Baaghi TV

Author: Khalid Mehmood Khalid

  • ٹرمپ کا دورہ برطانیہ،بھارت میں کانفرنس کا انعقاد خطرے میں

    ٹرمپ کا دورہ برطانیہ،بھارت میں کانفرنس کا انعقاد خطرے میں

    لاہور(خالدمحمودخالد) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دورہ برطانیہ فائنل ہونے کے باعث بھارت میں اس سال ستمبر میں ہونے والی قواڈ ممالک کی سربراہ کانفرنس کا انعقاد خطرے میں پڑگیا ہے۔  بھارت وزیراعظم مودی نئی دہلی میں امریکی صدر ٹرمپ کے استقبال کی تیاریوں میں مصروف تھے۔اس سال فروری میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے امریکہ کا دورہ کیا تھا تو انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قواڈ کے آئندہ سربراہی اجلاس کے لیے شرکت کیلئے بھارت آنے کی دعوت دی تھی جسے صدر ٹرمپ نے قبول کر لیا تھا۔

    بھارت نے یہ کانفرنس رکن ممالک کے بعض دیگر سربراہان کی ستمبر میں مصروفیات کے باعث اب نومبر میں منعقد کرنے کا شیڈول دیا ہے۔ تاہم سربراہی اجلاس کی تاریخوں کو حتمی شکل دینا ابھی باقی ہے۔ قواڈ بھارت، امریکہ، آسٹریلیا اور جاپان کے درمیان ایک اتحاد ہے۔ اس سال یہ کانفرنس بھارت میں ہونی ہے۔ کواڈ کے بعض ارکان کا خیال ہے کہ ستمبر میں نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس ہوگا اور کچھ رکن ممالک کی توجہ اس اجلاس پر مرکوز ہوگی۔ اس کے علاوہ جاپان میں جولائی میں پارلیمنٹ کے انتخابات منعقد ہورہے ہیں جس سے جاپان کی سربراہی اجلاس میں شرکت اور تیاری کے لیے بہت کم وقت بچا ہے۔ اس لئے اجلاس کا شیڈول نومبر تک کیلئے ملتوی کیا گیا ہے۔ 

  • گولڈن ٹمپل کو چوبیس گھنٹوں میں دوسری بار بم حملے میں اڑانے کی دھمکی

    گولڈن ٹمپل کو چوبیس گھنٹوں میں دوسری بار بم حملے میں اڑانے کی دھمکی

    لاہور(خالدمحمودخالد) بھارتی پنجاب کے شہر امرتسر میں سکھوں کے مذہبی مقام گولڈن ٹمپل کو چوبیس گھنٹوں میں دوسری بار بم حملے میں اڑانے کی دھمکی ملنے کے بعد گولڈن ٹیمپل اور خطے میں دیگر اہم مذہبی مقامات کے ارد گرد سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ پولیس اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو ہائی الرٹ کردیاگیا ہے۔

    امرتسر میں شرومنی گرودوارہ پربندھک کمیٹی کے سیکرٹری پرتاپ سنگھ نے بتایا کہ ایس جی پی سی کے انٹرنیٹ ڈپارٹمنٹ کو ای میل موصول ہوئی کہ گولڈن ٹمپل میں بم نصب کردیا گیا ہے اور اسے اڑا دیا جائے گا۔ اس دھمکی کی اطلاع پولیس کو دی گئی جس کے بعد گولڈن ٹمپل کو خالی کرالیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں گزشتہ چوبیس گھنٹے میں گولڈن ٹمپل کو بم سے اڑانے کی یہ دوسری دھمکی آمیز ای میل موصول ہوئی ہے۔ تازہ دھمکی آمیز ای میل کا مواد تقریباً وہی ہے جو پیر کو موصول ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ تمام مذاہب کے لوگ ہندو، عیسائی، سکھ اور دیگر گولڈن ٹیمپل میں پوجا کرنے آتے ہیں جن کی سیکیورٹی کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔

