے خریدنے میں بھارت کی ہچکچاہٹ سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ بھارت اپنی فضائیہ کی ڈیمانڈ کو پورا کرنے کیلئے تقریباً 50-60 روسی ساختہ ایس یو 57 ففتھ جنریشن جیٹ خریدے گا۔ واضح رہے کہ بھارت مقامی طور پر بھی ففتھ جنریشن کے لڑاکا طیارے AMCA تیار کر رہا ہے تاہم ان کی تیاری 2035 سے پہلے ممکن نظر نہیں آرہی اس لیے بھارتی فضائیہ کی ڈیمانڈ کو پورا کرنے اور چین اور پاکستان کی فضائی طاقتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے بھارت بیرون ممالک خاص طور پر روس سے ففتھ جنریشن کے جیٹ طیارے کے تقریباً 3 سکواڈرن خریدنے پر مجبور ہے۔ واضح رہے کہ اس وقت ففتھ جنریشن کے دستیاب فائٹر میں صرف ایف 35 اور ایس یو57 ہی موجود ہیں۔ 

  • ٹرمپ کا بھارت پر ٹیرف،کانگریس لیڈر جے رام میش کی مودی پر تنقید

    ٹرمپ کا بھارت پر ٹیرف،کانگریس لیڈر جے رام میش کی مودی پر تنقید

    لاہور(خالدمحمودخالد) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے یکم اگست سے ہندوستانی اشیاء پر 25% ٹیرف کے اعلان کے بعد کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے وزیر اعظم نریندر مودی پر سخت تنقید کی۔

    "ہاؤڈی مودی” تقریب اور مودی ٹرمپ دوستی کا حوالہ دیتے ہوئے جے رام رامیش نے دونوں رہنماؤں کے درمیان مشترکہ دوستی کا مذاق اڑایا اور کہا کہ ٹرمپ اور ہاؤڈی مودی کی ایک دوسرے کی تعریف کرنے کا کوئی مطلب سامنے نہیں آیا۔ انہوں نے پاک بھارت منی جنگ روکنے کے ٹرمپ کے بار بار کیے جانے والے دعوؤں کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ پہلگام واقعہ کے فوراً بعد ایک ہائی پروفائل یو ایس پاکستان لنچ جس میں پاکستانی آرمی چیف شامل تھے اور پاکستان کے لیے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے مالیاتی پیکجز کے لیے واشنگٹن کی مسلسل حمایت اور پیش رفتوں کے باوجود مودی نے خاموشی اختیار کی۔ وہ ان سفارتی انعامات کی توقع کرتے رہے جو انہیں کبھی نہیں ملے۔ مودی کا خیال تھا کہ اگرپاکستان کیلئے امریکی نوازشات پر وہ خاموش رہیں گے تو انہیں امریکہ کی آشیرباد مل جائے گی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مودی کو اندرا گاندھی سے سبق حاصل کرنا چاہئے انہیں چاہئے کہ وہ امریکی صدر کے سامنے کھڑے ہو جاتے جیسے اندرا گاندھی نے کیا۔