  • مقبوضہ کشمیر میں یوم شہدا کی تقریب کی اجازت سے انکار ،عمر عبداللہ کی نظر بندی

    مقبوضہ کشمیر میں یوم شہدا کی تقریب کی اجازت سے انکار ،عمر عبداللہ کی نظر بندی

    لاہور(خالدمحمودخالد) بھارتی مقبوضہ کشمیر میں مودی کے نمائیندہ لیفٹیننٹ گورنر نے برطانوی تسلط میں مہاراجہ ہری سنگھ کی آمرانہ حکومت کے خلاف لڑائی میں مارے جانے والوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ‘یوم شہدا’ تقریب کی اجازت دینے سے انکار کر دیا اور یوم شہداء کشمیر منانے سے روکنے کیلئے کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو بھی دہلی سے واپس آنے کے فوراً بعد ان کے گھر میں نظر بند کر دیا۔ ان کے ساتھ ساتھ ان کی حکومت کے کئی وزراء، ایم ایل ایز اور حکمران جماعت اور اپوزیشن کے سرکردہ رہنماؤں کو یوم شہداء کشمیر منانے سے روکنے کے لیے گھروں میں نظر بند کر دیا گیا۔

    وزیراعلی عمر عبداللہ نے اپنی نظر بندی کو جموں و کشمیر میں غیر منتخب لوگوں کا ظلم قرار دیا۔ انہوں نے اپنے گھر کے باہر پولیس کی ایک بڑی نفری اور مین گیٹ کے باہر کھڑی بکتر بند گاڑیوں کی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر متعدد تصاویر شیئر کیں۔ لیفٹیننٹ گورنر کا نام لیے بغیر وزیراعلی عمر عبداللہ نے ایک پوسٹ میں کہا کہ غیر منتخب حکومت نے منتخب حکومت کو بند کر دیا۔ نئی دہلی کے غیر منتخب امیدواروں نے جموں و کشمیر کے عوام کے منتخب نمائندوں کو بند کر دیا۔ انہوں نے پابندیوں اور گھروں میں نظربندیوں کی شدید مذمت کی اور کشمیر کے 1931 کے شہداء کو ’’جلیانوالہ باغ‘‘ کے شہداء کے برابر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ 13 جولائی کا قتل عام ہمارا جلیانوالہ باغ ہے جن لوگوں نے اپنی جانیں قربان کی انہوں نے انگریزوں کے خلاف جہاد کیا، کشمیر پر انگریزوں کی بالادستی کے تحت حکومت کی جا رہی تھی کتنی شرم کی بات ہے کہ برطانوی راج کے خلاف ہر طرح سے لڑنے والے حقیقی ہیروز کو آج صرف اس لیے ولن کے طور پر پیش کیا جاتا ہے کہ وہ مسلمان تھے۔ ہمیں ان کی قبروں پر جانے کا موقع نہیں دیا جارہا لیکن ہم ان کی قبروں کو نہیں بھولیں گے۔

  • بھارتی پنجاب کے وزیر اعلی بھگونت مان مودی پر برس پڑے

    بھارتی پنجاب کے وزیر اعلی بھگونت مان مودی پر برس پڑے

    لاہور(خالدمحمودخالد) بھارتی پنجاب کے وزیر اعلی بھگونت مان نے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزارت خارجہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے بھارتی خارجہ پالیسی پر مرکز کے موقف اور دلجیت دوسانجھ کی فلم میں پاکستانی اداکارہ کی اداکاری پر حالیہ تنازع پر سوال اٹھادئے۔

    انہوں نے چندی گڑھ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کیا ہمیں وزیر اعظم سے پوچھنے کا حق نہیں ہے کہ خارجہ پالیسی کیا ہے۔ جب پاکستان کے ساتھ بھارت کی جنگ ہوئی اور تعلقات خراب ہوئے تو دنیا کا کوئی بھی ملک ہمارے ساتھ نہیں کھڑا ہوا۔ جبکہ مودی ان ممالک کا دورہ کر رہے ہیں جن کے نام ہم نے کبھی نہیں سنے ہوں گے۔ مودی بتائیں کہ دنیا میں کس نے ہمارا ساتھ دیا پھر آپ کیوں ادھر ادھر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم پر واضح سفارتی وجوہات کے بغیر اکثر ممالک کا دورہ کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ وزیراعظم اتنے چھوٹے چھوٹے ممالک سے اعزازات لے رہے ہیں جن کی آبادی دس ہزار بھی نہیں۔
    2015 میں مودی کے پاکستان کے اچانک دورے کا حوالہ دیتے ہوئے مان نے کہاکہ مودی بغیر دعوت کے بھی وہ بریانی کھانے کے لیے پاکستان پہنچے۔ ہمیں تو پاکستان جانے کی اجازت نہیں۔ دلجیت دوسانجھ کی فلم، جس میں ایک پاکستانی اداکار ہانیہ عامر بھی شامل ہیں، سے متعلق تنازعہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلی نے کہا کہ اب دلجیت دوسانجھ کی فلم کے بارے میں تنازعہ ہے جس میں ایک پاکستانی اداکار نے کام کیا تھا۔ یہ فلم بہت پہلے بنائی گئی تھی اور اب مودی سرداروں کو غدار کہہ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مودی سے پوچھنا ہم سب کا حق ہے کہ وہ بتائیں کہ ان کی پالیسیاں دوغلی کیوں ہیں۔ 

  • بھارت کی اپنی آبی سلامتی کو چین کی طرف سے خطرات لاحق

    بھارت کی اپنی آبی سلامتی کو چین کی طرف سے خطرات لاحق

    لاہور(خالدمحمودخالد)پاکستان کا پانی بند کرنے کی دھمکیاں دینے والے بھارت کی اپنی آبی سلامتی کو چین کی طرف سے خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔ بھارتی ریاست اروناچل پردیش کے وزیراعلی پیما کھنڈو نے کہا ہے کہ ریاستی بارڈر کے قریب چین کا جو میگا ڈیم بنایا جا رہا ہے وہ بھارت کے لئے ایک "واٹر بم” ہو گا اور یہ بھارت کو چین کی طرف سے درپیش فوجی خطرے سے بڑا خطرہ ثابت ہو گا۔

    ایک ٹی وی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ دریائے برہم پترا کو جسے تبتی زبان میں یارلنگ سانگپو کہا جاتا ہے، پر دنیا کا سب سے بڑا ڈیم پروجیکٹ بھارت کے لئے ایک سنگین تشویش کا باعث ہے کیونکہ چین نے بین الاقوامی آبی معاہدے پر دستخط نہیں کئے جس کی وجہ سے وہ کسی بین الاقوامی اصولوں کی پابندی کرنے کا پابند نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ چین پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ کوئی نہیں جانتا کہ وہ کیا کر سکتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ڈیم بننے کی صورت میں اگر چین اچانک پانی چھوڑ دے تو ہماری پوری سیانگ بیلٹ تباہ ہو جائے گی۔ تمام املاک،  زمین اور اس کے ساتھ ساتھ انسانی زندگی کو تباہ کن اثرات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ چین بھارت کے ساتھ کوئی معلومات شیئر نہیں کرتا اور نہ ہی ڈیم کی تعمیر کی تازہ صورتحال کے بارے میں اس نے بھارت کو کوئی اطلاع دی ہے۔ اگر چین ڈیم کی تعمیر مکمل کر لیتا ہے تو اروناچل پردیش کے دو دریا سیانگ اور برہم پترا مکمل طور پر خشک ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں صورتوں میں بھارت کو سنگین خطرات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

  • مودی حکومت کے خلاف مزدور،کسان سڑکوں پر،بھارت بند،تاریخی ہڑتال

    مودی حکومت کے خلاف مزدور،کسان سڑکوں پر،بھارت بند،تاریخی ہڑتال

    لاہور(خالدمحمودخالد)بدھ کے روز بھارت کی مودی حکومت کی مزدور مخالف، کسان مخالف اور کارپوریٹ نواز پالیسیوں کے خلاف بھارتی تاریخ کی سب سے بڑی ہڑتال ہوئی۔ بینکنگ، انشورنس، ڈاک خدمات، کوئلے کی کان کنی اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے 25 کروڑ سے زیادہ کارکن آج ‘بھارت بند’ کے نام سے ملک گیر ہڑتال میں شامل ہوئے۔ اس ہڑتال کا اہتمام بھارت کی 10 مرکزی ٹریڈ یونینوں کے ایک مشترکہ فورم نے کیاتھا۔

    یونین رہنماؤں کی اپیل پر ہڑتال سے بینکنگ، ڈاک خدمات، کوئلے کی کان کنی، کارخانے اور سرکاری ٹرانسپورٹ مکمل طور پر بند رہے۔ اس کے علاوہ پورے بھارت میں حکومت کی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے گئے جس میں کسان اور دیہی کارکنوں کی بھی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ آل انڈیا ٹریڈ یونین کانگریس (AITUC) کی امرجیت کور نے ایک بھارتی ٹی وی کو بتایا کہ مودی حکومت نے ان کی 17 نکاتی ڈیمانڈ لسٹ کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ گزشتہ 10 سالوں میں سالانہ لیبر کانفرنس بھی نہیں بلائی گئی۔ مختلف ٹریڈ یونینوں کا کہنا ہے کہ بھارتی پارلیمنٹ کی طرف سے منظور کیے گئے چار نئے لیبر کوڈز مزدوروں کے حقوق کے خلاف ہیں۔

    بھارت بھر کے مزدور اور ورکرز پبلک سیکٹر یونٹس کی نجکاری، نوکریوں کی آؤٹ سورسنگ، اور کنٹریکٹ قوانین کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ اس سے قبل2020، 2022 اور 2024 میں ملک گیر ہڑتالیں ہوئیں جن میں بھارت بھر سے لاکھوں کارکنوں نے شرکت کی۔ آج ہونے والی ہڑتال کی وجہ سے بدھ کو ہندوستان بھر میں عوامی خدمات، خاص طور پر بینکوں اور ٹرانسپورٹیشن بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

  • فرانسیسی رافیل  سمیت تین بھارتی طیاروں کے نقصان کے شواہد موجود ہیں،سربراہ فرانسیسی فضائیہ

    فرانسیسی رافیل سمیت تین بھارتی طیاروں کے نقصان کے شواہد موجود ہیں،سربراہ فرانسیسی فضائیہ

    لاہور(خالدمحمودخالد) فرانسیسی فضائیہ کے سربراہ جنرل جیروم بیلینگر نے کہا کہ ان کے پاس حالیہ پاک بھارت جنگ کے بعد ایک فرانسیسی رافیل کے سمیت تین بھارتی طیاروں کے نقصان کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ دی ایسوسی ایٹڈ پریس کی ایک رپورٹ کے مطابق فرانس کی طرف سے یہ پہلی انتہائی اعلیٰ سطحی تصدیق کی گئی ہے جس کے مطابق فرانس کو بھارت کا ایک میراج 2000، ایک روسی ساختہ سخوئی اور ایک فرانسیسی ساختہ رافیل تباہ ہونے کی مصدقہ اطلاعات ملی ہیں۔ 

    جنرل جیروم بیلینگر نے مزید کہا کہ فرانس نے رافیل فائٹر طیارے آٹھ ممالک کو فروخت کئے ہیں جب کہ بھارت کا رافیل طیارہ جنگ میں تباہ ہونے کا اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس سے قبل ایک اعلیٰ سطحی فرانسیسی انٹیلی جنس اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر سی این این کو بتایا تھاکہ پاکستان نے بھارتی ائیر فورس کا کم از کم ایک رافیل طیارہ مار گرایا ہے۔

  • ورلڈ چیمپیئن شپ آف لیجنڈز، T20 لیگ کا دوسرا ایڈیشن 18جولائی سے برطانیہ میں آغاز

    ورلڈ چیمپیئن شپ آف لیجنڈز، T20 لیگ کا دوسرا ایڈیشن 18جولائی سے برطانیہ میں آغاز

    لاہور(خالدمحمودخالد) ورلڈ چیمپیئن شپ آف لیجنڈز (WCL) T20 لیگ کا دوسرا ایڈیشن 18جولائی سے برطانیہ میں شروع ہورہا ہے جس میں مجموعی طور پر 18 میچ کھیلے جائیں گے۔ پاکستان، بھارت، آسٹریلیا، انگلینڈ، جنوبی افریقہ اور ویسٹ انڈیز کے لیجنڈ کرکٹرز اس ٹورنامنٹ میں حصہ لے رہے ہیں۔ افتتاحی میچ میں انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان سنسنی خیز مقابلہ ہوگا۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان مقابلہ 20 جولائی کوایجبسٹن میں ہوگا۔ دونوں ملکوں کے لیجنڈ کرکٹرز کھلاڑی حالیہ پاک بھارت جنگ کے بعد پہلی بار ایک دوسرے کے خلاف کرکٹ میچ میں آمنے سامنے آرہے ہیں۔ اس میں دونوں ممالک کے کئی تجربہ کار کھلاڑی شامل ہیں جس میں بھارتی ٹیم کی طرف سے یوراج سنگھ کپتان ہوں گے میچ میں بھارت کی طرف سے ونے کمار، ہربھجن سنگھ، پارتھیو پٹیل، یوسف پٹھان، سریش رائنا، نمن اوجھا، مناف پٹیل، ریتیندر سوڈھی، آر پی سنگھ، اشوک ڈنڈا، عرفان پٹھان، محمد کیف، رابن اتھپا اور پرگیان اوجھا حصہ لیں گے۔

    پاکستانی ٹیم کے کپتان یونس خان ہوں گے جب باقی کھلاڑیوں میں کامران اکمل، سلمان بٹ، شعیب ملک، وہاب ریاض، محمد عامر، عبدالرزاق، یاسر عرفات، مصباح الحق، سہیل تنویر، سعید اجمل، عمران نذیر، عمر گل، محمد حفیظ اور شاہد آفریدی شامل ہیں۔ اس سیزن کا پلیئر پول ماضی کی نسبت کافی بڑا ہے دیگر کھلاڑیوں میں آسٹریلیا کی طرف سے ڈیوڈ ہسی، کالم فرگوسن، بریٹ لی، بریڈ ہیڈن، جارج بیلی، ناتھن کولٹر نائل، ڈرک نینس، زیویئر ڈوہرٹی، کیمرون وائٹ، ڈین کرسچن، ٹریوس برٹ، بین ہلفن ہاس، بین ڈنک، جیمز فالکنر، شان ٹیٹ۔ برطانیہ کی طرف سے اسٹیو ہارمیسن، کریگ کیسویٹر، مائیکل کاربیری، کیون پیٹرسن، لیوک رائٹ، روی بوپارا، سمیت پٹیل، مونٹی پنیسر، ٹم بریسنن، ڈیرن میڈی، گریم سوان، ایان بیل، جوناتھن ٹراٹ، جیڈ ڈرنباچ، اویس شاہ۔جنوبی افریقہ کی طرف سے ایشویل پرنس، عمران طاہر، جیک روڈولف، اے بی ڈی ویلیئرز، جسٹن اونٹونگ، ورنن فلینڈر، مورنے وین وِک، روئیلوف وین ڈیر مروے، ریان میک لارن، ڈیل اسٹین، الویرو پیٹرسن، وین پارنیل، جوہان بوتھا، ہرشل گبز، مارچنٹ ڈی لینج۔ ویسٹ انڈیز کی طرف سے کرس گیل، ڈوین اسمتھ، مارلن سیموئلز، سلیمان بین، جیروم ٹیلر، ڈیون اسمتھ، دنیش رامدین، روی رامپال، ڈیرن سیمی، سیموئل بدری، آندرے فلیچر، فیڈل ایڈورڈز، لینڈل سمنز، ٹینو بیسٹ، ڈوین براوو جیسے نامور کھلاڑی ٹورنامنٹ میں حصہ لے رہے ہیں

    بھارت بمقابلہ پاکستان میچ میں پاکستان کی جانب سے شاہد آفریدی بھی موجود ہوں گے جنہوں نے ماضی قریب میں بھارت کے بارے میں کئی متنازعہ بیانات دیے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران ان کھلاڑیوں کا اکٹھا ہونا ایک نیا تنازعہ بھی جنم لے سکتا ہے تاہم ٹورنامنٹ انتظامیہ اس بات کی کوشش کررہی ہے کہ ٹورنامنٹ کے دوران کسی قسم کی بدمزگی نہ ہو۔ 

  • بھارت کا پاکستانی پانی ہڑپنے کے منصوبے پر عمل کا آغاز

    بھارت کا پاکستانی پانی ہڑپنے کے منصوبے پر عمل کا آغاز

    لاہور(خالدمحمودخالد) بھارت نے پاکستان کے حصے کا پانی ہڑپ کرنے کے ناپاک عزائم کی تکمیل کیلئے کئی منصوبوں پر عملدرآمد شروع کردیا ہے۔

    ایک بھارتی ٹی وی کے مطابق بھارت سندھ طاس معاہدہ کے تحت پاکستان کو جانے والے انڈس ریور سسٹم کے تین مغربی دریاؤں سے پانی کے فاضل بہاؤ کو پنجاب، ہریانہ اور راجستھان کی طرف ری ڈائریکٹ کرنے کے لیے 113 کلومیٹر طویل نہر کی تعمیر کے لیے فزیبلٹی تیار کر رہا ہے۔ بھارتی ٹی وی کے مطابق بھارت کا منصوبہ ہے کہ انڈس ریور سسٹم سے جو پانی تین مغربی دریاؤں جہلم، چناب اور سندھ کے ذریعےپاکستان کی طرف جاتا ہے ان کو بھارت کے زیراستعمال لانے کیلئے نئی نہریں تعمیر کی جائیں۔ یہ کام ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور فزیبلٹی رپورٹس تیار کی جا رہی ہیں۔ مجوزہ منصوبے کے مطابق چناب کو راوی بیاس ستلج سسٹم سے جوڑنے کیلئے نہر کی تعمیر کا کام اگلے تین سالوں میں مکمل ہو جائے گا۔ جس کے بعد پاکستان کو جانے والا انڈس ریور سسٹم غیر فعال ہوجائے گا اور اس کے تحت تینوں دریاوں کا پانی بھارت کے زیراستعمال آجائے گا۔

    بھارتی ٹی وی کے مطابق اس مجوزہ منصوبے کے مکمل ہونے کے بعد دریائے سندھ کے پانی کو تین سال کے اندر نہروں کے ذریعے راجستھان کے گنگا نگر تک لے جایا جائے گا جس سے دہلی، ہریانہ، پنجاب اور راجستھان جیسی ریاستوں کو اس اسکیم سے کافی فائدہ ہونے کی توقع ہے۔

      واضح رہے کہ بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے ہفتہ کے روز ریاست مدھیہ پردیش میں بی جے پی کے تربیتی اجلاس کے دوران دھمکی دی تھی کہ پاکستان کو پانی کے ہر قطرے کے لیے ترسایا جائے گا۔

  • مقبوضہ کشمیر بھارت نہیں پاکستان کا  ،کشمیری بچے کے سامنے بھارتی خاتون صحافی کو شرمندگی

    مقبوضہ کشمیر بھارت نہیں پاکستان کا ،کشمیری بچے کے سامنے بھارتی خاتون صحافی کو شرمندگی

    لاہور(خالدمحمودخالد) بھارتی مقبوضہ کشمیر میں رہنے والے بچوں کے دلوں میں یہ بات گھر کر چکی ہے کہ مقبوضہ کشمیر بھارت کا نہیں بلکہ پاکستان کا حصہ ہے۔ بھارت کی معروف خاتون صحافی ادیتی تیاگی کو اس وقت سخت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا جب ان کے بھارتی مقبوضہ کشمیر کے دورہ کے موقعہ پر ایک چھوٹے سے بچے نے انہیں صاف الفاظ میں بتا دیا کہ مقبوضہ کشمیر دراصل پاکستان ہے۔

    ادیتی تیاگی نے مقبوضہ کشمیر کے علاقے لولاب ویلی میں ایک بچے برہان سے پوچھا کہ کیا اس کی پسندیدہ کرکٹ ٹیم آرسی بی ہے۔ جواب میں برہان کا کہنا تھا نہیں اس کی پسندیدہ ٹیم پاکستان کی ہے۔ بھارتی صحافی نے کہا کہ پاکستانی ٹیم تو ہارتی رہتی ہے تمہیں کیوں پسند ہے۔ برہان نے جواب دیا کہ ہارجیت تو ہوتی رہتی ہے پاکستان تو ہمارا ملک ہے اس لیے مجھے پسند ہے۔ ادیتی نے کہا کہ تم تو بھارت میں رہتے ہو تمہیں کس نے پڑھایا ہے کس نے سکھایا ہے کہ تم پاکستان میں رہتے ہو۔ جب  برہان نے جواب دیا کہ اس نے خود سے سیکھا ہے وہ پاکستان میں رہتا ہے بھارت میں نہیں تو اس پر ادیتی اپنا سا منہ لے کر وہاں سے چلی گئی۔